Crime scene

Crime scene معاشرے میں ہونے والے ظلم اور زیادتی کے خلاف ہم بنیں گے آپ کی آواز

گجرات *حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر سید حسن شاہ گیلانی (بٹر شریف) گرفتار*ضلعی انتظامیہ نے یکم جون کو عرس کے موقع پر در...
02/06/2026

گجرات *حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر سید حسن شاہ گیلانی (بٹر شریف) گرفتار*
ضلعی انتظامیہ نے یکم جون کو عرس کے موقع پر دربار بٹر شریف پر کسی قسم کی محفل سماع دھمال اور ناچ گانے کی محافل پر پابندی لگا رکھی تھی صرف چادر پوشی اور قرآن خوانی کی اجازت تھی
کنجاہ پولیس کے مطابق سید حسن گیلانی نے اندھیرا پڑتے ہی سینکڑوں مریدین و مریدنیوں کے ہمراہ وہاں ضلعی انتظامیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے محفل سجانے کی کوشش کی جس پر تھانہ کنجاہ و پولیس چوکی شادیوال نے حسن شاہ گیلانی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے
یاد رہے کہ ضلعی انتظامیہ نے پچھلے سال بھی عرس پر غیر شرعی ناچ گانے پر پابندی عائد کر دی تھی جو کہ اس سال بھی برقرار تھی ذرائع

‏موٹروے گینگ ریپ کیس​جسٹس سید شہباز علی رضوی پرمشتمل بینچ دو رکنی بنچ نے مرکزی مجرم عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزاوں کے خ...
02/06/2026

‏موٹروے گینگ ریپ کیس

​جسٹس سید شہباز علی رضوی پرمشتمل بینچ دو رکنی بنچ نے مرکزی مجرم عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزاوں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا
​انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 2021 میں دونوں کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

اغوا، بلیک میلنگ اور مبینہ زیادتی کیس میں انصاف کے لیے دربدر خاتون، پولیس پر ناقص تفتیش اور ملزم سے ساز باز کر کہ  ریلیف...
01/06/2026

