Dgkhan news official

Dgkhan news official ڈی جی خان نیوز
ڈیرہ غازی خان اور پاکستان کی تازہ ترین، مستند اور بروقت خبریں۔
Breaking News | Weather | Crime | Public Issues

وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے وزیرِ دفاع، عزت مآب سفیر احمد معلم فقی کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ...
06/08/2026

وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے وزیرِ دفاع، عزت مآب سفیر احمد معلم فقی کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) سے ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان و صومالیہ کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عسکری روابط کو مزید مضبوط بنانے اور استعدادِ کار بڑھانے کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔
صومالی وزیرِ دفاع نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کی مستقل حمایت اور پاک مسلح افواج کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صومالیہ کے سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کے بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

خیبر پختونخوا میں ایک طرف عوام طویل لوڈشیڈنگ، خستہ حال ہسپتالوں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جبک...
05/08/2026

خیبر پختونخوا میں ایک طرف عوام طویل لوڈشیڈنگ، خستہ حال ہسپتالوں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب نشتر ہال پشاور میں ایئرکنڈیشنر کی خرابی کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تقریب کے دوران پیش آنے والے واقعے پر تین ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس صورتحال پر عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عوامی مسائل پر کارروائی کی رفتار اور حکومتی تقریبات میں پیش آنے والے واقعات پر فوری انتظامی اقدامات کے درمیان اتنا فرق کیوں نظر آتا ہے؟




محترم جناب ڈاکٹر حامد صاحب اسسٹنٹ کمشنر ڈیرا اسماعیل خانالسلام علیکم۔ سب سے پہلے اپ کو ڈی ائی خان تعیناتی پر ویلکم کرتے ...
05/08/2026

محترم جناب ڈاکٹر حامد صاحب اسسٹنٹ کمشنر ڈیرا اسماعیل خان
السلام علیکم۔ سب سے پہلے اپ کو ڈی ائی خان تعیناتی پر ویلکم کرتے ہیں اپ جیسے ایماندار فرض شناس باکردار باخلاق نوجوان اسسٹنٹ کمشنر ہمارے لیے خوش قسمتی کی علامت ہے۔
محترم گرین ٹاؤن اور ہاشمی ٹاؤن بجلی گھر روڈ ڈی ائی خان سٹی کی قریب ترین اور قدیم ترین ابادیوں میں شمار ہوتی ہیں مگر بدقسمتی سے دونوں ابادیوں کو صفائی ستھرائی کے معاملے میں ٹی ایم اے اور واسا والے بری طرح اگنور کرتے چلے ا رہے ہیں بے شمار کمپلینٹ کہ باوجود کوئی ریگولر صفائی گزشتہ 40 سالوں میں دیکھنے کو ملی۔ یہ ممکن ہے کہ ٹی ایم اے اور واسا کی دفتری کاروائی میں فرضی اندراج دیکھنے کو ملے کہ سب کچھ اچھا ہو رہا ہے مگر عملا ایسا کچھ بھی نظر نہیں ارہا۔
تمام ابادی میں جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جبکہ سیوریج نالے اوور فلو ہو کر سڑکوں پر بہہ رہے ہیں۔ اس ابادی میں فی مرلہ قیمت 10 لاکھ سے 15 لاکھ کے درمیان ہے جبکہ رجسٹری انتقال کا ریٹ بھی اچھی ابادیوں کے ریٹ کے مطابق لیا جاتا ہے مگر صفائی ستھرائی کے معاملے میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔
اپ سے گزارش ہے کہ دونوں ابادیوں کا ہنگامی بنیادوں پر خود ایک سرپرائز وزٹ رکھیں اور ایکشن لے اور ریگولر صفائی کے انتظامات کا حکم صادر فرمائیں
بہت مشکور ہوں گے
من جانب
اہلیان گرین ٹاؤن اور ہاشمی ٹاؤن بجلی گھر روڈ ڈیرہ اسماعیل خان

کمانڈنٹ امیر تیمور صاحب اور رسالدار سردار عبداللہ لغاری کی ہدایت پر سرحدی چیک پوسٹ بواٹہ پر سخت چیکنگ جاری۔ ایس ایچ او ب...
05/08/2026

