Sharp Eye

Sharp Eye Sharp Eye is Pakistan's independent news agency. Initially news service was started in English, Urdu and Arabic languages.

Sharp Eye was founded by renowned journalist, columnist, poet and Chief Editor Dr. Mian Muhammad Azhar Amin Godizt in 1999 with the aim to provide true news to all types of media in different languages.

22 May 2026مزاہب نامی فراڈز کے متعارف کردہ جعلی دنیا کے مالک پر روزانہ لاتعداد لعنتیں بھیجا کریں۔۔۔ڈاکٹر گاڈاِزٹ Dr. God...
22/05/2026

22 May 2026

مزاہب نامی فراڈز کے متعارف کردہ جعلی دنیا کے مالک پر روزانہ لاتعداد لعنتیں بھیجا کریں۔۔۔

ڈاکٹر گاڈاِزٹ Dr. Godizt

a

اصل "مالک" تک پہنچنے کے لیے کتاب "گاڈاِزم" کا مطالعہ

کریں جو www.godizm.com پر مفت دستیاب ہے

مزاہب کے بیان کردہ ایسے جعلی اللہ ایشور گاڈ خدا بھگوان رب پر لاتعداد لعنتیں روزانہ طلوع آفتاب کے وقت بھیجا کریں جو کرپٹ درندہ صفت طاقتوروں کو ایمانداروں سچوں کی عزت جان مال لوٹنے، ہر قسم کی کرپشن اور جرائم کرنے کے لیے "صحت" اور "طاقت" لمبا عرصہ تک دیئے رکھتا ہے۔ اِن پر اور اِن کی آل پر کوئی عزاب نہیں آتا۔۔۔ ایسے درندوں میں پاکستانی تنخواہ دار نوکر بالخصوص فوج، ایجنسیاں، عدلیہ ، پولیس بیوروکریسی دنیا بھر میں سرِفہرست ثابت ہے۔ ان درندوں کی وجہ سے 99 فیصد سول معاشرہ بھی ہر طرح سے کرپٹ جھوٹا مکار فراڈیا جرائم پیشہ ہوچکا ہے۔ 99 فیصد سے زائد سرکاری نوکر بھرتی کے وقت غریب ترین تھے جنہیں ریاست نے گود لے کر ان کی زندگیاں اپنے ذمے لیں اس کے باوجود یہ کمی کمین ثابت ہوئے۔۔۔ یاد رہے میں کمی کمین کرپٹ بدکردار غدار لُٹیرے کو کہتا ہوں چاہے وہ کوئی نواب خاندان سے ہو۔ میں نے اپنے کئی کالمز یا وی لاگز میں کہا کہ یہ ملک کمیوں کے ہاتھ آگیا ہے تو بعض سرکاری نوکروں نے مجھے کہا کہ آپ غریب کو کمی کمین کہہ رہے ہیں تو میں نے وضاحت کی کہ ہمیشہ سے غریب یا چھوٹے کام کرنے والوں کو کمی کمین یا نیچ کہا جاتا تھا لیکن میں نے یہ ٹرمز کرپٹ ، بدکردر، جرائم پیشہ رشوت خور ، اختیارات کا غلط استعمال کرنے والوں، جھوٹوں مکاروں ، بے انصافوں، ظالموں، حاسدوں یعنی شیطانوں ابلیسوں راونوں کے لیے مختص کردی ہے۔

19/05/2026

SHARP EYE ACCOUNTABILITY CELL
19 May 2026
ACCOUNTABILITY OF JUDICIARY – Episode 2- Dr. Godizt
عدلیہ کا احتساب ۔ قسط نمبر2 ڈاکٹر گاڈاِزٹ
آج کے بڑے نامزد مجرم سول جج محمد مکی اور متعلقہ پولیس و اینٹی کرپشن ڈی جی و ڈائریکٹر
Download Complete Column from this link

17 May 2026ACCOUNTABILITY OF JUDICIARY – Episode 1-  Dr. Godiztعدلیہ کا احتساب ۔ قسط نمبر1     ڈاکٹر گاڈاِزٹآج کے بڑے نا...
17/05/2026

