CID

CID City Information Date Kohat Serving as the Director of City News within the press department presents both challenges and rewards.

It demands a resolute commitment to ensuring public access to information while showcasing strong leadership skills, all within a rapidly changing media environment. This role-plays an instrumental part in shaping how our city's residents perceive and interact with their surroundings - a responsibility I wholeheartedly embrace.

حافظ آباد میں پیش آنے والا ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت سیاسی اور انتظامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطا...
14/06/2026

حافظ آباد میں پیش آنے والا ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت سیاسی اور انتظامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چند روز قبل مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی شاہد حسین بھٹی اپنے بیٹے حیدر بھٹی اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ڈی پی او آفس حافظ آباد میں موجود تھے۔ اس دوران ڈی پی او کامران حامد دفتر میں موجود نہیں تھے اور مبینہ طور پر ایم پی اے کے بیٹے نے ڈی پی او کے ذاتی کمرے کا واش روم استعمال کیا۔
ذرائع کے مطابق جب حیدر بھٹی واش روم سے باہر آئے تو اسی دوران ڈی پی او کامران حامد وہاں پہنچ گئے، جہاں دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈی پی او نے حیدر بھٹی کو "Get Lost" کہا، جس کے بعد معاملہ صرف ایک معمولی اختلاف تک محدود نہ رہا بلکہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا۔ CID
چند روز تک جاری رہنے والی سیاسی کشمکش کے بعد گزشتہ روز ڈی پی او حافظ آباد کامران حامد کا تبادلہ کر دیا گیا اور انہیں پنجاب سیف سٹی تعینات کر دیا گیا۔ تبادلے کے فوراً بعد حیدر بھٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں لکھا گیا: "Now You Get Lost"۔ اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور لوگ مختلف زاویوں سے اس واقعے پر تبصرے کر رہے ہیں۔
مزید برآں، سابق ایم پی اے مامون جعفر تارڑ کی ایک آڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں مبینہ طور پر اس پورے واقعے اور واش روم کے استعمال کے معاملے کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک انتظامی تنازع نہیں بلکہ اختیارات، سیاسی اثر و رسوخ اور سرکاری اداروں کی خودمختاری سے متعلق کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
عوام اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سرکاری افسران کے تبادلے صرف انتظامی ضرورت کے تحت ہوتے ہیں یا سیاسی دباؤ بھی اس میں کردار ادا کرتا ہے؟ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔
آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا ایک معمولی تنازع اتنے بڑے انتظامی فیصلے کی وجہ بن سکتا ہے؟
















#سیاست

#پاکستان

📢 سندھ کا "خوش نصیب" سکول یا تعلیم کا جنازہ؟ 💔​CID​کہنے کو یہ "سندھ گورنمنٹ سکول" ہے، لیکن حقیقت میں یہ کرپشن، نااہلی او...
12/06/2026

📢 سندھ کا "خوش نصیب" سکول یا تعلیم کا جنازہ؟ 💔
​CID
​کہنے کو یہ "سندھ گورنمنٹ سکول" ہے، لیکن حقیقت میں یہ کرپشن، نااہلی اور "گھوسٹ ملازمین" (Ghost Employees) کی ایک زندہ مثال ہے۔
​🔍
​کاغذی کارروائی بمقابلہ زمینی حقیقت: کاغذات میں اس سکول کے اندر 12 اساتذہ، 3 چپڑاسی اور 2 چوکیدار تعینات ہیں جو ہر مہینے باقاعدگی سے قومی خزانے سے لاکھوں روپے تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہاں پڑھنے کے لیے کوئی بچہ ہے اور نہ ہی پڑھانے کے لیے کوئی کمرہ!
​سکول کی عمارت یا کھنڈر؟ عمارت کی نہ چھت ہے، نہ دروازے اور نہ ہی کوئی کلاس روم۔ یہ جگہ سکول کم اور کسی جنگل کا کھنڈر زیادہ لگتی ہے، جہاں انسانوں کے بجائے اب جانوروں کا راج ہے۔
​مستقبل کے ساتھ کھلواڑ: جہاں بچوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہیے تھیں، وہاں سندھ کے معصوم بچوں کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس تباہی کے باوجود یہ ملازمین اپنی تنخواہوں کو "حلال" سمجھ کر وصول کر رہے ہیں۔
​🤔 اب وقت ہے سوال پوچھنے کا!
​کیا سندھ کے غریب عوام کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اس نظام کو بدل نہیں پائے؟ کب تک "بھٹو زندہ ہے" کے نعروں تلے غریب کے بچے کا مستقبل یوں ہی دفن ہوتا رہے گا؟ کیا محکمہ تعلیم سندھ اور اعلیٰ حکام اس شرمناک صورتحال کا نوٹس لیں گے؟
​"جس قوم میں تعلیم کا یہ حال ہو، وہ ترقی کے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ یہ سکول نہیں، ہماری آنے والی نسلوں کا مزار ہے۔"
​اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے اور ان "گھوسٹ ملازمین" اور کرپٹ افسران کا احتساب ہو س

