Mohsin Raza Khan

Mohsin Raza Khan Social activist,journalist,secular,humanist,liberal,writer,book and newspaper reader.

11/04/2026

پاکستان نے کتنے عالمی تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کیا؟

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں، بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں اس نے بڑی طاقتوں کو میز پر بٹھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی 1971 میں اس وقت سامنے آئی جب اس نے دنیا کے دو بڑے حریفوں، امریکا اور چین کو قریب لانے میں مدد دی۔ جولائی 1971 میں پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان دہائیوں سے منقطع سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے ایک ایسا خفیہ اور سنسنی خیز مشن سرانجام دیا جو کسی فلمی کہانی سے کم نہ تھا۔
اس مشن کے مرکزی کردار امریکی صدر رچرڈ نکسن کے مشیر برائے قومی سلامتی ہنری کسنجر تھے، جن کے بیجنگ کے سفر کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے صدر یحییٰ خان نے نہایت محتاط منصوبہ ترتیب دیا۔ 1971 میں چین اور امریکا دونوں ہی اپنی سیاسی اور تزویراتی مجبوریوں کے باعث ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے تھے، مگر بیس سالہ دشمنی کی وجہ سے براہِ راست رابطہ مشکل تھا۔
ہنری کسنجر نے جولائی 1971 میں اسلام آباد کا سرکاری دورہ کیا، جہاں سے انہیں خفیہ طور پر بیجنگ روانہ ہونا تھا۔ ان کی اسلام آباد میں عدم موجودگی کو چھپانے کے لیے یہ خبر پھیلائی گئی کہ وہ سخت تھکن اور آم کھانے کی وجہ سے طبیعت ناساز ہونے پر نتھیا گلی کے ریسٹ ہاؤس میں آرام کر رہے ہیں، جبکہ نتھیا گلی میں ان کا ایک ہم شکل اسسٹنٹ پروٹوکول کے ساتھ ٹھہرایا گیا تھا۔ پاکستان نے اس خبر کو چھپانے اور بین الاقوامی دباؤ سے بچنے کے لیے ایسے ڈاکٹر سے، جو کسنجر کو پہچانتا تھا، ان کے ہم شکل کا معائنہ بھی کرایا۔
اس دوران کسنجر پی آئی اے کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے، جس کا عملہ بھی اس مشن سے بڑی حد تک بے خبر تھا، شاہراہِ قراقرم کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے بیجنگ پہنچے اور چینی وزیرِ اعظم چو این لائی سے تاریخی ملاقات کی۔ اس کامیاب خفیہ دورے کے بعد صدر نکسن نے 15 جولائی 1971 کو دنیا کو اس مشن سے آگاہ کیا اور اگلے سال خود چین کا دورہ کیا، جس سے شنگھائی اعلامیہ اور بالآخر 1979 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات کی راہ ہموار ہوئی۔
اس اہم پیش رفت نے امریکا اور چین کے درمیان سرد جنگ کے عالمی تناظر کو بدل کر رکھ دیا، جس سے نہ صرف چین بلکہ امریکا اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی میں بھی کمی آئی۔ پاکستان نے اس عظیم سفارتی خدمت کے ذریعے عالمی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔
پاکستان نے نہ صرف چین اور امریکا کے تعلقات کو معمول پر لانے میں کردار ادا کیا بلکہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 2020 کے تاریخی دوحہ معاہدے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ امریکا دو دہائیوں سے افغانستان میں الجھا ہوا تھا، لیکن پاکستان نے مؤثر سفارتکاری کے ذریعے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کی اور ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف تاریخی معاہدہ کروایا بلکہ افغانستان سے امریکی افواج کے پرامن انخلا میں بھی اہم کردار ادا کیا، جسے امریکی انتظامیہ جنگی تاریخ میں کسی بھی فوج کے پرامن انخلا کی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے۔
امریکا، چین اور افغانستان کے مذاکرات کے علاوہ پاکستان نے شمالی اور جنوبی کوریا کے تنازع میں بھی کردار ادا کیا۔ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریا جنگ دراصل سرد جنگ کی ایک بڑی پراکسی وار تھی، جس نے کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس جنگ میں شمالی کوریا کو سوویت یونین اور چین کی حمایت حاصل تھی، جبکہ جنوبی کوریا کو امریکا اور اقوام متحدہ کی پشت پناہی حاصل تھی۔
پاکستان نے جنوبی کوریا پر سے شمالی کوریا کا قبضہ چھڑانے، امن فوج کی تعیناتی اور جنگی قیدیوں کی بحفاظت واپسی میں جو کردار ادا کیا، اسے آج بھی کوریا کی تاریخ میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ 1953 میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، لیکن دونوں ممالک کے درمیان تناؤ آج بھی برقرار ہے۔
1947 میں قائم ہونے والے پاکستان نے ابتدا ہی سے مغربی بلاک کے ساتھ اتحاد کیا اور سرد جنگ کے دباؤ کے باوجود کوریا میں اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کی۔ 1950 میں اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے جنوبی کوریا کے حق میں اقوام متحدہ کی کارروائی کا ساتھ دے کر کمیونسٹ پھیلاؤ کے خلاف امریکی مؤقف کی تائید کی، جس سے پاکستان کے امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان 1954 میں سیٹو اور 1955 میں سینٹو جیسے اہم معاہدوں کا حصہ بنا۔
اس کے علاوہ 1970 کی دہائی سے پاکستان نے شمالی کوریا کے ساتھ ایک علیحدہ سیکیورٹی شراکت داری قائم کی۔ 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورۂ شمالی کوریا سے اس تعلق کا آغاز ہوا، جو 1990 کی دہائی میں میزائل ٹیکنالوجی کے تبادلے کے الزامات کی صورت میں زیرِ بحث رہا۔
ان پیچیدہ دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان نے جنوبی کوریا کے ساتھ بھی مضبوط تجارتی اور سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ یوں پاکستان کی خارجہ پالیسی کوریائی تنازع کے حوالے سے تزویراتی مفادات، دفاعی ضروریات اور تجارتی تعلقات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ایک مسلسل کوشش رہی ہے۔
سعودی عرب نے 2016 میں سفارتی تنصیبات پر مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کم کر دیے تھے۔ پاکستان اور چین نے مسلسل کئی سال تک دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کروانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پل کا کردار ادا کیا۔ پاکستان نے کئی مواقع پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتکاری اور کشیدگی کم کروانے کے لیے اقدامات کیے، جس کے بعد مارچ 2023 میں پاکستان اور چین کی مشترکہ کاوشوں سے دونوں ممالک نے نہ صرف تعلقات بحال کیے بلکہ اپنے اپنے سفارت خانے بھی دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔

