Daily Leader

Daily Leader � Daily updates from Pakistan & around the world
� Breaking News | Politics | Crime | Sports | Enter

11/09/2026

”گھبرانا نہیں بیٹی… ابھی ”بڑے پاپا “زندہ ہیں“تحریر:خرم پاشاکچھ جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے،کچھ جملے انسان کے دل میں ہمیشہ ک...
10/09/2026

”گھبرانا نہیں بیٹی… ابھی ”بڑے پاپا “زندہ ہیں“

تحریر:خرم پاشا

کچھ جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے،کچھ جملے انسان کے دل میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے ہیں،کچھ آوازیں وقت گزرنے کے باوجود کانوں میں گونجتی رہتی ہیں،اور کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں کہ انسان چاہے برسوں بعد بھی انہیں یاد کرے تو آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں‘صابر علی بابر کے دنیا سے چلے جانے کے بعد میرے ذہن میں بھی ایک ایسا ہی منظر بار بار آ رہا ہے۔
ایک غم زدہ گھر!
ایک ایسا گھر جہاں ایک بیٹی کے سر پر باپ کا سایہ موجود تھا،پھر اچانک وہ سایہ اُٹھ گیا،ایک اکلوتی بیٹی،جس کے لیے شاید دنیا کی سب سے مضبوط دیوار اس کا باپ تھا،وہ باپ جو اب واپس نہیں آسکتا،وہ آواز جو اب دوبارہ اسے پکارنے والی نہیں تھی،وہ ہاتھ جو اب اس کے سر پر شفقت سے نہیں پھرنے والا تھا،اور پھر اس خاموش، غم زدہ کمرے میں ایک شخص آگے بڑھا،اس نے اس بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا،اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا،اور انتہائی محبت اور شفقت سے کہا:
”گھبرانا نہیں بیٹی۔۔۔ابھی ”بڑے پاپا“ زندہ ہیں۔۔میں ہوں نا۔“
بس!
یہ چند الفاظ تھے،لیکن شاید اس کمرے میں موجود ہر شخص کے لیے اس سے زیادہ بھاری کوئی جملہ نہیں تھا،کسی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے،کسی نے چہرہ دوسری طرف کر لیا،کسی نے خاموشی اختیار کر لی،اور شاید اس لمحے ہر شخص اپنے اپنے باپ، اپنے اپنے بچوں اور اپنے اپنے بچھڑ جانے والوں کو یاد کر رہا تھا۔
میں بھی وہاں موجود تھا،میں بھی ایک بیٹی کا باپ ہوں،اور شاید اسی لیے اس منظر نے میرے دل کو جس طرح چھوا، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں،ایک بیٹی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جانا،یہ صرف ایک شخص کا دنیا سے چلے جانا نہیں ہوتا،یہ ایک پوری دنیا کے بدل جانے کا نام ہے،باپ کے ہوتے ہوئے بیٹی چاہے کتنی ہی بڑی ہو جائے، اس کے دل کے کسی کونے میں وہ پھر بھی بچی ہوتی ہے،اسے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ایک شخص موجود ہے جو اس کے لیے ہر مشکل کے سامنے کھڑا ہو جائے گا،جو اس کے لیے دنیا سے لڑ سکتا ہے،جو اس کی ایک تکلیف پر بے چین ہو سکتا ہے،جو اسے صرف ایک نظر دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ اس کی بیٹی پریشان ہے،اور جب وہ شخص دنیا سے چلا جائے تو گھر میں لوگ موجود ہوتے ہیں،رشتے موجود ہوتے ہیں،دیواریں بھی وہی ہوتی ہیں،
مگر !بہت کچھ بدل جاتا ہے
17جولائی 2026ءکی رات جناب علی احمد ڈھلوں (چیف ایگزیکٹو”لیڈر “میڈیا گروپ) کی استنبول، ترکی سے مجھے کال آئی،(وہ اُن دنوں اپنی فیملی کے ہمراہ نجی دورہ پر استنبول تھے)ان کے لہجے میں تشویش تھی،انہوں نے کہا”صابر علی بابر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، فوری طور پر انہیں کھڈیاں خاص، ضلع قصور سے لاہور منتقل کروا کر کسی اچھے ہسپتال میں علاج کروائیں“میں نے فوراً صابر علی بابر سے رابطہ کیا،فون پر ان کی آواز سن کر دل بے چین ہو گیا،وہ صابر علی بابر، جو ہمیشہ جوش و جذبے سے بات کرتے تھے، جو دوسروں کے مسائل کے لیے پریشان رہتے تھے، جن کی گفتگو میں زندگی اور توانائی ہوتی تھی، آج ان کی آواز میں وہ جوش نہیں تھا،وہ تھکے ہوئے محسوس ہو رہے تھے،کمزور تھے،اور بیماری جیسے ان سے زندگی آہستہ آہستہ چھین رہی تھی،انہیں فوری طور پر لاہور منتقل کیا گیا،جیل روڈ پر واقع عمر ہسپتال میں پروفیسر ڈاکٹر ساجد نثار کی نگرانی میں علاج شروع ہوا،ابتدائی پندرہ دن وہ ہسپتال میں رہے،علاج ہوا،اُمید بندھی،پھر انہیں ڈسچارج کر دیا گیالیکن صرف دو دن بعد بیماری نے ایک بار پھر انہیں اپنی گرفت میں لے لیا،انہیں دوبارہ عمر ہسپتال منتقل کرنا پڑا،اس مرتبہ حالت بہتر ہونے کے بجائے بگڑتی چلی گئی،ہر گزرتا دن پریشانی بڑھا رہا تھا،ہر فون کال کے بعد دل میں ایک خوف پیدا ہوتا تھا،پھر انہیں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ(پی کے ایل آئی ) منتقل کیا گیا۔
