Qissa kahani

Qissa kahani Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Qissa kahani, Book & Magazine Distributor, Lahore.

تم_میرے_نکاح_میں_ہو آمنہ عمرقسط نمبر 36  ..part 2💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞فون پے ہوتی واٸبریشن سے آفتاب کی آنکھ کھلی تھی۔ ایک نظر ب...
13/11/2022

تم_میرے_نکاح_میں_ہو
آمنہ عمر
قسط نمبر 36 ..part 2
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
فون پے ہوتی واٸبریشن سے آفتاب کی آنکھ کھلی تھی۔ ایک نظر بے خبر پرسکون سوٸ کنول کو دیکھا۔ موباٸل اٹھاتا بالکونی میں آگیا۔
ہاں۔۔کاظم۔۔بولو۔۔۔؟
کاظم کی بات پے آفتاب تو سکتے میں آگیا۔ جیسے جیے وہ بات کہے جا رہا تھا۔ آفتاب کی نظر مسلسل کنول پے تھی۔ رات ہی تو اس نے اپنے دل کی ساری باتیں اس سے کہہ دیں تھیں۔
آفتاب۔۔۔۔! آپ۔۔۔ سب جانتے تھے ناں۔۔؟؟ معصومیت سے کہتی وہ آفتاب کو بہت اپنی سی لگی۔
ہاں۔۔سب جانتا تھا۔۔۔ ! پہلے دن سے۔۔۔!
آفتاب نے اسکے گرد بازو حماٸل کرتے اسکے ماتھےپے پیار بھرا بوسہ دیا۔
جب سب جانتے تھے۔۔ تو پھر اتنا ڈرامہ کیوں۔۔؟؟ ناراضی سے پوچھا۔
ہمممممم۔۔۔ کیونکہ میں چاہتا تھا۔ تم مجھے سب کچھ بتاٶ۔۔۔ خود۔۔۔ !مجھ سے محبت بع میں مکھ پے بھروسہ پہلے کرو۔ آفتاب کی بات پے کنول نے اسکے سینے پے ہاتھ رکھا۔
گولی۔۔۔۔۔! میں نے۔۔۔نہیں۔۔۔ چلاٸ۔۔۔ یہ پتہ تھا آپ کو۔۔۔ تو۔۔۔؟؟ آپ نے خود کو بچایا کیوں نہیں۔۔؟؟
اب کی بار سر اٹھا کے پوچھتے وہ آفتاب کو بہکا رہی تھی۔
کیونکہ مجھے تم عزیز تھی۔ میں جانتا تھا۔ وہاں کے کے موجود ہے۔ اور اگر وہ۔۔۔ گولی میں نہ کھاتا تو۔۔اسکا شکار تم بھی ہو سکتی تھی۔۔۔!
ایک بات پوچھوں کنول۔۔؟؟ کیا واقعی۔۔۔کومل ۔۔۔کے کے۔۔ تمہاری سگھی بہن ہے۔۔؟؟اسکی بات پے کنول نے حیرت سے اسے دیکھا۔
نہیں مطلب۔۔۔؟؟ بہن سے اتنا حسد۔۔؟؟ اسکو برباد کرنے میں کوٸ کسر نہ چھوڑی۔۔۔۔!
وہ ایسی نہیں۔۔۔! اسے حالات نے ایسا بنا دیا ہے۔ آفتاب۔۔! ہے تو میرا عکس۔۔۔ لیکن۔۔ مما نے اسک وجود چھپایا۔۔۔ اسے نہ خود اپنایا۔۔ نہ اسکے بارے میں کایک بتایا۔۔۔ وہ سب سے بدظن ہوگٸ۔یہاں تک کہ مجھ سے بھی۔۔۔! کنول کے لہجے میں اپنی بہن کے لیے پیار ہی پیار تھا۔
اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی۔۔ تم اسے معاف کردو گی۔۔؟ آفتاب نے بھنوٸیں اچکاتے اس سے پوچھا۔
آپ نے بھی تو مجھے معاف کر دیا۔۔ تو میں بھی کر سکتی ہوں ناں۔۔۔۔! الٹا اسی سے پوچھ لیا۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔ بہن پے تمہاری۔۔۔ تم بہتر سمجھتی ہو۔۔!
آپ بھی اسے معاف کردیں۔۔ واپس آفتاب کے سینے سے لگتی وہ لاڈ سے بولی تھی۔
آفتاب نے گہرا سانس خارج کیا۔ معاف تو وہ کر دیتا۔ لیکن۔۔ اپنے ساتھ ہوۓ سب باتوں کے لیے۔۔ لیکن ۔۔اسکی ماں کو مارنے کے لیے وہ معاف نہیں کر سکتا تھا۔
ہاں اس دن کنول آفتاب کی پسٹل اٹھا تو لاٸ تھی۔ لیکن۔۔ وہ خالی تھی ۔ یہ بات۔۔ آفتاب جانتا تھا۔ گولی ارباز خان اور عباد خان پے کومل نے چلاٸ۔ ارباز خان کو گولی ریڑھ کی ہڈی میں لگی تو وہں دوسری طرف عباد خان بچ گیا۔ اور گولی تبسم خان کو لگ گٸ۔
صبح ہم۔۔واپس جاٸیں گے کراچی۔۔۔! تو۔۔۔۔
ماضی کی یادوں کو جھٹکتا وہ کنول سے مخاطب ہوا۔
لیکن اسکی بھاری ہوتی سانسوں کو محسوس کرتا اسے دیکھنے لگا۔ وہ نیند کی وادیوں میں کب کھو گٸ۔
آفتاب کو پتہ ہی نہ چلا۔ دھیرے سے اسکا سر تکیہ پے رکھا۔ اسکے چہرے پے آۓ بالو ںکو پیچھے کرتا اسے دیکھتا محسوس کرتا خود بھی نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔
مما۔۔۔۔۔! اچناک سے وہ چلاتی ہوٸ اٹھی تھی۔ اسکا پورا جسم پسینے سے بھرا ہوا تھا۔
کیا ہوا۔۔؟؟ کنول۔۔۔؟؟ ٹھیک ہو۔۔؟؟؟ آفتاب کی آنکھ فوراً کھلی تھی۔
مما۔۔۔۔۔!! کنول کیآواز روندھی ہوٸ تھی۔ وہ کوٸ خواب دیکھتی ڈر کے اٹھی تھی۔
آفتاب نے اسے پانی پلایا۔ اور سینے سےلگا لیا ۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔بس خواب تھا۔ سوجاٶ۔۔۔! آفتاب نے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔ تو کنول نے آنکھیں موند لیں۔ کافی یر جاگنے کے بعد وہ سوٸ تھی ۔
ٹھیک ہو۔۔۔ ہم کچھ دیر میں نکلتے ہیں۔ تم۔۔۔ اپنا خیال رکھنا۔
کاظم سےکہتے اس نے کال بند کی۔ اور پریشان ہوتا واپس بیڈ پے آیا۔
وہ کوملکے بارے میں کنول کو نہیں بتا سکتا تھا۔ وہ اس وقت بہت اپ سیٹ تھی۔ خاموشی سے اٹھتا واش روم میں گھس گیا۔ جو بھی تھا۔کراچی تو انہیں آج جان ہی تھا۔
💨💨💨💨💨💨💨
ایک ۔۔چھوٹا سا گھر ہو۔۔پیارا سا گھر۔۔۔ مکمل گھر۔۔۔۔۔ جہاں ۔۔۔دو پیار کرنے والے ہوں۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے۔۔ بے بیز ہوں۔۔۔ زندگی۔۔۔بہت پرسکون ہو۔۔۔۔؟؟؟
ہاسپٹل کے کاریڈور کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ وہ رات سے یونہی کھڑا تھا۔ ڈاکٹرز نے ابھی تک کوٸ تسلی بخش جواب نہیں دیا تھا۔ وہ بہت افسردہ تھا۔ پہلی بار اسکے دل کو کوٸ اچھی لگی تھی ۔ اور وہ۔۔۔ ؟؟
ڈاکٹر۔۔۔؟؟ آٸ سی یو سے ڈاکٹر باہر نکلے تو کاظم دل تھامے ان کیجانب بڑھا۔
ینگ مین۔۔۔! بی بریو۔۔۔! ڈاکٹر عباس نے اسکے کاندھے پے ہاتھ رکھے اسے حوصلہ دینا چاہا۔
وہ۔۔۔کیسی ہے؟ ڈوبتے دل سے پوچھا۔
ابی بھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔ کانچ بہت بری طرح انکی آنکھوں اور دماغ کو ڈیمیج کر چکا ہے۔۔ ہم اپنی پوتی کوشش کر رہے ہیں۔ باریک کانچ ۔۔۔ نے اچھا خاصا نقصان کر دیا ہے۔ بس آپ دعا کریں۔ اللہ سے۔۔۔! معجزے وہی کرتا ہے ۔۔ اگر انکی زندگی لکھی ہوٸ تو کوٸ روک نہیں سکتا۔۔۔ !
ڈاکٹر پلیز۔۔۔ کم۔۔۔ پیشنٹ از سینکنگ۔۔۔! ایک ڈاکٹر نے آتے کہا ۔ تو ڈاکٹر عباس فوراً آ ٸ سی یو کی جانب بڑھے۔
کاظم کے موباٸل پے جمشید کی کال آرہی تھی۔ وہ سوچ میں پڑا ہوا تھا۔ لیکن اٹھا ہی لی۔
سی ٹی وی فوٹیج سے جو ویڈیو حاصل ہوٸ تھی۔
کنگ۔۔۔ پکژا گیا ہے۔ انسپکٹر جمشید کے بتانے پے کاظم کا خون کھول اٹھا۔
وہ مرنا نہیں چاہیے۔۔۔بس۔۔۔ باقی کوٸ کسر نہ چھوڑنا۔
خون خوار انداز میں کہتا وہ آٸ سی یو کی جانب دیکھتا آنسو ضبط کر رہا تھا۔
کنگ۔۔۔ ! اگر۔۔ کومل کو کچھ بھی ہوا۔۔۔ تو میں تمہیں نہ زندہ میں رکھوں گا نہ مردہ میں۔
اور یہ ایس پی کاظم شاہ کا وعدہ ہے خود سے۔
❤❤❤❤❤
آج صبح سے رضیہ خاتون کا دل گھبرا رہا تھا۔ بار بار پانی پیے جا رہی تھیں۔
ممانی جان۔۔! کیا ہوا۔۔؟؟ آپ کو اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے۔۔؟؟ عابی نے پریشانی سے ان کا ماتھا چیک کیا۔ جو بہت ٹھنڈا ہوا تھا۔
آپ کا بلڈ پریشر تو نہیں لو ہو گیا۔۔۔؟؟
میرا دل گھبرا رہا ہے بہت۔۔۔! بس اللہ سے دعا ہے۔ چھ برا نہ ہو۔۔۔! ایک بار پھر سے پانی پیتے وہ دھیرے سےبولیں تھیں۔
💖💖💖💖💖💖💖
کیاہوا۔۔؟؟ اتنی چپ کیوں ہو ؟ آفتاب اسے لیے کراچی اٸیرپورٹ سے باہر آیا تھا۔
مجھے۔۔۔ یہ شہر اچھا نہیں لگتا۔۔۔بہت سی تلخ یادیں جڑی ہیں اس شہر سے۔۔۔بہت کچھ کھویا ہے یہاں پے۔۔!
