کل آجNews

کل آجNews کل آج News ایک معلوماتی شئیر نگ پیج ھے جہاں آپ کو گزشتہ سالوں اور موجودہ سال کی خبروں اور تبصرے

25/08/2026
13/08/2026

🇵🇰 آج اور کل

13 اگست 2026 🆚 13 اگست 2009

17 سال بعد بھی پاکستان کے سامنے وہی سوال؟

آج پاکستان کی خبروں کو اگر ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک اہم موضوع نمایاں ہوتا ہے:

دہشت گردی، داخلی سلامتی اور افغانستان سے جڑے سکیورٹی چیلنجز

آج اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے خبر سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافے کے پس منظر میں افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں کے روابط اور تربیتی تعلقات کا معاملہ اہم ہے۔ رپورٹ میں TTP، BLA اور القاعدہ کے درمیان تربیتی روابط کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اسی دوران بلوچستان میں ایک اہم گیس پائپ لائن کو دھماکے سے نقصان پہنچنے کی خبر بھی سامنے آئی ہے، جس سے ملک کے داخلی سکیورٹی چیلنج کی سنگینی ایک بار پھر سامنے آتی ہے۔

اب ذرا 17 سال پیچھے چلتے ہیں۔

---

📅 13 اگست 2009

2009 میں پاکستان خود دہشت گردی اور شدت پسندی کے شدید بحران سے گزر رہا تھا۔

13 اگست 2009 کو جنوبی وزیرستان میں ایک قبائلی رہنما، جو طالبان مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے معروف تھے، خودکش حملے میں مارے گئے۔ اسی دور میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسند حملے ایک مسلسل سکیورٹی چیلنج بنے ہوئے تھے۔

اسی دن جاری ہونے والے Pew Research Center کے سروے میں بتایا گیا کہ پاکستانی عوام میں القاعدہ اور طالبان کے بارے میں منفی رائے میں نمایاں اضافہ ہوا تھا؛ تقریباً دو تہائی پاکستانیوں نے ان گروہوں کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔

یعنی 2009 کا پاکستان ایک ایسے سوال سے دوچار تھا:

"دہشت گردی سے ملک کو کیسے محفوظ بنایا جائے؟"

---

📅 13 اگست 2026 — آج

17 سال بعد صورتحال مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، لیکن اس کی نوعیت ضرور تبدیل ہوئی ہے۔

آج بھی پاکستان کو TTP، BLA اور سرحد پار شدت پسند نیٹ ورکس سے متعلق سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ نے بھی اس مسئلے کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔

لیکن آج پاکستان صرف ایک داخلی سکیورٹی بحران سے نمٹنے والا ملک نہیں۔

پاکستان خطے میں سفارتی کردار بھی ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے رابطے بڑھائے ہیں، اور ناروے نے بھی پاکستان کے "اہم اور تعمیری کردار" کو سراہا ہے۔

---

⚖️ 2009 بمقابلہ 2026

2009

پاکستان خود دہشت گردی کے شدید دباؤ میں تھا۔

2026

پاکستان کو اب بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ علاقائی تنازعات میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

تو کیا پاکستان بدل گیا؟

ہاں بھی — اور نہیں بھی۔

2009 کے مقابلے میں پاکستان کی سکیورٹی صورتحال، ریاستی صلاحیت، سیاسی ماحول اور خطے میں کردار میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔

لیکن ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ:

17 سال بعد بھی دہشت گردی اور داخلی سلامتی پاکستان کی قومی بحث کا حصہ ہیں۔

---

🧠 اصل سیاسی سوال

یہاں "آج اور کل" کا اصل سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر 2009 میں پاکستان کا سب سے بڑا سوال دہشت گردی کو روکنا تھا، تو 2026 میں بھی ہم اسی مسئلے کے مختلف روپ کیوں دیکھ رہے ہیں؟

کیا مسئلہ صرف دہشت گرد گروہ ہیں؟

یا پھر اس کے پیچھے:

افغانستان کی صورتحال؟
سرحدی انتظام؟
صوبائی محرومیاں؟
کمزور سیاسی اتفاقِ رائے؟
معاشی مسائل؟
یا علاقائی طاقتوں کی کشمکش؟

