Dastak

Dastak I'm a dedicated Digital Creator focused on bringing energy and value to your feed, primarily through engaging, short-form video (Reels).

وہ شخص جو بیس سال بعد واپس آیا — حصہ سوم (اختتامی حصہ)ریسٹورنٹ کے باہر سیاہ گاڑی سے اترنے والا شخص آہستہ آہستہ دروازے کی...
31/07/2026

وہ شخص جو بیس سال بعد واپس آیا — حصہ سوم (اختتامی حصہ)

ریسٹورنٹ کے باہر سیاہ گاڑی سے اترنے والا شخص آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔

بارش کے پردے میں بھی یعقوب صاحب نے اسے فوراً پہچان لیا۔

“انسپکٹر فاروق…”

ان کی آواز میں بیس سال پرانا خوف واپس آ چکا تھا۔

سلیم نے میز پر رکھی قبر سے نکالی گئی انگوٹھی دیکھی، پھر شیشے کے پار فاروق کی انگلی میں چمکتی بالکل ویسی ہی انگوٹھی۔

دو ایک جیسی انگوٹھیاں۔

ایک قبر کے اندر سے ملی تھی۔

اور دوسری ایک زندہ شخص کے ہاتھ میں تھی۔

دروازہ کھلا۔

فاروق اندر آیا، چھتری ایک طرف رکھی اور ایسے مسکرایا جیسے بیس سال پہلے کوئی بات ادھوری چھوڑ کر گیا ہو۔

“تمہیں واپس نہیں آنا چاہیے تھا، سلیم۔”

سلیم اپنی جگہ سے نہ ہلا۔

“اور تمہیں زندہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔”

فاروق کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔

سلیم نے انگوٹھی اس کے سامنے پھینک دی۔

“قبر میں کون تھا؟”

فاروق خاموش رہا۔

مگر یعقوب صاحب اچانک کرسی پر بیٹھ گئے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“ندیم…”

سلیم نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔

“میرا بھائی؟”

یعقوب صاحب نے سر جھکا لیا۔

“ہاں۔ جنگل میں ملنے والی لاش ندیم کی تھی۔ اسے تمہارے کپڑے پہنائے گئے، جیب میں تمہارا شناختی کارڈ رکھا گیا، تاکہ دنیا سمجھے کہ مرنے والا تم ہو۔”

سلیم کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا۔

“کیوں؟”

فاروق نے سرد لہجے میں جواب دیا:

“کیونکہ تمہارے بھائی نے وہ چیز دیکھ لی تھی جو اسے نہیں دیکھنی چاہیے تھی۔”

سلیم نے میز پر پڑی زنگ آلود چابی اٹھائی۔

“وہ لوہے کا ٹرنک؟”

یعقوب صاحب نے کاؤنٹر کی طرف اشارہ کیا۔

سلیم نے چابی کاؤنٹر کے نیچے موجود ایک پرانے تالے میں لگائی۔ لکڑی کا خفیہ خانہ کھلا تو اندر ایک موٹا رجسٹر، چند آڈیو کیسٹیں، تصاویر اور پرانی فائلیں پڑی تھیں۔

یہی وہ ریکارڈ تھا جسے بیس سال پہلے ندیم نے دیکھ لیا تھا۔

شہر کے بااثر افراد، زمینوں پر قبضے، لاپتا ہونے والے لوگ، رشوت اور قتل—ہر جرم کا حساب اس رجسٹر میں درج تھا۔

اور ہر صفحے پر ایک نام بار بار آ رہا تھا:

انسپکٹر فاروق۔

فاروق نے جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا، مگر سلیم نے پرسکون لہجے میں کہا:

“کوئی فائدہ نہیں۔”

اسی لمحے باہر گاڑیوں کے بریک لگنے اور دروازوں کے کھلنے کی آوازیں آئیں۔

فاروق نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔

پولیس کی گاڑیاں ریسٹورنٹ کو گھیر چکی تھیں۔

“تم پولیس لے کر آئے ہو؟”

سلیم نے میز پر پڑی پرانی تصویر سیدھی کی۔

“میں بدلہ لینے نہیں آیا تھا۔ میں سچ کو زندہ کرنے آیا تھا۔”

