20/12/2025
کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں تاریخ بار بار لوٹ کر آتی ہے، جیسے وقت خود وہاں فیصلہ لینے آتا ہو، اور پانی پت انہی مقامات میں سے ایک ہے۔
برصغیر کی تاریخ میں شاید ہی کوئی میدان ایسا ہو جس نے تین صدیوں کے وقفے میں تین مختلف طاقتوں کے عروج و زوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ پانی پت کا میدان محض مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ اقتدار، حکمتِ عملی، داخلی کمزوری اور بیرونی طاقت کے ٹکراؤ کی زندہ مثال ہے۔ یہاں لڑی جانے والی تینوں جنگیں الگ الگ دور کی کہانیاں ہیں، مگر ان کے اسباب اور نتائج ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
پہلی جنگِ پانی پت سن 1526 عیسوی میں اس وقت لڑی گئی جب دہلی سلطنت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ لودھی خاندان کے آخری سلطان ابراہیم لودھی ایک بڑا لشکر رکھتا تھا مگر سیاسی بصیرت اور داخلی اتحاد سے محروم تھا۔ افغان امرا اس سے ناراض تھے، صوبائی گورنر بغاوت پر آمادہ تھے اور دربار اندرونی سازشوں کا شکار تھا۔ اسلامی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی ریاست کا زوال باہر سے کم اور اندر سے زیادہ شروع ہوتا ہے، اور لودھی سلطنت اس کی واضح مثال بن چکی تھی۔
اسی دوران وسط ایشیا سے ظہیرالدین محمد بابر کی صورت میں ایک ایسا حکمران ابھرا جو شکستوں سے سیکھ چکا تھا۔ سمرقند اور فرغانہ میں ناکامیوں کے بعد بابر نے کابل کو مضبوط کیا اور برصغیر کی سیاسی کمزوریوں کو بغور دیکھا۔ بابر کوئی جذباتی حملہ آور نہیں تھا، بلکہ وہ جنگی حکمتِ عملی، جدید اسلحے اور نظم و ضبط پر یقین رکھتا تھا۔ خود بابرنامہ میں وہ ہندوستان کی دولت، زمین اور سیاسی انتشار کا ذکر کرتا ہے اور یہی چیزیں اسے یہاں مستقل اقتدار قائم کرنے کی طرف لے آئیں۔
21 اپریل 1526 کو پانی پت کے میدان میں دو مختلف زمانے آمنے سامنے تھے۔ ایک طرف روایتی جنگی انداز، ہاتھیوں اور تعداد پر بھروسا کرنے والی فوج تھی، اور دوسری طرف توپ خانے، منظم صف بندی اور جدید حکمتِ عملی سے لیس ایک چھوٹی مگر مؤثر فوج۔ اسلامی تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ بابر نے پہلی بار برصغیر میں توپوں کا فیصلہ کن استعمال کیا۔ توپوں کی گھن گرج نے نہ صرف ابراہیم لودھی کے ہاتھیوں کو بدکایا بلکہ اس کی فوج کا نظم بھی توڑ دیا۔ جنگ چند گھنٹوں میں فیصلہ کن رخ اختیار کر گئی اور ابراہیم لودھی میدانِ جنگ میں مارا گیا۔ اس کے ساتھ ہی دہلی سلطنت کا ایک باب بند ہوا اور مغلیہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔
مگر تاریخ یہیں نہیں رکی۔ بابر کے بعد ہمایوں آیا، جسے اندرونی بغاوتوں اور افغان سردار شیر شاہ سوری کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمایوں کی عارضی ناکامی نے یہ ثابت کر دیا کہ فتح کے بعد ریاست کو سنبھالنا فتح سے کہیں زیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔ مگر تقدیر نے مغلوں کے لیے ایک اور موقع محفوظ کر رکھا تھا۔
سن 1556 عیسوی میں دوسری جنگِ پانی پت اس وقت لڑی گئی جب مغلیہ سلطنت دوبارہ نوزائیدہ حالت میں تھی۔ ہمایوں کی وفات کے بعد اس کا بیٹا اکبر تخت پر بیٹھا، مگر اس وقت اس کی عمر بہت کم تھی اور سلطنت اصل میں اس کے سرپرست بیرم خان کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری طرف ہندو جرنیل ہیمو، جو سور خاندان کا طاقتور سپہ سالار تھا، دہلی پر قبضہ کر چکا تھا اور خود کو راجہ وکرماجیت کہلوانے لگا تھا۔ یہ مغلوں کے لیے ایک نازک لمحہ تھا، کیونکہ اگر اس وقت شکست ہو جاتی تو شاید مغلیہ سلطنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی۔