لوگ دعائیں کر رہے تھے،اہل خانہ اُمید لگائے بیٹھے تھے،دوست فکر مند تھے،ہر شخص چاہتا تھا کہ صابر علی بابر ایک بار پھر صحت مند ہو کر واپس آئیں،لیکن زندگی بعض اوقات انسان کی خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔
اور پھر
گزشتہ رات صابر علی بابر ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے،وہ چلے گئے،بہت خاموشی سے،اپنے دوستوں کو روتا ہوا چھوڑ کر،اپنے بھائی بہنوں کو غم میں مبتلا چھوڑ کر،اپنے علاقے کے لوگوں کو افسردہ چھوڑ کر‘اور سب سے بڑھ کر،اپنی اکلوتی بیٹی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھا کر‘صابر علی بابر کھڈیاں خاص پریس کلب کے صدر تھے،لیکن ان کی اصل پہچان صرف ایک عہدہ نہیں تھا،وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے نمائندے تھے،لوگ ان سے محبت کرتے تھے،ان پر اعتماد کرتے تھے،اگرکسی کو لاہور میں مسئلہ درپیش ہوتا، کسی کو مدد چاہیے ہوتی، کسی کا کام رک جاتا تو صابر علی بابر فوراً متحرک ہو جاتے۔
اور پھر فون آتا:”پاشا جی… ایک کام ہے“کبھی وہ محبت سے کہتے،”پاشا جی، یہ بندہ اپنا ہے، اس کی مدد کر دیں“آج سوچتا ہوں کہ وہ فون دوبارہ نہیں آئے گا،وہ آواز دوبارہ سنائی نہیں دے گی،وہ محبت سے ”پاشا جی“ کہنے والا شخص اب صرف یادوں میں موجود ہے،گزشتہ روز کھڈیاں خاص کی مرکزی جنازگاہ میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی،لوگوں کا ایک سمندر وہاں موجود تھا،سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان،وفاقی وزیرمملکت ملک رشید احمد خان،چیف ایگزیکٹو”لیڈر“ میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں، عزیز و اقارب، دوست، صحافی اور علاقے کے لوگ موجود تھے،ہر شخص شاید اپنی یادیں لے کر آیا تھا،جنازے میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اس بات کا ثبوت تھی کہ صابر علی بابر نے زندگی میں صرف تعلقات نہیں بنائے تھے ،انہوں نے دلوں میں جگہ بنائی تھی،جنازے کے بعد جب ہم ان کے گھر پہنچے تو غم کی ایک ایسی خاموشی تھی جو شاید شور سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی،وہاں ان کی اکلوتی بیٹی اور اہلیہ موجود تھیں،بھائی بہنیں موجود تھے،گھر کے دیگر افراد موجود تھے،لیکن ایک شخص نہیں تھا،وہ شخص جس کے بغیر وہ گھر اچانک ادھورا ہو گیا تھا۔
اور پھرچیف ایگزیکٹو”لیڈر“میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں آگے بڑھے،انہوں نے اس بچی کے سر پر ہاتھ رکھا،اس کا ہاتھ تھامااور کہا:
”گھبرانا نہیں بیٹی۔۔۔ ابھی ”بڑے پاپا“ زندہ ہیں۔۔ میں ہوں نا۔“
مجھے نہیں معلوم اس لمحے اس بچی کے دل میں کیا گزری ہوگی،لیکن میں جانتا ہوں کہ ایک باپ کے بعد کسی بچی کو سہارا دینے کے لیے صرف تسلی کے الفاظ کافی نہیں ہوتے،اسے ایک ایسا شخص چاہیے ہوتا ہے جو واقعی اس کے ساتھ کھڑا ہو،جو مشکل وقت میں اس کے دروازے پر پہنچے،جو اس کے آنسو دیکھ کر بے چین ہو،جو اسے یہ یقین دلائے کہ باپ تو چلا گیا ہے ،مگر وہ بالکل اکیلی نہیں ہوئی،”بڑے پاپا“ کہنا آسان ہے،لیکن بڑے پاپا بن جانا آسان نہیں،کیونکہ بڑے پاپا صرف ایک لفظ نہیں،یہ ایک ذمہ داری ہے،یہ ایک وعدہ ہے،یہ ایک ایسا رشتہ ہے جسے خون سے نہیں، کردار سے نبھانا پڑتا ہے۔
