Islamic Reels

Islamic Reels Aslam o ghalekum.Like follow share My Islamic Page.Jazak Allah

فرمانِ نبی آخر الزمان ﷺ"کسی بھی نیکی کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ یہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ...
21/08/2026

فرمانِ نبی آخر الزمان ﷺ
"کسی بھی نیکی کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ یہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو “
(صحيح مسلم : 2626)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"یہ دونوں حسنؓ اور حسینؓ  دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔"حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3753اس حدیث میں ...
21/08/2026

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"یہ دونوں حسنؓ اور حسینؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔"

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3753

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے اپنے پیارے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما سے اپنی گہری محبت اور شفقت کا اظہار فرمایا ہے، عربی میں انہیں اپنے دو پھول (ریحانتان) قرار دینا انتہائی محبت بھرا انداز ہے، یعنی جس طرح پھول اپنی خوشبو، خوبصورتی اور تازگی سے دل کو خوش کرتا ہے اسی طرح حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے دل کی خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک تھے، اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے اہلِ بیت اور بچوں کے ساتھ کتنی محبت، شفقت اور نرمی کا معاملہ فرماتے تھے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی اپنے بچوں اور گھر والوں کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آنا چاہیے اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما سمیت اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت اور احترام رکھنا چاہیے، مثال کے طور پر ہم ان کا ذکر ہمیشہ ادب کے ساتھ کریں، ان کی پاکیزہ سیرت، تقویٰ، صبر اور دین سے وابستگی کو جانیں اور اپنی اولاد کو بھی اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت سکھائیں، یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا ایک خوبصورت تقاضا آپ ﷺ کے اہلِ بیت سے محبت اور ان کے مقام و مرتبے کا احترام بھی ہے، اس لیے ہمیں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی سیرت سے سبق حاصل کرنا اور ان کے لیے دل میں محبت و عقیدت رکھنی چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بچہ اپنے عقیقے کے بدلے گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس ...
21/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"بچہ اپنے عقیقے کے بدلے گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔"

حوالہ: سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 2838

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے عقیقے اور نومولود بچے سے متعلق بعض اہم سنتوں کی طرف رہنمائی فرمائی ہے، یعنی بچے کی پیدائش کے ساتویں دن اس کی طرف سے عقیقہ کرنے، اس کا سر منڈانے اور اس کا نام رکھنے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ عقیقہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اولاد کی نعمت پر شکر اور خوشی کے اظہار کا ایک مسنون طریقہ ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمان اپنے بچوں کی پیدائش کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھتے ہوئے اس کی شکرگزاری کرے اور بچے کے لیے اچھا اور بامعنی نام منتخب کرے، مثال کے طور پر والدین ساتویں دن عقیقے کا اہتمام کریں، بچے کا اچھا نام رکھیں اور اس موقع پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں، البتہ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ ہوسکے تو اس کی وجہ سے والدین کو مایوس یا پریشان نہیں ہونا چاہیے؛ فقہاء نے اس کے بعد بھی عقیقہ کرنے کی گنجائش بیان کی ہے، یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی امانت اور عظیم نعمت ہے، اس لیے ان کی پرورش محبت، دینی تربیت اور شکرگزاری کے ساتھ کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے نیک، صالح اور بابرکت زندگی کی دعا کرنی چاہیے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"جنت میں گھوڑوں کو پسند کرنے والے شخص کے پاس یاقوت کا ایک گھوڑا لایا جائے گا، جس کے دو پر ہوں گے۔ ا...
21/08/2026

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

"جنت میں گھوڑوں کو پسند کرنے والے شخص کے پاس یاقوت کا ایک گھوڑا لایا جائے گا، جس کے دو پر ہوں گے۔ اسے اس پر سوار کیا جائے گا، پھر وہ گھوڑا اسے جنت میں جہاں وہ چاہے گا، لے کر اڑتا رہے گا۔"

حوالہ: السلسلة الصحيحة، حدیث نمبر: 1446

اس روایت میں جنت کی حیرت انگیز اور بے مثال نعمتوں کا ذکر ہے، جہاں اہلِ جنت کو ایسی نعمتیں عطا کی جائیں گی جن کا دنیا میں مکمل تصور بھی ممکن نہیں، یاقوت کا پروں والا گھوڑا اور اس پر سوار ہوکر جنت میں اپنی پسند کی جگہوں پر جانا اسی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جنت کی نعمتیں دنیا کی محدود نعمتوں سے کہیں بڑھ کر اور ہمیشہ رہنے والی ہیں، وہاں اہلِ جنت کو نہ تھکن ہوگی، نہ خوف اور نہ کسی نعمت کے ختم ہونے کا اندیشہ، اس لیے مومن کو دنیا کی عارضی آسائشوں کے پیچھے اپنی آخرت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے بلکہ جنت کے حصول کو اپنی اصل کامیابی سمجھنا چاہیے، مثال کے طور پر اگر انسان کسی جائز دنیاوی نعمت سے محبت کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی حلال نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہوئے آخرت کی دائمی نعمتوں کی طلب بھی رکھنی چاہیے، یہ روایت ہمارے دل میں جنت کا شوق اور نیک اعمال کی رغبت پیدا کرتی ہے، اس لیے ہمیں ایمان، نماز، تقویٰ، توبہ اور حسنِ اخلاق کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و رحمت سے جنت الفردوس میں داخل فرمائے۔ آمین۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"صدقہ پروردگار کے غضب کو بجھاتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔"حوالہ: جامع ترمذی، حدیث نمبر: 664اس حد...
20/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"صدقہ پروردگار کے غضب کو بجھاتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔"