17 May 2026
ACCOUNTABILITY OF JUDICIARY – Episode 1- Dr. Godizt
عدلیہ کا احتساب ۔ قسط نمبر1 ڈاکٹر گاڈاِزٹ
آج کے بڑے نامزد مجرم سابق سیشن جج لاہور نسیم احم ورک، سول جج رانا محمد جعفر اور سول جج حق نواز
قارئین و محافظِ قانون! میرے صحافتی اداروں سے تو 36 سال سے تمام اداروں کا احتساب خبروں اور میرے کالمز کی شکل میں ہو ہی رہا ہے۔ لیکن اب میں باقاعدہ ایک سلسلہ "عدلیہ کا احتساب" کے عنوان سے شروع کررہا ہوں جس میں عدالتوں میں چلنے والے مقدمات میں ججوں، کرائے کے غنڈوں (المعروف وکلاء) ، پولیس ایجنسیوں سمیت دیگر اداروں کی چالاکیاں مکاریاں اختیارات کا غلط استعمال جھوٹ فراڈ جعلسازیاں زیر بحث آئے گا۔ جس مقدمہ میں بھی مجھے ظلم بے انصافی کی انتہاء اس طرز کی نظر آئے گی کہ جج نے دو جمع دو کو پانچ کردیا تو ایسے مجرم جج کو نامزد بھی کروں گا۔ میرے کالمز اور خبریں پہلے ہی دنیا کے ہر اہم فورم بشمول تمام دنیا کے میڈیا اور تمام پاکستانی اداروں کو بھی پہنچتا ہے لہزا متعلقہ ادارے از خود اب میرے اس نئے سلسلے " عدلیہ کا احتساب" کی ہر قسط کو بطور کمپلینٹ اندراج کریں وگرنہ ان اداروں بشمول صوبائی و وفاقی وزارتِ قانون (سیکرٹریز وغیرہ)، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن ، نیب ، ایوان صدر، ایوان وزیراعظم، قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے متعلقہ قانونی فورمز، ہائی کورٹ و سپریم کورٹ اور جوڈیشل کمیشن وغیرہ کے متعلقہ ذمہ داران بھی شامل اور معاون مجرم کے طور پر نامزد ہوں گے۔ آج میں ایک ایسے مقدمے کی کمپلینٹ دوں گا جو ایک ہفتہ یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ چلنا چاہیے تھا۔ اگر ایسا مقدمہ بھی سالہا سال چلے تو یہ ناقابل تردید ثبوت ہے کہ عدلیہ نام کا ادارہ دراصل بلڈی سویلینز کو ایجنسیوں اور سرکاری اداروں کے لیے یرغمال بنائے رکھ کر بلیک میل کرنے کا ایک گندا دھندا ہے۔ سول کورٹ میں چلنے والے اس مقدمہ پر آنے سے پہلے میں اپنے کالم " آخری وارننگ" کی پہلی قسط کا ایک پیرا یہاں شامل کررہا ہوں۔ " ۔ قارئین! ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شہباز احمد کھگا کے سامنے یہ مقدمہ گیا تھا کہ مسٹر اے 2010 میں فوت ہو گیا اور اس کی پراپرٹی لوکل کمیشن، رجسٹری محرر، پٹواری اور پرائیویٹ افراد بشمول پراپرٹی ڈیلر نے جعلی رجسٹری مرحوم کو 2022 میں زندہ ظاہر کرکے رجسٹر کرالی ہے۔ اینٹی کرپشن لاہور کے انکوائری آفیسر ڈی ڈی لاہور نے تیس لاکھ روپیہ لے کر فائیل داخل دفتر کردی اور ڈائریکٹر لاہور اور ڈی جی سہیل ظفر چٹھہ نے بھی داخل دفتر کردی جس کے بعد مدعی نے سیشن کورٹ 22 اے بی کا مقدمہ کیا جواے ایس جے شہباز احمد کھگا کے پاس لگا انہیں بتایا گیا کہ 2010 میں مرنے والا مسٹر اے 2022 میں قبر سے نکلا اور پٹواری کے پاس دستخط و نشان انگوٹھا لگا کر فرد بیع لی پھر لوکل کمیشن نے مُردے سے رجسٹری محرر کی موجودگی میں دستخط اور نشان انگوٹھے لے کر واپس قبر میں بھیج دیا ۔ اس مقدمہ پر جج صاحب نے ایف آئی آر درج کرنے کا کلیئر حکم دیا جس کے بعد اینٹی کرپشن افسران نے مدعی کے ساتھ اتنا ظلم کیا حتی کہ پولیس کو دباو ڈالا کہ اسے کسی مقدمے میں جیل بھیجو اور ان حالات میں مدعی کا سارے سوشل میڈیا پر بیان آیا کہ میں خود کُشی کرلوں گا تو شراب کا گلاس پیتے ہوئے سہیل ظفر چٹھہ نے زور دار قہقہ لگایا کہ جا مر تیرے جیسے بلڈی سیولینز روز مرتے ہیں ہم ہی خدا ہیں ایسٹیبلشمنٹ ہی خدا ہوتی ہے۔ اگر وہ خدا ہوتا جو سن اور دیکھ اور سب کرسکتا ہے تو کیا وہ ہم پرعزاب نہ لاتا وہ تو نبیوں پر وقت کی ایسٹیبلشمنٹس کے مظالم حتی کہ قتل کرنے پر بھی کبھی نظر نہ آیا اور نہ ہی آل محمد کے ذبح ہونے پر نظر آیا لہزا ایسٹیبلشمنٹ ہی خدا ہوتی ہے۔۔۔ قارئین! اس کے بعد مدعی نے توہینِ عدالت کا مقدمہ دائر کیا تواس میں جناب اے ایس جے شہباز احمد کھگا نے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی جی اینٹی کرپشن کو حکم دیا کہ وہ ڈائریکٹر اور ڈی ڈٰی لاہور پر پرچہ درج کرے (اس پر میں ڈاکٹر گاڈاِزٹ کھگا صاحب کی جرات ایمانداری پر سلام پیش کرتا ہوں) اس حکم کو بھی لپیٹ کر سہیل ظفر چٹھہ نے مدعی کے لیے اس سے ملاقات کرنے والوں کو کہا کہ حکم کی یہ بتی بنا دی ہے جاکر جج کی ڈیش میں دے دو۔۔۔ قارئین! اس کے بعد مدعی اور اس کی مدد کرنے والے تھک ہار کر خاموش ہو گئے۔ اب دو سال بعد اتفاق سے میری ملاقات موجودہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور احسن بھٹی سے ہوئی جہاں میں اپنے ایک مقدمہ میں گیا ہوا تھا اور مجھے اس مرحوم والے مقدمہ کے یتیم مدعی کی ایک بیوہ خالہ (محلےدار) نے بتایا کہ ان کے یتیم بھانجے والے کیس کی فائیل نکلوا کر ملزمان سے نئے ڈائریکٹر کے لیے دس لاکھ روپیہ مانگا جارہا ہے۔ قارئین! جب میں اپنی ایک درخواست کے لیے احسن کے پاس گیا تو میں نے ان سے کہا کہ فلاں فائیل آپ کی ٹیبل پر دو ماہ سے واپس طلب ہو کر کیوں پڑی ہے وہ تو داخل دفتر تھی تو انہوں نے کہا مجھے علم نہیں میں عملہ سے پوچھتا ہوں تو عملہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو میں نے کہا کہ عملہ سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ اب اس کیس میں آپ کی دیہاڑی لگنی ہے ورنہ مجھے بتائیں کہ 2010 میں مرنے والے نے 2022 میں رجسٹری کیسے کرائی تو وہ یہ بات سُن کر اُچھل پڑے اور فائیل منگوا کر پڑھی اور عملہ پر برس پڑے اور پھر اپنے ڈٰی جی کی دُشمنی مول لے کراب کچھ عرصہ قبل پرچہ درج کرلیا ہے۔ میں احسن چٹھہ کی جرات کو بھی سلام کرتا ہوں چاہے وہ میرے اس کیس سے بھی زیادہ مضبوط ترین درخواستوں پر کور کمانڈر لاہور اور ڈٰی جیز اینڈ سیکٹر ہیڈز آئی ایس آئی و ایم آئی کی ڈائریکٹ دھمکیوں کے باعث پرچے درج نہیں کر پا رہے اور دیگر متعدد محکموں کے افسران اور ججوں کی طرح انصاف نہیں دے پارہے۔۔۔ " قارئین و محافظِ قانون! درج بالا تفصیلات سے افسر شاہی ، فوج ایجنسیوں کی درندگیوں اور سنگین جرائم اور عوام کے اداروں کو اپنے باپ کی ذاتی جاگیر کی طرح استعمال کرنے کے ناقابلِ تردید ثبوت پڑھ لیے ہیں۔ اس میں آپ نے ایک ایڈیشنل سیشن جج کی انصاف دلانے کی کوشش کوافسرشاہی کےتہس نہس کرنے کے ثبوت بھی دیکھے۔اب میں اس جرم کےایک اہم ترین حصہ کی طرف آتا ہوں جس سے عدلیہ کا کردار مزید کُھل کر سامنے آئے گا اور ثابت ہو گا کہ وکیل نامی حرامی جانتے بوجھتےکریمنلز کو بچانے کے لیے کیسے اپنی بارز نامی گینگز اور غنڈا گردیوں کا استعمال کرکے سالہا سال تک مظلوم سچے سائیلین کو تباہ و برباد کرتا ہے یعنی ایسا کیس جو کسی وکیل کو لینا ہی نہیں چاہیے ایسے کیسوں میں بھی یہ سالا بھڑوا اپنی پوری قوت حق دار سے بے انصافی کرانے میں لگاتا ہے۔ کیس یہ ہے کہ اسی 2010 میں وفات پا جانے والے کی بیوہ اور یتیموں وغیرہ نے لاہور سول کورٹ میں سول سوٹ برائے کینسلیشن جعلی رجسٹری دائر کی جو چار سال سے پہلی اسٹیج پر ہی چل رہ ہے اور اس کیس میں موجودہ نئے جج سے قبل تک رہنے والے دو سول ججز کو عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے۔ مقدمہ یہ ہے کہ مدعیہ نے لکھا کہ جج صاحب میرا خاوند 2010 میں وفات پا گیا اور مجرموں نے میرے خاوند کو 2022 میں زندہ ظاہر کرکے کوئی فرضی جعلی خاوند کھڑا کر کے میرے ڈیڑھ کروڑ روپے کی کمرشل پراپرٹی کی جعلی رجسٹری تیار کی جس پر میرے خاوند کے جعلی دستخط اور نشان انگوٹھے لگائے پٹواری سے بھی مُردے نے زندہ ہوکر فرد برائے بیع لی، لوکل کمیشن (وکیل) کے سامنے مُردے نے 2022 میں زندہ ہو کر دستخط اور نشان انگوٹھے لگائے۔ اس مقدمہ میں فوری طور پر رجسٹری منسوخ کرنے کی بجائے جب دو سال تک جج لمبی لمبی تاریخیں دیتے رہے تو مدعیہ نے اپنے وکیل کو کہا کہ کسی نے بتایا ہے کہ Early Hearing کی پیٹیشن ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو کی جاسکتی ہے تو مجبوراً وکیل نے یہ دائر کردی اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نے جلد فیصلہ کرنے کا حکم دیا حالانکہ ایسے کیس میں جج کو روزانہ سماعت کا حکم دینا چاہیے تھا۔ لیکن ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نسیم احمد ورک نے بھی گلے سے اُتارا لہزا یہ جج بھی مجرم ہے۔ یہ حکم جب مدعیہ نے سول جج حق نواز کو دیا تو وہ اور غصہ میں آگیا اور اس کے بعد ایک ماہ سے بھی زائد لمبی پیشی دے دی اور یہی سلسلہ چل رہا تھا کہ ایک ماہ قبل سول جج حق نواز تبدیل ہو گیا اور نیا سول جج محمد جمشید ہے۔ مدعیہ اس مقدمہ نمبر 190190122 کی تاریخ 30اپریل 2026 پر خود گئی تو ریڈر نے کہا کہ اب عید کے بعد کی ڈیٹ ہو گی تو مدعیہ زبردستی نئے جج محمد جمشید کے چیمبر میں گئی اور دھائی دی کہ جج صاحب 2010 میں مرنے والے کو 2022 میں زندہ کرکے جعلی رجسٹری کرنے کا مقدمہ چار سال سے چل رہا ہے اور اس دوران اینٹی کرپشن نے مجھے بلیک میل کرنے کے لیے میرے بیٹوں سے پولیس گردی کرائی اور بہت کچھ کیا جارہا ہے کہ ہم گِر جائیں، بیٹھ جائیں۔ جج نے فائیل منگوائی اور پڑھ کر انتہائی غصہ میں ریڈر کو کہا کہ اس کیس میں ابھی تک اخبار اشتہار کیوں نہیں ہوا اور سیشن جج کی ڈائریکشن کے بعد بھی اتنی لمبی تاریخیں کیوں ڈالی جارہی ہیں تو جج کو ریڈر نے اشارہ کیا کہ بعد میں بتاوں گا۔ تاہم نئے سول جج محمد جمشید نے چھوٹی تاریخیں دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ میں اب سوال کرتا ہوں کہ ایسے مقدمات میں بھی اگر یہ کچھ ہونا ہے تو پھر اس سارے نظامِ عدل کو جلا دینا چاہیے۔ اس مقدمہ میں میری نظر میں میں بٖڑے دو مجرم سول جج رانا محمد جعفر اورسول جج حق نواز بنتے ہیں۔ جنہوں نے 4 سال اس مقدمہ میں جرائم کیے۔ رانا محمد جعفر کو 2022 تا 2024 مسلسل مدعیوں نے منت سماجت کی کہ جناب اس مقدمہ کو جلد ختم کریں تو ہر مرتبہ اس کا رویہ انتہائی مجرمانہ رہا اور اس کے خلاف مدعیوں نے کمپلینٹ بھی کی تھی۔ ان دونوں ججوں کو بتانا پڑے گا کہ اینٹی کرپشن افسران اور مجرموں کو بچانے کے لیے اس مقدمہ کو لٹکائے رکھنا اور خراب کرنا کس کا حکم تھا۔ اسی طرح اس وقت کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نسیم حمد ورک کو بھی بتانا پڑے گا کہ جب اس کے سامنے مقدمے کی تفصیلات آگئیں کہ انتہائی خوفناک حقائق ہیں تو اس نے سخت ترین حکم روزانہ سماعت کا کیوں نہیں کیا۔۔۔ یہاں میں اپنی کتاب "صحافت سے شاعری تک" کی ایک نظؐم عدلیہ کنجریہ پیش کررہا ہوں۔ اگلی اقساط میں جن ججوں کے سنگین جرائم سامنے آئیں گے ان میں نتاشہ نسیم سپرا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جو جج کی کھال میں عسکری جج کے نام سے مشہور ہے بھی شامل ہے۔