اَگرچہ شہر میں کُل سو ، پچاس ہوتے ہیںذَہین لوگ ترقی کی آس ہوتے ہیںلکیر کے ہیں فقیر اَوّل آنے والے سبھیذَہین بچے ذرا بدحو...
08/09/2025

اَگرچہ شہر میں کُل سو ، پچاس ہوتے ہیں
ذَہین لوگ ترقی کی آس ہوتے ہیں

لکیر کے ہیں فقیر اَوّل آنے والے سبھی
ذَہین بچے ذرا بدحواس ہوتے ہیں

میرے گاؤں کے ایک بچے اکرام جٹ کا بھی انہی بچوں میں شمار ہوتا ہے، جو نادانی اور کم عمری میں سیاست جیسے مشکل میدان میں کودا اور پھر بے لوث ہو کر اپنی جماعت کی ایسی خدمت کی جس نے اسے سوشل میڈیا کے میدان میں ایک متحرک سیاسی کارکن کے طور پر ہمیشہ کیلئے امر کر دیا، ( پی ٹی آئی کی اعلی ترین قیادت اکرام جٹ کو جانتی ہے )
اگر سیاست اور ایوان اقتدار کی راہداریوں کی بات کریں تو اس عملی میدان میں
اکرام نے اپنی کم عمری اور ناپختگی کی بدولت وفاقی وزیر کے سب سے زیادہ قریب رہ کر کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی ( چک حمید اور چک علی شاہ جو اکرام کے گاؤں ہیں ان میں پی ٹی آئی کے ٹینیور میں ایک روپے کا ترقیاتی کام نہیں ہوا) اور نہ ہی ایوان اقتدار میں بیٹھے کسی برج نے اس کی قربانیوں اور محنت کا اعتراف کیا بلکہ اس کی بدولت سیاسی چماٹوں ( جو ہر صاحب اقتدار کیساتھ مخلص ہوتے ہیں) نے بھرپور فائدہ اٹھایا،
خیر بات کسی اور طرف نکل پڑی ہے میں اکرام جٹ اور اس کے والد چچا رمضان (جو خود پاک آرمی میں کھلاڑی تھے) کو مبارکباد دیتا ہوں، کیونکہ ان کا بیٹا سوشل میڈیا کیساتھ کرکٹ کے گراؤنڈ میں بھی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، گزشتہ دنوں لاہور قلندرز کے ٹرائلز کے دوران اکرام نے لیول تھری تک پہنچ کر جو کامیابی حاصل کی ہے، وہ کسی بھی نوجوان کا خواب ہوتا ہے، محدود وسائل اور لامحدود مسائل کیساتھ اتنے بڑے لیول پر جا کر سلیکٹ ہونا بہت بڑی کامیابی ہے، اکرام اور اس کی فیملی کو اس کامیابی کیلئے جتنی مبارکباد دی جائے کم ہے

