Risen Graphics

Risen Graphics "Uncover the past with me! This page is dedicated to exploring history, culture, and forgotten stories through engaging videos and posts."

I am a creative and skilled professional graphic designer with a passion for visual storytelling. With extensive experience in the field, I excel in crafting innovative designs that captivate audiences. My expertise spans from conceptualization to execution, ensuring effective communication through stunning visuals. I stay updated with industry trends, ensuring my designs are fresh and contemporary. My goal is to deliver exceptional designs that exceed client expectations.

کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں تاریخ بار بار لوٹ کر آتی ہے، جیسے وقت خود وہاں فیصلہ لینے آتا ہو، اور پانی پت انہی مقامات ...
20/12/2025

کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں تاریخ بار بار لوٹ کر آتی ہے، جیسے وقت خود وہاں فیصلہ لینے آتا ہو، اور پانی پت انہی مقامات میں سے ایک ہے۔
برصغیر کی تاریخ میں شاید ہی کوئی میدان ایسا ہو جس نے تین صدیوں کے وقفے میں تین مختلف طاقتوں کے عروج و زوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ پانی پت کا میدان محض مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ اقتدار، حکمتِ عملی، داخلی کمزوری اور بیرونی طاقت کے ٹکراؤ کی زندہ مثال ہے۔ یہاں لڑی جانے والی تینوں جنگیں الگ الگ دور کی کہانیاں ہیں، مگر ان کے اسباب اور نتائج ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

پہلی جنگِ پانی پت سن 1526 عیسوی میں اس وقت لڑی گئی جب دہلی سلطنت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ لودھی خاندان کے آخری سلطان ابراہیم لودھی ایک بڑا لشکر رکھتا تھا مگر سیاسی بصیرت اور داخلی اتحاد سے محروم تھا۔ افغان امرا اس سے ناراض تھے، صوبائی گورنر بغاوت پر آمادہ تھے اور دربار اندرونی سازشوں کا شکار تھا۔ اسلامی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی ریاست کا زوال باہر سے کم اور اندر سے زیادہ شروع ہوتا ہے، اور لودھی سلطنت اس کی واضح مثال بن چکی تھی۔

اسی دوران وسط ایشیا سے ظہیرالدین محمد بابر کی صورت میں ایک ایسا حکمران ابھرا جو شکستوں سے سیکھ چکا تھا۔ سمرقند اور فرغانہ میں ناکامیوں کے بعد بابر نے کابل کو مضبوط کیا اور برصغیر کی سیاسی کمزوریوں کو بغور دیکھا۔ بابر کوئی جذباتی حملہ آور نہیں تھا، بلکہ وہ جنگی حکمتِ عملی، جدید اسلحے اور نظم و ضبط پر یقین رکھتا تھا۔ خود بابرنامہ میں وہ ہندوستان کی دولت، زمین اور سیاسی انتشار کا ذکر کرتا ہے اور یہی چیزیں اسے یہاں مستقل اقتدار قائم کرنے کی طرف لے آئیں۔

21 اپریل 1526 کو پانی پت کے میدان میں دو مختلف زمانے آمنے سامنے تھے۔ ایک طرف روایتی جنگی انداز، ہاتھیوں اور تعداد پر بھروسا کرنے والی فوج تھی، اور دوسری طرف توپ خانے، منظم صف بندی اور جدید حکمتِ عملی سے لیس ایک چھوٹی مگر مؤثر فوج۔ اسلامی تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ بابر نے پہلی بار برصغیر میں توپوں کا فیصلہ کن استعمال کیا۔ توپوں کی گھن گرج نے نہ صرف ابراہیم لودھی کے ہاتھیوں کو بدکایا بلکہ اس کی فوج کا نظم بھی توڑ دیا۔ جنگ چند گھنٹوں میں فیصلہ کن رخ اختیار کر گئی اور ابراہیم لودھی میدانِ جنگ میں مارا گیا۔ اس کے ساتھ ہی دہلی سلطنت کا ایک باب بند ہوا اور مغلیہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔

مگر تاریخ یہیں نہیں رکی۔ بابر کے بعد ہمایوں آیا، جسے اندرونی بغاوتوں اور افغان سردار شیر شاہ سوری کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمایوں کی عارضی ناکامی نے یہ ثابت کر دیا کہ فتح کے بعد ریاست کو سنبھالنا فتح سے کہیں زیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔ مگر تقدیر نے مغلوں کے لیے ایک اور موقع محفوظ کر رکھا تھا۔

سن 1556 عیسوی میں دوسری جنگِ پانی پت اس وقت لڑی گئی جب مغلیہ سلطنت دوبارہ نوزائیدہ حالت میں تھی۔ ہمایوں کی وفات کے بعد اس کا بیٹا اکبر تخت پر بیٹھا، مگر اس وقت اس کی عمر بہت کم تھی اور سلطنت اصل میں اس کے سرپرست بیرم خان کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری طرف ہندو جرنیل ہیمو، جو سور خاندان کا طاقتور سپہ سالار تھا، دہلی پر قبضہ کر چکا تھا اور خود کو راجہ وکرماجیت کہلوانے لگا تھا۔ یہ مغلوں کے لیے ایک نازک لمحہ تھا، کیونکہ اگر اس وقت شکست ہو جاتی تو شاید مغلیہ سلطنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی۔

پانی پت کے میدان میں ایک بار پھر فیصلہ ہونا تھا۔ ہیمو کی فوج تعداد میں زیادہ تھی اور اس نے ابتدائی مرحلے میں مغل لشکر کو سخت نقصان پہنچایا۔ اسلامی تاریخ بیان کرتی ہے کہ جنگ کے دوران ایک تیر ہیمو کی آنکھ میں لگا، جس سے وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ اس ایک لمحے نے پوری جنگ کا رخ بدل دیا۔ ہیمو کی گرفتاری اور اس کے بعد اس کی موت نے اس کی فوج کے حوصلے توڑ دیے اور مغل فتح یاب ہو گئے۔ دوسری جنگِ پانی پت نے اکبر کے لیے دہلی کا راستہ کھولا اور اسی فتح کی بنیاد پر اکبر نے آگے چل کر ایک مضبوط، منظم اور طویل المدت سلطنت قائم کی۔

دو جنگوں کے بعد پانی پت ایک بار پھر خاموش ہو گیا، مگر تاریخ نے اس میدان کو بھلایا نہیں۔ تقریباً دو سو سال بعد، سن 1761 عیسوی میں، تیسری جنگِ پانی پت نے برصغیر کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔ اس وقت مغلیہ سلطنت نام کی حد تک باقی تھی۔ دہلی میں بادشاہ موجود تھا مگر اصل طاقت اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ صوبائی خودمختاری، درباری سازشیں اور کمزور قیادت نے مغلوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ اس خلا کو مرہٹوں نے پُر کیا، جو دکن سے نکل کر شمالی ہندوستان تک پھیل چکے تھے اور دہلی کے تخت پر اثر انداز ہو رہے تھے۔

مرہٹوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے نہ صرف مقامی مسلم حکمرانوں کو پریشان کیا بلکہ مذہبی، سیاسی اور سماجی سطح پر بھی شدید بے چینی پیدا کر دی۔ انہی حالات میں افغانستان کے حکمران احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان کا رخ کیا۔ اسلامی تاریخ میں احمد شاہ ابدالی کو ایک سخت مگر حقیقت پسند حکمران کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو مرہٹہ طاقت کو ایک خطرے کے طور پر دیکھ رہا تھا۔

14 جنوری 1761 کو پانی پت کے میدان میں شاید تاریخ کی سب سے خونریز جنگ لڑی گئی۔ دونوں طرف لاکھوں کی تعداد میں فوجیں تھیں۔ یہ جنگ صرف توپوں اور تلواروں کی نہیں بلکہ برداشت، رسد اور صبر کی جنگ تھی۔ مرہٹہ فوج دور دراز سے آئی تھی اور رسد کی شدید قلت کا شکار تھی، جبکہ احمد شاہ ابدالی نے مقامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنی پوزیشن مضبوط کر رکھی تھی۔ کئی گھنٹوں کی شدید لڑائی کے بعد مرہٹہ فوج مکمل طور پر ٹوٹ گئی اور ہزاروں سپاہی مارے گئے۔ اس جنگ نے مرہٹوں کے شمالی ہندوستان میں پھیلاؤ کو روک دیا، مگر ساتھ ہی مغلیہ سلطنت کو بھی کوئی حقیقی فائدہ نہ پہنچا، کیونکہ وہ اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ کسی فتح کو اپنے حق میں استعمال نہ کر سکی۔

تینوں جنگِ پانی پت ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہیں کہ تاریخ میں صرف بہادری کافی نہیں ہوتی۔ ریاستیں اندر سے مضبوط ہوں تو باہر کے طوفانوں کا مقابلہ کر لیتی ہیں، اور جب اندر سے ٹوٹ جائیں تو ایک دھکا بھی انہیں زمین بوس کر دیتا ہے۔ پانی پت نے لودھیوں کا خاتمہ دیکھا، مغلوں کا عروج دیکھا، پھر مغلوں کی بے بسی اور مرہٹوں کا زوال بھی دیکھا۔ یہ میدان گواہ ہے کہ اقتدار ہمیشہ عارضی ہوتا ہے، مگر فیصلے ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔

پانی پت کی جنگیں نہ افسانہ ہیں، نہ رومان، بلکہ طاقت، سیاست اور انسانی غلطیوں کی وہ حقیقت ہیں جو بار بار دہرائی جاتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ دان پانی پت کو محض ایک مقام نہیں بلکہ ایک علامت سمجھتے ہیں، ایسی علامت جو یہ یاد دلاتی ہے کہ جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں، تاریخ انہیں بار بار اسی میدان میں لا کھڑا کرتی ہے۔

