21/09/2026
پہلے زمانے میں لوگ چوری کرنے کے لیے رات کی تاریکی کا انتظار کرتے تھے مگر اب زمانہ ایسا آ گیا ہے کہ کچھ لوگ دن کی روشنی میں بھی انسان کی پسندیدہ چیزوں پر ہاتھ صاف کر جاتے ہیں میرے لیے میرا iPhone XS Max بھی کبھی اسی طرح گم ہو گیا تھا اور تب احساس ہوا کہ چیزیں چوری ہونا کوئی نئی بات نہیں مگر اصل چوری ہمیشہ چیز کی نہیں ہوتی بعض لوگ آپ کی پسندیدہ چیزیں چرا لیتے ہیں اور بعض آپ کے پسندیدہ انسانوں کو آپ سے چھین لیتے ہیں موبائل فون چوری ہو جائے تو کچھ عرصے بعد نیا موبائل آ جاتا ہے پرانا ڈیٹا بھی کسی دوسرے فون میں منتقل ہو جاتا ہے تصویریں بھی واپس مل جاتی ہیں رابطے بھی دوبارہ محفوظ ہو جاتے ہیں لیکن جو انسان آپ کی زندگی سے چوری کر لیا جائے اس کا کوئی بیک اپ نہیں بنتا اس کی آواز کسی نئے انسان میں منتقل نہیں ہوتی اس کی عادت کسی دوسرے شخص سے پوری نہیں ہوتی اور اس کے ساتھ گزرے ہوئے لمحے کسی فولڈر میں محفوظ ہو کر واپس نہیں آتے شاید اسی لیے انسان کو سب سے زیادہ تکلیف چیز کے چھن جانے سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ جس شخص کو وہ اپنا سمجھتا تھا وہ کسی اور کا ہو گیا کچھ مرد کہیں گے کہ انسان کسی کا مالک نہیں ہوتا اور یہ بات درست بھی ہے کیونکہ محبت میں اختیار نہیں ہونا چاہیے مگر کچھ مرد یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی عورت کو اپنی توجہ اپنی قربت اور اپنے جھوٹے وعدوں سے اس حد تک اپنے ساتھ باندھ دینا کہ وہ تمہیں اپنی زندگی کا حصہ سمجھنے لگے پھر اچانک اسے چھوڑ دینا صرف آزادی نہیں بلکہ کسی کے اعتماد کی قیمت بھی ہے اور کچھ عورتیں شاید کہیں گی کہ ہم نے خود کسی انسان کو اپنی دنیا کا مرکز بنا دیا تھا ہمیں یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ انسان بدل جاتے ہیں مگر کچھ دوسری عورتیں یہ کہیں گی کہ اگر نیت صاف ہو تو کسی کے دل میں امید پیدا ہی کیوں کی جائے اور شاید دونوں طرف اپنی اپنی سچائی ہے کیونکہ ہر کہانی میں ایک شخص صرف ظالم اور دوسرا صرف معصوم نہیں ہوتا کبھی کبھی دونوں انسان ہوتے ہیں جو اپنی اپنی کمزوریوں کے ساتھ ایک دوسرے کو کھو دیتے ہیں لیکن سب سے عجیب چوری وہ ہوتی ہے جس میں چور چیز لے کر نہیں جاتا بلکہ آپ کے اندر سے سکون لے جاتا ہے آپ کسی شخص کو کھو کر بھی زندہ رہتے ہیں اس سے دوبارہ بات بھی ہو سکتی ہے وہ واپس بھی آ سکتا ہے مگر دل پھر وہی دروازہ نہیں کھولتا کیونکہ کچھ چیزیں واپس آنے کے باوجود واپس نہیں آتیں تعلق واپس آ سکتا ہے مگر پہلے جیسا تکلف نہیں آتا بات ہو سکتی ہے مگر پہلے جیسی بے فکری نہیں رہتی سامنے بیٹھا انسان وہی ہوتا ہے مگر آپ کے اندر اس کے لیے وہ جگہ نہیں رہتی جو کبھی ہوا کرتی تھی اور شاید انسان کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ موبائل گم ہو جائے تو انسان نیا خرید لیتا ہے پیسہ چلا جائے تو دوبارہ کما لیتا ہے چیز چوری ہو جائے تو کبھی نہ کبھی واپس بھی آ جاتی ہے مگر جس انسان کو آپ نے دل سے اپنا مان لیا ہو اگر وہ آپ سے چلا جائے تو انسان اسے نہیں بلکہ اپنے اندر موجود اس شخص کو تلاش کرتا رہتا ہے جو اس کے جانے سے پہلے ہوا کرتا تھاآخر میں بس اتنی سی دعا ہے کہ جس نے میرا موبائل چرایا اور جس نے میرا پسندیدہ انسان مجھ سے چرایا اللہ تعالیٰ دونوں کو ہدایت دے۔ موبائل فون تو خود چل کر نہیں گیا تھا اسے کسی نے چرایا تھا لیکن پسندیدہ انسان تو خود چل کر گیا تھا شاید اسی لیے موبائل کے گم ہونے کا دکھ کچھ دن رہا اور انسان کے چلے جانے کا دکھ آج بھی کہیں نہ کہیں باقی ہے۔ موبائل ہو تو نیا آ جاتا ہے ڈیٹا بھی کسی دوسرے فون میں منتقل ہو جاتا ہے مگر جو انسان دل سے اتر جائے اس کی جگہ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا۔ اللہ تعالیٰ اسے جہاں بھی رکھے خوش رکھے سکون دے اور اپنی حفاظت میں رکھے کیونکہ بعض لوگوں کو ہم واپس نہیں مانگتے بس ان کے لیے دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں خوش رہیں چاہے ہماری زندگی کا حصہ نہ رہیں۔