فاروق نے یعقوب صاحب کی طرف دیکھا۔

“تم نے اسے بلایا؟”

یعقوب صاحب نے پہلی بار فاروق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔

“ہاں۔ تصویر، چابی اور قبر کی جگہ میں نے ہی سلیم کو بھیجی تھی۔ بیس سال پہلے میں ڈر گیا تھا۔ مگر انسان ساری عمر اپنے ضمیر سے نہیں بھاگ سکتا۔”

فاروق کے چہرے پر شکست کا سایہ پھیل گیا۔

سلیم نے اپنی قمیص کے بٹن کے قریب لگا چھوٹا سا ریکارڈر اتار کر میز پر رکھ دیا۔

“اور ابھی جو اعتراف ہوا ہے، وہ بھی محفوظ ہو چکا ہے۔”

چند لمحوں بعد پولیس اہلکار اندر داخل ہوئے۔

فاروق کو ہتھکڑی لگائی گئی تو اس نے جاتے ہوئے سلیم کی طرف دیکھا۔

“تم سمجھتے ہو اس سے سب کچھ بدل جائے گا؟”

سلیم نے جواب دیا:

“نہیں۔ مگر آج سے جھوٹ اکیلا نہیں رہے گا۔ اس کے سامنے ثبوت کھڑا ہوگا۔”

صبح ہونے تک ریسٹورنٹ سیل کر دیا گیا۔

رجسٹر، تصاویر اور آڈیو کیسٹیں تحویل میں لے لی گئیں۔ کئی پرانے مقدمات دوبارہ کھولے گئے، اور جنگل میں دفن ندیم کی شناخت بھی بالآخر درست ثابت ہوگئی۔

سلیم سورج نکلنے سے پہلے اپنے بھائی کی قبر پر پہنچا۔

اس نے زنگ آلود چابیاں قبر پر رکھیں اور آہستہ سے کہا:

“تم نے کہا تھا، اگر زندہ رہا تو واپس آؤں گا…”

وہ چند لمحے خاموش رہا۔

“میں واپس آگیا ہوں، ندیم۔ مگر تمہیں لینے نہیں… تمہارا نام واپس دینے۔”

بیس سال پہلے ایک لاش کو غلط نام دے کر دفن کر دیا گیا تھا۔

اور بیس سال بعد، ایک زندہ شخص واپس آیا تو صرف قاتل بےنقاب نہیں ہوا—

ایک مردہ بھائی کو اس کی شناخت بھی واپس مل گئی۔

بارش رک چکی تھی۔

مگر شہر کی سڑکوں پر بہتا پانی جیسے بیس سال پرانے جھوٹ کے نشان دھو رہا تھا۔

اختتام

دستک

31/07/2026

آخر کیوں

وہ شخص جو بیس سال بعد واپس آیا — حصہ دومریسٹورنٹ کے اندر ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی تھی۔باہر بارش اب تیز ہو چکی تھی۔ در...
30/07/2026

وہ شخص جو بیس سال بعد واپس آیا — حصہ دوم

ریسٹورنٹ کے اندر ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی تھی۔

باہر بارش اب تیز ہو چکی تھی۔ دروازے کے شیشے پر پانی مسلسل بہہ رہا تھا، اور اندر زرد بتی کی مدھم روشنی میں یعقوب صاحب کا چہرہ پہلے سے زیادہ زرد دکھائی دے رہا تھا۔

سامنے بیٹھا آدمی مسلسل انہیں دیکھ رہا تھا۔

نہ اس کی آواز میں جلدی تھی، نہ چہرے پر غصہ، نہ لہجے میں شور۔

مگر بعض اوقات خاموش لوگ چیخنے والوں سے زیادہ خوفناک لگتے ہیں۔

یعقوب صاحب نے کپکپاتے ہوئے پوچھا:

“اگر… اگر وہ تم نہیں تھے… تو پھر جنگل میں مرنے والا کون تھا؟”

وہ آدمی چند لمحے خاموش رہا۔

پھر اس نے میز پر رکھی زنگ آلود چابیوں کو انگلی سے گھمایا… اور آہستہ سے بولا:

“وہ میرا بھائی تھا…”

یہ جملہ سنتے ہی یعقوب صاحب کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“بھائی؟”

“جڑواں بھائی…”

