Syra Alee Meer

Syra Alee Meer Hello !! Welcome to my page , I create travel based videos and love to explore the world!! Follow my journey on Facebook & YouTube

یہ جگہ تقریباً 75 سال تک سیاحوں کے لیے قابلِ رسائی نہیں تھی، جس کی ایک بڑی وجہ اس کا پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب و...
12/06/2026

یہ جگہ تقریباً 75 سال تک سیاحوں کے لیے قابلِ رسائی نہیں تھی، جس کی ایک بڑی وجہ اس کا پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب واقع ہونا معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال، 2022 میں اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے کچھ قواعد و ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے، جیسے کہ یہاں صرف جیپ کے ذریعے جانے کی اجازت ہے کیونکہ بروزِل ٹاپ سے آگے منی مرگ تک کا راستہ آف روڈ ہے۔ اسی طرح اگر وہاں قیام کرنا ہو تو پہلے سے بکنگ کروانا ضروری ہے، جبکہ چِلم چَوکی کراس کرنے کے لیے بھی مخصوص اوقات مقرر ہیں وغیرہ۔

جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، میں نے کبھی چیزوں کو سستا ہوتے نہیں دیکھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے کچھ نہ کچھ یقین اور استحکام موجود ہوتا تھا، اور قیمتیں روز روز نہیں بڑھتی تھیں بلکہ برسوں بعد فرق محسوس ہوتا تھا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ زندگی، سوچ، حالات، ماحول، محبت، رشتے، اپنے اور پرائے، سب ہی بے یقینی کا احساس دلاتے ہیں۔ مادی چیزوں کا تو ویسے بھی اللہ ہی حافظ ہے، کیونکہ ان کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہونا ہمارے اختیار سے باہر ہے۔

تو دوستو! جب ہم اس عارضی دنیا میں آ ہی گئے ہیں تو کیوں نہ جو کچھ دیکھنا ممکن ہے، وہ دیکھ ہی لیا جائے۔ کون جانتا ہے کہ اگلے سال کیا ہوگا؟ اس لیے جو وقت ابھی ہمارے پاس ہے، اسی میں جینا سیکھیں، خود کو غیر ضروری پریشانیوں سے دور رکھیں۔ آگے بھی اچھا ہوگا، پہلے بھی جو ہوا وہ بہتر ہی ہوا۔ ہمیشہ مثبت رہیں اور اپنے دل کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔

رہی میری بات، تو میں پچھلے سات سال سے یہی کر رہی ہوں۔ کام کیا، پیسے جمع کیے، اور پھر نکل گئی پہاڑوں کی طرف۔

بائے بائے! 😊🏔️✨
[ syraaleemeer, minimarg , domail, Gilgit baltistan, astore ]

ہوپر ٹورسٹ گارڈن پر فرحت بھائی کو الوداع کہنے کے بعد ہم نے پھندر کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔ جب ہم گاہکوچ سے نکلے تھے تو ...
11/06/2026

ہوپر ٹورسٹ گارڈن پر فرحت بھائی کو الوداع کہنے کے بعد ہم نے پھندر کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔ جب ہم گاہکوچ سے نکلے تھے تو سوچا تھا کہ شاید آج گپس میں رکنا پڑ جائے اگر راستے میں زیادہ دیر ہو گئی، کیونکہ ہوپر ٹورسٹ گارڈن جیسی جگہ کا میرے لیے ایک سرپرائز ہونا بھی غیر متوقع تھا۔ میں اس جگہ کے بارے میں پہلے کچھ نہیں جانتی تھی، اور وہاں ہم تقریباً ڈھائی گھنٹے رکے رہے۔ اسی وجہ سے آگے کا سفر کتنی دیر میں طے ہوگا اور رات گپس میں گزارنی پڑے گی یا پھندر پہنچ جائیں گے، یہ سب راستے کی صورتحال پر منحصر تھا۔ یہی تو خود سفر کرنے کی خوبصورتی ہے، اور مجھے ایڈونچر بے حد پسند ہے۔