---

حوالہ جات (References):
امیر خسرو — خزائن الفتوح
زیاالدین برنی — تاریخِ فیروز شاہی
بابر — بابرنامہ
عبدالقادر بدایونی — منتخب التواریخ
ابوالفضل — اکبرنامہ
جدو ناتھ سرکار — History of Aurangzib
اسٹیون ڈیل — Babur: Founder of the Mughal Empire

#سلجوق ゚ #ملازکرد #پانی

تاریخ کو کہانی بنانے میں ایک لمحہ لگتا ہے، مگر کہانی کو تاریخ مان لینے میں صدیاں گزر جاتی ہیں۔چتوڑ کی جنگ بھی انہی واقعا...
19/12/2025

تاریخ کو کہانی بنانے میں ایک لمحہ لگتا ہے، مگر کہانی کو تاریخ مان لینے میں صدیاں گزر جاتی ہیں۔
چتوڑ کی جنگ بھی انہی واقعات میں سے ایک ہے جسے وقت کے ساتھ عشق، آئینے اور افسانے کی چادر اوڑھا دی گئی، حالانکہ اسلامی اور مستند تاریخی ماخذ اس جنگ کو طاقت، سیاست اور ریاستی بقا کی ایک سخت حقیقت کے طور پر بیان کرتے ہیں، نہ کہ کسی عورت یا ذاتی خواہش کی داستان کے طور پر۔

چتوڑ کی جنگ کو صدیوں سے ایک رومانوی داستان بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے، مگر اگر ہم اسلامی اور مستند تاریخی ماخذ کی روشنی میں دیکھیں تو یہ جنگ کسی عورت، حسن یا ذاتی خواہش کی نہیں بلکہ طاقت، سیاست اور ریاستی بقا کی ایک سخت اور خونریز حقیقت تھی۔ سن 1303 عیسوی کا ہندوستان ایک نازک دور سے گزر رہا تھا۔ شمال سے منگول حملوں کا خطرہ مسلسل موجود تھا اور اندرونِ ملک مضبوط خودمختار ریاستیں سلطنتِ دہلی کے لیے مستقل چیلنج بنی ہوئی تھیں۔ ایسے حالات میں علاءالدین خلجی جیسا حکمران، جو جذبات سے زیادہ حساب کتاب پر یقین رکھتا تھا، اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے میں مصروف تھا۔

علاءالدین خلجی 1296 میں تخت پر بیٹھا اور بہت کم عرصے میں اس نے واضح کر دیا کہ وہ محض ایک نام کا سلطان نہیں بلکہ مکمل اختیار چاہتا ہے۔ اس نے فوج کو منظم کیا، اناج کے ذخائر اور قیمتوں پر کنٹرول قائم کیا، جاگیرداروں اور امیروں کی طاقت توڑی اور سب سے بڑھ کر منگول حملوں کو شکست دے کر سلطنت کو بچایا۔ اسلامی مؤرخین جیسے امیر خسرو اور زیاالدین برنی علاءالدین کو ایک سخت، بعض اوقات ظالم، مگر انتہائی عملی حکمران قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق علاءالدین کی جنگیں ذاتی شوق نہیں بلکہ سیاسی ضرورت تھیں۔

چتوڑ اس وقت راجپوت طاقت کی علامت تھا۔ یہ قلعہ صرف ایک فوجی مرکز نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کا دارالحکومت تھا جو دہلی کی بالادستی قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔ چتوڑ کی جغرافیائی حیثیت بھی غیر معمولی تھی۔ یہ گجرات اور مالوا کے درمیان واقع تھا اور دہلی سلطنت کی مغربی فتوحات کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا تھا۔ گجرات کی فتح کے بعد علاءالدین کے لیے چتوڑ کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا کیونکہ جب تک یہ قلعہ آزاد رہتا، سلطنت کے تجارتی راستے اور فوجی نقل و حرکت غیر محفوظ رہتے۔

اسلامی تاریخ میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں ملتا کہ علاءالدین خلجی نے چتوڑ پر کسی عورت کے حسن کی وجہ سے حملہ کیا ہو۔ نہ امیر خسرو، جو خود اس مہم کے گواہ تھے، نہ برنی، اور نہ کسی اور ہم عصر مؤرخ نے ملکہ پدمنی یا کسی آئینے والی کہانی کا ذکر کیا۔ یہ تمام قصے دو سو سال بعد لکھے گئے ادبی متون میں ملتے ہیں جنہیں تاریخ نہیں بلکہ علامتی اور اخلاقی ادب سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے کسی سنجیدہ تاریخی تحقیق میں ان داستانوں کو بنیاد نہیں بنایا جاتا۔

1303 میں علاءالدین خلجی نے باقاعدہ فوجی تیاری کے ساتھ چتوڑ کا محاصرہ کیا۔ یہ محاصرہ چند دنوں یا ہفتوں کا نہیں بلکہ مہینوں پر محیط تھا۔ دہلی کی فوج کے پاس منجنیقیں، بھاری ہتھیار اور تربیت یافتہ سپاہی تھے، مگر قلعے کی مضبوطی اور راجپوتوں کی شدید مزاحمت نے اس جنگ کو طویل بنا دیا۔ اسلامی مؤرخین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ راجپوت بہادری سے لڑے اور دہلی کی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ کوئی آسان فتح نہیں تھی بلکہ صبر اور طاقت کا امتحان تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ قلعے کے اندر حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ خوراک کی قلت، پانی کی کمی اور بیماریوں نے مدافعین کو کمزور کر دیا۔ آخرکار دہلی کی فوج قلعے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی۔ فتح کے بعد قتل و غارت ہوئی، جو اس دور کی جنگی روایت کا حصہ تھی۔ اسلامی تاریخ قتلِ عام کا ذکر تو کرتی ہے مگر مخصوص اعداد و شمار بیان نہیں کرتی، کیونکہ قرونِ وسطیٰ کے مؤرخین کے لیے عددی تفصیل اتنی اہم نہیں ہوتی تھی جتنی واقعے کی نوعیت۔

جوہر کی روایت کا ذکر بعض تاریخی بیانات میں ملتا ہے، مگر اس کی تفصیلات، نام اور جذباتی منظر نگاری بعد کی روایات کا حصہ ہیں۔ اسلامی مؤرخین اس موضوع پر محتاط رہتے ہیں اور اسے ایک مقامی رسم کے طور پر بیان کرتے ہیں، نہ کہ کسی خاص کردار یا رومانوی واقعے کے طور پر۔

فتح کے بعد علاءالدین خلجی نے چتوڑ کو دہلی سلطنت کے زیرِ اثر کر دیا اور وہاں اپنا نمائندہ مقرر کر کے واپس دہلی چلا گیا۔ اگر یہ جنگ کسی ذاتی جذبے یا خواہش کی بنیاد پر ہوتی تو تاریخ میں اس کا ذکر بار بار ملتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ چتوڑ کی مہم علاءالدین کی دیگر فتوحات کی طرح ایک سیاسی اور عسکری قدم تھا۔

چتوڑ کی جنگ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تاریخ کو افسانے میں بدلنا آسان ہے، مگر حقیقت اکثر تلخ اور سادہ ہوتی ہے۔ علاءالدین خلجی کو فرشتہ بنانا درست نہیں اور نہ ہی اسے افسانوی عاشق بنا دینا انصاف ہے۔ وہ اپنے وقت کا حکمران تھا، اپنی سلطنت کے مفاد میں فیصلے کرنے والا ایک سخت انسان، جس کی جنگیں جذبات سے نہیں بلکہ طاقت کے توازن سے جڑی ہوئی تھیں۔

اصل تاریخ یہی ہے کہ چتوڑ کی جنگ عشق کی نہیں بلکہ اقتدار کی جنگ تھی، اور بعد کی نسلوں نے اسے کہانی بنا کر پیش کیا۔ تاریخ کو ادب سے الگ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ جب افسانہ تاریخ بن جائے تو سچ سب سے پہلے مارا جاتا ہے۔

یہ تحریر کسی جذبات کو بھڑکانے کے لیے نہیں بلکہ حقیقت کو اس کے اصل تناظر میں سمجھنے کے لیے ہے، تاکہ ہم تاریخ کو تعصب اور کہانیوں کے بجائے تحقیق اور عقل کی بنیاد پر دیکھ سکیں۔

゚ #ملازکرد #سلجوق #مغل #سلطنت #تاریخ

England was trembling when Elizabeth Tudor took the throne in 1558. The kingdom she inherited was poor, divided, and sur...
16/12/2025

England was trembling when Elizabeth Tudor took the throne in 1558. The kingdom she inherited was poor, divided, and surrounded by enemies who believed a woman could never rule with strength. Many in Europe expected her reign to fail quickly. Some even prayed for it. They saw a young woman on the throne — but they did not yet see the steel beneath the silk.

Elizabeth was the daughter of King Henry VIII and Anne Boleyn, a woman executed as a traitor. From birth, Elizabeth carried a stain that never left her. She was declared illegitimate, removed from the line of succession, and raised in uncertainty. As a child, she learned early that power was dangerous and trust could be fatal. When her half-sister Mary I became queen, Elizabeth was imprisoned in the Tower of London, accused of conspiracy. Many believed she would be executed. Elizabeth herself expected death. But she survived — and survival would become her greatest weapon.

When Elizabeth finally became queen, England stood at the edge of chaos. Catholics and Protestants hated each other, foreign powers threatened invasion, and the treasury was nearly empty. Elizabeth knew one mistake could cost her crown — or her life. Unlike many rulers, she did not rush into decisions. She listened. She waited. She calculated. Her silence often frightened her enemies more than threats.

Religion was her first test. Instead of choosing extremes, Elizabeth created a middle path. She restored Protestantism but avoided violent purges. To some Catholics, she was a heretic. To radical Protestants, she was too soft. Yet she understood something rare in rulers: unity mattered more than ideology. Peace, even fragile peace, was better than holy war.