اغوا، بلیک میلنگ اور مبینہ زیادتی کیس میں انصاف کے لیے دربدر خاتون، پولیس پر ناقص تفتیش اور ملزم سے ساز باز کر کہ ریلیف پہنچانے کے سنگین الزامات
'خواتین ہماری ریڈ لاین ' کے نعرے کو پنڈی بھٹیاں پولیس نے ہوا میں اڑا دیا
اغوا، بلیک میلنگ اور زیادتی کے ایک حساس مقدمے میں متاثرہ خاتون نے پولیس کی ناقص تفتیش، مبینہ جانبداری اور ملزم سے سازباز کے باعث انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور پر حوا کی بیٹی کو خاتون وزیر اعلی ہونے کے باوجود انصاف نہ مل سکا ،
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ اور آئی جی پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
متاثرہ خاتون کے مطابق اس کا رابطہ قاسم علی ولد رجب علی سے ایک تیسرے شخص کے ذریعے ہوا تھا۔ اس وقت وہ ملازمت اور گھریلو مسائل کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار تھی اور بعض روحانی معاملات کے حوالے سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتی تھی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ملزم نے ہمدردی اور اعتماد کا ماحول قائم کیا، تاہم بعد ازاں جب اسے ملزم کے بارے میں بعض حقائق کا علم ہوا تو اس نے رابطہ ختم کرنے کی کوشش کی۔
خاتون کے مطابق رابطہ منقطع کرنے پر ملزم نے مبینہ طور پر بلیک میلنگ اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ متاثرہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ ملزم اسے نکاح پر مجبور کرتا رہا اور انکار کی صورت میں اس کے والدین کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیتا تھا۔ خاتون کے مطابق ملزم نے اس کے والد کی ویڈیو بنا کر بھی اسے بھیجی تاکہ خوف و ہراس پیدا کیا جا سکے، جبکہ دھوکے سے بنائ گئ اس کی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
متاثرہ خاتون کا مزید کہنا ہے کہ ریاست نامی ایک شخص بھی اس تمام معاملے میں شامل تھا جو مبینہ طور پر عملیات اور کالے علم کے ذریعے مسائل حل کرنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ خاتون کے مطابق مذکورہ شخص نے مختلف اوقات میں اس سے رقم وصول کی اور مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کراتا رہا، تاہم مزید رقم نہ ملنے پر اس نے بھی مبینہ طور پر دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
متاثرہ خاتون کے مطابق بعد ازاں اسے اغوا کر لیا گیا اور تین روز تک ایک نامعلوم مقام پر رکھ کر زیادتی کی گئی ۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ اغوا سے قبل اس سے بعض سادہ کاغذات پر دھوکے سے دستخط بھی کروائے گئے تھے۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اغوا کے دوران اس پر شدید ذہنی دباؤ ڈالا گیا اور عدالت میں اپنی مرضی سے ملزم کے ساتھ جانے کا بیان دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس دوران اس کے ساتھ بار بار مبینہ زیادتی بھی کی گئی۔
خاتون کے مطابق جب اسے پنڈی بھٹیاں کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے جج کے روبرو تمام حقائق بیان کر دیے۔ اس کے بقول عدالت نے اس کا مؤقف سننے کے بعد اسے اہل خانہ کے ساتھ جانے کی اجازت دی جبکہ ملزم قاسم علی کو گرفتار کر لیا گیا۔
تاہم متاثرہ خاتون کا الزام ہے کہ بعد ازاں پولیس کی ناقص تفتیش نے کیس کا رخ بدل دیا۔ خاتون کے مطابق متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور تفتیشی افسر نے مبینہ طور پر ملزم کے حق میں بیانات قلمبند کیے جبکہ مقدمے کے اہم شواہد کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا موبائل فون، طلائی زیورات اور نقدی تاحال برآمد نہیں کی گئی، جبکہ ملزم کے خلاف موجود شواہد پر بھی مکمل توجہ نہیں دی گئی جس سے کیس کو ثابت کیا جاسکے ۔
متاثرہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے آزادانہ تحقیقات کے بجائے ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر دھوکے سے بنائی گئی ویڈیوز، تصاویر اور کال ریکارڈ کو بنیاد بنا کر کیس کو ’’لو میرج‘‘ کا رنگ دے دیا۔ خاتون کے مطابق اس مؤقف کے ذریعے اغوا، بلیک میلنگ اور زیادتی کے الزامات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
متاثرہ خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ بعد ازاں ایک مبینہ غیر رجسٹرڈ جعلی نکاح نامہ بھی سامنے لایا گیا، جس کی تاریخ ملزم کی حراست کے دوران کی تھی حالانکہ اس کے بقول ملزم پہلے سے شادی شدہ تھا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس پہلو کی بھی مکمل تحقیقات نہیں کی گئیں اور نہ ہی متعلقہ ریکارڈ کی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال کی گئی۔
انصاف کے حصول کے لیے سی پی او آفس، کھلی کچہری اور وزیراعلیٰ پنجاب کے شکایتی پورٹل سمیت مختلف فورمز سے رجوع کرنے کے باوجود متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کی لاعلمی ، پولیس اور وکلا کی مبینہ ساز باز کے باعث خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکا۔ اس کے مطابق ہر سطح پر پولیس کی تفتیشی رپورٹ کو بنیاد بنا کر کیس کو لو میرج قرار دیا جاتا رہا اور اس کے اعتراضات کو نظر انداز کیا گیا۔
متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ ملزم کے مبینہ اثر و رسوخ، بعض وکلا اور پولیس افسران سے مبینہ روابط کے باعث کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن نہ ہو سکیں، جس کے نتیجے میں وہ انصاف کے حصول کے لیے آج بھی دربدر ہے۔
متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ، آئی جی پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی ازسرنو تحقیقات کرائی جائیں، تفتیش کا ریکارڈ اور شواہد دوبارہ جانچے جائیں اور ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
(نوٹ: خبر میں شامل تمام الزامات متاثرہ خاتون کے بیان اور مؤقف پر مبنی ہیں۔ متعلقہ پولیس حکام اور نامزد ملزم کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔)
Maryam Nawaz Sharif CCD Punjab official ✅🇵🇰

18/05/2026

*پنجاب پولیس ڈی ایس پیز/ اے ایس پیز تقرر و تبادلے*

1 فضل رحمان سیفی اے ایس پی آپریشنز چونگ لاہور سے ٹرانسفر کر کے اے ایس پی آپریشنز ڈیفنس لاہور تعینات کر دیا گیا۔

