10/09/2026
”گھبرانا نہیں بیٹی… ابھی ”بڑے پاپا “زندہ ہیں“
تحریر:خرم پاشا
کچھ جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے،کچھ جملے انسان کے دل میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے ہیں،کچھ آوازیں وقت گزرنے کے باوجود کانوں میں گونجتی رہتی ہیں،اور کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں کہ انسان چاہے برسوں بعد بھی انہیں یاد کرے تو آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں‘صابر علی بابر کے دنیا سے چلے جانے کے بعد میرے ذہن میں بھی ایک ایسا ہی منظر بار بار آ رہا ہے۔
ایک غم زدہ گھر!
ایک ایسا گھر جہاں ایک بیٹی کے سر پر باپ کا سایہ موجود تھا،پھر اچانک وہ سایہ اُٹھ گیا،ایک اکلوتی بیٹی،جس کے لیے شاید دنیا کی سب سے مضبوط دیوار اس کا باپ تھا،وہ باپ جو اب واپس نہیں آسکتا،وہ آواز جو اب دوبارہ اسے پکارنے والی نہیں تھی،وہ ہاتھ جو اب اس کے سر پر شفقت سے نہیں پھرنے والا تھا،اور پھر اس خاموش، غم زدہ کمرے میں ایک شخص آگے بڑھا،اس نے اس بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا،اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا،اور انتہائی محبت اور شفقت سے کہا:
”گھبرانا نہیں بیٹی۔۔۔ابھی ”بڑے پاپا“ زندہ ہیں۔۔میں ہوں نا۔“
بس!
یہ چند الفاظ تھے،لیکن شاید اس کمرے میں موجود ہر شخص کے لیے اس سے زیادہ بھاری کوئی جملہ نہیں تھا،کسی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے،کسی نے چہرہ دوسری طرف کر لیا،کسی نے خاموشی اختیار کر لی،اور شاید اس لمحے ہر شخص اپنے اپنے باپ، اپنے اپنے بچوں اور اپنے اپنے بچھڑ جانے والوں کو یاد کر رہا تھا۔
میں بھی وہاں موجود تھا،میں بھی ایک بیٹی کا باپ ہوں،اور شاید اسی لیے اس منظر نے میرے دل کو جس طرح چھوا، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں،ایک بیٹی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جانا،یہ صرف ایک شخص کا دنیا سے چلے جانا نہیں ہوتا،یہ ایک پوری دنیا کے بدل جانے کا نام ہے،باپ کے ہوتے ہوئے بیٹی چاہے کتنی ہی بڑی ہو جائے، اس کے دل کے کسی کونے میں وہ پھر بھی بچی ہوتی ہے،اسے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ایک شخص موجود ہے جو اس کے لیے ہر مشکل کے سامنے کھڑا ہو جائے گا،جو اس کے لیے دنیا سے لڑ سکتا ہے،جو اس کی ایک تکلیف پر بے چین ہو سکتا ہے،جو اسے صرف ایک نظر دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ اس کی بیٹی پریشان ہے،اور جب وہ شخص دنیا سے چلا جائے تو گھر میں لوگ موجود ہوتے ہیں،رشتے موجود ہوتے ہیں،دیواریں بھی وہی ہوتی ہیں،
مگر !بہت کچھ بدل جاتا ہے