Then came the question every court in Europe obsessed over — marriage. Kings offered alliances. Princes offered crowns. Advisors begged her to secure the succession. But Elizabeth refused. She saw marriage not as romance, but as a trap. A husband would demand power. A foreign king could control England through her. So she made a dangerous choice — she married no man, and instead married the throne.

She used the idea of marriage as a political weapon. She flirted with alliances, promised nothing, delayed endlessly. While Europe waited, England strengthened. Elizabeth remained the “Virgin Queen,” turning what was seen as weakness into legend. She crafted her image carefully — elegant, distant, almost divine. She wanted her people to see not a woman, but a symbol.

But her reign was far from gentle.

Plots followed her constantly. Catholic conspiracies aimed to replace her with Mary, Queen of Scots — a rival with a stronger claim and powerful supporters. Elizabeth hesitated for years, knowing that executing a fellow queen would shock Europe. But when evidence became undeniable, she signed the death warrant. Mary was executed in 1587. It was a political necessity — and a moral shadow that would follow Elizabeth forever.

Her greatest test came from Spain.

King Philip II, ruler of the most powerful empire on Earth, saw Elizabeth as a heretic queen who had to be destroyed. In 1588, he sent the Spanish Armada — a massive fleet meant to invade England and crush her rule. Europe expected England to fall.

Elizabeth rode among her soldiers before the battle, wearing armor over her dress. She spoke words that echoed through history: “I know I have the body of a weak and feeble woman, but I have the heart and stomach of a king.”

Against all odds, the Armada failed. Storms shattered Spanish ships. English tactics prevailed. It was not just a military victory — it was psychological. England no longer feared Europe. Europe began to fear England.

Under Elizabeth, England entered a cultural golden age. Shakespeare wrote. Exploration expanded. The foundations of the British Empire were laid. Yet behind the glory, Elizabeth ruled alone, aging, cautious, and increasingly isolated. Power had cost her companionship. Victory had cost her peace.

When she died in 1603, the nation mourned deeply. England was stronger, richer, and more confident than when she had taken the throne. But historians still argue about her legacy.

Was she a brilliant ruler who saved England from collapse?
Or a ruthless monarch who sacrificed lives and rivals to protect her power?

Perhaps she was both.

Queen Elizabeth I was not a saint. She was not a villain.
She was something far more dangerous — a survivor who learned how to rule in a world that wanted her dead.

History remembers her not because she was kind…
but because she endured.

دھوپ ابھی پوری طرح نکلی بھی نہ تھی کہ ترکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے کی گلی میں غلاموں کی منڈی سج چکی تھی۔ لوہے کی زنجیروں...
14/12/2025

دھوپ ابھی پوری طرح نکلی بھی نہ تھی کہ ترکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے کی گلی میں غلاموں کی منڈی سج چکی تھی۔ لوہے کی زنجیروں کی جھنکار، بچوں کی سسکیاں، اور تاجروں کی سرد آوازیں فضا میں گونج رہی تھیں۔ اسی ہجوم میں ایک کمزور مگر خاموش آنکھوں والا لڑکا کھڑا تھا۔ وہ خوفزدہ نہیں تھا، بس حیران تھا۔ اس کا نام قطب الدین تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ زنجیریں اسے ذلت کی طرف نہیں، بلکہ تاریخ کی طرف لے جا رہی ہیں۔

وہ کم عمری میں یتیم ہو چکا تھا۔ غربت نے اسے غلام بنا دیا۔ مگر قدرت نے اس غلام کے مقدر میں تخت لکھ رکھا تھا۔ ایک دن ایک امیر شخص نے اس لڑکے کو خریدا۔ یہ شخص تھا قاضی فخرالدین عبدالعزیز کوفی۔ قاضی نے غلام نہیں خریدا تھا، اس نے ایک مستقبل خریدا تھا۔ اس نے قطب الدین کو قرآن پڑھایا، فارسی سکھائی، گھڑ سواری سکھائی، تلوار تھمائی، اور سب سے بڑھ کر اسے وقار سکھایا۔ مگر قسمت ابھی اور موڑ رکھتی تھی۔

قاضی کے انتقال کے بعد قطب الدین دوبارہ غلاموں کی منڈی میں آیا۔ اس بار اسے خریدا سلطان شہاب الدین محمد غوری نے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ نے کروٹ لی۔ غوری نے قطب الدین کی آنکھوں میں وہ چیز دیکھی جو ہر فاتح پہچان لیتا ہے—خاموش بھوک۔ وہ بھوک جو عزت، طاقت اور مقصد کے لیے ہوتی ہے۔

غوری کے دربار میں قطب الدین صرف ایک غلام نہیں رہا۔ وہ آہستہ آہستہ سپہ سالار بننے لگا۔ اس کی تلوار تیز تھی، مگر اس کا دماغ اس سے بھی زیادہ تیز تھا۔ جب ہندوستان کی طرف لشکر بڑھا تو قطب الدین اگلی صفوں میں تھا۔ 1191 میں ترائن کی پہلی جنگ میں شکست ہوئی، مگر اس شکست نے اسے توڑا نہیں—اس نے اسے سکھایا۔ اگلے ہی سال، 1192 میں، ترائن کی دوسری جنگ میں اس نے وہ جنگی ترتیب دیکھی جس نے پرتھوی راج چوہان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

دہلی فتح ہوئی۔ اجمیر فتح ہوا۔ قنوج، بنارس، کالنجر… ایک ایک کر کے ہند کے قلعے گرتے گئے۔ لوگ حیران تھے کہ ایک غلام کیسے شہروں پر حکومت کر رہا ہے۔ مگر قطب الدین حکومت نہیں کر رہا تھا—وہ بنیاد رکھ رہا تھا۔ اس نے دہلی کو صرف فوجی مرکز نہیں بنایا، بلکہ انتظامی دارالحکومت بنایا۔ مقامی راجاؤں کو ختم نہیں کیا، بلکہ ان میں سے کئی کو ساتھ ملایا۔ وہ جانتا تھا کہ تلوار سے زمین لی جا سکتی ہے، مگر دل نہیں۔

اسی دوران دہلی کی زمین پر پہلی بار مینار کی بنیاد رکھی گئی—قطب مینار۔ یہ صرف اینٹوں کی عمارت نہیں تھی، یہ اعلان تھا کہ غلام اب غلام نہیں رہے۔ اسی کے ساتھ مسجد قوت الاسلام بنی۔ ایک نئی تہذیب نے جنم لینا شروع کیا، جو مقامی رنگ میں رنگی ہوئی تھی مگر اپنی پہچان رکھتی تھی۔

1206 میں شہاب الدین غوری کو قتل کر دیا گیا۔ سلطنت کا مرکز ہل گیا۔ غوری کے کئی غلام تھے—تاج الدین یلدز، ناصر الدین قباچہ، بہاؤ الدین تغرل—مگر ہندوستان میں صرف ایک نام طاقت بن چکا تھا: قطب الدین ایبک۔ اس نے خود کو سلطان کہا، مگر اس کے لہجے میں غرور نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ تخت تلوار سے نہیں، ذمہ داری سے آیا ہے۔

وہ غلام خاندان کا پہلا سلطان تھا۔ اسی لیے تاریخ نے اسے غلام خاندان (مملوک سلطنت) کا بانی کہا۔ اس نے خزانے جمع نہیں کیے، بلکہ بانٹے۔ شاعر اس کے دربار میں آتے، علما اس کے قریب ہوتے، فقرا اس کے دروازے سے خالی نہ لوٹتے۔ لوگ کہتے تھے:
“ایبک اتنا سخی ہے کہ ہاتھ میں جو ہو، دے دیتا ہے—اسی لیے اسے لاکھ بخش کہا جاتا ہے۔”

مگر قدرت نے اسے زیادہ وقت نہیں دیا۔ 1210 میں لاہور میں چوگان کھیلتے ہوئے اس کا گھوڑا پھسلا۔ سلطان زمین پر گرا۔ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ وہی غلام جو تخت پر بیٹھا تھا، زمین پر خاموش لیٹ گیا۔ چند لمحوں بعد اس کی سانس تھم گئی۔

نہ کوئی لمبی بیماری، نہ کوئی بغاوت—بس ایک لمحہ، اور تاریخ کا ایک باب بند ہو گیا۔

اس کے بعد جو سلطنت بنی، جو دہلی سلطنت کہلائی، وہ اسی غلام کی رکھی ہوئی بنیاد پر کھڑی ہوئی۔ التتمش آیا، رضیہ سلطانہ آئی، بلبن آیا—سب اسی درخت کی شاخیں تھے جس کا بیج ایک غلام نے بویا تھا۔

آج دہلی میں کھڑا قطب مینار صرف سیاحوں کی تصویر نہیں—وہ اعلان ہے کہ
طاقت نسب سے نہیں، کردار سے آتی ہے۔
سلطنت خون سے نہیں، صلاحیت سے بنتی ہے۔
اور کبھی کبھی تاریخ غلاموں کو بھی تاج پہنا دیتی ہے۔

━━━━━━━━━━
❤️ اگر یہ کہانی آپ کو پسند آئی ہو تو پیج Follow کریں، لائیک اور شیئر کریں…
اور سپورٹ کے لیے Stars ضرور بھیجیں۔

#سلجوق #عثمانیہ ゚ #ملازکرد

قسطنطنیہ کی دیواریں اپنی آج بھی اصل حالت میں          #عثمانیہ
13/12/2025

قسطنطنیہ کی دیواریں اپنی آج بھی اصل حالت میں

#عثمانیہ

مسجد آیا صوفیہ کا اندرونی منظر        #عثمانیہ
13/12/2025

مسجد آیا صوفیہ کا اندرونی منظر

#عثمانیہ

مسجد آیا صوفیہ کا بیرونی منظر        #عثمانیہ
13/12/2025

مسجد آیا صوفیہ کا بیرونی منظر

#عثمانیہ

داستانِ جنون: 21 سالہ فاتح اور قسطنطنیہ کی دیواریں وہ بشارت جس نے صدیوں کو بے چین رکھیہ کہانی کسی عام بادشاہ کی نہیں، یہ...
12/12/2025