اب یعقوب صاحب کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔

کیونکہ بیس سال پہلے جس آدمی کو وہ جانتے تھے، اس کے بارے میں انہوں نے کبھی نہیں سنا تھا کہ اس کا کوئی بھائی بھی ہے۔

سامنے بیٹھے شخص نے یعقوب صاحب کی آنکھوں میں اترتے ہوئے کہا:

“اس رات تم نے بھی یہی سمجھا تھا نا… کہ جو مر گیا، وہ میں تھا؟”

یعقوب صاحب کے ہونٹ ہلے، مگر آواز نہ نکل سکی۔

وہ آدمی کرسی پر ذرا سیدھا ہو کر بیٹھا اور بولا:

“اصل کہانی اس رات شروع نہیں ہوئی تھی… اصل کہانی تو اس دن شروع ہوئی تھی، جب میں نے تمہارے کاؤنٹر کے پیچھے وہ سب کچھ دیکھ لیا تھا… جو مجھے نہیں دیکھنا چاہیے تھا…”

یعقوب صاحب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔

“ک… کیا دیکھا تھا تم نے؟”

اس نے سرد آواز میں جواب دیا:

“دو آدمی… ایک لوہے کا ٹرنک… اور اس ٹرنک کے اندر بند وہ چیز… جس کے بعد تمہارا ریسٹورنٹ صرف ریسٹورنٹ نہیں رہا تھا…”

بارش کے شور کے باوجود یہ جملہ یعقوب صاحب کے کانوں میں ہتھوڑے کی طرح لگا۔

انہوں نے فوراً گردن گھما کر دروازے کی طرف دیکھا، جیسے ابھی بھی کوئی سن رہا ہو۔

“آہستہ بولو…” وہ بمشکل کہہ پائے۔

وہ آدمی ہلکا سا مسکرایا۔

“بیس سال تم خاموش رہے… آج تمہیں آواز سے ڈر لگ رہا ہے؟”

یعقوب صاحب نے میز پکڑ لی۔

“تم کیا چاہتے ہو؟”

وہ جھکا۔

اتنا جھکا کہ یعقوب صاحب کو اس کی سانس اپنے چہرے پر محسوس ہوئی۔

“میں وہ سچ سننا چاہتا ہوں… جو تم نے پولیس کو کبھی نہیں بتایا…”

“میں نے کچھ نہیں چھپایا…”

“جھوٹ۔”

یہ لفظ اس نے اتنی آہستگی سے کہا کہ یعقوب صاحب پر اور زیادہ اثر ہوا۔

“تم نے پولیس کو صرف اتنا بتایا تھا کہ ایک گاہک آیا، کھانا کھایا اور پھر چلا گیا۔ مگر تم نے یہ نہیں بتایا کہ اس رات تم نے مجھے پچھلے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا دیکھا تھا… اور تم نے یہ بھی نہیں بتایا کہ میں نے تمہیں ایک آدمی کے کپڑوں پر خون کے دھبے دھوتے ہوئے دیکھا تھا…”

یعقوب صاحب جیسے کرسی پر ہی جم گئے۔

ان کے ذہن میں بیس سال پرانا منظر اچانک زندہ ہو گیا۔

رات کے دو بجے تھے…

بارش تب بھی ہو رہی تھی…

پچھلے کمرے کی بتی جل رہی تھی…

اور واقعی… دروازے کے سائے میں ایک چہرہ تھا…

وہی چہرہ…

یا شاید اس کے بھائی کا…

یعقوب صاحب نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔

“تم… تم وہاں تھے؟”

“نہیں…” اس نے جواب دیا، “وہ میرا بھائی تھا… اور اس نے سب کچھ دیکھ لیا تھا…”

چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر اس آدمی نے اپنی جیکٹ کے اندر ہاتھ ڈالا اور ایک پرانی، بھیگی ہوئی تصویر نکالی۔

اس نے تصویر میز پر رکھ دی۔

یعقوب صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے تصویر اٹھائی… اور اگلے ہی لمحے ان کے ہاتھ سے تصویر چھوٹ گئی۔

