Yasir Arafat

Yasir Arafat Yasir Arafat is an Inspirational Speaker, Life Coach (UK Certified) & Corporate Trainer serves with Civil Services of Pakistan, Military and Corporate Sector.

A Passionate “Leadership Trainer & Psychotherapist ” who serves to Civil Services , Military & Corporate Sector.

➡️ For Training Sessions ,Executive Leadership Coaching ,One to One Counselling & Keynote Speaking ;
Please Call / Whatsapp @ 0346 5197868 He has been awarded by President of Islamic Republic of Pakistan upon his meritorious services in the field of Training & Development. He has an ex

perience of over 18 years in Training & Development, Management, Parliamentary affairs and Academia and Life Coaching. His services have been highly acknowledged and appreciated by Pakistan Army, Punjab Police Department, Anti Narcotics Force(ANF),State Bank of Pakistan, National Highways & Motorway Police, Federal Investigation Agency (FIA),CTD, Elite Force, Federal Board of Revenue ( FBR), Punjab Higher Education Department, PITB, Pakistan Customs Service & Islamabad Police. He is the Founder & CEO of Insight Leadership Consultants. He is the Chairman Standing Committee on Training & Development at GCCI. He is working for youth empowerment as Secretary General Pakistan Youth Assembly. He is a regular Program Guest Speaker at 7 News Lahore. He has dedicated his life’s work in producing a professional and efficient human resource through his cutting-edge Training's on Leadership and Life Skills. . Through his, corporate training's, life coaching sessions, keynote speaking, motivational seminars and media appearances; Yasir is helping Pakistan’s top multinational companies, Governments, Educational institutes, and non-profit organizations. As a trainer, Yasir assimilates latest research, conventional wisdom, philosophy and psychology with audio-visual content, exercises and activities in his TNA based training's. He has touched the lives of millions around the globe and his audience describe him as inspiring, direct-from-heart, and incredibly impactful. As a Life Coach, Yasir Arafat provides counselling on Family & Relationships, Career, Study Management, Self-Management, Stress, Anxiety, Depression and on other Psychological Issues. Yasir lives, operates and travels from Lahore, Pakistan. To know more about him you can visit him @ www.yasirarafattrainer.Com

Call / WhatsApp @ 03465197868

26/05/2026

ہمارے والدین کی اکثریت لاعلمی کی وجہ سے بچوں کی ذہنی صحت خراب کر رہے ہیں…
اگر مجھے اجازت دیں تو میں کہنا چاہونگا، انہیں پاگل کر رہے ہیں

اور ان کو اس بات کا احساس بھی نہیں۔

مجھے والدین کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن انکی فرسٹریشن بچوں کی ذہنی صحت تباہ کر رہی ھے۔

ہمارے ہاں بچے اب بچے نہیں رہے۔
وہ ایک پروجیکٹ بن چکے ہیں۔
جیسے ہی بچہ اسکول جانا شروع کرتا ہے، گھر میں ایک ریس شروع ہو جاتی ہے۔

پہلے نمبر پر آنا ہے
فلاں کے بچے سے آگے نکلنا ہے
ہم نے تم پر اتنا خرچ کیا ہے
اتنے کم نمبر لے کر کیا کرو گے؟

اور یہ سب اتنی مسلسل repetition کے ساتھ ہوتا ہے کہ بچہ آہستہ آہستہ یہ مان لیتا ہے کہ اس کی value صرف performance سے جڑی ہوئی ہے۔

اگر وہ جیت گیا تو اچھا بچہ۔
اگر پیچھے رہ گیا تو مسئلہ۔

مسلسل performance pressure بچوں کے دماغ پر دوررس اثر ڈالتا ہے۔ American Psychological Association کے مطابق وہ بچے جو مسلسل achievement pressure میں رہتے ہیں، ان میں anxiety، sleep disorders، low self-esteem اور depression کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ ہوتے ہیں۔

لیکن ہمارے معاشرے میں mental health کو اب بھی کوئی سیریئس لینے کو تیار نہیں۔

بچہ اگر خاموش رہنے لگے…
ہر وقت تھکا ہوا لگے…
لوگوں سے کٹنے لگے…
اکیلا بیٹھنے لگے…
تو ہم فوراً کہتے ہیں:

یہ موبائل کا مسئلہ ہے
یہ سب بہانے ہیں
ہم نے بھی دنیا دیکھی ہے

حالانکہ حقیقت میں وہ اندر سے دب رہا ہوتا ہے۔

سب سے خطرناک چیز comparison ہے۔
پاکستانی گھروں میں comparison تقریباً parenting tool بن چکا ہے۔

دیکھو فلاں کا بیٹا
فلاں کی بیٹی کو دیکھو
وہ تم سے چھوٹا ہے پھر بھی آگے ہے

والدین شاید motivate کرنا چاہتے ہیں…
لیکن بچے کے دماغ میں یہ جملے کچھ اور بن جاتے ہیں۔

وہ یہ سن رہا ہوتا ہے:

“میں قابل نہیں ہوں”
“میں disappointing ہوں”
“مجھے محبت result کی بنیاد پر ملتی ہے”

اور پھر یہی بچے بڑے ہو کر ہر وقت validation ڈھونڈتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر۔
رشتوں میں۔
جاب میں۔
لوگوں کی approval میں۔

ہمارے ہاں ایک اور بہت بڑا مسئلہ ہے۔
ہم بچوں کو جیتنا تو سکھاتے ہیں…
ہارنا نہیں سکھاتے۔

ہم انہیں یہ نہیں سکھاتے کہ failure بھی زندگی کا حصہ ہے۔
اسی لیے جیسے ہی زندگی پہلی بار زور سے تھپڑ مارتی ہے…
بہت سے بچے mentally collapse ہو جاتے ہیں۔

ہارورڈ کی ایک research میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ بچے جنہیں صرف results پر appreciate کیا جائے، وہ risk لینا کم کر دیتے ہیں۔
وہ نئی چیزیں try کرنے سے ڈرتے ہیں، کیونکہ ان کے دماغ میں غلطی کا مطلب صرف ایک چیز بن چکا ہوتا ہے:

شرمندگی۔

اور پھر سوشل میڈیا اس آگ پر مزید پٹرول ڈال دیتا ہے۔
ہر طرف کامیابی کا شور۔
ہر طرف luxury lifestyle۔
ہر طرف perfect bodies، perfect lives، perfect achievements۔