حوالہ: جامع ترمذی، حدیث نمبر: 664

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے صدقے کی عظیم فضیلت اور اس کی برکت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اخلاص کے ساتھ دیا جانے والا صدقہ بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے بچنے اور بری موت سے حفاظت کا سبب بنتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ صرف کسی ضرورت مند کی مالی مدد نہیں بلکہ خود صدقہ کرنے والے کے لیے بھی دنیا و آخرت کی خیر اور رحمت کا ذریعہ ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو صدقہ کرنے کے لیے بہت زیادہ مال کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق تھوڑا ہی سہی، باقاعدگی سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے، مثال کے طور پر کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، غریب خاندان کی مدد کرنا، کسی ضرورت مند کی دوا کا انتظام کرنا یا خاموشی سے کسی محتاج کی ضرورت پوری کرنا صدقے کی بہترین صورتیں ہوسکتی ہیں، یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال ضائع نہیں ہوتا بلکہ بندے کے لیے رحمت اور آخرت کا ذخیرہ بنتا ہے، اس لیے ہمیں دکھاوے اور احسان جتانے سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ صدقہ کرنے کو اپنی زندگی کا معمول بنانا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ خاتمہ اور اپنی رضا کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا، وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔"حوالہ: صحیح ...
20/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا، وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔"

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3443 | صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2860

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک خاص فضیلت اور قیامت کے دن ان کے اعزاز کا ذکر فرمایا ہے کہ جب لوگوں کو دوبارہ زندہ کرکے جمع کیا جائے گا تو سب سے پہلے لباس پہنائے جانے والے حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے جلیل القدر نبی اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ایک خصوصی عزت و تکریم ہوگی، اس سے ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام کے بلند مقام اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی عظیم قدر و منزلت کا علم ہوتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے توحید، اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا، اطاعت اور قربانی کا سبق حاصل کرنا چاہیے، مثال کے طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سخت آزمائشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا، لہٰذا ہمیں بھی اپنی خواہشات پر اللہ تعالیٰ کے احکام کو ترجیح دینے کی کوشش کرنی چاہیے، یہ حدیث ہمیں قیامت کے دن کی حقیقت بھی یاد دلاتی ہے کہ ایک دن تمام انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے، اس لیے ہمیں دنیا کی عارضی زندگی میں ایمان اور نیک اعمال کے ساتھ آخرت کی تیاری کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن اپنی رحمت، پردہ پوشی اور آسان حساب کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔

احادیثِ مبارکہ میں جنتی لوگوں کے حسن، جسمانی ساخت اور ہمیشہ رہنے والی جوانی کا نہایت خوبصورت ذکر ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے...
20/08/2026

احادیثِ مبارکہ میں جنتی لوگوں کے حسن، جسمانی ساخت اور ہمیشہ رہنے والی جوانی کا نہایت خوبصورت ذکر ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہلِ جنت بے ریش، سرمگیں آنکھوں والے اور کامل حسن و جمال کے حامل ہوں گے۔ انہیں ان کے جدِ امجد حضرت آدم علیہ السلام کی صورت اور جسامت پر پیدا کیا جائے گا، اور ان کی جوانی ہمیشہ قائم رہے گی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایات میں جنتیوں کے قد کے بارے میں ساٹھ ہاتھ کا ذکر ملتا ہے، جبکہ بعض روایات میں ان کی عمر تینتیس سال بیان ہوئی ہے۔ جنت میں نہ بڑھاپا ہوگا، نہ بیماری، نہ کمزوری اور نہ موت۔ وہاں انسان کی جوانی اور خوبصورتی ہمیشہ قائم رہے گی۔

دنیا کی زندگی میں انسان وقت کے ساتھ بڑھاپے اور کمزوری کی طرف بڑھتا ہے، لیکن جنت کی زندگی ایسی ابدی نعمت ہے جہاں نہ حسن میں کمی ہوگی، نہ صحت میں زوال آئے گا اور نہ زندگی کا اختتام ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں ہیں جن کا حقیقی حسن اور کمال ہماری دنیاوی سمجھ سے کہیں بڑھ کر ہے۔

