17/05/2026
پاکستان کے ایک بڑے صحافی کی قریبی رشتہ دار لڑکی کی شادی طے ہوئی ، 25 دسمبر شادی کی تاریخ مقرر ہوئی ، لڑکی نے فرمائش کی فلاں سرکاری ایوارڈ یافتہ فوٹوگرافر سے فوٹو شوٹ کروانا ہے ، والدین صاحب حیثیت تھے انہوں نے بیٹی کی بات مان لی اور اس فوٹو گرافر کو 15 لاکھ روپے ایڈوانس دے کر ایک ماہ پہلے بک کر لیا ۔۔ باقی رقم فوٹو شوٹ والے دن ادا ہونا تھی ۔۔ مگر افسوس کہ 5 دسمبر کو لڑکی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسی ۔۔۔ 7 دسمبر کو والدین نے فوٹوگرافر کو فون کیا کہ ہماری بیٹی فوت ہو گئی ہے ، ہم اپنی بکنگ کینسل کررہے ہیں آپ کچھ کٹوتی کرکے باقی رقم واپس کردیں ۔۔ مگر اس ایوارڈ یافتہ فوٹو گرافر کا جواب تھا ۔ دلہن فوت ہو گئی ہے یا نہیں ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہم آئے پیسےو اپس نہیں کرتے آپ چاہیں تو کوئی اور فوٹو شوٹ کروا لیں، باقی رقم تب دے دیجیے گا ۔۔۔ اب اس بچی کے والدین پریشان ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کی قبر کا فوٹو شوٹ کروائیں یا پھر کیا کریں کیونکہ انکی تو اور کوئی اولاد بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔
نوٹ : یہ واقعہ تصویر میں نظر آنے والے مشہور صحافی نے بیان کیا ہے ۔۔۔۔۔