19/06/2026
بیرل کیا ہوتا، اس وقت تیل کتنے کا ہونا چاہیے تھا
بیرل ایک معاشی اور تجارتی پیمانہ ہے،جوآج سے تقریباً 6 صدیاں قبل استعمال ہونے والے لکڑی کے ڈبوں کو دیا جاتا تھا جنہیں برطانوی لوگ الکوحل ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال کرتے تھے اور ان کا استعمال 19 ویں صدی تک جاری رہا۔ ایک بیرل کا حجم تقریباً 42 گیلن کے برابر ہوتا ہے اور اس کیو جہ یہ تھی کہ اتنے وزن کے مائع کو ایک شخص بآسانی اٹھا سکتا تھا،انیسویں صدی میں امریکی ریاست پنسلوانیا میں جب تیل کی نقل و حمل کا کاروبار پھیلا تو روایتی بیرل کو تیل کیلئے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ پیٹرولیم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے 1882ءمیں اسے بطور معیار اپنا لیا جس کے بعد یہ ساری دنیا میں خام تیل کے پیمانے کے طور پر استعمال ہونے لگا جو خاص طور پر تیل کی صنعت میں استعمال ہوتا ہے،اور اگر ایک گیلن کی بات کریں تو گیلن بھی حجم ناپنے کی ایک اکائی ہے،دنیا میں گیلن کی دو مشہور اقسام استعمال ہوتی ہیں،پہلی امریکی گیلن دوسری برطانوی گیلن،لیکن تیل کی صنعت میں عام طور پر امریکی گیلن استعمال کیا جاتا ہے،ایک امریکی گیلن میں تقریباً 3.78 لیٹر مائع آتا ہے، اب اگر ایک بیرل میں 42 امریکی گیلن ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک بیرل میں تقریباً 159 لیٹر تیل موجود ہوتا ہے، اگر ہم عالمی مارکیٹ کے حساب سے تیل کی موجودہ قیمتوں کا موازنہ کریں تو ایک بیرل تقریبا75 ڈالر کا سیل ہو رہا ہے، اور پاکستان میں ایک ڈالر 280 روپے کے برابر ہے تو اس حساب سے ایک بیرل کی قیمت تقریباً 21,000 روپے بنتی ہے، چونکہ ایک بیرل میں تقریباً 159 لیٹر تیل ہوتا ہے، اس لیے خام تیل کی فی لیٹر قیمت تقریباً 132 روپے بنتی ہے،اب اگر اس میں ریفائننگ کی لاگت شامل کی جائے تو عالمی سطح پر ایک بیرل کو پیٹرول یا ڈیزل میں تبدیل کرنے کی اوسط لاگت 5 سے 10 ڈالر فی بیرل ہوتی ہے۔ جو پاکستانی کرنسی میں تقریبا 1400 سے 2800 روپے بنتی ہے،جب اسے فی لیٹر حساب میں تقسیم کیا جائے تو یہ تقریباً 9 سے 18 روپے فی لیٹر کے درمیان بنتی ہے،اس طرح خام تیل اور ریفائننگ دونوں کو ملا کر ایک لیٹر پیٹرول کی اصل پیداواری لاگت تقریبا140 سے 150 روپے فی لیٹر بنتی ہے، لیکن گورنمنٹ اس میں لیوی اور دیگر ٹیکس شامل کرکے عوام کو ڈبل قیمت میں بیچ رہی ہے