Aam log

Aam log Just for fun

15/05/2026

میں پنجابن ہوں اور میں صبح دوپہر شام روٹیاں پکاتی ہوں تو روٹیاں پکانے سے پہلے توا دھوتی ہوں لیکن میں نے دیکھا ہے کہ پنجاب کی کئی خواتین ایسا نہیں کرتی ہیں اور اگر روٹیاں پکاتے ہوئے مجھے فریج میں سے کسی چیز کو نکالنا پڑتا ہے میں دوبارہ سے آٹے والے ہاتھ دھو کر جو کہ مشکل سے دھلتے ہیں پھر روٹیاں پکاتی ہوں حالانکہ فریج میں بھی کھانے کی ہی چیزیں رکھی جاتی ہیں جب کہ میں نے کئی پنجابی خواتین کو دیکھا ہے کہ وہ ہانڈی روٹی کرتے ہوئے بھینس کے گوبر کے اپلے توڑ توڑ کر چولہے میں رکھتی ہیں اور انہی ہاتھوں سے روٹیاں پکا رہی ہوتی ہیں اور مجھے یہ نہایت بری حرکت لگتی ہے میں فریج میں ہمیشہ چیزیں ڈھانپ کے رکھتی ہوں جب کہ میں نے کئی پنجابی عورتوں کو دیکھا ہے وہ فریج میں کھانا وغیرہ ڈھانپ کے نہیں رکھتی ہیں میں کھانا پکاتے ہوئے اپنے سر اور کپڑوں وغیرہ کو ٹچ نہیں کرتی ہوں اور روٹیاں پکاتے ہوئے میری آستینیں ہمیشہ کہنیوں تک ہوتی ہیں جب کہ میں نے کئی پنجابی خواتین کو دیکھا ہے کہ روٹیاں پکاتے ہوئے ان کی روٹیاں ان کے کپڑوں سے ٹچ کر رہی ہوتی ہیں جو کہ مجھے پسند نہیں ہے میں ہمیشہ ہاتھ دھو کر اور پھر کسی بھی چیز سے پونچھے بغیر کھانے والی کوئی بھی چیز کھاتی ہوں میں کوئی بھی کھانے والی چیز یا پکانے والی چیز سبزی وغیرہ فروٹ کم از کم سب کو تین بار دھوتی ہوں میری برتن دھونے والی سٹیل کی کوچی الگ ہے اور سنک دھونے والی کوچی الگ ہے اور دونوں الگ الگ برتنوں میں صابن سمیت پڑی ہوتی ہیں جبکہ ہماری پنجابی خواتین برتنوں والی کوچی سے ہی سنک کو بھی دھو دیتی ہیں یہ بھی مجھے پسند نہیں ہے مجھے باہر کا کھانا پسند نہیں ہے اگر مجھے مجبورا باہر کا کھانا کھانا پڑے تو میں کوشش کرتی ہوں کہ میں کھانا نہ کھاؤں میں فروٹ کھا لیتی ہوں اور فروٹ بھی چھلکوں والا جیسا کہ کیلے اور مالٹے وغیرہ کیونکہ باہر کا کھانا تیار کرنے والے پنجابیوں کے گندے کپڑے مجھے پسند نہیں ہیں مجھے گنے کا جوس پینا پسند ہے مگر اکثر میں اس وجہ سے چھوڑ دیتی ہوں کہ جوس والے بھائی صاحب نے ایک ہی مٹکا پانی کا رکھا ہوتا ہے جس میں بار بار گلاس دھو کر باہر نکال رہے ہوتے ہیں اور کبھی کبھار تو گنوں پر مکھیوں کی کار گزاریاں بھی نظر آرہی ہوتی ہیں میں اپنے شوہر کے ساتھ کھانا اس شرط پر کھاتی ہوں کہ وہ کھانا کھاتے ہوئے موبائل فون کا اور ٹی وی ریموٹ کا استعمال نہیں کریں گے تو میرے پٹھان بہن بھائیو ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا کچھ لوگ تھوڑا زیادہ نفاست پسند ہوتے ہیں اور آپ لوگوں نے جو میری پوسٹ کے پٹھان لوگ دسترخوان پر رکھ کر روٹیاں کھاتے ہیں اس کو اتنا مسئلہ بنا دیا ہے جب کہ میں نے تو ایک عمومی کھانے پینے کی صفائی کی بات کی تھی اور آپ لوگوں نے اسے پنجابی پٹھان تعصب کا مسئلہ بنا دیا ہے آپ کم از کم یہ تو سوچتے کہ ہم پنجابی پٹھان اور دوسرا تیسرا ہونے سے پہلے ہم مسلمان ہیں اللہ کے فضل و کرم سے آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ابھی میں نے پنجابی لوگوں کو اتنی باتیں کہی ہیں تو ابھی میرے پنجابی بہن بھائی بھی آ کر انہی پنجابی لوگوں کو باتیں کریں گے جو کہ صفائی سے کام نہیں کرتے ہیں کیونکہ پنجابی عام طور پر کھلے دل کے مالک ہوتے ہیں دوسروں کی غلطی پر اسے غلط ہونے کا احساس دلاتے ہیں اور خود کی غلطی بھی مان ہی لیتے ہیں باقی رہ گیا کردار کے پٹھان کا کردار کیسا ہے پنجابی کا کردار کیسا ہے سندھی بلوچی کا کردار کیسا ہے پاکستانی افغانی یا ہندوستانی کا کردار کیسا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے ۔
ام عثمان ملک

