اس پیج پر دلچسپ اور حقیقت پر مبنی اردو کہانیاں، ناول، ا
15/11/2025
*ایک دن مُلّا نصیر الدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے جب نیچے اتارنے لگے تو گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔*
بے حد کوشش کی، مگر گدھا جوں کا توں تھا اور مسلسل بَضد تھا کہ نیچے ہر گز نہیں اترنا۔
آخر کار مُلّا تھک ہار کر خود نیچے آ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ شاید گدھا خود نیچے اتر آئے.
تھوڑی دیر گزری تو مُلّا نے محسوس کیا کہ گدھا چھت کو لاتوں سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے.
مُلا پریشان ہو گئے کہ چھت تو بہت نازک ہے نہ اتنی مضبوط ہے نہ اس کی مُتحمّل ہے کہ اس کی لاتوں کو سہہ سکے مُلّا دوبارہ اوپر بھاگ کر گئے اور گدھے کو نیچے لانے کی کوشش کی لیکن گدھا اپنی ضد پر اٹکا ہوا تھا اور چھت کو توڑنے میں محو تھا مُلا آخری کوشش کرتے ہوۓ اُسے دوبارہ دھکا دے کر سیڑھیوں کی طرف لانے لگے کہ گدھے نے زور دار مُلّا کو لات ماری اور مُلا نیچے گر گئے اور پھر چھت کو توڑنے لگا۔
بالآخر چھت ٹوٹ گئی اور گدھا چھت سمیت زمین پر آ گرا.
مُلّا کافی دیر تک اس واقعہ پر غور کرتے رہے اور اس سے تین سبق اخذ کئے۔
اول: کبھی بھی گدھے کو مقام بالا پر نہیں لے جانا چاہئیے ایک تو وہ خود کا نقصان کرتا ہے۔
دوسرا: خود اس مقام کو بھی تباہ و برباد کر دیتا ہے جس کا وہ اہل نہیں۔
اور تیسرا اوپر لے جانے والے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے.
14/11/2025
14/11/2025
اے اللہ رحمت نازل فرما محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر، جیسا کہ تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، بے شک تو بڑی تعریف والا بزرگی والا ہے۔
اے اللہ برکت نازل فرما محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر، جیسا کہ تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، بے شک تو بڑی تعریف والا بزرگی والا ہے۔
14/11/2025
ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تین بار شادی کی کوشش کی وہ ہر رشتہ سے پہلی گفتگو کے بعد انکار کر دیتا تھا۔ آخر کار، والد نے بیٹے کو تنگ آ کر محل سے نکال دیا۔
بیٹا شہر سے باہر کام کی تلاش میں نکل گیا اور ایک مالدار شخص کے ہاں بکریاں چرانے کا کام ملا۔ وہ شخص نوجوان سے بہت متاثر ہوا۔ اس مالدار شخص کی ایک ہی بیٹی تھی اور اس نے سوچا کہ اسے نوجوان سے شادی کروا دے تاکہ وہ ان کے ساتھ رہے۔
اس نے اپنی بیٹی کو یہ بات بتائی، تو بیٹی نے کہا کہ وہ اس نوجوان سے شادی نہیں کرے گی جب تک کہ وہ اس کے ساتھ سفر نہ کرے اور اس کی حقیقت کو جان نہ لے۔
مالک نے نوجوان سے کہا کہ کل تم بکریاں چرنے نہ لے جاؤ، ہم کچھ دنوں کے لیے سفر کریں گے تاکہ کچھ کام نمٹایا جا سکے۔
سفر کے دوران، وہ دونوں ایک گلہ بکریوں کے پاس سے گزرے۔ نوجوان نے کہا، "کتنی زیادہ ہیں اور کتنی کم ہیں۔" مالک حیران ہوا لیکن کچھ نہ بولا۔
پھر وہ ایک اور گلہ بکریوں کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "کتنی کم ہیں اور کتنی زیادہ ہیں۔" مالک نے دل میں سوچا کہ یہ نوجوان بیوقوف ہے، اس لیے میری بیٹی نے مجھے اس کے ساتھ سفر کرنے کو کہا تھا۔
پھر وہ ایک قبرستان کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "تم میں زندہ بھی ہیں اور مردہ بھی۔"
پھر وہ ایک خوبصورت باغ کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "مجھے نہیں معلوم کہ یہ باغ ہرا بھرا ہے یا سوکھا ہوا ہے۔" مالک بہت حیران ہوا لیکن کچھ نہ بولا۔
پھر وہ ایک گاؤں میں پہنچے اور پانی طلب کیا، لوگوں نے انہیں دودھ دیا۔ نوجوان نے خود پیا اور پھر مالک کو دیا۔
پھر وہ ایک اور گاؤں میں پہنچے اور پانی طلب کیا، لوگوں نے انہیں پانی دیا۔ نوجوان نے پہلے مالک کو دیا اور پھر خود پیا۔
مالک نے دل میں سوچا کہ نوجوان نے مجھے دودھ دینے میں بے احترامی کی اور پانی دینے میں عزت دی۔
واپس سفر سے آ کر مالک نے اپنی بیٹی کو سارا ماجرا سنایا۔ بیٹی نے کہا کہ وہ نوجوان بہت اچھا انسان ہے۔
مالک نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیسے؟
بیٹی نے جواب دیا:
پہلا گلہ بکریوں کا، اس میں مینڈھے زیادہ تھے اور بکریاں کم۔
دوسرا گلہ بکریوں کا، اس میں بکریاں زیادہ تھیں اور مینڈھے کم۔
قبرستان، جس نے اولاد چھوڑی وہ زندہ ہے اور جس نے نہیں چھوڑی وہ مردہ۔
باغ، اگر مالک نے اپنے پیسوں سے بنایا ہے تو ہرا بھرا ہے اور اگر قرضے سے بنایا ہے تو سوکھا ہوا ہے۔
دودھ جب برتن میں ڈالا جاتا ہے تو دودھ نیچے بیٹھ جاتا ہے اور پانی اوپر آ جاتا ہے، اس نے پہلے پانی پیا اور آپ کو دودھ دیا۔
کنویں کا پانی، صاف پانی اوپر آتا ہے، اس نے آپ کو پہلے دیا۔
مالک نے بیٹی کی باتیں سن کر نوجوان سے اپنی بیٹی کی شادی کروا دی۔
شادی کے بعد جب نوجوان اپنی بیوی کے پاس آیا تو اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا، "یہ سر کس کا ہے؟"
بیوی نے جواب دیا، "یہ میرا سر تھا اور اب تمہارا ہے۔"
نوجوان نے کہا، "سفر کے لیے تیار ہو جاؤ، میں بکریاں چرانے والا نہیں ہوں، میں بادشاہ کا بیٹا ہوں اور میں تمہاری تلاش میں نکلا تھا۔
23/10/2025
“شیرنی جن لمبے نوکیلے دانتوں سے اپنا تین سو کلو کا شکار کرتی ہے، اُنہی دانتوں سے اپنے بچے کو بغیر خراش کے محفوظ جگہ پر مُنتقل کرتی ہے۔”
“تقدیر بھی جب آپ کو گردن سے دبوچ لے تو کُچھ دیر صبر سے کام لیجیے گا، ہوسکتا ہے وہ آپ کو خطرے سے نکال کر کسی محفوظ مقام پر لے جا رہی ہو۔”
31/03/2025
السلام وعلیکم ورحمتہ وبرکاتہ
آپ سب دوستوں کو عید الفطر مبارک ہو 🎉👏💖
Be the first to know and let us send you an email when Urdu Guftugu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.