Muhammad Maqbool Azad

Muhammad Maqbool Azad All about SifarNama

The irrelevant generation بے متعلق لوگ آج جو حالات آزاد کشمیر کے ہیں اس سے ایک بات عیاں ہو گئی ہے کہ وہ لوگ جو 50 سال سے...
25/07/2026

The irrelevant generation
بے متعلق لوگ


آج جو حالات آزاد کشمیر کے ہیں اس سے ایک بات عیاں ہو گئی ہے کہ وہ لوگ جو 50 سال سے اوپر ہیں خواہ سیاستدان ہیں ،استاد ہیں،دانشور ،صحافی ،پیر اور مولوی ہیں یا پھر سماجی رہنما ہیں وہ سب نئی نسل جسے جنریشن زی سے یہ لوگ بے متعلق ہو چکے ہیں ۔یہ لوگ نئی نسل کا رول ماڈل نہیں بن سکے نا ہی ان کے مسائل کا کوئی حل بتا سکے ۔البتہ خود بہترین کاروباری بن گئے ہیں ۔۔

اپنے مفاد کی انہیں ایسی لت لگ چکی ہے کہ اس سے آگے نہ سوچتے ہیں اور نا ہی دیکھتے ہیں وہ لوگ جو اس سماجی تبدیلی سے منہ موڑ رہے ہیں وہ اپنی دکان ،نوکری چھوٹی موتی سکیم اور ٹھیکے کو سامنے رکھ کر یا خوف سے بات کر رہے ہیں ۔

سکول دور میں ہمیں یہی بتایا گیا کہ جو لوگ سائنس پڑھتے ہیں وہی لوگ لائق اور کامیاب ہوتے ہیں ۔سماجیات اور دیگر مضامین پڑھنے سے اس لئے روکا گیا کہ یہ آرٹس مضامین ہیں اور نالائق لوگ یہ پرھتے ہیں ۔

نتیجہ کیا نکالا سائنس پڑھ کر ڈاکٹر تو آپ کو چپے چپے پر ملے گیں بہترین تاجر وہ بن گئے مگر ایک بھی آپ کو سائنسدان نہیں ملے گا ۔دوسری طرف سوشل سائینسز سے ہمیں نفرت تھی آج آپ کو ہمارے سوشل سائنٹسٹ بھی نہیں ملے گا۔

آج اگر سوشل سائنٹسٹ ہمارے ہاں موجود ہوتے تو وہ social changes کو محسوس کرتے حکومت کو وہ پالیسی بنانے میں مدد کرتے اور باقی دنیا کی طرح عوام دوست اقدامات کا مشورہ دیتے

ہم ان حکمرانوں سے خیر کی توقع کرتے ہیں جن کے مفادات کو ذرا سی زک پہنچے تو بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں تم اندین ایجنٹ ہو تمہں امریکہ سے فنڈز لیتے ہو تم غدار ہو ۔تمہیں مار ڈالیں گے ۔۔۔

یہ سب کر کے بھی نتیجہ کیا نکلا ؟ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کریہ سب کچھ کہنا اور کرنا بہت آسان ہے مگر عملی طور پر کچھ کر پانا ناممکن ہے ۔۔

جب 2005 7 جولائی کو لندن میں چار خود کش حملے ہوئے ان میں سے 1 نو مسلم کے علاوہ باقی 3 پاکستانی تھے ان دھماکوں میں جو لندن کی بسوں اور ٹرینوں میں لندن کے مختلف مقامات پر ہوئے تھے 58 افراد مار گئے تھے اور 750 سو افراد زخمی ہوئے تھے ۔ان خود کش بمبار میں صدیق خان سکول ٹیچر تھا۔یہ دھماکے 9/11 کی کڑی تھے اس کے بعد 2004 میں سپین میڈرڈ میں ٹرین پر 2004 میں ہوئے پر لندن میں 2005 میں ہوئے ۔۔۔۔

یورپی اور امریکی معاشروں کیلئے بڑا آسان تھا وہ مسلمانوں کو کہتے تم لوگ کھاتے ہمارا ہو اور ہمیں ہی مارتے ہو نکلو ہمارے ملک سے ہم تمہارے پاسپورٹ کینسل کریں گے ۔مگر ان کا رد عمل دیکھیں۔۔۔