2 بریرہ بلوچ اے ایس پی آپریشنز ڈیفنس لاہور سے ٹرانسفر کر کے اے ایس پی انویسٹی گیشن گلبرگ لاہور تعینات کر دی گئی ہیں۔

3 قمر عباس ڈی ایس پی انویسٹی گیشن گلبرگ لاہور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن برکی لاہور تعینات کر دیا گیا۔

4 علی عباس ڈی ایس پی انویسٹی گیشن برکی لاہور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ، کیپیٹل سٹی ڈسٹرکٹ لاہور تعینات کر دیا گیا۔

5 عمران محبوب خان ڈی ایس پی VI، PPIC3 سنٹر لاہور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن ڈیفنس لاہور تعینات کر دیا گیا۔

6 محمد افضل ڈی ایس پی انویسٹی گیشن ڈیفنس لاہور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن مسلم ٹاؤن لاہور تعینات کر دیا گیا۔

7 افتخار رسول ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز، ڈولفن اسکواڈ لاہور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن شاہدرہ لاہور تعینات کر دیا گیا۔

8 سعادت حسین ڈی ایس پی انویسٹی گیشن شاہدرہ لاہور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی ٹیکنیکل، اسپیشل برانچ پنجاب لاہور تعینات کر دیا گیا۔

9 نورین رمضان ڈی ایس پی ٹیکنیکل، اسپیشل برانچ پنجاب لاہور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی اسٹیبلشمنٹ، اسپیشل برانچ پنجاب لاہور تعینات کر دی گئی ہیں۔

10 خرم سلطان ڈی ایس پی اسٹیبلشمنٹ، اسپیشل برانچ پنجاب لاہور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی سکیورٹی، اسپیشل برانچ پنجاب لاہور تعینات کر دیا گیا۔

11 محمد حسن طاہر ایس ڈی پی او صدر بہاولپور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی رائٹ مینجمنٹ پولیس (RMP) ساہیوال تعینات کر دیا گیا۔

12 محمد بخت نصار ایس ڈی پی او حاصل پور بہاولپور سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او مظفرآباد ملتان تعینات کر دیا گیا۔

13 بشیر احمد ہراج ایس ڈی پی او مظفرآباد ملتان سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او حاصل پور بہاولپور تعینات کر دیا گیا۔

14 ملک محمد اکبر ایس ڈی پی او عارفوالہ پاکپتن سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او سناواں، کوٹ ادو تعینات کر دیا گیا۔

15 محمد وسیم اکبر ایس ڈی پی او سناواں، کوٹ ادو سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او کوٹ ادو تعینات کر دیا گیا۔

16 عبدالشکور ویٹنگ پوسٹنگ سے ایس ڈی پی او حرم گیٹ ملتان تعینات کر دیا گیا۔

17 دلشاد احمد ایس ڈی پی او حرم گیٹ ملتان سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ، ڈی جی خان ریجن تعینات کر دیا گیا۔

18 فیاض علی ایس ڈی پی او دنیاپور لودھراں سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او سٹی ساہیوال تعینات کر دیا گیا۔

19 محمد سلیم کامران ڈی ایس پی ایڈمن (RO CTD ڈی جی خان) سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او دنیاپور لودھراں تعینات کر دیا گیا۔

20 فیصل عباس ایس ڈی پی او بھلوال سرگودھا سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او سلانوالی سرگودھا تعینات کر دیا گیا۔

21 شاہد عنایت بھٹی ایس ڈی پی او سلانوالی سرگودھا سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او بھلوال سرگودھا تعینات کر دیا گیا۔

22 غلام رسول ڈسٹرکٹ آفیسر، اسپیشل برانچ رحیم یار خان سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی آپریشنز DIC3 رحیم یار خان تعینات کر دیا گیا۔

23 بابر حسین ویٹنگ پوسٹنگ سے ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر حافظ آباد تعینات کر دیا گیا۔

24 تصدق حسین فہیم ڈی ایس پی لیگل-I اوکاڑہ سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی لیگل-I وہاڑی تعینات کر دیا گیا۔

25 کوثر حسین ڈی ایس پی-I بٹالین-3 پنجاب کانسٹیبلری ملتان سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم ملتان تعینات کر دیا گیا۔