بچہ اپنی عام زندگی کو ان highlights سے compare کرنا شروع کر دیتا ہے۔

اپنے ایک کو دوسروں کے بیس سے کمپیئر کرنا شروع کر دیتا ھے۔

اور آہستہ آہستہ اسے لگنے لگتا ہے کہ شاید وہ زندگی میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

خدا کے لیے بچوں کو صرف machine مت بنائیں۔
انہیں سانس لینے دیں۔
انہیں غلطیاں کرنے دیں۔
انہیں کبھی کبھی average ہونے دیں۔

ہر بچہ billionaire نہیں بنے گا۔
ہر بچہ doctor یا engineer نہیں بنے گا۔

لیکن ہر بچہ mentally healthy ہو سکتا ہے…
اگر گھر اسے سکون دے، کورٹ نہ بن جائے۔

بعض اوقات بچے کو lecture نہیں چاہیے ہوتا۔
صرف یہ سننے کی ضرورت ہوتی ہے:

“کوئی بات نہیں…
تمہاری value صرف اچیومنٹ نہیں ہے۔

تنویر نانڈلہ

25/05/2026

ہر انسان کی دلی خواہش ہے کہ صبح آنکھ کھلے تو سرہانے پیسوں کی گڈیاں پڑی ہوں، یا کم از کم موبائل پر پیغام آئے کہ آپ کے کھاتے میں لاکھوں روپے جمع ہو چکے ہیں۔ ہم سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں، منافع کمانا چاہتے ہیں، لیکن اس کامیابی کے لیے جس چکی میں پسنا پڑتا ہے، ہم اس سے بچ نکلنے کا کوئی خفیہ اور جادوئی راستہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ آج کے دور میں پیسہ کمانے کے طریقے اور گر کوئی راز نہیں رہے۔ انٹرنیٹ کی گلیوں میں ہر دوسرا شخص کامیابی کے نسخے بانٹ رہا ہے۔ آئیے پہلے ان چند مشہور اور "آسان" طریقوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ یہ ہمیں راتوں رات کروڑ پتی بنا سکتے ہیں۔
پیسہ کمانے کے "جادوئی" طریقے
1. آن لائن دکان کا سراب (ای کامرس)
یہ طریقہ سن کر کتنا دلکش لگتا ہے! آپ کو بس اتنا کرنا ہے کہ تھوک مارکیٹ سے سو روپے کی چیز خریدیں، انٹرنیٹ پر اس کی ایک خوبصورت سی تصویر لگائیں، اور اسے پانچ سو روپے میں بیچ دیں۔ چار سو روپے کا سیدھا منافع! آپ تصور ہی تصور میں مہینے کے لاکھوں روپے گننا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سوچنا کتنا مزیدار ہے کہ آپ بستر پر لیٹے ہیں اور خریدار قطار میں کھڑے آپ کی چیزیں خرید رہے ہیں۔
2. سکرین کا ستارہ بننا (سوشل میڈیا اور ویڈیوز)
آج کل ہر شخص کو لگتا ہے کہ کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر بولنا یا دو منٹ کی کوئی دلچسپ حرکت ریکارڈ کرنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے۔ ذہن میں خاکہ یہ بنتا ہے کہ بس ایک ویڈیو بنا کر لگانی ہے، لاکھوں لوگ اسے دیکھیں گے، اور اگلے دن غیر ملکی کمپنیاں ڈالروں کی بوریاں لے کر دروازے پر کھڑی ہوں گی۔
3. ہنر بیچنے کا فریب (فری لانسنگ)
یہ بھی ایک بڑا دلفریب خاکہ ہے۔ کسی سے سنا کہ فلاں شخص کمپیوٹر پر بیٹھ کر گوروں کا کام کرتا ہے اور ڈالروں میں کماتا ہے۔ آپ بھی فوراً فیصلہ کرتے ہیں کہ میں بھی دو دن میں کوئی ہنر سیکھ لوں گا، ایک شاندار سا پروفائل بناؤں گا، اور پھر دنیا بھر سے کلائنٹس میری منتیں کریں گے کہ خدارا ہمارا کام کر دو۔
اصلی بیماری کا کڑوا سچ
آپ مندرجہ بالا تمام طریقے جانتے ہیں۔ آپ نے ان پر درجنوں ویڈیوز بھی دیکھ رکھی ہیں۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ کون سی چیز کہاں سے سستی ملتی ہے اور کہاں مہنگی بکتی ہے۔ اصول، ضوابط، اور تکنیکیں سب آپ کی انگلیوں پر ہیں۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ ابھی تک امیر کیوں نہیں ہوئے؟ وہ کون سی زنجیر ہے جس نے آپ کو جکڑ رکھا ہے؟
اس کا جواب انتہائی تلخ ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ دراصل کام کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ہم سب ایک ایسی لاعلاج بیماری کا شکار ہیں جسے سیدھے سادے الفاظ میں "ہڈ حرامی" اور جدید زبان میں "کمفرٹ ذون" (Comfort Zone) کہا جاتا ہے۔
جب آن لائن چیزیں بیچنے کا وقت آتا ہے، تو روزانہ منڈیوں کے دھکے کھانا، گاہکوں کی جلی کٹی سننا، اور واپس آنے والے پارسلز کا نقصان برداشت کرنا ہمارے بس کی بات نہیں لگتی۔ جب ویڈیو بنانے کا وقت آتا ہے تو سکرپٹ لکھنے کی ذہنی مشقت اور مسلسل ناکامی کے بعد بھی روزانہ کام کرنے کی استقامت ہمارا دم نکال دیتی ہے۔
ہمیں کامیابی تو چاہیے، لیکن ہم اپنا نرم و گرم بستر، دوستوں کے ساتھ فضول گپ شپ، اور موبائل کی سکرین پر گھنٹوں انگلیاں پھیرنے کی عادت (سکروولنگ) نہیں چھوڑنا چاہتے۔ ہمارا جسم اس مشقت کا بوجھ اٹھانے سے انکاری ہو جاتا ہے جو کسی بھی کام کے پہلے دن سے لے کر اس کے کامیاب ہونے تک کرنی پڑتی ہے۔
یاد رکھیں، دنیا میں پیسوں کا کوئی درخت نہیں ہے۔ طریقے سب کو معلوم ہیں، لیکن کماتا صرف وہ ہے جو اپنے اس 'کمفرٹ ذون' کی خ*ل کو توڑ کر پسینہ بہانے اور تکلیف سہنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ جب تک آپ اس خ*ل کے اندر بیٹھے رہیں گے، آپ کے تمام شاندار آئیڈیاز اور معلومات محض ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا کام ہے جس کی تمام معلومات آپ کے پاس موجود ہیں، لیکن صرف اپنے اس 'کمفرٹ ذون' کی وجہ سے آپ آج تک اس کا آغاز نہیں کر سکے؟