داستانِ جنون: 21 سالہ فاتح اور قسطنطنیہ کی دیواریں

وہ بشارت جس نے صدیوں کو بے چین رکھ
یہ کہانی کسی عام بادشاہ کی نہیں، یہ کہانی ایک خواب کی ہے، ایک ایسی بشارت کی ہے جس نے صحرا نشینوں سے لے کر شہنشاہوں تک سب کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں۔
عرب کے ریگزاروں میں، مدینہ منورہ کی ٹھنڈی چھاؤں میں، پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی زبانِ مبارک سے چند الفاظ ادا ہوئے تھے۔ ان الفاظ میں زمانے کی گردش کو روکنے کی طاقت تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا:
"لتفتحن القسطنطينية فلنعم الأمير أميرها ولنعم الجيش ذلك الجيش"
(تم ضرور قسطنطنیہ (استنبول) کو فتح کرو گے، پس کیا ہی شاندار وہ امیر ہوگا اور کیا ہی شاندار وہ لشکر ہوگا!)
یہ صرف الفاظ نہیں تھے، یہ ایک منزل تھی۔ صحابہ کرامؓ سے لے کر بنو امیہ اور بنو عباس تک، ہر حکمران، ہر جرنیل کی یہ خواہش تھی کہ وہ "امیر" وہی بنے۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ جیسے جلیل القدر صحابی اسی شہر کی دیواروں کے سائے میں دفن ہونے کے لیے تشریف لائے۔ گیارہ سو سال تک یہ شہر ناقابلِ تسخیر رہا۔ اس کی دیواریں اتنی بلند اور مضبوط تھیں کہ کہا جاتا تھا انہیں صرف فرشتے ہی گرا سکتے ہیں۔ لیکن 1432ء میں، عثمانی سلطنت کے دارالحکومت ادرنہ (Edirne) میں ایک بچہ پیدا ہوا جس نے ان دیواروں کو جھکانے کی قسم کھائی تھی۔
باب اول: سرخ سیب کا خواب (بچپن اور تربیت)
30 مارچ 1432ء کو سلطان مراد دوم کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ نام رکھا گیا: محمد۔
شہزادہ محمد کا بچپن عام شہزادوں جیسا نہیں تھا۔ وہ ضدی، سرکش اور تنہائی پسند تھا۔ اس کے والد سلطان مراد پریشان رہتے تھے کہ یہ لڑکا حکمرانی کیسے کرے گا؟ اس کی تربیت کے لیے سخت گیر اساتذہ مقرر کیے گئے، لیکن محمد کسی کی نہیں سنتا تھا۔ پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا استاد آیا جس نے کوئلے کو ہیرا بنا دیا۔ وہ تھے شیخ آق شمس الدین۔
شیخ نے محمد کو ڈانٹنے کی بجائے اس کے اندر کی آگ کو سمت دی۔ وہ ننھے شہزادے کو انگلی سے پکڑ کر سمندر کنارے لے جاتے اور دور دکھتے ہوئے قسطنطنیہ کے گنبدوں کی طرف اشارہ کر کے کہتے:
"محمد! وہ دیکھ رہے ہو؟ وہ سرخ سیب (Red Apple) ہے۔ وہ ہمارے نبی ﷺ کی بشارت ہے۔ اسے تم فتح کرو گے۔"
یہ بات بچے کے ذہن میں نقش ہو گئی۔ محمد راتوں کو اٹھ کر نقشے بناتا۔ وہ انجینئرنگ، ریاضی، فلکیات، اور تاریخ کا طالب علم بن گیا۔ اس نے چھ زبانیں سیکھیں (عربی، فارسی، ترکی، یونانی، لاطینی اور سربین)۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے دشمن کیسے سوچتے ہیں۔
جب محمد صرف 12 سال کا تھا تو اس کے والد نے تخت چھوڑ دیا اور عبادت کے لیے گوشہ نشین ہو گئے۔ محمد کو کم عمری میں سلطان بنا دیا گیا۔ یہ ایک تباہ کن تجربہ تھا۔ یورپی طاقتوں نے معاہدے توڑ دیے، صلیبی لشکر چڑھ دوڑے، اور خود عثمانی وزراء نے اس کا مذاق اڑایا۔ مجبوراً سلطان مراد کو واپس آکر تخت سنبھالنا پڑا۔ اس تذلیل نے محمد کے اندر ایک ایسی خاموش آگ بھڑکا دی جو اب صرف فتح سے بجھ سکتی تھی۔ اس نے قسم کھائی: "اگلی بار جب میں تخت پر بیٹھوں گا، تو دنیا ہلا دوں گا۔"
باب دوم: تخت نشینی اور دنیا کا مذاق
1451ء میں سلطان مراد دوم کا انتقال ہوا۔ محمد دوبارہ تخت پر بیٹھا۔ اب اس کی عمر 19 سال تھی۔ یورپ کے بادشاہوں، بازنطینی شہنشاہ قسطنطین (Constantine XI) اور یہاں تک کہ خود عثمانی دربار کے پرانے وزراء نے اسے "نادان بچہ" سمجھا۔
بازنطینی شہنشاہ نے تو حد کر دی۔ اس نے محمد کو دھمکی آمیز خط بھیجا اور ٹیکس (Jizya) بڑھانے کا مطالبہ کیا، ورنہ وہ عثمانی خاندان کے ایک باغی شہزادے کو رہا کر دے گا۔
شہنشاہ قسطنطین کو لگا کہ یہ نوجوان ڈر جائے گا۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال چکا ہے۔
سلطان محمد نے اس خط کو پھاڑا نہیں، بلکہ مسکرایا۔ اس نے اپنے وزیرِ اعظم خلیل پاشا (جو صلح پسند تھے) کو نظر انداز کیا اور اپنے قریبی مشیروں زگانوس پاشا اور شیخ آق شمس الدین کو بلایا۔
سلطان نے نقشہ میز پر پھیلایا اور اپنی تلوار اس پر گاڑھ دی:
"امن کا وقت ختم ہوا۔ اب یا تو قسطنطنیہ میرا ہوگا، یا میں قسطنطنیہ کا۔ تیاری شروع کرو!"
باب سوم: گلا کاٹنے والا قلعہ (رومیلی حصار)
قسطنطنیہ کو فتح کرنا ناممکن کیوں تھا؟ اس کی تین وجوہات تھیں:
خشکی کی دیواریں: تھیوڈوسیس کی تین تہوں والی دیواریں، جنہیں آج تک کوئی نہیں توڑ سکا تھا۔
سمندری راستہ: شہر تین طرف سے سمندر میں گھرا ہوا تھا۔
رسد (Supply): جب بھی محاصرہ ہوتا، بحیرہ اسود (Black Sea) کے راستے یورپی جہاز شہر کو کھانا اور ہتھیار پہنچا دیتے۔
سلطان محمد نے سب سے پہلے تیسرے مسئلے کو حل کیا۔ اس نے شہر کے بالکل سامنے، باسفورس کے دوسرے کنارے پر ایک قلعہ بنانے کا حکم دیا۔ بازنطینی شہنشاہ نے احتجاج کیا کہ یہ زمین ہماری ہے۔ سلطان نے جواب دیا: "طاقت جس کی ہوتی ہے، زمین اسی کی ہوتی ہے۔"
صرف چار مہینوں میں—جی ہاں، دن رات کی انتھک محنت سے—سلطان نے مزدوروں کے ساتھ مل کر پتھر اٹھائے اور "رومیلی حصار" (Rumeli Hisari) تعمیر کر دیا۔ اس قلعے کا دوسرا نام تھا: "شہ رگ کاٹنے والا" (Throat Cutter)۔
اب باسفورس سے گزرنے والا کوئی جہاز سلطان کی اجازت کے بغیر نہیں جا سکتا تھا۔ قسطنطنیہ کا گلا دبایا جا چکا تھا۔
باب چہارم: قیامت کی توپیں (اربان کا شاہکار)
دیواریں... وہ دیواریں جو 40 فٹ اونچی اور 15 فٹ چوڑی تھیں۔ ان کو توڑنے کے لیے پتھر کی منجنیقیں کافی نہیں تھیں۔ سلطان کو بارود چاہیے تھا۔
اسی دوران ہنگری کا ایک انجینئر "اربان" (Orban) سلطان کے پاس آیا۔ اس نے پہلے بازنطینی شہنشاہ کو اپنی خدمات پیش کی تھیں مگر وہاں اسے تنخواہ نہیں ملی۔
سلطان محمد نے اربان سے پوچھا: "کیا تم ایسی توپ بنا سکتے ہو جو ان دیواروں کو ریزہ ریزہ کر دے؟"
اربان نے کہا: "میرے آقا! میں ایسی توپ بناؤں گا جس کی گرج سے حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں اور جس کا پتھر بابل کی دیواروں کو بھی گرا دے۔"
تین مہینے بعد، ادرنہ میں ایک دھماکہ ہوا۔ یہ دنیا کی پہلی "سپر گن" (Super Gun) تھی۔ اس کا نام "شاہی توپ" رکھا گیا۔ اس کا وزن ٹنوں میں تھا، اور اسے کھینچنے کے لیے 60 بیل اور 400 آدمی درکار تھے۔ جب یہ توپ قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہوئی تو زمین لرز اٹھی۔
باب پنجم: محاصرہ اور مایوسی
6 اپریل 1453ء۔ جمعہ کا دن۔