26 محمد اویس ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم میانوالی سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی-I بٹالین-3 پنجاب کانسٹیبلری ملتان تعینات کر دیا گیا۔

27 فاروق احمد خان ویٹنگ پوسٹنگ سے ایس ڈی پی او جام پور راجن پور تعینات کر دیا گیا۔

28 عبدالکریم ایس ڈی پی او جام پور راجن پور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی-II بٹالین-4 پنجاب کانسٹیبلری فیصل آباد تعینات کر دیا گیا۔

29 شکیل احمد ڈی ایس پی پی ایچ پی چکوال سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او سول لائنز راولپنڈی تعینات کر دیا گیا۔

30 محمد نعمان ڈی ایس پی ایم ٹی ورکشاپ پنجاب لاہور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی فنگر پرنٹ بیورو، انویسٹی گیشن برانچ پنجاب لاہور تعینات کر دیا گیا۔

31 طارق محمود ڈوگر ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز شیخوپورہ سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز، ڈولفن اسکواڈ لاہور تعینات کر دیا گیا۔

32 سید منتظر مہدی کاظمی ڈی ایس پی انویسٹی گیشن-VIII، انویسٹی گیشن برانچ پنجاب لاہور سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی-III بٹالین-6 پنجاب کانسٹیبلری فاروق آباد تعینات کر دیا گیا۔

33 محمد ریاض ڈی ایس پی انویسٹی گیشن-I گوجرانوالہ سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز جہلم تعینات کر دیا گیا۔

34 سجاد علی ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز جہلم سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او سانگلہ ننکانہ صاحب تعینات کر دیا گیا۔

35 سجاد حسین ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز خوشاب سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او صدر جہلم تعینات کر دیا گیا۔

36 شہباز احمد ہنجرا ایس ڈی پی او صدر جہلم سے ٹرانسفر کر کے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن-I گوجرانوالہ تعینات کر دیا گیا۔

37 شہزاد فیض ڈی ایس پی انویسٹی گیشن چکوال سے ٹرانسفر کر کے ایس ڈی پی او صدر بہاولپور تعینات کر دیا گیا۔

نوٹیفکیشن جاری

17/05/2026
16/05/2026

مجھ سے زبردستی بیان دلوا رہے ہیں کہ میں بنی گالہ میں بھی سپلائی دیتی تھی
# anmol pinki
#انمول پنکی

16/05/2026

کراچی: انمول عرف پنکی کی چہرہ ڈھانپ کر عدالت میں پیشی، شور شرابا، تشدد کا الزام
کراچی سے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
ملزمہ انمول عرف پنکی کو چہرہ ڈھانپ کر سخت سیکیورٹی میں سٹی کورٹ کراچی لایا گیا اور 4 پرانے مقدمات میں جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔
ملزمہ انمول عرف پنکی نے پیشی کے دوران شور شرابا کیا اور الزام لگایا کہ مجھ پر تشدد کیا جا رہا ہے۔
پنکی نے عدالت کو بتایا کہ مجھے 22 دن سے اٹھایا ہوا ہے، مجھے لاہور سے گرفتار کر کے یہاں لائے ہیں، میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں، جب گرفتاری کی ویڈیو بنائی گئی اس وقت میری آنکھوں پر پٹی تھی، اگر میں پہلے سے وہاں تھی تو آنکھوں پر پٹی کہاں سے آئی
جج نے ملزمہ کو یقین دہائی کروائی کہ عدالت میں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرسکتا، آپ سانس لیں آرام سے میں آپ کی مکمل بات سنوں گا، وکیل اور ملزمہ کا مکمل موقف سنا جائے گا۔
ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ کورٹ روم کا دروازہ بند کردیں، ملزمہ کو 15 مئی کو پیش کرنا چاہیے تھا، 22 دن ہوگئے ہیں کبھی کہاں تو کبھی کہاں لے کر جارہے ہیں۔
جج نے ریمارکس دیے کہ میں کورٹ کا دروازہ بند نہیں کرسکتا، میں آپ کی مکمل بات سنوں گا، ملزمہ کو بغدادی تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 147 میں پیش کیا گیا ہے، جتنے انویسٹی گیشن آفیسر ہیں عدالت میں رہیں۔
عدالت نے ملزمہ سے استفسار کیا کہ آپ کا نام کیا ہے، آپ کی طبعیت اب ٹھیک ہے؟جس پر ملزمہ نے جواب دیا کہ میرا نام انمول ہے، میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالے جارہے ہیں، کہا جارہا ہے کہ سب کچھ قبول کریں ورنہ آپ کی فیملی کو اٹھا کر لے جائیں گے، مجھے وین میں لاہور سے لے کر آئے ہیں، 3 دن سے پوری فیملی پر پرچے کاٹے جارہے ہیں، تالہ توڑ کر مجھے فلیٹ میں سے اٹھا کر میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے گئے تھے۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ملزمہ کا پہلا آرڈر کہاں ہے؟ نظرثانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے پرانے دونوں آرڈر پیش کریں، تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ پہلا آرڈر پولیس موبائل میں موجود ہے، جج نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ انویسٹی گیشن ہے آپ کی؟ 3 دن ریمانڈ ملا تھا، کیس میں کیا پیش رفت ہے؟