۔برطانیہ میں اس وقت موجود تھا اور روزانہ کام پر بھی جاتا تھا اور اخبارات بھی کھنگالنا تھا ٹی وی بھی دیکھتا تھا ایک شخص کا بھی یہ مطالبہ نہیں تھا ان لوگوں کو نکل جانا چاہئے۔وہ یہ کہتے تھے ہمارے ملک کے نوجوان دہشت گردی کی طرف مائل کیسے ہوئے ؟ کیا ہم انہیں حقوق دینے میں ناکام ہو گئے ؟ہماری پولیس اور ایجنیساں انہیں پکڑنے میں کیسےناکام ہو گئے ؟ انہوں نے خودکش بمباروں کی فیملیوں کو ایسی جگہ منتقل کیا جہاں انہیں لوگ تنگ نہ کر سکیں انہیں پورا تحفظ دیا۔۔۔۔۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج بیس سال ہو گئے برطانیہ میں دہشت گردی کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا۔ہمارے ہاں حق مانگنے والوں کو کالعدم اور دہشت گرد قرار دیا جاتا یے انہیں مار دیا جاتا ہے ان پہ الزام لگایا جاتا ہے تمہیں راء فنڈ کر رہا ہے ۔جو کچھ اس ملک میں ہر جگہ ہو رہا ہے اگر راء کروا رہا ہے تو اتنا امریکہ نہیں کروا سکتا جو دنیا کا امیر ترین ملک ہے ہندوستان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آ گئی ؟

ہندوستان سارا پیسہ پاکستان میں لگا رہا ہے تو ہندوستان میں کون پیسہ لگا رہا یے ؟آج اس کی نئی نسل جنریشن زی کروڑوں میں سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے ؟
پاکستان کے پس اتنا پیسہ ہے کہ انہیں فنڈ کر سکے ؟

آزادکشمیر میں جاری دھرنوں میں شریک لوگوں کی اور ان کی قیادت کی اور شہداء کی عمریں دیکھو قیادت کی عمری چالیس سال یا اس سے اوپر ہوں گی ۔شہیدوں کی عمریں تیس سال سے کم ہیں ۔وہ سب بچے اس معاشرے کے بہترین انسان تھے ۔اللہ ان کے درجات بلند کرے ۔۔۔

آج کوئی لیڈر جب کیمپین پر جاتا ہے تو دس نوجوان کہیں اکٹھے نظر آ جائیں تو گھبرا جاتا ہے ۔الیکشن مہم بیاہ شادی کی طرح سادے(نیوتا) لگا کر کی جا رہی ہے ہمارے ہاں الیکشن ہے آپ نے آنا ہے ۔۔۔۔

الیکشن جیت لو حکومت بنا لو جو مرضی کر لو مگر یہ سماجی تبدیلی ریورس نہیں ہونے والی ۔۔۔



آج

علامتی سیٹیں Symbolic representation مذاکرات کے دوران آزاد جموں کشمیر حکومت نے کہا ہم جموں و کشمیر لداخ گلگت بلتستان کی ...
05/06/2026

علامتی سیٹیں Symbolic representation
مذاکرات کے دوران آزاد جموں کشمیر حکومت نے کہا ہم جموں و کشمیر لداخ گلگت بلتستان کی نمائندہ حکومت میں جبکہ 78 سالوں سے جھگڑا ہی یہی رہا کہ کشمیریوں کی عالمی سطح پر کون نمائندگی کرے گا
اقوام متحدہ میں کشمیر کے۔مسئلہ پر آزادکشمیر حکومت کے صدر سردار ابراہیم خان کو تقریر نہیں کرنے دی تھی پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفراللہ نے تقریر مسئلہ کشمیر پر کی ۔ہمارے سیاستدان۔یہ کہ رہے تھے انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی نے علامتی سیٹ رکھی ہیں۔ایکشن کمیٹی نے کہا تو پھر آپ بھی تمام اکائیوں جموں کشمیر گلگت بلتستان لداخ کی سیٹ آزادکشمیر اسمبلی میں رکھ لیں
یاد رہے علامتی سیٹوں پر کوئی فندز نہیں ہوتے
اس پر بھی مذاکراتی ٹیم مکر گئی

میرپور ایئرپورٹ ایکشن کمیٹی نے جب پوچھا میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا کیا بنا ؟چیف سیکرٹری نے جواب دیا اس کی  فیزیبیلٹی ر...
05/06/2026