شاید پاکستان کے لیے اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ وہ ایک حملہ روک دے۔

اصل کامیابی یہ ہوگی کہ دہشت گردی کی وہ وجوہات بھی کم ہوں جو نئی نسل کو مسلسل عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہیں۔

---

🇵🇰 17 سال کا سبق

2009:
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شدید دباؤ میں تھا۔

⬇️

2014:
آپریشن ضربِ عضب اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائیوں کا بڑا مرحلہ۔

⬇️

2021:
افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال دوبارہ تبدیل ہوئی۔

⬇️

2026:
TTP اور دیگر مسلح گروہوں سے متعلق خدشات اب بھی موجود ہیں، جبکہ پاکستان ساتھ ہی علاقائی سفارت کاری میں اپنا کردار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

---

🎯 آج کا سوال

17 سال بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کیا حاصل کیا، اور ابھی سب سے بڑا خلا کہاں موجود ہے؟

آپ کی رائے کیا ہے؟

👇 کمنٹ میں صرف ایک لفظ لکھیں:

"کامیابی"
یا
"اب بھی چیلنج"

اور اگر آپ تفصیلی رائے دینا چاہیں تو ضرور بتائیں کہ پاکستان کو اگلے 10 سال میں سکیورٹی کے مسئلے سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟

---

🇵🇰 آج اور کل

"آج کی خبر، کل کا حوالہ، اور مستقبل کا سوال۔"

— آج اور کل

12/08/2026

آج اور کل 🇵🇰

12 اگست 2026 بمقابلہ 12 اگست 2009

17 سال میں پاکستان کی سیاست میں کیا بدلا؟

آج 12 اگست 2026 کو آزاد کشمیر کے انتخابی عمل سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے باغ کے دو حلقوں کے 23 پولنگ اسٹیشنز پر 15 اگست کو دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ متعلقہ ریٹرننگ افسران کی رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا۔

دوسری طرف، ٹھیک 17 سال پہلے، 12 اگست 2009 کو پاکستان کی سیاست میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایک اہم قانونی پیش رفت ہوئی تھی۔

12 اگست 2009 — کیا ہوا تھا؟

اس دن پرویز مشرف کے خلاف 2007 میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حراست میں رکھنے کے معاملے پر مقدمہ درج کیا گیا۔

اس سے پہلے جولائی 2009 میں سپریم کورٹ 2007 کی ایمرجنسی اور اس سے متعلق مشرف کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی تھی۔

یعنی اس دور کا ایک بنیادی سیاسی اور آئینی سوال یہ تھا:

کیا ماضی میں طاقتور عہدے پر رہنے والے شخص کو بھی قانون کے سامنے جواب دہ بنایا جا سکتا ہے؟

12 اگست 2026 — آج

17 سال بعد آج کا منظر مختلف ہے۔

آزاد کشمیر کے انتخابی عمل میں بعض پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔

یہ معاملہ ہمیں ایک دوسرے بنیادی سوال کی طرف لے جاتا ہے:

کیا عوام اور سیاسی جماعتوں کا انتخابی نظام پر اعتماد برقرار ہے؟

⚖️ دونوں خبروں کا موازنہ

12 اگست 2009| 12 اگست 2026
مشرف کے خلاف قانونی کارروائی| آزاد کشمیر میں دوبارہ پولنگ
آئینی و قانونی احتساب کا سوال| انتخابی عمل اور اعتماد کا سوال
سابق حکمران کا معاملہ| موجودہ انتخابی نظام کا معاملہ
قانون کی بالادستی زیرِ بحث| انتخابی شفافیت زیرِ بحث

🧠 17 سال کا سیاسی سبق

دونوں واقعات کو ایک جیسا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ 2009 کا معاملہ بنیادی طور پر آئینی و قانونی احتساب سے متعلق تھا، جبکہ 2026 کا معاملہ انتخابی عمل اور دوبارہ پولنگ سے متعلق ہے۔

لیکن دونوں واقعات کو ایک وسیع سیاسی تناظر میں دیکھیں تو ایک سوال ضرور سامنے آتا ہے:

