26/05/2026
ہمارے والدین کی اکثریت لاعلمی کی وجہ سے بچوں کی ذہنی صحت خراب کر رہے ہیں…
اگر مجھے اجازت دیں تو میں کہنا چاہونگا، انہیں پاگل کر رہے ہیں
اور ان کو اس بات کا احساس بھی نہیں۔
مجھے والدین کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن انکی فرسٹریشن بچوں کی ذہنی صحت تباہ کر رہی ھے۔
ہمارے ہاں بچے اب بچے نہیں رہے۔
وہ ایک پروجیکٹ بن چکے ہیں۔
جیسے ہی بچہ اسکول جانا شروع کرتا ہے، گھر میں ایک ریس شروع ہو جاتی ہے۔
پہلے نمبر پر آنا ہے
فلاں کے بچے سے آگے نکلنا ہے
ہم نے تم پر اتنا خرچ کیا ہے
اتنے کم نمبر لے کر کیا کرو گے؟
اور یہ سب اتنی مسلسل repetition کے ساتھ ہوتا ہے کہ بچہ آہستہ آہستہ یہ مان لیتا ہے کہ اس کی value صرف performance سے جڑی ہوئی ہے۔
اگر وہ جیت گیا تو اچھا بچہ۔
اگر پیچھے رہ گیا تو مسئلہ۔
مسلسل performance pressure بچوں کے دماغ پر دوررس اثر ڈالتا ہے۔ American Psychological Association کے مطابق وہ بچے جو مسلسل achievement pressure میں رہتے ہیں، ان میں anxiety، sleep disorders، low self-esteem اور depression کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ ہوتے ہیں۔
لیکن ہمارے معاشرے میں mental health کو اب بھی کوئی سیریئس لینے کو تیار نہیں۔
بچہ اگر خاموش رہنے لگے…
ہر وقت تھکا ہوا لگے…
لوگوں سے کٹنے لگے…
اکیلا بیٹھنے لگے…
تو ہم فوراً کہتے ہیں:
یہ موبائل کا مسئلہ ہے
یہ سب بہانے ہیں
ہم نے بھی دنیا دیکھی ہے
حالانکہ حقیقت میں وہ اندر سے دب رہا ہوتا ہے۔
سب سے خطرناک چیز comparison ہے۔
پاکستانی گھروں میں comparison تقریباً parenting tool بن چکا ہے۔
دیکھو فلاں کا بیٹا
فلاں کی بیٹی کو دیکھو
وہ تم سے چھوٹا ہے پھر بھی آگے ہے
والدین شاید motivate کرنا چاہتے ہیں…
لیکن بچے کے دماغ میں یہ جملے کچھ اور بن جاتے ہیں۔
وہ یہ سن رہا ہوتا ہے:
“میں قابل نہیں ہوں”
“میں disappointing ہوں”
“مجھے محبت result کی بنیاد پر ملتی ہے”
اور پھر یہی بچے بڑے ہو کر ہر وقت validation ڈھونڈتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر۔
رشتوں میں۔
جاب میں۔
لوگوں کی approval میں۔
ہمارے ہاں ایک اور بہت بڑا مسئلہ ہے۔
ہم بچوں کو جیتنا تو سکھاتے ہیں…
ہارنا نہیں سکھاتے۔
ہم انہیں یہ نہیں سکھاتے کہ failure بھی زندگی کا حصہ ہے۔
اسی لیے جیسے ہی زندگی پہلی بار زور سے تھپڑ مارتی ہے…
بہت سے بچے mentally collapse ہو جاتے ہیں۔
ہارورڈ کی ایک research میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ بچے جنہیں صرف results پر appreciate کیا جائے، وہ risk لینا کم کر دیتے ہیں۔
وہ نئی چیزیں try کرنے سے ڈرتے ہیں، کیونکہ ان کے دماغ میں غلطی کا مطلب صرف ایک چیز بن چکا ہوتا ہے:
شرمندگی۔
اور پھر سوشل میڈیا اس آگ پر مزید پٹرول ڈال دیتا ہے۔
ہر طرف کامیابی کا شور۔
ہر طرف luxury lifestyle۔
ہر طرف perfect bodies، perfect lives، perfect achievements۔
بچہ اپنی عام زندگی کو ان highlights سے compare کرنا شروع کر دیتا ہے۔
اپنے ایک کو دوسروں کے بیس سے کمپیئر کرنا شروع کر دیتا ھے۔
اور آہستہ آہستہ اسے لگنے لگتا ہے کہ شاید وہ زندگی میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔
خدا کے لیے بچوں کو صرف machine مت بنائیں۔
انہیں سانس لینے دیں۔
انہیں غلطیاں کرنے دیں۔
انہیں کبھی کبھی average ہونے دیں۔
ہر بچہ billionaire نہیں بنے گا۔
ہر بچہ doctor یا engineer نہیں بنے گا۔
لیکن ہر بچہ mentally healthy ہو سکتا ہے…
اگر گھر اسے سکون دے، کورٹ نہ بن جائے۔
بعض اوقات بچے کو lecture نہیں چاہیے ہوتا۔
صرف یہ سننے کی ضرورت ہوتی ہے:
“کوئی بات نہیں…
تمہاری value صرف اچیومنٹ نہیں ہے۔
تنویر نانڈلہ