میں چیف ایگزیکٹو ”لیڈر“میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں کو گزشتہ 28برس سے جانتا ہوں،میں نے ان کی زندگی کے بہت سے ایسے پہلو دیکھے ہیں جو شاید دنیا نہیں جانتی،وہ اپنی نیکیوں کا چرچا نہیں کرتے،وہ کسی کی مدد کر کے اس کا اعلان نہیں کرتے،وہ اپنے بارے میں لکھوانا پسند نہیں کرتے،لیکن میں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے،وہ استاد ہیں،بڑے بھائی ہیں،بہترین دوست ہیں، باپ جیسا سایہ ہیں،میری اپنی 28سالہ صحافتی زندگی کا ایک طویل سفر ان کے ساتھ گزرا ہے،میں نے ان سے صحافت سیکھی، میں نے ان سے زندگی کے بہت سے سبق سیکھے،اگر آج مجھے صحافت کے میدان میں کوئی جانتا ہے تو اس میں چیف ایگزیکٹو”لیڈر“ میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں کی تربیت، اعتماد اور رہنمائی کا بڑا حصہ ہے،صابر علی بابر کی بیماری کے دوران بھی انہوں نے اوراُن کے بڑے بھائی آفتاب احمد ڈھلوں نے ایک لمحے کے لیے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
مجھے واضح ہدایات تھیں:”علاج میں کسی چیز کی کمی نہیں آنی چاہیے“وہ صابرعلی بابرکے لیور ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے بھی شدید پریشان تھے،انہوں نے کہا کہ معلوم کرو، اگر پاکستان میں ممکن نہیں تو بیرون ملک کس ملک میں علاج یا ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے تواس کا بندوبست کرو،وہ اور اُن کے بڑے بھائی آفتاب احمد ڈھلوں آخری وقت تک صابر علی بابر کے ساتھ کھڑے رہے،اور جب بھی صابر علی بابر کا ذکر آتا، وہ کہتے: ”یہ میرے بابا جی (چودھری خورشید احمد مرحوم) کی طرف سے مجھے وراثت میں ملا ہوا ہے، یہ میرا سگا بھائی نہیں، لیکن مجھے بھائیوں سے بڑھ کر ہے“،یہ صرف محبت کا اظہار نہیں تھا،چیف ایگزیکٹو”لیڈر“میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں نے اس جملے کو اپنے کردارسے سچ ثابت کیا،انہوں نے حقیقی معنوں میں ایک بھائی کا حق ادا کیا۔
اس موقع پرسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا بھی خصوصی ذکر ضروری ہے، جنہوں نے صابر علی بابر کی بیماری کے دوران بھرپور توجہ دی، ہسپتال آتے رہے اور”پی کے ایل آئی “میں داخلے اور علاج کے معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ان کی ٹیم کے دوست، خصوصاً عبدالرحمن شاہ، ہر وقت رابطے میں رہے اور علاج کے دوران پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے فوری کردار ادا کرتے رہے، عظیم بٹ اور دیگر دوست بھی اس مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہے۔
”لیڈر“میڈیاگروپ کے دوستوں خصوصاً چوہدری محمد اسلم،راناندیم قاسم،کاشف عبدالحق،اویس جمال،عیبرعلی بٹ اور دیگر ساتھیوں کا بھی ذکرکروں گا جنہوں نے صابرعلی بابر کے علاج معالجہ کے دوران اپنی اپنی ڈیوٹی سرانجام دی
صابر علی بابر آج ہم میں نہیں ہیں،لیکن ان کی یادیں موجود ہیں،ان کی آواز موجود ہے،ان کا ”پاشا جی“ کہنا میرے کانوں میں آج بھی گونج رہا ہے،مگر اس سارے غم میں ایک منظر شاید زندگی بھر میرے ذہن سے نہیں نکلے گا۔
ایک باپ کے بغیر بیٹھی ہوئی بیٹی،اس کے سر پر شفقت سے رکھا ہوا ایک ہاتھ،اور ایک آواز،”گھبرانا نہیں بیٹی۔۔۔ابھی ”بڑے پاپا“ زندہ ہیں۔۔۔میں ہوں نا۔“
کاش دنیا میں ہر یتیم ہونے والے بچے کو ایسا کوئی ہاتھ مل جائے،کاش ہر باپ کے جانے کے بعد کسی بیٹی کو کوئی ایسا شخص مل جائے جو اسے یہ یقین دلا سکے کہ”تمہاری زندگی سے ایک سایہ ضرور اٹھ گیا ہے لیکن تم بالکل تنہا نہیں ہو“میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ صابر علی بابر کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کی اکلوتی بیٹی سمیت تمام اہل خانہ کو صبر عطا فرمائے،اور چیف ایگزیکٹو”لیڈر“میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں اوراُن کے بڑے بھائی آفتاب احمد ڈھلوں کے لیے میری خصوصی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، زندگی، ہمت اور استقامت عطا فرمائے،کیونکہ بعض لوگ صرف اپنے خاندان کے بڑے نہیں ہوتے ،وہ بہت سے لوگوں کے لیے سایہ بن جاتے ہیں،اور شایدچیف ایگزیکٹو”لیڈر“میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں کو خود بھی اندازہ نہیں کہ ان کے منہ سے نکلنے والا یہ ایک جملہ:
”ابھی ”بڑے پاپا“ زندہ ہیں۔۔۔ میں ہوں نا“
ایک چھوٹی سی بچی کے لیے صرف تسلی نہیں بلکہ آنے والی پوری زندگی کا حوصلہ بن سکتا ہے،کیونکہ باپ کے جانے کے بعد دنیا بدل ضرور جاتی ہے ،مگر اگر کوئی سچے دل سے ہاتھ تھام کر کہہ دے:”میں ہوں نا“تو شاید ٹوٹا ہوا دل کچھ دیر کے لیے ہی سہی،مگر دوبارہ سانس لینا سیکھ لیتا ہے۔