ایک باپ اپنی بچی کو چیک اپ کے لیے لایا۔بچی بار بار بیمار ہو جاتی تھی کیونکہ باہر کی چیزیں، چپس، ٹافیاں اور کولڈ ڈرنکس بہ...
12/05/2026

ایک باپ اپنی بچی کو چیک اپ کے لیے لایا۔
بچی بار بار بیمار ہو جاتی تھی کیونکہ باہر کی چیزیں، چپس، ٹافیاں اور کولڈ ڈرنکس بہت کھاتی تھی۔

میں نے سوچا معمول کی بات ہوگی…
مگر اچانک اس نے خاموشی سے ایک پرچی میرے ہاتھ میں تھما دی۔

اس پر لکھا تھا:

“ڈاکٹر صاحب! ذرا آپ سختی سے منع کر دیں… میں اسے ڈانٹ نہیں پاتا…”

یہ پڑھ کر چند لمحوں کے لیے میں خاموش ہو گیا۔

ایک باپ…
جو شاید پوری دنیا سے لڑ سکتا ہے
مگر اپنی بیٹی کی ناراضی برداشت نہیں کر سکتا۔

وہ چاہتا تھا بچی صحت مند بھی رہے
مگر اس کی ننھی سی خوشی بھی قائم رہے۔
اسے اپنی بیٹی کے چہرے کی اداسی سے خوف آتا تھا۔

کتنی خوبصورت ہوتی ہے یہ پدرانہ محبت…
باپ اکثر اظہار نہیں کرتے
مگر اپنی بچیوں کے لیے ان کے دل سمندر سے بھی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔

وہ بیٹیوں کو ہاتھوں سے نہیں…
دعاؤں، محبتوں اور دھڑکنوں سے سنبھالتے ہیں۔

اور پھر وقت آتا ہے جب یہی بیٹیاں رخصت ہو جاتی ہیں…
مگر باپ کے دل میں ان کے لیے فکر کبھی کم نہیں ہوتی۔

آج اس پرچی نے مجھے پھر یاد دلایا
کہ بیٹیاں واقعی باپ کے دل کا سب سے نرم حصہ ہوتی ہیں۔

باپ اور بیٹی کی محبت بہت خاص ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سمیع اللہ خان سدوزئی
کاپی

