15/10/2024
سوشل میڈیا ایک نعمت یا عفریت؟
ہمدرد سب ہیں، کوئی بھی شخص کسی فرد، ادارے حتیٰ کہ والد کی وضاحت پر یقین کرنے کو تیار نہیں اور دوسری طرف بار ثبوت بھی کوئی اٹھانے کو تیار نہیں۔ سچ ان کے مطابق وہی ہے جو سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے۔ ہر ایک کے پاس صرف سوال ہیں اور جواب صرف من پسند قابل قبول ہے۔ عزت کی حفاظت کے نام پر اسی عزت کو تار تار کرنے پر معاشرہ بضد نظر آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے عفریت کے سامنے لاکھوں طلباء کی درسگاہ، ان کے اساتذہ، پولیس یہاں تک کہ شامل تفتیش بچی کے والد کی رائے بھی بے توقیر ہے۔ بات شاید تب ہی سمجھ آتی ہے جب وہ آزمائش اپنے گریبان تک پہنچتی ہے جس کی تازہ مثال مفتی طارق مسعود صاحب ہیں۔
اپنے اساتذہ پر عدم اعتماد تب کریں جب آپ کسی بات کو ثابت کرنے پر قدرت رکھتے ہوں۔ اس احترام کے تعلق کو ایک غلط خبر کی نظر مت ہونے دیں۔ اللّہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سچ کے سامنے آنے کا انتظار کریں یا اسے سامنے لانے کے لیے ثبوت کے ساتھ مددگار بنیں۔ سب اس بات پر متفق ہیں کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی اکثریتی خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہوتی ہیں تو پھر اس معاملے میں سوشل میڈیا اس قدر قابل اعتبار کیونکر ہے؟
آج سائنس کا دور ہے تو اس سے فائدہ اٹھائیں اور ذمہ اداروں کو مجبور کریں کہ وہ سی سی ٹی وی کی فرانزک کروائیں اور سچ کو سب کے سامنے لے آئیں۔ آج کے دن میں یہ ناممکن نہیں کہ ڈیلیٹ کی ہوئی چیز ریکور نہ ہو سکے۔
ادارے نے سب کچھ پولیس کے سپرد کر دیا ہے۔
اب یا تو اعتماد کے ساتھ انتظار کریں یا ثبوت پیش کر کے اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ خواہ مخواہ کی بحث، بد گُمانی اور بد زبانی سے خود کو محفوظ رکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ سچ سامنے آنے پر دنیا و آخرت میں شرمندگی اٹھانی پڑے۔ اور یقین رکھیں اپنے سب اساتذہ پر وہ آپ کو کبھی نا امید نہیں کریں گے اور سچ کی صفوں میں ہراول دستہ ہونگے۔ میری خلوص دل سے دعا ہے کہ اللّہ تعالیٰ ہر ادارے اور ہر انسان کو ہر قسم کی آزمائش بالخصوص سوشل میڈیا کی شیطانیت سے محفوظ رکھے۔ آمین