🔥 پیسہ حیثیت بدل سکتا ہے، لیکن شخصیت اور رعب کبھی نہیں خرید سکتا! 🔥CID​کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت کے بلبوتے پر دنیا خرید...
12/06/2026

🔥 پیسہ حیثیت بدل سکتا ہے، لیکن شخصیت اور رعب کبھی نہیں خرید سکتا! 🔥CID
​کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت کے بلبوتے پر دنیا خریدی جا سکتی ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دلوں پر راج کرنے کے لیے پیسوں کی نہیں، جگر اور سچی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
​"وقت آنے پر طاقت دکھائیں گے،
تم پورا شہر خرید لو حکومت ہم چلائیں گے!" 😎👑
​یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک مائنڈ سیٹ (Mindset) ہے۔ یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو اپنی دولت پر غرور کرتے ہیں۔ انہیں گننے دیں اپنے سکے، آپ خاموشی سے اپنی سلطنت کھڑی کریں۔ کیونکہ جب وقت فیصلہ کرتا ہے، تو جیت ہمیشہ سچے اور خوددار انسان کی ہوتی ہے۔ 💯
​اگر آپ بھی اس بات سے متفق ہیں تو کمنٹ میں "👑" ضرور ڈراپ کریں!

اعتبار اور مقام... ایک تلخ حقیقت! 💔✨ CID​"ہمارا اعتبار مت توڑنا ہمیں معاف کرنا نہیں آتا۔۔ ہم صلح کر بھی لیں تو پہلے جیسا...
11/06/2026

اعتبار اور مقام... ایک تلخ حقیقت! 💔✨ CID
​"ہمارا اعتبار مت توڑنا ہمیں معاف کرنا نہیں آتا۔۔ ہم صلح کر بھی لیں تو پہلے جیسا مقام نہیں دیتے۔۔"
​کتنی گہری بات ہے نا؟ کچھ لوگ زندگی میں بہت نرم دل ہوتے ہیں، وہ لڑتے نہیں، بحث نہیں کرتے، اور ضرورت پڑنے پر صلح بھی کر لیتے ہیں۔ لیکن ایک بار جب ان کا بھروسہ ٹوٹ جائے، تو وہ دل کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر لیتے ہیں۔
​تصویر میں موجود بارہ سنگھا (Stag) اپنی تمام تر خوبصورتی اور وقار کے ساتھ اکیلا کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بلیک اینڈ وائٹ منظر بالکل اس انسان کی عکاسی کرتا ہے جو دھوکہ کھانے کے بعد خاموش، پروقار مگر اندر سے بالکل الگ تھلگ ہو جاتا ہے۔ صلح ہو جانا ایک الگ بات ہے، لیکن دل میں دوبارہ وہی "مقام" پا لینا ناممکن ہے۔ پگھلا ہوا شیشہ دوبارہ جڑ تو سکتا ہے، مگر اس کے بال (تڑکنے کے نشان) کبھی غائب نہیں ہوتے۔
​آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ 👀 👇
کیا ٹوٹا ہوا اعتبار کبھی دوبارہ پہلے جیسا ہو سکتا ہے؟ یا صلح کے بعد بھی دل میں فاصلے رہ ہی جاتے ہیں؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں!
​ #اعتبار #بھروسہ
​🚀

