25/07/2026
The irrelevant generation
بے متعلق لوگ
آج جو حالات آزاد کشمیر کے ہیں اس سے ایک بات عیاں ہو گئی ہے کہ وہ لوگ جو 50 سال سے اوپر ہیں خواہ سیاستدان ہیں ،استاد ہیں،دانشور ،صحافی ،پیر اور مولوی ہیں یا پھر سماجی رہنما ہیں وہ سب نئی نسل جسے جنریشن زی سے یہ لوگ بے متعلق ہو چکے ہیں ۔یہ لوگ نئی نسل کا رول ماڈل نہیں بن سکے نا ہی ان کے مسائل کا کوئی حل بتا سکے ۔البتہ خود بہترین کاروباری بن گئے ہیں ۔۔
اپنے مفاد کی انہیں ایسی لت لگ چکی ہے کہ اس سے آگے نہ سوچتے ہیں اور نا ہی دیکھتے ہیں وہ لوگ جو اس سماجی تبدیلی سے منہ موڑ رہے ہیں وہ اپنی دکان ،نوکری چھوٹی موتی سکیم اور ٹھیکے کو سامنے رکھ کر یا خوف سے بات کر رہے ہیں ۔
سکول دور میں ہمیں یہی بتایا گیا کہ جو لوگ سائنس پڑھتے ہیں وہی لوگ لائق اور کامیاب ہوتے ہیں ۔سماجیات اور دیگر مضامین پڑھنے سے اس لئے روکا گیا کہ یہ آرٹس مضامین ہیں اور نالائق لوگ یہ پرھتے ہیں ۔
نتیجہ کیا نکالا سائنس پڑھ کر ڈاکٹر تو آپ کو چپے چپے پر ملے گیں بہترین تاجر وہ بن گئے مگر ایک بھی آپ کو سائنسدان نہیں ملے گا ۔دوسری طرف سوشل سائینسز سے ہمیں نفرت تھی آج آپ کو ہمارے سوشل سائنٹسٹ بھی نہیں ملے گا۔
آج اگر سوشل سائنٹسٹ ہمارے ہاں موجود ہوتے تو وہ social changes کو محسوس کرتے حکومت کو وہ پالیسی بنانے میں مدد کرتے اور باقی دنیا کی طرح عوام دوست اقدامات کا مشورہ دیتے
ہم ان حکمرانوں سے خیر کی توقع کرتے ہیں جن کے مفادات کو ذرا سی زک پہنچے تو بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں تم اندین ایجنٹ ہو تمہں امریکہ سے فنڈز لیتے ہو تم غدار ہو ۔تمہیں مار ڈالیں گے ۔۔۔
یہ سب کر کے بھی نتیجہ کیا نکلا ؟ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کریہ سب کچھ کہنا اور کرنا بہت آسان ہے مگر عملی طور پر کچھ کر پانا ناممکن ہے ۔۔
جب 2005 7 جولائی کو لندن میں چار خود کش حملے ہوئے ان میں سے 1 نو مسلم کے علاوہ باقی 3 پاکستانی تھے ان دھماکوں میں جو لندن کی بسوں اور ٹرینوں میں لندن کے مختلف مقامات پر ہوئے تھے 58 افراد مار گئے تھے اور 750 سو افراد زخمی ہوئے تھے ۔ان خود کش بمبار میں صدیق خان سکول ٹیچر تھا۔یہ دھماکے 9/11 کی کڑی تھے اس کے بعد 2004 میں سپین میڈرڈ میں ٹرین پر 2004 میں ہوئے پر لندن میں 2005 میں ہوئے ۔۔۔۔
یورپی اور امریکی معاشروں کیلئے بڑا آسان تھا وہ مسلمانوں کو کہتے تم لوگ کھاتے ہمارا ہو اور ہمیں ہی مارتے ہو نکلو ہمارے ملک سے ہم تمہارے پاسپورٹ کینسل کریں گے ۔مگر ان کا رد عمل دیکھیں۔۔۔
۔برطانیہ میں اس وقت موجود تھا اور روزانہ کام پر بھی جاتا تھا اور اخبارات بھی کھنگالنا تھا ٹی وی بھی دیکھتا تھا ایک شخص کا بھی یہ مطالبہ نہیں تھا ان لوگوں کو نکل جانا چاہئے۔وہ یہ کہتے تھے ہمارے ملک کے نوجوان دہشت گردی کی طرف مائل کیسے ہوئے ؟ کیا ہم انہیں حقوق دینے میں ناکام ہو گئے ؟ہماری پولیس اور ایجنیساں انہیں پکڑنے میں کیسےناکام ہو گئے ؟ انہوں نے خودکش بمباروں کی فیملیوں کو ایسی جگہ منتقل کیا جہاں انہیں لوگ تنگ نہ کر سکیں انہیں پورا تحفظ دیا۔۔۔۔۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج بیس سال ہو گئے برطانیہ میں دہشت گردی کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا۔ہمارے ہاں حق مانگنے والوں کو کالعدم اور دہشت گرد قرار دیا جاتا یے انہیں مار دیا جاتا ہے ان پہ الزام لگایا جاتا ہے تمہیں راء فنڈ کر رہا ہے ۔جو کچھ اس ملک میں ہر جگہ ہو رہا ہے اگر راء کروا رہا ہے تو اتنا امریکہ نہیں کروا سکتا جو دنیا کا امیر ترین ملک ہے ہندوستان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آ گئی ؟
ہندوستان سارا پیسہ پاکستان میں لگا رہا ہے تو ہندوستان میں کون پیسہ لگا رہا یے ؟آج اس کی نئی نسل جنریشن زی کروڑوں میں سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے ؟
پاکستان کے پس اتنا پیسہ ہے کہ انہیں فنڈ کر سکے ؟
آزادکشمیر میں جاری دھرنوں میں شریک لوگوں کی اور ان کی قیادت کی اور شہداء کی عمریں دیکھو قیادت کی عمری چالیس سال یا اس سے اوپر ہوں گی ۔شہیدوں کی عمریں تیس سال سے کم ہیں ۔وہ سب بچے اس معاشرے کے بہترین انسان تھے ۔اللہ ان کے درجات بلند کرے ۔۔۔
آج کوئی لیڈر جب کیمپین پر جاتا ہے تو دس نوجوان کہیں اکٹھے نظر آ جائیں تو گھبرا جاتا ہے ۔الیکشن مہم بیاہ شادی کی طرح سادے(نیوتا) لگا کر کی جا رہی ہے ہمارے ہاں الیکشن ہے آپ نے آنا ہے ۔۔۔۔
الیکشن جیت لو حکومت بنا لو جو مرضی کر لو مگر یہ سماجی تبدیلی ریورس نہیں ہونے والی ۔۔۔
آج