تصویر میں تین لوگ تھے۔

ایک یعقوب صاحب…

دوسرا وہی آدمی…

اور تیسرا ایک ایسا شخص…

جسے یعقوب صاحب نے بیس سال پہلے اپنے ہاتھوں سے دفن ہوتے دیکھا تھا۔

مگر سب سے خوفناک بات تصویر کے پیچھے لکھی ہوئی تھی:

“اگر میں مر جاؤں… تو یعقوب سے پوچھنا، لاش کس کی تھی؟”

یعقوب صاحب کی چیخ بمشکل ان کے حلق میں رہ گئی۔

وہ پیچھے ہٹے۔

“یہ… یہ تصویر تمہیں کہاں سے ملی؟”

اس آدمی نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا:

“اس قبر سے… جسے ہم نے پچھلے ہفتے کھدوایا تھا…”

یعقوب صاحب کی آنکھوں میں وحشت دوڑ گئی۔

“قبر…؟”

“ہاں…”

“اور قبر میں…؟”

وہ آدمی کرسی سے آہستہ سے اٹھا۔

بارش کی روشنی اس کے آدھے چہرے پر پڑ رہی تھی۔

اس نے جیب سے ایک اور چیز نکالی…

ایک پرانی انگوٹھی…

یعقوب صاحب اسے دیکھتے ہی دیوار سے جا لگے۔

کیونکہ یہ انگوٹھی اس شخص کی تھی…

جسے وہ بیس سال سے مردہ مان کر بیٹھے تھے…

اور جو آج رات بھی اس کہانی میں کہیں زندہ محسوس ہو رہا تھا۔

“تم سمجھ رہے ہو نا یعقوب صاحب…”
اس آدمی نے آہستہ سے کہا،
“لاش ایک تھی… مگر غائب دو لوگ ہوئے تھے…”

اور اب پہلی بار یعقوب صاحب کو احساس ہوا…

کہ شاید بیس سال پہلے صرف ایک قتل نہیں ہوا تھا…

بلکہ ایک ایسی تبدیلی ہوئی تھی…

جس میں کسی نے اپنی موت کا ڈراما رچایا…

اور کسی اور کو قبر میں سلا دیا گیا۔

باہر بجلی کڑکی۔

اندر یعقوب صاحب کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

اور سامنے کھڑا آدمی اب پہلے سے زیادہ خطرناک لگ رہا تھا۔

کیونکہ وہ بدلہ لینے نہیں آیا تھا…

وہ حساب مکمل کرنے آیا تھا۔

اور اصل نام ابھی بھی سامنے نہیں آیا تھا…

اگر حصہ سوم چاہیے تو کمنٹ میں لکھیں: “حصہ سوم فائنل

29/07/2026

تمہارا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا ان شاء اللہ

حقیقت جان کر جئیں
29/07/2026

حقیقت جان کر جئیں

وہ شخص جو بیس سال بعد واپس آیاشام کا وقت تھا۔بارش ابھی ابھی تھمی تھی اور شہر کے پرانے بازار میں موجود چھوٹا سا ریسٹورنٹ ...
29/07/2026

وہ شخص جو بیس سال بعد واپس آیا

شام کا وقت تھا۔

بارش ابھی ابھی تھمی تھی اور شہر کے پرانے بازار میں موجود چھوٹا سا ریسٹورنٹ معمول کے مطابق بند ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔ ویٹر کرسیاں سیدھی کر رہے تھے، کیش کاؤنٹر بند ہو رہا تھا، اور مالک یعقوب صاحب روز کی طرح آخری چکر لگا رہے تھے۔

اتنے میں دروازہ آہستہ سے کھلا۔

ایک آدمی اندر داخل ہوا۔

گیلے بال، مٹی آلود کپڑے، اور چہرے پر ایسی تھکن جیسے وہ کئی میل پیدل چل کر آیا ہو۔ یعقوب صاحب نے سرسری نظر سے دیکھا، پھر اچانک ان کے ہاتھ سے چابی گر گئی۔

کیونکہ وہ چہرہ وہ پہچانتے تھے۔

بہت اچھی طرح پہچانتے تھے۔

یہ وہی آدمی تھا…
جو ٹھیک بیس سال پہلے اسی ریسٹورنٹ میں آیا تھا…
کھانا کھایا تھا…
اور پھر اچانک غائب ہو گیا تھا۔

