Risen Graphics

Risen Graphics "Uncover the past with me! This page is dedicated to exploring history, culture, and forgotten stories through engaging videos and posts."

I am a creative and skilled professional graphic designer with a passion for visual storytelling. With extensive experience in the field, I excel in crafting innovative designs that captivate audiences. My expertise spans from conceptualization to execution, ensuring effective communication through stunning visuals. I stay updated with industry trends, ensuring my designs are fresh and contemporary. My goal is to deliver exceptional designs that exceed client expectations.

4 مئی 1799ء کی وہ دوپہر سرنگاپٹم کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین لمحہ تھا جب سورج بھی شرم سے بادلوں میں چھپ گیا تھا۔ میر صادق ک...
14/06/2026

4 مئی 1799ء کی وہ دوپہر سرنگاپٹم کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین لمحہ تھا جب سورج بھی شرم سے بادلوں میں چھپ گیا تھا۔ میر صادق کی شیطانی غداری نے قلعے کے ناقابلِ تسخیر دروازے انگریزوں کے لیے کھول دیے تھے۔ جب شیرِ میسور، ٹیپو سلطان، اپنے چند وفادار جانثاروں کے ساتھ قلعے کے مغربی جانب، جہاں انگریزوں نے فصیل توڑ دی تھی، پہنچا تو منظر دیکھ کر اس کا خون خشک ہو گیا۔ وہ جگہ جہاں ہزاروں بہادر سپاہی پہرہ دیتے تھے، اب مکمل طور پر خالی تھی اور انگریز فوج کا ایک سمندر، جنرل بیرڈ کی قیادت میں، درندوں کی طرح قلعے کے اندر داخل ہو رہا تھا۔ سلطان نے دیکھا کہ اس کا وہ وزیرِ اعظم، میر صادق، جس نے قرآن پر وفاداری کی قسم کھائی تھی، وہ اب انگریز افسران کو خوش آمدید کہہ رہا تھا اور انہیں محل کی طرف جانے والے خفیہ راستے بتا رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ٹیپو سلطان کو احساس ہوا کہ اس کے گرد بنا ہوا طلسم ٹوٹ چکا ہے۔ اسے یہ بھی سمجھ آ گیا کہ سید غفار نے اسے بار بار میر صادق کے بارے میں جو خط لکھے تھے، وہ کیوں اس تک نہیں پہنچنے دیے گئے۔ سلطان کے وفادار محافظوں نے، جن میں راجہ خان (نواب کا خاص خادم) بھی شامل تھا، جب یہ بھیانک غداری دیکھی تو وہ خون کے آنسو رونے لگے۔ انہوں نے سلطان سے التجا کی کہ "سلطانِ معظم! یہاں سے فوراً نکل جائیں، میر صادق نے محل کے اندرونی دروازے بھی بند کروا دیے ہیں، آپ یہاں مکمل طور پر دشمن کے نرغے میں ہیں!" لیکن ٹیپو سلطان، جس نے اپنی پوری زندگی غیرت، غیرتِ ایمانی اور حریت کے اصولوں پر گزاری تھی، اس نے فرار ہونے سے انکار کر دیا۔ سلطان نے اپنی تلوار لہرائی اور ایک تاریخی جملہ فرمایا جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے ایک سبق بن گیا: **"گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔"** سلطان نے اپنے خادموں سے کہا کہ "ہمارا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم فرار ہو کر ذلت کی زندگی نہیں جئیں گے، بلکہ اسی قلعے کی مٹی پر بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کریں گے۔"
غداروں نے جو جال بچھایا تھا، وہ مکمل طور پر کامیاب ہو چکا تھا۔ ٹیپو سلطان اکیلا انگریز فوج کے سمندر میں کودنے کے لیے آگے بڑھا۔ اس کے ساتھ مٹھی بھر وفادار سپاہی تھے، لیکن ان کے حوصلے آسمان سے بھی بلند تھے۔ قلعے کی فصیل کے پاس، ایک تنگ راستے پر، ٹیپو سلطان اور انگریز فوج کے درمیان ایک ایسا بھیانک اور دلدوز مقابلہ شروع ہوا جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ سلطان ایک زخمی شیر کی طرح لڑ رہا تھا۔ اس کی وہ ہیبت ناک تلوار، جو کبھی مرہٹوں اور انگریزوں کے لیے موت کا پیغام تھی، اب بجلی کی طرح چمک رہی تھی۔ سلطان نے اپنے مٹھی بھر وفاداروں کے ساتھ انگریزوں کی پہلی صف کو کاٹ کر رکھ دیا۔ انگریز فوجی اس کے غضب سے ڈر کر پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن یہ مقابلہ غیر مساوی تھا۔ ایک طرف ایک اکیلا نواب تھا اور دوسری طرف پچاس ہزار کی انگریز فوج، جسے اندرونی غداروں کی مکمل مدد حاصل تھی۔ انگریزوں نے دور سے سلطان پر گولیاں برسانی شروع کر دیں۔ سلطان کے جسم پر کئی گولیاں لگیں، اس کا گھوڑا بھی گولیوں کا نشانہ بن کر گر گیا۔ سلطان خون سے لت پت حالت میں بھی کھڑا رہا۔ اس نے اپنے وفادار محافظ راجہ خان سے، جو خود بری طرح زخمی تھا، کہا کہ "ہمیں پانی دو، ہمارا حلق سوکھ رہا ہے۔" راجہ خان نے سلطان کے منہ میں پانی کا ایک قطرہ ڈالنے کی کوشش کی، لیکن وہ خود گر گیا۔ سلطان نے اپنی تلوار کے سہارے کھڑے رہنے کی کوشش کی۔ عین اسی لمحے، جب سلطان اکیلا کھڑا تھا، میر صادق کے کہنے پر ایک انگریز افسر نے سلطان کے سر پر گولی مار دی۔ شیرِ میسور، امتِ مسلمہ کا وہ عظیم سپوت، سرنگاپٹم کی مٹی پر اوندھے منہ گر گیا۔ اس کے ہونٹوں پر کلمۂ شہادت جاری تھا۔ تاریخ کے اس عظیم مجاہد کی روح اپنے رب کے پاس پرواز کر گئی۔ ٹیپو سلطان نے اپنی جان دے دی، لیکن کفر کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ وہ ایک سچے عاشقِ رسول کی طرح شہید ہو کر امر ہو گیا۔