میرپور ایئرپورٹ
ایکشن کمیٹی نے جب پوچھا میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا کیا بنا ؟
چیف سیکرٹری نے جواب دیا اس کی فیزیبیلٹی رپورٹ ریجیکٹ ہوتے گئی ہے ۔اس پر ایکشن کمیٹی نے کہا وہ مسترد شدہ رپورٹ کدھر اس چیف سیکرٹری نے کہا میرے پاس نہیں ہے۔حکومت پاکستان نے میڈیا پر بیانات چلا دیے فیزیبیلٹی بن رہی ہے مگر عملا کچھ نہیں کیا ۔ڈیم بنانا سب سے مشکل ہیں وہ آزاد کشمیر میں بن سکتے مگر ایئرپورٹ نہیں بن سکتا
دینہ جہلم سے 15 کلو میٹر فاصلہ پر ہے۔فیزیبیلٹی ایک انٹرنیشنل فرم کرتی ہے دو ہزار کنال رقبہ بھی ایئرپورٹ کیلئے حاصل کیا جا چکا ہے ۔

ایکشن کمیٹی نے 12 مہاجرین  سیٹوں کیلئے حکومت آزادکشمیر اور پاکستان کو آپشن دیا ہے کہ کسمیر کونسل کی حیثیت پاکستان کے اپر...
05/06/2026

ایکشن کمیٹی نے 12 مہاجرین سیٹوں کیلئے حکومت آزادکشمیر اور پاکستان کو آپشن دیا ہے کہ کسمیر کونسل کی حیثیت پاکستان کے اپر ہاؤس سینٹ جیسی ہے لہذا اپ 4 سیٹیں رکھ لیں ۔۔۔کشمیر کونسل چئیرمین پاکستان کا وزیراعظم ہوتاہے

04/06/2026

میں نے بچنا مکی مہاجر آخو ۔۔۔۔۔آزاد کشمیر کے انوکھے مہاجر !!!!

بسنیک ایک ٹرم ہے جو ایک جگہ آباد ہیں مگر یہ درست نہیں دنیا میں ہر شخص مہاجر ہے وہ ایک جگہ دوسری جگہ جنگ قحط اور رزق کی تلاش میں ہجرت کرتا ہے۔

سول سال پیچھے جائیں تو ہر ایک نے کس نا کسی وجہ سے ہجرت کی ہو گی

سعودیہ میں سیاہ فام لوگ ظاہر ہےافریقہ سے ہجرت کر کے گئے 20 فیصد افراد سیاہ فام ہیں

اسی طرح برطانیہ کا شاہی خاندان جرمنی سے ہجرت کر کے گیا انہیں بھی جرمنی سے حصہ مانگنا چاہیئے

ریاست جموں کشمیر سے س۔ سے بڑی ہجرت مہاراجہ زبیر سنگھ زمانہ 1877 میں ہوئی اس وقت شدید برفباری کی وجہ مقبوضہ کشمیر گندم نہیں ہوئی تھی مہاراجہ کارندوں نے اناج اپنے ڈوگرہ لوگ اور پنڈتوں کو دی مسلمانوں کہتے !آو تمہیں اناج دیں کشتیاں بھر بھر جھیل ڈلواتے میں ڈبو دیں ۔کشمیر سے جانے پر پابندی لگا دی

پھر بھی لوگوں نے ہجرت کی کشمیری بازار اور کشمیری محلے اس دور کی یادیں ہیں
Refugee
وہ ہوتے ہیں جو جنگ یا قحط وجہ دوسرے ملک چلے جاتے
Immigrants
وہ جو روزگار کیلئے دوسرے ملک جاتے یہ ٹرک وطن کر کے جاتے ہیں جس طرح 15 لاکھ کشمیری صرف برطانیہ میں تارک وطن ہے
Migrants
اپنی مرضی کبھی ایک ملک کو کبھی دوسرے ملک جاتے ہیں
مگر۔یاد رہے صرف پہلی نسل ریفیوجی ،امیگرنٹ یا مائگرنٹ ہوتی ہے ان کی اولاد جو وہاں پیدا ہوتے وہ اس ملک کے شہری ہوتے ہیں انہیں یہ سب ٹائٹل سے نہیں بلایا جاتا

آزاد کشمیر کے تیسری نسل اپنے آپ کیوں مہاجر کہتے ہیں ؟

لوہے پر لکیر سے پتھر پر پر لکیر جو معائدہ حکومت آزادکشمیر، حکو مت پاکستان اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہوا تھا...
04/06/2026