خیر، لاہور میں بیٹھ کر جب میں گوگل میپ کھول کر راستوں کی سمت اور روٹ پلاننگ کر رہی تھی تو دل میں یہی سوال تھا کہ ان نئی جگہوں کے نظارے کیسے ہوں گے۔ چونکہ سڑک ابھی تعمیر کے مراحل میں تھی، اس لیے منزل تک صحیح وقت پر پہنچنے کے حوالے سے کافی غیر یقینی صورتحال بھی موجود تھی۔ ویسے بھی یہ بائیک کا سفر میرے لیے بہت منفرد تھا، کیونکہ میں نے اس سے پہلے کبھی پہاڑی علاقوں میں بائیک پر سفر نہیں کیا تھا۔ یہ میری ایک بہت پرانی خواہش تھی، اسی لیے میرے دل میں خوف بالکل نہیں تھا، صرف تجسس اور جوش تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

گاہکوچ سے روانگی سے پہلے بائیک پر کچھ کام کروایا گیا تھا، لیکن اس کی چین کچھ ڈھیلی ہو گئی تھی۔ راستے میں ایک دکان نظر آئی تو وہاں رک کر اسے ٹھیک کروایا۔ پھر اصل ایڈونچر اس وقت شروع ہوا جب ہم روشن نامی گاؤں سے گزرے۔ یہ گاؤں گپس سے پہلے آتا ہے، جہاں گزشتہ سال کلاؤڈ برسٹ ہوا تھا۔ پانی میں ڈوبے ہوئے مکانات دیکھ کر چند لمحوں کے لیے میری ساری خوشی اداسی میں بدل گئی۔ میں سوچنے لگی کہ یہاں کے لوگوں پر کیسی قیامت ٹوٹی ہوگی۔ حالانکہ اس حادثے کو کئی ماہ گزر چکے تھے، لیکن بحالی کا کام ابھی تک اس رفتار سے نہیں ہوا تھا جیسا ہونا چاہیے تھا۔ دائن میں میری ایک ایسی فیملی سے بھی ملاقات ہوئی تھی جو اس آفت کا شکار ہوئی تھی۔

وہاں سے آگے بڑھے تو دریا کے خوبصورت رنگ نے میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی اور میں ایک بار پھر قدرت کے نظاروں میں کھو گئی۔ سبحان اللہ! میرے رب نے کیا حسین دنیا بنائی ہے۔ اب ہم دہیمل کے قریب پہنچ چکے تھے، جہاں سڑک کو سڑک کہنا بھی مشکل تھا۔ جہاں سڑک ختم ہوتی تھی، وہاں سے نیچے اترائی شروع ہو جاتی تھی اور بڑے بڑے پتھروں کے اوپر سے گزر کر دوسری جانب جانا پڑتا تھا، کیونکہ وہاں ابھی تعمیراتی کام جاری تھا۔ اس مقام پر میں بائیک سے اتر گئی، کیونکہ ویسے بھی مسلسل بیٹھے بیٹھے تھک جاتی تھی۔ ظاہر ہے مجھے بائیک پر طویل سفر کی بالکل عادت نہیں تھی۔ پھر دانش بائیک کو مشکل راستے سے گزار کر میرے پاس لے آتا تھا۔

سورج ڈھلنے لگا تھا مگر پھندر تھا کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ راستے میں مقامی علاقوں کے نام اور ان کی بلندی ظاہر کرنے والے سائن بورڈز مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ ان بورڈز کو پڑھ کر احساس ہوتا تھا کہ میں اپنے گھر سے کتنی دور ان جگہوں پر آ گئی ہوں جہاں کوئی مجھے جانتا تک نہیں، لیکن پھر بھی لوگ مجھے اپنے گھر میں چائے پر بلاتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ ایک بہادر خاتون اکیلی ان کے گاؤں کی سیر اور دریافت کے لیے آئی ہے۔ یہ احساس دل میں اس خوف کو دبا دیتا ہے جو کسی بھی نئی مہم پر نکلنے سے پہلے انسان کے اندر موجود ہوتا ہے۔