پانی پت کے میدان میں ایک بار پھر فیصلہ ہونا تھا۔ ہیمو کی فوج تعداد میں زیادہ تھی اور اس نے ابتدائی مرحلے میں مغل لشکر کو سخت نقصان پہنچایا۔ اسلامی تاریخ بیان کرتی ہے کہ جنگ کے دوران ایک تیر ہیمو کی آنکھ میں لگا، جس سے وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ اس ایک لمحے نے پوری جنگ کا رخ بدل دیا۔ ہیمو کی گرفتاری اور اس کے بعد اس کی موت نے اس کی فوج کے حوصلے توڑ دیے اور مغل فتح یاب ہو گئے۔ دوسری جنگِ پانی پت نے اکبر کے لیے دہلی کا راستہ کھولا اور اسی فتح کی بنیاد پر اکبر نے آگے چل کر ایک مضبوط، منظم اور طویل المدت سلطنت قائم کی۔
دو جنگوں کے بعد پانی پت ایک بار پھر خاموش ہو گیا، مگر تاریخ نے اس میدان کو بھلایا نہیں۔ تقریباً دو سو سال بعد، سن 1761 عیسوی میں، تیسری جنگِ پانی پت نے برصغیر کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔ اس وقت مغلیہ سلطنت نام کی حد تک باقی تھی۔ دہلی میں بادشاہ موجود تھا مگر اصل طاقت اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ صوبائی خودمختاری، درباری سازشیں اور کمزور قیادت نے مغلوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ اس خلا کو مرہٹوں نے پُر کیا، جو دکن سے نکل کر شمالی ہندوستان تک پھیل چکے تھے اور دہلی کے تخت پر اثر انداز ہو رہے تھے۔
مرہٹوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے نہ صرف مقامی مسلم حکمرانوں کو پریشان کیا بلکہ مذہبی، سیاسی اور سماجی سطح پر بھی شدید بے چینی پیدا کر دی۔ انہی حالات میں افغانستان کے حکمران احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان کا رخ کیا۔ اسلامی تاریخ میں احمد شاہ ابدالی کو ایک سخت مگر حقیقت پسند حکمران کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو مرہٹہ طاقت کو ایک خطرے کے طور پر دیکھ رہا تھا۔
14 جنوری 1761 کو پانی پت کے میدان میں شاید تاریخ کی سب سے خونریز جنگ لڑی گئی۔ دونوں طرف لاکھوں کی تعداد میں فوجیں تھیں۔ یہ جنگ صرف توپوں اور تلواروں کی نہیں بلکہ برداشت، رسد اور صبر کی جنگ تھی۔ مرہٹہ فوج دور دراز سے آئی تھی اور رسد کی شدید قلت کا شکار تھی، جبکہ احمد شاہ ابدالی نے مقامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنی پوزیشن مضبوط کر رکھی تھی۔ کئی گھنٹوں کی شدید لڑائی کے بعد مرہٹہ فوج مکمل طور پر ٹوٹ گئی اور ہزاروں سپاہی مارے گئے۔ اس جنگ نے مرہٹوں کے شمالی ہندوستان میں پھیلاؤ کو روک دیا، مگر ساتھ ہی مغلیہ سلطنت کو بھی کوئی حقیقی فائدہ نہ پہنچا، کیونکہ وہ اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ کسی فتح کو اپنے حق میں استعمال نہ کر سکی۔
تینوں جنگِ پانی پت ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہیں کہ تاریخ میں صرف بہادری کافی نہیں ہوتی۔ ریاستیں اندر سے مضبوط ہوں تو باہر کے طوفانوں کا مقابلہ کر لیتی ہیں، اور جب اندر سے ٹوٹ جائیں تو ایک دھکا بھی انہیں زمین بوس کر دیتا ہے۔ پانی پت نے لودھیوں کا خاتمہ دیکھا، مغلوں کا عروج دیکھا، پھر مغلوں کی بے بسی اور مرہٹوں کا زوال بھی دیکھا۔ یہ میدان گواہ ہے کہ اقتدار ہمیشہ عارضی ہوتا ہے، مگر فیصلے ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔
پانی پت کی جنگیں نہ افسانہ ہیں، نہ رومان، بلکہ طاقت، سیاست اور انسانی غلطیوں کی وہ حقیقت ہیں جو بار بار دہرائی جاتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ دان پانی پت کو محض ایک مقام نہیں بلکہ ایک علامت سمجھتے ہیں، ایسی علامت جو یہ یاد دلاتی ہے کہ جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں، تاریخ انہیں بار بار اسی میدان میں لا کھڑا کرتی ہے۔
---
حوالہ جات (References):
امیر خسرو — خزائن الفتوح
زیاالدین برنی — تاریخِ فیروز شاہی
بابر — بابرنامہ
عبدالقادر بدایونی — منتخب التواریخ
ابوالفضل — اکبرنامہ
جدو ناتھ سرکار — History of Aurangzib
اسٹیون ڈیل — Babur: Founder of the Mughal Empire
#سلجوق ゚ #ملازکرد #پانی