ترجمان کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ(سی سی ڈی ) پنجابلاہور 5 ستمبر 2026ٹیکرز برائے الیکٹرانک میڈیا سی سی ڈی کا قوم کے مستقبل کو...
10/09/2026

ترجمان کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ(سی سی ڈی ) پنجاب
لاہور 5 ستمبر 2026
ٹیکرز برائے الیکٹرانک میڈیا
سی سی ڈی کا قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا مشن

منشیات اور دیگر نشہ آور اشیاء کی خریدو فروخت اور استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ

سی سی ڈی نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور خرید و فروخت روکنے کیلئے ہنگامی ایکشن پلان تیار کرلیا ہے۔

تعلیمی اداروں اور انکے گردونواح میں منشیات فروشی پر قانون فوری طور پر حرکت میں آئے گا۔

طلبہ و طالبات کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے تعلیمی اداروں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائیگی۔ ترجمان سی سی ڈی

والدین اور اساتذہ بچوں کی عادات اور روزمرہ کے معمولات پر خصوصی نظر رکھیں۔ ترجمان

منشیات کے بڑے نیٹ ورکس اور ڈیلرز کے خلاف قانون مکمل طور پر حرکت میں آ چکا ہے۔ ترجمان سی سی ڈی

عوام منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کی بے خوف ہو کر نشاندہی کریں۔ ترجمان سی سی ڈی

عوام کے تعاون سے منشیات کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ ترجمان

جیلوں میں قید خاموش زندگیاںتحریر:خرم پاشاگزشتہ دنوں میرا کالم ”جیلوں کی دیواروں میں قید کرپشن“ شائع ہوا توچند جیل افسران...
10/09/2026