عدلیہ یا کنجریہ
(شاعر،صحافی،کالم نگار: ڈاکٹر گاڈازٹ / میاں محمد اظہر امین )
کتاب: صحافت سے شاعری تک
کیا جو دُنیا نے سروے آئی حقیقت سامنے
ہیں پاکستانی مُنصفوں کے آخری درجے

چِیخ رہے تھے جو بات ہم20 سال سے
ہوئی آشکار یہ حقیقت رپورٹ2020سے

مظلوم نکلے جب مانگنے عدل و انصاف
ملیں ہر طرف لُٹیرے کرنے باقی برباد

ملے پولیس خبیث ملے وکیل ابلیس
قائم کوٹھوں میں ملے کنجریہ عدلیہ

سائل اور مسﺅل لُٹ گئے مظلوم
لینے گئے تھے انصاف ہوگئے محصور

تھا مظلوم کا جو کُچھ بچا ،لُوٹ لیا نظامِ عدل نے
جلا دو سب، ہو جہاں ظلم انصاف کے بدل میں
Book available free at www.files.fm/miansoft
نوٹ : کالم بعنوان "ڈاکٹر گاڈاِزٹ کا بڑا اعلان" میں نامزد مجرم (ملٹری ایسٹیبلشمنٹ) میری ہر قسط میں نامزد مجرم جج کے ساتھ نامزد مجرم ہے۔

16 May 2026THE BIG ANNOUNCEMENT OF DR. GODIZTڈاکٹر گاڈاِزٹ کا بڑا اعلانججوں کا احتسابAccountability of Judgesمیں بطور می...
16/05/2026

16 May 2026

THE BIG ANNOUNCEMENT OF DR. GODIZT

ڈاکٹر گاڈاِزٹ کا بڑا اعلان

ججوں کا احتساب

Accountability of Judges

میں بطور میڈیا چیف تمام اداروں بشمول فوج پولیس ایجنسیوں اور عدلیہ پر چیک ہوں اور ان کے جرائم مظالم تمام دنیا کے سامنے 1989 سے مسلسل ایکسپوز کررہا ہوں اور یہی کنجر غدار چوکیداری کے لیے دی گئی بندوقیں مجھ پر 26 سال سے تان کر مجبور کررہے ہیں کہ ان کے جرائم کا شریک بن جاوں اور جب میں کرپٹ سسٹم کا حصہ نہ بنا تو مسلسل جرائم کیے جارہے ہیں جس میں ان درندوں حرام پیدائشوں کی معاونت ججز کررہے ہیں۔ لہزا میں اعلان کررہا ہوں کہ اب جس بھی جج نے میرے ساتھ ظلم کیا ، بے انصافی کی، بد تمیزی کی ، توہینِ محتسب / میڈیا چیف کی اور میرے مقدمات کو خصوصی اہمیت اور حیثیت نہ دی تو میں ہر بے انصافی کرنے والے مجرم جج کے خلاف ایف آئی اے، نیب اور اینٹی کرپشن میں پرچہ درج کرنے کے لیے شکایت درج کراوں گا جس میں آرمی چیف، کور کمانڈر لاہور، ڈی جی آئی ایس آئی، سیکٹر ہیڈ آئی ایس آئی لاہور، ڈی جی ایم آئی ، ڈائریکٹر ایم آئی پنجاب کو نامزد کروں گا کیونکہ اب ساری دنیا کے سامنے ثابت ہو چکا ہے کہ یہی اصل گندگی غلاظت ہیں، یہی حرامی کنجر اور جرائم پیشہ ہیں، یہی بلیک میلرز ہیں، یہی بلیوپرنٹ وڈیوز میکرز ہیں، یہی منشیات فروش اور اسمگلرز ہیں، یہی قبضہ مافیا، ڈاکو ، لُٹیرے، کچے کے اور پکے کے چور ہیں، یہی اغوا برائے تاوان سے لیکر تمام اقسام کے آن لائن فراڈز، سائبر کرائمز کی ماں ہیں۔ درجنوں ججز ان حرامیوں کے بلیک میل کرکے بے انصافیاں کرانے کی مسلسل شہادتیں دے رہے ہیں۔ لہزا جب بھی کوئی جج اب میرے کسی مقدمہ میں بے انصافی کرے گا یا میرے پاس آنے والی شکایت میں بے انصافی نظر آئے گی تو اس جج کے خلاف صوبائی اور وفاقی وزارتِ قانون، ہائی کورٹ سپریم کورٹ، جوڈیشل کمیشن اور صدر پاکستان کو درخواستیں دی جائیں گی اس کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے، اینٹی کرپش اور نیب میں درخواست برائے اندراج مقدمہ داخل کیا جائے گا۔۔۔ ایف آئی آر ہو گی اور تفتیش میں سب کچھ سامنے آئے گا کہ کیا اس جج نے رشوت لے کر جرم کیا یا اس مستقل کرپٹ فوجی نیٹ ورک کا ہی شکار بنا۔ جو ادارہ ایف آئی آر درج نہیں کرے گا اسکے متعلقہ افسران کو سزائے موت سناوں گا اور وقت آنے پر نہ صرف سزا پر عملدرآمد ہو گا بلکہ ان کی فیملیز کے شناختی کارڈز میں غدار کی گندی نسل درج کیا جائے گا اور تمام سرکاری فوائد اور نوکریوں کے لیے نااہل کردیا جائےگا۔ میں پنجاب اور اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور نیب کو حکم دیتا ہوں کہ میری پینڈنگ کمپلینٹس پر فوری مقدمات درج کریں اور جو ایف آئی آرز درج ہیں اور انہیں آج تک دبا رکھے ہیں اُن پر میرٹ پرتفتیش شروع کی جائے۔ ان اداروں نے ایسے مقدمات بھی درج کرنے سے روک رکھے ہیں جن میں عدالتوں کے سخت ترین احکامات ہیں۔ جو ثابت کرتا ہے کہ ان اداروں میں بھرتی جرائم پیشہ افراد نے اداروں کو ذاتی ملکیت بنا رکھا ہے جو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا کہ تنخواہ دار نوکر ادارے کا مالک بن کر ایسے مالکوں سے غنڈا گردی کرے جو ریاست سے کچھ نہیں لیتے بلکہ دیتے ہیں۔ جو افراد کچھ نہیں کرنے کے قابل ہوتے وہ ریاست کی نوکری کرکے مستقل رقم وصول کرتے ہیں جو ہم اپنی باوزوں پر سروایو کرنے والے دیتے ہیں اور یہ حرامی ہمیں ہی کام نہیں کرنے دیتے اسی لیے ملک دن بدن قرضوں کے بوجھ تلے دب کر ان حرامیوں کی عیاشیوں کا اڈا بن چکا ہے۔۔۔۔۔

Emergency Column by Dr. Godizt – 15 May 2026 at 19:36ہنگامی کالممیرے صبح کے کالم "آخری وارننگ" کی دوسری قسط کے بعد آئی ا...
15/05/2026

Emergency Column by Dr. Godizt – 15 May 2026 at 19:36

ہنگامی کالم

میرے صبح کے کالم "آخری وارننگ" کی دوسری قسط کے بعد آئی ایس آئی اور لاہور ہائی کورٹ کی ہنگامی میٹینگ

دو ایڈیشنل سیشن ججوں کی آئی ایس آئی کو ڈاکٹر گاڈاِزٹ کے ساتھ مزید ظلم نہ کرانے کی درخواست کے بعد یہ میٹنگ ہوئی

فوری طور پر آج ہی ان دونوں ججوں سمیت متعدد ایڈیشنل سیشن ججوں فرحان شکور اور محمد وارث جاوید کا تبادلہ کرنا پڑا