پاکستان کے سیاسی اور ریاستی ادارے عوام کا اعتماد کیسے حاصل اور برقرار رکھیں؟

17 سال میں پاکستان نے کئی حکومتیں، سیاسی اتحاد اور بڑے سیاسی بحران دیکھے۔

لیکن آئین، احتساب، انتخابات اور اداروں پر اعتماد کے سوال بار بار ہماری سیاست میں واپس آتے رہے ہیں۔

"آج اور کل" کا سوال

کیا گزشتہ 17 سال میں پاکستان کا سیاسی نظام بنیادی طور پر تبدیل ہوا ہے، یا صرف سیاسی کردار اور حالات تبدیل ہوئے ہیں؟

آپ کی رائے کیا ہے؟

👇 کمنٹ میں ضرور بتائیں:

1 — پاکستان کی سیاست میں حقیقی تبدیلی آئی ہے

یا

2 — مسائل کی شکل بدلی ہے، بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں

---

حوالہ جات

12 اگست 2026: آزاد کشمیر میں 23 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا فیصلہ — The Express Tribune / Pakistan Today۔

12 اگست 2009: پرویز مشرف کے خلاف ججوں کی غیرقانونی حراست سے متعلق مقدمے کے اندراج کی خبر — Times of India کی اسی دن کی رپورٹ اور Los Angeles Times کی 12 اگست 2009 کی رپورٹ۔

جولائی/اگست 2009 کا پس منظر: سپریم کورٹ نے 2007 کی ایمرجنسی اور متعلقہ اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

19/06/2026

یہ واقعہ واقعی بہت دلچسپ اور جذباتی ہے!
🇸🇴 ایک ریفری کا ٹوٹا ہوا خواب — FIFA World Cup 2026
اردو میں 🌙
ایک نوجوان کا خواب تھا — فیفا ورلڈ کپ میں ریفری بننا۔ اس کا نام تھا عمر عبدالقادر ارتان، صومالیہ کا سب سے بڑا اور افریقہ کا بہترین ریفری۔
2025 میں انہیں افریقہ کا بہترین مرد ریفری قرار دیا گیا تھا۔
فیفا نے انہیں ورلڈ کپ 2026 کے لیے منتخب کیا — اور وہ صومالیہ کے پہلے ریفری بننے والے تھے جو کبھی ورلڈ کپ میں سیٹی بجاتے۔
لیکن پھر قسمت نے ایک عجیب موڑ لیا۔
عمر ارتان استنبول سے میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے — اور امریکی کسٹمز نے انہیں روک لیا۔ " سکیورٹی کنسرنز" کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں امریکہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا گیا۔

ایک امریکی افسر نے کہا کہ ان کا تعلق "دہشتگرد تنظیموں کے مشتبہ ارکان" سے ہے — حالانکہ صومالیہ پہلے سے ٹرمپ انتظامیہ کے ٹریول بین میں شامل تھا۔
عمر ارتان کو واپس صومالیہ بھیج دیا گیا۔ ان کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ لیکن جب وہ مایوس ہو کر موگادیشو پہنچے تو...
ہزاروں لوگ اسٹیڈیم میں جمع تھے — نہ کسی میچ کے لیے، بلکہ صرف عمر ارتان کے استقبال کے لیے۔ حکومتی عہدیداروں نے پھولوں سے ان کا استقبال کیا، لوگوں نے انہیں صومالیہ کے آسمانی نیلے جھنڈے میں لپیٹا، اور انہیں کندھوں پر اٹھا کر قومی ہیرو کا درجہ دیا۔
عمر نے دل کی گہرائیوں سے کہا: "میں بہت مایوس ہوں۔ میں صرف ایک ریفری ہوں جو اپنی زندگی کا سب سے بڑا خواب پورا کرنا چاہتا تھا — ورلڈ کپ میں آنا۔"
اور فیفا نے فیصلہ کیا: عمر ارتان کو پوری تنخواہ دی جائے گی — اور انہیں UEFA سپر کپ فائنل میں PSG اور اسٹن ویلا کے میچ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
In English 🏆
The Dream That Was Stopped at the Door
Omar Abdulkadir Artan was Somalia's only referee selected among FIFA's 52 handpicked officials for the 2026 World Cup
and he was on the verge of making history as the first-ever Somali referee at a FIFA World Cup.
He flew from Istanbul to Miami International Airport, full of hope and excitement. But U.S. Customs and Border Protection stopped him cold. After additional inspection, he was declared "inadmissible due to vetting concerns" and denied entry into the country.
A U.S. official cited his alleged "association with suspected members of terror organizations." Somalia is among nearly 40 countries under the Trump administration's travel ban.
FIFA confirmed Artan "will be unable to train and officiate at the FIFA World Cup 2026" and noted it has no role in host country immigration decisions.
Heartbroken, Artan boarded a flight back to Mogadishu. But what awaited him there was extraordinary:
Thousands of people packed into a stadium — not for a football match, but to celebrate the referee. Government officials welcomed him with flowers, fans wrapped him in Somalia's sky-blue flag, and he was hoisted onto shoulders as a symbol of national pride in a country often disparaged on the world stage.
FIFA announced he will be paid in full, and he has since been appointed to officiate the UEFA Super Cup Final between PSG and Aston Villa in Austria in August.
💬 A story of politics, football, and the unbreakable human spirit — Omar Artan didn't get to blow his whistle at the World Cup, but he became a hero to an entire nation.

