29/07/2026
بارشوں کا موسم ہے، سوچا آپ کو بتاؤں کہ
ہمارے گھروں میں جو سیلنگ پنکھا چلتا ہے وہ صرف 1 ایمپیئر کرنٹ پر چلتا ہے۔ لیکن آسمانی بجلی کی ایک چمک میں 30 ہزار سے 2 لاکھ ایمپیئر تک کرنٹ ہوتا ہے۔ اور اس کا وولٹیج 10 کروڑ سے 1 ارب وولٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ (ہمارے گھروں میں 220 وولٹ ہی بندے کو مار دیتا ہے)۔
مزید یہ کہ اس کا درجہ حرارت بھی 30 ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جو سورج کی سطح سے 5 گنا زیادہ گرم ہے۔ (سورج کی سطح کا درجہ حرارت 5500 سینٹی گریڈ تک ہے)۔
اور آخر یہ کہ یہ بادل سے زمین تک کا فاصلہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں طے کرتی ہے۔
اسی لیے جب گرج چمک کے ساتھ بارش ہو تو احتیاط کریں۔ کھلے میدان، درختوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں۔
یہ پیدا کیسے ہوتی ہے؟ 👇
آپ پلاسٹک کو بالوں پر رگڑیں تو چھوٹا سا سٹیٹک چارج بنتا ہے۔ بادل میں وہی کام کروڑوں گنا زیادہ ہوتا ہے۔
فضا میں اوپر درجہ حرارت منفی 40 ڈگری ہوتی ہے۔ جیسے ہی پانی اوپر جاتا ہے برف بن جاتا ہے۔ نیچے گرمی ہوتی ہے۔ بادل کے نیچے والے حصے میں گرم ہوا کی وجہ سے پانی کے قطرے یعنی مائع حالت میں ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ بادلوں کے اندر 100km/h سے بھی تیز ہوا چلتی ہے۔ اس ہوا میں گرد اور دھول کے ذرات بھی اڑتے ہیں۔
اب یہ تینوں چیزیں، برف کے ذرات، پانی کے قطرے، گرد بہت تیزی سے آپس میں ٹکراتی ہیں اور رگڑ کھاتی ہیں۔ جب یہ چیزیں آپس میں رگڑتی ہیں تو ہلکے برف کے ذرات اوپر چلے جاتے ہیں اور ان پر + پازیٹو چارج آ جاتا ہے۔ بھاری پانی کے قطرے اور برف نیچے آ جاتے ہیں اور ان پر - نیگیٹو چارج آ جاتا ہے۔
جب + اور - کا فرق بہت زیادہ ہو جائے تو ہوا کا راستہ ٹوٹ جاتا ہے اور ایک دم سے کرنٹ دوڑتا ہے۔ اسی کو ہم آسمانی بجلی کہتے ہیں۔