،مبارکباد کیساتھ بڑا بھائی ہونے کے ناطے اسے اتنا کہوں گا کہ سب سے پہلے اپنا فوکس تعلیم پر کرو، اور اگر کرکٹ میں اس مقام تک پہنچ گئے ہو تو اب اس کو کیری آن کرو اور جو مشورے لاہور قلندرز کے کوچز نے دئیے ہیں، ان پر عمل کرو اور اپنی ٹیکنیک پر مزید کام کرو، کامیاب ہونے کیلئے کرکٹ کو ہی ذہن میں رکھو اگر اس پر بار کامیابی نہیں ملی تو اس کو پہلی بال سمجھو ابھی تمہارے پاس پانچ بالیں باقی ہیں اور اگر پہلی پانچ بالز بھی مس ہو جائیں تو مایوس نہ ہونا، کیونکہ جو چھکا آخری بال پر لگتا ہے،وہ پورے میچ کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیتا ہے
اور زندگی میں اپنے آپ کو اپنا حریف سمجھنا

تمہاری کامیابی کیلئے ایک بار پھر بہت مبارکباد
خوش رہو خوب محنت کرو اور جو تقدیر تم سوشل میڈیا اور اپنی کم عمری کی وجہ سے نہیں بدل پائے اس کو کرکٹ میں کامیاب ہو کر بدل ڈالو

19/08/2025

للہ جہلم روڈ لوگوں کی زندگیاں نگلنے لگا
کیا مریم بی بی لاہور کی وزیر اعلٰی ہیں
سرگودھا اور منڈی بہاؤالدین کے نمائندے جہلم کے لوگوں کی مدد کریں












30/05/2025

وزیراعظم شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ کے لیے چار دن کی چھٹیوں کی منظوری دے دی، ملک بھر میں جمعہ سے پیر تک (6 تا 9 جون) عید کی تعطیلات رہیں گی

08/05/2025

‏لاہور واہگہ بارڈر اور اسکے گردو نواح دھماکوں کی آواز سے گونج اٹھے

پورے پاکستان میں بھارتی ڈورنز گرائے جا رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر

