24/04/2026
"مشرق کا ابھرتا ہوا سفارتی بلاک"
عمومی خبریں صرف ملاقاتوں کا ذکر کر رہی ہیں، لیکن اصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان، ,ایران ، روس اور چائنہ مل کر ایک بلاک بنا رہے ہیں جو امریکہ اور ایران کے درمیان جمی برف پگھلا صلاحیت رکھتا ہے۔ اب امن کی چابی مغرب کے بجائے مشرق کے پاس جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
کیا دنیا ایک بڑے عالمی معاہدے کی طرف بڑھ رہی ہے؟ پاکستان، ، یروس، چائنہ اور ایران کیا پلاننگ کر رہے اس بارے بہت سی اہم شخصیات اپنا الگ الگ تجزیہ دے رہے ہیں۔۔۔ لیکن
اج عالمی سیاست کے ایوانوں میں ایک غیر معمولی ہلچل دیکھی گئی۔ بظاہر یہ الگ الگ ملاقاتیں نظر آتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے ایک گہرا سفارتی ایجنڈا چھپا ہے۔
اہم نکات جو آپ کو جاننا ضروری ہیں:
پاکستان اور روس کا رابطہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ روس نے کھل کر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کروانے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اسلام آباد، مسقط (عمان) اور ماسکو کے دورے کا آغاز کر دیا ہے۔
اگرچہ کہا جا رہا ہے کہ ابھی براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے، لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ روس اور چائنہ اس ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے نئے فارمولے پیش کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان اور عمان سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں
بظاہر سادہ نظر انے والے یہ دو بیانات اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہے کہ برسوں تک مشرق وسطیٰ کے فیصلے واشنگٹن میں ہوتے تھے، لیکن اب اسلام آباد، ماسکو، بیجنگ اور تہران مل کر علاقائی امن کا نیا راستہ نکال رہے ہیں۔ کیا یہ "مغربی اثر و رسوخ" کے خاتمے اور "یوریشین ڈپلومیسی" کے آغاز کی علامت ہے؟
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا پاکستان ایک بار پھر عالمی امن کا مرکز بننے جا رہا ہے؟
#پاکستان #روس #ایران #سفارتکاری