Expose Vial Podcast

Expose Vial Podcast All Pakistan Hit Podcast Viral Video platform•••••• Expose Viral Podcast

ریحان طارق صاحب کی گرفتاری سمجھ سے باہر ہے وجہ ابھی تک نہیں معلوم ہو سکی اطلاعات کے مطابق لندن سے پاکستان واپسی لاہور ائ...
09/07/2026

ریحان طارق صاحب کی گرفتاری سمجھ سے باہر ہے وجہ ابھی تک نہیں معلوم ہو سکی اطلاعات کے مطابق لندن سے پاکستان واپسی لاہور ائیرپورٹ پر ایف آئی اے کی جانب روکا گیا اور بتایا گیا آپ این سی سی آئی اے کو مطلوب ہیں پھر 5 گھنٹے انتظار کروانے کے بعد این سی سی آئی اے کی ٹیم آئی ریحان صاحب کو ساتھ لے گئی

میرے لیے انکی گرفتاری زیادہ حیران کن اس لیے ہیں جس چینل پر ملازمت کرتے ہیں وہ چینل محسن نقوی صاحب کا محسن صاحب پاکستان کے وزیر داخلہ ہیں ایف آئی اے کا ادارہ اسی وزارت کے انڈر آتا ہے این سی سی آئے بھی شاید اسی وزارت کے کنٹرول میں ہے

2 وجوہات سوشل پر گردش کر رہی ہیں پہلی جواد نقوی صاحب کے ساتھ پوڈ کاسٹ دوسرا لندن میں غنی ٹائیگر کی جانب سے عمران خان صاحب کے لیے گایا گیا گانا قیدی 804

اب اصل وجہ کیا ہے وہ چند گھنٹوں میں سامنے آجائے گی مگر اس گرفتاری کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے مذاق بنا دیا یے صحافیوں کو گرفتار کرنا بغیر نوٹس کے گرفتاریاں 💔

07/07/2026

🚨 OFFICIAL: Babar Azam has been appointed as Pakistan's new Test captain, replacing Shan Masood.Congratulations to Babar...
05/07/2026

🚨 OFFICIAL: Babar Azam has been appointed as Pakistan's new Test captain, replacing Shan Masood.

Congratulations to Babar Azam! Wishing him success in this new chapter. 💚

جھنگ عیشال فاطمہ کیس کے چاروں ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ، پولیس ملزمان کا چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل ک...
05/07/2026

جھنگ
عیشال فاطمہ کیس کے چاروں ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ، پولیس

ملزمان کا چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل کر دیا گیا ، پولیس

ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 7 جون کو سترہ سالہ طالبہ کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال چھوڑا اور فرار ہو گئے

طالبہ 24 گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد انتقال کر گئی

ملزمان کے خلاف اغوا ، ریپ ، قتل اور نشہ آور یا زہریلی چیز کھلانے کی دفعات درج تھیں

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کے شواہد نہیں ملے تھے

حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے لئے فرانزک رپورٹس آنا ابھی باقی ہیں

مرکزی ملزم خلیل الرحمان کا دوران ریمانڈ پولیس حراست میں مبینہ حادثہ ہوا اور دائیں ٹانگ ٹوٹ گئی تھی

" "کیا باوقار قوموں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو بھول جائیں اور ان کی اولاد کو ذلیل کریں؟"”“جس شخص نے پاکستا...
04/07/2026

" "کیا باوقار قوموں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو بھول جائیں اور ان کی اولاد کو ذلیل کریں؟"”

“جس شخص نے پاکستان کو ایٹم بم دیا، آج اسی کی بیٹی عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے!" محسنِ پاکستان کی بیٹی کے رلا دینے والے انکشافات!