06/05/2025

تحریر محسن رضا

مودی کی باریک وارداتیں

انڈیا میں جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے اور نریندر مودی وزیراعظم بنے ہیں تب سے انڈیا پاکستان تعلقات کشیدہ سے کشیدہ ہو رہے ہیں،پہلی ٹرم میں مودی پاکستان کیلئے خطرناک جبکہ انڈیا کیلئے مضبوط لیڈر بن کر ابھرے کیونکہ انڈیا کی سفارتی کوششوں سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں چلا گیا، جس سے اکانومی کو فل سٹاپ لگا، اس کے بعد مودی نے اُڑی حملہ کروا کے پاکستان کیلئے بارڈر گرم کیا اور لوک سبھا میں پاکستان کیساتھ مشترکہ معاملات پر قانون سازی کی، یہ مودی کی جارحانہ حکمت عملی کا آغاز تھا، جس میں اس نے اپنے شہریوں کو مروا کر ان کی لاشوں کو پاکستان کیخلاف استعمال کیا، 2019 میں پلوامہ حملے کا ڈرامہ رچایا اور انڈیا نے فالس فلیگ آپریشن کرکے خود ہی اپنے تین درجن سے زائد فوجی جوان مار دئیے، اور بغیر کسی تحقیق و تفتیش گودی میڈیا اور مودی سرکار نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگا کر ایک بار پھر بارڈر گرم کر دیا، اور پاکستان حسب روایت عسکری سطح پر اپنا دفاع کرنے میں کامیاب ہوا، اور مودی کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا، لیکن پلوامہ ڈرامے کے بعد مودی نے کشمیر کے معاملے پر انتہائی باریک واردات ڈالی اور پاکستان کو دائیں دکھا کر بائیں ماری گئی،5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا۔جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی اور مودی سرکار نے اسے دو مرکزی زیرِ انتظام علاقوں (Union Territories) میں تقسیم کر دیا،جبکہ اس معاملے پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود تھیں مگر پاکستان احتجاج کے علاوہ کچھ نہ کر سکا اور مودی نے طاقت کے زور پر کشمیر میں مصنوعی طریقے سے حالات نارمل کرلئے، پلوامہ فالس فلیگ آپریشن کا پاکستان کو شدید نقصان ہوا،کیونکہ ایک طرف ملک خداداد کو عالمی سطح الزامات کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری طرف کشمیر کے حوالے سے سفارتی سطح پر بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ ہو سکے اور بغیر کسی حل کے دونوں ممالک کے حالات معمول پر آ گئے، پلوامہ ڈرامے کے بعد مودی نے پاکستان مخالف کاروائیوں کے نام پر ووٹ لئے اور مودی پھر سے وزیر اعظم بنے اور نئی سازش رچنے کی تیاریاں کیں لیکن اندورونی معاملات کی خرابی باعث کوئی بڑا ایڈونچر نہ کر سکے،لیکن تیسری ٹرم میں مودی نے پلوامہ ٹو کیا اور 26 اپریل کو کشمیر میں پہلگام کے مقام پر اپنے ہی لوگوں کیخلاف ایک اور فالس فلیگ آپریشن کرکے دو درجن سیاح مار دئیے اور ایک بار پھر اس وقوعہ کا سارا الزام بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے پاکستان پر لگا کر اس کے خلاف الزام تراشی شروع کر دی، اس سارے کھیل میں گودی میڈیا نے حسب روایات طبل جنگ بجا دیئے اور مودی سرکار نے یہاں بھی باریک واردات ڈالتے ہوئے سندھ طاس معاہدے سمیت کئی عالمی معاملات معطل کر دئیے، یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں پر بھی انٹرنیشنل آرگنائزیشن ورلڈ بینک اس معاہدے میں ثالثی فریق ہے، اور پاکستانی سیاسی قیادت میڈیا پر کہتی رہی کہ انڈیا سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل نہیں کر سکتا اور ہمیشہ کی طرح دفاعی پوزیشن لی،لیکن بھارت نے دریائے چناب کا پانی روک کر عملی قدم اٹھا لیا اور اب بھارت کا اگلا ہدف کشن گنگا ڈیم سے دریائے جہلم کا پانی روکنا ہے۔پاکستان میں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ جان لیں حضور بھارت نے بگلیہار ڈیم کے اسپل ویز بند کردیے ہیں،مودی نے پاکستان کے پانی کیساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہے اور یہ صورتحال مستقبل قریب میں انسان زندگی کے بحران کو جنم دے گی۔ آپ اس چیز کیلئے تیار نہیں تھے نہ ہیں لیکن پوری دنیا اس بات سے آگاہ تھی کہ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں کے پانی پر مودی کی نیت خراب ہے، جسے پورا کرنے کیلئے اسکے پاس کوئی جواز نہ تھا، لیکن پہلگام ڈرامہ رچا کراس نے جواز پیدا کر لیا اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے اس نے اپنے ارداے ظاہر کر دئیے ہیں،دریائے چناب پر بنے بگلیہار ڈیم میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش 0.32 ملین ایکڑ فٹ ہے اور سندھ طاس معاہدہ معطل ہونے کے بعد بھارت بگلیہار ڈیم کی توسیع کا ارادہ رکھتا ہے، اب حکومت پاکستان کو بھی چاہئے کہ فوڈ سیکورٹی کیلئے دریاؤں پر زیادہ سے زیادہ ڈیم تعمیر کرے، تاکہ ہر سال سیلابوں کی شکل میں آنے والا لاکھوں ایکڑ فٹ پانی آبپاشی کیلئے استعمال میں لایا جاسکے۔کیونکہ یہ 24کروڑ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے، دوسری طرف پاکستان سیاسی اور سفارتی سطح پر بھارت کیخلاف بھرپور مزاحمت کرے۔ورلڈ بینک اور عالمی عدالت انصاف سمیت تمام فورمز اپنے کیس کو موثر انداز میں لڑے اور تاکہ وہ انڈیا کو مجبور کریں کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو اپنی اصل شکل میں بحال رہنے دے اور سب سے بڑھ کر پاکستان انڈیا کو مشرقی دریاؤں پر مزید ڈیم بنانے سے روکے کیونکہ اسی میں پاکستان کے عوام کی بقا ہے اور یہ سیاسی لیڈران کا تاریخی امتحان ہے۔کیونکہ ابھی تک مودی باریک وارداتیں ڈال کر انڈیا کو مسلسل کامیابیاں دلوا رہا ہے۔