جب ٹیپو سلطان شہید ہو گیا، تو سرنگاپٹم کے قلعے میں موت کا ایک ایسا سناٹا چھا گیا جو لوٹ مار، قتل و غارت اور غداری کے جشن کے درمیان بھی محسوس ہو رہا تھا۔ انگریز قلعے پر مکمل طور پر قابض ہو چکے تھے۔ جنرل بیرڈ، جو خود کبھی حیدر علی کی قید میں رہا تھا اور ٹیپو سلطان سے شدید نفرت کرتا تھا، وہ اب فتح کے نشے میں چور تھا۔ اس نے نواب کے محلات کو لوٹنے اور مسلمانوں کے قتلِ عام کا حکم دے دیا۔ انگریز فوج نے سرنگاپٹم کی گلیوں کو مسلمانوں کے خون سے سرخ کر دیا۔ ہزاروں معصوم عورتیں، بچے اور بوڑھے ذبح کر دیے گئے۔ نواب کے شاہی خزانے، کتب خانے، اور محل کی ہر قیمتی چیز لوٹ لی گئی۔ میر صادق اور اس کے ساتھی، جنہوں نے انگریزوں کو یہ سب کچھ لوٹنے میں مدد دی تھی، وہ اب جنرل بیرڈ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے انعام کے منتظر تھے۔ میر صادق نے لارڈ ویلزلی سے کیے گئے معاہدے کے مطابق خود کو میسور کا بادشاہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ لیکن قدرت کا انتقام بہت بھیانک ہوتا ہے، اور غدار کا انجام کبھی تخت پر نہیں ہوتا۔ جنرل بیرڈ نے میر صادق کو دیکھ کر ایک حقارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: **"اے میر صادق! تو نے اپنے اس سلطان کے ساتھ غداری کی جس نے تجھے فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھایا، جس نے تجھے اپنا وزیرِ اعظم بنایا اور تجھ پر اندھا اعتماد کیا۔ جو شخص اپنے سلطان اور اپنے دین کا وفادار نہ رہ سکا، وہ انگریزوں کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم نے تجھے استعمال کیا، لیکن ہم غداروں کو عزت نہیں دیتے، بلکہ انہیں ان کے بھیانک انجام تک پہنچاتے ہیں۔"**
جنرل بیرڈ نے میر صادق کو انعام دینے کے بجائے اسے قلعے کے اس شگاف کے پاس، جہاں ٹیپو سلطان نے آخری سانس لی تھی، لے جانے کا حکم دیا۔ جب میر صادق کو انگریز فوج کے نرغے میں اس شگاف کے پاس لایا گیا، تو وہاں نواب کے وہ وفادار سپاہی، جو ابھی تک لڑ رہے تھے اور زخمی حالت میں پڑے تھے، انہوں نے جب اس غدارِ اعظم کو انگریزوں کے ساتھ دیکھا، تو ان کے اندر کا سارا درد، سارا غصہ اور سارا انتقام ایک طوفان کی طرح ابل پڑا۔ ان وفادار سپاہیوں نے، جن میں راجہ خان بھی شامل تھا، اپنے زخمی جسموں کے باوجود میر صادق پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے اس غدار کو پہچان لیا تھا۔ انہوں نے چیخ چیخ کر کہا کہ "یہ ہے وہ میر صادق! جس نے ہمارے سلطان کو مروا دیا! جس نے ہماری سلطنت کا سودا کیا!" ان وفادار سپاہیوں نے میر صادق پر تلواروں، پتھروں اور ہاتھوں سے حملہ کر دیا۔ میر صادق انگریزوں سے رحم کی بھیک مانگتا رہا، لیکن جنرل بیرڈ خاموشی سے کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا۔ نواب کے وفاداروں نے میر صادق کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس غدارِ اعظم کی لاش کو سرنگاپٹم کی گلیوں میں گھسیٹا گیا، اور آخرکار اس کی لاش کو قلعے کی فصیل سے باہر، دریائے کاویری کے کنارے پھینک دیا گیا، جہاں اسے کتے اور گدھ نوچتے رہے۔ مکافاتِ عمل کا قانون مکمل طور پر لاگو ہو چکا تھا۔ جس شخص نے اقتدار اور دولت کی ہوس میں اپنے سلطان کو دھوکہ دیا تھا، قدرت نے اسے ایسی بھیانک، ذلت آمیز اور عبرتناک موت دی کہ آج بھی اس کا تصور کر کے روح کانپ اٹھتی ہے۔ میر صادق کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے غداری، ذلت اور لعنت کی ایک ایسی علامت بن گیا جو قیامت تک مٹائی نہیں جا سکتی۔ اس نے اپنے دین اور اپنے سلطان کا سودا کیا، لیکن بدلے میں اسے صرف عبرتناک موت اور ابدی جہنم ملی۔
میر صادق کے علاوہ دیگر غداروں کا انجام بھی کچھ ایسا ہی عبرتناک ہوا۔ قمر الدین، میر ندیم، اور میر غلام علی، جنہوں نے میر صادق کا ساتھ دیا تھا، ان سب کو انگریزوں نے استعمال کرنے کے بعد بے عزتی اور رسوائی کے ساتھ دربار سے نکال دیا۔ ان کی جائیدادیں لوٹ لی گئیں، اور وہ فاقوں سے مر گئے۔ میر جعفر کی طرح میر صادق نے بھی ثابت کیا کہ مسلمان حکمرانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ان کے اپنے ہی غدار ہوتے ہیں۔ برصغیر کی آزادی کا وہ آخری اور سب سے مضبوط قلعہ، سلطنتِ خداداد میسور، اب راکھ بن چکا تھا۔ انگریزوں نے ٹیپو سلطان کے بیٹوں اور خاندان کو گرفتار کر کے ویلور کے قلعے میں قید کر دیا، اور پورے میسور پر اپنا برطانوی راج قائم کر لیا۔
لیکن جب قلعے میں لوٹ مار کا طوفان تھم گیا اور مئی 1799ء کی وہ خونی رات آ پہنچی، تو انگریزوں کے لیے ایک بہت بڑا سوال باقی تھا: "شیرِ میسور، ٹیپو سلطان، کی لاش کہاں ہے؟" کیا وہ واقعی شہید ہو گیا، یا وہ زخمی حالت میں کہیں چھپا ہوا ہے؟ لارڈ ویلزلی اور جنرل ہیرس کو اس بات کا شدید خوف تھا کہ اگر ٹیپو سلطان زندہ بچ گیا، تو وہ دوبارہ فوج کھڑی کر کے انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرے گا۔ انگریزوں نے رات کے اندھیرے میں، مشعلوں کی روشنی میں، قلعے کے شگاف کے پاس بکھری ہوئی ہزاروں لاشوں کے ڈھیر میں اپنے سب سے بڑے دشمن کی تلاش شروع کی۔ وہ منظر کیسا تھا جب نواب کی وفادار لطف النسا، اپنے شہید شوہر کی لاش ڈھونڈنے کے لیے نکلتی ہے؟ جب انگریزوں کو ٹیپو سلطان کی لاش مل جاتی ہے، تو جنرل بیرڈ کی آنکھوں میں انسو کیوں آ جاتے ہیں؟ اور جب ٹیپو سلطان کی تدفین کی جاتی ہے، تو سرنگاپٹم پر قدرت کا کیسا بھیانک قہر ٹوٹتا ہے کہ انگریز بھی کانپ اٹھتے ہیں؟ یہ سب، اور ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد امتِ مسلمہ پر جو تباہی آئی، اس کا سنسنی خیز اور دلدوز احوال آپ کو اس کہانی کے اگلے حصے میں ملے گا، کیونکہ ابھی تو سرنگاپٹم کی مٹی پر خون کا وہ دریا بہنا تھا جس کی گونج آج بھی دکن کی ہواؤں میں سنائی دیتی ہے۔۔۔ (جاری ہے)



اپریل 1799ء کا وہ دلگیر اور حبس زدہ مہینہ تاریخِ اسلام کے سینے پر ایک ایسا زخم چھوڑ گیا جس سے آج بھی خون رستا ہے۔ سرنگاپ...