کنول کے درد بھرے انداز پے آفتاب نے اسکا ہاتھ تھامے گاڑی میں بٹھایا۔ جو پہلے سے ڈراٸیور گاڑی لیے وہاں انکے انتظار میں تھا۔
کیا۔۔۔صرف کھویا۔۔۔؟؟ پایا کچھ نہیں ۔۔۔؟ معنیخیزی سے پوچھتا وہ کنول کو پیار سے دیکھنےلگا ۔
ہممممم۔۔۔ آپ کو پایا۔۔۔! وہ بھی مسکراٸ۔
یہ۔۔۔یہ ہم۔۔۔یہاں ۔۔۔ہاسپٹل ۔۔کیوں آۓ ہیں۔۔؟؟ ہاسپٹل کے پارکنگ اٸیریا میں گاڑی روکتے وہ اترا تھا۔ اور کنول کو بھی اتارا تھا۔
کچھ۔۔۔ مزید کھونے کا درد بھی سہنا ہو۔۔۔؟؟ شاید۔۔۔؟؟
آفتاب بہت سنجیدہ تھا۔ کنول کا دل دھڑکا اور آنکھوں میں آنسو آگۓ۔
پلیز۔۔۔۔! آفتاب ۔۔ کوٸ بری خبر مت دیجیے گا۔۔۔ میں نہیں سہن کر پاٶں گی۔۔۔!
پھر واپس چلو۔۔۔۔! یہاں سے۔۔۔! بعد میں کوٸ گلہمت کرنا۔۔۔ کہ میں نے بتایا کیوں نہیں۔۔؟؟ آفتاب نے واپسی کی راہ لی۔ تو کنول نے روک لیا۔
ککک کووکومل۔۔۔ ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ اسکا دل گواہی دے رہا تھا۔ اسکی بہن ٹھیک نہیں۔۔۔
خود چل کے دیکھ لو۔۔۔! آفتاب اسے لیے ہاسپٹل کےاندر آیا ۔ بے چین نظروں نے کاظم کو ڈھونڈا۔
کچھ ہی تگ و دو کے بعد وہ ایک چیٸر پے سر گراۓ بیٹھا نظر آگیا۔
کاظم۔۔۔۔! آفتاب کی آواز پے اس نے سر اٹھایا۔ اسکی آنکھوں کے لال ڈورے اسکے رت جگے کا پتہ دے رہے تھے۔
آفتاب کو دیکھتا وہ اٹھا۔ آفتاب نے اسے گلے سے لگایا۔
کنول پتھراٸ نظروں سے بس ان دونوں کو دیکھے جا رہی تھی۔
کیسی ہے وہ؟ دھیرے سے پوچھا۔
خطرے سے باہر ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔؟؟؟ مضبوط اعصاب کا مالک کاظم بھی دل چھوڑ بیٹھا تھا ۔
لیکن۔۔۔کیا۔۔۔؟؟ آفتاب کی بجاۓ کنول نے پوچھا۔
اسکا دماغ اور آنکھیں بری طرح ڈیمیج ہوٸ ہیں۔ اسکے ہوش میں آنے کے بعد ہی پتہ چل سکے گا۔۔۔!
کنول ایک دم و لڑکھڑاٸ تھی۔ پاس کھڑے آفتاب نے اسے سہارا دے کے چیٸر پے بٹھایا۔
حوصلہ رکھو۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ اللہ نےچاہا تو۔۔۔سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ آفتاب نے اے اپنے ساتھ لگایا ۔
آپ۔۔۔۔! دونوں اسے معاف کردیں۔ وہ اتنی بری نہیں ۔۔۔۔
کاظم کا اسکی حمایت میں بولنا کنول کو تڑپا گیا۔
میں۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔ وہ بری نہیں۔۔۔ کنول روتے ہوۓ بولی۔۔
آؒفتاب۔۔۔۔! وہ بری نہیں۔۔۔ تھی۔۔۔۔ میری بہن۔۔۔ بری نہیں۔۔۔!روتے ہوۓ وہ آفتاب کے گلے لگ گٸ۔ آفتاب کچھ نہ کہہ سکا۔
💘💘💘💘💘💘💘
دی جے۔۔۔۔!!! دی جے۔۔۔۔۔!! کیا ہوا۔۔۔آنکھیں کھولیں۔ رانو نے چلاتے ہوٸے کہا۔ کچھ ہی دیر میں خان ولا میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ دی جے کی اچانک ڈیتھ نے سب کو ہلا کے رکھ دیا۔ آفتاب کو بھی انکی ڈیتھ کی خبر ملی تھی۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ کیسے کنول کو اب ایک اور غم دے۔ اسکی شہیر سے فون پے بات ہوٸ۔ وہ پہلی فلاٸیٹ سے پاکستان آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن اسے فلاٸیٹ نہیں مل رہی تھی۔
دی جے کا سوچ سوچ کے شپیر کیبآنکھیں بھیگ رہی تھیں ۔ وہ ان سب کو چھوڑ کے اچانک سے چلی گٸیں۔ ان سب کی جداٸ وہ نہ سہہ سکیں۔ او بنا کچھ کہے ان سے دور چی گٸیں۔ اس نے انابیہ کو کچھ نہ بتایا تھا۔ وہ جلد از جلد اپنی اور اسکی ٹلٹس بک کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔
💘💘💘💘💘💘💘
کاش دی جے۔۔۔ آپ کی جگہ میں مر گیا ہوتا۔۔۔! ارباز خان بستر پے لیٹے خاموش آنسو بہا رے تھے۔ اپنے اندرکی ندامت وہ کسی سے کہہ نہیں سکتے تھے۔ نجانے اللہ نے انکی اور کتنی زندگی لکھ رکھی تھی۔۔۔؟ لیکن۔۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے۔ کچھ کرموں کا حساب دنیا میں بھی دینا پڑتا ہے۔ اور وہ انہیں دینا تھا۔
خان ولا مہمانوں سے بھر گیا تھا۔ لاہور انکی بیٹی کو بی اطلاع دے دی گٸ تھی۔ دی جے کی اچانک موت نے س کو اشکبار کر دیا تھا۔
آفتاب کنول کو لیے خان ولا آگیا تھا۔ ایک طرف بہن کا دکھ تو دوسری طرف دی جے کی موت کا دکھ وہ ٹوٹ ہی گٸ تھی۔
تبسم خان نے کنول کو پلکوں پے بٹھایا۔ اور اسکا خیال رکھا۔ آفتاب کنول کو تبسم خان کے حوالےکرتا خود تدقین وغیرہ کا بندوبست کرنے چلا گیا۔ عباد خان ٹوٹ سے گۓ تھے۔ انکی ماں نے انہیں معاف نہیں کیا تھا۔ اور وہ ان سے ناراض ہو کے چلی گٸ تھیں۔
شام تک رضیہ خاتون بھی اپنی فیملی کے ساتھ پہنچ چکی تھیں۔ سب کو شہیراور انابیہ کا انتظار تھا۔ لیکن انہیں فلاٸیٹ نہ ملی۔ اور دی جے کا جنازہ ادا کر دیا گیا۔

گھر بھر میں ایک دل چیز دینے والی خاموشی کا راج تھا۔
دو ہفتے گزر گۓ تھے۔ لیکن سب کو ایسا لگتا تھا۔ جیسے آج ہی کی بات ہو۔ دی جے کو کوٸ بھلانہیں پا رہا تھا۔
رضیہ خاتون اور فیاض صاحب یہیں تھے۔ باقی سب جا چکے تھے ۔ شامی انکے جنازے تک رکا تھا۔ اسکے بعد وہ شام کو ہی واپسی کی راہ لے چکا تھا۔ جبکہحشت صاحب بیوی اور بیٹی کے ساتھ دو دن بعد واپس لاہور چلے گٸے تھے۔
رضیہ خاتون کو شہر کا انتظار تھا۔ وہ بھی آج کل کر رہا تھا۔ لیکن آنا مشکل ہو رہا تھا۔
وہ سپارہ پڑھ رہی تھیں۔ کہ شہیر کی آمد ہوٸ۔شہیر کو دیکھ ان کا دکھ ایک بار پھر جاگ گیا۔ وہ سارا سامان وہیں صحن میں چھوڑتا اندر رضیہ خاتن کی طرف بھاگا تھا۔ وہ جو اتنے ن سے خود پے ضبط کیے بیٹھا تھا
آج پھوٹ پھوٹ کے رو دیا تھا۔رضیہ خاتون نے اپنے خان کو خود سے لگایا۔