مگر بات صرف اتنی نہیں تھی۔

اصل مسئلہ یہ تھا کہ جس رات وہ غائب ہوا تھا، اسی رات شہر کے باہر جنگل سے ایک لاش ملی تھی۔

پولیس نے کافی تفتیش کی، مگر کچھ ثابت نہ ہو سکا۔ یعقوب صاحب نے بھی خاموشی اختیار کر لی، کیونکہ وہ ایک ایسی بات جانتے تھے جو انہوں نے کبھی کسی کو نہیں بتائی۔

اس رات غائب ہونے والے آدمی نے جاتے جاتے کاؤنٹر پر جھک کر صرف ایک جملہ کہا تھا:

“اگر میں زندہ رہا… تو ایک دن واپس ضرور آؤں گا۔”

اور پھر وہ چلا گیا تھا۔

آج… بیس سال بعد… وہ واقعی واپس آ چکا تھا۔

ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے ہی اس نے ادھر اُدھر دیکھا، جیسے وہ کسی چیز کی تصدیق کر رہا ہو۔ پھر آہستہ آہستہ کاؤنٹر تک آیا اور یعقوب صاحب کے سامنے بیٹھ گیا۔

“پہچانا مجھے؟”

یعقوب صاحب کے لب خشک ہو گئے۔

“ت… تم؟ مگر… تم تو…”

وہ آدمی ہلکا سا مسکرایا۔

“ہاں، سب یہی سمجھتے رہے کہ میں مر گیا۔”

چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر اس نے اپنی جیب سے ایک پرانا، زنگ آلود چابیوں کا چھلہ نکالا… اور میز پر رکھ دیا۔

“میں واپس اپنا حساب برابر کرنے آیا ہوں…”

یعقوب صاحب کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

کیونکہ وہ چابیوں کا چھلہ…
اسی شخص کا تھا…
جس کی لاش بیس سال پہلے جنگل میں ملی تھی۔

یعقوب صاحب کے ہاتھ کانپنے لگے۔

“یہ… یہ تمہارے پاس کیسے آیا؟”

اس آدمی نے کرسی سے ذرا آگے جھک کر آہستہ آواز میں کہا:

“کیونکہ جسے تم نے مردہ سمجھا تھا… وہ میں نہیں تھا۔”

یہ سن کر یعقوب صاحب کی سانس جیسے رک گئی۔

باہر دوبارہ بارش شروع ہو چکی تھی۔

اندر ریسٹورنٹ کی زرد روشنی میں دو چہرے آمنے سامنے تھے…
ایک وہ، جو بیس سال سے خوف میں زندہ تھا…
اور دوسرا وہ، جو بیس سال بعد واپس آیا تھا…
مگر صرف ملنے نہیں…

کچھ یاد دلانے۔

اور اصل راز ابھی شروع ہوا تھا…

اگر حصہ دوم چاہیے تو کمنٹ میں لکھیں: “حصہ دوم”

دستک

جھوٹ پھیلا کر مزید افراتفری نہ مچائیں۔اس تصویر کو شیئر کریں تا کہ لوگ حقیقت کو جان سکیں۔
29/07/2026

جھوٹ پھیلا کر مزید افراتفری نہ مچائیں۔اس تصویر کو شیئر کریں تا کہ لوگ حقیقت کو جان سکیں۔

ٹانک کی مشترکہ چیک پوسٹ پر حالیہ دہشت گرد حملے میں بارہ فوجی جوانوں، دو پولیس اہلکاروں اور محکمہ جنگلات کے ایک ملازم سمی...
29/07/2026

ٹانک کی مشترکہ چیک پوسٹ پر حالیہ دہشت گرد حملے میں بارہ فوجی جوانوں، دو پولیس اہلکاروں اور محکمہ جنگلات کے ایک ملازم سمیت پندرہ پاکستانی شہید ہوئے، جبکہ جوابی کارروائی میں بارہ حملہ آور مارے گئے۔ البتہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس مخصوص دعوے—کہ ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں چوک میں پھینکی گئیں—کی ابھی تک کسی معتبر اور آزاد ذریعے سے واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے وائرل تصاویر اور دعووں کو حتمی حقیقت بنا کر پیش کرنا مناسب نہیں۔

