29/07/2024
آج سپریم کورٹ میں ارشد شریف شہید کیس کی سماعت میں جسٹس منصور علی شاہ نے انکشاف کیا کہ یہ کیس 5 رکنی بینچ کے بجائے "غلطی" سے "اچانک" 3 رکنی بینچ کے سامنے لگا دیا گیا اور 3 رکنی ججز کمیٹی میں اس پر مشاورت نہیں کی گئی۔ اس لیے 5 رکنی بینچ کے میسر ہونے تک سماعت ملتوی کر دی لیکن سوال یہ ہے کہ 3 رکنی ججز کمیٹی کے اپروول کے بغیر 5 کے بجائے 3 رکنی بینچ کے سامنے کیس سماعت کے لیے مقرر کیوں کیا گیا؟
اور کس نے کیس سماعت مقرر کرنے کے لیے کہا؟
کیا یہ جسٹس منصور علی شاہ کو پہلے ہی متنازعہ بنانے کی ایک ناکام کوشش تھی؟
کیا یہ کیس کسی مخصوص پسندیدہ لوگوں کے مشورے پر لگایا گیا؟ کیا اس طرح کیس لگا دینا مس کنڈکٹ / قانون کی خلاف ورزی نہیں؟
اس کے پیچھے اصل گیم اور کردار اب آشکار ہوتے جا رہے ہیں اور عوام سب کچھ سمجھ رہی ہے مزید یہ کہ اب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اس معاملے کے بعد انگلیاں اٹھ رہی ہے اور مشورہ دینے والوں کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں،
خدا کے لیے ذرا رحم کیجیے ارشد شریف شہید کا معاملہ انتہائی حساس اور سنجیدہ ہے اس طرح کی سیاسی چالبازیاں کر کے عوام اور خاندان کے جذبات کو مزید مجروح کرنا انتہائی گھٹیا اور بھدا کام ہے۔ جس نے بھی کیا یہ ایک انتہائی شرمناک عمل تھا۔