سلطان محمد فاتح اپنی عظیم فوج کے ساتھ قسطنطنیہ کے دروازے پر پہنچ گیا۔ اس نے آخری بار اسلامی اصولوں کے مطابق شہنشاہ کو پیغام بھیجا: "شہر حوالے کر دو، تمہیں اور تمہاری رعایا کو جان و مال کی امان ملے گی۔"
شہنشاہ قسطنطین نے تاریخی جواب دیا: "میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں، لیکن میں شہر نہیں دوں گا۔ میں آخری سانس تک لڑوں گا۔"
جنگ شروع ہوئی۔
بڑی توپوں نے آگ اگلنا شروع کی۔ دیواروں میں شگاف پڑتے، لیکن رات کو بازنطینی شہری، عورتیں اور بچے مل کر ان کو بھر دیتے۔ عثمانی فوج بار بار حملہ کرتی اور بار بار پیچھے دھکیل دی جاتی۔ یونانی آگ (Greek Fire)—ایک ایسا کیمیائی مادہ جو پانی پر بھی جلتا تھا—نے عثمانی سپاہیوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔
سب سے بڑی مایوسی "گولڈن ہارن" (Golden Horn) کی طرف سے تھی۔ یہ شہر کا سب سے کمزور حصہ تھا کیونکہ یہاں دیواریں کمزور تھیں اور سمندر تھا۔ لیکن عیسائیوں نے سمندر کے دہانے پر لوہے کی ایک دیو ہیکل زنجیر (Chain) باندھ رکھی تھی جو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتی تھی۔ کوئی عثمانی جہاز اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
20 اپریل کو ایک اور صدمہ ہوا۔ پوپ کی طرف سے بھیجے گئے چار بڑے بحری جہاز عثمانی ناکہ بندی توڑ کر شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سلطان محمد غصے سے اپنے گھوڑے کو سمندر میں لے گیا اور اپنے ایڈمرل (امیر البحر) بالٹا اوغلو کو برطرف کر دیا۔
فوج میں مایوسی پھیلنے لگی۔ وزیرِ اعظم خلیل پاشا نے کہا: "سلطان! ہم تباہ ہو جائیں گے۔ محاصرہ اٹھا لیجیے۔ یہ شہر منحوس ہے۔"
یہ وہ لمحہ تھا جہاں تاریخ فیصلہ کرنے والی تھی کہ محمد ایک عام بادشاہ ہے یا فاتح۔
باب ششم: پاگل پن یا معجزہ؟ (جہازوں کا پہاڑ پر سفر)
سلطان اپنے خیمے میں تنہا تھا، بے چین، جاگتا ہوا۔ اسے سمندر کی لہریں چیلنج کر رہی تھیں۔ زنجیر توڑنا ناممکن تھا۔ اچانک، اس کے ذہن میں ایک کوندا لپکا۔ ایک ایسا خیال جو پاگل پن کی انتہا تھا۔
"اگر سمندر میرے جہازوں کو راستہ نہیں دیتا... تو میں زمین سے راستہ بناؤں گا۔"
منصوبہ یہ تھا: جہازوں کو پانی سے نکال کر، گلاتا (Galata) کی اونچی پہاڑیوں کے اوپر سے گزار کر، دوسری طرف گولڈن ہارن کے پانی میں اتارا جائے۔
یہ کوئی مذاق نہیں تھا۔ ہزاروں ٹن وزنی لکڑی کے بحری جہاز۔ گھنا جنگل۔ اور وہ بھی دشمن کی ناک کے نیچے۔
سلطان نے حکم دیا: "مجھے یہ کام ایک ہی رات میں چاہیے!"
21 اور 22 اپریل کی درمیانی رات:
تاریخ کا حیرت انگیز ترین آپریشن شروع ہوا۔ ہزاروں سپاہیوں نے خاموشی سے جنگل کے درخت کاٹے۔ لکڑی کے تختے بچھائے گئے۔ ان پر بھیڑ اور بیل کی چربی (Grease) ملی گئی تاکہ پھسلن پیدا ہو۔
بیل اور انسان مل کر جہازوں کو رسے سے کھینچنے لگے۔
ذرا منظر کا تصور کریں: رات کا اندھیرا، پہاڑی راستہ، اور 70 سے زائد جنگی جہاز جنگلوں میں سے گزر رہے ہیں۔ سپاہیوں کو بولنے کی اجازت نہیں تھی تاکہ دشمن کو خبر نہ ہو، صرف سانسوں کی آواز اور لکڑی کی چرچراہٹ۔
نصف رات گزر گئی۔ تھکن سے بدن ٹوٹ رہے تھے، لیکن سلطان خود ان کے ساتھ کھڑا تھا۔ "زور لگاؤ! استنبول ہمارا ہے!"
صبح کا منظر:
22 اپریل کی صبح جب سورج کی پہلی کرن قسطنطنیہ کی دیواروں پر پڑی، تو شہر کی فصیل پر کھڑے پہرے داروں نے چیخیں مارنا شروع کر دیں۔ بازنطینی شہنشاہ دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے جو دیکھا اس پر اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔
وہ سمندر (گولڈن ہارن) جو کل تک خالی تھا اور زنجیر سے محفوظ تھا، آج وہاں عثمانیوں کے 72 بحری جہاز تیار کھڑے تھے، اور ان کی توپوں کا رخ شہر کے کمزور ترین حصے کی طرف تھا۔
شہنشاہ کے منہ سے بے اختیار نکلا:
"ایسا معجزہ تو نہ کبھی دیکھا نہ سنا۔ ترکوں نے اپنی کشتیاں زمین پر چلائی ہیں!"
اس ایک چال نے شہر کی نفسیات کو توڑ دیا۔ اب انہیں یقین ہو گیا کہ اس نوجوان سلطان کو کوئی دیوار، کوئی زنجیر اور کوئی سمندر نہیں روک سکتا۔
باب ہفتم: آخری حملہ اور 29 مئی
اب شہر چاروں طرف سے گھر چکا تھا۔ رسد ختم ہو چکی تھی۔ لوگ بھوکے مر رہے تھے۔
28 مئی کی رات، سلطان محمد نے حکم دیا کہ پوری فوج میں چراغ جلائے جائیں اور تکبیر (اللہ اکبر) کے نعرے لگائے جائیں۔ لاکھوں سپاہیوں کی آواز سے زمین کانپ اٹھی۔ شہر کے اندر لوگ گرجا گھروں میں پناہ لے کر رونے لگے۔ وہ جانتے تھے کہ کل قیامت کا دن ہے۔
29 مئی 1453ء کی صبح:
فجر کی نماز کے بعد سلطان نے آخری حملے کا حکم دیا۔
پہلی لہر: بے قاعدہ دستے (باشی بازوق)۔ انہیں بھیجا گیا تاکہ دشمن کو تھکا دیں۔
دوسری لہر: اناطولیہ کی فوج۔ انہوں نے دیواروں کو کمزور کیا۔
تیسری لہر: ینی چری (Janissaries)۔ یہ سلطان کے خاص کمانڈوز تھے، جو کبھی شکست نہیں کھاتے تھے۔
لڑائی شدت اختیار کر گئی۔ شہر کا دروازہ (کرکوپورٹا) کھلا رہ گیا یا توڑا گیا، یہ ایک راز ہے، لیکن عثمانی پرچم دیوار پر لہرا دیا گیا۔
بازنطینی شہنشاہ قسطنطین نے جب دیکھا کہ شہر ہاتھ سے نکل گیا ہے، تو اس نے اپنا شاہی لبادہ اتارا، عام سپاہی کی طرح تلوار سونت لی اور دشمن کی بھیڑ میں گھس گیا۔ وہ لڑتے ہوئے مارا گیا اور اسے کبھی دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔
دوپہر تک، شہر مکمل طور پر عثمانیوں کے قبضے میں تھا۔
سلطان محمد، جو اب "سلطان محمد فاتح" بن چکا تھا، اپنے سفید گھوڑے پر سوار ہو کر شہر میں داخل ہوا۔ وہ سیدھا آیا صوفیہ (Hagia Sophia) پہنچا۔
وہاں موجود عیسائی خوف سے کانپ رہے تھے کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن سلطان نے زمین سے مٹی اٹھا کر اپنی پگڑی پر ڈالی (عاجزی کے اظہار کے لیے) اور اعلان کیا:
"اٹھ جاؤ! میں تمہیں، تمہاری جانوں، تمہاری عزتوں اور تمہارے مذہب کی امان دیتا ہوں۔ آج سے ہم ایک قوم ہیں۔"
اختتامیہ: ایک نئے دور کا آغاز
اس فتح نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) کا خاتمہ ہوا اور جدید دور کا آغاز ہوا۔ وہ شہر جو عیسائیت کا مرکز تھا، اب اسلام کا دارالخلافہ "اسلام بول" (اسلام کا شہر) بن گیا، جسے آج ہم استنبول کہتے ہیں۔
21 سالہ سلطان محمد نے ثابت کر دیا کہ قیادت عمر سے نہیں، عزم اور کردار سے ہوتی ہے۔ اس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔
آج جب ہم باسفورس کے کنارے کھڑے ہو کر استنبول کی خوبصورتی دیکھتے ہیں، تو ان ہواؤں میں آج بھی ان جہازوں کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں جو زمین پر چلے تھے، اور اس نوجوان سلطان کی آواز گونجتی ہے جس نے کہا تھا:
"یا تو میں استنبول کو لے لوں گا، یا استنبول مجھے لے لے گا!"