جاوید تیموری

25/05/2026

ہمارے ہاں برصغیر میں مہمانوں کی آمد بعض اوقات ایسے لگتی ہے جیسے گھر میں کوئی ڈرامے کی شوٹنگ ہونے والی ہو۔
جیسے ہی خبر ملتی ہے کہ “فلاں آرہے ہیں”، پورے گھر میں ایمرجنسی نافذ ہو جاتی ہے۔
امی فوراً کہتی ہیں:
“جلدی سے کشن سیدھے کرو!”
“وہ والا کپ سیٹ نکالو!”
“بچے! آج کسی نے لڑنا نہیں ہے!”
“اور خدا کے لیے کسی نے یہ نہیں کہنا کہ ہم باہر سے کھانا منگواتے ہیں!”

پھر بچوں کی باقاعدہ بریفنگ ہوتی ہے۔
“مہمان آئیں تو موبائل چھوڑ دینا۔”
“زور زور سے ہنسنا نہیں۔”
“پہلے خود پلیٹ میں نہیں ڈالنی۔”
“اور اگر پوچھیں پڑھائی کیسی چل رہی ہے تو کہنا بہت اچھی!”
حالانکہ آدھے بچوں کو خود نہیں پتا ہوتا کہ ان کا سلیبس کہاں تک پہنچا ہوا ہے۔

اور سب سے دلچسپ وہ مائیں ہوتی ہیں جو سارا دن جان توڑ کام کرتی ہیں، پھر بھی مہمانوں کے سامنے ایسے ظاہر کرتی ہیں جیسے انہیں تھکن نام کی چیز چھو کر بھی نہیں گزری۔
مہمان ابھی بیٹھے نہیں ہوتے کہ میز پر اتنی چیزیں آجاتی ہیں جیسے کسی شادی کی بارات آگئی ہو۔
حالانکہ اندر سے دل کہہ رہا ہوتا ہے:
“یا اللہ بس یہ لوگ چائے بسکٹ پر راضی ہو جائیں!”

اور پھر کچھ لوگ فیس بک پر بھی یہی زندگی جیتے ہیں۔
ایسے ایسے اسٹیٹس لگتے ہیں کہ لگتا ہے دنیا میں سب سے صاف گھر، سب سے سلجھے بچے، سب سے خوشحال شادی اور سب سے بہترین روٹین صرف انہی کے پاس ہے۔
“صبح چار بجے اٹھ کر بچوں کے لنچ بنائے، گھر صاف کیا، ورزش کی، فلاں ڈش بنائی، مہمان سنبھالے، پھر بھی فریش ہوں۔”
بھئی انسان ہو یا پاور بینک؟

حقیقت یہ ہے کہ ہر گھر کبھی نہ کبھی بکھرا ہوتا ہے۔
کبھی برتن دھلے نہیں ہوتے، کبھی بچے چیخ رہے ہوتے ہیں، کبھی امی کا دل نہیں کر رہا ہوتا کھانا پکانے کا، کبھی کوئی پرانا سا آرام دہ سوٹ پہن کر بیٹھا ہوتا ہے۔ اور یہی اصل زندگی ہے۔

رشتے اگر واقعی اپنے ہوں تو انہیں آپ کے گھر کے کشن ٹیڑھے ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔
وہ آپ کے برتنوں کے سیٹ نہیں، آپ کی نیت اور محبت دیکھتے ہیں۔
جو لوگ صرف آپ کی “پرفیکٹ پریزنٹیشن” سے متاثر ہوتے ہیں، وہ حقیقت میں آپ سے نہیں، آپ کے بنائے ہوئے کردار سے محبت کرتے ہیں۔

کاش ہم اپنے گھروں کو ہوٹل اور خود کو “پرفارمر” بنانا چھوڑ دیں۔
کاش مہمان بھی اتنے اپنے ہوں کہ آپ کہہ سکیں:
“بھئی آج گھر بکھرا ہوا ہے، چائے خود بنا لو اور آکر میرے پاس بیٹھ جاؤ۔”
کیونکہ سکون وہاں ہوتا ہے جہاں انسان کو ہر وقت خود کو ثابت نہ کرنا پڑے۔
جہاں آپ اپنی اصل حالت میں بھی قابلِ قبول ہوں۔

نبیلہ ہارون

25/05/2026

سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے…
سوال یہ ہے کہ آپ “امیر” ہیں،
“کامیاب” ہیں، یا “بڑے” آدمی؟
آئیے فرق سمجھتے ہیں
ایک ایسا فرق جو ترقی کی دوڑ میں اکثر نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں “امیر آدمی” کی۔
عام طور پر ہم اُسے امیر سمجھتے ہیں جس کے پاس پیسہ ہو۔
مگر اصل امیر وہ ہوتا ہے جو صاحبِ حیثیت بھی ہو اور صاحبِ حکمت بھی۔
کیوں؟
کیونکہ جس کے پاس دولت ہو مگر عقل نہ ہو،
وہ دولت دیرپا نہیں رہتی موروثی ہو یا محنت کی کمائی۔
پھر آتے ہیں “کامیاب آدمی” پر۔
کامیاب وہ ہے جو
صاحب حیثیت ہو،
صاحب حکمت ہو،
اور ساتھ ساتھ صاحبِ صحت بھی ہو۔
کیونکہ کامیابی کا مطلب صرف دولت یا دانائی نہیں،
بلکہ یہ بھی ہے کہ آپ تندرست ہو کر اُس دولت اور علم سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اور اب بات “بڑے آدمی” کی۔
بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو:
صاحب حیثیت ہو
صاحب حکمت ہو
صاحب صحت ہو
اور سب سے بڑھ کر… صاحبِ ایثار ہو۔

