19/04/2025
پاکستانی گندم کے بازار کا مختصر تنقیدی تجزیہ:
پاکستان کی معیشت اور غذائی سلامتی کے لیے گندم بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن حکومتی پالیسیوں کی ناکامی نے گندم کے بازار کو غیر مستحکم کیا، کسانوں کو نقصان پہنچایا، اور قومی سطح پر سنگین مسائل پیدا کیے۔
حکومتی پالیسیوں اور وجوہات
1. غیر شفاف اور تاخیر سے MSP کا اعلان:
- تفصیل: 2025-26 کے سیزن کے لیے کم سے کم حمایت قیمت (MSP) کا اعلان کاشت سے قبل نہیں کیا گیا۔ پنجاب میں MSP 2,700 روپے فی 40 کلوگرام اور سندھ میں 3,000 روپے ہے، لیکن نجی خریدار 2,000-2,200 روپے ادا کرتے ہیں۔
- وجہ: ناقص منصوبہ بندی اور بیوروکریٹک تاخیر۔ حکومت MSP کا اعلان عالمی قیمتوں اور مقامی اخراجات کو مدنظر رکھے بغیر کرتی ہے، جو کسانوں کے لیے یصلہ سیاسی دباؤ یا کرپشن کی وجہ سے کیا گیا۔
- اثر: درآمدات نے مقامی مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں گرا دیں، کسانوں کو فی کوئنٹل 1,000-1,500 روپے کم ملے۔ اس سے کسانوں کی آمدنی شدید متاثر ہوئی۔
3. محدود حکومتی خریداری:
- تفصیل: حکومت نے صرف 2 ملین ٹن گندم خریدی (کل پیداوار کا 7%)، جبکہ معمول کے مطابق 20% خریدی جاتی ہے۔
- وجہ: مالی بحران اور گوداموں کی محدود گنجائش اور حکومتی ترجیحات میں زراعت کا شامل نہ ہونا۔
- اثر: کسانوں کو نجی خریداروں پر انحصار کرنا پڑا، جنہوں نے MSP سے کم قیمت دی۔ اس سے کسانوں کا منافع صفر یا منفی ہو گیا۔
4. ناکافی سبسڈیاں:
- تفصیل: کھاد (DAP 12,000 روپے فی بوری)، ایندھن (ڈیزل 270 روپے فی لیٹر)، اور بجلی (35 روپے فی یونٹ) پر سبسڈیاں محدود ہیں۔ فی ایکڑ پیداواری لاگت 60,000 روپے ہے۔
- وجہ: حکومتی بجٹ میں زراعت کے لیے مختص فنڈز کم ہیں، جبکہ توانائی اور دفاع پر زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ کھاد کی دستیابی بھی ناقص ہے۔
Note:
Continue at - https://www.facebook.com/share/p/157xHe1AQh/