#عثمانیہ #ملازکرد ゚ #سلجوق

بحیرہ اسود کے کناروں پر واقع شہر طربزون کی فضا میں اس رات ایک عجیب سا سکوت طاری تھا، جیسے قدرت خود کسی بڑے واقعے کی منتظ...
10/12/2025

بحیرہ اسود کے کناروں پر واقع شہر طربزون کی فضا میں اس رات ایک عجیب سا سکوت طاری تھا، جیسے قدرت خود کسی بڑے واقعے کی منتظر ہو۔ چھ نومبر 1494ء کی وہ تاریخ تھی جب عثمانی شہزادے سلیم کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا—ایک ایسا بچہ جس کی پہلی چیخ میں ہی ایک آنے والے دور کی گونج شامل تھی۔ یہ سلیمان تھا، وہ شہزادہ جس کی تقدیر میں دنیا کے تین براعظموں پر حکمرانی لکھی جا چکی تھی۔ عثمانی صوفیاء اور نجومیوں نے ستاروں کی چال دیکھ کر پیش گوئی کی تھی کہ یہ بچہ دسویں صدی ہجری کا مجدد ہوگا، کیونکہ وہ عثمانی خاندان کا دسواں سلطان بننے والا تھا۔ عدد "دس" کو کائنات میں تکمیل کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور سلیمان نے اپنی زندگی سے اس تکمیل کو سچ ثابت کرنا تھا۔ اس کی پرورش عام بچوں جیسی نہ تھی۔ اس کی والدہ، حفصہ سلطان، جو کریمیا کے طاقتور خان کی بیٹی تھیں، نے اسے بچپن ہی سے یہ سکھا دیا تھا کہ مخمل کے گدوں پر سونے والوں کو اکثر کانٹوں بھرے خوابوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو صرف لوری نہیں سنائی بلکہ حکمرانی کے گر بھی سکھائے۔ محل کے در و دیوار کے اندر سلیمان نے قسطنطنیہ کے بہترین اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا، جہاں اس نے عربی کی فصاحت، فارسی کی مٹھاس، چغتائی ترکی کی سختی اور سربین زبان کی نزاکت سیکھی۔ مگر اس کا دل صرف کتابوں میں نہیں بلکہ دھاتوں میں بھی لگتا تھا۔ وہ گھنٹوں سنار کی دکان میں بیٹھا باریک زیورات تراشتا رہتا۔ سونے کی تاروں کو جوڑنا اور ہیروں کو جڑنا—اس فن نے اسے صبر اور باریک بینی سکھائی، وہی باریک بینی جو بعد میں اس کی جنگی چالوں اور پیچیدہ قوانین میں نظر آئی۔
وقت کا پہیہ گھوما اور ستمبر 1520ء کا سورج طلوع ہوا۔ خبر آئی کہ "یوز سلطان سلیم"—وہ سخت گیر بادشاہ جس کی ہیبت سے اپنے بھی ڈرتے تھے—شیر کے شکار کے دوران انتقال کر گئے ہیں۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ 26 سالہ سلیمان، جو اس وقت تک جوانی کی پختہ عمر کو پہنچ چکا تھا، استنبول کی طرف روانہ ہوا۔ جب اس نے اپنے باپ کا تخت سنبھالا اور عثمانیہ کی مقدس تلوار اپنی کمر سے باندھی، تو یورپ کے شاہی درباروں میں ایک اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ وینس اور ہنگری کے سفیروں نے اپنے بادشاہوں کو خفیہ خطوط لکھے جن کا لب لباب یہ تھا: "خدا کا شکر ہے! وہ بوڑھا شیر مر گیا ہے جس کے پنجے خون آلود تھے، اور اب تخت پر ایک نوجوان 'میمنا' بیٹھا ہے جو نرم مزاج ہے۔ اب ہمیں عثمانیوں سے خطرہ نہیں۔" مگر تاریخ گواہ ہے کہ یورپ کی یہ سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ میمنا نہیں، بلکہ ایک ایسا سمندر ہے جو بظاہر خاموش ہے مگر جس کی تہوں میں طوفان پل رہے ہیں۔ سلیمان نے تخت سنبھالتے ہی پہلا حکم جاری کیا جو اس کے انصاف کی دلیل بنا۔ اس نے ان تمام تاجروں کا مال واپس کرنے کا حکم دیا جنہیں اس کے باپ نے ناجائز ضبط کیا تھا۔ یہ پہلا اشارہ تھا کہ نیا سلطان صرف فاتح نہیں، بلکہ "قانونی" بھی ہوگا۔
مگر امن کا یہ دور مختصر تھا۔ ہنگری کا نوجوان اور مغرور بادشاہ، لوئس دوم، اپنی جوانی کے نشے میں چور تھا۔ جب سلیمان نے خیر سگالی کے طور پر اپنے سفیر بھیجے تاکہ وہ خراج کا تقاضا کریں، تو لوئس نے سفارتی آداب کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ان کی توہین کی اور بعض روایات کے مطابق انہیں قتل بھی کروا دیا۔ یہ عمل عثمانی وقار پر ایک طمانچہ تھا۔ سلیمان کی آنکھوں میں وہ نرمی، جو یورپی سفیروں نے دیکھی تھی، اچانک غائب ہو گئی اور اس کی جگہ ایک ایسے جلال نے لے لی جو آنے والے 46 سالوں تک دنیا نے دیکھنا تھا۔ اس نے اپنی انگلی نقشے پر رکھی اور اس کا ہدف تھا: بیلگراد۔ یہ وہ قلعہ تھا جسے "عیسائیت کی ڈھال" اور "یورپ کا دروازہ" کہا جاتا تھا۔ یہ وہی قلعہ تھا جہاں سلیمان کے عظیم پردادا، سلطان محمد فاتح بھی ناکام ہو کر لوٹے تھے۔ لیکن سلیمان نے روایتی جنگی طریقوں کو رد کر دیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ صرف تلوار سے نہیں بلکہ دماغ سے لڑے گا۔ اس نے دریائے ڈینیوب کے راستے اپنی ہلکی اور تیز رفتار کشتیاں بھیجیں تاکہ قلعے کی رسد کاٹی جا سکے، اور خشکی کی طرف سے بھاری بھرکم توپیں نصب کر دیں۔ اگست 1521ء کی گرم دوپہروں میں، جب عثمانی توپوں کے گولے قلعے کی دیواروں سے ٹکرائے، تو یورپ پر پہلا خوف طاری ہوا۔ دیواریں گر گئیں، اور جو قلعہ صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، وہ سلیمان کے قدموں میں تھا۔ شہر فتح ہوا تو سپاہیوں کو امید تھی کہ لوٹ مار کا حکم ملے گا، مگر سلیمان نے امان کا اعلان کیا۔ گرجا گھروں کو تحفظ دیا گیا اور شہریوں کو جان کی امان ملی۔ یہ سلیمان کی جنگی اخلاقیات کا پہلا مظاہرہ تھا۔
بیلگراد تو صرف آغاز تھا، سلیمان کی نظریں اب سمندر کے سینے پر گڑی تھیں۔ بحیرہ روم میں روڈس (Rhodes) نامی ایک جزیرہ تھا جو عثمانی سلطنت کے سینے میں خنجر کی طرح چبھ رہا تھا۔ یہاں "نائٹس آف سینٹ جان" (Knights of St. John) کا قبضہ تھا—یہ وہ جنگجو راہب تھے جو عازمینِ حج کے بحری جہازوں کو لوٹتے اور مسلمانوں کو غلام بناتے۔ سلیمان جانتا تھا کہ جب تک روڈس فتح نہیں ہوتا، سمندر محفوظ نہیں۔ 1522ء میں سلیمان ایک عظیم الشان بحری بیڑے کے ساتھ روڈس کے ساحلوں پر نمودار ہوا۔ یہ محاصرہ تاریخ کے سخت ترین محاصروں میں سے ایک تھا۔ نائٹس کے پاس یورپ کے جدید ترین قلعے اور دفاعی نظام تھے، جبکہ سلیمان کے پاس تعداد کی طاقت اور انجینئرنگ کا کمال تھا۔ پانچ ماہ تک یہ خونی معرکہ جاری رہا۔ سردیاں آ چکیں تھیں، بارشوں نے خیموں کو کیچڑ میں تبدیل کر دیا تھا، اور بیماری پھیل رہی تھی۔ سپاہی تھک چکے تھے، مگر سلیمان نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے اپنے ماہر کان کنوں (Miners) کو حکم دیا کہ وہ زمین کے نیچے سرنگیں کھود کر قلعے کی بنیادوں میں بارود بھر دیں۔ جب دھماکے ہوئے اور برج ہوا میں اڑ گئے، تو نائٹس کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔ دسمبر کی ایک سرد صبح، نائٹس کے گرینڈ ماسٹر نے ہتھیار ڈال دیے۔ سلیمان نے یہاں بھی اپنی عظمت کا ثبوت دیا۔ اس نے گرینڈ ماسٹر کو بلا کر عزت سے بٹھایا اور کہا، "مجھے دکھ ہے کہ میں آپ جیسے بہادر جنگجو کو اس کے گھر سے بے گھر کر رہا ہوں۔ آپ اپنے ہتھیاروں اور عزت کے ساتھ جا سکتے ہیں۔" جب نائٹس اپنے جہازوں پر سوار ہو کر جا رہے تھے، تو وہ حیرت سے اس نوجوان سلطان کو دیکھ رہے تھے جس نے نہ صرف انہیں شکست دی تھی بلکہ انہیں زندگی بھی بخش دی تھی۔