ایثار یعنی قربانی دینے والا، دوسروں کے لیے جینے والا۔
تو اب آپ خود سے پوچھیں:
آپ کا خواب کیا ہے؟
صرف امیر بننا؟ کامیاب بننا؟ یا… بڑا آدمی بننا؟
یہ فرق جاننا ضروری ہے
کیونکہ جو فرق آپ کے وژن میں ہوگا،
وہی فرق آپ کی منزل طے کرے گا۔

جاوید_تیموری

25/05/2026

عیدُالاضحیٰ، قربانی کے جانور اور سوشل میڈیا پر نمودو نمائش

آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، وہاں عبادات بھی بعض اوقات نمود و نمائش کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔ خصوصاً عید قربان کے موقع پر بہت سے لوگ اپنے مہنگے جانوروں، بڑی قربانیوں اور ظاہری شان و شوکت کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ اصل روحِ قربانی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

قربانی کی اصل روح کیا ہے؟

اسلام میں قربانی کا مقصد گوشت، خون یا دکھاوا نہیں بلکہ تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

“اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قربانی کا اصل معیار جانور کی قیمت یا جسامت نہیں بلکہ انسان کے دل کا اخلاص ہے۔

سوشل میڈیا پر قربانی کی نمود و نمائش

آجکل بعض لوگ:

* مہنگے جانوروں کی نمائش کرتے ہیں
* جانور کی قیمت بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں
* ویڈیوز اور فوٹو شوٹس بناتے ہیں
* دوسروں پر برتری جتانے کی کوشش کرتے ہیں
* قربانی کو “اسٹیٹس سمبل” بنا دیتے ہیں

یہ رویے عبادت کی روح کو متاثر کرتے ہیں۔

نمود و نمائش کے نقصانات

1. ریاکاری کا خطرہ

اسلام میں ریاکاری یعنی لوگوں کو دکھانے کیلئے عبادت کرنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ اگر قربانی کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف حاصل کرنا بن جائے تو اجر ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

2. غریبوں کے احساسات مجروح ہونا

جب لوگ اپنی مہنگی قربانیوں کی نمائش کرتے ہیں تو بہت سے سفید پوش اور غریب لوگ احساسِ محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔

3. عبادت کا تجارتی اور نمائشی کلچر

قربانی ایک روحانی عبادت ہے، مگر بعض اوقات یہ مقابلہ بازی میں تبدیل ہو جاتی ہے کہ کس کا جانور زیادہ مہنگا یا خوبصورت ہے۔

4. تکبر اور فخر

اسلام عاجزی سکھاتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ نمائش انسان میں غرور پیدا کر سکتی ہے۔

اللہ پاک سب قربانی کرنے والوں کی قربانی کو قبول فرما ۔آمین

یاسر عرفات
Arafat Writes ✍️

25/05/2026

پاکستان میں غریب رہ جانا صرف پیسوں کی کمی کا مسئلہ نہیں، اکثر یہ “سکلز کی کمی” کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں لاکھوں لوگ ڈگریاں لے کر بیٹھے ہیں، مگر بازار ان سے وہ کام مانگ رہا ہے جو انہوں نے کبھی سیکھا ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں تین سکلز ایسی ہیں جو اگر کسی انسان کے پاس آ جائیں، تو وہ زیادہ دیر غریب نہیں رہ سکتا۔ چاہے وہ چھوٹے شہر میں ہو، مڈل کلاس سے ہو، یا صفر سے شروع کر رہا ہو۔

پہلی سکل ہے سیلز۔
پاکستان میں بہت سے لوگ محنتی ہیں، ہنرمند ہیں، ذہین ہیں، مگر وہ اپنی چیز بیچنا نہیں جانتے۔ ہمارے معاشرے میں “بیچنے” کو اکثر کم تر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا ہر کامیاب انسان کسی نہ کسی شکل میں سیلز مین ہے۔ ڈاکٹر اپنی قابلیت بیچتا ہے، استاد اپنا علم، یوٹیوبر اپنی شخصیت، اور بزنس مین اپنی پروڈکٹ۔ اگر آپ لوگوں کو قائل کرنا سیکھ جائیں، ان کی ضرورت سمجھ جائیں، ان سے اعتماد کے ساتھ بات کرنا سیکھ جائیں، تو آپ کے لیے روزی کے دروازے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر شخص competition سے بھاگ رہا ہے، وہاں ایک اچھا سیلز مین اکثر average پڑھے لکھے آدمی سے زیادہ کما لیتا ہے۔

دوسری سکل ہے مارکیٹنگ۔
یہ صرف اشتہار لگانے کا نام نہیں۔ مارکیٹنگ اصل میں انسانی نفسیات کو سمجھنے کا فن ہے۔ لوگ کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا سننا چاہتے ہیں؟ کس چیز پر پیسہ خرچ کرتے ہیں؟ آج پاکستان میں ہزاروں لوگ average چیزیں صرف اچھی مارکیٹنگ کی وجہ سے بیچ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس طاقت کو اور بڑھا دیا ہے۔ ایک شخص چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر TikTok، Facebook، YouTube ، intoBlogیا Instagram کے ذریعے اپنا برانڈ بنا سکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ صرف پروڈکٹ بنانے پر وقت لگاتے ہیں، لوگوں کی attention لینے پر نہیں۔ یاد رکھیں، آج کے دور میں attention نئی کرنسی ہے۔ جس کے پاس لوگوں کی توجہ ہے، اس کے پاس پیسہ آنے کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔

تیسری سکل ہے Negotiation یعنی بات چیت کے ذریعے اپنے حق میں بہتر نتیجہ نکالنا۔
پاکستان میں بے شمار لوگ صرف اس لیے کم کماتے ہیں کیونکہ وہ اپنی value negotiate نہیں کر پاتے۔ وہ تنخواہ مانگتے ہوئے ڈر جاتے ہیں، ڈیل کرتے ہوئے جھک جاتے ہیں، یا کاروبار میں جلدی compromise کر لیتے ہیں۔ Negotiation صرف پیسوں کی بات نہیں، یہ self-respect کی بھی سکل ہے۔ آپ جتنا اپنے آپ کو کم سمجھیں گے، دنیا آپ کو اس سے بھی کم قیمت دے گی۔ کامیاب لوگ صرف محنت نہیں کرتے، وہ اپنے فائدے کی بات بھی کرنا جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کب خاموش رہنا ہے، کب سخت ہونا ہے، اور کب سامنے والے کو feel کرانا ہے کہ وہ value دے رہے ہیں۔