14/06/2026

اپریل 1799ء کا وہ دلگیر اور حبس زدہ مہینہ تاریخِ اسلام کے سینے پر ایک ایسا زخم چھوڑ گیا جس سے آج بھی خون رستا ہے۔ سرنگاپٹم، جو کبھی برصغیر میں خوشحالی، امن، طاقت اور اسلامی شان و شوکت کا دھڑکتا ہوا دل تھا، اب کفر اور منافقت کے ایک انتہائی بھیانک، تنگ اور آہنی محاصرے میں آ چکا تھا۔ لارڈ ویلزلی اور جنرل ہیرس کی قیادت میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی پچاس ہزار سے زائد وحشی اور خونخوار فوج نے قلعے کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا، لیکن اس سے بھی زیادہ رلا دینے والا اور جگر چھلنی کر دینے والا منظر وہ تھا جب اس برطانوی فوج کے شانہ بشانہ حیدرآباد دکن کے مسلمان حکمران 'نظام' کی فوجیں بھی کھڑی تھیں۔ کلمہ پڑھنے والے مسلمان فوجی، انگریزوں کے ٹکڑوں پر پل کر، ایک سچے عاشقِ رسول اور مجاہدِ اعظم ٹیپو سلطان کے سینے پر گولیاں برسانے کے لیے بے تاب تھے۔ ٹیپو سلطان قلعے کی فصیل پر کھڑا جب اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو کفر کے جھنڈے تلے کھڑا دیکھتا ہوگا، تو اس کے دل پر کیا قیامت گزرتی ہوگی، اس کا اندازہ لگانا بھی ہماری سوچ سے باہر ہے۔ لیکن شیرِ میسور کے چہرے پر نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی اس کے پائے استقلال میں کوئی لغزش۔ اس نے اپنے جوانوں کو حکم دیا کہ جب تک جسم میں خون کا آخری قطرہ اور سینے میں آخری سانس باقی ہے، سرنگاپٹم کی مٹی پر کسی ناپاک قدم کو پڑنے نہیں دیا جائے گا۔ ٹیپو سلطان کی توپوں نے ایسا آگ کا مینہ برسایا اور اس کے راکٹوں نے انگریزوں کی صفوں میں وہ تباہی مچائی کہ جنرل ہیرس کے اوسان خطا ہو گئے۔ انگریزوں کو یہ محاصرہ ایک ڈراؤنا خواب لگنے لگا تھا۔ ان کے پاس راشن ختم ہو رہا تھا، بیماریاں پھیل رہی تھیں اور اگر محاصرہ چند دن اور کھینچ جاتا، تو مون سون کی بارشیں شروع ہو جاتیں اور دریائے کاویری میں سیلاب آ جاتا، جو سرنگاپٹم کے قلعے کی قدرتی حفاظت کرتا تھا۔ انگریزوں کے خیموں میں مایوسی اور موت کا خوف ناچنے لگا تھا۔ جنرل ہیرس یہ جان چکا تھا کہ اس قلعے کو باہر کی طاقت سے، بہادری سے یا توپوں کے گولوں سے قیامت تک فتح نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن لارڈ ویلزلی مطمئن تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جو کام انگریزوں کی توپیں نہیں کر سکتیں، وہ کام میر صادق اور اس کے ساتھیوں کی غداری کرے گی۔ یہیں سے سرنگاپٹم کے قلعے کے اندر غداری، منافقت اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا وہ غلیظ ترین اور مکروہ کھیل شروع ہوا جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ میر صادق، جو سلطنت کا وزیرِ اعظم اور سلطان کا سب سے قریبی معتمد تھا، اس نے قلعے کے اندر رہتے ہوئے ٹیپو سلطان کی فوج کی جڑیں کاٹنا شروع کر دیں۔ اس نے سب سے پہلا وار فوج کے حوصلے اور ان کے ہتھیاروں پر کیا۔ میر صادق نے اپنے غدار کارندوں کے ذریعے بارود خانوں میں ریت، مٹی اور پانی ملوانا شروع کر دیا تاکہ جب نواب کے سپاہی انگریزوں پر فائر کریں، تو بندوقیں اور توپیں آگ ہی نہ اگل سکیں۔ ایک طرف قلعے کی فصیلوں پر نواب کے وفادار سپاہی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر لڑ رہے تھے، اور دوسری طرف ان کا اپنا وزیرِ اعظم ان کے بارود کو ناکارہ بنا کر انہیں موت کے منہ میں دھکیل رہا تھا۔ اس غدار کی سفاکی یہیں نہیں رکی، میر صادق اور دیوان پورنیا نے فوج کی تنخواہیں جان بوجھ کر روک لیں، راشن گوداموں میں چھپا دیا گیا اور سپاہیوں میں یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ ٹیپو سلطان جان بوجھ کر تمہیں بھوکا مار رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ٹیپو سلطان سے محبت کرنے والے جوانوں نے اف تک نہ کی اور فاقوں میں بھی قلعے کا دفاع جاری رکھا۔ جب میر صادق نے دیکھا کہ جوانوں کا حوصلہ نہیں ٹوٹ رہا، تو اس نے انگریزوں تک قلعے کے سب سے کمزور اور خفیہ حصوں کے نقشے پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ رات کے اندھیرے میں میر صادق کے خاص آدمی، فقیروں اور کسانوں کے بھیس میں، قلعے کی دیواروں سے رسیاں لٹکا کر نیچے اترتے اور جنرل ہیرس کے خیمے میں جا کر اسے بتاتے کہ قلعے کی مغربی دیوار، جو دریائے کاویری کی طرف ہے، وہ سب سے کمزور ہے اور دریا کا پانی بھی وہاں بہت کم ہے۔ ان غداروں نے انگریزوں کو مشورہ دیا کہ اپنی ساری توپوں کا رخ قلعے کے اسی مغربی زاویے کی طرف کر دو۔ انگریزوں نے فوری طور پر اپنی حکمتِ عملی بدلی اور اپنی بھاری توپوں سے قلعے کی مغربی دیوار پر اس قدر شدید گولہ باری شروع کی کہ اس کی مضبوط فصیلیں درکنے لگیں اور ان میں ایک بڑا شگاف پڑ گیا۔ ٹیپو سلطان کا ایک انتہائی وفادار، بہادر اور جانثار کمانڈر 'سید غفار' قلعے کی اسی دیوار پر تعینات تھا۔ سید غفار ایک سچا مجاہد تھا، اس کی تیز نگاہوں نے میر صادق کی غداری کو بھانپ لیا تھا۔ اس نے دیکھا کہ میر صادق جان بوجھ کر اس شگاف کی مرمت کے لیے سامان نہیں بھیج رہا اور وہاں سے وفادار دستوں کو ہٹا کر اپنے منظورِ نظر بزدل افسروں کو کھڑا کر رہا ہے۔ سید غفار نے خون کے آنسو روتے ہوئے کئی بار ٹیپو سلطان تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی کہ "سلطانِ معظم! میر صادق غدار ہے، یہ انگریزوں سے مل چکا ہے، اسے فوراً قتل کر دیں ورنہ یہ سلطنت کا سودا کر دے گا!" لیکن میر صادق نے ٹیپو سلطان کے گرد اپنے آدمیوں کا ایسا گھیرا ڈال رکھا تھا کہ سید غفار کا کوئی بھی خط یا قاصد سلطان تک پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا تھا۔ ٹیپو سلطان کو یہ یقین دلایا جاتا رہا کہ حالات مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہیں اور سید غفار بلاوجہ گھبرا رہا ہے۔ ٹیپو سلطان کو غداروں نے ایک ایسے طلسم کدے میں قید کر دیا تھا جہاں اسے صرف وہی دکھایا جاتا جو میر صادق چاہتا تھا۔ اپریل کے آخری ایام میں جب قلعے کی دیوار میں پڑنے والا شگاف بہت بڑا ہو گیا، تو انگریزوں نے ایک انتہائی ذلت آمیز صلح نامہ ٹیپو سلطان کو بھیجا۔ انہوں نے شرط رکھی کہ اگر ٹیپو سلطان اپنی آدھی سلطنت، دو کروڑ روپے اور اپنے بیٹوں کو دوبارہ یرغمال کے طور پر انگریزوں کے حوالے کر دے، تو محاصرہ اٹھا لیا جائے گا۔ اس وقت ٹیپو سلطان کے وزراء نے، جن میں میر صادق بھی شامل تھا، سلطان کو مشورہ دیا کہ جان بچانے کے لیے انگریزوں کی یہ شرائط مان لی جائیں۔ لیکن یہ وہ لمحہ تھا جب ٹیپو سلطان کی ایمانی غیرت اور اس کا شاندار کردار تاریخ کے ماتھے پر سورج کی طرح چمک اٹھا۔ شیرِ میسور نے اس ذلت آمیز معاہدے کو پاؤں کی ٹھوکر پر مارتے ہوئے انگریزوں کے قاصد کو وہ تاریخی اور ایمان افروز جواب دیا جس نے آج تک دنیا کے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر رکھا ہے۔ ٹیپو سلطان نے گرجتے ہوئے فرمایا: "اگر میرے پاس ایک دن کی زندگی بھی باقی ہے، تو میں اسے شیر کی طرح گزارنا پسند کروں گا۔ مجھے گیدڑ کی وہ سو سالہ زندگی ہرگز قبول نہیں جو غلامی اور ذلت کی زنجیروں میں جکڑی ہو۔" اس جواب نے لارڈ ویلزلی اور جنرل ہیرس کو یہ پیغام دے دیا کہ ٹیپو سلطان کبھی سرنڈر نہیں کرے گا، اور اسے ہرانے کا واحد راستہ اب صرف اور صرف غداری ہے۔ 3 مئی 1799 کی وہ رات سرنگاپٹم پر ایک انتہائی بھاری اور خونی رات تھی۔ انگریزوں نے قلعے کے شگاف کو مزید چوڑا کر دیا تھا اور وہ اگلے دن حتمی حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ دوسری طرف میر صادق، قمر الدین، میر غلام علی اور دیوان پورنیا نے اپنے محلات کے بند کمروں میں بیٹھ کر غداری کے اس حتمی اور ماسٹر مائنڈ منصوبے کو شکل دی جس نے اگلے دن سلطنتِ خداداد کا گلا گھونٹ دینا تھا۔ میر صادق نے انگریزوں کو خفیہ پیغام بھیجا کہ وہ 4 مئی کی دوپہر کو حملہ کریں۔ یہ وقت جان بوجھ کر اس لیے چنا گیا کیونکہ دوپہر کی شدید گرمی میں مسلمان فوجی اور پہرے دار آرام کرتے تھے، اور انگریز اس وقت حملے کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ 4 مئی 1799 کی صبح طلوع ہوئی۔ یہ ٹیپو سلطان کی زندگی کا آخری دن تھا۔ سلطان معمول کے مطابق فجر کی نماز کے بعد تلاوت میں مشغول تھا۔ نجومیوں اور قریبی لوگوں نے سلطان کو متنبہ کیا تھا کہ آج کا دن آپ کی جان کے لیے انتہائی بھاری اور خطرناک ہے۔ ٹیپو سلطان جو موت سے بے نیاز تھا، اس نے غریبوں میں بے پناہ صدقہ و خیرات تقسیم کیا، اور اپنا جنگی لباس زیب تن کر کے قلعے کے اس شگاف کا معائنہ کرنے نکلا جہاں سے دشمن کے حملے کا خطرہ تھا۔ سلطان نے وہاں موجود جوانوں کا حوصلہ بڑھایا اور دوپہر کے وقت واپس اپنے خیمے میں آ کر ظہر کی نماز ادا کی اور کھانا کھانے کے لیے بیٹھا۔ ابھی اس نے بمشکل ایک نوالہ ہی توڑا تھا کہ ایک انتہائی لرزہ خیز خبر نے اس کے دل کو چیر دیا۔ قاصد نے آ کر روتے ہوئے خبر دی کہ "سلطانِ معظم! سید غفار شہید ہو گئے ہیں!" سید غفار، جو قلعے کے اس شگاف کا سب سے بڑا محافظ اور سلطنت کا آخری سچا وفادار کمانڈر تھا، وہ انگریزوں کے ایک گولے کا نشانہ بن کر جانِ آفرین کے سپرد کر چکا تھا۔ یہ خبر ٹیپو سلطان کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھی۔ اس نے فوراً کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا، پانی سے ہاتھ دھوئے اور فرمایا: "الحمدللہ! سید غفار نے اپنی جان اللہ کے راستے میں قربان کر دی۔ اب ہمارا بھی وقت آ گیا ہے۔ ہم بھی اپنے اس بہادر ساتھی کے پاس جا رہے ہیں۔" سلطان نے اپنی وہ مشہور اور ہیبت ناک تلوار اٹھائی، اپنی ڈھال پہنی، اور ایک شیر کی طرح خیمے سے باہر نکل آیا۔ لیکن جب ٹیپو سلطان قلعے کی فصیل کی طرف بڑھ رہا تھا، تو اس وقت قلعے کے شگاف پر میر صادق تاریخ کا وہ سب سے غلیظ اور شرمناک کھیل کھیل چکا تھا جس کی توقع کسی شیطان سے بھی نہیں کی جا سکتی۔ میر صادق جانتا تھا کہ جب تک قلعے کے شگاف پر ٹیپو سلطان کے وفادار اور جانثار فوجی موجود ہیں، انگریز اندر داخل نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ جیسے ہی دوپہر کا ایک بجا اور انگریزوں کے حملے کا وقت قریب آیا، میر صادق نے قلعے کے دفاعی مورچوں پر موجود ان تمام سپاہیوں کو یہ جھوٹا اور دھوکہ دہی پر مبنی حکم جاری کر دیا کہ "فوراً اپنے مورچے چھوڑ کر پے ماسٹر (تنخواہ بانٹنے والے) کے پاس جاؤ، سلطان نے تمہاری کئی مہینوں سے رکی ہوئی تنخواہیں جاری کر دی ہیں، جاؤ اور اپنا اپنا راشن اور تنخواہ وصول کرو!" بیچارے بھوکے اور پیاسے سپاہی، جو کئی مہینوں سے فاقہ کشی کا شکار تھے، وہ اس غدار وزیر کے جھوٹے حکم کو سلطان کا حکم سمجھے اور قلعے کا وہ انتہائی اہم شگاف چھوڑ کر تنخواہ لینے کے لیے نیچے آ گئے۔ میر صادق کے اس ایک غلیظ اور منافقانہ حکم نے قلعے کے دروازے مکمل طور پر خالی کر دیے۔ شگاف پر کوئی دفاع کرنے والا باقی نہ بچا۔ عین اسی لمحے، جب شگاف خالی ہوا، میر صادق نے قلعے کی فصیل سے اپنی سفید پگڑی اتار کر انگریزوں کو اشارہ کر دیا کہ راستہ صاف ہے، اندر آ جاؤ! جنرل ہیرس کا اشارہ پاتے ہی جنرل بیرڈ اپنی خونخوار برطانوی فوج کے ساتھ دریائے کاویری کو پار کرتا ہوا، ایک طوفان کی طرح اس شگاف کی طرف بڑھا جہاں کوئی رکاوٹ، کوئی بندوق اور کوئی تلوار ان کا راستہ روکنے کے لیے موجود نہیں تھی۔ میر صادق کی غداری کی وجہ سے، ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ چند منٹوں کے اندر ٹوٹ چکا تھا۔ انگریز فوجی گدھوں اور درندوں کی طرح قلعے کے اندر داخل ہونے لگے۔ جب ٹیپو سلطان کو اس بھیانک غداری کا علم ہوا اور اس نے انگریزوں کو قلعے میں داخل ہوتے دیکھا، تو اس نے بھاگنے، چھپنے یا رحم کی بھیک مانگنے کے بجائے وہ فیصلہ کیا جو صرف ایک سچا عاشقِ رسول ہی کر سکتا ہے۔ سلطان نے اپنے چند مٹھی بھر وفادار جانثاروں کے ساتھ کفر کے اس سیلاب کا رخ کیا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ انگریزوں تک پہنچتا، میر صادق نے ایک اور ایسا خنجر گھونپا جس نے سلطان کے تمام راستے بند کر دیے۔ جب شیرِ میسور اکیلا انگریز فوج کے سمندر میں کودنے کے لیے آگے بڑھا، تو میر صادق نے قلعے کے اندرونی دروازے بند کروا دیے تاکہ سلطان نہ تو واپس محل میں جا سکے اور نہ ہی اس کے باقی دستے اس کی مدد کو پہنچ سکیں۔ سلطان غداروں کے بچھائے ہوئے اس خونی جال میں مکمل طور پر پھنس چکا تھا، اس کے چاروں طرف صرف موت تھی، گولیاں تھیں اور غداری کا وہ زہر تھا جو اس کی اپنی ہی سلطنت کی جڑوں سے نکل رہا تھا۔ لیکن ایک شیر کا مقدر کبھی گیدڑوں کے ہاتھوں میں نہیں ہوتا۔ ٹیپو سلطان نے وہ جنگ کیسے لڑی جب وہ اکیلا سینکڑوں انگریزوں کے سامنے کھڑا تھا؟ جب اس کے جسم کو گولیوں نے چھلنی کر دیا، تو اس نے اپنے خون سے لت پت حالت میں انگریز افسر کو کیا جواب دیا؟ اور وہ میر صادق، جس نے چند سکوں اور کرسی کی خاطر اس مردِ مجاہد کا سودا کیا تھا، جب قلعے میں انگریز داخل ہو گئے تو اس غدارِ اعظم کی اپنی موت کس قدر بھیانک، ذلت آمیز اور عبرتناک طریقے سے ہوئی کہ آج بھی اس کا تصور کر کے روح کانپ اٹھتی ہے؟ یہ سب رونگٹے کھڑے کر دینے والے، آنکھیں نم کر دینے والے اور تاریخ کے سب سے تلخ حقائق پر مبنی واقعات آپ کو اس سیریز کے تیسرے حصے میں ملیں گے، کیونکہ ابھی تو سرنگاپٹم کے ان دروازوں پر خون کا وہ دریا بہنا تھا جو قیامت تک غداروں کے چہروں پر لعنت بن کر برستا رہے گا۔۔۔ (جاری ہے)


14/06/2026

مرشد آباد کے شاہی محل کے در و دیوار، جو کبھی نواب سراج الدولہ کی ہیبت سے گونجتے تھے، اب میر جعفر کی مجرمانہ اور کھوکھلی ہنسی کا ماتم کر رہے تھے۔ میر جعفر تخت پر تو بیٹھ گیا تھا، اس کے سر پر تاج بھی تھا اور اسے 'نوابِ بنگال' بھی کہا جانے لگا تھا، لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ جو تاج خریدا جاتا ہے، اس کی قیمت روزانہ ادا کرنی پڑتی ہے۔ رابرٹ کلائیو اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسران مرشد آباد میں ایسے پھیل چکے تھے جیسے کسی مردہ جانور پر گدھ منڈلاتے ہیں۔ انگریزوں کی ہوس کا کوئی پیمانہ نہیں تھا۔ انہوں نے میر جعفر سے جنگ کے تاوان اور انعام کے نام پر اتنا سونا، چاندی اور ہیرے جواہرات لوٹے کہ مرشد آباد کا وہ شاہی خزانہ، جسے علی وردی خان نے دہائیوں کی محنت سے بھرا تھا، محض چند مہینوں میں کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گیا۔ جب خزانہ خالی ہو گیا، تو میر جعفر نے اپنی عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی۔ وہ عوام جس نے سراج الدولہ کے حق میں آواز نہیں اٹھائی تھی، اب غداری کے اس عذاب کا مزہ چکھ رہی تھی۔ بنگال، جو کبھی پورے ہندوستان کا پیٹ پالتا تھا، وہاں فاقوں کی نوبت آ گئی۔
میر جعفر کو اب شدت سے احساس ہونے لگا تھا کہ اس نے بادشاہت نہیں، بلکہ ایک ایسی ذلت آمیز غلامی خریدی ہے جس میں اس کی حیثیت ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک ادنیٰ کلرک سے زیادہ نہیں ہے۔ انگریز افسران جب دربار میں آتے تو وہ جوتے پہن کر سیدھے تخت کے قریب چلے جاتے، میر جعفر کی بے عزتی کرتے اور مزید پیسوں کا مطالبہ کرتے۔ نواب کے محافظ خاموش کھڑے رہتے کیونکہ انہیں تنخواہ اب انگریزوں کے خزانچی سے ملتی تھی۔ میر جعفر کی راتوں کی نیندیں اڑ چکی تھیں۔ اسے ہر وقت سراج الدولہ کا کٹا ہوا سر اور خون آلود چہرہ یاد آتا تھا۔ لیکن غدار کا اصل امتحان تو ابھی شروع ہونا تھا۔ مکافاتِ عمل کا وہ پہیہ، جس کی چکی بہت باریک پیستی ہے، اب پوری طاقت سے میر جعفر اور اس کے خاندان کو کچلنے کے لیے گھومنے والا تھا۔
پلاسی کی جنگ کو ابھی صرف تین سال گزرے تھے کہ 1760ء میں وہ ہولناک واقعہ پیش آیا جس نے ثابت کر دیا کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ میر جعفر کا وہ درندہ صفت اور خونخوار بیٹا، میران، جس نے محض تخت کے لالچ میں نواب سراج الدولہ کو بے دردی سے ذبح کروایا تھا، اس پر قدرت کا ایسا بھیانک قہر ٹوٹا کہ تاریخ کانپ اٹھتی ہے۔ میران اپنی فوج کے ساتھ بہار کے علاقے میں ایک باغی کا پیچھا کر رہا تھا۔ رات کا وقت تھا اور آسمان پر کالی اور خوفناک گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ اچانک ایک زبردست طوفان آیا۔ میران اپنے خیمے میں ایک رقاصہ اور ایک خادم کے ساتھ موجود تھا اور شراب کے نشے میں دھت تھا۔ آسمان سے بجلی کی ایک ایسی کڑکدار اور خوفناک لہر اتری جس نے سیدھا میران کے خیمے کو نشانہ بنایا۔ وہ بجلی کا کڑکا اتنا شدید تھا کہ خیمے میں آگ لگ گئی۔ جب صبح فوجیوں نے خیمے کی راکھ ہٹائی، تو اندر سراج الدولہ کے قاتل، میران کا جسم کوئلے کی طرح جل کر بھسم ہو چکا تھا۔ اس کا چہرہ اس قدر مسخ اور بھیانک ہو چکا تھا کہ اسے پہچاننا بھی ناممکن تھا۔ قدرت نے اس ظالم کا نام و نشان مٹا دیا تھا، اور اس کی جلی ہوئی لاش کو دیکھ کر کوئی آنسو بہانے والا نہیں تھا۔