ان دو بڑی فتوحات نے سلیمان کا نام پوری دنیا میں "دی میگنیفیسنٹ" (عظیم الشان) مشہور کر دیا۔ مگر یورپ ابھی مکمل طور پر گھٹنے ٹیکنے کو تیار نہیں تھا۔ 1526ء میں تقدیر نے ایک بار پھر سلیمان اور ہنگری کے بادشاہ کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ مقام تھا: موہاچ (Mohács)۔ یہ وہ میدان تھا جہاں دنیا کی سب سے مختصر مگر فیصلہ کن جنگ لڑی جانے والی تھی۔ ہنگری کی فوج اپنی بھاری بکتر بند گھڑسوار فوج (Heavy Cavalry) پر ناز کرتی تھی۔ لوہے میں ڈھکے یہ جنگجو کسی چلتے پھرتے قلعے سے کم نہ تھے۔ ان کا منصوبہ سادہ تھا: سیدھا حملہ کرو اور عثمانی صفوں کو روند ڈالو۔ مگر سلیمان کے پاس "عقل" تھی۔ اس نے اپنی فوج کو ہلال (Crescent) کی شکل میں ترتیب دیا۔ صفِ اول میں اس نے اپنے بے قاعدہ دستے کھڑے کیے اور انہیں حکم دیا کہ جیسے ہی دشمن حملہ کرے، وہ لڑنے کا ڈرامہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں ہٹ جائیں۔ ہنگری کے بادشاہ نے جب عثمانیوں کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو وہ سمجھا کہ ترک ڈر گئے ہیں۔ اس نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ حملہ کر دیا۔ جیسے ہی ہنگری کے گھڑسوار میدان کے وسط میں پہنچے، عثمانی دستے تیزی سے کنارے ہو گئے اور سامنے کا منظر دیکھ کر ہنگری فوج کے خون خشک ہو گئے۔ سامنے 300 توپیں زنجیروں سے جڑی کھڑی تھیں، جن کا منہ سیدھا ان کی طرف تھا۔ سلیمان نے اشارہ کیا، اور پھر زمین ہل گئی۔ توپوں نے آگ اگلی، اور لوہے میں لپٹے ہوئے شہسوار پتوں کی طرح بکھر گئے۔ دھواں، بارود، اور چیخ و پکار۔ صرف ڈیڑھ سے دو گھنٹے کے اندر ہنگری کی پوری سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ بادشاہ لوئس بھاگتے ہوئے دلدل میں گر کر ہلاک ہوا۔ شام کو جب سلیمان میدانِ جنگ کا معائنہ کر رہا تھا، تو لاشوں کے ڈھیر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے اپنی ڈائری میں وہ تاریخی جملہ لکھا: "میں نے فتح تو حاصل کر لی، لیکن میرا دل افسردہ ہے کہ اتنے نوجوانوں کو موت کی نیند سلانا پڑا۔"
جنگ کے ان میدانوں سے کوسوں دور، استنبول کے عالی شان توپ کاپی محل میں ایک اور طرح کی جنگ لڑی جا رہی تھی—محبت اور سازش کی جنگ۔ سلیمان کے حرم میں یوکرائن (روتھینیا) کے علاقے سے اغوا ہو کر آئی ہوئی ایک کنیز داخل ہوئی تھی۔ اس کا نام الیگزینڈرا تھا، مگر اس کی شوخ طبیعت اور مسکراہٹ نے اسے نیا نام دیا: "خرم"۔ خرم سلطان کوئی عام عورت نہیں تھی۔ وہ حسن کے ساتھ ساتھ ذہانت کا ایسا امتزاج تھی جس نے عثمانی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ سلیمان، جو دنیا کو فتح کر چکا تھا، خرم کی ایک مسکراہٹ پر اپنا دل ہار بیٹھا۔ یہ محبت محض افسانوی نہیں تھی، بلکہ اس نے روایات کو توڑ دیا۔ عثمانی سلاطین کنیزوں سے شادی نہیں کرتے تھے، مگر سلیمان نے خرم کو آزاد کیا اور باقاعدہ نکاح کر کے اسے اپنی ملکہ بنایا۔ خرم نے سلیمان کو خطوط لکھے جو آج بھی تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں۔ وہ لکھتی ہیں: "میرے سلطان! آپ کی جدائی میں یہ محل میرے لیے کسی قبرستان سے کم نہیں۔ میرا دل آپ کے قدموں کی دھول ہے، کیا وہ دن آئے گا جب میں آپ کی ان روشن آنکھوں میں دوبارہ دیکھ سکوں گی؟" خرم کی محبت نے سلیمان کو نرم تو کر دیا، لیکن محل کے اندر دشمنیاں بھی پیدا کیں۔ سلیمان کی پہلی بیوی، ماہِ دوران سلطان، اور اس کا بیٹا شہزادہ مصطفیٰ، خرم کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھے۔ خرم جانتی تھی کہ اگر مصطفیٰ بادشاہ بن گیا تو عثمانی قانون "قتلِ برادران" کے تحت خرم کے بیٹے مار دیے جائیں گے۔ لہٰذا، اس نے اپنی بقا کی جنگ شروع کی، ایک ایسی جنگ جو تلواروں سے نہیں بلکہ سرگوشیوں اور سازشوں سے لڑی گئی۔
اسی دوران، سلیمان کی زندگی میں ایک اور کردار بہت اہم تھا: ابراہیم پاشا۔ پارگا کا یہ یونانی لڑکا، جو کبھی غلام تھا، سلیمان کا بچپن کا دوست، مشیر اور پھر وزیرِ اعظم بنا۔ سلیمان اور ابراہیم کی دوستی مثالی تھی۔ وہ ایک ساتھ کھاتے، ایک ساتھ پڑھتے اور اکثر ایک ہی خیمے میں سوتے۔ سلیمان نے ابراہیم کو وہ طاقت دی جو آج تک کسی سلطان نے کسی غلام کو نہیں دی تھی۔ ابراہیم سلطنت کا حقیقی منتظم تھا۔ اس نے مصر میں بغاوتیں کچلیں، صفویوں کے خلاف مہمات ترتیب دیں، اور سفارت کاری کے وہ جوہر دکھائے کہ یورپی اسے "سلیمان کا دماغ" کہتے تھے۔ لیکن بے پناہ طاقت انسان کو مغرور کر دیتی ہے۔ ابراہیم بھی اسی غرور کا شکار ہو گیا۔ وہ خود کو سلطان کا سایہ نہیں بلکہ شریک سمجھنے لگا۔ ایک موقع پر اس نے یورپی سفیروں سے کہا: "اس دنیا کا حکمران بے شک سلیمان شیر ہے، لیکن اس شیر کی لگام میرے ہاتھ میں ہے۔ میں اسے جس سمت چاہوں موڑ سکتا ہوں۔" یہ الفاظ ہوا کے دوش پر سفر کرتے ہوئے سلیمان کے کانوں تک پہنچ گئے۔ دوسری طرف خرم سلطان اور ابراہیم کے درمیان کھلی دشمنی تھی۔ ابراہیم مصطفیٰ کا حامی تھا، اور خرم اپنے بیٹوں کی۔ خرم نے سلیمان کو آہستہ آہستہ یقین دلایا کہ ابراہیم اب دوست نہیں رہا، بلکہ ایک حریف بن چکا ہے جو تخت پر نظریں جمائے بیٹھے ہے۔
1536ء کے رمضان کی ایک اداس رات تھی، سلیمان نے ابراہیم کو افطار پر مدعو کیا۔ دونوں دوستوں نے پرانے دنوں کی طرح ہنسی مذاق کیا، کھانا کھایا اور ماضی کے قصے چھیڑے۔ رات گئے ابراہیم سلیمان کے ساتھ والے کمرے میں سونے چلا گیا۔ لیکن وہ رات ابراہیم کی آخری رات تھی۔ صبح جب محل کے خادموں نے دروازہ کھولا، تو ابراہیم کی لاش وہاں موجود تھی۔ دیواروں پر خون کے نشانات تھے جو بتا رہے تھے کہ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے شدید مزاحمت کی تھی۔ سلیمان نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بہترین دوست، اپنے "بھائی" کا قتل کا حکم دیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس رات کے بعد سلیمان کی شخصیت ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ وہ خاموش اور تنہا ہو گیا۔ اس نے ابراہیم کی یاد میں شاعری کی، مگر حکمرانی کا اصول یہی تھا: "سلطنت میں دو بادشاہ نہیں ہو سکتے۔"
زمین پر سلیمان کا حکم چلتا تھا، اور سمندروں پر خیرالدین بارباروسہ کا۔ سلیمان نے شمالی افریقہ کے اس خوفناک اور بہادر قزاق کو اپنی بحریہ کا سربراہ (Kapudan Pasha) مقرر کیا۔ 1538ء میں پریویزا کے مقام پر تاریخ کا سب سے بڑا بحری معرکہ ہوا۔ پوپ نے صلیبی جنگ کا اعلان کیا تھا اور یورپ کی تمام بحری طاقتیں (وینس، سپین، جینووا) مل کر ایک عظیم بیڑا لے کر آئیں۔ ان کے جہاز دیو ہیکل تھے، جبکہ بارباروسہ کی کشتیاں چھوٹی۔ لیکن بارباروسہ نے سمندر کی لہروں اور ہواؤں کو اپنے حق میں استعمال کیا۔ اس نے دشمن کے بھاری جہازوں کو گھیرے میں لے لیا۔ عثمانی توپوں نے سمندر کا پانی سرخ کر دیا۔ اس فتح نے بحیرہ روم کو ایک "عثمانی جھیل" میں تبدیل کر دیا۔ اگلے 30 سال تک کسی یورپی جہاز کی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ سلیمان کے پرچم والے جہاز کے سامنے سر اٹھا سکے۔