وہ چلی گٸ ہیں۔۔۔ ناراض ہوکے۔۔۔! کوٸ بھی نہیں تھا ان کے پاس۔۔۔نہ آپ۔۔۔ نہ ہم۔۔۔وہ اب۔۔۔ کبھی لوٹ کے نہیں آٸیں گیں۔روتے ہوۓ رضیہ خاتون کی ہچکی بندھ گٸ تھی۔ سیڑھیوں سے نیچے اترتی خانم وہیں کھڑی رہ گٸیں۔ آج اتنے عرصے بعد وہ اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں۔ لیکن اس نے انکی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ رضیہ خاتون نے انابیہ کو گلےسے لگایا۔ جسے یہاں آکے دی جے کی ڈیتھ کا پتہ چلا تھا۔ آفتاب کی آمد پے شہیر مزید اپنا ضبط کھو گیا۔ آفتاب اسے سنبھالتا باہر لے گیا۔
کیسی ہو۔۔۔؟؟ انابیہ؟ دل کو بڑا کرتے خانم نے دھیرے سے انابیہ سے پوچھا تو وہ آنسو صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوٸ۔ اور انکے گلے لگ گٸ۔ خانم کی آنکھوں سےآنسو بہہ نکلے۔ ان کے اندر سکون سا اترا تھا۔
یہ سب۔۔۔۔ یوں اچانک۔۔۔؟؟ انابیہ سے کچھ کہا نہ گیا۔
بس۔۔بیٹا۔۔۔!اللہ کی مرضی۔۔۔! کہتے ہوۓ وہیں ایک طرف بیٹھ گٸیں۔
انابیہ نے محسوس کیا وہ بہت بدل گٸ تھیں۔ وہ ۔۔۔پہلے والی خانم تھیں ہی نہیں۔
کنول بیٹا۔۔۔! یہ دودھ پی لو۔۔۔! آج صبح سے کچھ خاص نہیں کھایا آپ نے۔۔۔! تبسم خان نے کوٸ چوتھی بار اسے دودھ دیتے کہا۔ تو اس نے برا سامنہ بنایا۔
آنٹی۔۔۔! آفتاب خان کو بلاٸیں ناں۔۔۔! مجھے۔۔۔کومل کی طرف جانا تھا آج۔۔۔! انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ وہ جلدی آٸیں گے۔ اور مجھے لے کے جاٸیں گے ۔
کنول نے نروٹھے پن سے منہ بنا کے کہا۔ تو تبسم خان اسکے انداز پے مسکرا دیں۔
وہ بالکل بچوں کی طرح بی ہیو کرتی تھی۔ جب سے آٸ تھی۔ بس نک چڑی بنی ہوٸ تھی۔ چھوٹی چھوٹی بات پے غصہ آجاتا۔ اور آفتاب اسکی کوٸ بات نہ ٹالتا۔ سارے ناز نخرے اٹھاتا۔ بس اس نے ایک شرط رکھی تھی۔ یہاں رہنے کی۔ کہ عباد خان اسکے سامنے نہیں آٸیں گے۔ اور وہ نہیں آتے تھے۔ لیکن چھپ چھپ کے اپنی بیٹی کو دیکھتے اور اسکی خوشیوں کی دعا مانگتے۔ وہ نہیں جانتے تھے۔ کہ انکی ایک بیٹی اور بھی ہے کومل۔
آجاٸیں گے۔۔ آپ کے آفتاب خان بھی۔ ۔۔۔ آپ یہ دودھ ختم کریں جلدی سے۔ دودھ کا گلاس اسکے لبوں سے لگایا۔ تو ناچار اسے پینا پڑا۔
دروازے پے دستک ہوٸ۔ تو انابیہ اندر داخل ہوٸ۔ کنول اور تبسم دونوں ہی اسے دیکھ حیران ہوٸیں۔
بیٹا۔۔۔! یوں اچانک۔۔؟؟ تبسم خان نے انابیہکو گلے سے لگاتے اسفسار کیا۔
جی۔۔۔! آج ہی فلاٸیٹ کنفرم ہوٸ تو۔۔۔! انابیہکی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
بس بیٹا۔۔۔! صبر کرو۔۔۔ جسے اللہ کی مرضی۔۔۔! ہم اللہ سے لڑ تو نہیں سکتے ناں۔۔۔! سب نے ایک دن اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔ تبسم خان نے انابیہ کو سمجھایا۔ تو وہ مزید اشک بہانے لگی۔
تبسم خان اسے تسلی دیتیں۔ اٹھ کے باہر آگٸیں۔ تاکہ وہ دونوں آپس میں کچھ دیر اکیلے باتیں کر سکیں۔
اور واقعی باتیں کرتے ایک دوسرے کا غم بھلانے میں کامیاب ہوگٸ تھیں۔
تم تو۔۔۔ موٹی ہوگٸ ہو۔۔۔! کنول نے اسکی طرف پیار سے دیکھتے کہا۔
بس تم بھی ہوجاٶ۔۔ گی کچھ دن تک۔۔۔! انابیہ نے اسے پیار سے گال پے ہاتھ پھیرتے کہا ۔
تو وہ جھینپ گٸ۔
شکر اللہ کا۔۔۔ آپ کی اور آفتاب بھاٸ کی صلح ہوگٸ۔ ورنہ تو مجھے لگتا تھا۔ ساری زندگی ہی لڑتے جھگڑتے رہیں گے انابیہ نے اپنے آنسو صاف کیے۔
بس۔۔۔!وہ مجھے اور۔۔ میں انہیں۔۔۔ بہت عزیز ہیں۔۔ تمہیں پتہ ہے۔۔۔ میری امی کیا کہا کرتی تھیں۔۔ کہ معاف کر دینے والا بدلہ لینے والے سے افضل ہوتا ہے۔ اس لیے۔۔۔؟؟؟
کیاآپ نےاپنے بابا کو بھی معاف کردیا ہے؟ اچانک سے انابیہنے پوچھا تو کنول ایک دم چپ سی ہوگٸ۔ دروازے پے دستک دیتے آفتاب اندر آیا۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم ! بھاٸ۔۔۔! انابیہ فوراً کھڑے ہوتے بولی
وَعَلَيْكُم السَّلَام،،،، آفتاب نے اسکے سر پے ہاتھ پھیرا۔
کیسی طبعیت ہے؟ آفتاب نے بہت مان بھرے لہجے میں پوچھا۔
جی۔۔۔بہتر۔۔۔ہوں۔۔ وہ۔۔ شہیر۔۔واپس آگۓ۔۔۔؟
ہممممم۔۔۔ قبرستان گیا تھا۔ دی جے کی قبر پے۔۔ بہت اپ سیٹ ہے۔۔ اسکا خیال رکھیے۔۔۔! آفتاب کے لہجے میں پریشانی تھی۔ انابیہ سر اثبات میں ہلاتی باہر نکل گٸ۔ تو آفتاب کلاٸ پے بندھی گھڑی پے ٹاٸم دیکھتا گم صم بیٹھی کنول کے پاس آیا۔
کہں گم ہیں ہماری شہزادی صاحبہ؟ ان دنوں وہ شہزادیوں والے نخرے اٹھواتی تھی۔تو آفتاب نے اسے شہزادی کا ہی لقب دے دیا تھا۔
خان۔۔۔۔! کیا مجھے ۔۔۔ انہیں معاف کر دینا چاہیے؟ کھوۓ ہوۓ پوچھا۔ تھوڑا سوچ بچار کے بعد آفتاب کو اسکی بات سمجھ آگٸ کہ وہ کس کے بارے میں پوچھ رہی ہے۔
اگر ۔۔۔ تمہارا دل کہہ رہا ہے۔۔۔ تو معاف کردو۔۔۔! کیونکہ کبھی کبھار ہمارا سامنے والے کو معاف کردینا بھی اسکے لیے بہت بڑی سزا ہوتی ہے۔
اسے پیار سے سمجھاتا وہ ہمیشہ کی طرح کنول کو اپنے دل کے قریب لگا۔ وہ دھیرے سے مسکاٸ۔
آپ آج لیٹ کیوں آٸے۔۔؟؟ ہمیں کومل سے ملنے جانا تھا ناں۔۔۔۔! کنول نے نروٹھے پن سے کہا تو آفتا نے مسکرا کے اسے اپنے قریب کیا۔
وہ اپنے شوہرکے ساتھ آج چیک اپ کے لیے گٸ ہے۔ اس لیے ہم کل ملنے جاٸیں گے۔
شکر اللہ پاک کا۔۔۔! کہ وہ اب ٹھیک ہے۔۔ اور اسے اتنا چاہنے والا شوہر ملا۔ اللہ نے اسے سیدھی راہ دکھا دی۔ واقعی اللہ بہت غفور و رحیم ہے۔ کنول نے پرسکون ہوتے آفتاب کے سینےپے سر رکھتے آنکھیں موند لیں۔
بے شک۔۔۔۔! دل سےکہتے آفتاب بھی پرسکون ہوا۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
ڈاکٹر سے چیک اپ کر وا کے وہ دونوں باہر نکلے تھے۔ کاظم نے اسےایک ہاتھ سے تھامےگاڑی میں بٹھایا۔
اور گاڑی گھر کی جانب موڑ دی۔ وہ بالکل چپ تھی۔
کومل۔۔۔! ساحل سمندر کےپاس گاڑی روکتا وہ اسے لیے نیچے اترا۔ اسکی خاومشی محسوس کرتا وہ اسے پکار اٹھا۔