25/05/2026

ایک سو چ
چار دوست بیٹھے روز مرہ کے معمولات پر اپنے خیالات کا اظہار کررھے تھے،اچانک ایک بات میرے ذہن میں آئی ھے کہ اگر ھمیں موقع ملے کہ ھم اپنی مرضی کے جانور بن سکیں تو پھر آپ لوگ کونسا جانور بننا پسند کریں گے،پہلا نے کہا کہ یہ آئیڈیا آپ کو ھی سوجا ھے تو آپ کو ھی پہلا موقع دیا جاتا ھے،پہلا والا دوست کہنے لگا کہ میں نے تو پہلے ھی سوچ لیا ھے کہ میں شیر بنوں گا ،جو کہ بہادری ،غیرت،حوصلہ،جوانمردی کی علامت ھے،دوسرے صاحب فرمانے لگے میں تو لومڑی بننا چاہوں گا کیوں کہ یہ عقل مندی،ہوش مندی کی علامت ھے۔تیسرادوست کہنے لگا کہ وہ ھاتھی بننا چاہے گا کیوں کہ وہ شان و شوکت اور عظمت کی نشانی ھے،چو تھا دوست خاموشی سے سب کی خواہشات سن رھا تھا، کچھ دیر تک کچھ نہ بولا ،دوستوں کے اصرار پر وہ کہنے لگا کہ وہ چڑیا بننا پسند کرے گا،سارے دوست ہنسنے لگے اس نے کہا پوری بات سن لیجئے پھر ہنسیے گا،چڑیا بننا مجھے اس لیے اچھا لگتا ھے کہ
حدیث شریف کے مطابق
"جنت میں وہ لوگ داخل ہوں گے جن کا دل چڑیا کے دل جیسا ہو۔"
(صحیح مسلم)

علماء نے اس کی دو تفسیریں بیان کی ہیں:
① توکل (بھروسہ)
چڑیا صبح کو خالی پیٹ اڑتی ہے اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتی ہے — اللہ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے، ذخیرہ اندوزی کے بغیر۔
② کینہ و بغض سے پاکی
چڑیا کا دل چھوٹا اور صاف ہوتا ہے — کوئی کینہ، حسد، یا نفرت نہیں۔ جو مومن ہر رات دل کو صاف کر کے سوئے۔
تمام دوست اسکی بات سن کر حیرانی میں مبتلا ھو گئے کہ یہ پہلو تو ھمارے ذہن میں آیا ھی نہیں ،کہ سب کمزور،سب کم چالاک،سب سے کم طاقت، سب کم حجم رکھنے والی مخلوق کی خصوصیات رکھنے والا ھی اللّہ پاک کے نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم کا منظور نظر ھوگا۔دوستو کبھی کبھی کمزور بھی بن جاؤ کرو۔

Address

Ferozepur Road Gujjumata Lahore
Lahore
54100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when کل آجNews posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share