لیکن سلیمان کی زندگی کا سب سے المناک باب ابھی لکھا جانا باقی تھا۔ شہزادہ مصطفیٰ—سلیمان کا سب سے بڑا بیٹا—جو رعایا کی آنکھوں کا تارا اور فوج کا محبوب تھا۔ مصطفیٰ میں وہ تمام خوبیاں تھیں جو ایک عظیم بادشاہ میں ہونی چاہئیں۔ وہ بہادر تھا، انصاف پسند تھا، اور ینی چری اسے دیوانہ وار چاہتے تھے۔ لیکن یہی مقبولیت اس کے لیے موت کا پروانہ بن گئی۔ خرم سلطان اور اس کے داماد رستم پاشا (جو اب وزیر اعظم تھا) نے ایک خوفناک سازش تیار کی۔ انہوں نے جعلی خطوط تیار کروائے جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ مصطفیٰ ایران کے صفوی شاہ کے ساتھ مل کر اپنے بوڑھے باپ کا تخت الٹنے کی سازش کر رہا ہے۔ سلیمان کے کانوں میں مسلسل یہ زہر گھولا گیا کہ "فوج مصطفیٰ کو سلطان بنانا چاہتی ہے اور آپ کو معزول کرنا چاہتی ہے۔" شک ایک ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ 1553ء میں، ایران کی مہم کے دوران، سلیمان نے مصطفیٰ کو اپنے خیمے میں طلب کیا۔ مصطفیٰ کے دوستوں اور مشیروں نے اسے منع کیا، خبردار کیا کہ یہ موت کا بلاوا ہے، مگر مصطفیٰ نے تاریخی جملہ کہا: "میرا باپ مجھے کبھی قتل نہیں کرے گا، میں نے کبھی ان سے غداری نہیں کی۔" سفید لباس میں ملبوس، بے ہتھیار شہزادہ اپنے باپ کے خیمے میں داخل ہوا۔ مگر وہاں باپ نہیں تھا، وہاں سات گونگے جلاد (Mutes) چھپے ہوئے تھے۔ جیسے ہی مصطفیٰ اندر آیا، وہ اس پر ٹوٹ پڑے۔ مصطفیٰ نے شیر کی طرح مقابلہ کیا، ایک جلاد کو زمین پر بھی دے مارا، مگر تعداد زیادہ تھی۔ آخرکار ریشمی ڈوری اس کے گلے میں کس دی گئی۔ سلیمان خیمے کے ایک پردے کے پیچھے کھڑا یہ سب سن رہا تھا، اپنی ہی اولاد کی آخری سسکیاں۔
جب مصطفیٰ کی لاش خیمے کے باہر رکھی گئی، تو کہرام مچ گیا۔ ینی چری نے اپنی ٹوپیاں زمین پر پھینک دیں، جو بغاوت کی نشانی تھی۔ وہ رو رہے تھے اور رستم پاشا کو گالیاں دے رہے تھے۔ سلیمان کو فوج کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے رستم کو برطرف کرنا پڑا، لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ سلیمان نے اپنی سلطنت کو بچانے کے لیے اپنی روح کا سودا کر لیا تھا۔ مصطفیٰ کے جیب سے وہ خط نکلا جو اس نے باپ کے نام لکھا تھا، جس میں اس نے اپنی وفاداری کا یقین دلایا تھا، مگر وہ خط کبھی پڑھا نہ جا سکا۔ اس واقعے نے سلیمان کو اندر سے توڑ دیا۔ وہ اب ایک تھکا ہوا، بوڑھا اور غمگین بادشاہ تھا جو اپنے ہی محل کے سناٹوں سے ڈرتا تھا۔
اپنے اس گہرے غم کو بھلانے اور خدا کے حضور سکون پانے کے لیے، سلیمان نے فنِ تعمیر کا سہارا لیا۔ اس نے اپنے دور کے عظیم ترین معمار، معمار سنان کو حکم دیا کہ وہ ایک ایسی مسجد تعمیر کرے جو قیامت تک اس کے نام کو زندہ رکھے۔ 1550ء میں استنبول کی ایک پہاڑی پر "سلیمانیہ مسجد" کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں تھی، بلکہ یہ انجینئرنگ کا شاہکار تھی۔ سنان نے اس کے صوتی نظام (Acoustics) کو چیک کرنے کے لیے پانی سے بھرے حقے کی گڑگڑاہٹ کا استعمال کیا۔ اس نے مسجد کے گنبد میں شتر مرغ کے انڈے لٹکائے تاکہ مکڑیاں جالے نہ بنائیں۔ چار مینار اس بات کی علامت تھے کہ سلیمان فتحِ قسطنطنیہ کے بعد چوتھا سلطان تھا۔ سات سال کی محنت کے بعد جب یہ مسجد مکمل ہوئی، تو اس کی شان و شوکت دیکھ کر سلیمان سجدے میں گر گیا۔ اس نے سنان کو چابی واپس دی اور کہا، "اے میرے معمار! یہ گھر تم نے بنایا ہے، اسے کھولنے کا حق بھی تمہارا ہے۔"
سلیمان کو تاریخ صرف جنگوں کی وجہ سے یاد نہیں کرتی، بلکہ اسے "قانونی" (The Lawgiver) بھی کہا جاتا ہے۔ اس نے سلطنت کے بکھرے ہوئے قوانین کو یکجا کیا۔ اس نے کسانوں پر ٹیکس کم کیے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا عیسائی۔ اس نے بیوروکریسی میں رشوت کا خاتمہ کیا اور میرٹ کو فروغ دیا۔ اس کے عدالتی نظام میں ایک غریب کسان بھی کسی پاشا کے خلاف مقدمہ جیت سکتا تھا۔ اس کا قول تھا: "سلطان کی تلوار سے زیادہ سلطان کا قانون لمبا ہونا چاہیے۔" اس کے بنائے ہوئے قوانین (Kanun-name) سلطنتِ عثمانیہ میں تین صدیوں تک نافذ رہے۔
وقت گزرتا گیا، خرم سلطان کا انتقال ہو گیا، اور سلیمان بالکل تنہا رہ گیا۔ 72 سال کی عمر میں، اسے نقرس (Gout) کا مرض لاحق تھا، پاؤں سوجے ہوئے تھے اور وہ گھوڑے پر بیٹھنے کے بھی قابل نہیں تھا۔ مگر 1566ء میں جب اسے خبر ملی کہ ہنگری کی سرحد پر مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور آسٹریا والے سر اٹھا رہے ہیں، تو اس کے اندر کا پرانا جنگجو جاگ اٹھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بستر پر نہیں مرے گا، بلکہ میدانِ جنگ میں غازی بن کر مرے گا۔ وہ استنبول سے نکلا، لیکن اس بار وہ گھوڑے پر نہیں بلکہ پالکی میں تھا۔ عثمانی فوج سزیگیٹوار (Szigetvár) کے قلعے تک پہنچی۔ یہ قلعہ چھوٹا تھا مگر اس کا دفاع کرنے والا کروشین کمانڈر نکولا زرنسکی (Nikola Zrinski) انتہائی بہادر تھا۔ محاصرہ طویل ہو گیا۔ عثمانی توپیں آگ برسا رہی تھیں، مگر قلعہ فتح نہیں ہو رہا تھا۔ سلیمان اپنے خیمے سے جنگ کا مشاہدہ کرتا رہا، اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں اور جسم ساتھ چھوڑ رہا تھا۔
6 ستمبر 1566ء کی رات، فتح سے صرف ایک دن پہلے، عظیم سلطان سلیمان اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ فتح کی خبر سننے تک اسے زندہ رہنا ہے، مگر موت کسی کا انتظار نہیں کرتی۔ سلطان سلیمان، جس نے دنیا کو اپنی مٹھی میں رکھا، ایک خاموش خیمے میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ یہ ایک بہت بڑا بحران تھا۔ اگر فوج کو پتہ چل جاتا کہ ان کا سلطان مر گیا ہے، تو وہ جنگ چھوڑ کر بھاگ جاتے۔ وزیر اعظم صوقلو محمد پاشا نے ایک ایسی چال چلی جو تاریخ میں یاد رکھی گئی۔ اس نے سلطان کی موت کو خفیہ رکھا۔ جن طبیبوں نے سلطان کی نبض دیکھی تھی، انہیں خاموش کرا دیا گیا۔ سلطان کی لاش کو عطر لگا کر تخت پر بٹھایا گیا اور دور سے سپاہیوں کو دکھایا گیا کہ "سلطان تمہیں دیکھ رہا ہے۔"
اگلے دن، اپنے "زندہ" سلطان کی موجودگی کا یقین لیے، عثمانی فوج نے آخری اور شدید حملہ کیا۔ قلعہ فتح ہو گیا۔ قلعے کے فصیلوں پر عثمانی پرچم لہرا دیے گئے۔ فتح کے نعروں سے آسمان گونج اٹھا۔ مگر ان نعروں کے بیچ، وزیر اعظم کے خیمے میں موت کا سکوت تھا۔ سپاہی خوشی منا رہے تھے، انجان تھے کہ جس بادشاہ کے نام پر انہوں نے خون بہایا، وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ سلیمان کی لاش کو واپس استنبول لایا گیا اور اسی سلیمانیہ مسجد کے احاطے میں دفن کیا گیا جو اس کی محبت اور عقیدت کا مرکز تھی۔ اور اس کے پہلو میں؟ خرم سلطان۔ محبت، اقتدار، جنگ اور امن—سب موت کی خاموش وادی میں اکٹھے ہو گئے۔
سلیمان قانونی کا دور بلاشبہ عثمانی سلطنت کا سنہرا دور (Golden Age) تھا۔ اس نے سلطنت کو بلندیوں پر پہنچایا، مگر اس بلندی کی قیمت اس نے اپنی تنہائی، اپنے یارِ غار ابراہیم اور اپنے لختِ جگر مصطفیٰ کے خون سے ادا کی۔ وہ ایک شاعر تھا جو 'محیبی' کے نام سے درد بھرے شعر کہتا، ایک ماہر سنار تھا جو سلطنت کے ٹکڑوں کو جوڑتا، اور ایک ایسا حکمران تھا جس کی ہیبت سے یورپ کانپتا تھا۔ مگر آخر میں، وہ بھی ایک فانی انسان تھا جس نے جاتے جاتے دنیا کو یہ پیغام دیا:
"میں سلیمان ہوں... میں نے مشرق و مغرب کو فتح کیا، مگر آج خالی ہاتھ جا رہا ہوں۔ یہ تخت، یہ تاج، یہ فتوحات...
سب یہیں رہ جائیں گی۔ صرف نام رہے گا تو اللہ کا۔"

#عثمانیہ #سلطنت #سلجوق #ملازکرد ゚

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Risen Graphics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Risen Graphics:

Share