کومل نے رخ اسکی جانب موڑا لیکن اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ ہاں۔۔۔ البتہ دل کی آنکھوں سے وہ کاظم کو دیکھ بھی سکتی تھی۔ اور محسوس بھی کر سکتی تھی۔
آپ مجھے یہاں کیوں لاٸے۔ ۔۔؟؟ الٹا سوال کیا۔
یونہی جی چاہا تو لے آیا۔ کومل کےہاتھوں میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھساتے وہ ایک ایک قدم ساحل سمندر کے کنارے چلنےلگا۔
حادثے کے بعد کومل ی آنکھوں کی روشنی چلی گٸ تھی۔ اور دماغ پے چوٹ لگنے سے کسی ایک وقت میں وہ بالکل بلینک ہو جاتی ۔ سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیت مفقود ہوجاتی۔ لیکن اس سب میں جہاں کنول نے بہن کو سنبھالا۔ وہیں کاظم نے پورا پورا ساتھ دیا۔ کومل اپنا دل چھوڑ بیٹھی تھی۔ لیکن کاظم نے نہ صرف اسے مان بخشا بلکہ اسکی آنکھوں کی روشنی بھی خود بنا اور اسکے ناچاہنے کے باوجود اسے نکاح میں لے لیا۔
آپ نے مجھ اندھی سے شادی کع کے اپنی زندگی کو بھی اندھیر نگری بنا دیا ہے۔
اچانک سے کہے گٸے کومل کے الفاظ نے کاظم کو تکلیف پہنچاٸ۔
ایسا کہنے کی وجہ۔۔۔؟؟ کیا تمہیں ۔۔ میری محبت نظر نہیں آتی۔۔۔۔؟؟؟ کھینچ کے اسے اپنی طرف کرتے جارحانہ انداز میں بولا تھا۔
اندھی کو کیا نظر آۓ گا۔۔۔کاظم شاہ۔ ۔۔۔؟
دل تو اسکا زور سے دھڑکا تھا۔ لیکن پھر بھی زبان بولتی رہی۔
اندھیر نگری نظر آگٸ۔۔۔؟؟ طنزیہ پوچھا ۔تو کومل کا سر جھک گیا۔
مجھ پے ترس کھا کے۔۔۔آپ نے؟
بس ایک لفظ اور نہیں۔۔۔ ورنہ۔۔۔ بہت برا پیش آٶں گا۔۔تم سے۔۔۔! ابھی تک میں صرف تمہاری حالت کے پیشِ نظر چپ تھا۔ مگر اسکا مطلب یہ نہیں ۔۔۔ کہ تم میری محبت کو یوں رسوا کرو۔۔۔ سمجھی۔۔۔ کہتے ہوۓ غصے سے اسے اپنے ساتھ لگایا۔ اور واپسی کے لیے قدم بڑھاۓ۔ سارا داستہ خاموشی سے کٹا۔ گھر آکر بھی کاظم نے کومل کو مخاطب نہ کیا۔ اور یہ اسکے غصہ کا اظہار تھا ۔
لیکن کومل کو اسکی بے رخی برداشت نہ ہوٸ تو رو دی۔
اب کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیوں آنسو بہا رہی ہو۔۔؟؟ اسکے پاس بیٹھتے تھکے ہوۓ انداز میں پوچھا۔
آپ مجھ سے بالکل پیار نہیں کرتے۔۔۔ آنسو صاف کرتے منہ بناتےکہا۔
کیسا پیار چاہیے؟؟ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے معنی خیزی سے پوچھا ۔
آپ۔۔ بس۔۔ ایک فرض نبھا رہے ہیں اور کچھ نہیں ۔۔ اور۔۔ ایک دن۔۔ وہ بھی آپ۔۔۔۔؟؟؟
ابھی اسکے الفاظ منہ میں تھے۔ کہ کاظم اسکے ہونٹوں پے جھکا۔
اسکی سانسو ں کو منتشر کرتا وہ پیچھے ہوتا اسکے گلنار ہوتے چہرے کو شوخ سے دیکھنے لگا۔
مجھے تو پیار کی ایک ہی زبان آتی ہے۔۔۔ اب تمہیں کونسی زبان میں سمجھ آتا ہے وہ مجھے بتا دو۔
آپپپپ۔۔۔ بہت۔۔برے ہیں۔ کہتے ہوۓ نظریں جھکا لیں ۔
جبکہ اسکا شرم سے سر جھکانا کاظم کو اسکی کیفیت سمجھا گیا تھا۔ وہ اپنی زندگی کو آگے بڑھانا چاہتی تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی کاظم نے ترس کھایا ہے جبکہکاظم اسکی صحت کی وجہ سے ابھی تک اس سے دوری بناۓ ہوۓ تھا۔ لیکن ۔۔اب وہ بھی اپنا رشتہ شروع کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے بنا کسی دقت کے اس نے کومل کو اپنے ہونے کا مان بخشا۔
❤❤❤❤❤❤❤
دوسال بعد۔۔۔!! ⚡⚡⚡⚡⚡
آفتاب۔۔ خان۔۔۔! آپ مجھے اکیلا چھوڑ کے نہیں جاٸیں گے۔۔ میں آخری بار کہہ رہی ہوں۔۔
ہاسپٹل میں وہ ڈلیوری کے لیے لے جاتے آفتاب کا ہاتھ سختی سے تھامے ہوۓ تھی۔
نہیں جاٶں گا۔ تمہارے پاس ہی رہوں گا ۔۔ آفتاب نے پیار سے اسے کہا۔ لیکن وہ انتہا کی ضدی واقع ہوٸ تھی۔ آفتاب کے پیار نے اسے کسر بدل کے رکھ دیا تھا۔
مونس کی پیداٸش پے بھیاس نے ہاسپٹل کو سر پے اٹھا لیا تھا۔کہ آفتاب اس سے دور نہیں جاۓ ۔ لیکن ڈاکٹر کہاں رہنے دیتی ہے۔
اب سال بعد پھر سے وہ امید سے تھی ۔ اور ڈلیوری کے وقت اسے آفتاب کو ساتھ لے کے جانا تھا ۔
آپ میرے ساتھ اندر جاٸیں گے۔۔ ورنہ میں نہیں جاٶں گی۔
درد برداشت کرتی وہ بضد ہوٸ۔ ڈاکٹر سعدیہ بھی سر پکڑ کے بیٹھ گٸیں۔ اتنی ضدی لڑکی انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی نہیں دیکھی تھی ۔
کنول۔۔۔! ضد مت کرو۔۔۔! میں یہیں ہوں۔ کہیں نہیں جا رہا۔۔۔ آفتاب بھی اسکے چکر میں اندر تک آگیا تھا اور اب ڈاکٹر کے اشارہ کرنے پے باہر جانے لگا کہ کنول نے ہاتھ تھام لیا۔
مت جاٶ۔۔۔! آنکھوں مں آنسو لیے وہ آفتاب کے صبر کا امتحان لے رہی تھی ۔
آگے بڑھ کے اسکے ماتھے پے پیار سے بوسہ دیا۔
کہیں نہیں جارہا۔۔۔ یہیں ہوں۔۔ اللہ پے بھروسہ رکھو۔ سب بہتر ہوگا۔۔۔ کہتے ہوۓ وہ باہر نکلا۔ ایک آنسو کنول کی آنکھ سے بہہ نکلا۔
✨✨✨✨✨
کیا ہوا۔۔ آپ فون تو کریں۔۔۔؟؟
انابیہ اپنے جڑواں بچوں علیزہ اور معاویہ کو سنبھالتی شہیر سے بولی تھی۔
یا رکر تو رہا ہوں۔۔ وہ اٹھاٸں بھی تو۔۔۔؟
شہیر زچ آیا۔
اب یہ کیو ں رو رہا ہے۔۔؟؟ شہیر نے معاویہ کو روتے دیکھا تو ماتھے پے بل ڈالےپوچھا۔
آپ کا بھی بیٹا ہے ۔آپ پوچھ لیں ۔ انابیہ نے بی دوبدو جواب دیا ۔
شہیر نے معاویہ کو گود میں اٹھا لیا۔ اور چپ کرانے لگا ۔ جبکہ وہ اسکی گود میں آتے ہی چپ ہو گیا تھا۔
سارا اپنی ماں پے گیا ہے۔ گود میں آتےہی چپ ہوگیا ہے۔۔۔! معنی خیزی سےکہتا وہ انابیہ کے گال سرخ کر گیا ۔
شہیر۔۔۔۔! پیار بھری گھوری سے نوازا ۔
اب ایسے دیکھو گی۔۔ تو بہک جاٶں گا۔ آفتاب بھاٸکو دیکھو۔۔ ایک بے بی کے بعد دوسرا بے بی۔۔۔ اور تم۔۔۔؟؟
شہیر ۔۔۔ ہمارے بھی دو بے بیز ہیں۔ اگر نظر آرہا ہو تو۔۔؟؟
گلابی پڑتے گالوں کے ساتھ جواب دیتی وہ اٹھی تھی۔
لیکن۔۔ یہ تو اللہ کی دین ہے ناں۔۔۔۔۔! میں چاہتا ہوں۔۔کم از کم بارہ بچے تو ہونے چاہیں۔۔۔۔!
