Mohsin Raza Khan

Mohsin Raza Khan Social activist,journalist,secular,humanist,liberal,writer,book and newspaper reader.

بیرل کیا ہوتا، اس وقت تیل کتنے کا ہونا چاہیے تھا بیرل ایک معاشی اور تجارتی پیمانہ ہے،جوآج سے تقریباً 6 صدیاں قبل استعمال...
19/06/2026

بیرل کیا ہوتا، اس وقت تیل کتنے کا ہونا چاہیے تھا

بیرل ایک معاشی اور تجارتی پیمانہ ہے،جوآج سے تقریباً 6 صدیاں قبل استعمال ہونے والے لکڑی کے ڈبوں کو دیا جاتا تھا جنہیں برطانوی لوگ الکوحل ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال کرتے تھے اور ان کا استعمال 19 ویں صدی تک جاری رہا۔ ایک بیرل کا حجم تقریباً 42 گیلن کے برابر ہوتا ہے اور اس کیو جہ یہ تھی کہ اتنے وزن کے مائع کو ایک شخص بآسانی اٹھا سکتا تھا،انیسویں صدی میں امریکی ریاست پنسلوانیا میں جب تیل کی نقل و حمل کا کاروبار پھیلا تو روایتی بیرل کو تیل کیلئے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ پیٹرولیم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے 1882ءمیں اسے بطور معیار اپنا لیا جس کے بعد یہ ساری دنیا میں خام تیل کے پیمانے کے طور پر استعمال ہونے لگا جو خاص طور پر تیل کی صنعت میں استعمال ہوتا ہے،اور اگر ایک گیلن کی بات کریں تو گیلن بھی حجم ناپنے کی ایک اکائی ہے،دنیا میں گیلن کی دو مشہور اقسام استعمال ہوتی ہیں،پہلی امریکی گیلن دوسری برطانوی گیلن،لیکن تیل کی صنعت میں عام طور پر امریکی گیلن استعمال کیا جاتا ہے،ایک امریکی گیلن میں تقریباً 3.78 لیٹر مائع آتا ہے، اب اگر ایک بیرل میں 42 امریکی گیلن ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک بیرل میں تقریباً 159 لیٹر تیل موجود ہوتا ہے، اگر ہم عالمی مارکیٹ کے حساب سے تیل کی موجودہ قیمتوں کا موازنہ کریں تو ایک بیرل تقریبا75 ڈالر کا سیل ہو رہا ہے، اور پاکستان میں ایک ڈالر 280 روپے کے برابر ہے تو اس حساب سے ایک بیرل کی قیمت تقریباً 21,000 روپے بنتی ہے، چونکہ ایک بیرل میں تقریباً 159 لیٹر تیل ہوتا ہے، اس لیے خام تیل کی فی لیٹر قیمت تقریباً 132 روپے بنتی ہے،اب اگر اس میں ریفائننگ کی لاگت شامل کی جائے تو عالمی سطح پر ایک بیرل کو پیٹرول یا ڈیزل میں تبدیل کرنے کی اوسط لاگت 5 سے 10 ڈالر فی بیرل ہوتی ہے۔ جو پاکستانی کرنسی میں تقریبا 1400 سے 2800 روپے بنتی ہے،جب اسے فی لیٹر حساب میں تقسیم کیا جائے تو یہ تقریباً 9 سے 18 روپے فی لیٹر کے درمیان بنتی ہے،اس طرح خام تیل اور ریفائننگ دونوں کو ملا کر ایک لیٹر پیٹرول کی اصل پیداواری لاگت تقریبا140 سے 150 روپے فی لیٹر بنتی ہے، لیکن گورنمنٹ اس میں لیوی اور دیگر ٹیکس شامل کرکے عوام کو ڈبل قیمت میں بیچ رہی ہے