بیٹے کی اس دردناک موت نے میر جعفر کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر کھوکھلا ہو گیا۔ لیکن انگریزوں کے دل میں اپنے اس کٹھ پتلی نواب کے لیے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ کلائیو تو جا چکا تھا، لیکن نئے انگریز افسران نے دیکھا کہ میر جعفر اب انہیں مزید پیسے نہیں دے سکتا۔ اس لیے انہوں نے غداری کا ایک اور گھناؤنا کھیل کھیلا۔ انگریزوں نے 1760ء میں میر جعفر کو اسی تخت سے دھکے دے کر اتار دیا جس کے لیے اس نے اپنا دین اور ایمان بیچا تھا۔ انگریزوں نے میر جعفر کی جگہ اس کے داماد 'میر قاسم' کو نیا نواب بنا دیا۔ میر جعفر، جو کبھی بنگال کا سب سے طاقتور سپہ سالار تھا، اسے انتہائی ذلت اور رسوائی کے ساتھ مرشد آباد سے نکال کر کلکتہ بھیج دیا گیا، جہاں وہ انگریزوں کے وظیفے پر ایک فقیروں اور قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا۔ جو شخص تخت کے لیے سراج الدولہ کو مار سکتا تھا، آج وہ اپنے ہی محلات سے نکالا جا چکا تھا اور اس کی کوئی اوقات نہیں تھی۔
تاہم، کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کچھ سال بعد جب میر قاسم نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی (جنگِ بکسر کی صورت میں)، تو انگریزوں نے 1763ء میں میر جعفر کو ایک بار پھر قبر سے نکال کر تخت پر بٹھا دیا۔ لیکن اس بار وہ ایک زندہ لاش تھا۔ اس کی عمر 70 سال سے تجاوز کر چکی تھی اور قدرت نے اس پر ایک ایسی غلیظ اور اذیت ناک بیماری مسلط کر دی تھی جس نے اس کی آخری سانسوں کو جہنم بنا دیا۔ میر جعفر 'جذام' (کوڑھ) اور استسقاء (Dropsy) جیسی ہولناک بیماریوں کا شکار ہو گیا۔ اس کا وہ جسم جو ریشم اور کمخواب پہنتا تھا، اس پر بڑے بڑے پیپ بھرے پھوڑے نکل آئے۔ اس کا گوشت گلنے لگا اور اس کے جسم سے ایسی شدید اور ناقابلِ برداشت بدبو آنے لگی کہ اس کے اپنے نوکر، بیویاں اور دربار کے لوگ اس کے کمرے میں جانے سے کترانے لگے۔ وہ محل کے ایک کونے میں پڑا درد سے چیختا اور تڑپتا رہتا تھا، لیکن کوئی اس کی کراہیں سننے والا نہیں تھا۔
موت کے بالکل قریب پہنچ کر میر جعفر پر ایک اور نفسیاتی اور روحانی عذاب نازل ہوا۔ درد کی شدت اور موت کے خوف نے اسے اس حد تک پاگل کر دیا کہ اس نے اپنے مسلمان ہونے کا بھرم بھی گنوا دیا۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ میر جعفر کے ایک ہندو وزیر، نند کمار نے اسے مشورہ دیا کہ اگر وہ ایک خاص ہندو مندر (کریٹیشوری مندر) کی دیوی کے قدموں کا پانی پیے گا تو اس کی بیماری ٹھیک ہو جائے گی۔ میر جعفر، جس نے چند سال پہلے قرآن پر ہاتھ رکھ کر نواب سراج الدولہ سے جھوٹی قسم کھائی تھی، آج وہ مرتے وقت مندروں کا پانی پی رہا تھا اور مورتوں کے آگے منتیں کر رہا تھا۔ لیکن اس غدار کے لیے اب نہ زمین پر کوئی پناہ تھی اور نہ آسمان پر۔ جنوری 1765ء میں، انتہائی ذلت، درد، تنہائی اور جسمانی سڑاند کے ساتھ، میر جعفر کی روح اس کے گلے سڑے جسم سے پرواز کر گئی۔ وہ مر گیا، لیکن مرنے کے بعد بھی اسے وہ سکون نہیں ملا جو ایک عام کسان کو مل جاتا ہے۔
میر جعفر نے اپنی غداری سے ہندوستان کی جس غلامی کا دروازہ کھولا تھا، اس نے پورے برصغیر کو دو سو سال تک برطانیہ کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ پلاسی کے میدان میں ہونے والے اس ایک سودے نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو اتنا طاقتور بنا دیا کہ انہوں نے پورے ہندوستان کو ہڑپ کر لیا، ٹیپو سلطان کو شہید کیا، بہادر شاہ ظفر کو جلاوطن کیا، اور لاکھوں معصوم انسانوں کا خون بہایا۔ یہ سب صرف ایک میر جعفر کی اقتدار کی ہوس کا نتیجہ تھا۔
آج میر جعفر کی قبر مرشد آباد کے علاقے 'جعفر گنج' کے ایک احاطے میں موجود ہے، جو ویران، خستہ حال اور تاریک ہے۔ اس کے محلات کھنڈر بن چکے ہیں۔ اس کے برعکس، نواب سراج الدولہ کی قبر پر آج بھی لوگ جاتے ہیں اور اسے ایک ہیرو کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ قدرت کا سب سے بڑا اور عبرتناک انتقام جو میر جعفر کے حصے میں آیا، وہ یہ ہے کہ اس کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک 'گالی' بن گیا۔ آج صدیاں گزر جانے کے بعد بھی، برصغیر پاک و ہند کی کسی ماں نے اپنے بیٹے کا نام 'میر جعفر' نہیں رکھا۔ جب بھی کسی شخص کو غدار، بکاؤ اور وطن فروش کہنا ہو، تو اسے 'میر جعفر' کہا جاتا ہے۔ اس کا نام اردو اور ہندی لغات میں غداری کے مترادف کے طور پر ہمیشہ کے لیے درج ہو چکا ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ خونِ جگر سے لکھا ہوا سبق دیتی ہے کہ بیرونی طاقتیں کبھی آپ کے ملک، آپ کے دین اور آپ کی آزادی کو نہیں چھین سکتیں، جب تک کہ آپ کی اپنی صفوں میں کوئی میر جعفر موجود نہ ہو۔ تخت اور طاقت کا لالچ انسان کو اس مقام تک گرا دیتا ہے جہاں اسے اپنا ضمیر بیچنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا، لیکن اس عارضی تخت کی قیمت آنے والی نسلوں کو صدیوں تک اپنے خون اور غلامی سے چکانی پڑتی ہے۔ سراج الدولہ تو پلاسی کے میدان میں ہار کر بھی تاریخ میں امر ہو گیا، لیکن میر جعفر تخت پر بیٹھ کر بھی قیامت تک کے لیے ذلیل و خوار ہو گیا۔ اور غداروں کا انجام، چاہے وہ کسی بھی دور میں ہوں، ہمیشہ مرشد آباد کے اسی ویران اور غلیظ قید خانے جیسا ہوتا ہے۔
**(ختم شد)**

دنیا کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، اس کے اوراق پر مسلمانوں کی شجاعت، دلیری اور حریت کی داستانیں سنہرے حروف سے لکھی ملیں ...
