11/06/2026
دل ٹوٹ چکا ہے...
ہر طرف خون ہی خون ہے۔ کہیں کشمیر کی وادیوں میں، کہیں بلوچستان کی سرزمین پر، کہیں خیبر پختونخوا کے پہاڑوں میں۔ میرا پاکستانی جوان مارا جا رہا ہے، میرا بھائی مارا جا رہا ہے، میرا ہم وطن مارا جا رہا ہے۔ چاہے وہ ایک عام شہری ہو، چاہے وہ فوج کا سپاہی، ماں کی گود تو دونوں کے لیے ایک جیسی اجڑتی ہے۔
آج ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والوں کی خبر سنی، اور پھر دل نے وہی سوال کیا: ہم جا کہاں رہے ہیں؟
پاکستان اور آزاد کشمیر کو آخر کس کی نظر لگ گئی ہے؟ ہر روز کسی نہ کسی گھر میں قیامت برپا ہے۔ کہیں جنازے اٹھ رہے ہیں، کہیں مائیں اپنے بیٹوں کے انتظار میں دروازے تکتی رہ جاتی ہیں، کہیں بچے یتیم ہو رہے ہیں، کہیں سہاگ اجڑ رہے ہیں۔
ہم کون ہیں؟ ہمارا راستہ کیا ہے؟ ہمارے رہنما کون ہیں؟
کیا ہم سب ایک ہی کلمہ پڑھنے والے نہیں؟
کیا ہم سب دینِ محمد ﷺ کے پیروکار نہیں؟
کیا ہمارا دین اور ہمارا وطن ہمیں انسانیت، انصاف اور بھائی چارے کا درس نہیں دیتے؟
پھر ہم نفرت کا جواب نفرت سے کیوں دے رہے ہیں؟
غصے کا جواب غصے سے کیوں دے رہے ہیں؟
خون کا جواب مزید خون سے کیوں دے رہے ہیں؟
جو جانیں چلی گئیں، جو ہر روز جا رہی ہیں، ان کا حساب کون دے گا؟
ان ماؤں کے آنسوؤں کا ذمہ دار کون ہے؟
ان یتیم بچوں کے سوالوں کا جواب کون دے گا؟
کیا یہ خون بے رنگ ہے؟
کیا یہ زندگیاں زندگیاں نہیں ہیں؟
کیا یہ لاوارث ہیں؟
ایک سپاہی کی شہادت ہو یا ایک عام شہری کا قتل، درد ایک ہی ہوتا ہے۔ قبر ایک جیسی ہوتی ہے۔ کفن ایک جیسا ہوتا ہے۔ اور پیچھے رہ جانے والوں کا دکھ بھی ایک جیسا ہوتا ہے۔
خدا کے لیے، اس سرزمین پر بسنے والوں کے لیے، اس وطن کے مستقبل کے لیے، نفرت، تشدد اور خونریزی کا یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔
کیونکہ جب ایک قوم اپنے ہی لوگوں کے خون کی عادی ہو جائے، تو صرف لوگ نہیں مرتے، قوموں کے ضمیر بھی مر جاتے ہیں۔
آج دل بہت بوجھل ہے۔ دل ٹوٹ چکا ہے۔ پاکستان اور کشمیر کو امن چاہیے، مزید قبریں نہیں