11/04/2026

پاکستان نے کتنے عالمی تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کیا؟

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں، بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں اس نے بڑی طاقتوں کو میز پر بٹھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی 1971 میں اس وقت سامنے آئی جب اس نے دنیا کے دو بڑے حریفوں، امریکا اور چین کو قریب لانے میں مدد دی۔ جولائی 1971 میں پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان دہائیوں سے منقطع سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے ایک ایسا خفیہ اور سنسنی خیز مشن سرانجام دیا جو کسی فلمی کہانی سے کم نہ تھا۔
اس مشن کے مرکزی کردار امریکی صدر رچرڈ نکسن کے مشیر برائے قومی سلامتی ہنری کسنجر تھے، جن کے بیجنگ کے سفر کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے صدر یحییٰ خان نے نہایت محتاط منصوبہ ترتیب دیا۔ 1971 میں چین اور امریکا دونوں ہی اپنی سیاسی اور تزویراتی مجبوریوں کے باعث ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے تھے، مگر بیس سالہ دشمنی کی وجہ سے براہِ راست رابطہ مشکل تھا۔
ہنری کسنجر نے جولائی 1971 میں اسلام آباد کا سرکاری دورہ کیا، جہاں سے انہیں خفیہ طور پر بیجنگ روانہ ہونا تھا۔ ان کی اسلام آباد میں عدم موجودگی کو چھپانے کے لیے یہ خبر پھیلائی گئی کہ وہ سخت تھکن اور آم کھانے کی وجہ سے طبیعت ناساز ہونے پر نتھیا گلی کے ریسٹ ہاؤس میں آرام کر رہے ہیں، جبکہ نتھیا گلی میں ان کا ایک ہم شکل اسسٹنٹ پروٹوکول کے ساتھ ٹھہرایا گیا تھا۔ پاکستان نے اس خبر کو چھپانے اور بین الاقوامی دباؤ سے بچنے کے لیے ایسے ڈاکٹر سے، جو کسنجر کو پہچانتا تھا، ان کے ہم شکل کا معائنہ بھی کرایا۔
اس دوران کسنجر پی آئی اے کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے، جس کا عملہ بھی اس مشن سے بڑی حد تک بے خبر تھا، شاہراہِ قراقرم کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے بیجنگ پہنچے اور چینی وزیرِ اعظم چو این لائی سے تاریخی ملاقات کی۔ اس کامیاب خفیہ دورے کے بعد صدر نکسن نے 15 جولائی 1971 کو دنیا کو اس مشن سے آگاہ کیا اور اگلے سال خود چین کا دورہ کیا، جس سے شنگھائی اعلامیہ اور بالآخر 1979 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات کی راہ ہموار ہوئی۔
اس اہم پیش رفت نے امریکا اور چین کے درمیان سرد جنگ کے عالمی تناظر کو بدل کر رکھ دیا، جس سے نہ صرف چین بلکہ امریکا اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی میں بھی کمی آئی۔ پاکستان نے اس عظیم سفارتی خدمت کے ذریعے عالمی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔
پاکستان نے نہ صرف چین اور امریکا کے تعلقات کو معمول پر لانے میں کردار ادا کیا بلکہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 2020 کے تاریخی دوحہ معاہدے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ امریکا دو دہائیوں سے افغانستان میں الجھا ہوا تھا، لیکن پاکستان نے مؤثر سفارتکاری کے ذریعے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کی اور ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف تاریخی معاہدہ کروایا بلکہ افغانستان سے امریکی افواج کے پرامن انخلا میں بھی اہم کردار ادا کیا، جسے امریکی انتظامیہ جنگی تاریخ میں کسی بھی فوج کے پرامن انخلا کی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے۔
امریکا، چین اور افغانستان کے مذاکرات کے علاوہ پاکستان نے شمالی اور جنوبی کوریا کے تنازع میں بھی کردار ادا کیا۔ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریا جنگ دراصل سرد جنگ کی ایک بڑی پراکسی وار تھی، جس نے کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس جنگ میں شمالی کوریا کو سوویت یونین اور چین کی حمایت حاصل تھی، جبکہ جنوبی کوریا کو امریکا اور اقوام متحدہ کی پشت پناہی حاصل تھی۔
پاکستان نے جنوبی کوریا پر سے شمالی کوریا کا قبضہ چھڑانے، امن فوج کی تعیناتی اور جنگی قیدیوں کی بحفاظت واپسی میں جو کردار ادا کیا، اسے آج بھی کوریا کی تاریخ میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ 1953 میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، لیکن دونوں ممالک کے درمیان تناؤ آج بھی برقرار ہے۔
1947 میں قائم ہونے والے پاکستان نے ابتدا ہی سے مغربی بلاک کے ساتھ اتحاد کیا اور سرد جنگ کے دباؤ کے باوجود کوریا میں اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کی۔ 1950 میں اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے جنوبی کوریا کے حق میں اقوام متحدہ کی کارروائی کا ساتھ دے کر کمیونسٹ پھیلاؤ کے خلاف امریکی مؤقف کی تائید کی، جس سے پاکستان کے امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان 1954 میں سیٹو اور 1955 میں سینٹو جیسے اہم معاہدوں کا حصہ بنا۔
اس کے علاوہ 1970 کی دہائی سے پاکستان نے شمالی کوریا کے ساتھ ایک علیحدہ سیکیورٹی شراکت داری قائم کی۔ 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورۂ شمالی کوریا سے اس تعلق کا آغاز ہوا، جو 1990 کی دہائی میں میزائل ٹیکنالوجی کے تبادلے کے الزامات کی صورت میں زیرِ بحث رہا۔
ان پیچیدہ دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان نے جنوبی کوریا کے ساتھ بھی مضبوط تجارتی اور سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ یوں پاکستان کی خارجہ پالیسی کوریائی تنازع کے حوالے سے تزویراتی مفادات، دفاعی ضروریات اور تجارتی تعلقات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ایک مسلسل کوشش رہی ہے۔
سعودی عرب نے 2016 میں سفارتی تنصیبات پر مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کم کر دیے تھے۔ پاکستان اور چین نے مسلسل کئی سال تک دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کروانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پل کا کردار ادا کیا۔ پاکستان نے کئی مواقع پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتکاری اور کشیدگی کم کروانے کے لیے اقدامات کیے، جس کے بعد مارچ 2023 میں پاکستان اور چین کی مشترکہ کاوشوں سے دونوں ممالک نے نہ صرف تعلقات بحال کیے بلکہ اپنے اپنے سفارت خانے بھی دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔

Address

Naqsha Stop Plot 9/29 Lahore
Lahore
54870

Telephone

+923405157495

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mohsin Raza Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mohsin Raza Khan:

Shortcuts

Share