31/07/2026
وہ شخص جو بیس سال بعد واپس آیا — حصہ سوم (اختتامی حصہ)
ریسٹورنٹ کے باہر سیاہ گاڑی سے اترنے والا شخص آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔
بارش کے پردے میں بھی یعقوب صاحب نے اسے فوراً پہچان لیا۔
“انسپکٹر فاروق…”
ان کی آواز میں بیس سال پرانا خوف واپس آ چکا تھا۔
سلیم نے میز پر رکھی قبر سے نکالی گئی انگوٹھی دیکھی، پھر شیشے کے پار فاروق کی انگلی میں چمکتی بالکل ویسی ہی انگوٹھی۔
دو ایک جیسی انگوٹھیاں۔
ایک قبر کے اندر سے ملی تھی۔
اور دوسری ایک زندہ شخص کے ہاتھ میں تھی۔
دروازہ کھلا۔
فاروق اندر آیا، چھتری ایک طرف رکھی اور ایسے مسکرایا جیسے بیس سال پہلے کوئی بات ادھوری چھوڑ کر گیا ہو۔
“تمہیں واپس نہیں آنا چاہیے تھا، سلیم۔”
سلیم اپنی جگہ سے نہ ہلا۔
“اور تمہیں زندہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔”
فاروق کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
سلیم نے انگوٹھی اس کے سامنے پھینک دی۔
“قبر میں کون تھا؟”
فاروق خاموش رہا۔
مگر یعقوب صاحب اچانک کرسی پر بیٹھ گئے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“ندیم…”
سلیم نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
“میرا بھائی؟”
یعقوب صاحب نے سر جھکا لیا۔
“ہاں۔ جنگل میں ملنے والی لاش ندیم کی تھی۔ اسے تمہارے کپڑے پہنائے گئے، جیب میں تمہارا شناختی کارڈ رکھا گیا، تاکہ دنیا سمجھے کہ مرنے والا تم ہو۔”
سلیم کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا۔
“کیوں؟”
فاروق نے سرد لہجے میں جواب دیا:
“کیونکہ تمہارے بھائی نے وہ چیز دیکھ لی تھی جو اسے نہیں دیکھنی چاہیے تھی۔”
سلیم نے میز پر پڑی زنگ آلود چابی اٹھائی۔
“وہ لوہے کا ٹرنک؟”
یعقوب صاحب نے کاؤنٹر کی طرف اشارہ کیا۔
سلیم نے چابی کاؤنٹر کے نیچے موجود ایک پرانے تالے میں لگائی۔ لکڑی کا خفیہ خانہ کھلا تو اندر ایک موٹا رجسٹر، چند آڈیو کیسٹیں، تصاویر اور پرانی فائلیں پڑی تھیں۔
یہی وہ ریکارڈ تھا جسے بیس سال پہلے ندیم نے دیکھ لیا تھا۔
شہر کے بااثر افراد، زمینوں پر قبضے، لاپتا ہونے والے لوگ، رشوت اور قتل—ہر جرم کا حساب اس رجسٹر میں درج تھا۔
اور ہر صفحے پر ایک نام بار بار آ رہا تھا:
انسپکٹر فاروق۔
فاروق نے جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا، مگر سلیم نے پرسکون لہجے میں کہا:
“کوئی فائدہ نہیں۔”
اسی لمحے باہر گاڑیوں کے بریک لگنے اور دروازوں کے کھلنے کی آوازیں آئیں۔
فاروق نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
پولیس کی گاڑیاں ریسٹورنٹ کو گھیر چکی تھیں۔
“تم پولیس لے کر آئے ہو؟”
سلیم نے میز پر پڑی پرانی تصویر سیدھی کی۔
“میں بدلہ لینے نہیں آیا تھا۔ میں سچ کو زندہ کرنے آیا تھا۔”
فاروق نے یعقوب صاحب کی طرف دیکھا۔
“تم نے اسے بلایا؟”
یعقوب صاحب نے پہلی بار فاروق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
“ہاں۔ تصویر، چابی اور قبر کی جگہ میں نے ہی سلیم کو بھیجی تھی۔ بیس سال پہلے میں ڈر گیا تھا۔ مگر انسان ساری عمر اپنے ضمیر سے نہیں بھاگ سکتا۔”
فاروق کے چہرے پر شکست کا سایہ پھیل گیا۔
سلیم نے اپنی قمیص کے بٹن کے قریب لگا چھوٹا سا ریکارڈر اتار کر میز پر رکھ دیا۔
“اور ابھی جو اعتراف ہوا ہے، وہ بھی محفوظ ہو چکا ہے۔”
چند لمحوں بعد پولیس اہلکار اندر داخل ہوئے۔
فاروق کو ہتھکڑی لگائی گئی تو اس نے جاتے ہوئے سلیم کی طرف دیکھا۔
“تم سمجھتے ہو اس سے سب کچھ بدل جائے گا؟”
سلیم نے جواب دیا:
“نہیں۔ مگر آج سے جھوٹ اکیلا نہیں رہے گا۔ اس کے سامنے ثبوت کھڑا ہوگا۔”
صبح ہونے تک ریسٹورنٹ سیل کر دیا گیا۔
رجسٹر، تصاویر اور آڈیو کیسٹیں تحویل میں لے لی گئیں۔ کئی پرانے مقدمات دوبارہ کھولے گئے، اور جنگل میں دفن ندیم کی شناخت بھی بالآخر درست ثابت ہوگئی۔
سلیم سورج نکلنے سے پہلے اپنے بھائی کی قبر پر پہنچا۔
اس نے زنگ آلود چابیاں قبر پر رکھیں اور آہستہ سے کہا:
“تم نے کہا تھا، اگر زندہ رہا تو واپس آؤں گا…”
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
“میں واپس آگیا ہوں، ندیم۔ مگر تمہیں لینے نہیں… تمہارا نام واپس دینے۔”
بیس سال پہلے ایک لاش کو غلط نام دے کر دفن کر دیا گیا تھا۔
اور بیس سال بعد، ایک زندہ شخص واپس آیا تو صرف قاتل بےنقاب نہیں ہوا—
ایک مردہ بھائی کو اس کی شناخت بھی واپس مل گئی۔
بارش رک چکی تھی۔
مگر شہر کی سڑکوں پر بہتا پانی جیسے بیس سال پرانے جھوٹ کے نشان دھو رہا تھا۔
اختتام
دستک