11/05/2026

ایک سبق آموز سچا واقعہ
آپ نے اکثر اپنے بڑوں سے سنا ہوگا کہ دوران سفر اجنبی لوگوں سے بات چیت میں احتیاط بلکہ پرہیز کریں ایک سچا واقعہ جو ہوائی سفر میں ایک لڑکی کے ساتھ پیش آیا حاضر خدمت ہے واقعہ کچھ یوں ہے کہ اس لڑکی کی سیٹ ایک بوڑھی عورت کے ساتھ تھی وہ عورت بہت خوش اخلاق اور باتونی لگ رہی تھی اس نے مجھے کہا کہ میرا بیگ تو اوپر سامان رکھنے کی جگہ پر رکھ دو میرا قد چھوٹا تھا اس وجہ سے میں تھوڑا ہچکچائی اتنے میں ایک بوڑھا آدمی جو پیچھے بیٹھا تھا اٹھا اور اس نے سامان اوپر رکھ دیا جہاز نے اڑان بھری پورا راستہ وہ عورت باتیں کرتی رہی وہ بہت خوش اخلاق اور اچھی خاتون لگ رہی تھی اتنے میں پائلٹ نے اعلان کیا کہ فلائٹ دوبئی لینڈ کرنے والی ہے اچانک اس خاتون نے کہا کہ اس کے معدے میں شدید درد ہو رہا ہے اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میرے کندھے پر سر رکھ لیا جہاز کے مسافروں کو لگا کہ ہم ایک ساتھ جا رہی ہیں بلکہ اس خاتون نے مجھے اپنی بیٹی کہنا شروع کر دیا اتنے میں اسی بزرگ نے مجھے کہا کہ جہاز کے سٹاف کو بتا دو کہ تم ان کو نہیں جانتی اور ائیر ہوسٹس اور جہاز کے سٹاف کو ہی ان خاتون کو دیکھنے دو اتنے میں ایک آئیر ہوسٹس نے مجھے سے پوچھا آپ کی والدہ کو کیا ہوا ہے میں نے کہا میں ان کو نہیں جانتی بس فلائٹ میں ساتھ بیٹھے ہیں، جب جہاز لینڈ کیا تو اس بوڑھی عورت نے رونا شروع کر دیا میری منت کی کہ کم سے کم اس کا پرس ہی پکڑ کر ساتھ رہوں مگر اس بوڑھے آدمی نے مجھے اشارے سے منع کر دیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی میں ان کو گڈ بائے کہہ کر اتر گئی ائیرپورٹ پر سامان لیتے ہوئے معلوم ہوا کہ اس بوڑھی عورت نے ویل چیئر لینے سے انکار کر دیا اور پرس جہاز میں ہی چھوڑ کر اترنے کی کوشش کی اور ائیرپورٹ سے نکلنے کی کوشش کرتی رہی ائیرپورٹ پولیس نے اس کو حراست میں لے لیا جہاں اس نے اونچا اونچا کہنا شروع کر دیا کہ میری بیٹی کو بلا دو وہ مجھے چھوڑ کر نجانے کہاں چلی گئی پولیس نے اسی وقت جہاز کے سٹاف سے معلومات حاصل کر کے مجھے روک لیا اس وقت پھر وہی بزرگ شخص وہاں آ گئے اور انہوں نے بتایا کہ یہ خاتون ہم دونوں کو جہاز میں ہی ملی ہے پہلے سے نہیں جانتے پولیس سے ہی مجھے معلوم ہوا کہ اس بوڑھی عورت کے پرس اور سامان سے ڈرگز ملی تھیں اب میرے سارے سامان کا باریکی سے معائنہ کیا گیا اور فنگرز پرنٹ لیے گئے کہ میرے انگلیوں کے نشانات اس بوڑھی عورت کے سامان یا پرس پر تو نہیں تھے تب مجھے علم ہوا وہ عورت کیوں مجھے سامان اوپر رکھنے کا کہہ رہی تھی میرا پاسپورٹ پولیس نے رکھ لیا اور اس بوڑھی عورت سے میرے بارے میں معلومات لیں اللہ کا کرم تھا کہ میں نے اس عورت کو اپنا پورا نام نہیں بتایا تھا اور نہ اسے میرے بارے میں زیادہ معلوم ہوا تھا تب مجھے یہ بھی سمجھ ا گئی کہ پورا راستہ وہ میرے بارے میں بنیادی معلومات ہی اکٹھی کر رہی تھی مجھ سے لاتعداد سوالات پولیس نے کیے
وہ عورت کہاں ملی ؟
کب فلائٹ میں بیٹھی ؟ میں اسے کیسے جانتی ہوں وغیرہ وغیرہ
نجانے کون سی نیکی تھی کہ اس بوڑھی عورت کے کسی سامان سے میرے کوئی نشان نہیں ملے اور میرا کوئی تعلق اس عورت سے ثابت نہیں ہوا پولیس نے کئی گھنٹوں کی تفتیش کے بعد مجھے جانے دیا اور ہدایات دیں کہ کوئی بھی مسافر جتنا مرضی زور لگا لے اس کے سامان کو ہاتھ مت لگاؤں نہ ہی کسی قسم کی معلومات دوں یہ میری زندگی کا بہت بھیانک واقعہ تھا اور اس کے بعد سے آج تک میں نے کسی مسافر کے سامان کو کیا ٹرالی کو بھی ہاتھ نہیں لگایا۔اللہ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین یارب العالمین ہے جو سفر کرتے ہیں اگر کوئی ایسا کردار ملے تو جہاز کے اسٹاف کو ضرور اپنے ساتھ رکھیں اور واضح کریں کہ آپکا کوئی تعلق نہیں
Incident Written by - Paul Odofin
ترجمہ
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ

11/05/2026

📱 “میں نے صرف 15 منٹ کے لیے کلاس میں موبائل اور لیپ ٹاپ بند کروائے، اور اُن 15 منٹ میں مجھے سمجھ آیا کہ ہم ایک ایسی نسل کھو رہے ہیں جو بات کرنا بھول رہی ہے…” 📱

کل میں نے کلاس وقت سے 15 منٹ پہلے ختم کر دی۔

بچے خوش ہو گئے۔
کرسیاں پیچھے ہوئیں، بیگ بند ہوئے۔

اور پھر تقریباً سب نے ایک ساتھ لیپ ٹاپ کھول لیے۔

میں نے فوراً کہا،
“نہیں، آج کوئی سکرین نہیں۔”