28/01/2025

ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر منتخب ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا ہے،انہوں نے منصب سنبھالنے سے قبل پوری دنیا کو تڑیاں لگائیں خاص طور پر چائنہ کیساتھ اکنامک وار شروع کرنے کا اعلان کیا، ٹرمپ نے چائنیز مصنوعات پر سو فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کیا تھا،جس کے جواب میں چائنہ نے چیٹ جی پی ٹی کے متبادل کے طور پر ڈیپ سیک ایپ لانچ کی ہے،جس کے لانچ ہوتے ہی امریکہ کو چوبیس گھنٹوں میں ایک ہزار ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے،اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلاب برپا ہو گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیپ سیک کی کامیابی میں جہاں اس کے بانی لیانگ وینفینگ کا کردار ہے، وہیں چائنیز گورنمنٹ بھی خراج تحسین کی مستحق ہے،جنہوں نے اسے تمام سہولیات میسر کیں،جس کے بعد اس نے ٹیکنالوجی میں اس کے سب سے بڑے حریف کو شکست کیساتھ ہزار ارب ڈالر کا نقصان پہنچا کر چائنیز ترجیحات بتا دیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف پاکستان کی بات کریں تو الحمدللہ یہاں ٹیکنالوجی سب سے قومی سلامتی کا مسئلہ بنتی ہے،انٹرنیٹ بند کرنا یہاں حکمرانوں کا اولین مشغلہ ہے اور اگر کوئی ٹیکنالوجی پہ کام کرتا ہے تو ایف بی آر اور نیب اس سے پوچھ لیتے ہیں کہ تمہارے پاس ڈالر کہاں سے آئے،اور یہاں انٹرنیٹ جو ان کامیابیوں کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے وہ اتنا سست ہے کہ ایتھوپیا اور سوڈان بھی اس سے بہتر ہیں
۔۔۔۔۔۔
اگر عام آدمی کی بات کریں تو پاکستان میں سب سے بڑی ٹیکنالوجی ٹک ٹاک ہے جہاں ایک ماہ کے بچے سے لے کر اسی سال کی نانی اور نوے سال کے بزرگ تک سبھی ٹھمکے لگا کر قوم کو محظوظ کر رہے ہیں۔

27/12/2024

وزارت خزانہ کے مطابق جولائی تا نومبر 2024 کے پانچ ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں صفر اعشاریہ 02 فیصد کا اضافہ ہوا۔ یعنی نہ ہونے کے برابر! معاشی ترقی؟؟

26/12/2024

‏ضلع شانگلہ میں کروڑا ہائیڈرو پاور پلانٹ 4.6 بلین روپے کی لاگت سے خیبر پختونخوا حکومت نے تعمیر کیا ہے۔ سستے نرخوں پر 11.8 میگا واٹ صاف بجلی پیدا کرنے والے اس منصوبے سے مقامی کمیونٹیز کو فائدہ پہنچے گا اور سالانہ تقریباً 720 ملین روپے کی آمدنی ہوگی۔

24/12/2024

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 2024 میں وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں 4 ہزار 632 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

Address

Naqsha Stop Plot 9/29 Lahore
Lahore
54870

Telephone

+923405157495

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mohsin Raza Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mohsin Raza Khan:

Share