شہیر۔۔۔! آپ پاگل ہو گۓ ہو کیا۔۔۔؟؟ بارہ۔۔۔ بچے۔۔؟؟ مجھ سے یہ دو نہیں سنبھلتے۔۔ اور آپ بارہ۔۔۔؟؟؟
ابھی مزید بات بڑھتی کہ آفتاب کی کال پے شہیر چونکا۔
مبارک ہو آفتاب بھاٸ ایک بار پھر سے بابا بن گۓ اور میں چاچو۔۔۔! شہیر نے مبارک باد دی تھی۔
کیا ہوا۔۔ مجھے بھی بتاٸیں ناں۔۔۔؟؟ انابیہ کو جاننے کی جلدی تھی۔
بہو آگٸ۔۔ تمہاری۔۔۔ مبارک ہو۔۔۔ ! شہیر نے آنکھ مارتے کہا۔
کی مطلب۔۔۔؟ ناسمجھی سے دیکھا۔
یار۔۔۔ بیٹی ہوٸ ہے۔۔۔! رحمت آٸ ہے۔۔
شہیر کے بتانےپے انابیہ خوشی سےباہر کی جانب لپکی۔ وہ سب سے پہلے سب کو خود بتا نا چاہتی تھی ۔
کنول او رآفتاب نے سب کو ہسپتال آنے سے منع کیا تھا۔ اسلیے کوٸ ہسپتال نہ گیا تھا ۔ سواۓ آفتاب کے۔
تبسم خان اپنےپوتے ابراہیم کو سلا کے ابھی آٸیں تھیں ۔آفتاب انہی کے حوالے کر کے گیا تھا۔
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
عباد خان نے بھی اللہ کا شکر ادا کیا ۔ انکی بیٹی کنول نے تو انہیں معاف کردیا۔ لیکن بات نہیں کرتی تھی۔ پر ابراہیم سے پیار کرنے سے بھی کبھی نہ روکا۔ اسکی وجہ بھی آفتاب تھا۔ اسی نے کنول کو سمجھایا تھا اور وہ سمجھ بھی گٸ تھی۔
جبکہ ارباز خان آج بھی زندہ لاش تھے۔ اور خانم ان کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔
جبکہشہیر صرف ماں سے مطلب کی بات کر لیتا تھا۔ باپ کو ان دو سالوں میں ایک بار بھی نہ دیکھا تھا۔
سامعہ پھوپھو خان ولا سے جا چکی تھیں۔ سارا کے غاٸب ہوجانے کے بعد وہ وہاں نہ رکیں۔ اور راتوں رات خان ولا چھوڑ کے دونوں ماں بیٹی فرار ہوگٸیں۔ جبکہ جاتےہوۓ اچھی خاصی نقدی زیر اور سامان لے کے گٸ تھیں۔
✨✨✨✨✨✨✨✨
خان ولا میں خوشیوں کا سماں تھا۔
کنول اپنی ملکہ کے ساتھ جی ملکہ۔۔۔آفتاب کی خواہش پے اس نے بیٹی کا نام ملکہ رکھا تھا ۔
سب نے آگےبڑھ کے خوب استقبال کیا۔
ایک جشن کا سماں تھا۔ غریبوں میں کھانا اور کپڑےتقسیم کیے گۓ ۔ سب کاموں سے فارغ ہوتے کنول روم میں آٸ تھی۔ ڈیڑھ سالہ ابراہیم کو گود میں لیتےہوۓ اسے سکون آیا تھا۔
جبکہ ملکہ اس وقت سب کی ملکہ بنی ہوٸ تھی۔
کیاہوا ؟ تھک گٸ۔۔؟؟
آفتاب اسکےپاس بیٹھتا اسکی گود میں سر رکھ کے آنکھیں موند گیا ۔
دو دن سے ابراہیم کو نہیں دیکھا تو دل کو بے چینی ہو رہی تھی۔ اولاد کا ماں باپ کا رشتہ بھی کتنا عجیب ہوتا ہے ناں۔۔؟؟ کنول نے ایک ہاتھ سے سوتے ابراہیم کو ایک طرف لٹایا اور آفتاب کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرنےلگی۔ آفتاب نے آنکھیں موند لیں۔

وہ نظم تو سنا دو۔۔۔۔ جو میرے لیے لکھی تھی۔۔۔! بند آنکھوں سے آفتاب نے فراماٸش کی ۔ تو کنول مسکرا دی۔
ایک بات کہوں گر سنتے ہو۔۔۔
تم۔مجھ کو اچھے لگتے ہو۔۔۔۔
کہتے ہوۓ دھیمی سی مسکان سجاۓ آفتاب کے ماتھےپے ایک بوسہ دے گٸ۔ فتاب نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ اور اسکی گردن میں ہاتھ ڈالےباسکا چہرہ اپنےبہونٹوں کے قریب کرتا اسکی سانسیں روک گیا۔
تھینک یو۔۔میری جان۔۔۔ اتنا پیارا تخفہ دینےکے لیے ۔
زرا سا پیچھے ہوتا وہ کنول کو اپنی گرفت میں لیتا محبت سے بولا۔ جبکہ کنول کی پلکیں شرم سے جھک گٸیں۔
✨✨✨✨✨✨✨✨
ممانی جان ۔۔۔! شامی کو منع کرلیں۔ یہہمیں تنگ کر رہے ہیں۔۔۔! عابی شامی کے پیچھے بھاگتی ہوٸ آٸ تھی۔وہ جو اسے موٹی کہہ کے چھیڑ کے آیا تھا اب رضیہ خاتون کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ جبکہ آنکھوں مثس شرارت واضح تھی۔
یوں تنگ کرتے ہو۔۔میری پھول جیسی بچی کو۔۔۔؟
صرف پھول نہیں۔۔۔ یہبھی بولیں گوبھی کا پھول۔۔۔
اسکے سوجھے ہوۓ لال لال گالوں پے چوٹ کرتا وہ اسے مزید تنگ کرنے لگا۔
اسکا آٹھواں ماہ تھا۔ اور وہ اچھی خاصی صحت مند ہوگٸ تھی۔ جبکہ شامی آتے جاتے اسے موٹی کہہ کے چیڑاتا تھا۔
دیکھیں۔۔۔ممانی آپ۔۔۔! یہ پھر ۔۔چڑا رہی ہیں۔۔ اللہکرے یہ بھیایسے موٹے ہوجاٸیں۔ تب انہں پتہ چلے۔۔ کیسا لگتا ہے۔۔۔ ! کہتے ہوۓ وہ پیر پٹخ کے وہاں سے جا چکی تھی۔ جبکہ شامی منہ کھولے ماں کو یکھتا خجل سے ہوتا وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت جانی۔
تم۔۔۔ پاگل ہو۔۔۔؟ کہیں بی کچھ بھی بول دیتی ہو۔۔۔؟؟
اندر آتا وہ عابی پے بھڑکا۔
جب اسکی آنکھوں کے نم گوشے دیکھےتو گہرا سانس خارج کرتا وہ نرم پڑگیا۔
یار۔۔۔ کیا تم بھی۔۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پے آنسو بہانےلگتی ہو۔۔۔ مجھے تو۔۔ ڈر ہے۔۔ میری بیٹی بھی روندھو ہی ہوگی۔۔۔ ہر وقت ماں ٹسوے بہاتی رہتی ہے۔ وہ جو سمجھی تھی۔ شامی اسکا ہاتھ تھامے سوری کرے گا۔ پھر سے اسکی ٹانگ کھینچی تو وہ ہاتھ چھڑاتی ناراض ہوتی اٹھ گٸ کہ شامی نے اسکیکلاٸ تھام لی۔
اے جانِ من۔۔۔! تم۔۔ ہر روپ میں مجھ پے بجلیاں گراتی ہو۔۔۔ تمہارا یہ روپ مجھے گھاٸل کیے ہوٸے ہے۔۔ اس روپ میں تم پہلے سے بھی زادہ حسین لگتی ہو۔۔۔! گھمبیر لہجےمیں کہتے اسے خود سے قریب کیا ۔
آپ پھر ہمارا مذاق بنا رہے ہیں ناں۔۔؟؟ شکی انداز میں پوچھا۔
کسینے سچ ہی کہا ہے۔۔۔ بیویاں ۔۔ کسی حال می ںخوش نہیں ہو سکتیں۔۔۔
منہ بنا کےکہتا اس نے باہر جانے کے قدم بڑھاۓ۔
واٹ۔۔۔؟؟ بیویاں۔۔۔؟؟ کتنی بیویاں ہیں آپ کی۔۔؟إ وہ لڑاکے اندازمیں اسکے سامنے آٸ۔
ایک۔۔۔ صرف تم۔۔۔ ہو۔۔یار۔۔۔ !ایک نہیں سنبھل رہی مجھ سے ۔۔۔ تو۔۔۔۔! دھیمی آواز میں کہا۔ جبکہ عابی نے سن لیا۔
کہہ لیں۔۔ اور بھی بہت کچھ کہہ لیں۔۔ اب تو۔۔ ہم۔میں آپ کو کیڑے ہی نظر آٸیں گے۔۔۔۔۔ !کمر پے ہاتھ باندھے وہ لڑنے والےاندازمیں بولی تھی۔
شامی نے دروازہ لاک کیا اوراسکی طرف مڑا۔ وہ ایسے تو چپ کرنے والی تھی نہیں۔۔۔ اے چپ کروانے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ جو شامی اچھے سے جانتا تھا۔
😍😍😍😍😍😍😍😍
زندگی میں بہت سے اتار چڑھاٶ آتے رہتے ہیں۔ لیکن ہمت کبھی نہیں ہارنی چاہیے۔ آگے بڑھتے رہنا ہی زندگی ہے۔ غلطیاں ہر ایک سے ہوتی ہیں ۔ کوشش کریں گناہ سے بچیں۔ اور وقت رہتے اللہ سے معافی مانگیں ۔توبہ کریں
ارباز خان ایک ایسا کردار تھا۔ جس نے گناہ کرتے اپنے لیے معافی کے راستے بند کردیۓ۔ ۔۔ کہ موت بھی نہ آٸ اسے۔۔۔ دین اور دنیا دونوں میں ذلیل و خوار ہوا۔
کومل ایک ایسا کردار۔۔ جو ہمارے معاشرے کی تلخیوں میں جنم لیتا ہے۔ ماں باپ اولاد کو پیدا کرنے کے بعد اسکی پرورش بھی اچھے سے کریں۔ یہی اصل حکمِ خدا وندی ہے۔
زندگی میں خوشیاں اور غم ایک ساتھ جڑے ہیں ۔ جہاں ایک کہانی ختم ہوتی ہے۔ وہیں دوسری شروع ہوتی ہے۔ اور یہ سلسلہ در سلسلہ جاری رہتا ہے۔
لیکن۔۔۔
تم میرے نکاح میں ہو۔۔اسکا اختتام یہیں ہوتا ہے۔

تم_میرے_نکاح_میں_ہو آمنہ عمرقسط_نمبر36( لاسٹ)پارٹ ونآپ۔۔۔۔آپ آگۓ۔۔۔؟؟ کنول نے آفتاب کے چہرے کو چھونا چاہا۔ جبکہ آفتاب نے...