ڈاکٹر عبدالقدیر خان... وہ نام جس کی وجہ سے آج ہم سکون کی نیند سوتے ہیں، جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس عظیم ہیرو کے مرنے کے بعد ان کے نام اور ان کی فیملی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟

محسنِ پاکستان کی صاحبزادی، ڈاکٹر دینا خان نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک ایسا لرزہ خیز انکشاف کیا ہے جس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔
"جب میں اپنے باپ کا آخری خواب بچانے کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی تھی، تو میں سوچتی تھی کہ کیا میرے والد نے اپنی پوری زندگی، اپنا سب کچھ اس ملک پر لٹا کر کوئی غلطی تو نہیں کر دی؟ آج اس ملک میں ان کے نام کو مٹایا جا رہا ہے اور ان کی بیٹی کو رلایا جا رہا ہے!"

ہوا کچھ یوں کہ 2013 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غریبوں کے مفت علاج کے لیے لاہور میں 500 بیڈز کے ایک عظیم 'ٹرسٹ ہسپتال' کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کے انتقال کے فوراً بعد، ان کے اپنے قریبی ساتھیوں اور نام نہاد 'دوستوں' کی نیتیں بدل گئیں۔ انہوں نے جعلی کاغذات بنائے، ڈاکٹر دینا کو ٹرسٹ سے دھکے دے کر نکال دیا اور محسنِ پاکستان کے نام پر لوگوں سے کروڑوں روپے بٹورتے رہے۔

ڈاکٹر دینا نے ہمت نہیں ہاری! اس اکیلی بیٹی نے ایک طویل قانونی جنگ لڑی، ان آستین کے سانپوں کو بے نقاب کیا اور اپنا ٹرسٹ بڑی حد تک واپس لیا۔ لیکن آج بھی مافیا ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔

انتہائی دکھی دل کے ساتھ ڈاکٹر دینا نے سوال کیا: "کیا باوقار قوموں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو بھول جائیں اور ان کی اولاد کو ذلیل کریں؟" انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں ان کے والد کا آخری خواب (غریبوں کا ہسپتال) پورا کرنے کے لیے آسانیاں فراہم کی جائیں۔

جس عظیم انسان نے دن رات ایک کر کے ہمیں ایٹم بم دیا اور دشمنوں سے محفوظ کیا، آج اس کی بیٹی اپنوں سے ہی انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے۔


'یکم اور 2 جولائی کی درمیانی شب ایس ایچ او اور دو پولیس اہلکار اسلحہ سمیت سرکاری رہائش گاہ میں زبردستی داخل ہوئے۔' جس کے...
04/07/2026

'یکم اور 2 جولائی کی درمیانی شب ایس ایچ او اور دو پولیس اہلکار اسلحہ سمیت سرکاری رہائش گاہ میں زبردستی داخل ہوئے۔' جس کے بعد سرکاری رہائش گاہ میں تو تکار ہوتی رہی۔

ہالینڈ اور وینزویلا کی دو خواتین کا اغواء اور پھر بازیابی کا معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اب تک مبینہ طور پر اس کیس سے جڑے ایک معاملے میں ایک ایس ایچ او اور دو پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

لاہور کے ڈیفنس سی تھانے کے ایس ایچ او کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی سرکاری رہائش گاہ میں مبینہ طور پر زبردستی داخل ہونے کے معاملے پر مقدمہ درج کر کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ تھانہ مصطفی آباد میں جوڈیشل ریسٹ ہاؤسز دھرم پورہ کے کیئر ٹیکر کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں ایس ایچ او ڈیفنس سی اور دو پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔

مدعی مقدمہ کے مطابق یکم اور 2 جولائی کی درمیانی شب ایس ایچ او اور دو نامعلوم اہلکار اسلحہ سمیت زبردستی سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہوئے۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ جب جوڈیشل مجسٹریٹ بیڈ روم سے باہر آئے تو ایس ایچ او پہلے سے اہلکاروں کے ہمراہ کمرے کے باہر موجود تھے۔ درخواست کے متن کے مطابق پولیس اہلکاروں نے دھمکی آمیز لہجے میں مجسٹریٹ کا نام پوچھا اور انہیں اعلیٰ پولیس افسر سے بات کرنے پر زور دیا تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ نے اس سے انکار کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو گھر سے نکل جانے کا کہا۔ اس حوالے سے آئی جی پنجاب کو ایس ایچ او اور دونوں نامعلوم اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست بھی دی گئی۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد ایس ایچ او ڈیفنس سی کو کلوز لائن کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایس ایچ او مذکورہ رات دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے کے سلسلے میں ہی جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر گئے تھے تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ ڈیفنس سی تھانے کی حدود میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیاد۔تی کا مقدمہ درج ہے جو اپنے دوستوں سے ملنے پاکستان آئی تھیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان اور خواتین کے درمیان کرپٹو کرنسی میں شراکت داری تھی اور ملزمان کرپٹو کرنسی میں منافع کے دعویدار تھے جس کے جھانسے میں مزید سرمایہ کاری کے لیے خواتین کو کو پاکستان بلایا گیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کو 5 جولائی کو واپس روانہ ہونا تھا تاہم واپسی سے قبل مرکزی ملزم خواتین کو لے کر ڈیفنس گیا جہاں پہلے سے موجود ملزم کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر خواتین کا جنسی استحصا۔ل کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کرپٹو کرنسی کی مد میں تاوان کے طور پر 1.5 ملین ڈالر کا مطالبہ کرتے رہے۔

پولیس نے تھانہ ڈیفنس سی میں اغوا برائے تاوان اور زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک متاثرہ خاتون کے والد کی جانب سے ایمرجنسی 15 پر کال کی گئی جس پر آپریشنز پولیس نے فوری ریسپانس کرتے ہوئے اسی روز دونوں خواتین کو بازیاب کروا لیا تھا۔ لڑکی کے بیان پر نامزد ملزم سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور دونوں متاثرہ خواتین کا میڈیکل معائنہ بھی کروایا گیا۔ ترجمان کے مطابق میڈیکل رپورٹ موصول ہو چکی ہے جس کی روشنی میں مزید تفتیش مکمل کی جائے گی تاہم رپورٹ تفتیشی مفاد میں خفیہ رکھی گئی ہے۔

متاثرہ غیر ملکی خواتین نے ملزمان کے خلاف دفعہ 164 کے تحت بیان بھی قلمبند کروا رکھا ہے جس میں ان کا مؤقف ہے کہ ملزمان نے انہیں اغوا کیا، تاوان مانگا اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔ آج گرفتار ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج منظر علی گل نے سماعت کی۔

پراسیکیوٹر کے مطابق متاثرہ خواتین غیر ملکی ہیں اور انہوں نے ملزم کو نامزد کیا ہے جبکہ اس واقعے سے ملکی بدنامی ہوئی۔ پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور بعدازاں مرکزی ملزم سمیت 4 ملزمان کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق پولیس نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان سے ہتھیار اور رقم برآمد کرنی ہے اور پورے واقعے کی تفتیش مکمل کرنی ہے۔ عدالت نے تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ملزمان کو 8 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

اطلاعات کے مطابق متاثرہ غیر ملکی خواتین میڈیکل معائنے کے بعد اپنے ممالک واپس روانہ ہو چکی ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے اور جدید تفتیشی تقاضوں کے مطابق مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ قانون اپنا راستہ لے گا اور بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس متاثرہ خواتین کو مکمل قانونی معاونت فراہم کر رہی ہے اور غیر ملکی شہریوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری اور اولین ترجیح ہے۔ کیس کی تفتیش جاری ہے اور حتمی فیصلہ عدالت شواہد کی بنیاد پر کرے گی۔

اس کیس کا دوسرا رخ بھی سامنے آرہا ہے جس کے مطابق مبینہ طور پر لاہور پولیس نے خواتین کی بازیابی سے متعلق جو بیان جاری کیا ہے وہ مکمل طور پر درست نہیں ہے اور خواتین کی بازیابی مبینہ طور پر ایک حادثے کے پیش نظر ایک اور فورس(محکمے) کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ مزید معلومات آتے ہی مناسب وقت پر مکمل کہانی بتا دی جائے گی۔

03/07/2026
02/07/2026

Video

Address

F 10 Markaz Islamabad
Lahore

Telephone

+923324823667

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Expose Vial Podcast posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Expose Vial Podcast:

Shortcuts

Share