17جولائی 2026ءکی رات جناب علی احمد ڈھلوں (چیف ایگزیکٹو”لیڈر “میڈیا گروپ) کی استنبول، ترکی سے مجھے کال آئی،(وہ اُن دنوں اپنی فیملی کے ہمراہ نجی دورہ پر استنبول تھے)ان کے لہجے میں تشویش تھی،انہوں نے کہا”صابر علی بابر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، فوری طور پر انہیں کھڈیاں خاص، ضلع قصور سے لاہور منتقل کروا کر کسی اچھے ہسپتال میں علاج کروائیں“میں نے فوراً صابر علی بابر سے رابطہ کیا،فون پر ان کی آواز سن کر دل بے چین ہو گیا،وہ صابر علی بابر، جو ہمیشہ جوش و جذبے سے بات کرتے تھے، جو دوسروں کے مسائل کے لیے پریشان رہتے تھے، جن کی گفتگو میں زندگی اور توانائی ہوتی تھی، آج ان کی آواز میں وہ جوش نہیں تھا،وہ تھکے ہوئے محسوس ہو رہے تھے،کمزور تھے،اور بیماری جیسے ان سے زندگی آہستہ آہستہ چھین رہی تھی،انہیں فوری طور پر لاہور منتقل کیا گیا،جیل روڈ پر واقع عمر ہسپتال میں پروفیسر ڈاکٹر ساجد نثار کی نگرانی میں علاج شروع ہوا،ابتدائی پندرہ دن وہ ہسپتال میں رہے،علاج ہوا،اُمید بندھی،پھر انہیں ڈسچارج کر دیا گیالیکن صرف دو دن بعد بیماری نے ایک بار پھر انہیں اپنی گرفت میں لے لیا،انہیں دوبارہ عمر ہسپتال منتقل کرنا پڑا،اس مرتبہ حالت بہتر ہونے کے بجائے بگڑتی چلی گئی،ہر گزرتا دن پریشانی بڑھا رہا تھا،ہر فون کال کے بعد دل میں ایک خوف پیدا ہوتا تھا،پھر انہیں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ(پی کے ایل آئی ) منتقل کیا گیا۔
لوگ دعائیں کر رہے تھے،اہل خانہ اُمید لگائے بیٹھے تھے،دوست فکر مند تھے،ہر شخص چاہتا تھا کہ صابر علی بابر ایک بار پھر صحت مند ہو کر واپس آئیں،لیکن زندگی بعض اوقات انسان کی خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔
اور پھر
گزشتہ رات صابر علی بابر ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے،وہ چلے گئے،بہت خاموشی سے،اپنے دوستوں کو روتا ہوا چھوڑ کر،اپنے بھائی بہنوں کو غم میں مبتلا چھوڑ کر،اپنے علاقے کے لوگوں کو افسردہ چھوڑ کر‘اور سب سے بڑھ کر،اپنی اکلوتی بیٹی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھا کر‘صابر علی بابر کھڈیاں خاص پریس کلب کے صدر تھے،لیکن ان کی اصل پہچان صرف ایک عہدہ نہیں تھا،وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے نمائندے تھے،لوگ ان سے محبت کرتے تھے،ان پر اعتماد کرتے تھے،اگرکسی کو لاہور میں مسئلہ درپیش ہوتا، کسی کو مدد چاہیے ہوتی، کسی کا کام رک جاتا تو صابر علی بابر فوراً متحرک ہو جاتے۔
اور پھر فون آتا:”پاشا جی… ایک کام ہے“کبھی وہ محبت سے کہتے،”پاشا جی، یہ بندہ اپنا ہے، اس کی مدد کر دیں“آج سوچتا ہوں کہ وہ فون دوبارہ نہیں آئے گا،وہ آواز دوبارہ سنائی نہیں دے گی،وہ محبت سے ”پاشا جی“ کہنے والا شخص اب صرف یادوں میں موجود ہے،گزشتہ روز کھڈیاں خاص کی مرکزی جنازگاہ میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی،لوگوں کا ایک سمندر وہاں موجود تھا،سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان،وفاقی وزیرمملکت ملک رشید احمد خان،چیف ایگزیکٹو”لیڈر“ میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں، عزیز و اقارب، دوست، صحافی اور علاقے کے لوگ موجود تھے،ہر شخص شاید اپنی یادیں لے کر آیا تھا،جنازے میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اس