کمانڈنٹ امیر تیمور صاحب اور رسالدار سردار عبداللہ لغاری کی ہدایت پر سرحدی چیک پوسٹ بواٹہ پر سخت چیکنگ جاری۔
ایس ایچ او بواٹہ اشفاق لغاری اور ایڈیشنل ایس ایچ او سجاد لغاری نے اپنی اپنی ٹیم حاجی انور لغاری اکرم لغاری اور جلیل لغاری کے ہمراہ دوران چیکنگ گاڑی سے چرس اور آئس پکڑلی۔
دو ملزمان گرفتار۔ مقدمہ درج۔
تفصیلات کے مطابق منشیات بلوچستان سے پنجاب اسمگل کی جارہی تھی

دبئی کے دل میں لرزہ خیز دھما*کے: جبل علی میں سات دھما*کوں کے بعد آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل! متحدہ عرب امارات کے شہر د...
05/08/2026

دبئی کے دل میں لرزہ خیز دھما*کے: جبل علی میں سات دھما*کوں کے بعد آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل!
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کے صنعتی علاقے جبل علی میں متعدد دھما*کوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے بعد علاقے میں آگ بھڑک اٹھی اور دور سے دھویں کے گھنے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق مختلف ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں دھما*کوں کے بعد آگ لگ گئی۔
عرب میڈیا نے مقامی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دبئی کے جبل علی صنعتی علاقے میں تقریباً 20 منٹ کے دوران کم از کم سات دھما*کوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تاحال دھما*کوں کی نوعیت، ان کی وجوہات یا ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں متحدہ عرب امارات کے حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ آیا دھما*کے کسی صنعتی حادثے کے باعث ہوئے یا ان کے پیچھے کوئی اور وجہ کارفرما تھی۔ متعلقہ حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جبل علی بندرگاہ مشرق وسطیٰ کی اہم ترین تجارتی بندرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں تجارتی جہاز آمدورفت کرتے ہیں۔ اس لیے وہاں پیش آنے والا کوئی بھی غیر معمولی واقعہ عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جاتاہے ゚viral

رحیم یار خان لیڈیز پولیس جینٹس پولیس سے غیر محفوظ آخر یہ ہو کیا رہا؟جنہوں نے عوام کی جان مال اور عزت محفوظ رکھنے کی قسم ...
05/08/2026

رحیم یار خان
لیڈیز پولیس جینٹس پولیس سے غیر محفوظ
آخر یہ ہو کیا رہا؟
جنہوں نے عوام کی جان مال اور عزت محفوظ رکھنے کی قسم کھائی ہے وہ اپنی ساتھی لیڈیز پولیس کی عزتوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں ان سے عام عوام کے لیے اچھے کی کیا اُمید.

لاہور، شاہدرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کی لاش ملی۔ اس لڑکی کے ہاتھ ازاربند سے بندھے ہوئے تھے اور ا...
05/08/2026

لاہور، شاہدرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کی لاش ملی۔ اس لڑکی کے ہاتھ ازاربند سے بندھے ہوئے تھے اور اسی کے دوپٹے سے گلا گھونٹ کر اسے مارا گیا تھا۔ لاش کی فوری شناخت نہ ہونے پر پولیس نے اسے امانتاً دفنا دیا اور لڑکی کی تصویر اخبارات میں چھپوا دی۔ کچھ دنوں بعد گڑھ مہاراجہ، جھنگ سے لڑکی کا والد شاہدرہ تھانے پہنچا اور بتایا کہ تصویر اسکی بیٹی کی ہے۔ اس نے واقعے کی تفصیل پولیس کو یوں بیان کی:_

"میں پڑھا لکھا ہوں، میں نے اپنی اولاد کو بھی پڑھایا لکھایا۔ میری یہ بیٹی اکثر بیمار رہتی اور اسے غشی کے دورے پڑتے تھے۔ روایتی علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو میری بیوی کو لگا کہ لڑکی پر کسی کا سایہ ہے۔ بیوی کے اصرار پر میں سیالکوٹ کے ایک قبرستان سے 'بے شاہ' نامی ایک عامل پیر کو گڑھ مہاراجہ اپنے گھر لے آیا۔ عامل کی ہدایت کے مطابق اسے ایک علیحدہ کمرہ دیا گیا، جہاں وہ رات دو بجے سے فجر کی اذان تک لڑکی کے ساتھ مصلے پر بیٹھ کر اپنا 'عمل' کرتا تھا۔