تفتیشی افسر نے بتایا کہ 7 لوگ گرفتار کر لیے ہیں، ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں، ملزمہ کی نشاندہی پر ریکوری ہورہی ہے، 3 کیسز ہیں معزز عدالت کو صحیح طرح سمجھا نہیں سکا، ملزمہ آج تک نہیں پکڑی گئی بہت عرصے سے کام کررہی ہے، یونیورسٹیوں میں نسلیں تباہ کردی گئی ہیں، 800 افراد کے نمبر ملے ہیں جن کو منشیات سپلائی کررہی تھی، اس نے اپنا برانڈ بنایا ہوا ہے، ملزمہ کے گینگ میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔
تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی نشاندہی پر ان کے رائیڈرز کو گرفتار کرنا ہے، ان تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوئے، ملزمہ کے بھائی پر 6 مقدمات پہلے کے ہیں ملزمہ پر پرانے کیسز ہیں، چھوٹا بھائی لاہور سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتا ہے، ابھی ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرنا ہے۔
عدالت نے سوال کیا کی کیس میں موجود جو بندہ مر گیا ہے اس کا کیا ہے؟ افسر نے بتایا کہ ابھی تک نامعلوم ہے فنگر پرنٹ بھیجے ہوئے ہیں۔
ملزمہ کے وکیل نے کہا 15 مئی کو ملزمہ کو پیش کرنا تھا، جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں 3 دن کا لکھا ہوا ہے، جج نے ریمارکس دیے کہ 16 مئی کی صبح پیش کیا گیا ہے، 3 دن کا ریمانڈ واضح تھا میرے حساب سے ٹھیک پیش کیا، اگر پیر کو پیش کرتے تو شوکاز ہوتا۔
پنکی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی نے کہا کہ ملزمہ اتنے عرصے سے کام کررہی ہے، اگر ہر چیز ہے ان کے پاس، تو پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا، اصل بندے ان کے ہاتھ نہیں آتے ہیں، دوسروں کو پکڑ لیتے ہیں، قتل کیس دیکھیں قتل کی تاریخوں میں تضاد ہے، ملزمہ لاہور میں تھی یہ جعلی کیس ہے، بدنیتی پر مبنی ہے۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمہ نے اپنا برانڈ بنایا ہوا ہے وہ ڈبیاں ملی ہیں، وکیل نے کہا کہ پولیس نے اپنی طرف سے ملزمہ کا برانڈ بنایا ہوا ہے، ساری منشیات پہلے سے رکھی ہوئی تھی، سارے جعلی کیسز ہیں، کسی پرانے کیس میں نام نہیں ہے، عدالتی ریمانڈ پر بھیجا جائے۔
پنکی نے عدالت میں بیان دیا کہ مجھے 22، 23 دن پہلے لاہور سے 6 پولیس اہلکاروں نےاٹھایا، 15 دن اپنے پاس رکھا 5 دن پہلے لے کر آئے، عدالت نے کہا کہ آپ نے اس وقت شور شرابہ کیوں نہیں کیا، انمول پنکی نے کہا کہ مجھ پر تشدد کیا جارہا تھا، میں بے گناہ ہوں میں نے کچھ نہیں کیا، میرا سابق شوہر یہ سب کچھ کرا رہا ہے۔

