14/06/2026
4 مئی 1799ء کی وہ دوپہر سرنگاپٹم کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین لمحہ تھا جب سورج بھی شرم سے بادلوں میں چھپ گیا تھا۔ میر صادق کی شیطانی غداری نے قلعے کے ناقابلِ تسخیر دروازے انگریزوں کے لیے کھول دیے تھے۔ جب شیرِ میسور، ٹیپو سلطان، اپنے چند وفادار جانثاروں کے ساتھ قلعے کے مغربی جانب، جہاں انگریزوں نے فصیل توڑ دی تھی، پہنچا تو منظر دیکھ کر اس کا خون خشک ہو گیا۔ وہ جگہ جہاں ہزاروں بہادر سپاہی پہرہ دیتے تھے، اب مکمل طور پر خالی تھی اور انگریز فوج کا ایک سمندر، جنرل بیرڈ کی قیادت میں، درندوں کی طرح قلعے کے اندر داخل ہو رہا تھا۔ سلطان نے دیکھا کہ اس کا وہ وزیرِ اعظم، میر صادق، جس نے قرآن پر وفاداری کی قسم کھائی تھی، وہ اب انگریز افسران کو خوش آمدید کہہ رہا تھا اور انہیں محل کی طرف جانے والے خفیہ راستے بتا رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ٹیپو سلطان کو احساس ہوا کہ اس کے گرد بنا ہوا طلسم ٹوٹ چکا ہے۔ اسے یہ بھی سمجھ آ گیا کہ سید غفار نے اسے بار بار میر صادق کے بارے میں جو خط لکھے تھے، وہ کیوں اس تک نہیں پہنچنے دیے گئے۔ سلطان کے وفادار محافظوں نے، جن میں راجہ خان (نواب کا خاص خادم) بھی شامل تھا، جب یہ بھیانک غداری دیکھی تو وہ خون کے آنسو رونے لگے۔ انہوں نے سلطان سے التجا کی کہ "سلطانِ معظم! یہاں سے فوراً نکل جائیں، میر صادق نے محل کے اندرونی دروازے بھی بند کروا دیے ہیں، آپ یہاں مکمل طور پر دشمن کے نرغے میں ہیں!" لیکن ٹیپو سلطان، جس نے اپنی پوری زندگی غیرت، غیرتِ ایمانی اور حریت کے اصولوں پر گزاری تھی، اس نے فرار ہونے سے انکار کر دیا۔ سلطان نے اپنی تلوار لہرائی اور ایک تاریخی جملہ فرمایا جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے ایک سبق بن گیا: **"گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔"** سلطان نے اپنے خادموں سے کہا کہ "ہمارا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم فرار ہو کر ذلت کی زندگی نہیں جئیں گے، بلکہ اسی قلعے کی مٹی پر بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کریں گے۔"
غداروں نے جو جال بچھایا تھا، وہ مکمل طور پر کامیاب ہو چکا تھا۔ ٹیپو سلطان اکیلا انگریز فوج کے سمندر میں کودنے کے لیے آگے بڑھا۔ اس کے ساتھ مٹھی بھر وفادار سپاہی تھے، لیکن ان کے حوصلے آسمان سے بھی بلند تھے۔ قلعے کی فصیل کے پاس، ایک تنگ راستے پر، ٹیپو سلطان اور انگریز فوج کے درمیان ایک ایسا بھیانک اور دلدوز مقابلہ شروع ہوا جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ سلطان ایک زخمی شیر کی طرح لڑ رہا تھا۔ اس کی وہ ہیبت ناک تلوار، جو کبھی مرہٹوں اور انگریزوں کے لیے موت کا پیغام تھی، اب بجلی کی طرح چمک رہی تھی۔ سلطان نے اپنے مٹھی بھر وفاداروں کے ساتھ انگریزوں کی پہلی صف کو کاٹ کر رکھ دیا۔ انگریز فوجی اس کے غضب سے ڈر کر پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن یہ مقابلہ غیر مساوی تھا۔ ایک طرف ایک اکیلا نواب تھا اور دوسری طرف پچاس ہزار کی انگریز فوج، جسے اندرونی غداروں کی مکمل مدد حاصل تھی۔ انگریزوں نے دور سے سلطان پر گولیاں برسانی شروع کر دیں۔ سلطان کے جسم پر کئی گولیاں لگیں، اس کا گھوڑا بھی گولیوں کا نشانہ بن کر گر گیا۔ سلطان خون سے لت پت حالت میں بھی کھڑا رہا۔ اس نے اپنے وفادار محافظ راجہ خان سے، جو خود بری طرح زخمی تھا، کہا کہ "ہمیں پانی دو، ہمارا حلق سوکھ رہا ہے۔" راجہ خان نے سلطان کے منہ میں پانی کا ایک قطرہ ڈالنے کی کوشش کی، لیکن وہ خود گر گیا۔ سلطان نے اپنی تلوار کے سہارے کھڑے رہنے کی کوشش کی۔ عین اسی لمحے، جب سلطان اکیلا کھڑا تھا، میر صادق کے کہنے پر ایک انگریز افسر نے سلطان کے سر پر گولی مار دی۔ شیرِ میسور، امتِ مسلمہ کا وہ عظیم سپوت، سرنگاپٹم کی مٹی پر اوندھے منہ گر گیا۔ اس کے ہونٹوں پر کلمۂ شہادت جاری تھا۔ تاریخ کے اس عظیم مجاہد کی روح اپنے رب کے پاس پرواز کر گئی۔ ٹیپو سلطان نے اپنی جان دے دی، لیکن کفر کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ وہ ایک سچے عاشقِ رسول کی طرح شہید ہو کر امر ہو گیا۔
جب ٹیپو سلطان شہید ہو گیا، تو سرنگاپٹم کے قلعے میں موت کا ایک ایسا سناٹا چھا گیا جو لوٹ مار، قتل و غارت اور غداری کے جشن کے درمیان بھی محسوس ہو رہا تھا۔ انگریز قلعے پر مکمل طور پر قابض ہو چکے تھے۔ جنرل بیرڈ، جو خود کبھی حیدر علی کی قید میں رہا تھا اور ٹیپو سلطان سے شدید نفرت کرتا تھا، وہ اب فتح کے نشے میں چور تھا۔ اس نے نواب کے محلات کو لوٹنے اور مسلمانوں کے قتلِ عام کا حکم دے دیا۔ انگریز فوج نے سرنگاپٹم کی گلیوں کو مسلمانوں کے خون سے سرخ کر دیا۔ ہزاروں معصوم عورتیں، بچے اور بوڑھے ذبح کر دیے گئے۔ نواب کے شاہی خزانے، کتب خانے، اور محل کی ہر قیمتی چیز لوٹ لی گئی۔ میر صادق اور اس کے ساتھی، جنہوں نے انگریزوں کو یہ سب کچھ لوٹنے میں مدد دی تھی، وہ اب جنرل بیرڈ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے انعام کے منتظر تھے۔ میر صادق نے لارڈ ویلزلی سے کیے گئے معاہدے کے مطابق خود کو میسور کا بادشاہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ لیکن قدرت کا انتقام بہت بھیانک ہوتا ہے، اور غدار کا انجام کبھی تخت پر نہیں ہوتا۔ جنرل بیرڈ نے میر صادق کو دیکھ کر ایک حقارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: **"اے میر صادق! تو نے اپنے اس سلطان کے ساتھ غداری کی جس نے تجھے فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھایا، جس نے تجھے اپنا وزیرِ اعظم بنایا اور تجھ پر اندھا اعتماد کیا۔ جو شخص اپنے سلطان اور اپنے دین کا وفادار نہ رہ سکا، وہ انگریزوں کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم نے تجھے استعمال کیا، لیکن ہم غداروں کو عزت نہیں دیتے، بلکہ انہیں ان کے بھیانک انجام تک پہنچاتے ہیں۔"**
جنرل بیرڈ نے میر صادق کو انعام دینے کے بجائے اسے قلعے کے اس شگاف کے پاس، جہاں ٹیپو سلطان نے آخری سانس لی تھی، لے جانے کا حکم دیا۔ جب میر صادق کو انگریز فوج کے نرغے میں اس شگاف کے پاس لایا گیا، تو وہاں نواب کے وہ وفادار سپاہی، جو ابھی تک لڑ رہے تھے اور زخمی حالت میں پڑے تھے، انہوں نے جب اس غدارِ اعظم کو انگریزوں کے ساتھ دیکھا، تو ان کے اندر کا سارا درد، سارا غصہ اور سارا انتقام ایک طوفان کی طرح ابل پڑا۔ ان وفادار سپاہیوں نے، جن میں راجہ خان بھی شامل تھا، اپنے زخمی جسموں کے باوجود میر صادق پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے اس غدار کو پہچان لیا تھا۔ انہوں نے چیخ چیخ کر کہا کہ "یہ ہے وہ میر صادق! جس نے ہمارے سلطان کو مروا دیا! جس نے ہماری سلطنت کا سودا کیا!" ان وفادار سپاہیوں نے میر صادق پر تلواروں، پتھروں اور ہاتھوں سے حملہ کر دیا۔ میر صادق انگریزوں سے رحم کی بھیک مانگتا رہا، لیکن جنرل بیرڈ خاموشی سے کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا۔ نواب کے وفاداروں نے میر صادق کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس غدارِ اعظم کی لاش کو سرنگاپٹم کی گلیوں میں گھسیٹا گیا، اور آخرکار اس کی لاش کو قلعے کی فصیل سے باہر، دریائے کاویری کے کنارے پھینک دیا گیا، جہاں اسے کتے اور گدھ نوچتے رہے۔ مکافاتِ عمل کا قانون مکمل طور پر لاگو ہو چکا تھا۔ جس شخص نے اقتدار اور دولت کی ہوس میں اپنے سلطان کو دھوکہ دیا تھا، قدرت نے اسے ایسی بھیانک، ذلت آمیز اور عبرتناک موت دی کہ آج بھی اس کا تصور کر کے روح کانپ اٹھتی ہے۔ میر صادق کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے غداری، ذلت اور لعنت کی ایک ایسی علامت بن گیا جو قیامت تک مٹائی نہیں جا سکتی۔ اس نے اپنے دین اور اپنے سلطان کا سودا کیا، لیکن بدلے میں اسے صرف عبرتناک موت اور ابدی جہنم ملی۔
میر صادق کے علاوہ دیگر غداروں کا انجام بھی کچھ ایسا ہی عبرتناک ہوا۔ قمر الدین، میر ندیم، اور میر غلام علی، جنہوں نے میر صادق کا ساتھ دیا تھا، ان سب کو انگریزوں نے استعمال کرنے کے بعد بے عزتی اور رسوائی کے ساتھ دربار سے نکال دیا۔ ان کی جائیدادیں لوٹ لی گئیں، اور وہ فاقوں سے مر گئے۔ میر جعفر کی طرح میر صادق نے بھی ثابت کیا کہ مسلمان حکمرانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ان کے اپنے ہی غدار ہوتے ہیں۔ برصغیر کی آزادی کا وہ آخری اور سب سے مضبوط قلعہ، سلطنتِ خداداد میسور، اب راکھ بن چکا تھا۔ انگریزوں نے ٹیپو سلطان کے بیٹوں اور خاندان کو گرفتار کر کے ویلور کے قلعے میں قید کر دیا، اور پورے میسور پر اپنا برطانوی راج قائم کر لیا۔
لیکن جب قلعے میں لوٹ مار کا طوفان تھم گیا اور مئی 1799ء کی وہ خونی رات آ پہنچی، تو انگریزوں کے لیے ایک بہت بڑا سوال باقی تھا: "شیرِ میسور، ٹیپو سلطان، کی لاش کہاں ہے؟" کیا وہ واقعی شہید ہو گیا، یا وہ زخمی حالت میں کہیں چھپا ہوا ہے؟ لارڈ ویلزلی اور جنرل ہیرس کو اس بات کا شدید خوف تھا کہ اگر ٹیپو سلطان زندہ بچ گیا، تو وہ دوبارہ فوج کھڑی کر کے انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرے گا۔ انگریزوں نے رات کے اندھیرے میں، مشعلوں کی روشنی میں، قلعے کے شگاف کے پاس بکھری ہوئی ہزاروں لاشوں کے ڈھیر میں اپنے سب سے بڑے دشمن کی تلاش شروع کی۔ وہ منظر کیسا تھا جب نواب کی وفادار لطف النسا، اپنے شہید شوہر کی لاش ڈھونڈنے کے لیے نکلتی ہے؟ جب انگریزوں کو ٹیپو سلطان کی لاش مل جاتی ہے، تو جنرل بیرڈ کی آنکھوں میں انسو کیوں آ جاتے ہیں؟ اور جب ٹیپو سلطان کی تدفین کی جاتی ہے، تو سرنگاپٹم پر قدرت کا کیسا بھیانک قہر ٹوٹتا ہے کہ انگریز بھی کانپ اٹھتے ہیں؟ یہ سب، اور ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد امتِ مسلمہ پر جو تباہی آئی، اس کا سنسنی خیز اور دلدوز احوال آپ کو اس کہانی کے اگلے حصے میں ملے گا، کیونکہ ابھی تو سرنگاپٹم کی مٹی پر خون کا وہ دریا بہنا تھا جس کی گونج آج بھی دکن کی ہواؤں میں سنائی دیتی ہے۔۔۔ (جاری ہے)