چند دن گزرنے کے بعد عامل نے پیسوں کی بارش اور نوٹ دوگنا کرنے کا کرشمہ دکھا کر ہمارا اعتماد حاصل کر لیا۔ اسی لالچ میں آ کر میری بیوی نے اپنے سونے کے تمام زیورات بھی دوگنے کروانے کی غرض سے ایک پوٹلی میں باندھ کر مصلے کے نیچے رکھ دیے۔ اگلی صبح کافی دیر تک بیٹی کمرے سے باہر نہ آئی، حالانکہ عامل کے جوتے کمرے کے باہر معمول کے مطابق پڑے ہوئے تھے، ہم نے پریشان ہو کر کھڑکی سے اندر جھانکا۔ کمرے سے عامل، بیٹی اور زیورات کی پوٹلی غائب تھی، واضح تھا کہ عامل کھڑکی کے راستے ہماری بیٹی اور زیورات لے کر فرار ہو چکا ہے۔ میں نے مقامی تھانے میں اغوا کی رپورٹ لکھوائی، لیکن پولیس نے یہ کہہ کر دلچسپی نہ لی کہ لڑکی بالغ ہے، اپنی مرضی سے بھاگ گئی ہوگی۔ ہم بے بس ہو کر بیٹھ گئے۔ اتنے میں اخبار میں بیٹی کی تصویر اور قتل کی خبر پڑھ کر آپ کے پاس پہنچا ہوں۔"

اس بیان کی روشنی میں شاہدرہ پولیس نے گڑھ مہاراجہ میں موقع کا معائنہ کیا اور ملزم کا جوتا قبضے میں لیا۔ سیالکوٹ کے جس قبرستان میں عامل کا اڈہ تھا، وہاں سے اسکی معلومات لینے کی کوشش کی گئی، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ بالآخر پولیس نے جہاں (شاہدرہ) سے لاش ملی تھی، وہاں تلاش شروع کر دی۔ وہاں معلوم ہوا کہ ملحقہ مسیحی آبادی میں ایک نوجوان عورت اپنے معذور بچے کو کوارٹر میں اکیلا چھوڑ کر اسکا علاج کروانے کے لیے کسی مقامی راہب (پادری) کے پاس گئی تھی مگر واپس نہیں لوٹی۔

پولیس نے راہب کا اتا پتا معلوم کر کے قریب کی آبادی سے الگ تھلگ اسکی جھونپڑی پر چھاپہ مارا اور مسیحی عورت کو برآمد کر لیا۔ اس عورت نے بیان دیا کہ راہب نے بچے کے علاج کے بہانے اس کا زیور اور پیسے ہتھیا لیے ہیں۔ اسے ایک چارپائی سے باندھ کر جادو کا عمل کرتا اور اس دوران جنسی حملے بھی کرتا رہتا۔ کہتا کہ چالیس دن کے بعد بچہ بالکل صحت یاب ہو جائے گا۔

راہب کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسے جھنگ سے قبضے میں لیا گیا جوتا پہنایا گیا، جو نہ صرف اسے فِٹ آیا بلکہ اسکے پاؤں میں "چنڈی" بھی اسی مقام پر تھی جہاں سے جوتا پھٹا ہوا تھا۔ ملزم کی شناخت پریڈ کروائی گئی، جس میں مقتولہ کے والد نے اسے شناخت کر لیا کہ راہب ہی دراصل عامل ہے۔ حالانکہ بقول اسکے، عامل کی تو داڑھی تھی اور پگڑی باندھتا تھا، مگر راہب داڑھی منڈا اور ننگے سر تھا۔ بہرحال، مقتولہ کی ماں اسے نئے روپ میں نہ پہچان سکی۔

لاہور سیشن کورٹ میں زیور ہتھیانے، لڑکی کے اغوا اور قتل کا مقدمہ چلا۔ ملزم نے ارتکابِ جرم سے انکار کیا۔ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مطابق مقتولہ کے باپ کی شناخت، جوتے کا فِٹ آنا، اور ملزم کے طریقۂ واردات میں یکسانیت، یعنی عورتوں کو اپنے دام میں پھنسانا اور جادو اور روحانی علاج کا ڈھونگ رچانا، ان تمام واقعاتی شواہد سے ملزم کا گناہ گار ہونا یقینی ہے۔ ملزم کو سزائے موت سنائی گئی۔

ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی، جو فرزندِ علامہ اقبال، جسٹس جاوید اقبال (مرحوم) کے بنچ میں لگی۔ وہ لکھتے ہیں:

"اس کیس میں قتل کا کوئی عینی شاہد نہ تھا، سارا کیس واقعاتی شہادت پر مبنی تھا۔ مجھے یہ کیس آج تک کھٹکتا رہا ہے۔ وجہ اسکی شاید یہ ہے کہ ملزم کا کہنا تھا کہ پولیس نے شناخت پریڈ سے قبل اسے مقتولہ کے باپ کو دکھا دیا تھا۔ یوں شناخت پریڈ کے اس ثبوت کو مشکوک سمجھ کر رد کر دیا جائے تو پیچھے صرف ایک واقعاتی شہادت، یعنی جوتا فِٹ آنا، باقی رہ جاتی ہے، جو پھانسی کی سزا کے لیے شاید ناکافی تھی۔

مگر اس کیس میں پھانسی کی جگہ عمر قید دینے کی گنجائش نہ تھی، اور بری کر دینا میرے ضمیر کو گوارا نہ تھا۔ دل کہتا تھا کہ یہی مجرم ہے، لیکن دماغ وسوسے پیدا کرتا تھا۔ جج کمپیوٹر مشین نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ اسے اپنا ذہن پورا استعمال کرنا پڑتا ہے، لیکن فیصلہ بالآخر اس کا دل یا ضمیر ہی کرتا ہے۔ بہرحال، میں نے اسکی سزا بحال رکھی اور سپریم کورٹ سے بھی اسکی اپیل خارج ہوئی اور سزائے موت برقرار رہی، جس پر بعد میں عمل درآمد بھی ہوا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ یہ قریب نصف صدی پرانا کیس ہے۔ اس وقت بھی یہ کیس اخبارات میں ہائی لائٹ ہوا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ جعلی عاملین کا کاروبار وقت کے ساتھ بڑھتا ہی گیا؟؟؟

از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور

ڈیرہ غازی خان کے منتخب نمائندوں کی حالتِ زار!تصویر میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے منتخب عوامی نمائندے وزیراعلیٰ پن...
05/08/2026

ڈیرہ غازی خان کے منتخب نمائندوں کی حالتِ زار!

تصویر میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے منتخب عوامی نمائندے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے پیچھے ہاتھ باندھے، سر جھکائے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

عوام نے انہیں اپنی آواز بننے، اپنے حقوق کی نمائندگی کرنے اور اپنے علاقے کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے منتخب کیا تھا، مگر منظر کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔

ویسے یہ بھی ایک "اعزاز" ہی سمجھ لیجیے کہ کم از کم انہیں پچھلی صف میں کھڑے ہونے کی سعادت تو نصیب ہوگئی!

سوال یہ ہے کہ کیا ڈیرہ غازی خان کے عوام نے اپنے نمائندے صرف تصویروں کی زینت بننے کے لیے منتخب کیے تھے، یا اپنے حقوق کی مؤثر آواز بننے کے لیے؟

آپ کی رائے کیا ہے؟

لبنان جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے آٹھ لاکھ سے زائد باشندے گھروں کو لوٹنے لگے، اقوام متحدہلبنان جنگ میں فائر بندی اور اس...
05/08/2026

لبنان جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے آٹھ لاکھ سے زائد باشندے گھروں کو لوٹنے لگے، اقوام متحدہ

لبنان جنگ میں فائر بندی اور اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین ایک دوسرے کے خلاف مسلح کارروائیوں میں موجودہ وقفے کے نتیجے میں ان لاکھوں لبنانی شہریوں نے اب اپنے آبائی گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔

لبنان میں ان اسرائیلی فوجی حملوں میں 4,300 سے زائد افراد مارے گئے تھے جبکہ مجموعی طور پر ایک ملین سے زائد بے گھر ہو گئے تھے۔

یہ اعلان ایسے وقت پر کیا گیا، جب اطالوی دارالحکومت روم میں امریکی معاونت سے لبنان اور اسرائیل کے مابین ان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا، جن کا مقصد لبنان جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔

روم میں یہ لبنانی اسرائیلی مذاکرات متوقع طور پر کل جمعرات چھ اگست کی شام تک جاری رہیں گے۔

Address

Ghulshan Ravi Shera Kot Road Lahore
Lahore
54570

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dgkhan news official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share