20/05/2026
next part 2
پاکستان کی اپنی سپریم کورٹ (PLD 2019 SC 357) نے 7 رکنی بنچ کے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ گلگت بلتستان متنازع ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے یہاں کے عوام نے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے سے اپنا مستقبل طے کرنا ہے یہ قراردادیں کسی اور نے نہیں خود پاکستان نے دستخط کی ہیں اب انہی قراردادوں کو پارلیمنٹ کی آڑ میں دفن کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ محض قانون شکنی نہیں بلکہ عوام کے ساتھ کشمیر کاز کے ساتھ اور بین الاقوامی وعدوں کے ساتھ بھی کھلی غداری ہے۔1974 میں بھٹو نے عبوری آئین مسلط کیا عوام نے برداشت کیا۔پھر دہائیوں تک حقوق چھینے گئے عوام نے صبر کیا اور اب اگر تم اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے ہمارا وجود مٹانے کی کوشش کر رہے ہو تو اب ہمارے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا ہے۔کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام نے نسل در نسل اپنی شناخت، زمین اور خودمختاری کے لیے قربانیاں دی ہیں اب یہ قوم خاموش نہیں بیٹھے گی۔پیپلز پارٹی ہو، مسلم لیگ ہو، یا کوئی اور جس نے بھی اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے سٹیٹس کو ذرہ برابر بھی چھیڑنے کی کوشش کی اسے بھرپور، منظم اور فیصلہ کن عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا حرام خور قبضہ مافیا کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔
( copy paste)