پاکستان کی ground reality یہ ہے کہ یہاں مواقع کم نہیں، direction کم ہے۔ لوگ سالوں صرف ڈگری کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، مگر مارکیٹ کی اصل ضرورت نہیں سمجھتے۔ بازار کو ایسے لوگ چاہئیں جو چیز بیچ سکیں، لوگوں کی توجہ حاصل کر سکیں، اور مضبوطی سے بات کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی ایک عام سا لڑکا، جس کے پاس صرف confidence اور communication ہوتی ہے، ایک highly educated مگر socially weak انسان سے آگے نکل جاتا ہے۔

یہ تینوں سکلز ایک غریب انسان کو صرف پیسہ نہیں دیتیں، اسے “market value” دیتی ہیں۔ اور جس انسان کی market value بڑھ جائے، دنیا اسے زیادہ دیر نظر انداز نہیں کر سکتی۔

جاوید_تیموری

24/05/2026

یقین جانیں، ای کامرس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک خالص ریاضی اور سسٹمز کا کھیل ہے۔ اگر آپ اس کی اصل طاقت اور پاکستان کے زمینی حقائق کو سمجھ لیں، تو آپ آج ہی روایتی نوکری کی ذہنیت سے باہر نکل آئیں گے۔
لیکن ہوائی قلعے بنانے اور اپنے جاننے والوں یا واٹس ایپ گروپس پر لاکھوں پراڈکٹس بیچنے کے خواب دیکھنے کی بجائے، آئیے ایک حقیقت پسندانہ اور عملی حساب (Calculated Math) لگاتے ہیں جو پاکستان کی مارکیٹ میں واقعی کام کرتا ہے۔ دوستوں اور رشتہ داروں کو پراڈکٹ بیچ کر کبھی کوئی بڑا کاروبار کھڑا نہیں ہوتا، ( شروع ضرور ہو سکتا ہے )اصل کاروبار ڈیجیٹل لیوریج (Digital Leverage) کا استعمال کرتے ہوئے نامعلوم خریداروں تک پہنچنا ہے۔
پاکستان میں ای کامرس کا حقیقی حساب
فرض کریں آپ ہول سیل مارکیٹ سے ایک اچھی پراڈکٹ 500 روپے میں تلاش کرتے ہیں اور اسے آن لائن 1500 روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ اب بظاہر یہ 1000 روپے کا منافع لگتا ہے، لیکن ایک حقیقت پسندانہ بزنس ماڈل میں اخراجات اس طرح کام کرتے ہیں۔
پراڈکٹ کی قیمت: 500 روپے
پیکنگ کا خرچ: 50 روپے
کوریئر چارجز: 200 روپے
فیس بک / ٹک ٹاک اشتہار کا خرچ (فی آرڈر)
300 روپے
واپسی (RTO - Return to Origin) کا نقصان: پاکستان میں کیش آن ڈیلیوری (COD) پر عموماً 20 فیصد پارسل واپس آ جاتے ہیں۔ ان کوریئر چارجز کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے آپ کو ہر پراڈکٹ کے مارجن میں کم از کم 150 روپے کا بفر (Buffer) رکھنا پڑتا ہے۔
خالص منافع: ان تمام زمینی حقائق اور اخراجات (تقریباً 1200 روپے) کو نکالنے کے بعد، آپ کے پاس فی پراڈکٹ 300 روپے خالص منافع (Net Profit) بچتا ہے۔
خوابوں کی بجائے حقیقت پسندانہ ہدف:
شروع میں 3 ماہ کے اندر 1 لاکھ یونٹس بیچنے کا غیر حقیقت پسندانہ ہدف مت رکھیں۔ ایک عام مگر منظم شروعات میں آپ کا ہدف روزانہ صرف 30 پارسل کامیابی سے ڈیلیور کروانا ہونا چاہیے۔
روزانہ کے پارسل: 30
مہینے کے پارسل: 900
ماہانہ خالص منافع: 900 × 300 = 2 لاکھ 70 ہزار روپے
یہ کوئی دیومالائی کہانی نہیں ہے۔ یہ سب آپ اپنے لیپ ٹاپ کی مدد سے، فیس بک اور ٹک ٹاک پر ٹارگٹڈ اشتہارات (Paid Ads) چلا کر گھر بیٹھے کر سکتے ہیں۔
کامیابی کی اصل شرائط:
اس مارکیٹ میں کھوکھلی موٹیویشن سے کامیابی نہیں ملتی۔ اگر آپ واقعی اس سسٹم سے پیسہ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ان تین چیزوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنی ہوگی:
1 ایسی پراڈکٹ کی تلاش جو لوگوں کا کوئی مسئلہ حل کرتی ہو یا ان کی شدید خواہش ہو۔
2 فیس بک اور ٹک ٹاک پر اشتہارات (Ads) چلانے کی سائنس اور الگورتھم کو سمجھنا۔
3 ریٹرن ریشو (Return Ratio) کو کم کرنے کے لیے کسٹمر سروس اور کوریئر کے معاملات کو سختی سے کنٹرول کرنا۔
غربت تب ختم نہیں ہوتی جب آپ محض امید لگاتے ہیں، بلکہ غربت تب ختم ہوتی ہے جب آپ جذباتیت اور خوش فہمی کو چھوڑ کر ٹھوس حقائق کا سامنا کرتے ہیں، اور روایتی طریقوں کے بجائے سسٹمز اور ٹیکنالوجی کو اپنے حق میں استعمال کرنا سیکھتے ہیں۔
سوال یہ نہیں ہے کہ ای کامرس میں پیسہ ہے یا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا آپ ہوائی باتوں سے نکل کر ایک منظم اور حقیقت پسندانہ سسٹم کے ذریعے اپنا حصہ لینے کے لیے تیار ہیں؟

جاوید تیموری

السلام علیکم ،عید قربان کے بعد آپ سے ملاقات ہو گی ۔ انشاء اللہ شہر کا انتخاب آپ کریںلاہور ،گوجرانوالہ یا اسلام آباد ؟کمن...
24/05/2026

السلام علیکم ،عید قربان کے بعد آپ سے ملاقات ہو گی ۔ انشاء اللہ
شہر کا انتخاب آپ کریں
لاہور ،گوجرانوالہ یا اسلام آباد ؟