10/11/2022

تم_میرے_نکاح_میں_ہو
آمنہ عمر
قسط_نمبر36( لاسٹ)پارٹ ون
آپ۔۔۔۔آپ آگۓ۔۔۔؟؟ کنول نے آفتاب کے چہرے کو چھونا چاہا۔ جبکہ آفتاب نے نفرت سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔ اور بازو سے پکڑ کے اٹھایا ۔ کنول بوکھلا ہی گٸ۔
کہا تھا۔۔۔! ایسا ویسا۔۔ کچھ مت کرنا۔۔ لیکن تم۔۔۔ بازنہ آٸ۔۔؟؟ آفتاب کے سخت الفاظ ۔۔اور نفرت انگیز لہجہ کنول نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
میں۔۔۔ میں۔۔ نے۔۔۔؟؟ کنول نے کچھ کہنا چاہا۔
آفتاب نے بنا اسکی بات سنے اسے بازو سے پکڑ باہر لے آیا ۔ سبھی خان حویلی میں اکھٹے ہوگٸے بڑی بیگم سفیہ ملازم سبھی دم سادھے انہیں دیکھ رہے تھے۔ کہ آخر آفتاب کیا کرنے والا ہے۔ بیچ ہال میں لاتے جھٹکے سے چھوڑا۔ کہ وہ گرتے گرتے بچی تھی۔
بس۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔! تم۔۔۔تم۔۔۔ نے جو اب کیا۔۔ وہ معافی کے لاٸق نہیں۔۔ ہر بار تم نے میرے جذبات سے کھیلا۔ لیکن اس بار۔۔۔؟؟
ایک منٹ۔۔۔! کنول نے انگلی اٹھا کے آفتاب کو مزید کچھ بھیکہنے سے باز رکھا۔
کوٸ بھی بات کہنے سے پہلے۔ ۔۔۔ سچ جان لیں۔ ورنہ۔۔ بہت پچھتاٸیں گے۔
ایک للکار تھی کنول کے انداز میں۔ اسکا لہجہ بتا رہا تھا۔ کہ کچھ مسنگ ہے۔ آفتاب ایک لمحے کےلیے ٹھٹھکا۔
کیا مطلب؟ آفتاب نے آگے بڑھتے ماتھےپے بل ڈالے پوچھا۔ جبکہ سفیہ کا دل زوروں سے دھڑکا۔
کنول نے ایک نظر آفتاب کو دیکھا۔اور دوسری سخت نظر سفیہ ے ڈالی ۔ جس نے پہلو بدلا تھا ۔
بولو۔۔۔؟؟ کیا کہنا چاہتی ہو۔۔؟؟ میں نے جو دیکھا۔۔ اب اس پے بھی تم ایکسکیوزز دوں گی۔۔؟؟ بتاٶ۔۔۔؟ مجھے۔۔؟؟ کیوں۔۔ لاک کیا دروازہ۔۔؟؟ آفتاب نے اسکا بازو جکڑتے پوچھا۔
جس نے کیا ۔۔اسی سے پوچھیں۔ دھیمے لیکن سخت لہجے سے کہتے جھٹکے سے اپنا بازو آفتاب کی گرفت سے آزاد کروایا۔ وہ چپ سا ہوتا اسے دیکھنے لگا۔
کیاکہنا چاہتیبہو تم؟ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔۔؟؟ تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے۔۔؟؟ دروزاہ باہر سے لاکڈ تھا۔۔؟؟ او ہم میں سے کسی نے یہ کام کیا ؟ دیکھ لیں بڑی بیگم ۔۔! یہ الزامل گنا باقی تھا۔۔۔؟؟
سفیہ نے بولنا شروع کیا تو سبھی اسکا منہ حیرت سے دیکھنے لگے۔
جبکہ کنول اتنی ہی مطمین کھڑی تھی۔
میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا۔۔۔ ! اور نہ ہی آپ میں سے کسی کو کچھ کہا۔۔؟ کنول کے استفسار پے سفیہ گڑبڑا گٸ۔
اب آ کو پتہ لگ گیا ہوگا۔۔۔! کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ؟ کنول نے دھیرے سے آفتاب کے پاس آتے دکھی اور سخت انداز میں کہا۔جبکہ آنکھیں بے تحاشا نم تھیں۔
کہہ کہ وہ پلٹی ہی تھی۔ کہ آفتاب نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
اسے اپنی اور کھینچا کہ وہ اسکے سینے سے آلگی ۔ اسکے سینے سے لگے اسکی آنکھوں میں اپنے لیے وارفتگی دیکھتی غصے کے باوجود اسکا دل بے اختیار دھڑکنے لگا۔
میری زندگی کی ضروت ہو تم۔۔۔
میرے جینے کی وجہ ہو تم۔۔۔
میری زیست کا حاصل ہو تم۔۔۔
اس بے درد دنیا میں ایک تم ہی ہو اپنی۔۔۔
ایک تمہی تم ہو۔۔۔
صرف تم ہو۔۔
میری روح کا حصہ ہو۔۔
میرے درد کی دوا ہو۔
تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔
ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کے کہتا وہ اپنی روح کے در اسکے لیے کھول رہا تھا۔
اسکا عشق و جنوں آج جسم سے روح میں داخل ہو چکا تھا۔
مان بھرا بوسہ دیتا وہ کنول کی روح کو سکون بخش گیا تھا۔ آنکھیں موندتی وہ اسکے لمس کو اپنی روح میں اترتا محسوس کر رہی تھی۔
آپ نے وعدہ کیا تھا۔ کہ آپ میری روح کا خیال رکھیں گیں۔ یہ خیال رکھا آپ نے؟
کنول کا ہاتھ تھامے وہ بڑی بیگم کی جانب پلٹا۔
جن کا سر تو جھکا تھا۔ لیکن لب بھینچ گۓ تھے۔
میں آج ابھی اسی وقت آپ کی اس زندان حویلی سے جا رہا ہوں۔۔ ابھی تک جو یہاں رکا تھا تو وہ آپ کا احسان اتارنے کے لیے۔ پر۔۔۔ اب ختم۔۔۔! زندگی نے ساتھ دیا۔۔ تو آپکا احسان آپ ہی کی صورت میں سود سمیت اتار دوں گا۔ بلکہ اپنے جسم کے خون کا ایک ایک قطرہ آپ کو دے دوں گا۔۔ لیکن۔۔۔! انگلی اٹھاکے سختی سے وارن کیا۔
میری زندگی۔۔۔ میری روح پے وار کرنے کا بھول کے بھی مت سوچیے گا۔۔۔۔۔
ورنہ آفتاب شیر خان جان دے سکتا ہے تو جان لے بھی سکتا ہے۔۔۔۔!
شیر کی دھاڑ کی طرح وہ غرایا تھا۔ کہ کوٸ چاہ کے بھی کچھ نہ بول پایا۔ کنول کا ہاتھ تھامتا۔ اس نے وہاں سے نکلنا چاہا۔ کہ ۔۔۔۔
رکیے جانشین۔۔۔! آپ ایک ایسی لڑکی کے لیے اپنی دادیکو چھوڑ کے جا رہے ہی۔ جس نے آپ وک موت کے منہ میں پہنچا دیا تھا۔
گرجدار آواز پے جہاں آفتاب کے قدم رکے۔ وہیں کنول کا دل بھی دھڑکا۔
آپ ایسا کیسےکر سکتےہیں؟ وہ آگے بڑھیں تھیں ۔
آپ نے ہم سے ودہ کیا ہے کہآپ ہمیں چھوڑ کے نہیں جاٸیں گے۔ اور جیسا ہم کہیں گے ویسا کریں گے۔ پھر ۔۔۔یہ سب کیا ہے؟ ؟ ان کے ماتھےپے بے شمار بل تھے۔
آپ میرے لیے قابل احترام ہیں۔ لیکن میں یہی چاہوں گا۔ کہ میرے پرسنل معاملات سے دور رہیں۔
دھیمےلیکن مضبوط لہجے میں کہتا وہ سب کو چونکا گیا۔
کیسے دور رہیں۔۔؟؟ اس۔۔۔اس لڑکی نے آپ پے۔۔گولی چلاٸ۔۔۔ آپ کو موت کے منہ میں۔۔۔ دھکیل دیا ۔۔اور آج اسی کا ساتھ دیتے ہوۓ آپ اپنی دادی ک فراموش کے جا رہے ہی ؟اور آپ چاہتے ہیں۔۔کہ ہم اس سب سے دور رہیں ؟ کیسے۔۔۔؟؟
میری زندگی میری زندگی پے قربان۔۔۔! ایک کیا.وہ دس گولیاں بھی چلاۓ۔۔تو آفتاب کا سینہ حاضر ہے۔ لیکن۔۔۔ آپ ۔۔دور رہیں اس سے ۔۔۔ ساتھ کھڑی سفیہ کو بھی انگلی اٹھا کے سختی سے وارن کیا ۔
یہ جھوٹ بول رہی ہے۔ اور۔۔۔؟؟
بکواس بند۔۔۔۔! آفتاب اتنے زور سے دھاڑا تھا کہ خان حویلی کے درودیوار کانپ اٹھے۔
اب ایک اور لفظ نہیں۔۔ !
اسےلگام ڈال کے رکھیں۔ ورنہ ایسی سزا دوں گا۔۔ کہ ساری زندگی ڈھونڈتی رہ جاٸیں گیں اور یہ نہیں ملے گی۔
سبھی کی بولتی بند کرتا وہ کنول کا ہاتھ تھامےحویلی سے نکلتا چلا گیا۔ بڑی بیگم نے خشمگیں نظروں سے سفیہ کو دیکھا۔ جسکی وجہ سے انکا پوتا ان سے ایک بار پھر بچھڑ گیا تھا۔
آفتاب۔۔۔؟ اسکے ساتھ چلتےدھیرے سےاسے پکارا تو اس نے رک کے اسکی جانب دیکھا۔
کیاہوا۔۔؟؟ دھیمے لہجے میں نرمی سے پوچھا۔
ہم۔۔۔ کہاں۔۔؟؟ رات کےاس پہر اچانک سے حویلی سے نکلنے پے کنول کو کچھ صحیح نہ لگا۔
مجھ پے بھروسہ ہے؟ الٹا اسکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا۔
یہ بھی پوچھنےکی بات ہے؟ بہت مان سے اسکے قریب ہوتے کہا۔
تو بس۔۔ اپنے شوہر پے بھروسہ رکھو۔ جو جان تو دے سکتا ہے۔ لیکن تم پے آنچ بھی نہیں آنے دے گا۔
اسے اپنے ساتھ لگاتے وہ پرسکون ہوتا بولا تھا۔
اتنا پیار کرتےہیں مجھ سے؟ سر اٹھا کے آنکھوں میں بے تحاشا محبت لیے پوچھا ۔
اسکے اس انداز پے آفتاب کا دل دھڑکا۔ اور بنا ایک لمحےکی دیر کیے اسکے لبوں پے جھکا۔ کنول تو اسکے اس جواب پے دنگ ہی رہ گٸ۔
محبت نہیں جنون ہو میرا۔۔۔! رگوں میں خون بن کے دوڑتی ہو۔
آؒفتاب کے اس برملا اظہار پے کنول کی آنکھیں پھیل گٸیں۔
آپ۔۔۔۔آآپ۔۔۔ نے مجھے معاف کر دیا۔۔؟؟ ایک امید تھی لہجے میں۔ آفتاب نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا۔ اور اسے سینے میں بھینچا۔ وہ سعدی کوکال کر چکا تھا ۔ کہ وہ گاڑی کا بندوبست کرے ۔ کیونکہ وہ خان حویلی سے بالکل خالی ہاتھ نکلا تھا۔ سواۓ اپنی کنول کے۔
جس دن۔۔ سب کچھ سچ سچ بتا دو گی۔۔۔ اس دن۔۔۔!آفتاب نے گھمبیر لہجے میں کہتے آتی ہوٸ گاڑی کو فوکس کیا۔ جو سعدی ڈراٸیو کر رہا تھا ۔
خیریت۔۔؟؟ یوں اچانک آپ آگۓ۔۔؟؟ سعدی اترتے ہوۓ پریشان ہوتے پوچھ بیٹھا۔
ہمممم۔۔۔ ہوٹل پیراڈاٸز لے چلو۔ وہیں رات رکیں گے۔ کل صبح کی کراچی کی ٹکٹس کنفرم کر وادینا۔
کنول کوگاڑی میں بیٹھا کے سعدی سے مخاطب ہوا۔
اس نے مزید کوٸ سوال نہ کیا ۔ اور گاڑی کوہوٹل کی طرف موڑ دیا ۔
آفتاب کس سچاٸ کی بات کر رہے ہیں۔۔؟ آفتاب کی بات کو سوچتے ایک الجھی نظر اس پے ڈالی ۔ جبکہ وہ اسکی ہر حرکت کو نوٹ کر رہا تھا ۔ دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کے اپنے دل کے مقام پے رکھا۔ کنول ششدر سے اسے دیکھے گٸ ۔
اتنا پیار۔۔۔؟؟ وہ اچانک سے کیوں جتا رہا تھا۔۔؟ صبح تک تو وہ بے انتہا غصہ میں تھا۔
کنول نے اسکے دل کے مقام پے رکھا اپنا ہاتھ اسکی گرفت میں دیکھا۔
جس دن۔۔ سب کچھ سچ سچ بتا دو گی۔۔۔ اس دن۔۔۔!