یہ احادیث ہمیں جنت کی نعمتوں کی طلب، نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے جنت الفردوس میں داخل فرمائے اور وہاں کی ابدی نعمتوں سے نوازے۔ آمین۔

حوالہ: صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، مسند احمد میں اہلِ جنت کے اوصاف سے متعلق روایات۔

⚠️ ڈسکلیمر: اہلِ جنت کے اوصاف سے متعلق متعدد صحیح روایات موجود ہیں، تاہم مختلف روایات میں بعض تفصیلات کے الفاظ اور تعداد میں فرق پایا جاتا ہے۔ اس لیے ہر تفصیل کو ایک ہی حدیث کے الفاظ قرار دینے کے بجائے معتبر روایات کی مجموعی روشنی میں بیان کرنا زیادہ درست ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جس مسلمان کی نمازِ جنازہ چالیس ایسے مسلمان پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں، اللہ...
20/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جس مسلمان کی نمازِ جنازہ چالیس ایسے مسلمان پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں، اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی سفارش قبول فرما لیتا ہے۔"

حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر: 948

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے نمازِ جنازہ، توحید اور میت کے لیے مسلمانوں کی دعا کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی اگر کسی مسلمان کی نمازِ جنازہ میں چالیس ایسے اہلِ توحید مسلمان شریک ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں اور اخلاص کے ساتھ میت کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کریں تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی سفارش قبول فرما لیتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازِ جنازہ محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ میت کے لیے دعا، مغفرت اور خیرخواہی کا نہایت اہم موقع ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی مسلمان کی وفات کی خبر ملے تو حتی الامکان اس کی نمازِ جنازہ میں شریک ہونا چاہیے اور پوری توجہ و اخلاص کے ساتھ اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے، مثال کے طور پر جنازے میں شریک ہوتے وقت دنیاوی گفتگو میں مشغول ہونے کے بجائے میت کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحمت، بخشش اور آخرت کی آسانی مانگی جائے، یہ حدیث ہمیں مسلمانوں کے باہمی تعلق کی خوبصورتی بھی دکھاتی ہے کہ ایک مسلمان دنیا سے رخصت ہوجائے تب بھی دوسرے مسلمان اس کے لیے دعا اور خیرخواہی کرتے ہیں، اس لیے ہمیں نمازِ جنازہ میں شرکت، میت کے لیے اخلاص سے دعا اور توحید پر ثابت قدم رہنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

20/08/2026

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بااثر سردار اور عرب کے معروف شاعر تھے۔ جب وہ مکہ مکرمہ پہنچے تو قریش کے ...
20/08/2026

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بااثر سردار اور عرب کے معروف شاعر تھے۔ جب وہ مکہ مکرمہ پہنچے تو قریش کے لوگوں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اس قدر ڈرایا کہ انہوں نے اپنے کانوں میں روئی رکھ لی، تاکہ کہیں نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے قرآن کی تلاوت سن نہ لیں۔

لیکن جب وہ خانۂ کعبہ کے قریب پہنچے تو انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں ایک سمجھ دار اور صاحبِ ذوق شاعر ہوں، اچھے اور برے کلام میں فرق کر سکتا ہوں، پھر مجھے سچ سننے سے کیوں روکنا چاہیے؟ چنانچہ انہوں نے کانوں سے روئی نکال دی اور رسول اللہ ﷺ کی تلاوتِ قرآن سننے لگے۔

قرآنِ کریم کے الفاظ نے ان کے دل کو اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے محسوس کیا کہ یہ عام انسانی کلام نہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ کی دعوت سنی اور اسلام قبول کرلیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت طفیلؓ اپنی قوم بنو دوس کی طرف واپس گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دینے لگے۔ ان کی دعوت کے نتیجے میں ان کی قوم کے بہت سے افراد مسلمان ہوئے، جن میں بعد میں عظیم صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہوئے۔

یہ واقعہ ہمیں ایک خوبصورت سبق دیتا ہے کہ کسی بات کو محض دوسروں کے خوف یا تعصب کی وجہ سے رد نہیں کرنا چاہیے؛ بلکہ حق کو خود سننا، سمجھنا اور غور کرنا چاہیے۔ جب انسان کھلے دل کے ساتھ حق کو سنتا ہے تو کبھی ایک آیت بھی اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔

ماخذ: سیرت ابن ہشام، البدایہ والنہایہ، اور کتبِ سیرت میں حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ۔

⚠️ ڈسکلیمر: اس واقعے کی تفصیلات سیرت و تاریخی مصادر میں مختلف الفاظ اور طرق کے ساتھ منقول ہیں۔ اسے بیان کرتے وقت غیرمستند اضافی تفصیلات کو قطعی حقیقت کے طور پر پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Reels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category