کمنٹس میں بتائیں ۔

24/05/2026

برفانی ریچھ ایک وقت میں صرف ایک شکار پر فوکس کرتا ہے اور اسی دوران اگر کوئی دوسرا موقع ہو، تو وہ اُسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے انسانوں کو بھی صدیوں تک یہ سکھایا گیا کہ “ایک وقت میں ایک کام کرو”۔ مگر آج کی دنیا وہ جنگل نہیں رہی، جہاں ایک ہی سمت میں چلنا کافی ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس کہتی ہے: Multitasking اکثر غیر مؤثر ہوتا ہے، کیونکہ دماغ ایک وقت میں دو کام پوری توجہ سے نہیں کر سکتا۔ لیکن یہاں جس چیز کی بات ہو رہی ہے وہ Multitasking نہیں بلکہ Multi-Projecting ہے یعنی ایک ہی وقت میں مختلف سمتوں میں ایک سے زیادہ “منصوبے” (Projects) پر کام کرنا، مگر ہر ایک کو الگ وقت، الگ توانائی اور الگ فوکس دینا جیسے ایک کسان بیک وقت کھیت بھی تیار کرتا ہے، بیج بھی بوتا ہے، اور اگلے موسم کی تیاری بھی ذہن میں رکھتا ہے۔ یہ بکھرا ہوا کام نہیں، بلکہ سمارٹ ترتیب ہے جسے سائنس cognitive compartmentalization کہتی ہے۔

‏Multi-Projecting کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایک وقت میں سب کچھ کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے پاس متعدد راستے اور متعدد ہدف موجود ہیں اور آپ ان سب کو الگ وقت، توانائی، اور حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔

یہی وہ طریقہ ہے جس سے دنیا کے بڑے لوگ آگے نکلے۔
وہ صرف ایک پیشہ، ایک ہنر یا ایک موقع پر نہیں رکے بلکہ بیک وقت کئی محاذوں پر اپنی موجودگی بناتے گئے۔
جب ایک منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا، دوسرا چلتا رہا۔ جب ایک دروازہ بند ہوا، دوسرا پہلے ہی کھل چکا تھا۔

یہ زمانہ برفانی ریچھ کی سوچ کا نہیں
یہ وہ دنیا ہے جہاں کامیابی اُنہی لوگوں کو ملتی ہے جو خود کو ایک ہی تعارف تک محدود نہیں رکھتے۔
اگر آپ چاہیں، تو آپ ایک ہی وقت میں طالبعلم بھی ہو سکتے ہیں، ہنر مند بھی، کمائی کرنے والے بھی، اور تجربہ سیکھنے والے بھی بس شرط یہ ہے کہ آپ کوشش کو تقسیم نہ کریں، بلکہ اس کی سمتیں بڑھا دیں۔

‎جاوید_تیموری

24/05/2026

پاکستان میں کاروبار شروع کرنا بعض اوقات ایسے لگتا ہے جیسے کوئی آدمی بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہو کر ماچس جلا رہا ہو۔

صبح دکان کھولتے ہیں، دوپہر تک تین لوگ ادھار مانگ لیتے ہیں، شام تک بجلی چلی جاتی ہے اور رات کو بینک کا میسج آ جاتا ہے کہ قسط جمع کروائیں۔ پھر لوگ کہتے ہیں، “یار اپنا کام کیوں نہیں کرتے؟ نوکری سے بہتر تو بزنس ہے۔”

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کاروبار نوکری سے نہیں، جنگ سے ملتا جلتا ہے۔

ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ اس نے ایم بی اے کیا ہوا تھا۔ اس کے پاس بزنس پلان تھا، پاور پوائنٹ پریزنٹیشن تھی، مارکیٹ ریسرچ تھی، یہاں تک کہ اس نے اپنی دکان کے لیے اٹلی سے لائٹس بھی منگوائی تھیں۔

چھ ماہ بعد دکان بند ہو گئی۔

میں نے پوچھا، “کیوں؟”

وہ خاموش ہو گیا۔

پھر آہستہ سے بولا، “سر… لوگ پیسے واپس نہیں کرتے تھے۔”

یہ جملہ سن کر مجھے لاہور کے شاہ عالم مارکیٹ کا ایک بوڑھا تاجر یاد آ گیا۔

وہ کہا کرتا تھا، “بیٹا، پاکستان میں کاروبار مال سے نہیں، نقدی سے چلتا ہے۔”

یہ ایک لائن پورے اکنامکس کی قبر پر لکھی جا سکتی ہے۔

کیونکہ ہمارے ہاں گاہک چیز خریدنے نہیں آتا، تعلق بنانے آتا ہے۔ وہ پہلے چائے پیتا ہے، پھر آپ کو بھائی بناتا ہے، پھر ادھار لیتا ہے، اور آخر میں نمبر بدل لیتا ہے۔

آپ اگر یہ نفسیات نہیں سمجھتے تو آپ کاروبار نہیں کر سکتے۔

پھر ایک اور حقیقت دیکھیے۔

امریکہ میں کمپنی کا نام بکتا ہے۔ پاکستان میں آدمی کا نام بکتا ہے۔

یہاں لوگ برانڈ سے پہلے بندہ دیکھتے ہیں۔

اگر بازار میں یہ مشہور ہو جائے کہ “یہ شخص وقت پر پیسے دیتا ہے” تو پھر اسے سرمایہ ڈھونڈنا نہیں پڑتا، سرمایہ خود اسے ڈھونڈ لیتا ہے۔

میں فیصل آباد کے ایک صنعتکار کو جانتا ہوں۔ اس نے زندگی میں کبھی کسی کا چیک باؤنس نہیں ہونے دیا۔ ایک دفعہ اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ اس نے اپنی بیوی کے زیورات بیچ دیے لیکن وعدہ پورا کیا۔

آج اس کی تین فیکٹریاں ہیں۔

کیوں؟

کیونکہ پاکستان میں اعتبار بینک بیلنس سے بڑا اثاثہ ہوتا ہے۔

پھر ہمارے نوجوان ایک اور غلطی کرتے ہیں۔

یہ کاروبار شروع کرنے سے پہلے سیٹھ بن جاتے ہیں۔

مہنگا آفس، چمکتی میز، نئی گاڑی، برانڈڈ گھڑی۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گاہک کو آپ کی گھڑی سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اسے صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ کی چیز اس کے پیسے کے قابل ہے یا نہیں۔