ہم اپنی اولاد کے لیے چیز خریدتے وقت معیار دیکھتے ہیں، ایک عام ٹافی خریدنے سے پہلے بھی اس کی کوالٹی چیک کرتے ہیں۔ جب بیما...
11/06/2026

ہم اپنی اولاد کے لیے چیز خریدتے وقت معیار دیکھتے ہیں، ایک عام ٹافی خریدنے سے پہلے بھی اس کی کوالٹی چیک کرتے ہیں۔ جب بیمار ہوتے ہیں تو اچھی اور معیاری دوا تلاش کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنی صحت عزیز ہوتی ہے۔ CID
مگر افسوس کہ زندگی کے سب سے اہم معاملے یعنی کردار، اخلاق، دیانت اور ایمان کے بارے میں اکثر لوگ اتنی احتیاط نہیں کرتے جتنی ایک معمولی چیز خریدنے میں کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اصل حسن اس کے کردار میں ہوتا ہے۔ ایک شخص کتنا ہی تعلیم یافتہ، امیر یا بااثر کیوں نہ ہو، اگر اس کے اندر سچائی، امانت داری، انصاف اور انسانیت نہیں تو اس کی کامیابی ادھوری ہے۔
ایمان صرف نام، لباس یا دعوے کا نام نہیں بلکہ عمل، کردار اور رویوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے، سچ بولے، وعدہ پورا کرے اور اپنے معاملات میں دیانت داری اختیار کرے۔
آج معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت اچھی سوچ، مضبوط کردار اور حقیقی اخلاقی اقدار کی ہے۔ اگر ہم اپنے کردار کو بہتر بنا لیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بلکہ پورا معاشرہ بہتر ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیے! مذہب کا اصل حسن انسان کے کردار اور عمل میں نظر آتا ہے۔ :::

افواہیں کبھی بھی معاشرے کی بھلائی کے لیے نہیں ہوتیں۔ یہ نفرت پھیلانے والوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار بن جاتی ہیں، جبکہ بغیر...
11/06/2026

افواہیں کبھی بھی معاشرے کی بھلائی کے لیے نہیں ہوتیں۔ یہ نفرت پھیلانے والوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار بن جاتی ہیں، جبکہ بغیر تحقیق کے انہیں آگے بڑھانے والے اس نقصان میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ CID
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر خبر، ہر پوسٹ اور ہر الزام کو تصدیق کے بعد ہی قبول کیا جائے۔ کیونکہ ایک جھوٹی بات کسی کی عزت، رشتے، کاروبار یا پوری زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
یاد رکھیں، باشعور لوگ سنی سنائی باتوں پر نہیں بلکہ حقائق پر یقین رکھتے ہیں۔ آئیں عہد کریں کہ افواہوں کا حصہ بننے کے بجائے سچائی اور تحقیق کو فروغ دیں گے۔
"سچائی کو ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ افواہیں صرف کانوں سے کانوں تک سفر کرتی ہیں۔"
#افواہیں #سچائی #تحقیق #پاکستان

آج کے دور میں اکثر لوگ شادی کو صرف دولت، نوکری، کاروبار یا ظاہری حیثیت سے جوڑ کر دیکھتے ہیں، جبکہ ایک کامیاب اور پُرسکون...
10/06/2026