مطلب۔۔۔؟؟ آفتاب۔۔۔؟؟ جانتے ہیں۔۔۔کہ ۔۔گولی۔۔؟؟ میں نے نہیں چلاٸ۔۔۔؟ کنول کا دل بری طرح دھڑکا۔ اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا لیکن آفتاب کی گرفت مضبوط تھی۔ ایک دم سے اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔ بلڈ پریشر لو ہونے لگا۔
آفففتاببببب! اس نے سن پڑتے دل و دماغ سے آفتاب کو پکارا۔ وہ فوراً اسکی جانب مڑا۔
اوہ۔۔۔تمہارا تو بلڈ پریشر لو ہو رہا ہے سعدی۔۔۔ ہاسپٹل کی جانب گاڑی۔۔؟؟
پانی۔۔۔۔! دھیرے سےپھر سے پکارا۔ سعدی ساٸیڈ پے گاڑی روکتا منرل واٹر کی بوتل لے آیا ۔
آفتاب نے اسے پانی پلایا۔ تو اسے کچھ ہوش آیا ۔
مجھے بھوک لگی ہے۔اسکے بازو کے گرد بازو حماٸل کرتی وہ لاڈ سے آنکھیں بند کرتی بولی تھی۔
آفتاب نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لگایا۔ اور سعدی کو چلنے کا کہا۔
💘💘💘💘💘💘💘
بات کرنی ہے مجھے تمہار ے ساتھ۔
کاظم اپنی ایک دوست کے ہمراہ ہوٹل میں موجود تھا۔ کہ وہ تن فن کرتی اس تک پہنچی۔ کاظم نے سر گھما کے اسے دیکھا۔
جاٶ یہاں سے۔۔۔! بزی ہوں میں۔ اپنی دوست کی نظروں میں حیرت دیکھتا وہ سختی سے بولا تھا۔
بزی۔۔۔؟؟ کل تک تو۔۔ شادی کے لیے مرے جا رہے تھے۔ اور آج۔۔۔؟؟؟
س سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی کاظم نے غصہ سے اٹھتے اسے جھٹکے سے بازو سے پکڑا۔ اور وہاں سے دور رہ گیا۔
شادی۔۔۔۔؟؟؟ وہ لڑکی زیرلب بڑبڑاٸ۔
تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا۔۔۔۔؟؟ سخت گیر لہجےمیں اس سے پوچھا۔
کیوں۔۔۔؟؟ بہت آگ لگ رہی ہے میری بات پے۔۔۔؟؟ میرے بارے میں کل کیا کچھ نہیں بول کے گۓ تم۔۔۔؟؟یہا ںتک کہ مجھے میرا کریکٹر سرٹیفیکیٹ بھی تھما کے گۓ۔۔۔ تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔۔؟؟ اس لڑکی کی طرف اشارہ کرتے آنکھیں چھوٹی کر کے پوچھتی وہ کاظم کو بکھری ہوٸ لگی۔
اور کچھ۔۔۔؟؟ بہت مطمین انداز میں پوچھا۔ جس پے کوملمزید سیخ پا ہوٸ۔
میرے کریکٹر پے انگلی اٹھانے والے تم ہوتے کون ہو۔۔۔؟؟ تم نے پہلے دن سے مجھے ٹریپ کیا۔۔ میں نے پھر بھی تم سے دوستی کی۔ کبھی نہیں سوچا۔۔ کہ تم سے شادی کروں گی۔۔ لیکن تم نے مجھے شادی کا پرپوز کیا۔ جس پے میں نے انکار کیا۔ اور تم۔۔۔ مجھے۔۔؟؟؟
کیا تمہیں۔۔۔؟؟ کیاکیا ہے میں نے تمہارے ساتھ ۔۔؟؟ بولو۔۔۔؟؟ کاظم نے تیز لہجے میں اسکی بات کاٹی۔
کیا کیا۔۔۔؟؟؟ کومل کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
کیا نہیں کیا۔۔۔؟؟ کیا کچھ بولا۔۔۔؟؟ کوٸ احساس ہے۔۔۔؟؟ اور یہاں خود۔۔ کسی اور لڑکی کے ساتھ گلچھڑے۔۔۔؟؟ کہتے ہوۓ اسکی آواز روندھ گٸ۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔! ہاں پرپوز کیا تمہیں۔۔۔! لیکن تم نے انکار کر دیا۔۔ بات ختم۔۔۔ اب میںسکیا کرتا ہوں۔۔ کس کے ساتھ ہوں۔۔ تمہیں اس سے کوٸ غرض نہیں ہونی چاہیے۔۔ انڈرسٹینڈ۔۔۔۔! سپاٹ انداز اپناتے وہکوملکا دل دکھا گیا۔
مجھے کوٸ فرق نہیں پڑتا۔۔ تم کیاکرتے ہو کیا نہیں۔۔۔! لیکن ایک بات میری کان کھول کے سن لو۔۔۔! انگلی اٹھا کے اسے وارن کرتی اس کے قریب آٸ۔ اسکی سبز آنکھوں کے لال ڈوروں میں کاظم کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔
میں بری لڑکی نہیں ہوں۔۔۔! سمجھے تم۔۔۔۔! کہتے ہی اسکی آنکھوں سے گرم سیال مادہ نکلتا اسکے گال بگھو گیا۔۔ رخ پھیرتی وہ آنسو صاف کرتی وہاں سے نکلنے لگی۔ کہ پھر سے وہ وپس پلٹی۔ کچھ کہتی کہ ایک لال رنگ کی روشنی کاظم کی سفید شرٹ پے دیکھنےلگی۔ اسکا دل زور سے دھڑکا۔ پلٹ کے دیکھا جہاں سے روشنی آرہی تھی۔ وہ کسی کے نشانے پے تھا۔ اسکی نظریں کومل کے خوف زدہ چہرےپے تھیں۔ کہ اتنے میں گولی چلی۔ کومل نے پلک جھپکتے کاظم کو زمین پے دھکا دیا۔ اور خود بھی اسکے اوپر جا گری۔ گولی سامنے شیشے میں جا کے لگی۔ ہوٹل میں شور شرابا برپا ہوگیا۔ دونوں ایک طرف کو گرے تھے۔ کومل مکمل کاظم پے گری اپنا سارا وزن اس پے ڈال گٸ۔ کاظم نے خود کو بھی چوٹ لگنے سے بچایا اور کومل کی کمر میں بازو حماٸل کرتے اسے بھی گرنے سے بچاگیا۔
تم۔۔۔ ٹھیک ہو۔۔۔؟؟ کومل کو اسکی فکر ہوٸ۔ اپنے بکھرے بالوں کے ساتھ اسکے لہجے کی فکر مندی کاظم کو بہت کچھ سوچنے پے مجبور کر رہی تھی۔
ہاں۔۔۔! ناسمجھی والے انداز میں کہا۔ ایک اور گولی چلی تو کاظم کو ہوش آیا۔ فوراً سے کومل کو لیے دیوار کی آڑ میں ہوا۔ اور اسے لیے وہاں سے نکلا۔ دونوں وہاں سے بھاگتے نکلے تھے۔ کاظم اسے اپنی باٸیک پے بٹھاتا اس جگہ سے دور لے گیا۔
کافی دیر کے بعد وہ اسے وہاں سے نکال لانے کے بعد کامیاب ہوا تھا۔ اس کے گھر کے باہر باٸیک روکتے وہ اسکی جانب پلٹتا پرسکون ہوا تھا۔
کومل دھیرے سے باٸیک سے اتری ۔
بہت کچھ کہنا چاہتے تھے۔ ایک دوجے سے لیکن۔۔۔
کچھ کہہ بھی نہیں پا رہے تھے۔
تمہیں اپنی۔۔کٸیر کرنی چاہیے۔۔۔! کومل نے فکرمندی سے کہا ۔
ہممممممم۔۔۔۔ تمہیں۔ بھی۔۔۔! پلٹ کے ویسے ہی کہا۔
میرا کیا ہے۔۔۔؟؟ اپنا آپ کا مذاق اڑاتی وہ کاظم کو بری لگی۔
مر بھی جاٶں تو کوٸ رونے والا نہیں ہوگا۔۔۔ شاید۔۔۔ کوٸ۔۔ دفنانے والا۔۔۔ بھی۔۔۔؟؟
شی۔۔۔۔۔۔۔! کاظم پلک جھپکتے اسکے لبوں پے انگلی رکھتا اسے چپ کراگیا۔
سب سے پہلے خود کو معاف کرو۔۔۔ ۔۔۔ اپنی بہن سے معافی مانگو۔۔۔ سر خان سے ۔۔۔معافی مانگو۔۔ ان کے بیچ میں دراڑ ڈالنی چاہی۔۔ معافی مانگ۔۔۔کر خود کو معاف کرو۔۔۔ کومل۔۔۔ کوٸ بھی دودھ کا دھلا نہیں ہوتا۔ ہر انسان خطا کا پتلا ہے۔۔ مانا کہ تمہارے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔ لیکن۔۔۔ تم نے بھی۔۔اچھا نہیں کیا۔
سوچو۔۔۔ سمجھو۔۔۔ اور فیصلہ کرو۔
کاظم کے الفاظ اسکے دل پے پھوار بن کے برس رہے تھے۔ وہ پہلے دن سے جانتی تھی۔ وہ اسے ٹریپ کر رہا ہے۔۔۔ اور وہ۔۔۔ بس ہوتی چلی گٸ۔۔ زندگی میں کبھی اتنی چاہ کسی نے کی ہی نہیں تھی۔۔۔
تم۔۔۔۔ مجھ سے یہ سب۔۔۔؟؟ میں تو بری لڑکی ہوں ناں۔۔۔؟؟ اسکے الفاظ پھر سے کاظم کو چبھے۔
نہیں۔۔۔۔ تم۔۔ بری نہیں۔۔ وقت اور حالات برے تھے۔