دنیا کا ہر بڑا کاروبار ابتدا میں چھوٹا تھا۔

لیکن ہمارے ہاں ہر چھوٹا کاروباری آغاز ہی میں بڑا نظر آنا چاہتا ہے۔

اور یہی خواہش اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

پھر ملازمین کا معاملہ آتا ہے۔

پاکستان کا مزدور عجیب انسان ہے۔

یہ بھوکا رہ لے گا لیکن بے عزتی برداشت نہیں کرے گا۔

آپ اگر اسے عزت دے دیں، اس کے بچوں کا پوچھ لیں، اس کے دکھ میں کھڑے ہو جائیں تو وہ آپ کے لیے دیوار بن جاتا ہے۔

لیکن اگر آپ نے اسے صرف نوکر سمجھا تو وہ صرف تنخواہ کے وقت آپ کا ہوگا۔

باقی پورا مہینہ وہ آپ کے خلاف ہوگا۔

پھر ایک دلچسپ بات سنیں۔

پاکستان میں نئی چیزیں بہت آہستہ چلتی ہیں۔

یہاں کامیاب وہ نہیں ہوتا جو سب سے نیا آئیڈیا لے آئے۔

کامیاب وہ ہوتا ہے جو پرانی چیز کو بہتر بنا دے۔

بہتر چائے، بہتر برگر، بہتر پیکنگ، بہتر اخلاق۔

بس۔

کامیابی اکثر انہی چھوٹے فرقوں میں چھپی ہوتی ہے جنہیں لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔

پھر ای کامرس والوں کی ایک الگ کہانی ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی آن لائن پیمنٹ کرے گا۔

لیکن پاکستانی گاہک ابھی بھی دروازہ کھول کر پارسل ہاتھ میں لیتا ہے، دو دفعہ الٹ پلٹ کر دیکھتا ہے، پھر پیسے دیتا ہے۔

کیونکہ اس ملک میں اعتماد آہستہ پیدا ہوتا ہے۔

اور دھوکا بہت تیزی سے یاد رہ جاتا ہے۔

پھر بجلی کی کہانی سن لیجیے۔

دنیا میں لوگ کاروبار کے لیے مارکیٹنگ پلان بناتے ہیں۔

پاکستان میں لوگ پہلے یو پی ایس اور جنریٹر خریدتے ہیں۔

کیونکہ یہاں بجلی صرف بجلی نہیں، کاروبار کی سانس ہے۔

یہ چلی جائے تو منافع رک جاتا ہے۔

پھر آخر میں ایک راز۔

پاکستان کے پرانے سیٹھ آج بھی صدقہ نکالتے ہیں۔

آپ اسے روحانیت کہیں یا نفسیات، لیکن وہ مانتے ہیں کہ کاروبار صرف محنت سے نہیں چلتا، دعا سے بھی چلتا ہے۔

وہ جانتے ہیں کہ بعض نقصان حساب کتاب سے نہیں رکتے۔

بعض طوفان صرف نیکی سے ٹلتے ہیں۔

لہٰذا اگر آپ واقعی پاکستان میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ایک بات یاد رکھیے۔

یہ ملک کمزور لوگوں کے لیے نہیں بنا۔

یہاں وہی شخص آگے نکلتا ہے جو دھوکے کے بعد بھی سیدھا کھڑا رہے، نقصان کے بعد بھی دوبارہ آغاز کرے، اور مشکل کے باوجود اپنا وعدہ نہ توڑے۔

کیونکہ پاکستان میں کاروبار کرنا واقعی بہادروں کا کام ہے۔

شہزاد احمد مرزا

24/05/2026

دماغ ایک سپر کمپیوٹر ہے اور یہ 5 لہریں (Frequencies) دراصل اس کے مختلف 'سافٹ ویئرز' ہیں۔ اگر آپ کا دماغ ٹینشن (Beta) والے سافٹ ویئر پر چل رہا ہے اور آپ اس میں سکون یا کامیابی (Theta/Alpha) کی فائل کھولنے کی کوشش کریں گے، تو سسٹم کریش کر جائے گا۔
کامیاب لوگ ان لہروں کے غلام نہیں ہوتے، بلکہ وہ گاڑی کے گیئر کی طرح اپنی مرضی سے اپنے دماغ کی فریکوئنسی شفٹ (Shift) کرتے ہیں۔
یہاں ان 5 دماغی لہروں کو ہیک کر کے کامیابی حاصل کرنے کا مکمل سائنسی اور عملی بلیو پرنٹ (Blueprint) دیا گیا ہے۔