آج کے دور میں اکثر لوگ شادی کو صرف دولت، نوکری، کاروبار یا ظاہری حیثیت سے جوڑ کر دیکھتے ہیں، جبکہ ایک کامیاب اور پُرسکون ازدواجی زندگی کی اصل بنیاد باہمی احترام، اچھے اخلاق، اعتماد اور ایک دوسرے کی قدر کرنا ہے۔ CID
آج کے دور میں شادی کو اکثر ایک معاشی معاہدے کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے، جہاں نوکری، آمدنی، کاروبار اور سماجی حیثیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ نتیجتاً بہت سے اچھے رشتے صرف اس وجہ سے رد کر دیے جاتے ہیں کہ سامنے والے کی مالی حالت “مطالبے کے مطابق” نہیں ہوتی، چاہے وہ کردار، دیانت اور اخلاق کے لحاظ سے بہترین ہی کیوں نہ ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ شادی صرف دو افراد کا نہیں بلکہ دو سوچوں، دو خاندانوں اور دو زندگیوں کا ملاپ ہے۔ اگر اس بنیاد کو صرف دولت پر رکھا جائے تو رشتہ وقتی طور پر تو چل سکتا ہے، لیکن اس میں وہ سکون اور اعتماد پیدا نہیں ہوتا جو ایک مضبوط گھرانے کی پہچان ہے۔

ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی اصل طاقت محبت، اعتماد، برداشت اور باہمی احترام میں ہے۔ جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کی عزت کریں، ایک دوسرے کو سمجھیں اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوں، وہاں محدود وسائل بھی خوشیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر رشتے میں صرف مالی معیار ہو اور اخلاقی کمزوریاں ہوں تو بڑی دولت بھی سکون نہیں دے سکتی۔

آج ہمارے معاشرے میں ایک اور بڑا مسئلہ غیر ضروری توقعات اور تاخیرِ شادی ہے۔ بعض اوقات نوجوان صرف اس وجہ سے رشتے سے محروم رہ جاتے ہیں کہ ان کے پاس گاڑی، اونچی تنخواہ یا مخصوص معیار نہیں ہوتا۔ یہ رویہ نہ صرف رشتوں کو مشکل بناتا ہے بلکہ معاشرتی دباؤ اور ذہنی پریشانیوں میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں۔ کردار، دیانت داری، ذمہ داری اور خاندانی تربیت کو پہلی ترجیح دی جائے۔ تعلیم اور مالی استحکام ضرور اہم ہیں، لیکن یہ سب کچھ کردار کے بعد آنا چاہیے، اس سے پہلے نہیں۔

اگر ہم رشتوں میں توازن، سمجھداری اور حقیقت پسندی اپنائیں تو نہ صرف شادی کے فیصلے آسان ہوں گے بلکہ ایک مضبوط، پرسکون اور محبت بھرا معاشرہ بھی وجود میں آ سکتا ہے۔

آخر میں سوال یہی رہتا ہے کہ اصل کامیابی کس میں ہے؟ دولت میں، تعلیم میں، یا پھر اس احساس میں کہ آپ کے ساتھ کھڑا انسان آپ کی عزت بھی کرتا ہے اور آپ کو سمجھتا بھی ہے؟
آپ کی رائے میں کامیاب شادی کے لیے سب سے اہم چیز کیا ہے؟ دولت، تعلیم، کردار یا باہمی احترام؟

🚨 ایف آئی اے کے اپنے اہلکار ہی دھوکہ دہی میں ملوث نکلے؟ CIDفیصل آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے بھرتی کے جاری عمل...
10/06/2026

🚨 ایف آئی اے کے اپنے اہلکار ہی دھوکہ دہی میں ملوث نکلے؟ CID
فیصل آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے بھرتی کے جاری عمل کے دوران مبینہ دھوکہ دہی پر اپنے ہی تین اہلکاروں کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں۔ مقدمات ایف آئی آر نمبر 26/2026، 27/2026 اور 28/2026 کے تحت درج کیے گئے ہیں۔
ملزمان میں اے ایس آئی خلیل احمد، اے ایس آئی عالم شیر اور ہیڈ کانسٹیبل اعظم کلیم شامل ہیں۔ مقدمات تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 420 اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھرتی کے فزیکل ٹیسٹ کے دوران ملزمان نے مبینہ طور پر رننگ ٹریک میں درمیان سے داخل ہو کر کامیاب امیدواروں کے ساتھ شامل ہونے کی کوشش کی۔ الزام ہے کہ انہوں نے ڈیوٹی پر موجود عملے اور سکیورٹی اہلکاروں کو دھوکہ دے کر غیر قانونی طریقے سے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
واقعے کے سامنے آنے کے بعد ایف آئی اے نے فوری قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمات درج کر لیے اور مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کا تعین کیا جا سکے۔
یہ واقعہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہی میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کی خلاف ورزی کریں تو عام شہریوں کا اعتماد کیسے بحال رہے گا؟ مثبت پہلو یہ ہے کہ ادارے نے اپنے ہی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کر کے احتساب کی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
آپ کی رائے میں کیا سرکاری اداروں میں بھرتیوں کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے سخت نگرانی اور جدید نظام متعارف کروانے کی ضرورت ہے؟
💬 اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
#پاکستان #میرٹ #احتساب #بدعنوانی #شفافیت #بھرتیاں #قانون