کیا تمہارا دل نہیں کرتا۔۔۔؟؟
ایک ۔۔چھوٹا سا گھر ہو۔۔پیارا سا گھر۔۔۔ مکمل گھر۔۔۔۔۔ جہاں ۔۔۔دو پیار کرنے والے ہوں۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے۔۔ بے بیز ہوں۔۔۔ زندگی۔۔۔بہت پرسکون ہو۔۔۔۔؟؟؟
کاظم اسے حسن خواب دیکھانے لگا۔ اسکا دل مچلا۔
یہ۔۔۔یہ سب ناممکن ہے۔۔۔ میں۔۔۔۔میں۔۔ گناہ کی دلدل میں پھنس چکی ہوں۔۔۔ وہاں سے نکلنا۔۔۔؟؟ ناممکن ہے۔۔۔! کومل کو اپنے گذرے ہر لمحے پے شرمدنگی ہوٸ تھی۔
میرا پرپوزل ابھی بھی وہیں پے ہے۔۔کومل۔۔۔! فرصت سے بیٹھ کے سوچنا۔۔۔ ! کوٸ جلدبازی کی ضرورت نہیں۔
واپس باٸیک پے بیٹھتا وہ کومل کا دل پھر سے دھڑکا گیا۔
پھر کب ملو گے۔۔۔؟؟ کومل بے چین ہوٸ۔
جب چاہے بلا لو۔۔۔! آجاٶں گا۔ مسکرا کے کہتا وہ کومل کو بی مسکرانےپے مجبور کر گیا۔
کاظم کا ساتھ اسے ایک انجانی خوشی بخش رہا تھا۔
اپنا خیال رکھنا۔۔۔محبت اور فکر سے کہتا وہ اسے اپنا اپنا سا لگا۔
کاظم کے جانے کے بعد وہ اندر آٸ تو ایک طوفان بدتمیزی مچا ہوا تھا۔ جسے کسی نے پورے گھر کی تلاشی لی ہو۔
کومل کا دل سوکھےپتےکی مانند کانپا۔
وہ آگیا۔۔۔؟؟؟ اب وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔۔۔
سوچتے ہوۓ ماتھے پے پسینے آٸے۔
ایک دم سے سامنے وہ کھڑا نظر آگیا۔ اسکے ساتھ دو آدمی اور تھے۔ وہ سگریٹ کے کش لیتا کومل کو گھبرانےپے مجبور کر گیا ۔
تمہیں کیالگا۔۔۔؟؟ تم۔۔ ہمارے دھندے سے علیحدگی اختیار کرو گی۔۔۔ اور ہم چپ چاپ تماشا دیکھتے رہیں گے۔۔۔؟ وہ نارمل انداز میں بول رہا تھا۔جبکہ کومل جانتی تھی۔ یہ طوفان سےپہلے کی خاموشی ہے۔
کنگ۔۔۔۔! پلیز۔۔۔۔ ؟؟ وہ گڑبڑا کے بولی۔ جبکہ وہ کومل کے قریب آتا اسکے ہاتھ سے موباٸیل لیتا کاظم کا نمبر ڈاٸل کر نے لگا۔
کاظم جو ابھی راستےمیں ہی تھا کومل کی کال دیکھ مسکرایا۔ باٸیک ایک طرف روکتا وہ کال رسیو کر گیا ۔
اتنی جلدی بلاوا آجاۓ گا۔۔۔ اندازہ۔۔۔؟؟؟
اگر اس لڑکی کو زندہ دیکھنا چاہتے ہوتو۔۔؟؟ تمہارےپاس صرف د منٹ ہیں۔ پہنچ جاٶ۔۔ اوربچالو۔۔۔اسے۔۔ہاہاہاہاہاہ۔۔۔۔۔
وہ مکار ہنسی ہنستا کاظم کو کانٹوں پے گھسیٹ گیا۔
ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔۔؟؟ کال بند ہوچکی تھی۔ وہ باٸیک واپس موڑتا دس منٹ کا راستہ پانچ منٹ میں طے کرتا کومل کے گھر پہنچا تھا۔ باٸیک کو گراتا وہ اندر کی جانب سانس روکے بڑھا تھا۔
کومل۔۔۔۔۔۔!اونچی آواز میں وہ چلایا تھا۔ لیکن ساری جگہ خاموشی کا راج تھا۔
اس نے ساری جگہ تلاشا۔۔ لیکن اسے کومل کہیں نظر نہ آٸ۔ کہ تبھی ایک سسکی سی ابھری۔ ڈرتے ڈرتے کاظم نے پلٹ کے دیکھا۔ ٹیبل کے نیچے ایک ساٸیڈ پے وہ گری پڑی تھی۔ کاظم ایک منٹ کی دیری کیے بنا اس تک پہنچا۔ اسکاسراٹھایا۔ خون سے لت پت وہ بے ہوش پڑی تھی۔ اسکی آنکھیں بند تھیں۔ اسکے سر ماتھے سب طرف سے خون بہہ رہا تھا کانچ تھا۔۔ جو اسکے سر میں جگہ جگہ کبھے ہوۓ تھے۔ اسکی سانس چیک کی۔ جو مدھم مدھم چل رہی تھی۔ کاظم نے اسے بانہوں میں بھرا ۔ اور باہر کی جانب بڑھا۔
💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیسا لگ رہا ہے۔۔۔؟؟ یوں سسک سسک کے مرنا۔۔۔؟؟ کیسا لگ رہا ہے۔۔؟؟ ارباز خان۔۔؟؟
سفید لباس میں چہرے پے سختی لیے وہ کھڑی تھی۔ ارباز خان کی تو اسےیوں سامنے دیکھ روح ہی فنا ہونے والی تھی۔
تم۔۔۔تم۔۔زندہ۔۔۔؟؟ تم تو۔۔۔مر گٸ۔۔۔؟ ارباز خان بری طرح گھبراۓ۔
ہاں۔۔۔۔تم نے تو مجھے جیتے جی مار دیا تھا۔۔۔۔ کوٸ کسر نہیں چھوڑی۔۔۔ اب تمہاری باری ہے۔۔۔ ارباز خان۔۔۔ کچھ گناہوں کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے۔۔ اور تمہیں بھی مل کے رہے گی۔۔ عبرت کا نشان بنو گے تم۔۔۔ عبرت کا۔۔۔
شبیہہ دھندلی پڑتی گٸ ۔ ارباز خن نیند سے جاگتا پسینے سے شرابور تھا۔
اسکے کرموں کا حساب تو شروع ہو ہی گیا تھا۔ ماضی کی پرچھاٸیوں نے اسےاپنی لپیٹ میں لیا۔
خدا کا واسطہ ہے۔۔ ارباز۔۔خان۔۔ مجھے چھوڑ دو۔۔۔! مت کرو یہ ظلم۔۔۔! وہ روتی بلکتی بولی تھی۔
جبکہ اسکی تین سالہ بیٹی اندر کمرے میں قید کیے ماں ماں پکارتی وہ بھی روۓ جا رہی تھی۔
لیکن ارباز خان پے تو جیسے شیطان سوار تھا۔ اس نے ایک نہ سنی۔ اور مریم کی عزت کو پامال کر دیا۔
پیچھے ہٹتے وہ دیوار کے ساتھ جا لگی۔
تم۔۔۔تم۔۔۔بر باد ہوگے۔۔۔۔ ارباز خان۔۔۔۔۔! میرا اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔ تم۔۔ موت مانگو گے۔۔لیکن۔۔ تمہیں موت تمہیں نہیں ملے گی۔
وہ تڑپ رہی تھی۔ اور ارباز خان فرعون بنا کھڑکی کے پاس روتی بلکتی کنول کے پاس جا کھڑا ہوا۔ خوبصورت ہے بہت۔۔۔۔! کمینے پن سے کہتا وہ رخ موڑ کے مریم کو مزید کانٹوں پے گھسیٹ گیا۔
ارباز خان۔۔۔۔۔۔!مریم کی للکار سے پورا فلیٹ گونج اٹھا۔ وہ عورت اپنے پے تو سہہ گٸ ۔ لیکن۔۔۔ اپنی بچی کو اس کے ناپاک ارادوں سے دور کرنا جانتی تھی۔
گھبراٶ۔۔نہیں۔۔ بہت چھوٹی ہے۔۔ یہ ۔۔۔۔! بڑی ہونے دو۔۔۔پھر ملاقات ہوگی۔
کہتا وہ خباثت سے ہنستا نکل گیا۔
مما۔۔۔۔۔! کنول نے اسے روتے ہوۓ پکارا۔
مریم وہیں نیچے زمین پے بیٹھتی چلی گٸ۔ وہ مر جانا چاہتی تھی۔ لیکن بار بار اپنی بیٹیوں کا خیال آتا تو وہ کچھ نہ کر پاتی۔۔۔ اسی اثنا میں ارباز خان واپس آیا تھا۔اور مریم کی طرف جارحانہ انداز میں بڑھا۔ اور بالوں سے کھینچ کے کچن کے اندر لے گیا ۔
چھوڑو۔۔۔ مجھے۔۔۔! مریم نے خود کو چھڑانا چاہا۔ لیکن وہیں سے مٹی کا تیل اٹھاتا وہ مریم پے چھڑکتا اسے دھکا دیا۔
اسکے سر پے چوٹ لگی۔ وہ نیچے گرتی چلی گٸ۔
تمہیں کیا۔۔۔لگا۔۔۔؟؟ میں تمہیں یوں ہی چھوڑ کے چلا جاٶں گا۔۔۔؟؟ تمہیں اوپر پہنچاٶں گا۔
کہتے باہر نکلا۔ دروازہ لاک کیا۔ او ماچس کی تیلی کھڑکی سے اندر اچھالتا وہ روتی چلاتی مریم کو چھوڑ وہاں سے بھاگا تھا۔ کنول ماں کو مرتا دیکھ بہت روٸ وہ ماں کو روتا سسکتا اور جلتا دکھ سہن نہ کر پاٸ اور بے ہوش ہو کے گر گٸ۔
💘💘💘💘💘💘💘💘💘
جاری ہے۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qissa kahani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share