1. تھیٹا (Theta) کا استعمال، لاشعور کی بے رحم پروگرامنگ
تھیٹا آپ کے لاشعور کا وہ دروازہ ہے جس پر کوئی چوکیدار نہیں ہوتا۔ آپ اس وقت جو بھی بات دماغ میں ڈالیں گے، وہ اسے 100 فیصد سچ مان لے گا۔
کب استعمال کریں؟ رات کو نیند کی وادی میں اترنے سے ٹھیک 10 منٹ پہلے، اور صبح آنکھ کھلنے کے ابتدائی 5 منٹ۔
کامیابی کا طریقہ (The Technique)
رات سونے سے پہلے موبائل سکرین بند کر دیں۔جب آپ پر غنودگی طاری ہونے لگے (یہ تھیٹا اسٹیٹ ہے)، تو اپنے آپ سے وہ مثبت جملے (Affirmations) بولیں جو آپ بننا چاہتے ہیں۔ مثلاً: "میں مالی طور پر آزاد ہوں"، "میری صحت بہترین ہے"، "مجھ میں بے پناہ اعتماد ہے۔" اس وقت آپ کا شعور آپ سے بحث نہیں کرے گا کہ "تم جھوٹ بول رہے ہو"۔ یہ ہدایات سیدھی آپ کے لاشعور کے ہارڈ ڈرائیو میں سیو ہو جائیں گی اور کائنات ان پر کام شروع کر دے گی۔
2. الفا (Alpha) کا استعمال،خوابوں کو دیکھنے اور تراشنے کا گراؤنڈ
الفا وہ فریکوئنسی ہے جہاں آپ کا دماغ سب سے زیادہ تخلیقی (Creative) ہوتا ہے۔ تناؤ (Stress) میں آپ کبھی کوئی بڑا آئیڈیا نہیں سوچ سکتے۔
کب استعمال کریں؟
دن کے کسی بھی حصے میں جب آپ کو کوئی نیا آئیڈیا چاہیے ہو، یا جب آپ اپنا مستقبل ویژولائز (Visualize) کرنا چاہیں۔
کامیابی کا طریقہ (The Technique)
دن میں 15 منٹ نکالیں۔ آنکھیں بند کریں اورگہرے سانس لیں (ناک سے سانس اندر کھینچیں اور منہ سے باہر نکالیں)۔ صرف 10 گہرے سانس آپ کو 'بیٹا' کی ٹینشن سے نکال کر 'الفا' کے سکون میں لے آئیں گے۔اب اپنی کامیابی کا تصور ایک فلم کی طرح دیکھیں۔ اگر آپ کی منزل ایک شاندار گھر ہے، تو اسے الفا اسٹیٹ میں محسوس کریں،اس کے دروازے کا رنگ دیکھیں، دیواروں کو چھو کر محسوس کریں۔ الفا فریکوئنسی آپ کے اس تصور کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے آپ کے دماغ کو نئے راستے دکھائے گی۔
3. بیٹا (Beta) کا استعمال، میدانِ جنگ اور ایکشن کا وقت
لا آف ایٹریکشن کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ سارا دن الفا میں بیٹھ کر خواب دیکھتے رہیں۔ جب خواب دیکھ لیے، تو اب انہیں حقیقت بنانے کے لیے 'بیٹا' فریکوئنسی کا استعمال کرنا ہوگا۔
کب استعمال کریں؟
کام (Work hours) کے دوران، جب آپ کو فیصلے کرنے ہوں اور ایکشن لینا ہو۔
کامیابی کا طریقہ (The Technique)
کام کی میز پر بیٹھتے ہی خواب دیکھنا بند کر دیں۔ یہاں آپ کی لاجک (Logic) اور الرٹ ہونے کی ضرورت ہے۔اپنے دن کی ٹو-ڈو لسٹ (To-Do List) بنائیں۔ سخت ترین کاموں کو سب سے پہلے نمٹائیں۔ بیٹا فریکوئنسی آپ کو توانائی، الرٹ نیس اور چوکنا پن دیتی ہے۔ اسے فضول کی اوور تھنکنگ (Overthinking) میں ضائع کرنے کے بجائے اپنے ٹارگٹس پورے کرنے میں استعمال کریں۔
4. گاما (Gamma) کا استعمال،سپر فوکس اور جینئس موڈ (Flow State)
یہ وہ جادوئی حالت ہے جہاں انسان وقت اور مکان کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے۔ جب آپ کسی کام میں اتنے مگن ہو جائیں کہ آپ کو بھوک پیاس یا وقت گزرنے کا اندازہ ہی نہ ہو، تو آپ گاما میں ہوتے ہیں۔
کب استعمال کریں؟
جب آپ کو کوئی ماسٹر پیس (Masterpiece) تخلیق کرنا ہو، کوئی مشکل پروجیکٹ ختم کرنا ہو، یا کوئی انتہائی مشکل سکل سیکھنی ہو۔
کامیابی کا طریقہ (The Technique)
گاما فریکوئنسی خود بخود نہیں آتی، اسے ٹرگر (Trigger) کرنا پڑتا ہے۔اپنے فون کو فلائٹ موڈ پر لگائیں۔ کمرہ بند کریں۔ ایک ایسا ٹاسک چنیں جو نہ تو بہت آسان ہو (ورنہ آپ بور ہو جائیں گے) اور نہ ہی اتنا مشکل ہو کہ آپ ہار مان لیں (تھوڑا سا چیلنجنگ ہو)۔جب آپ پوری توجہ سے 15 سے 20 منٹ اس کام کو کریں گے، تو آپ کا دماغ خود بخود بیٹا سے نکل کر 'گاما' (Flow State) میں چلا جائے گا، اور آپ وہ کام کر گزریں گے جو عام حالت میں ناممکن لگتا ہے۔
5. ڈیلٹا (Delta) کا استعمال،ری چارجنگ اور ہیلنگ (Healing)
ایک مشین مسلسل چلنے سے جل جاتی ہے۔ ڈیلٹا وہ فریکوئنسی ہے جہاں آپ کا جسم اور دماغ اپنی ٹوٹی پھوٹی نالیوں کو دوبارہ جوڑتا ہے۔
کب استعمال کریں؟
رات کی گہری نیند کے دوران۔
کامیابی کا طریقہ (The Technique)
اپنی نیند کو ہیک کریں۔ رات کو کمرے میں گھپ اندھیرا رکھیں۔ سونے سے 2 گھنٹے پہلے کیفین (چائے/کافی) اور سکرین کا استعمال ترک کر دیں۔
اگر آپ ڈیلٹا کی گہری نیند نہیں لیں گے، تو اگلے دن آپ کا دماغ 'بیٹا' (ٹینشن) میں پھنسا رہے گا اور نہ آپ کو نئے آئیڈیاز آئیں گے، اور نہ ہی آپ کام پر فوکس کر پائیں گے۔ کامیابی کے لیے 7 سے 8 گھنٹے کی ڈیلٹا ہیلنگ لازمی ہے۔

آپ کا 24 گھنٹے کا کامیاب سائیکل
اگر آپ ان لہروں کو اپنے دن کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو یہ روٹین اپنائیں:
1. صبح جاگتے ہی (Theta) شکر گزاری کریں اور اپنے دن کا بہترین تصور کریں۔
2. کام کے دوران (Beta & Gamma) مکمل فوکس کے ساتھ محنت کریں اور ڈسٹریکشنز ختم کریں۔
3. دوپہر یا شام کی بریک (Alpha) 10 منٹ آنکھیں بند کر کے گہرے سانس لیں اور دماغ کو ری سیٹ کریں۔
4. رات سونے سے پہلے (Theta) موبائل سائیڈ پر رکھیں اور لاشعور کو اپنی کامیابی کی ہدایات (Affirmations) دے کر سو جائیں تاکہ وہ ڈیلٹا کی گہری نیند میں جا کر انہیں حقیقت بنانے کے پروسیس پر کام کر سکے۔
یہ کوئی جادو یا موٹیویشن نہیں، بلکہ پیور (Pure) نیورو سائنس ہے۔

جاوید_تیموری

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yasir Arafat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Yasir Arafat:

Share