بات کا ثبوت تھی کہ صابر علی بابر نے زندگی میں صرف تعلقات نہیں بنائے تھے ،انہوں نے دلوں میں جگہ بنائی تھی،جنازے کے بعد جب ہم ان کے گھر پہنچے تو غم کی ایک ایسی خاموشی تھی جو شاید شور سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی،وہاں ان کی اکلوتی بیٹی اور اہلیہ موجود تھیں،بھائی بہنیں موجود تھے،گھر کے دیگر افراد موجود تھے،لیکن ایک شخص نہیں تھا،وہ شخص جس کے بغیر وہ گھر اچانک ادھورا ہو گیا تھا۔
اور پھرچیف ایگزیکٹو”لیڈر“میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں آگے بڑھے،انہوں نے اس بچی کے سر پر ہاتھ رکھا،اس کا ہاتھ تھامااور کہا:
”گھبرانا نہیں بیٹی۔۔۔ ابھی ”بڑے پاپا“ زندہ ہیں۔۔ میں ہوں نا۔“
مجھے نہیں معلوم اس لمحے اس بچی کے دل میں کیا گزری ہوگی،لیکن میں جانتا ہوں کہ ایک باپ کے بعد کسی بچی کو سہارا دینے کے لیے صرف تسلی کے الفاظ کافی نہیں ہوتے،اسے ایک ایسا شخص چاہیے ہوتا ہے جو واقعی اس کے ساتھ کھڑا ہو،جو مشکل وقت میں اس کے دروازے پر پہنچے،جو اس کے آنسو دیکھ کر بے چین ہو،جو اسے یہ یقین دلائے کہ باپ تو چلا گیا ہے ،مگر وہ بالکل اکیلی نہیں ہوئی،”بڑے پاپا“ کہنا آسان ہے،لیکن بڑے پاپا بن جانا آسان نہیں،کیونکہ بڑے پاپا صرف ایک لفظ نہیں،یہ ایک ذمہ داری ہے،یہ ایک وعدہ ہے،یہ ایک ایسا رشتہ ہے جسے خون سے نہیں، کردار سے نبھانا پڑتا ہے۔
میں چیف ایگزیکٹو ”لیڈر“میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں کو گزشتہ 28برس سے جانتا ہوں،میں نے ان کی زندگی کے بہت سے ایسے پہلو دیکھے ہیں جو شاید دنیا نہیں جانتی،وہ اپنی نیکیوں کا چرچا نہیں کرتے،وہ کسی کی مدد کر کے اس کا اعلان نہیں کرتے،وہ اپنے بارے میں لکھوانا پسند نہیں کرتے،لیکن میں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے،وہ استاد ہیں،بڑے بھائی ہیں،بہترین دوست ہیں، باپ جیسا سایہ ہیں،میری اپنی 28سالہ صحافتی زندگی کا ایک طویل سفر ان کے ساتھ گزرا ہے،میں نے ان سے صحافت سیکھی، میں نے ان سے زندگی کے بہت سے سبق سیکھے،اگر آج مجھے صحافت کے میدان میں کوئی جانتا ہے تو اس میں چیف ایگزیکٹو”لیڈر“ میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں کی تربیت، اعتماد اور رہنمائی کا بڑا حصہ ہے،صابر علی بابر کی بیماری کے دوران بھی انہوں نے اوراُن کے بڑے بھائی آفتاب احمد ڈھلوں نے ایک لمحے کے لیے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
مجھے واضح ہدایات تھیں:”علاج میں کسی چیز کی کمی نہیں آنی چاہیے“وہ صابرعلی بابرکے لیور ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے بھی شدید پریشان تھے،انہوں نے کہا کہ معلوم کرو، اگر پاکستان میں ممکن نہیں تو بیرون ملک کس ملک میں علاج یا ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے تواس کا بندوبست کرو،وہ اور اُن کے بڑے بھائی آفتاب احمد ڈھلوں آخری وقت تک صابر علی بابر کے ساتھ کھڑے رہے،اور جب بھی صابر علی بابر کا ذکر آتا، وہ کہتے: ”یہ میرے بابا جی (چودھری خورشید احمد مرحوم) کی طرف سے مجھے وراثت میں ملا ہوا ہے، یہ میرا سگا بھائی نہیں، لیکن مجھے بھائیوں سے بڑھ کر ہے“،یہ صرف محبت کا اظہار نہیں تھا،چیف ایگزیکٹو”لیڈر“میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں نے اس جملے کو اپنے کردارسے سچ ثابت کیا،انہوں نے حقیقی معنوں میں ایک بھائی کا حق ادا کیا۔
