15/08/2026
لاہور آرگینک ولیج:
14 اگست آزادی کی پرمسرت رات کو فیملی کے ہمراہ لاہور آرگینک ولیج Lahore Organic Village جانے کا اتفاق ہوا، مگر وہاں انتظامیہ کے روئیے اور بدنظمی نے آزادی کی خوشیاں ماند کر دیں۔
ایک طرف جہاں گاڑیوں کی آمد و رفت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری تھی، وہیں موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ کھلا طبقاتی امتیاز برتا جا رہا تھا۔ بائیک پر آنے والے صرف ان مخصوص افراد کو اندر جانے کی اجازت دی جا رہی تھی جو سوٹ بوٹ اور کوٹ پینٹ میں ملبوس تھے اور بظاہر صاحبِ ثروت معلوم ہوتے تھے۔ عام شہریوں کے ساتھ انتظامیہ کا رویہ انتہائی ہتک آمیز تھا۔
ہمیں عملے نے 1000 روپے کا اینٹری ٹوکن تو تھما دیا، مگر ساتھ ہی ہدایت کی کہ بائیک باہر سڑک پر پارک کریں۔ جب ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی کہ دیگر موٹر سائیکلز بھی اندر جا رہی ہیں، تو عملہ معقول جواب دینے کے بجائے بدتمیزی اور تو تکار پر اتر آیا۔ ان کا اندازِ گفتگو اس قدر نامناسب تھا کہ انہوں نے انتہائی تلخ لہجے میں ٹوکن واپس کر کے چلے جانے کا کہا۔ واضح رہے کہ موقع پر موجود ویڈیو میں صریحاً دیکھا جا سکتا ہے کہ دیگر بائیکس اور گاڑیاں بلا ٹوک اندر جا رہی تھیں، مگر ہمارے ساتھ یہ ناروا سلوک روا رکھا گیا۔
ہم نے ان سے گزارش کی کہ اگر بائیک باہر سڑک پر کھڑی کروائی جا رہی ہے تو اس کی سیکیورٹی کی ضمانت دی جائے، چاہے اس کے اضافی چارجز ہی کیوں نہ لے لیے جائیں تاکہ ہمیں گاڑی کی حفاظت کی تسلی ہو۔ مگر انتظامیہ نے اس معقول درخواست کو بھی ٹھکرا دیا۔ حد تو یہ ہے کہ عملے کے ایک فرد نے غنڈہ گردی اور غیر ذمہ داری کی انتہا کرتے ہوئے کہا: "بائیک اندر سے بھی چوری ہو سکتی ہے، اور اگر اندر آپ کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو کیا اس کی ذمہ داری بھی ہم لیں گے؟"
بالآخر، انتظامیہ کے اس متکبرانہ اور غیر پیشہ ورانہ رویے کے باعث ہمیں ٹوکن واپس کر کے شدید بددلی اور افسوس کے ساتھ گھر لوٹنا پڑا۔
ایک طرف ہم قومی آزادی کا جشن منا رہے ہیں اور دوسری طرف اپنے ہی شہر میں شہریوں کے ساتھ لباس اور سواری کی بنیاد پر یہ طبقاتی تفریق اور گالی گلوچ جیسا رویہ انتہائی شرمناک ہے۔