لوہے پر لکیر سے پتھر پر پر لکیر

جو معائدہ حکومت آزادکشمیر، حکو مت پاکستان اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہوا تھا اس پر وزیر اعظم آزادکشمیر نے ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا یہ معائدہ پتھر پر لکیر ہے ۔اس کی ہم مکمل پاسداری کریں گے

ہم نے بچپن نے میں یہ محاورہ پڑھا سنا تھا ۔لوہے پر لکیر ۔اس کا مطلب اساتذہ نے سمجھایا لوہے پر لکیر جب لوہے سے ماری جاتی ہے تو آپ لاکھ جتن کریں یہ مٹ نہیں سکتی البتہ کسی پینٹ یا سفیدی سے لکیر لگائیں گے تو وہ مٹ سکتی ہے
پتھر پر لکیر لگانا اور مٹانا اسان ہے۔۔۔

وزیراعظم آزاد جموں کشمیر امریکہ سے تعلیم یافتہ ہمیں امید تھی وہ اپنی بات کا پاس رکھیں گے مگر اس معاملہ میں انہوں نے اپنے سیاسی آقا آصف علی زرداری کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جس نے میثاق جمہوریت کو۔کہا تھا ہم اس معائدہ کے پابند نہیں یہ کوئی قرآن حدیث تھوڑی یے

حکمران اشرافیہ نے طے کر لیا ہے کہ ہم نے عام آدمی کی بات نہیں ماننی چاہے عام عوام مر جائے۔ہم نے وہ کام نہیں کرنا جس سے عام آدمی کو کچھ فائدہ ہو جائے۔اگر ما ن لی تو ہماری نمبرداری ختم ہو جائے گی جب تک عوام بھکاری نہیں بنیں گے ان کااقتدار کیسے دوام پکڑے گا

موجودہ اور سابق حکمران پار بیٹھے حکمرانوں کے کان بھر رہے ہیں کہ یہ سب پی ٹی آئی والے چونکہ پی ٹی آئی اس وقت زیر عتاب ہے اور وہ ایکشن کمیٹی کے روپ میں چھپے ہیں ۔پہلے انہیں انڈین ایجنٹ کہا سائفر لہرایا گیا ایک حریت میدان میں لایا گیا اس نے کہا یہ تھوڑے سے پیسے شوکت نواز میر کو دے دینا اورہمارا سلام بھی پہنچا دینا ۔

تو پھر یہ لوگ کون ہیں کیسے یہ بپھر گئے ہیں ؟یہ آپ کی 78 سالہ کارکردگی کا نتیجہ ہے ۔آپ نے جھانسہ دے رکھا کہ آزاد کشمیر آزادی کا بیس کیمپ ہےجبکہ آپ لوگوں نے اپنے لئے اور اپنی نسلوں کیلئے بزنس کیمپ بنائے رکھا۔لوگ معاشی جلاوطن ہوئے عرب کے تپتے صحراؤں سے لے کر یورپ یخ یخ بستہ سردی میں مزدوری کرتے رہے ۔ڈنکی لگاتے ہوئے کئی لوگ سمندر کی بے لہروں کی نظر ہو گئے

ہمارے لیڈر حضرات نے وہاں سمندر پار بھی انہیں چھوڑا ان سے دعوتیں اڑائیں چندے لیئے وہاں بھی انہیں جمااعتوں اور برادریوں میں تقسیم کیا ان لوگوں کی اولادیں جب یہاں آکر زمانہ قدیم کے حالات دیکھتے ہیں تو آزادکشمیر کی بجائے دوبئی ترکی مراکو جانا پسند کرتے ہیں ۔

لوگ کہتے باہر دنیا کے لوگ اگر نظام چلا سکتے ہیں تو ہمارے ہاں نظام کیوں بہترنہیں ہو سکتا ۔اس تحریک میں پی ٹی ائی کے لوگ ضرور شامل ہوں گے اسی طرح دیگر جماعتوں کے لوگ بھی شامل ہیں میرا ایمان کہتا ہے اس میں ایک بھی انڈین ایجنٹ شامل نہیں قوم پرست ہونا کوئی جرم نہیں یہ تحریک کے لوگ پاکستانیوں سے زیادہ ہندوستان سے نفرت کرنے والے ہیں

مان لو یہ نظام زیادہ دیر چلنے والا نہیں ۔دیا بجھنے سے پہلے پھڑ پھڑاتا ہے بس یہ پھڑ پھڑاہٹ باقی ہے