14/06/2026

دنیا کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، اس کے اوراق پر مسلمانوں کی شجاعت، دلیری اور حریت کی داستانیں سنہرے حروف سے لکھی ملیں گی، لیکن انہی اوراق کے حاشیوں پر مسلمانوں کے زوال کی وہ خون آلود اور تکلیف دہ تاریخ بھی درج ہوگی جس میں دشمن کی تلواروں سے زیادہ اپنوں کی غداریوں نے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ تاریخ کا یہ اٹل اور بھیانک سچ ہے کہ اسلام کے قلعوں کو کبھی کافروں کی توپوں نے نہیں توڑا، بلکہ ان قلعوں کے دروازے ہمیشہ اندر بیٹھے منافقوں اور غداروں نے کھولے ہیں۔ جنگِ پلاسی میں میر جعفر کی غداری کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورے بنگال کو نگل لیا تھا اور برصغیر میں ان کی جڑیں مضبوط ہو چکی تھیں۔ انگریزوں کو لگنے لگا تھا کہ اب پورے ہندوستان پر قبضہ کرنا محض چند سالوں کی بات ہے، کیونکہ مغلیہ سلطنت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور ہندوستان کے چھوٹے موٹے نواب اور راجے مہاراجے انگریزوں کی طاقت اور پیسے کے آگے سجدہ ریز ہو چکے تھے۔ لیکن جب انگریزوں نے ہندوستان کے جنوب (دکن) کی طرف نظر دوڑائی، تو ان کے غرور اور طاقت کے راستے میں ایک ایسا فولادی پہاڑ کھڑا تھا جس کی ہیبت سے لندن کے ایوانوں میں بیٹھے انگریز حکمرانوں کی نیندیں اڑ جاتی تھیں۔ یہ فولادی دیوار سلطنتِ خداداد میسور تھی، اور اس کا حکمران تاریخِ اسلام کا وہ عظیم، نڈر، اور سچا عاشقِ رسول تھا جسے دنیا 'شیرِ میسور' نواب ٹیپو سلطان کے نام سے جانتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان کا ہر مسلمان حکمران اپنی جان اور مال بچانے کے لیے انگریزوں سے سمجھوتے کر رہا تھا، لیکن ٹیپو سلطان وہ واحد مردِ مجاہد تھا جس نے انگریزوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارا اور یہ تاریخی اور ایمان افروز نعرہ بلند کیا کہ "گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔" آج ہم اسی شیرِ میسور کی وہ رلا دینے والی داستان شروع کر رہے ہیں، جس میں کفر کی طاقتیں تو ہار چکی تھیں، لیکن غداری کے زہر نے مسلمانوں کے اس آخری قلعے کو کیسے راکھ میں بدل دیا، یہ جان کر آپ کا خون بھی کھولے گا اور آنکھیں بھی نم ہوں گی۔
ٹیپو سلطان محض ایک بادشاہ نہیں تھا، وہ اپنے دور کا ایک عظیم سائنسدان، ایک دور اندیش سیاستدان، اور ایک سچا مردِ مومن تھا۔ اس کی صبح کا آغاز تلاوتِ قرآن سے ہوتا تھا، وہ باوضو رہے بغیر کسی سرکاری کاغذ پر دستخط نہیں کرتا تھا، اور اس کے دل میں امتِ مسلمہ کا وہ درد تھا جو آج کے حکمرانوں میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ جب ٹیپو سلطان نے اپنے والد نواب حیدر علی کے بعد سلطنتِ خداداد کا تخت سنبھالا، تو اسے بخوبی اندازہ تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کوئی تاجروں کی جماعت نہیں، بلکہ یہ وہ سفید فام بھیڑیے ہیں جو پورے ہندوستان کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔ ٹیپو سلطان نے اپنی فوج کو جدید ترین یورپی طرز پر منظم کیا۔ اس نے تاریخ میں پہلی بار جنگی راکٹ (Mysorean Rockets) ایجاد کیے، جن کے خ*ل لوہے کے بنے ہوتے تھے اور ان کے ساتھ تیز دھار تلواریں بندھی ہوتی تھیں۔ جب یہ راکٹ اڑتے ہوئے انگریزوں کی صفوں میں گرتے، تو انگریز فوجیوں کے چیتھڑے اڑ جاتے تھے۔ ٹیپو کی معاشی پالیسیوں نے میسور کو پورے ہندوستان کا سب سے خوشحال، امیر اور ترقی یافتہ ریاست بنا دیا تھا۔ اس نے فرانسیسیوں کے ساتھ مل کر بحری بیڑے بنانے شروع کیے اور سلطنتِ عثمانیہ کے خلیفہ، افغان حکمران زمان شاہ، اور فرانس کے نپولین بوناپارٹ کو خطوط لکھے کہ آؤ مل کر ان انگریزوں کو ہندوستان اور ایشیا سے نکال باہر کریں۔ ٹیپو سلطان کی اس عالمی سوچ، اس کی بے پناہ طاقت اور اس کے ناقابلِ شکست جذبۂ جہاد نے انگریزوں کو یہ باور کرا دیا تھا کہ جب تک ٹیپو سلطان زندہ ہے، ہندوستان پر برطانوی راج کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ لارڈ کارنوالس اور بعد ازاں لارڈ رچرڈ ویلزلی جیسے شاطر انگریز گورنروں نے کھلے میدانوں میں کئی بار ٹیپو سلطان کا مقابلہ کیا، لیکن ہر بار انہیں شیرِ میسور کی تلوار کے سامنے ذلت آمیز پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ انگریز جان چکے تھے کہ اس مردِ آہن کو جنگ میں ہرانا ناممکن ہے۔
یہیں سے انگریزوں نے وہ پرانا، غلیظ اور آزمودہ شیطانی کھیل کھیلنا شروع کیا جس نے ہمیشہ مسلمانوں کی صفوں کو توڑا ہے۔ انگریزوں نے سب سے پہلے ٹیپو سلطان کو تنہا کرنے کی سازش کی۔ انہوں نے مسلمانوں کے اندر ہی موجود منافقوں کو خریدا۔ حیدرآباد دکن کا مسلمان حکمران 'نظام' جو خود کو ایک آزاد نواب سمجھتا تھا، وہ انگریزوں کی چکنی چپڑی باتوں، دولت اور اپنی ذاتی حسد کا شکار ہو گیا۔ نظامِ حیدرآباد نے یہ سوچنے کے بجائے کہ ٹیپو سلطان ایک مسلمان بھائی ہے جو کفر کے خلاف کھڑا ہے، اس نے انگریزوں اور مرہٹوں کے ساتھ مل کر ٹیپو سلطان کے خلاف ایک ناپاک اور غلیظ اتحاد بنا لیا۔ یہ اسلام کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب ہے جب ایک مسلمان حکمران کا خون بہانے کے لیے دوسرا کلمہ گو حکمران انگریزوں کی صف میں کھڑا تھا۔ نظامِ حیدرآباد اور مرہٹوں کی اس کھلی غداری نے ٹیپو سلطان کو بیرونی محاذ پر شدید مشکلات میں ڈال دیا، لیکن شیرِ میسور کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ وہ اپنی جگہ چٹان کی طرح ڈٹا رہا۔ جب انگریزوں نے دیکھا کہ تین بڑی طاقتوں (انگریز، نظام اور مرہٹے) کے اتحاد کے باوجود ٹیپو سلطان کا قلعہ نہیں ٹوٹ رہا، تو لارڈ ویلزلی نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میر جعفر کی اس گندی روح کو دوبارہ زندہ کیا جائے، اور اس بار یہ خنجر ٹیپو سلطان کے قلعے سرنگاپٹم کے اندر سے چلے گا۔ انگریزوں نے اپنے شاطر ترین جاسوسوں کو فقیروں، تاجروں اور سفارت کاروں کے بھیس میں سلطنتِ خداداد کے دارالحکومت سرنگاپٹم میں داخل کرنا شروع کر دیا۔ ان کا مشن ایک ہی تھا: نواب کے دربار میں موجود ان غداروں کو تلاش کرو جن کی رگوں میں غیرت کے بجائے اقتدار اور دولت کی ہوس دوڑ رہی ہو، اور جو چند سکوں کے عوض اپنے دین اور اپنے سلطان کا سودا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