لیکن اس بحث نے ہمارے معاشرے کا ایک پرانا اور بدصورت دوہرا معیار ضرور بے نقاب کردیا ہے۔

آج بعض ایسے اکاؤنٹس انسانی حرمت، اخلاقیات اور بربریت کے عنوان سے لمبی تقریریں کر رہے ہیں جو دہشت گردوں کے ہاتھوں شہریوں اور فوجی جوانوں کے قتل پر یا تو خاموش رہتے ہیں، یا پھر واقعے کے فوراً بعد قاتلوں کے لیے جواز تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔

سوال بہت سادہ ہے:

جب کسی چوکی پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی جاتی ہے، جب ملبے کے نیچے جوانوں کے جسم دب جاتے ہیں، جب کسی ماں کے گھر اس کے بیٹے کا تابوت پہنچتا ہے، تب یہ انسانیت کہاں چلی جاتی ہے؟

جب گرفتار اہلکاروں کو قتل کرکے ان کی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، جب لاشوں کی بے حرمتی کو فتح قرار دیا جاتا ہے اور جب عام شہریوں کو صرف ریاست کا ساتھ دینے کے شبہے میں مار دیا جاتا ہے، تب اخلاقیات کے یہ خود ساختہ محافظ لب کیوں سی لیتے ہیں؟

پاکستانی طالبان کے ہاتھوں گرفتار فوجیوں کے غیر قانونی قتل، سرقلم کرنے اور لاشوں کی بے حرمتی جیسے واقعات محض ریاستی بیانیہ نہیں؛ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی ذرائع نے بھی ایسے جرائم کو دستاویزی شکل دی ہے۔

یہاں ایک اصولی بات بھی واضح رہنی چاہیے۔

ریاست اور دہشت گرد میں بنیادی فرق یہی ہوتا ہے کہ دہشت گرد قانون، اخلاق اور انسانی حرمت کو روندتا ہے، جبکہ ریاست قانون کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس لیے اگر کسی لاش کی واقعی سرِعام بے حرمتی ہوئی ہے تو اس کی وضاحت اور تحقیق ہونی چاہیے۔ ہلاک دشمن کی لاش بھی انتقام کا کھلونا نہیں ہوتی۔

لیکن اس اصول کو صرف پاک فوج کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اور دہشت گردوں کے برسوں پر محیط جرائم پر خاموش رہنا انسانی حقوق نہیں—سیاسی منافقت ہے۔

فوج کے کسی ممکنہ غلط اقدام پر سوال ضرور اٹھائیے، لیکن پہلے دہشت گرد کو دہشت گرد کہنے کی اخلاقی جرأت بھی پیدا کیجیے۔ جوانوں کی لاشوں پر جشن منانے والوں کو مزاحمت کار اور ان کے خلاف لڑنے والوں کو ظالم قرار دینے کا کھیل اب بہت پرانا ہوچکا ہے۔

ہمیں نہ اندھی حمایت درکار ہے، نہ اندھی مخالفت۔

ہمیں ایک ایسا اصول چاہیے جو سب پر یکساں لاگو ہو:

شہری کا خون محترم ہے۔
فوجی جوان کی جان محترم ہے۔
اور مرنے کے بعد انسانی جسم کی حرمت بھی برقرار رہتی ہے۔

مگر یاد رکھیے—جو لوگ قاتل کی بندوق پر خاموش اور اس کی لاش پر بےقرار ہوجائیں، ان کا مسئلہ انسانیت نہیں، ان کا مسئلہ پاکستان سے لڑنے والا بیانیہ ہے۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
افواج پاکستان پائندہ باد



#دہشتگردی

04/06/2026

کرپشن ثابت کریں تو سیاست چھوڑ دوں گا، رہنما پیپلزپارٹی جاوید بٹ

گاڑی تو آپ نے ابھی تک واپس نہیں کی، رپورٹر کا سوال

گاڑی میں نے فی سبیل اللہ لی ہے، میں غریب آدمی ہوں، سابق وزیرِ ٹرانسپورٹ آزاد کشمیر جاوید بٹ

سرکاری گاڑی فی سبیل اللہ لی ہے؟ سوال

سارے لیتے ہیں، میں نے بھی لے لی ہے، جاوید بٹ

03/06/2026

Address

Kotli
11100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dastak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share