03/06/2026

سیاسی مہاجر اور ان کا گھناونا کردار

ویسے تو آزاد کشمیر کی اسمبلی سب کے سب سیاسی مہاجروں پر۔مشتمل ہے ۔سارے کے سارے اس وقت حکومت میں ہیں کسی کا پتہ نہیں چلتا کون حکمران ہے اور کون اپوزیشن ہے

12 سیاسی مہاجرین جو پاکستان سے منتخب ہو کر آتے ہیں ان کا آج تک کیا کردار رہا ہے ؟ کوئی نہیں اس پر بات کر رہا ہے

یہ 12 سیاسی مہاجر ہر وقت فار سیل رہتے ہیں کسی جماعت کی حکومت نہیں چلنے دیتے
2006سے 2011 کی حکومت میں ہر سال نیا وزیر اعظم اتا رہا 2021 سے اب تک پانچواں وزیراعظم اس وقت فیصل راٹھور پی پی کا وزیراعظم ہے سارے کے سارے نام نہاد مہاجرین سیٹ والے وزیر اور پی پی میں شامل ہیں

کل کہیں اور چل۔دیں گے

عوام کے کام کہا ہوئے کوئی نہیں

یہ شام ایک جماعت میں صبح دوسری جماعت اگلے۔دن تیسری جماعت میں ہوتے ہیں ازاد کشمیر کے سیاستدانوں کی بھی یہی حالت ہے

یہ سیاسی مہاجر عدم اعتماد کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں

اس کے علاوہ انہوں نے کوئی کارنامہ کیا ہے تو بتا دیں ۔۔

برطانیہ میں refugees,immigrants and migrants کی اولادوں کو وہاں کا باشندہ یعنی بزتس۔سیٹزن کہتے ہیں وہ کسی طرح بھی مہاجر نہیں رہتے

افغان پناہ گزین تھے وہ اقوام۔متحدہ ادارے UNHCR کے ساتھ رجسٹرڈ تھے اس لئے پاکستان انہیں نکال دیا اقوام متحدہ ان کی مد میں امداد ڈالر فراہم کرتا تھا

یہ سیاسی مہاجر کس کیٹگری میں آتے ہیں ؟

02/06/2026

One of the best teacher in Multan Dr Mohyuddin Abrar

مقبول آزاد ملک کی وال سے کراچی کے مہاجروں کو۔کہا جاتا ہے پاکستانی بنو مہاجر مت کہلاو مہاجرین مقیم پاکستان کشمیریوں کو کہ...
02/06/2026

مقبول آزاد ملک کی وال سے
کراچی کے مہاجروں کو۔کہا جاتا ہے پاکستانی بنو مہاجر مت کہلاو مہاجرین مقیم پاکستان کشمیریوں کو کہا جاتا ہے آپ مہاجر بنو پاکستانی مت کہلاؤ مہاجر بنو ۔۔۔۔کھلا تضاد نہیں؟
Muhammad Maqbool Azad

01/06/2026

یکدم سے ایکشن کمیٹی کے خلاف تتے تتے بیانات شروع ہو گئے ہیں ۔۔۔

اس کی وجہ پیپلز۔پارٹی ہے

انہیں ادراک ہو گیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات جائز ہیں
بس یہی ان کی غلطی ہے

ایک درجن 12۔سیٹوں کا جو set ہے اس پہ رونا دھونا شروع کر دیا ہے

وہ پاکستانی صحافی جو ایکس اور فیس بک پر پچھلی دفعہ کہتے تھے کشمیری چاہتے ہیں انہیں ایک ایک نوکر فری دیا جائے اس قدر کشمیریوں کو سہولیات حاصل ہیں

انہیں چیلنج ہے آزاد کشمیر کے کسی ایک حلقہ کا ٹور 125 موٹر سائکل پر یاپھر اپنی پراڈو یا رینج روور کریں

واپسی پر ان کی ریڑھ کی ہڈی میں سے کڑاکے نہ نکلے تو نام بدل دینا ۔۔۔

جاوید چوہدری اپنی ویبسائٹ پر پراپیگنڈا کر رہا ہے میں اسے باقیوں کی طرح جیدا چنگڑ نہیں کہوں گا میں بہت زیادہ اسے پڑھا کرتا ان گناہوں کی معافی چاہتا ہوں ۔۔۔۔

Address

Kotli Sarsawa
11200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Maqbool Azad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Maqbool Azad:

Shortcuts

Share