کلاس میں ایک ساتھ آواز آئی،
“سر پلیز…”

میں مسکرایا،
“آج بس ایک کام کرو۔ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرو…”

چند سیکنڈ کی خاموشی چھا گئی۔
ایسی خاموشی جو عام نہیں تھی۔

پھر کلاس کے ایک کونے میں زندگی لوٹ آئی۔

“یار، تم اصل میں اتنے مزاحیہ ہو؟”
“پتہ نہیں، شاید ہم نے کبھی بات ہی نہیں کی…”

ہنسی گونجی،
آنکھوں میں چمک آئی۔

جیسے کسی نے سکرین کے پیچھے چھپا انسان دوبارہ جگا دیا ہو۔

ایک میز پر تین لڑکیاں بیٹھی تھیں۔

“تم گھر جا کر کیا کرتی ہو؟”
“فون…”
“میں بھی…”

پھر ایک نے آہستہ سے کہا،
“آج پہلی بار لگ رہا ہے جیسے ہم واقعی دوست ہیں…”

وہ لمحہ بہت خوبصورت تھا۔

لیکن…

کلاس کے دوسرے حصے میں کچھ اور ہو رہا تھا۔

دو لڑکے سر جھکائے بیٹھے تھے۔

ایک انگلیاں میز پر چلا رہا تھا، جیسے خیالی سکرین ہو۔
دوسرا بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہو۔

میں اُن کے پاس گیا،
“بیٹا، بات کرو…”

وہ ہلکا سا مسکرایا، مگر خالی،
“سر… کیا بات کریں؟”

میں وہیں رک گیا۔

“کیا بات کریں؟”

یہ صرف ایک سوال نہیں تھا۔
یہ ایک پوری نسل کی خاموشی تھی۔

ایک لڑکی نے آہستہ سے کہا،
“سر… ہم عادی نہیں ہیں…”

عادی نہیں ہیں۔

ہم نے اُنہیں سب کچھ سکھایا۔

انگریزی بولنا،
ٹیکنالوجی استعمال کرنا،
پریزنٹیشن دینا۔

لیکن ہم اُنہیں یہ نہیں سکھا سکے کہ کسی کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کیسے کی جاتی ہے۔

ہم نے اُن کے ہاتھوں میں موبائل دے دیے،
اور اُن کے دلوں سے رشتے چھین لیے۔

ہم نے اُنہیں سکرین پر ہنسانا سکھایا،
لیکن سامنے بیٹھے انسان کے ساتھ ہنسنا بھلا دیا۔

کلاس ختم ہوئی۔
بچے چلے گئے۔

لیکن ایک سوال چھوڑ گئے۔

اگر سکرین ہٹا دی جائے،
تو کیا ہم اب بھی ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں؟

سچ تھوڑا کڑوا ہے،
لیکن سننا ضروری ہے۔

یہ بچے غلط نہیں ہیں۔
یہ ہم ہیں۔

ہم جو کھانے کی میز پر بھی فون دیکھتے ہیں۔
ہم جو بچوں کی بات آدھی سنتے ہیں، آدھی سکرول کرتے ہیں۔
ہم جو کہتے ہیں “بس ایک منٹ”، اور وہ ایک منٹ سالوں میں بدل جاتا ہے۔

آج ایک بچے نے مجھ سے کہا،

“سر… جب گھر میں سب فون پر ہوتے ہیں، تو میں کس سے بات کروں؟”

میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

آپ کے پاس ہے؟

آج رات ایک چھوٹا سا تجربہ کریں۔

فون ایک طرف رکھ دیں۔
ٹی وی بند کر دیں۔

اور اپنے بچے کے پاس بیٹھ کر صرف یہ پوچھیں،

“آج تم کیسا محسوس کر رہے ہو؟”

شاید وہ فوراً جواب نہ دے۔
شاید تھوڑی جھجک ہو۔

لیکن یاد رکھیں،
ہر مضبوط رشتہ ایک چھوٹی سی بات سے شروع ہوتا ہے۔

کیونکہ بچے ہمیں سن کر نہیں، ہمیں دیکھ کر سیکھتے ہیں۔

رشتے وائی فائی سے نہیں، وقت سے جڑتے ہیں۔

اور اگر ہم نے ابھی نہیں بدلا،
تو کل ہمیں وہ بچے ملیں گے جو سب کچھ سمجھتے ہوں گے،

مگر کسی سے کہہ نہیں سکیں گے۔

اب فیصلہ آپ کا ہے۔
آپ اپنے بچوں کو سکرین دیں گے،
یا اپنا آپ؟ ❤️

© ~Intikhaab-E-Sukhan~

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aam log posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share