بدقسمتی سے، جہاں ایک سچے مسلمان کی صف میں مخلص جانثار ہوتے ہیں، وہیں منافقین بھی ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ٹیپو سلطان کا دربار، جو غازیوں اور شہیدوں سے بھرا ہوا تھا، وہاں بھی ایک ایسا آستین کا سانپ موجود تھا جس کا نام تاریخِ اسلام میں میر جعفر کے ساتھ ایک گالی بن کر درج ہے۔ اس شخص کا نام 'میر صادق' تھا۔ میر صادق کوئی معمولی شخص نہیں تھا۔ وہ نواب حیدر علی کے دور سے سلطنتِ خداداد میں موجود تھا اور ٹیپو سلطان کے قریب ترین اور انتہائی معتمد وزیروں میں شمار ہوتا تھا۔ اس نے اپنی چاپلوسی، منافقت اور ظاہری دینداری سے ٹیپو سلطان کا مکمل اعتماد حاصل کر لیا تھا، یہاں تک کہ ٹیپو سلطان نے اسے سلطنت کا وزیرِ اعظم (میر آصف) اور وزیرِ خزانہ بنا دیا تھا۔ میر صادق کے پاس سلطنت کے تمام راز، فوج کی تنخواہوں کا نظام، اور قلعے کے دفاع کی مکمل ذمہ داریاں تھیں۔ لیکن اس شخص کے سینے میں جو دل دھڑکتا تھا، وہ ایک سچے مسلمان کا نہیں بلکہ ایک بکاؤ غدار کا تھا۔ میر صادق کو یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ ٹیپو سلطان کی مسلسل انگریزوں سے دشمنی سلطنت کو تباہ کر دے گی اور اس کے اقتدار اور دولت کے خواب خاک میں مل جائیں گے۔ اسے میسور کے تخت کی ہوس نے اندھا کر دیا تھا۔ وہ راتوں کو اپنے محل میں یہ خواب دیکھتا کہ اگر کسی طرح ٹیپو سلطان کو راستے سے ہٹا دیا جائے، تو انگریز اسے پورے میسور کا آزاد نواب بنا دیں گے، بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے بنگال میں میر جعفر کو بنایا تھا۔
انگریز جاسوسوں نے بہت جلد میر صادق کی اس غلیظ ذہنیت اور اس کی ہوسِ اقتدار کو بھانپ لیا۔ رات کے گھپ اندھیروں میں، جب سرنگاپٹم کا قلعہ سو رہا ہوتا تھا، میر صادق کے کارندے انگریز خیموں میں جا کر خفیہ ملاقاتیں کرتے تھے۔ لارڈ ویلزلی نے میر صادق کو یقین دہانی کرائی کہ اگر وہ انگریز فوج کو قلعہ فتح کرنے میں اندر سے مدد دے اور ٹیپو سلطان کو شکست دلانے میں کامیاب ہو جائے، تو ایسٹ انڈیا کمپنی اسے میسور کا بادشاہ تسلیم کر لے گی اور اسے بے پناہ دولت سے نوازا جائے گا۔ میر صادق نے قرآن کی قسمیں کھا کر اپنے سلطان سے جو وفاداری کے عہد کیے تھے، وہ سب انگریزی پاؤنڈز کی چمک کے سامنے راکھ ہو گئے۔ اس نے غداری کے اس معاہدے پر دستخط کر دیے جس نے برصغیر کے آخری اور سب سے مضبوط اسلامی قلعے کی موت کا پروانہ لکھ دیا۔ لیکن میر صادق اکیلا نہیں تھا۔ غداری کا یہ کینسر سلطنتِ خداداد کی جڑوں میں پھیل چکا تھا۔ میر صادق نے اپنے ساتھ کچھ اور اہم درباریوں کو بھی اس ناپاک سازش میں شامل کر لیا، جن میں میر غلام علی، میر ندیم، قمر الدین اور پورنیا (دیوان) جیسے کلیدی عہدیدار شامل تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے کندھوں پر ٹیپو سلطان نے اپنی سلطنت کے دفاع کی بھاری ذمہ داریاں ڈالی تھیں۔ ٹیپو سلطان جو خود راتوں کو جاگ کر مصلے پر امتِ مسلمہ کی کامیابی کے لیے رو رو کر دعائیں مانگتا تھا، وہ اپنے اندر کی اس غلاظت اور منافقت کو پہچاننے میں دھوکہ کھا گیا۔ وہ ایک سچا مومن تھا، اور مومن ہمیشہ اپنے مسلمان بھائیوں پر حسنِ ظن رکھتا ہے۔ اسی حسنِ ظن اور اعتبار نے اس کی پیٹھ میں وہ زہریلا خنجر اتارا جس کی تکلیف آج بھی محسوس ہوتی ہے۔
غداری کا جال بچھ چکا تھا۔ 1799ء کے اوائل میں، لارڈ ویلزلی نے ایک বিশাল فوج کے ساتھ، جس میں انگریزوں کے ساتھ ساتھ نظامِ حیدرآباد کے مسلمان فوجی بھی شامل تھے، سرنگاپٹم کی طرف فیصلہ کن مارچ شروع کیا۔ یہ چوتھی اینگلو میسور جنگ تھی۔ ٹیپو سلطان کی بہادر فوج نے راستے میں کئی مقامات پر دشمن کو روکا، لیکن جب فوج کو اندر سے احکامات ہی غلط ملنے لگیں، بارود میں ریت ملا دی جائے، اور جنگی حکمتِ عملی کے تمام نقشے راتوں رات دشمن تک پہنچا دیے جائیں، تو بہادری اور شجاعت بھی دم توڑنے لگتی ہے۔ میر صادق نے ٹیپو سلطان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے انتہائی شاطرانہ چالیں چلنا شروع کر دیں۔ اس نے سلطان کو یہ یقین دلایا کہ انگریزوں کا حملہ کوئی بڑی بات نہیں اور ہماری فوج انہیں قلعے کے باہر ہی کچل دے گی۔ لیکن درحقیقت، میر صادق نے فوج کی تنخواہیں روک لیں، جوانوں میں مایوسی پھیلانے کے لیے راشن کم کر دیا، اور قلعے کے ان مقامات پر جہاں سے انگریزوں کا حملہ متوقع تھا، وہاں جان بوجھ کر کمزور اور غدار افسروں کو تعینات کر دیا۔ شیرِ میسور اپنے قلعے میں کھڑا، ہاتھ میں تلوار لیے کفر کے اس سمندر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھا، لیکن اسے یہ علم نہیں تھا کہ جس قلعے کی دیواروں پر اسے مان ہے، ان دیواروں کو اس کے اپنے ہی وزیروں نے اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
جب سرنگاپٹم کے قلعے کا مکمل محاصرہ ہو گیا اور انگریزوں کی توپیں قلعے کی فصیلوں پر آگ برسانے لگیں، تو میر صادق نے غداری کا وہ حتمی اور رلا دینے والا کھیل کیسے کھیلا جس نے ٹیپو سلطان کی فوج کو عین میدانِ جنگ میں مفلوج کر دیا؟ وہ آخری لمحہ کیسا تھا جب شیرِ میسور کو یہ احساس ہوا کہ اس کے اپنے ہی وفادار اس کی موت کا سودا کر چکے ہیں؟ اور جب مئی 1799ء کی اس خونی دوپہر کو انگریز قلعے کے اندر داخل ہوئے، تو ٹیپو سلطان نے فرار ہونے کے بجائے کس طرح بہادری اور حریت کی وہ لازوال تاریخ رقم کی جس نے دشمنوں کو بھی رو دیا؟ یہ سب، اور میر صادق کی غداری کے وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والے دلدوز واقعات آپ کو اس کہانی کے اگلے حصے میں ملیں گے، کیونکہ ابھی تو سرنگاپٹم کے قلعے میں موت کا وہ رقص شروع ہونا تھا جس کی گونج آج بھی دکن کی ہواؤں میں سنائی دیتی ہے۔۔۔ (جاری ہے)

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Risen Graphics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Risen Graphics:

Share