آئی ایس آئی نے اپنے مکمل کنٹرولڈ ججوں کے نام شامل کراکے لاہور تبادلہ کرا لیا

کچھ عرصہ قبل اسی طرح ایڈیشنل سیشن جج لاہور مدثر فرید کھوکھر نے سیکٹر ہیڈ آئی ایس آئی کے پاوں پکڑے تھے کہ وہ ڈاکٹر گاڈاِزٹ کے ساتھ اب مزید کسی مقدمہ میں ظلم بے انصافی نہیں کریں گے تو انہیں تبدیل کرکے کوٹھے کی پیدائش ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شیخ عرفان کو مدثر فرید کھوکھر کی جگہ لا کر آئی ایس آئی نے ایسا جرم کرایا کہ اگر کوئی حلال پیدائش انکوئری کرے تو جج شیخ عرفان کو سر عام چوک میں لٹکا کرایک رگ کاٹ دے تاکہ آہستہ آہستہ مرے اوردنیا کواس خنزیر سے عبرت ہو

قارئین! چند روز سے میں مسلسل ٹویٹس اور فیس بک پر لکھ رہا ہوں کہ آئی ایس آئی میرے مقدموں میں ججوں کو بلیک میل کررہی ہے۔ جس کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور طارق خورشید خواجہ نے 11 مئی 2026 کو میری ایک ٹی اے پیٹیشن خارج کرکے ایسا جرم کیا ہے کہ یہ فائیل رہتی دنیا تک انکے ایسے سنگین جرم کا ناقابل تردید ثبوت ہے جس کی سزا کم از کم 100 کوڑے اور عمر قید ہونا لازم ہے۔ ان ہی جج صاحب نے پہلے بھی میری کئی پیٹشنز کے ساتھ ایسا ہی جرم کیا تھا اور میں نے اس مرتبہ ان کو بتایا تھا کہ جج صاحب جب ایک جج کے خلاف آپ کو ٹی اے (ٹرانسفر ایپلیکیشن کا مقدمہ) دائر کیا تھا تو اس نے بدلے میں میرے ساتھ کتنے جرائم کیے وہ سب میری کمپلینٹس کی صورت میں آپ کے سامنے ہیں۔ اس کے باوجود ڈی ایس جے نے وہی جرم کیا۔ جبکہ ان کے علم میں تھا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور محمد وارث جاوید آئی ایس آئی کے ہاتھوں بلیک میں ہو کر میرے ایک گواہ کے ذاتی استغاثہ کے ساتھ سنگین جرم کرچکا ہے اور اب میرے ذاتی استغاثہ میں بڑے اور طاقتور ترین سرکاری درندوں کی طلبی نہ کرنے کے لیے آئی ایس آئی کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہا ہے۔ پھر بھی ڈی ایس جے نے میری پیٹیشن قبول کرکے مقدمہ کسی اور کو ٹرانسفر نہ کیا بلکہ مقدمہ خارج کردیا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ایک جج مینیج کرلیا جاتا ہے تو اسے اس لیے تبدیل نہیں کیا جاتا کہ پھر نئے کو نئے سِرے سے بلیک میل یا مینیج کرنا پڑے گا اس لیے آئی ایس آئی نے حکم دیا کہ ٹی اے خارج کرو ہمارا یہ کام بھی جج وارث جاوید ہی کرے گا۔ لیکن وارث جاوید نے اس مرتبہ ان سے یہ ظلم نہ کرانے کی درخواست کی اور اسی طرح ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور فرحان شکور نے بھی آئی ایس آئی کے سیکٹر ہیڈ لاہور کے پاوں پکڑے اور کہا کہ ڈاکٹر گاڈاِزٹ کی ایک سول نگرانی میں آپ نے مجھ سے ایسا جرم کرا دیا ہے کہ جب بھی ڈاکٹر گاڈاِزٹ اس کی انکوائری کرانے میں کامیاب ہو گیا تو میں (اے ایس جے فرحان شکور) جیل جاوں گا۔ ان حالات میں میرے صبح کے کالم "آخری وارننگ" کی دوسری قسط کے بعد آئی ایس آئی اور لاہور ہائی کورٹ کی ہنگامی میٹینگ ہوئی۔ میرے کالم کے بعد دو ایڈیشنل سیشن ججوں کی آئی ایس آئی کو مزید ظلم نہ کرانے کی درخواست کے بعد یہ میٹنگ ہوئی۔ فوری طور پر آج ہی ان دونوں ججوں سمیت متعدد ایڈیشنل سیشن ججوں بشمول فرحان شکور اور محمد وارث جاوید کا تبادلہ کرنا پڑا۔ تاہم آئی ایس آئی نے اپنے مکمل کنٹرولڈ ججوں کے نام شامل کراکے لاہور تبادلہ کرا لیا ہے۔ ججوں کے تبادلے کی یہ لسٹ ابھی پندرہ بیس دن بعد مکمل ہونا تھی لیکن میرے آج صبح کے کالم کے بعد آج ہنگامی طور پر ججوں کو تبدیل کرنا پڑا جنہوں نے مزید ظلم اور بے انصافی سے انکار کیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل اسی طرح ایڈیشنل سیشن جج لاہور مدثر فرید کھوکھر نے سیکٹر ہیڈ آئی ایس آئی کے پاوں پکڑے تھے کہ وہ ڈاکٹر گاڈاِزٹ کے ساتھ اب مزید کسی مقدمہ میں ظلم بے انصافی نہیں کریں گے تو انہیں تبدیل کرکے کوٹھے کی پیدائش ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شیخ عرفان کو مدثر فرید کھوکھر کی جگہ لا کر آئی ایس آئی نے ایسا جرم کرایا کہ اگر کوئی حلال پیدائش انکوئری کرے تو جج شیخ عرفان کو سر عام چوک میں لٹکا کرپاوں کی ایک رگ کاٹ دے تاکہ آہستہ آہستہ لٹکے ہوئے مرے، اس کی لاش گدھیں اور چیلیں کھائیں اور دنیا کو اس خنزیر سے عبرت ہو۔ اس جج نے ایس پی سدرہ خان، ایس پی عبدالوہاب ، سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ سمیت متعدد کے خلاف دائر ایسے چار مقدمات میں سنگین جرائم کرکے ان درندوں کو بچایا تھا جن میں یہ باقی زندگی جیل گزارتے اور اگر خدا دیکھنے سننے کے قابل ہوتا تواس فیصلے کے بعد پاکستان مکمل نیست نابوت ہو چکا ہوتا۔ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہوتا۔ لیکن خدا تو کنجروں حرامیوں درندوں غداروں چوروں ڈاکووں منشیات فروشوں یزیدوں فرعونوں کا ساتھی ہے اور نیک ایماندار سچے شریف انسانوں کی عزت جان مال لوٹنے والوں کا پشت پناہ ہمیشہ سے ثابت ہے۔ حرامی جج شیخ عرفان کے جرم کا تسلسل آگے حرامی اے ایس جے ندیم چوہدری اور حرامی نوید اختر نے قائم رکھ کر پولیس سے میرے گواہ کے ساتھ ایسی دہشت گردی کرائی کہ اب میں مزید منفی الفاظ خدا کے لیے نہیں لکھنا چاہتا۔

Today’s Column by Dr. Godizt … 15 May 2026LAST WARNING (Episode 2)----آخری وارننگ (قسط 2) ججز کے خلاف جہاد ناگزیر ہوچکا ...
15/05/2026