زندگی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ آپ پوری دنیا کو خوش نہیں رکھ سکتے۔ CIDلوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں اکثر انسان اپ...
10/06/2026

زندگی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ آپ پوری دنیا کو خوش نہیں رکھ سکتے۔ CID

لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں اکثر انسان اپنی خوشی، اپنے اصول اور اپنی پہچان کھو دیتا ہے۔ جو لوگ آج آپ کے ساتھ بیٹھ کر مسکرا رہے ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہر وقت آپ کے حق میں ہی سوچ رہے ہوں۔

اس لیے اپنی زندگی دوسروں کی رائے کے مطابق نہیں بلکہ اپنے کردار، سچائی اور اصولوں کے مطابق گزاریں۔ جو لوگ واقعی آپ کی قدر کرتے ہیں، وہ آپ کو ویسا ہی قبول کریں گے جیسے آپ ہیں۔

یاد رکھیں، ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش آپ کو تھکا سکتی ہے، لیکن اپنے ضمیر کو خوش رکھنا آپ کو سکون دیتا ہے۔

خود پر یقین رکھیں، اپنے اصولوں پر قائم رہیں اور لوگوں کی باتوں سے زیادہ اپنے کردار کو اہمیت دیں۔ ❤️




















#پاکستان
#اردواقتباس
#زندگی


#خوداعتمادی
#موٹیویشن
#الفاظ
#سوچ

🚨 موٹر سائیکل چوری میں ملوث تین ملزمان گرفتار، سرقہ شدہ ہنڈا 125 برآمد 🚨ایس ایچ او تھانہ صدر عبدالرؤف بنگش کی نگرانی میں...
08/06/2026

🚨 موٹر سائیکل چوری میں ملوث تین ملزمان گرفتار، سرقہ شدہ ہنڈا 125 برآمد 🚨

ایس ایچ او تھانہ صدر عبدالرؤف بنگش کی نگرانی میں تھانہ ایم آر ایس پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے چوری شدہ ہنڈا 125 موٹر سائیکل برآمد کر کے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ CID

پولیس کے مطابق مقدمہ علت نمبر 396 مورخہ 07 جون 2026 بجرم 381-A کی تفتیش کے دوران جدید تفتیشی طریقہ کار، خفیہ اطلاعات اور پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان عقل میر، فضل میر اور سمران ساکنان ہنگو کو گرفتار کیا گیا۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ ہنڈا 125 موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی گئی۔

برآمد ہونے والی موٹر سائیکل شہری بختاور شاہ کی ملکیت تھی، جس کے سرقہ ہونے کی رپورٹ 30 مئی 2026 کو متعلقہ تھانے میں درج کی گئی تھی۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا اور مسلسل کوششوں کے بعد نہ صرف ملزمان کو گرفتار کیا بلکہ مسروقہ موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کو قانون کے مطابق حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے، جبکہ اس امر کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ملزمان دیگر وارداتوں میں بھی ملوث رہے ہیں یا نہیں۔

شہریوں نے پولیس کی اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اسی طرح مؤثر کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

✅ جرائم کے خلاف جنگ میں پولیس اور عوام کا باہمی تعاون انتہائی ضروری ہے۔
#ہنگو #پاکستان

Address

House #T508 Ashiq Colony Bunnu Road Kohat. KPK
Kpk
26000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CID posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to CID:

Share