جیلوں میں قید خاموش زندگیاں

تحریر:خرم پاشا

گزشتہ دنوں میرا کالم ”جیلوں کی دیواروں میں قید کرپشن“ شائع ہوا توچند جیل افسران اور ملازمین کے فون آئے۔ان کی آوازوں میں ناراضی بھی تھی، غصہ بھی اور شاید وہ کچھ بھی جو عرصے سے دل میں دبا کر بیٹھے ہوئے تھے۔کسی نے شکوہ کیا، کسی نے اپنے حالات بتائے اور کہا ہماری طرف بھی دیکھیں، ہم بھی اسی نظام کا حصہ ہیں مگر ہر خرابی کا بوجھ ہمارے سر کیوں۔۔؟
ان کی باتیں سن کر محسوس ہوا کہ شاید گزشتہ کالم میں جیل کے نظام کا ایک رخ زیادہ نمایاں ہوگیا تھا جبکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ کرپشن جہاں ہو کارروائی ہونی چاہئے لیکن چند افراد کی غلطی کو پورے محکمے کا کردار بنا دینا بھی انصاف نہیں۔
جیل کی چار دیواری کے اندر صرف قیدی اور حوالاتی نہیں ہوتے، وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو روزانہ دوسروں کی سزا، غصے، دباؤ اور خطرات کے درمیان اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہیں۔
پنجاب کی جیلیں اس وقت ایک غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق جیلوں کی گنجائش کے مقابلے میں قیدیوں اور حوالاتیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ایک طرف محدود جگہ، دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی، اور تیسری طرف وسائل اور عملے کی کمی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جیل افسران اور ملازمین کو اپنی معمول کی ذمہ داری سے کہیں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
اور یہاں ایک ایسا پہلو بھی ہے جس پر شاید ہی کبھی بات ہوتی ہے۔
جب جیل اپنی گنجائش سے کئی گنازائد بوجھ اٹھا رہی ہو تو سوال صرف جگہ کا نہیں، وسائل کا بھی ہوتا ہے۔ ہر قیدی اور حوالاتی کے لیے خوراک، راشن، صفائی، علاج اور بنیادی سہولتوں کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ خصوصاً کھانے کا انتظام سب سے بڑا امتحان بن جاتا ہے۔ جیلوں میں بند قیدی اور حوالاتیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں وسائل اور بجٹ پر دباؤ بڑھ جائے تو مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کی معاونت بھی کئی مواقع پر اس نظام کو سہارا دیتی ہے۔ اگر یہ انسانی تعاون بھی نہ ہو تو پہلے سے دباؤ میں چلنے والے کئی بنیادی معاملات مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
جیل افسران اور ملازمین صرف راشن اور رجسٹر نہیں سنبھالتے، وہ خطرناک مجرموں کے درمیان بھی ڈیوٹی دیتے ہیں۔
قتل، دہشت گردی، سنگین جرائم اور دیگر حساس مقدمات میں گرفتار افراد جیل پہنچتے ہیں۔ ان کی نگرانی، عدالتوں میں پیشی، سکیورٹی اور روزمرہ انتظام کی ذمہ داری بھی اسی نظام پر آتی ہے۔ یہ ایسا کام ہے جہاں ایک معمولی غفلت بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔اور خطرہ صرف جیل کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا۔
بعض قیدیوں اور حوالاتیوں کے باہربااثر حلقوں سے روابط ہوتے ہیں۔ فون آتے ہیں، سفارشیں آتی ہیں، دباؤ آتا ہے۔ کبھی سیاسی دباؤ، کبھی ادارہ جاتی دباؤ اور کبھی کسی بااثر شخص کی مداخلت۔ جیل افسر کو ایک طرف قانون دیکھنا ہوتا ہے اور دوسری طرف دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو ان لاوارث یا بے سہارا قیدیوں کا ہے جن کے گھر سے کوئی ملاقات کے لیے نہیں آتا۔ جنہیں کوئی کپڑے، جوتے، صابن یا روزمرہ ضرورت کی دوسری اشیاء پہنچانے والا نہیں ہوتا۔ بعض کے گھر والوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ان کا پیارا کس حال میں ہے۔ ایسے لوگوں کی ضروریات کا بوجھ بھی بالآخر جیل کے نظام پر ہی آتا ہے یعنی جیلیں صرف حوالاتیوں اور قیدیوں کو بند نہیں رکھتیں بلکہ کئی بے سہارا انسانوں کو اپنے محدود وسائل سے سنبھال بھی رہی ہوتی ہیں۔ ان کے لیے کھانے سے لے کر بنیادی ضرورت کی چیزوں تک کا انتظام کرنا ایک اضافی انسانی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
یہاں ایک بات بالکل واضح سمجھنے کی ضرورت ہے:
جیل کے اندر کرپشن ہونا ایک الگ جرم ہے، جبکہ مختلف سرکاری محکموں میں ہونے والی کرپشن کے ملزمان کا جیل پہنچنا ایک الگ حقیقت۔
جیل کا عملہ کرپشن کے مقدمات درج نہیں کرتا، نہ وہ کسی افسر کو گرفتار کرتا ہے اور نہ ہی تفتیش کرتا ہے۔ مختلف سرکاری محکموں کے وہ افسران اور ملازمین جن پر کروڑوں یا اربوں روپے کی بدعنوانی کے الزامات ہوں، بالآخر حوالاتی بن کر جیل کے نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ جیل کا عملہ انہیں اپنی آنکھوں کے سامنے آتے، عدالتوں میں جاتے، ضمانت پر باہر نکلتے اور بعض اوقات دوبارہ واپس آتے دیکھتا ہے۔
اسی لیے بدعنوانی کی پوری تصویر کو صرف جیل کے محکمے تک محدود کر دینا درست نہیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں سامنے آنے والے بڑے کرپشن کیسز کا حجم خود اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ احتساب کا پیمانہ سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔
اور پھر اس وردی کے پیچھے ایک انسان بھی ہے۔
جب ہم عید مناتے ہیں، جیل کا ملازم ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔ جب شبِ برات آتی ہے، اس کے بچے بھی اپنے باپ کے منتظر ہوتے ہیں۔
’کبھی عید گزر جاتی ہے، کبھی تہوار، کبھی گھر کی کوئی خوشی اور غمی مگر ڈیوٹی ختم نہیں ہوتی۔
ان کی قربانی کسی اخبار کی سرخی نہیں بنتی، مگر ان کے بچوں کی آنکھوں میں اپنے باپ کا انتظار ضرور نظر آتا ہے۔
اس لیے احتساب ضرور ہونا چاہیے، مگر انصاف کے ساتھ۔ جو کرپٹ ہے اسے سزا ملنی چاہیے، مگر جو ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی نبھا رہا ہے اسے بھی معاشرے میں عزت ملنی چاہیے۔
کیونکہ جیل کی دیواریں صرف قیدیوں کو نہیں گھیرتیں، ان دیواروں کے سائے میں ہزاروں خاندانوں کی خوشیاں بھی ڈیوٹی کی نذر ہوتی ہیں۔
٭٭٭