میں مسلسل یہی کہہ رہی تھی کہ پھندر آخر کب آئے گا، میں بیٹھ بیٹھ کر تھک گئی ہوں۔ میں نے دانش سے کہا، “ایسا کرتے ہیں، تم بائیک لے کر جاؤ، میں کچھ دیر پیدل چلتی ہوں۔” لیکن دانش فوراً بولا، “پاگل لڑکی! آپ پیدل نہیں جا سکتیں، بائیک پر ہی بیٹھیں، اسی طرح وقت پر پہنچ سکیں گی۔” ویسے اندر سے تو دانش میری ہمت اور بہادری سے کافی متاثر تھا، ہاہاہا!

خیر، جس شخص کے ساتھ آپ سفر پر نکلیں، اس کے ساتھ مزاج کا ملنا بہت ضروری ہوتا ہے، خاص طور پر ایسا سفر جو خود ہی کافی مشکل اور ذہنی طور پر تھکا دینے والا ہو۔ سڑک کسی بھی وقت خراب ہو جاتی تھی اور پھر کئی کئی دیر تک خراب ہی رہتی تھی۔ شکر ہے کہ مجھے ایک اچھا انسان ملا جس نے مجھے یہ پورا ایڈونچر محفوظ انداز میں کروایا۔ الحمدللہ، اس سفرنامے کی کامیابی کا کریڈٹ دانش کو جاتا ہے، کیونکہ خیال تو میرا اپنا تھا، مگر اسے عملی شکل اسی کے ساتھ ممکن ہوئی۔

خیر، سائن بورڈز پڑھتے پڑھتے جب “چاشی” کا بورڈ نظر آیا تو یاد آیا کہ اس سے تھوڑا ہی آگے پھندر ہے، کیونکہ میں نے گوگل میپ پر پورا راستہ پہلے ہی دیکھ رکھا تھا۔ یہ سوچ کر کچھ حوصلہ ہوا، اور بالآخر رات آٹھ بجے ہم پھندر پہنچ گئے۔ اندھیرا ہو چکا تھا، اس لیے کچھ واضح نظر نہیں آ رہا تھا، مگر آسمان پر ستارے بے حد خوبصورت لگ رہے تھے۔ اب بھوک سے برا حال تھا، کیونکہ دوپہر میں صرف فرائز اور چائے پی کر ہم پھندر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ اس وقت کھانے کی بھوک محسوس نہیں ہوئی تھی، لیکن اب شدت سے بھوک لگ رہی تھی۔ جلدی سے ہوٹل پہنچ کر کھانا کھایا، اور پھر مجھے صبح کا بے صبری سے انتظار ہونے لگا تاکہ پھندر کی اس حسین وادی کو دیکھ سکوں جس کے لیے اتنا طویل اور کٹھن سفر طے کر کے یہاں تک پہنچی تھی۔

08/06/2026

[ syraaleemeer, ghizer , phander , hoper tourist garden , waterfalls ]

07/06/2026

[ syraaleemeer, solo female traveler, hoper tourist garden , ghizer , waterfalls ]

شندور چترال روڈ پر سفر کرنا کوئی آسان کام نہیں، کیونکہ یہ سفر ایڈونچر اور غیر یقینی صورتحال سے بھرپور ہے۔ اس سفر کے دورا...
07/06/2026

شندور چترال روڈ پر سفر کرنا کوئی آسان کام نہیں، کیونکہ یہ سفر ایڈونچر اور غیر یقینی صورتحال سے بھرپور ہے۔ اس سفر کے دوران سڑک کے دائیں بائیں قدرت کے جو دلکش نظارے دکھائی دیتے ہیں، وہ بار بار آپ کی توجہ سڑک سے ہٹا کر اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔

ہم جب گاہکوچ سے بائیک کے سفر پر نکلے تو ہمارا پہلا پڑاؤ ہوپر ٹورسٹ گارڈن تھا۔ میں اس جگہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ میرا سارا دھیان پھندر ویلی پہنچنے پر تھا، لیکن دانش کو اس مقام کے بارے میں معلوم تھا، اور میرے لیے یہ جگہ ایک خوشگوار سرپرائز ثابت ہوئی۔ اُس دن دھوپ کافی تیز تھی، لیکن جب ہم یہاں رکے تو سرسبز و شاداب مناظر، ٹھنڈا بہتا پانی اور خوبصورت آبشاریں دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ سبحان اللہ! اتنی تازگی اور سکون کا احساس تھا کہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اب کئی دن گزر چکے ہیں اور میں واپس لاہور آ چکی ہوں، مگر دل آج بھی اسی تازگی اور راحت کے احساس کو یاد کرتا ہے۔

ہم بائیک پارک کرکے اوپر گئے۔ یہاں کے مالک فرحت بھائی نہایت تخلیقی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کے خیالات اور منصوبے بہت متاثر کن تھے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر اس جگہ کی خوبصورتی میں بے حد اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر پتھروں سے تیار کیا گیا جمالیاتی انداز کا فرنیچر مجھے بہت منفرد لگا۔ ان کے مستقبل کے منصوبے سن کر بھی میں بہت متاثر ہوئی۔ وہ یہاں زیادہ تر اکیلے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں سوچنے اور نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے کافی وقت ملتا ہے، اور پھر یہی تخلیقی سوچ اس جگہ کے ہر کونے میں نظر آتی ہے۔

“ہوپر ٹورسٹ گارڈن” کا نام ہی سیاحوں کو خوش آمدید اور اپنائیت کا احساس دلاتا ہے، کیونکہ اس مقام کو خود سے زیادہ سیاحوں کے نام کیا گیا ہے۔ یہاں تین آبشاریں مختلف بلندیوں پر موجود ہیں۔ وقت کی مناسبت سے ہم دوسری آبشار کی ہائیکنگ کے لیے فرحت بھائی کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ہائیکنگ کا راستہ کافی تنگ ہے اور بعض مقامات پر احتیاط سے چلنا ضروری ہے کیونکہ نیچے گہری کھائی موجود ہے۔ فرحت بھائی نے بتایا کہ وقت کے ساتھ یہاں پل بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ آبشار تک پہنچنا آسان ہو جائے۔

اس آبشار کے قریب قدرتی غاریں بھی موجود ہیں۔ جب ہم ان کے اندر گئے تو ایک خوشگوار ٹھنڈک نے ہمارا استقبال کیا۔ یہ مقام کیمپنگ کے لیے نہایت پُرسکون ہے، کیونکہ ساتھ ہی آبشار کے بہتے پانی کی آواز روح کو تازگی اور سکون عطا کرتی ہے۔

ہم کافی دیر یہاں رکے، فرحت بھائی کے ساتھ سیاحت کے حوالے سے گفتگو کرتے رہے، اور پھر انہی کے پتھروں سے بنے خوبصورت ٹیبل اور کرسیوں پر بیٹھ کر چائے اور فرائز کا لطف اٹھایا۔ ان کے خیالات اتنے متاثر کن تھے کہ میں حیران تھی کہ ہیرے جیسی یہ خوبصورت جگہ گوگل میپس پر نمایاں کیوں نہیں دکھائی دی۔

خیر، تیسری آبشار تک جانے والا ہائیکنگ ٹریک کافی طویل تھا اور اس کی بلندی تقریباً پچاس فٹ تھی، مگر وقت کی کمی کی وجہ سے ہم وہاں نہیں جا سکتے تھے۔ کیونکہ اسی دن کے صرف دو دن بعد بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا اور ہمیں اس سے پہلے گاہکوچ واپس پہنچنا تھا۔ شندور چترال روڈ ابھی زیرِ تعمیر ہے، اور بارش اس سفر کو مزید خطرناک بنا سکتی تھی، خصوصاً اس لیے کہ ہم بائیک پر سفر کر رہے تھے۔

آخرکار ہم نے فرحت بھائی سے اجازت لی اور گپس و پھندر کی جانب روانہ ہو گئے۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syra Alee Meer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category