14/06/2026
حافظ آباد میں پیش آنے والا ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت سیاسی اور انتظامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چند روز قبل مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی شاہد حسین بھٹی اپنے بیٹے حیدر بھٹی اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ڈی پی او آفس حافظ آباد میں موجود تھے۔ اس دوران ڈی پی او کامران حامد دفتر میں موجود نہیں تھے اور مبینہ طور پر ایم پی اے کے بیٹے نے ڈی پی او کے ذاتی کمرے کا واش روم استعمال کیا۔
ذرائع کے مطابق جب حیدر بھٹی واش روم سے باہر آئے تو اسی دوران ڈی پی او کامران حامد وہاں پہنچ گئے، جہاں دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈی پی او نے حیدر بھٹی کو "Get Lost" کہا، جس کے بعد معاملہ صرف ایک معمولی اختلاف تک محدود نہ رہا بلکہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا۔ CID
چند روز تک جاری رہنے والی سیاسی کشمکش کے بعد گزشتہ روز ڈی پی او حافظ آباد کامران حامد کا تبادلہ کر دیا گیا اور انہیں پنجاب سیف سٹی تعینات کر دیا گیا۔ تبادلے کے فوراً بعد حیدر بھٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں لکھا گیا: "Now You Get Lost"۔ اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور لوگ مختلف زاویوں سے اس واقعے پر تبصرے کر رہے ہیں۔
مزید برآں، سابق ایم پی اے مامون جعفر تارڑ کی ایک آڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں مبینہ طور پر اس پورے واقعے اور واش روم کے استعمال کے معاملے کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک انتظامی تنازع نہیں بلکہ اختیارات، سیاسی اثر و رسوخ اور سرکاری اداروں کی خودمختاری سے متعلق کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
عوام اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سرکاری افسران کے تبادلے صرف انتظامی ضرورت کے تحت ہوتے ہیں یا سیاسی دباؤ بھی اس میں کردار ادا کرتا ہے؟ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔
آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا ایک معمولی تنازع اتنے بڑے انتظامی فیصلے کی وجہ بن سکتا ہے؟
#سیاست
#پاکستان