لاہور: نئے صوبوں کے قیام پر سیمینار 24 اگست بروز پیر ہوگالیڈر میڈیا گروپ کے زیراہتمام ”نئے صوبوں کا قیام: ضرورت یا سیاسی...
23/08/2026

لاہور: نئے صوبوں کے قیام پر سیمینار 24 اگست بروز پیر ہوگا

لیڈر میڈیا گروپ کے زیراہتمام ”نئے صوبوں کا قیام: ضرورت یا سیاسی دباؤ؟“ کے عنوان سے سیمینار 24 اگست بروز پیر، سہ پہر 3 بجے لاہور پریس کلب، شملہ پہاڑی میں ہوگا۔

سیمینار کی صدارت امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم احمد کریں گے جبکہ چیف ایگزیکٹو لیڈر میڈیا گروپ علی احمد ڈھلوں میزبانی کریں گے۔

سیمینار سے سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی، سینیٹر جان محمد بلیدی، چوہدری منظور احمد، امتیاز عالم، ایاز امیر، کاظم خان صدر سی پی این ای، سینئر صحافی حسن خان، کالم نگار اسلم اعوان، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری اور عابد ساقی ایڈووکیٹ خطاب کریں گے۔

سیمینار میں نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت، سیاسی دباؤ اور ملک کی انتظامی صورتحال سمیت اہم امور پر اظہارِ خیال کیا جائے گا۔

Daily Leader 18.05.2026
19/05/2026

Daily Leader 18.05.2026

Daily Leader 17.05.2026
19/05/2026

Daily Leader 17.05.2026

Daily Leader 16.05.2026
19/05/2026

Daily Leader 16.05.2026

Daily Leader 15.05.2026
19/05/2026

Daily Leader 15.05.2026

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Leader posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share