27/12/2025
*پریس ریلیز برائے فوری اشاعت*
*27 دسمبر 2025*
*حکومتی سرپرستی میں سزا یافتہ گستاخانِ رسول ﷺ کی رہائی کے سلسلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں٫ ترجمان تحریک لبیک پاکستان*
لاہور: ( ) ترجمان تحریکِ لبیک پاکستان نے جاری کردہ بیان میں اعلیٰ عدلیہ میں موجود کالی بھیڑوں کی جانب سے ایک سوچی سمجھی بیرونی حمایت یافتہ سازش کے تحت، تحریکِ لبیک پاکستان کے خلاف غیر انسانی اور غیر آئینی کریک ڈاؤن کے آغاز کے ساتھ ہی، حکومتی سرپرستی میں سزا یافتہ گستاخانِ رسول ﷺ کی رہائی کے سلسلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گستاخوں کی سزا معطلی، بریت اور رہائی کے یہ فیصلے پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کی تاریخ کے سیاہ ترین باب میں لکھے جائیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ 8 اکتوبر، 2025 کو بیرونی قوتوں اور قادیانی لابی کی ایماء پر تحریکِ لبیک پاکستان کے خلاف ناجائز حکومت نے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اور تب سے اب تک متعدد مقدمات میں سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے مخصوص دین بیزار اور آئین شکن ججز کی جانب سے 9 سزا یافتہ گستاخانِ رسول ﷺ کو رہا کردیا گیا۔ ان بوگس فیصلوں کی وجہ سے ملک عزیز پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ترجمان ٹی ایل پی نے بتایا کہ اِس دل دہلا دینے والے سلسلے کا آغاز 8 اکتوبر 2025 کو ہوا، جب سپریم کورٹ کے ججز جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان اور جسٹس ملک سجاد نے سزا یافتہ گستاخ انور کینتھ کو اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور بیرونی NGOs کی واضح ایماء پر، ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے رہا کردیا جبکہ گستاخ کو نہ صرف اس سے قبل سزا سنائی جا چکی تھی بلکہ اس نے خود اپنے گھٹیا عمل پر اعتراف جرم تک کرلیا تھا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح 28 اکتوبر، 2025 کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے اسلام بیزار ججز جسٹس صداقت علی اور جسٹس وحید خان نے رسول اللہ ﷺ اور امہات المؤمنين کی بدترین گستاخی کرنے والی ملعونہ انیقہ عتیق کو مقدمے سے بری کردیا جبکہ ملعونہ اپنے 342 کے بیان میں بدترین حرکت کا اعتراف بذاتِ خود کر چکی تھی۔ ترجمان ٹی ایل پی نے افسوس کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جج جواد حسن اور سلطان محمود نے 20 نومبر کے اپنے فیصلے میں ایک دو نہیں بلکہ ایک ساتھ پانچ گستاخوں کو رہا کیا جن میں سے چار کو سزائے موت سنائی جا چکی تھی۔ کورٹ نے عالمی سطح پر بہترین سمجھے جانے والی ”پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی“ کی فرانزک رپورٹ کو بلکل نظر انداز کرتے ہوئے اسے محض ”سکرین شاٹ تصویریں“ قرار دے دیا حالانکہ یہ رپورٹ ملزمان سے برآمد ہونے والے موبائل فونز کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد مرتب کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ پوزیٹو DNA رپورٹس بھی موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مجرمین نے نعوذ باللہ قرآن مجید کی بدترین توہین کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج طارق محمود جہانگیری جسے 18 دسمبر کو عدلیہ نے خود نااہل قرار دیا، اس نے 25 نومبر کو 3 گستاخان رسول ﷺ کو واضح بدنیتی کے تحت، بیرونی ایماء پر رہا کردیا حالانکہ اُن افراد کے خلاف بھی سرکاری فرانزک لیب کی رپورٹس موجود تھیں۔ ہم سوال کرتے ہیں کیا ایک نا اہل شخص کا اسلام دشمنی پر مبنی فیصلہ قائم رہ سکتا ہے؟ حکومت نے محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر تو اسے نااہل قرار دلوا دیا لیکن جب وہی شخص کھلے عام اسلام دشمنی کا مظاھرہ کر رہا تھا تو حکومت تماشہ دیکھتی رہی؟ یہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتِ وقت اور عدلیہ میں موجود کالی بھیڑوں میں سیاسی اختلافات تو ہو سکتے ہیں لیکن مغربی آقاؤں کے اشاروں پر دونوں گستاخان رسول ﷺ کی سہولت کاری میں ملوث ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پچھلے 2 ماہ میں مخصوص ججز نے جس طرح گستاخوں کی حمایت کرکے شریعتِ اسلامی کا مذاق بنایا اور آئین و قانون کو پیروں تلے روندا، یہ نہ صرف تحریکِ لبیک پاکستان بلکہ پوری پاکستانی قوم اور ملتِ اسلامیہ کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ایک طرف گستاخان کی رہائیاں اور دوسری طرف ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت، تحریکِ لبیک پاکستان کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن، پاکستان کے اسلامی تشخص کو مٹانے کی ناپاک سازش کا حصہ ہے۔ وزیر خارجہ اور وزیر قانون کی GSP+ سکیم کے حوالے سے یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقاتیں اسی سازش کا حصہ ہیں۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر ترجمان تحریکِ لبیک پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ اور ختم نبوت ﷺ کے دفاع کے لیے پاکستان کا ہر مومن مسلمان تیار ہے اور تحریکِ لبیک پاکستان اس سلسلے میں ہمیشہ میدان عمل میں رہے گی۔ تحریکِ لبیک پاکستان علماء کرام اور دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے درخواست کرتی ہے کہ گستاخوں کی بڑھتی ہوئی سہولت کاری کے خلاف موثر آواز بلند کرنے میں ہمارا ساتھ دیں اور عوام کو اس مکروہ سازش کے بارے میں آگاہ کریں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب بیرونی استعماری قوتوں کے ایماء پر پاکستان کی اسلامی شناخت کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا۔
*جاری کردہ:*
*شعبہ نشر و اشاعت*
*تحریک لبیک پاکستان*