12/06/2026
یہ جگہ تقریباً 75 سال تک سیاحوں کے لیے قابلِ رسائی نہیں تھی، جس کی ایک بڑی وجہ اس کا پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب واقع ہونا معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال، 2022 میں اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے کچھ قواعد و ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے، جیسے کہ یہاں صرف جیپ کے ذریعے جانے کی اجازت ہے کیونکہ بروزِل ٹاپ سے آگے منی مرگ تک کا راستہ آف روڈ ہے۔ اسی طرح اگر وہاں قیام کرنا ہو تو پہلے سے بکنگ کروانا ضروری ہے، جبکہ چِلم چَوکی کراس کرنے کے لیے بھی مخصوص اوقات مقرر ہیں وغیرہ۔
جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، میں نے کبھی چیزوں کو سستا ہوتے نہیں دیکھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے کچھ نہ کچھ یقین اور استحکام موجود ہوتا تھا، اور قیمتیں روز روز نہیں بڑھتی تھیں بلکہ برسوں بعد فرق محسوس ہوتا تھا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ زندگی، سوچ، حالات، ماحول، محبت، رشتے، اپنے اور پرائے، سب ہی بے یقینی کا احساس دلاتے ہیں۔ مادی چیزوں کا تو ویسے بھی اللہ ہی حافظ ہے، کیونکہ ان کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہونا ہمارے اختیار سے باہر ہے۔
تو دوستو! جب ہم اس عارضی دنیا میں آ ہی گئے ہیں تو کیوں نہ جو کچھ دیکھنا ممکن ہے، وہ دیکھ ہی لیا جائے۔ کون جانتا ہے کہ اگلے سال کیا ہوگا؟ اس لیے جو وقت ابھی ہمارے پاس ہے، اسی میں جینا سیکھیں، خود کو غیر ضروری پریشانیوں سے دور رکھیں۔ آگے بھی اچھا ہوگا، پہلے بھی جو ہوا وہ بہتر ہی ہوا۔ ہمیشہ مثبت رہیں اور اپنے دل کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔
رہی میری بات، تو میں پچھلے سات سال سے یہی کر رہی ہوں۔ کام کیا، پیسے جمع کیے، اور پھر نکل گئی پہاڑوں کی طرف۔
بائے بائے! 😊🏔️✨
[ syraaleemeer, minimarg , domail, Gilgit baltistan, astore ]