عدالت نے سوال کیا کہ آپ کے سابق شوہر وہ سب کیوں کررہا ہے، اس پر ملزمہ نے کہا کہ کیونکہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے، مجھے 3 ماہ پہلے اس نے چھوڑا تھا، جج نے استفسار کیا کہ خلع لی ہے یا طلاق دی تھی، ملزمہ نے کہا کہ طلاق دی تھی نکاح رجسٹرڈ نہیں تھا۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمہ کے پہلے شوہر نے 14 سال پہلے چھوڑا، یہ سابق شوہر کے سارے کلائنٹ لے کر آگئی ہے، ایک ڈی ایس پی لاہور کے ہیں ان سے بھی شادی کی تھی، ان کے وائس میسجز ان کے کلائنٹس نے لیک کئے ہیں، ہم نے نہیں، ان کے موبائل سے منشیات بنانے کی ویڈیوز ملی ہیں، 12 مئی کو وکیل نے ملزمہ کے بھائی سے لاہور میں بات کرائی ہے، ملزمہ کے بھائی نے کہا ہے معاملات خراب ہیں سب بھاگ گئے ہیں، ملزمہ بہت ہی شاطر ہے، بار بار بیان بدل رہی ہے، ملزمہ نے ابھی آتے کہا کہ مجھے جانتے نہیں ہو، میرا نام پنکی ہے۔
عدالت نے ملزم کامران سے سوال کیا کہ آپ موبائل ایپ منی ٹرانسفر اکاؤنٹ چلاتے ہیں۔
تفتیشی افسر نے کہا دونوں بھائی موبائل ایپ منی ٹرانسفر کی دکان چلاتے ہیں، 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہیں۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔۔
عدالت نے کہا کہ ملزمہ کو لے جائیں، ریمانڈ کی درخواست پر کچھ دیر بعد فیصلہ کریں گے، جس وکیل نے ملزمہ سے بات کرنی ہے یہیں کریں کسٹڈی باہر مت لے جائیں۔کراچی: انمول عرف پنکی کی چہرہ ڈھانپ کر عدالت میں پیشی، شور شرابا، تشدد کا الزام
کراچی سے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
ملزمہ انمول عرف پنکی کو چہرہ ڈھانپ کر سخت سیکیورٹی میں سٹی کورٹ کراچی لایا گیا اور 4 پرانے مقدمات میں جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔
ملزمہ انمول عرف پنکی نے پیشی کے دوران شور شرابا کیا اور الزام لگایا کہ مجھ پر تشدد کیا جا رہا ہے۔
پنکی نے عدالت کو بتایا کہ مجھے 22 دن سے اٹھایا ہوا ہے، مجھے لاہور سے گرفتار کر کے یہاں لائے ہیں، میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں، جب گرفتاری کی ویڈیو بنائی گئی اس وقت میری آنکھوں پر پٹی تھی، اگر میں پہلے سے وہاں تھی تو آنکھوں پر پٹی کہاں سے آئی
جج نے ملزمہ کو یقین دہائی کروائی کہ عدالت میں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرسکتا، آپ سانس لیں آرام سے میں آپ کی مکمل بات سنوں گا، وکیل اور ملزمہ کا مکمل موقف سنا جائے گا۔
ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ کورٹ روم کا دروازہ بند کردیں، ملزمہ کو 15 مئی کو پیش کرنا چاہیے تھا، 22 دن ہوگئے ہیں کبھی کہاں تو کبھی کہاں لے کر جارہے ہیں۔
جج نے ریمارکس دیے کہ میں کورٹ کا دروازہ بند نہیں کرسکتا، میں آپ کی مکمل بات سنوں گا، ملزمہ کو بغدادی تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 147 میں پیش کیا گیا ہے، جتنے انویسٹی گیشن آفیسر ہیں عدالت میں رہیں۔
عدالت نے ملزمہ سے استفسار کیا کہ آپ کا نام کیا ہے، آپ کی طبعیت اب ٹھیک ہے؟جس پر ملزمہ نے جواب دیا کہ میرا نام انمول ہے، میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالے جارہے ہیں، کہا جارہا ہے کہ سب کچھ قبول کریں ورنہ آپ کی فیملی کو اٹھا کر لے جائیں گے، مجھے وین میں لاہور سے لے کر آئے ہیں، 3 دن سے پوری فیملی پر پرچے کاٹے جارہے ہیں، تالہ توڑ کر مجھے فلیٹ میں سے اٹھا کر میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے گئے تھے۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ملزمہ کا پہلا آرڈر کہاں ہے؟ نظرثانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے پرانے دونوں آرڈر پیش کریں، تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ پہلا آرڈر پولیس موبائل میں موجود ہے، جج نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ انویسٹی گیشن ہے آپ کی؟ 3 دن ریمانڈ ملا تھا، کیس میں کیا پیش رفت ہے؟

