02/07/2025
**نوحہ: "شاہِ کربلا"**
*(ماتم کی دھوم ہے، علم کا ہے موسم،
اے شاہِ کربلا تیرا ہے یہ مقتل...)*
**بند 1:**
*دیکھو حسینؑ کا علم ہے آج،
ظلم کی اندھیری، حق کی روشنی ہے...
یزید کے لشکر نے جو ظلم کیا،
دریائے فرات بھی پینے کو ترس گیا...*
**بند 2:**
*عباسؑ کا دستِ بازو کٹا گیا،
پر سقائے سکینہ نہ رک سکا...
علم اٹھایا، پیاس بجھانے چلا،
خنجر پہ گیا، لیکن نہ جھک سکا...*
**بند 3:**
*سکینہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ گئے،
جب بابا کا سرِ نیزہ دیکھا گیا...
اور زینبؑ نے سینہ کیا تھام،
جب مہندی سے لہو رنگا گیا...*
゚viralシ ゚viralシ