02/12/2025
💔 امیرزادوں کی لاپرواہی، غریبوں کی قبریں — یہ دوہرا نظام کب بدلے گا؟
آخر یہ ملک کس سمت جا رہا ہے؟
امراء کے بچے سڑکوں پر غریبوں کی بچیوں اور بچوں کو کچلتے پھر رہے ہیں…
نہ کوئی پوچھنے والا، نہ کوئی ذمہ دار کھڑا ہوتا ہے، نہ انصاف کی کرسی لرزتی ہے۔
غریب کے حصے میں صرف “اللہ کی عدالت” اور صبر کی تلقین رہ جاتی ہے،
مگر ہمارے پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے:
“اگر میری بیٹی بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا۔”
یہ ہے عدلِ مصطفیٰ ﷺ — اور یہ ہے ہمارا مصنوعی انصاف!
ہزاروں غریب کم عمر لڑکوں پر FIR کاٹی جاتی ہے کہ لائسنس نہیں…
مگر امیر خاندانوں کے کم عمر لڑکے قتل تک کر جائیں، تو سب معاف!
“نہ مدعی، نہ شہادت—حساب پاک ہوا”
خونِ خاک نشیناں ہمیشہ کی طرح خاک ہو جاتا ہے۔
تازہ سانحہ:
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جسٹس کے کم عمر صاحبزادے ابوذر کی تیز رفتار گاڑی نے رات ڈیڑھ بجے
ایک غریب مزدور کی بیٹی اور اس کی دوست کی زندگی چھین لی۔
پولیس نے گرفتار تو کر لیا ہے…
مگر عوام پوچھ رہی ہے:
کیا اس بار بھی دولت، حیثیت اور “ہمارا بیٹا بچہ ہے” کا ڈھال بنے گی؟
یہ قوم تھک چکی ہے۔
دوہرا قانون قومیں تباہ کرتا ہے، ریاستیں نہیں چلتی۔
رب کرے اس بار انصاف غریب کے دروازے تک پہنچے…
ورنہ یہ بھی ایک اور داستانِ ماتم بن جائے گی۔