تفتیشی افسر نے بتایا کہ 7 لوگ گرفتار کر لیے ہیں، ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں، ملزمہ کی نشاندہی پر ریکوری ہورہی ہے، 3 کیسز ہیں معزز عدالت کو صحیح طرح سمجھا نہیں سکا، ملزمہ آج تک نہیں پکڑی گئی بہت عرصے سے کام کررہی ہے، یونیورسٹیوں میں نسلیں تباہ کردی گئی ہیں، 800 افراد کے نمبر ملے ہیں جن کو منشیات سپلائی کررہی تھی، اس نے اپنا برانڈ بنایا ہوا ہے، ملزمہ کے گینگ میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔
تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی نشاندہی پر ان کے رائیڈرز کو گرفتار کرنا ہے، ان تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوئے، ملزمہ کے بھائی پر 6 مقدمات پہلے کے ہیں ملزمہ پر پرانے کیسز ہیں، چھوٹا بھائی لاہور سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتا ہے، ابھی ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرنا ہے۔
عدالت نے سوال کیا کی کیس میں موجود جو بندہ مر گیا ہے اس کا کیا ہے؟ افسر نے بتایا کہ ابھی تک نامعلوم ہے فنگر پرنٹ بھیجے ہوئے ہیں۔
ملزمہ کے وکیل نے کہا 15 مئی کو ملزمہ کو پیش کرنا تھا، جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں 3 دن کا لکھا ہوا ہے، جج نے ریمارکس دیے کہ 16 مئی کی صبح پیش کیا گیا ہے، 3 دن کا ریمانڈ واضح تھا میرے حساب سے ٹھیک پیش کیا، اگر پیر کو پیش کرتے تو شوکاز ہوتا۔
پنکی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی نے کہا کہ ملزمہ اتنے عرصے سے کام کررہی ہے، اگر ہر چیز ہے ان کے پاس، تو پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا، اصل بندے ان کے ہاتھ نہیں آتے ہیں، دوسروں کو پکڑ لیتے ہیں، قتل کیس دیکھیں قتل کی تاریخوں میں تضاد ہے، ملزمہ لاہور میں تھی یہ جعلی کیس ہے، بدنیتی پر مبنی ہے۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمہ نے اپنا برانڈ بنایا ہوا ہے وہ ڈبیاں ملی ہیں، وکیل نے کہا کہ پولیس نے اپنی طرف سے ملزمہ کا برانڈ بنایا ہوا ہے، ساری منشیات پہلے سے رکھی ہوئی تھی، سارے جعلی کیسز ہیں، کسی پرانے کیس میں نام نہیں ہے، عدالتی ریمانڈ پر بھیجا جائے۔
پنکی نے عدالت میں بیان دیا کہ مجھے 22، 23 دن پہلے لاہور سے 6 پولیس اہلکاروں نےاٹھایا، 15 دن اپنے پاس رکھا 5 دن پہلے لے کر آئے، عدالت نے کہا کہ آپ نے اس وقت شور شرابہ کیوں نہیں کیا، انمول پنکی نے کہا کہ مجھ پر تشدد کیا جارہا تھا، میں بے گناہ ہوں میں نے کچھ نہیں کیا، میرا سابق شوہر یہ سب کچھ کرا رہا ہے۔

