16/07/2026
یہ سوال بہت سے لوگوں کے دل میں آتا ہے۔
میں تو روز درودِ شریف پڑھتا ہوں، پھر بھی پریشانیاں ختم کیوں نہیں ہوتیں؟"اگر یہی سوال آپ کے دل میں بھی کبھی آیا ہے تو ایک لمحہ رک کر سوچیں.
اگر درودِ شریف پڑھنے سے آزمائشیں ختم ہو جاتیں تو سب سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام آزمائشوں سے محفوظ ہوتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ امتحان اپنے محبوب بندوں کو دیا۔ آزمائش اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی علامت نہیں، بلکہ کبھی یہ محبت، تربیت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بھی ہوتی ہے۔
پھر درودِ شریف پڑھنے والے میں فرق کیا ہوتا ہے؟
فرق یہ ہے کہ جب دوسرا شخص آزمائش میں ٹوٹ جاتا ہے، درود پڑھنے والا اللہ تعالیٰ سے جڑ جاتا ہے۔ جب دوسرا مایوس ہو جاتا ہے، اس کے دل میں امید کی ایک شمع روشن رہتی ہے۔ جب آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں تو اس کی زبان پر شکوہ نہیں، بلکہ درودِ پاک ہوتا ہے۔
بعض اوقات اللہ تعالیٰ مصیبت کو فوراً نہیں ہٹاتا، بلکہ مصیبت میں رہتے ہوئے دل کو ایسا سکون عطا فرما دیتا ہے کہ انسان خود حیران رہ جاتا ہے۔ کبھی گناہ معاف ہو رہے ہوتے ہیں، کبھی درجات بلند ہو رہے ہوتے ہیں، اور کبھی اللہ تعالیٰ ایک ایسی نعمت کی تیاری فرما رہا ہوتا ہے جو آپ کی ہر تکلیف کو بھلا دے گی۔
یاد رکھیں درودِ شریف کوئی جادو نہیں کہ ہر مشکل ایک لمحے میں ختم ہو جائے۔ درودِ شریف تو وہ نور ہے جو اندھیری راہوں میں بھی انسان کا ہاتھ نہیں چھوڑتا، وہ محبت ہے جو بندے کو اپنے محبوب حضرت محمد ﷺ کے قریب کرتی ہے، اور یہی قرب اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔
اس لیے اگر آپ مدت سے درودِ شریف پڑھ رہے ہیں اور ابھی تک آزمائشوں میں ہیں تو ہرگز مایوس نہ ہوں۔ ہوسکتا ہے آپ کی دعائیں آسمان پر قبولیت کا انتظار کر رہی ہوں، ہوسکتا ہے آپ کے لیے وہ فیصلے ہو رہے ہوں جن کا حسن آپ کو کچھ عرصے بعد سمجھ آئے۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں
اللہ تعالیٰ کبھی بھی درودِ شریف پڑھنے والے کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ عطا کا طریقہ، وقت اور صورت ضرور مختلف ہو سکتی ہے، مگر عطا ضرور ہوتی ہے۔
آپ سے ایک سوال
آپ روزانہ کتنے درودِ شریف پڑھتے ہیں؟ اور کیا کبھی درودِ شریف کی برکت سے اپنی زندگی میں کوئی ایسی تبدیلی دیکھی جس نے آپ کا ایمان مزید مضبوط کر دیا؟
اپنا تجربہ کمنٹس میں ضرور لکھیں، تاکہ آپ کی بات کسی مایوس دل کے لیے امید بن جائے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دلوں میں درودِ شریف کی محبت پیدا ہو تو اس تحریر کو ضرور شیئر کریں۔**