Today’s Column by Dr. Godizt … 15 May 2026
LAST WARNING (Episode 2)----آخری وارننگ (قسط 2)
ججز کے خلاف جہاد ناگزیر ہوچکا ہے
وکیل نامی کرائے کے غنڈوں کا عدالتوں پر قبضہ ختم کیے بغیر عدل و انصاف ممکن نہیں
کرپٹ سرکاری سور درندے چوکیدار کے خلاف آنے والی درخواست پر ہنگامی طور پر انکوائری کرنا اور تب تک او ایس ڈی بنانا لازم
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور طارق خورشید خواجہ کو سُپاری آئی ایس آئی نے ڈائریکٹ دی یا چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ذریعے دی۔۔ اے ایس جے محمد وارث جاوید کو سیکٹر ہیڈ خود کیوں بلیک میل کررہا ہے اور میرے استغاثہ کے مجرموں کو طلب کرنے سے کیوں روک رہا ہے۔
قارئین! پہلی قسط کی شہ سرخیاں لکھ کر آگے چلوں گا۔ پہلی سُرخی تھی کہ پاکستانی عدلیہ ہر جرم میں شریک مجرم ہے۔ سہیل ظفر چٹھہ کو جی ایچ کیو نے قتلوں کے لیے کیسے قابو کیا۔ کرپٹ سرکاری سور درندے چوکیدار ہر قسم کی چوری درندگی غداری اسی کرپٹ نظام کے سر پر کرتے ہی۔۔۔۔ قارئین! میں 26 سال سے ایسٹیبلشمنٹ کی دہشت گردی کا مقابلہ تنہاء کررہا ہوں میرا خیال تھا کہ میرے ساتھ جو جرم ہو گا وہ عدالت لے کر جاوں گا پھر متعلقہ محکمہ کے مجرم سرکاری کرپٹ درندے سور کو سزا دلواں گا۔ پاکستان تو کیا دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا سول شخص جس نے وکالت کا کورس بھی نہ کیا ہو وہ دِکھا دیں جس نے خود مقدمات لکھنے سے لے کر عدالتوں میں دائر کرنے اور پھر آخر تک لڑے ہوں بلکہ چند روز پہلے ایک جج نے کہا کہ آپ کا وکالت کا تجربہ تو میرے سے بھی دو سال زیادہ ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ 24 سال قبل وکیل بنے تھے اور میں 26 سال سے عدالتوں میں دھکے کھا رہا ہوں۔۔۔۔ 2006 تک وکیلوں کے ساتھ انصاف لینے جاتا رہا اور جب معلوم ہوا کہ اپنے ساتھ لگا وکیل بھی مخالف کا ایجنٹ ہوتا ہے اور اپنے وکیلوں کے سنگین جرائم سامنے آئے تب 2006 سے اکیلا اصالتاً میدان میں اترا تو ایجنسیوں اور پولیس نے اپنے ٹاوٹ وکیلوں سے عدالتوں میں اپنا آئنی حق لینے سے روکنے کے لیے مسلسل حملے کرائے اور جب میں نہ رکا تو پھر ججوں کو ننگا ہوکر از خود دہشت گردیاں، بے انصافیاں ، مظالم کرنے پڑے۔ اس طرح میرے سامنے سارا جعلی نظامِ عدل ننگا ہو گیا۔ اب یہ پوزیشن سامنے آئی کہ 99 فیصد تو جج ہی سرکاری کرپٹ سور کو بچانے کے لیے از خود ہر جرم کرتا ہے اور اگر ایک فیصد جج کسی سچے مظلوم پر ترس کھا کر اور اُس پر مظالم کی انتہاء دیکھ کر کوئی حکم دیتے ہیں تو متعلقہ محکمہ کے درندے آفیسرز اس حکم کو جج کے باقاعدہ مُنہ پر مارتا ہے اور یہ الفاظ سرکاری سور کہتے ہیں کہ بیورو کریسی کی مہربانی سے ان ججوں کو چوہدریں ملی ہوئی ہیں۔ لاکھوں روپیہ ماہانہ کی عیاشیاں کررہے ہیں، ہر طرح سے بیورو کرسی کے مرحونِ منت ہیں۔ پولیس ہی ان کی حفاظت کرتی ہے پروٹوکول دیتی ہے، ہر عدالت پر پولیس کا بزریعہ نائب کورٹ قبضہ ہے جو جج کو آنکھیں دکھا کر پولیس آفیسر کا حکم بتاتا ہے۔۔ تو ان کی جرات کیسے ہو کہ افسر شاہی، پولیس ، فوج کی لوٹ مار پر کوئی ایکشن لیں۔ قارئین! سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک ہر قسم کی عدالت میں پچھلے 26 سال میں دو ڈھائی سو سے زائد مقدمے اصآلتاً دائرکیے ہیں اور وہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ عدلیہ کنجریہ ہے، غدار ہے، کرپٹ ہے۔ کیونکہ میرے کیس دو جمع دو چار تھے اور جج پانچ لکھ کر میری زندگی مسلسل تباہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ میرے معاملے میں آئی ایس آئی نامی دہشت گرد تنظیم کا لاہور کا اڈا مستقل سرگرم رہتا ہے اور ہر کام خراب کرنے کے لیے مکمل شیطان ثابت ہوا ہے۔ 12 اکتوبر 1999 کی فوجی دہشت گردی / غداری کے بعد کے تمام سیکٹر ہیڈز لاہور اور سی اوز ( وہ سی اوز کے عہدے جن پر 2019 میں کرنل عاطف اور کرنل راشد تعنیات تھے جو مجھے گھر غوا کرنے آئے تھے) کو گرفتار کرکے اصل تفتیش کی جائے تو ثابت ہو گا کہ میرے ساتھ ہر جرم کے پیچھے پولیس اور ججوں کی بیک پر یہی حرامی کوٹھے کی پیدائشیں تھیں اور آج تک ہیں۔ کیونکہ جب میں نے 1999 کی فوج کی غداری کے خلاف جہاد شروع کیا تو مجھے صحآفت سے مستقل آوٹ کرنے کا فیصلہ غدار ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ہوا جس پر عملدرآمد آج تک کرنے والوں میں سر فہرست، ہر قسم کا جرم کرنے والی دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ہے۔ قارئین! ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور طارق خورشید خواجہ نے تعیناتی کے پہلے روز سے ہی اب تک جتنے سنگین جرائم کیے ہیں انہیں بتانا ہو گا کہ ڈٰی ایس جے ورک صاحب نے جب مزید زیادتی کرنے سے انکار کیا تو انہیں آئی ایس آئی نے ڈائریکٹ ذمہ داری دی تھی یا چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ذریعے دی تھی۔ انہوں نے ڈی ایس جے لاہور لگنے کے لیے کس جگہ پھر میرے ساتھ جرائم کرنے کی حامی بھری تھی اور سُپاری اُٹھائی تھی۔ کیا متعدد اے ایس جیز بشمول ندیم چوہدری ، نوید اختر، محمد وارث جاوید، محمد عاشق، شیخ عرفان اور جے ایم یوسف سلیم ، جے ایم عمران خان لودھی وغیرہ کو میرے مجرموں کو بچانے کے لیے سنگین جرائم کرنے کا حکم ڈی ایس جے لاہور طارق خواجہ نے دیا تھا یا یہ بھی دونوں میں سے کسی ایک جگہ سے ڈائریکٹ احکامات لے رہے تھے۔ اے ایس جے محمد وارث جاوید کو سیکٹر ہیڈ خود کیوں بلیک میل کررہا ہے اور میرے استغاثہ کے مجرموں کو طلب کرنے سے کیوں روک رہا ہے۔ میرے استغاثہ میں نہ صرف دستاویزی ناقابل تردید ثبوت ہیں بلکہ وقوعہ جات کے عینی شاہدیں کی شہادتیں بھی ریکارڈ ہوچکی ہیں۔ ثابت ہوا کہ اس ملک میں کرپٹ سرکاری سور، فوجی یا کرپٹ جج کے احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اس لیے جو مجاہد خود سزائیں دے رہے ہیں وہی اللہ کے خاص بندے ہیں یہ کرپٹ سب شیطان کی اولادیں ہیں۔۔۔ غدار فوج غدار پولیس غدار ایجنسیوں غدار ججوں غدار وکیلوں کو جہنم واصل کرنے والے بلڈی سویلینز شہیدوں غازیوں کو میرا خراج تحسین ہے۔ قارئین! پہلی قسط میں پولیس ، اینٹی کرپشن ، ایف آئی اے اور کچھ ججوں کے سنگین جرائم کے ثبوت دیئے تھے اب اسی کالم "آخری وارننگ" کی اگلی اقساط میں ان سب کے مزید جرائم کے ثبوت دینے کا سلسلہ شروع کررہا ہوں۔۔۔

14/05/2026
13/05/2026

Breaking News

سیکٹر کمانڈر لاہور آئی ایس آئی نے اوپر سے احکامات ملنے پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کو حکم دیا کہ ڈاکٹر گاڈاِزٹ کی ٹی اے بر خلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور محمد وارث جاوید کے خلاف ٹی خارج کردیں جو سیشن جج نے 11 مئی 2026 کو خارج کردی۔ جبکہ جج محمد وارث جاوید کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ڈاکٹر گاڈاِزٹ کا استغاثہ خارج کردیا جائے اور ملزموں کی طلبی نہ کی جائے۔ جس میں ٹی اے رکاوٹ اگئی تھی اب انڈربلیک جج نے حامی بھر لی ہے کہ وہ آئندہ پیشی 14 مئی 2026 کو حکم کی تعمیل کر دیں گے۔۔

Corrected“Today’s Column by Dr. Godizt … 8 May 2026LAST WARNING----آخری وارننگپاکستانی عدلیہ ہر جرم میں شریک مجرم ہےسہیل...
08/05/2026