عدالت نے سوال کیا کہ آپ کے سابق شوہر وہ سب کیوں کررہا ہے، اس پر ملزمہ نے کہا کہ کیونکہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے، مجھے 3 ماہ پہلے اس نے چھوڑا تھا، جج نے استفسار کیا کہ خلع لی ہے یا طلاق دی تھی، ملزمہ نے کہا کہ طلاق دی تھی نکاح رجسٹرڈ نہیں تھا۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمہ کے پہلے شوہر نے 14 سال پہلے چھوڑا، یہ سابق شوہر کے سارے کلائنٹ لے کر آگئی ہے، ایک ڈی ایس پی لاہور کے ہیں ان سے بھی شادی کی تھی، ان کے وائس میسجز ان کے کلائنٹس نے لیک کئے ہیں، ہم نے نہیں، ان کے موبائل سے منشیات بنانے کی ویڈیوز ملی ہیں، 12 مئی کو وکیل نے ملزمہ کے بھائی سے لاہور میں بات کرائی ہے، ملزمہ کے بھائی نے کہا ہے معاملات خراب ہیں سب بھاگ گئے ہیں، ملزمہ بہت ہی شاطر ہے، بار بار بیان بدل رہی ہے، ملزمہ نے ابھی آتے کہا کہ مجھے جانتے نہیں ہو، میرا نام پنکی ہے۔
عدالت نے ملزم کامران سے سوال کیا کہ آپ موبائل ایپ منی ٹرانسفر اکاؤنٹ چلاتے ہیں۔
تفتیشی افسر نے کہا دونوں بھائی موبائل ایپ منی ٹرانسفر کی دکان چلاتے ہیں، 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہیں۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔۔
عدالت نے کہا کہ ملزمہ کو لے جائیں، ریمانڈ کی درخواست پر کچھ دیر بعد فیصلہ کریں گے، جس وکیل نے ملزمہ سے بات کرنی ہے یہیں کریں کسٹڈی باہر مت لے جائیں۔

13/05/2026

انمول عرف پنکی کیس... ایک گرفتاری نے کراچی سے لاہور تک مبینہ منشیات نیٹ ورک، طاقتور پشت پناہی اور پولیس سسٹم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے
کراچی میں گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی بظاہر ایک ملزمہ ضرور ہے، لیکن ابتدائی تفتیش، کرائم ذرائع اور سامنے آنے والے مبینہ شواہد یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ معاملہ صرف ایک فرد کی گرفتاری تک محدود نہیں۔ کرائم سرکلز میں اسے ایک ایسے مبینہ ہائی پروفائل نیٹ ورک کا مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے، جس کے رابطے کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں تک پھیلے ہونے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کا آبائی تعلق قصور سے بتایا جاتا ہے، جبکہ اس نے مبینہ طور پر پہلے لاہور میں اپنے روابط مضبوط کیے اور بعدازاں کراچی میں سرگرم رہی۔ کرائم حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کے نیٹ ورک میں مبینہ سپلائرز، ڈلیوری چین، سہولت کار اور بااثر رابطے شامل تھے، جن کے ذریعے مخصوص گاہکوں تک رسائی حاصل کی جاتی تھی۔
اس کیس کا سب سے حساس اور چونکا دینے والا پہلو لاہور کنکشن قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ لاہور کے علاقوں نواب ٹاؤن، پاک عرب سوسائٹی اور دیگر مقامات پر سرگرم رہی۔ پولیس ریکارڈ سے جڑی معلومات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کوٹ لکھپت کے دائرہ کار میں اس کے قریبی افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے، تاہم خود انمول مبینہ طور پر ایک کارروائی کے دوران فرار ہونے میں کامیاب رہی۔ کرائم حلقوں میں سوال اٹھ رہا ہے کہ ایک نامزد ملزمہ برسوں تک قانون کی گرفت سے کیسے باہر رہی؟
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ کے مبینہ روابط ایسے طاقتور حلقوں تک رہے جن کی وجہ سے ہر بار قانونی شکنجہ کمزور پڑتا رہا۔ گرفتاری کے بعد عدالتی کارروائی، ریمانڈ کے معاملات اور تفتیشی پیش رفت نے بھی کئی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کرائم مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کیس کی تہہ تک پہنچا گیا تو صرف منشیات نیٹ ورک ہی نہیں بلکہ مبینہ سہولت کاروں، مالی روابط اور ممکنہ ادارہ جاتی کمزوریوں کے کئی دروازے کھل سکتے ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا تحقیقات صرف انمول عرف پنکی تک محدود رہیں گی یا پھر اس کیس سے وہ بڑے نام بھی سامنے آئیں گے جن کے سائے میں یہ مبینہ نیٹ ورک برسوں تک چلتا رہا۔

Address

St Peer Bhola Bazar Sootar Mandi Androon Lohri Gate H# D3965
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Crime scene posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Crime scene:

Share