اس موقع پرسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا بھی خصوصی ذکر ضروری ہے، جنہوں نے صابر علی بابر کی بیماری کے دوران بھرپور توجہ دی، ہسپتال آتے رہے اور”پی کے ایل آئی “میں داخلے اور علاج کے معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ان کی ٹیم کے دوست، خصوصاً عبدالرحمن شاہ، ہر وقت رابطے میں رہے اور علاج کے دوران پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے فوری کردار ادا کرتے رہے، عظیم بٹ اور دیگر دوست بھی اس مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہے۔
”لیڈر“میڈیاگروپ کے دوستوں خصوصاً چوہدری محمد اسلم،راناندیم قاسم،کاشف عبدالحق،اویس جمال،عیبرعلی بٹ اور دیگر ساتھیوں کا بھی ذکرکروں گا جنہوں نے صابرعلی بابر کے علاج معالجہ کے دوران اپنی اپنی ڈیوٹی سرانجام دی
صابر علی بابر آج ہم میں نہیں ہیں،لیکن ان کی یادیں موجود ہیں،ان کی آواز موجود ہے،ان کا ”پاشا جی“ کہنا میرے کانوں میں آج بھی گونج رہا ہے،مگر اس سارے غم میں ایک منظر شاید زندگی بھر میرے ذہن سے نہیں نکلے گا۔
ایک باپ کے بغیر بیٹھی ہوئی بیٹی،اس کے سر پر شفقت سے رکھا ہوا ایک ہاتھ،اور ایک آواز،”گھبرانا نہیں بیٹی۔۔۔ابھی ”بڑے پاپا“ زندہ ہیں۔۔۔میں ہوں نا۔“
کاش دنیا میں ہر یتیم ہونے والے بچے کو ایسا کوئی ہاتھ مل جائے،کاش ہر باپ کے جانے کے بعد کسی بیٹی کو کوئی ایسا شخص مل جائے جو اسے یہ یقین دلا سکے کہ”تمہاری زندگی سے ایک سایہ ضرور اٹھ گیا ہے لیکن تم بالکل تنہا نہیں ہو“میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ صابر علی بابر کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کی اکلوتی بیٹی سمیت تمام اہل خانہ کو صبر عطا فرمائے،اور چیف ایگزیکٹو”لیڈر“میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں اوراُن کے بڑے بھائی آفتاب احمد ڈھلوں کے لیے میری خصوصی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، زندگی، ہمت اور استقامت عطا فرمائے،کیونکہ بعض لوگ صرف اپنے خاندان کے بڑے نہیں ہوتے ،وہ بہت سے لوگوں کے لیے سایہ بن جاتے ہیں،اور شایدچیف ایگزیکٹو”لیڈر“میڈیاگروپ علی احمد ڈھلوں کو خود بھی اندازہ نہیں کہ ان کے منہ سے نکلنے والا یہ ایک جملہ:
”ابھی ”بڑے پاپا“ زندہ ہیں۔۔۔ میں ہوں نا“
ایک چھوٹی سی بچی کے لیے صرف تسلی نہیں بلکہ آنے والی پوری زندگی کا حوصلہ بن سکتا ہے،کیونکہ باپ کے جانے کے بعد دنیا بدل ضرور جاتی ہے ،مگر اگر کوئی سچے دل سے ہاتھ تھام کر کہہ دے:”میں ہوں نا“تو شاید ٹوٹا ہوا دل کچھ دیر کے لیے ہی سہی،مگر دوبارہ سانس لینا سیکھ لیتا ہے۔