Corrected

“Today’s Column by Dr. Godizt … 8 May 2026
LAST WARNING----آخری وارننگ
پاکستانی عدلیہ ہر جرم میں شریک مجرم ہے
سہیل ظفر چٹھہ کو جی ایچ کیو نے قتلوں کے لیے کیسے قابو کیا
کرپٹ سرکاری سور درندے چوکیدار ہر قسم کی چوری درندگی غداری اسی کرپٹ نظام عدل کے سر پر کرتے ہیں
قارئین! آج ایک مرتبہ پھر میں پاکستان کی تباہی کے اصل مجرموں کے متعلق مختلف نئے ثبوتوں کی روشنی میں لکھ رہا ہوں کہ شاید کسی کو شرم و حیاء / خوفِ خدا پیدا ہو جائے اور کوئی کسی ادارے میں درندے سے انسان بن جائے۔ قارئین! میں جتنی بھی مثالیں یا ثبوت دیتا ہوں وہ اتنے مضبوط اور واضح ہوتے ہیں کہ کوئی بھی ان سے انکار نہیں کرسکتا اس کے باوجود یہ سرکاری سور اور حتی کہ بعض ججز بھی کھل کر ایسے ثبوتوں کو ضائع کرنے کے لیے اوپن ننگے سنگین جرائم کرتے ہیں اور جس کے خلاف جتنے مضبوط ثبوت ریکارڈ میں آجاتے ہیں وہ جی ایچ کیو اور اسکی ایجنسیوں بشمول آئی ایس آئی ، ایم آئی کا اتنا زیادہ چہیتا ہو جاتا ہے کیونکہ اب وہ بلا چوں چرا ہر قسم کی درندگی کے حکم کی تعمیل کرتا ہے جیسا کہ کچھ عرصہ قبل سہیل ظفر چٹھہ نامی ڈی جی اینٹی کرپشن کے خلاف ناقابل تردید دستاویزی ثبوت آئے جس میں اسے باقی زندگی جیل جانے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ خبر رساں ایجنسی شارپ آئی کو انتہائی معتبر اور عسکری ذرائع سے معلوم ہوا کہ جی ایچ کیو میں سہیل ظفر چٹھہ کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ آپکے خلاف جو پرچہ درج کرنے کا سیشن کورٹ اے ایس جے مدثر فرید کھوکھر کا حکم ہے اسے رپٹ میں تبدیل کردیا جائے گا اور جو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور شہباز احمد کھگا کے کلیئر احکامات کی نافرمانی اور ناقابل تردید جعلی دستاویزات کیس میں آپ نے رشوت کھا کر مدعی کے ساتھ ظلم کی انتہاء کی اس کیس کو بھی دبا دیا جائے گا اس کے بعد سہیل ظفر چٹھہ کو حکم ملا کہ ایک نیا شعبہ سی سی ڈی کے نام سے بنایا جائے گا جس کے آپ سربراہ ہوں گے اور جتنے جی ایچ کیو ، آئی ایس آئی اور ایم آئی حتی کہ پولیس کے بھی ٹاوٹ کریمنلز آوٹ آف کنٹرول ہو چکے ہیں یا اداروں کے لیے خطرہ ہیں کہ ان کے پاس افسروں کے جرائم کے بہت راز ہیں ان سب کو قتل کرنا ہے۔ سہیل ظفر چٹھہ نے اپنے جرائم پرجیل کی بجائے جی ایچ کیو کے لیے قتل و غارت کا فیصلہ کیا اور آج سب کچھ سب کے سامنے ہے۔ قارئین! ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شہباز احمد کھگا کے سامنے یہ مقدمہ گیا تھا کہ مسٹر اے 2010 میں فوت ہو گیا اور اس کی پراپرٹی لوکل کمیشن، رجسٹری محرر، پٹواری اور پرائیویٹ افراد بشمول پراپرٹی ڈیلر نے جعلی رجسٹری مرحوم کو 2022 میں زندہ ظاہر کرکے رجسٹر کرلی ہے۔ اینٹی کرپشن لاہور کے انکوائری آفیسر ڈی ڈی لاہور نے تیس لاکھ روپیہ لے کر فائیل داخل دفتر کردی اور ڈائریکٹر لاہور اور ڈی جی سہیل ظفر چٹھہ نے بھی داخل دفتر کردی جس کے بعد مدعی نے سیشن کورٹ 22 اے بی کا مقدمہ کیا جواے ایس جے شہباز احمد کھگا کے پاس لگا انہیں بتایا گیا کہ 2010 میں مرنے والا مسٹر اے 2022 میں قبر سے نکلا اور پٹواری کے پاس دستخط و نشان انگوٹھا لگا کر فرد بیع لی پھر لوکل کمیشن نے مُردے سے رجسٹری محرر کی موجودگی میں دستخط اور نشان انگوٹھے لے کر واپس قبر میں بھیج دیا ۔ اس مقدمہ پر جج صاحب نے ایف آئی آر درج کرنے کا کلیئر حکم دیا جس کے بعد اینٹی کرپشن افسران نے مدعی کے ساتھ اتنا ظلم کیا حتی کہ پولیس کو دباو ڈالا کی اسے کسی مقدمے میں جیل بھیجو اور ان حالات میں مدعی کا سارے سوشل میڈیا پر بیان آیا کہ میں خود کُشی کرلوں گا تو شراب کا گلاس پیتے ہوئے سہیل ظفر چٹھہ نے زور دار قہقہ لگایا کہ جا مر تیرے جیسے بلڈی سیولینز روز مرتے ہیں ہم ہی خدا ہیں ایسٹیبلشمنٹ ہی خدا ہوتی ہے۔ اگر وہ خدا ہوتا جو سن اور دیکھ اور سب کرسکتا ہے تو کیا وہ عزاب نہ لاتا وہ تو نبیوں پر وقت کی ایسٹیبلشمنٹس کے مظالم حتی کہ قتل کرنے پر بھی کبھی نظر نہ آیا اور نہ ہی آل محمد کے ذبح ہونے پر نظر آیا لہزا ایسٹیبلشمنٹ ہی خدا ہوتی ہے۔۔۔ قارئین! اس کے بعد مدعی نے توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا تواس میں جناب اے ایس جے شہباز احمد کھگا نے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی جی اینٹی کرپشن کو حکم دیا کہ وہ ڈائریکٹر اور ڈی ڈٰی لاہور پر پرچہ درج کرے (اس پر میں ڈاکٹر گاڈاِزٹ کھگا صاحب کی جرات ایمانداری پر سلام پیش کرتا ہوں) اس حکم کو بھی لپیٹ کر سہیل ظفر چٹھہ نے مدعی کے لیے اس سے ملاقات کرنے والوں کو کہا کہ حکم کی یہ بتی بنا دی ہے جاکر جج کی ڈیش میں دے دو۔۔۔ قارئین! اس کے بعد مدعی اور اس کی مدد کرنے والے تھک ہار کر خاموش ہو گئے۔ اب دو سال بعد اتفاق سے میری ملاقات موجودہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور احسن بھٹی سے ہوئی جہاں میں اپنے ایک مقدمہ میں گیا ہوا تھا اور مجھے اس مرحوم والے مقدمہ کے مدعی کی ایک بیوہ خالہ (محلےدار) نے بتایا کہ ان کے بھانجے والے کیس کی فائیل نکلوا کر ملزمان سے نئے ڈائریکٹر کے لیے دس لاکھ روپیہ مانگا جارہا ہے۔ قارئین! جب میں اپنی ایک درخواست کے لیے احسن کے پاس گیا تو میں نے ان سے کہا کہ فلاں فائیل آپ کی ٹیبل پر دو ماہ سے واپس طلب ہو کر کیوں پڑی ہے وہ تو داخل دفتر تھی تو انہوں نے کہا مجھے علم نہیں میں عملہ سے پوچھتا ہوں تو عملہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو میں نے کہا کہ عملہ سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ اب اس کیس میں آپ کی دیہاڑی لگنی ہے ورنہ مجھے بتائیں کہ 2010 میں مرنے والے نے 2022 میں رجسٹری کیسے کرائی تو وہ یہ بات سُن کر اُچھل پڑے اور فائیل منگوا کر پڑھی اور عملہ پر برس پڑے اور پھر اپنے ڈٰی جی کی دشمنی مول لے کراب کچھ عرصۃ قبل پرچہ درج کرلیا ہے۔ میں احسن چٹھہ کی جرات کو بھی سلام کرتا ہوں چاہے وہ میرے اس کیس سے بھی زیادہ مضبوط ترین درخواستوں پر کور کمانڈر لاہور اور ڈٰی جیز اینڈ سیکٹر ہیڈز آئی ایس آئی و ایم آئی کی ڈائریکٹ دھمکیوں کے باعث پرچے درج نہیں کر پا رہے اور دیگر ممتعدد محکموں کے افسران اور ججوں کی طرح انصاف نہیں دے پارہے۔۔۔ قارئین! آپ اندازہ کریں کہ سرکاری نوکر اس قسم کے کیسیز پر بھی غنڈا گردی کی انتہاء کرتے ہیں تو جہاں ان کی ڈسکریشن ہوتی ہے جہاں ان کے علم میں سچ آجاتا ہے لیکن مدعی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا وہاں یہ حرامی کوٹھے کی پیدائشیں کتنے ظلم اور بے انصافیاں جھوٹ مکاریاں کرتے ہیں۔ دکھ یہ ہے کہ میں 20 سال سے اصالتاً عدالتوں میں ایسے تگڑے ثبوت لے کر جارہا ہوں اور 98 فیصد جج بھی یہی درندگی جعلسازی فراڈ فائلیں چوری ثبوت چوری از خود کررہے ہیں اور میں تین درجن سے زائد ایسے مجرم ججوں کے خلاف آج تک متعدد کمپلینٹس داخل کرچکا ہو لیکن جس کے خلاف ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ کیس داخل کرتا ہوں وہ جی ایچ کیو کو پیارا ہوجاتا ہے جس کی اہم ترین مثال میرے ایک نامزد مجرم فراڈئیے جعلساز درندے جسٹس امین الدین خان کی ہے جب اس کے جرائم کی درخواست داخل ہوئی تب سے یہ غدار فوج غدار جرنیلوں کا ہردلعزیز ہوگیا حتی کہ اس کے لیے ایک نئی سپریم کورٹ ہی بنا دی گئی۔ جیسے سہیل ظفر چٹھہ کے لیے ایک نیا شعبہ سی سی ڈی بنا دیا گیا۔ کیا مزاہب کا بیان کردہ خدا کے نزدیک ایسے ہی درندے اسے عزیز ہیں جو وہ انہیں لمبا عرصہ تک سچوں ایمانداروں کی عزت جان مال لوٹنے کی طاقت اور صحت دیئے رکھتا ہے۔۔۔ قارئین!۔ ایسا ہی ایک مقدمہ تین چار سال سے پولیس نے درج کرنے سے روک رکھا ہے کہ ایک نامعلوم پولیس ملازم کے ہاتھوں بلیک میل ہوکر اپنی فیملی کا سب کچھ اس پر لُٹانے والی ملزمہ ق نے یتیم بچے کی ایک پراپرٹی پر پولیس کا قبضہ کرایا جہاں 2008 سے پولیس مختلف کریمینلز کو پناہ دیتی ہے۔ یتیم مدعی الف نے یہ درخواست تھانہ سمن آباد اور تھانہ اسلام پورہ میں 2021 سے مسلسل دیں کہ اس کی پراپرٹی کے جعلی دستاویزات بنا کر سول کورٹ سے ڈگری لینے کی کوشش کی گئی سول کورٹ نے جعلی قرار دے کر مقدمہ خارج کردیا اور تمام اعلی عدالتوں سے اپیلیں بھی ملزمہ ق کو فراڈ جعلساز قرار دے کر خارج ہو گئیں ہیں لیکن پولیس نے 420 ، 468، 467، 471 ، 109 وغیرہ کا پرچہ نہ دیا ۔ پولیس افسران بشمول سی سی پی اور بلال صدیق کمیانہ نے پرچہ درج کرنے سے تھانہ کو روک دیا جس کی تصدیق ایس پی ڈاکٹر عمر کی باتوں سے بھی مجھے ہوئی اور اب ایس ایس پی آپریشن لاہور توقیر کی حرکات و سکنات سے ہو چکی ہے۔ پولیس افسران کے خلاف یتیم بچہ مدعی الف اینٹی کرپشن درخواست لے کرگیا جہاں انہی درندوں یعنی ڈٰی جی سہیل ظفر چٹھہ اور اے ڈی جی وقاص نے اپنے ساتھی پیٹی بھائیوں آئی جی ، سی سی پی او ، ڈی آئی جی، ایس ایس پی، ایس پی ، ڈی ایس پی، ایس ایچ او پر پرچہ دینے سے انکار کردیا اینٹی کرپشن کے خلاف پیٹیشن اے ایس جے کامران کے پاس لگی لیکن وہ شہباز احمد کھگا کی طرح ایماندار جرات مند ثابت نہ ہوئے اور کمزور ڈائریکشن دی اور ڈٰی جی نے وہ بھی مدعی کے منہ پر مار دی۔ جبکہ پولیس کو یہ پرچہ درج کرنے والے احکامات کی پولیس بھی مسلسل آج تک توہین کررہی ہے بلکہ ایک انتہائی جرات مند قابل اور قابل تعریف جج اے ایس جے لاہور جناب محمد کاشف صاحب نے سی سی پی او لاہور کو یہ حکم بھی دیا کہ عدالت کے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر ایس ایچ او پر پرچہ درج کرے جس پر سی سی پی او نے اس لیے عمل نہ کیا کیونکہ اسی کے حکم پر تو پرچہ درج نہ ہورہا تھا۔ اس وقت موجودہ ایس ایچ او سمن آباد انسپکٹر اعتزاز عارف توہین کررہا ہے اس ایچ او کو میں پولیس کی جاب کے لیے مس فٹ قرار دیتا ہوں انتہائی مغرور کپڑوں سے باہر شخص ہے ایس ایچ او کی کرسی پر بیٹھ کر اپنے آپ کو منتخب وزیراعظم سے زیادہ سمجھتا ہے۔ انتہائی مغرور اور بد تمیز ہے جس کی تصدیق مجھے متعدد متاثرین کرچکے تھے لیکن اس کی جھلک میں نے ملاقات میں خود دیکھی۔۔ اسے دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ بندوق پکڑانے سے پہلے بھرتی کے وقت ذہنی صحت چیک نہیں کی جاتی یا جان بوجھ کر ایسی ذہنیت کے درندے بھرتی کیے جاتے ہیں۔۔۔ قاارئین! ایس ایس پی آپریشنز توقیر کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ ناقابل تردید ثبوت جعلی دستاویزات، جعلی کرائے نامے ہیں۔ تمام اعلی عدالتیں بھی جعلی قرار دے چکی ہیں اور عدالت کے حکم پر پرچہ درج نہ کرنے پر ایس ایچ او پر بھی پرچہ درج کرنے کا حکم ہوچکا ہے۔ میں یہ بات ایس ایس پی آپریشنز لاہور توقیر کو بار بار سمجھاتا اور اسے سمجھ نہیں آتی یا وہ سمجھنا نہیں چاہتا اور اب وہ میری بات سننے سے انکاری ہے شاید کہیں سے اسے ڈنڈا چڑھا ہے کہ وہ میری بات اتنی تسلی سے کیوں سنتا رہا۔۔۔ وقت آنے پر میں ایس ایس پی توقیر کا ریمانڈ لے کر اس کے منہ سے اس حرامی کا نام نکلوا کر اس درندے کے پورے خاندان کو چوک میں لٹکاوں گا جس نے اچھے بھلے یامانداری سے چلتے بات سنتے انکوائری کرتے توقیر کو ایمانداری کرنے اور مجھ سے بات سننے سے سے روکا۔۔۔۔ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور محمد کاشف صاحب کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں جنہوں کچھ اور ایسے جرات مندانہ احکامات کئے جس پر فوجی ایسٹیبلشمنٹ نے ان کے ساتھ ظلم کیا جس کی مجھے اطلاع ملی ہے۔ لیکن وہ پھر بھی اسی جرات ایمانداری کے ساتھ قائم ہیں۔۔۔ ایسی ایماندار جرات مند شخصیات کو میں "انسان" سمجھتا ہوں اور یہ ملک کا اصل اثاثۃ ہیں۔۔۔۔ قارئین! یہ دو مثالیں میں نے ایسی دی ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی ان کمپلینٹس کا توڑ نہیں لا سکتا اس کے باوجود سرکاری کرسیوں پر بٹھائے گئے چوکیدار سر عام خوفناک جرائم کرتے ہیں جس کی وجہ عدلیہ ہے جو ان کو بچاتی ہے۔ قارئین! میرے پا س بے شمار مقدمات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ججوں نے سرکاری نوکروں اور پولیس کو بچانے کے لیے ظلم کی انتہاء کی۔ ایسے کئی مقدما ت ہیں کہ سول معاملے میں پولیس نے ٹھیکا اُٹھا کرغلط پرچہ دیا اور جب مظلوم نے پولیس افسران کے خلاف ایٹی کرپشن میں درخواست دی تو پولیس افسران نے سول ججوں کو اور پھر بعد میں اپیل عدالتوں کو مینیج کرکے سول کیس میں جرم کرایا تاکہ وہ اینٹی کرپشن میں کہہ سکیں کہ سول کورٹ نے مدعی کا پراپرٹی کا مقدمہ خارج کردیا ہے اور وہ جھوٹا ثابت ہو گیا اور تب تک اینٹی کرپشن یا ایف آئی اے انکوائری دبائے رکھتی ہے تاکہ مجرم سرکاری نوکر کاونٹرایویڈنس تیار کرسکیں یا مدعی کو کہیں اور پھنسا کر بلیک میل کرسکیں۔۔ ایسے ایک کیس کا میں یہاں ذکر کروں گا جس میں تمام سول ججوں نے جرم کیے اور آخری فیصلہ دینے والے سول جج نے پولیس کو بچانے کے لیے سچے مظلوم کمزور اور غریب ترین مدعی کے ساتھ تو جرم کی انتہاء کردی اور اسکا مقدمہ ڈس مس کرکے پولیس کو پرچے سے بچایا۔ مقدمہ یہ تھا کہ مدعی نے لکھا کہ جناب جج صاحب ہمارا ڈیڑھ مرلہ کا مکان میں روڈ پر واقع مارکیٹ کی بیک پر ہے جہاں ان دکانداروں کو کسی بھی قیمت پر گودام کی جگہ بمشکل ملتی ہے۔ میرے والد 85 سالہ بوڑھے اور ذہنی طور پر 70 فیصد معزور ہیں یعنی بقائمی ہوش و حواس نہ ہیں۔ ان کی دوسری بیوی اور میری سوتیلی بہن دوسرے شہر رہتی ہیں اور ایک دکاندار سے ملی بھگت کرکے چار لاکھ لے کر مکان کے اشٹام پر میرے بوڑھے والد کے انگوٹھے لگا دئیے ہیں اور والد کو اپنے گھر قابو کررکھا ہے۔۔۔۔۔ یہ مقدمہ مدعی نے داخل کیا جبکہ اینٹی کرپش میں یہ درخواست دی کہ اس جعلی رجسٹری کے بعد دکاندار نے مجھ سے مکان چھننے کے لیے تھانہ سے 5 لاکھ روپیہ میں سودا کرکے جھوٹا پرچہ ناجائز قابض اور چوری کا درج کیا اور اندر کردیا یعنی جس گھر میں پیدا ہوا اسی میں ناجائز قابض پولیس نے کردیا اور لکھا کہ دکاندار کا کچھ سامان اس مکان میں پڑا تھا جو اس نے چوری کیا۔۔۔ لیکن قدرت کا معجزہ کہ سارا علاقہ تھانہ پر چڑھ دوڑا اور پولیس قبضہ نہ لے سکی اور پولیس نے زبردستی ایک راضی نامہ لکھوا کر ضمانت کرا دی۔ ان جرائم پر جب اینٹی کرپشن کو درخواست دی اور یہ بھی لکھا کہ پولیس کے سامنے ثابت ہوا کہ اسی نوے لاکھ کے ڈبل اسٹوری مکان کا دکاندار نے چار لاکھ دیا جبکہ رجسٹری میں دس لاکھ لکھا اور عدالت میں اپنے دعوی میں 20 لاکھ لکھا۔ پھر بھی اینٹی کرپشن نے پرچہ نہ دیا۔ اس کے بعد مدعی نے سول کورٹ میں 476 سی آر پی سی کے تحت درخواست دی کہ جو دعوی ارب پتی دکاندار نے دائر کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ 20 لاکھ میں خریدا اور جو رجسٹری ساتھ لگائی ہے اس میں لکھا ہے کہ 10 لاکھ میں مکان خریدا جو کہ عدالت سے کلیئر کٹ جھوٹ ثابت ہے پہلے تو عدالت 476 کی درخواست نہ لیتی رہی پھر جب لینا پڑی تو جج نے یہ حکم لکھ کر خارج کردی کہ 476 کا فیصلہ دعوی کے فیصلہ میں کیا جائے گا اور پر جب دعوی کا فیصلہ کیا تو اس میں دکاندار کو ڈگری دے دی اور 476 کے متعلق لکھا کہ اس کا فیصلہ تو پہلے ہو چکا ہے۔ یعنی جو اس سے پہلے والےسول جج نے لکھا تھا کہ 476 کا فیصلہ دعوے کے فیصلے کے ساتھ کیا جائے گا یعنی 476 کا فیصلہ تو ہوا ہی نہ تھا۔ خبر رساں ایجنسی شارپ آئی کے ذرائع کے مطابق اس دکاندار کے وکیل نے سول جج کے ساتھ اسے بٹھا کر 50 لاکھ روپے میں ڈیل کرائی جو اس نے ادا کیا اسے وکیل نے ثابت کیا کہ 476 میں اسے سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا تو اس نے خوفزدہ ہو کر جج کو بھی پیسے دیئے ور وکیل تو پہلے ہی لمبی دیہاڑٰی لگائے بیٹھا تھا۔۔۔ اب اندازہ کریں کہ سرکاری نوکر اور جج سب ہی اپنی قانونی علم کا مکار دماغ کا کیسے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں تقریباً ہر مقدمہ میں ایسے جرائم موجود ہیں لیکن چونکہ مقدمات کرائے کے بدمعاشوں المروف وکلاء کے ذریعے ہوتے ہیں لہزا جج اور وکیل یہ جرم مل کر کرتے ہیں اور وکیل ایک گاہک کے لیے جج نہیں خراب کرتا ورنہ ہر جج پر ایک سائیڈ کا وکیل لازمی پرچہ درج کرائے لیکن جرم دونوں سائیڈ کے وکلاء اور جج کمرے میں بیٹھ کر طے کرکے کرتے ہیں۔۔۔ سول جج کے اس فیصلے کے بعد یہ قانون ہو گیا کہ عدالت میں جعلی دستاویز داخل کرنا یا جھوٹ لکھنا جرم نہ ہے۔ رجسٹری میں 10 لاکھ اور عدالت میں 20 لاکھ لکھنے والا معزز قرار پایا اور جو سچا مدعی جس وراثتی مکان میں پیدا ہوا جو اس کے باپ سے پہلے دادا کی ملیکت تھا ایسے مکان کا مالک عدالت نے چار لاکھ دے کر 85 سالہ ایسے بوڑھے سے ہتھیانے میں مدد کی جو بقائمی ہوش و حواس نہ تھا۔ قارئین! اسی لیول کے جرائم متعدد ججوں نے میرے ساتھ کیے ہیں لیکن ان کا بھی سرکاری سوروں کی طرح احتساب ممکن نہ ہے۔ جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جرائم پیشہ غدار فوج / آئی ایس آئی /ایم آئی کو اپنے ناجائز کاروبار ، دھندے ، ناجائز قبضے، اسمگلنگ ، اغوا برائے تاوان، چوریاں، ڈکیتیاں ، منشیات فروشی، ملک فروشی، بلیو فلم میکنگ سمیت تمام جرائم کے تحفظ کے لیے کرپٹ ترین سرکاری نوکر ہر محکمہ میں چاہیں اور انہیں کرپٹ سرکاری سوروں درندوں کو بچانے کے لیے کرپٹ تریم عدالتی نظام اور ججز اور کرپٹ ترین وکیل درکار ہیں۔۔۔ اورمزاہب کا بیان کردہ اللہ ایشور گاڈ خدا رب نامی کردار ان درندوں کو مستقل طاقت اور صحت دئے رکھتا ہے۔۔۔ میں آخر میں ججوں ، بیورو کریٹس اور پولیس سے کہوں گا کہ میرے پاس ہر نعمت اور طاقت تھی دس تگڑی قومی اور امریکی کمپنیاں میڈٰیا گروپس فوج نے اس لیے گرائے کہ میں نے ان کو بیرکوں میں واپس بھیجنے کے لیے 12 اکتوبر 1999 کی غداری کے بعد مسلسل جدو جہد شروع کی اس دوران فوج نے بڑی بڑی آفرز اور آخری نگران وزیراعظم کی دی۔ میرے انکار کے بعد کاکڑ کا نمبر آیا اور وہ نگران وزیرعظم بنا ۔ آج بھی جی ایچ کیو ، آئی ایس آئی ، ایم آئی پُر اُمید ہیں کہ آخر عدلیہ اور پولیس وغیرہ اداروں کے جرائم سے تنگ آخر ہمارے ہی قدموں میں گرے گا۔ اوئے جاہلو! ڈرو اُس وقت سے کہ یہ واحد پہلا اور آخری شخص جو غداروں کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑا ہے اگر ٹوٹ کر غدار بلاک میں چلا گیا تو تم سب کا کیا حال ہو گا۔ لہزا اب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ مجھے فوری انصاف عدالتوں اور پولیس نے ہر کیس میں نہ دیا تو اب آنے والی فوجی آفر میں قبول کرلوں گا اور شرط یہ رکھوں گا کہ میرے ساتھ جس جس جج وکیل اور افسر نے زیادتی کی سنگین جرائم کیے، پہلے اُن سب کو عبرت کا نشان بناوں گا۔۔۔۔ اوئے پھر سمجھو کہ میں اتنا کامیاب اور تگڑا صحآفی تھا کہ ملک کا صدر اور آرمی چیف مجھے از خود درخواست کرکے کبھی انڈٰیا آگرہ مزاکرات اور کبھی امریکہ دوروں پر ساتھ لے کر جاتا اور اربوں کے پلاٹوں و دیگر آفرز کرتا۔ میں نے ح سچ کی خاطر سب کچھ گنوایا، مجھے یاد ہے کہ جب میری 2002 میں پاکستان کے پہلے پرائیویٹ ٹی وی چینل کے سربراہ کے طور پر تمام اخبارات میں تصویر کے ساتھ خبریں شائع ہوئیں تو آئی ایس آئی کے حکم پر ڈٰی جی آئی ایس پی آر پنجاب شعیب بن عزیز نے مجھے خریدنے کے لیے ریسٹورنٹ میں کھانے کی دعوت پر بلایا اور مختلف آفرز دیں جن میں 100 ویڈیوکیمرے ، ڈی این جی ایل آرز، خفیہ فنڈز سمیت بہت کچھ شامل تھا جو میں نے شکریہ کے ساتھ انکار کردیا۔۔۔ اوئے کھوتو سوچو میں نے غدار فوج کی 12 اکتوبر 1999 کی غداری کے خلاف جب حق سچ کی لڑائی فوج سے اور ایجنسیوں سے شروع کردی تو اس کے بعد انجئنیرنگ کرکے مجھے مقدمات میں پھنسانا شروع کیا گیا۔ یہ سب وکیلوں ، پولیس اور ججوں کے ذریعے کیا گیا۔۔۔

Address

Sharp Eye Headquarter, Qurtaba Chowk
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sharp Eye posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sharp Eye:

Share