Brain Gravity

Brain Gravity Guiding students in Physics, spreading Islamic values, and sharing life-changing motivation — all with sincerity and purpose.

Learn | Reflect | Elevate — with Aqeel Afzal

20/07/2026

ہمیں زیادہ پیداوار زیادہ آمدنی کی طرف لگا کر ہمارے دیسی بیج چھین لیے گئے ہیں
ہمیں کھاد کے پیچھے لگا کر ہماری قدرتی کھاد وہ خود خرید رہے ہیں
ہمیں سپرے کے پیچھے لگا کر ہماری زمین کے قدرتی محافظ اور زمین کے فطری نظام کو متاثر کیا جا چکا ہے
ہمیں خالص دودھ سے ہٹا کر ڈبے والے غیر فطری دودھ کو بیچا جا رہا ہے جو ہے ہی کیمیکل
ہم سے دیسی گھی چھین کر چربی اور پام آئل جو پوری دنیا میں بین ہے کھلایا جا رہا ہے
کتے کھوتے تو عام کھلائے جا رہے ہیں اور پکڑے بھی جا رہے ہیں انسانی گوشت بھی کچھ مشہور ہوٹلوں میں کھلایا جاتا رہا ہے
ہم سے لسی چھین کر مکھن چھین کر مارجرین کھلایا جا رہا ہے
ہم سے مسواک چھین کر ٹوتھ پیسٹ پر لگا دیا گیا ہے
ہم سے مٹی کے پاک برتن چھین کر ایلومینیم اور کیمیکلز والے نان سٹک برتنوں میں کھلایا جا رہا ہے
ہم سے ہماری آبائی دیسی خوراک چھین کر ہمیں سفید آٹے اور بیکریوں کا چورن بیچا جا رہا ہے
تندور کی موٹی روٹی کی جگہ پیزا برگر شوارما اور یورپین ریسیپیز کے پیچھے لگا دیا گیا ہے
گنے اور گڑ کی جگہ سفید زہر چینی بیچی جا رہی ہے
صابن سرف اور شیمپوز میں بھی زہر شامل ہیں ہوا میں زہر چھوڑے جا رہے ہیں سانس لینے میں بھی دشواری ہو
حتیٰ کہ یہ لوگ صدیوں سے ہمارے پیچھے ہیں ہمیں کمزور کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں بموں سے اور گولیوں سے تو مار ہی رہے ہیں یہ لوگ اپنی پروڈکٹس سے اور اپنے علاج سے بھی لوگوں کو مار رہے ہیں
میں یہ ہرگز نہیں کہوں گا کہ آپ حکیم کے پاس آئیں
آپ صرف فطرت کے عین مطابق زندگی گزاریں ان کے فتنوں سے خود کو بچائیں ان کی تمام پروڈکٹس بند کر دیں ان کو آپ شکست دے سکتے ہیں صرف فطرت کی آغوش میں جا کر اپنا خیال رکھیں اور صحت مند زندگی جئیں
پاکستان میں مختلف بیماریوں کی شرح یہ ہے
شوگر (ذیابیطس): تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ (34.5 ملین) پاکستانی بالغ افراد شوگر کا شکار ہیں، یعنی تقریباً ہر 3 بالغ افراد میں سے 1۔ پاکستان دنیا میں شوگر کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
دل کی بیماریاں: اندازاً 2 سے 3 کروڑ پاکستانی کسی نہ کسی قلبی بیماری یا اس کے بڑے خطرے (جیسے ہائی بلڈ پریشر، کورونری شریانوں کی بیماری، ہارٹ فیلئر وغیرہ) سے متاثر ہیں۔ پاکستان میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں دل کی بیماریاں شامل ہیں
معدے کی بیماریاں: اس کی ایک مجموعی قومی تعداد موجود نہیں ہے کیونکہ اس میں تیزابیت، السر، قبض، بدہضمی، فیٹی لیور، آئی بی ایس، ہیپاٹائٹس اور دیگر کئی بیماریاں شامل ہیں۔ مختلف مطالعات کے مطابق کروڑوں پاکستانی کسی نہ کسی معدے یا نظامِ ہاضمہ کے مسئلے سے متاثر رہتے ہیں، مگر ایک مستند قومی عدد دستیاب نہیں ہے
پاکستان میں جگر کے مریضوں کی ایک واحد سرکاری تعداد موجود نہیں کیونکہ جگر کی بیماریاں کئی اقسام کی ہیں، جیسے فیٹی لیور، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، سروسس اور جگر کا کینسر
فیٹی لیور (NAFLD/MASLD): پاکستان کی عام آبادی میں تقریباً 30% افراد اس کا شکار ہیں۔ موجودہ آبادی کے حساب سے یہ اندازاً 7 سے 8 کروڑ افراد بنتے ہیں
ہیپاٹائٹس بی اور سی: مجموعی طور پر تقریباً 1 سے 1.2 کروڑ پاکستانی ان دائمی وائرل انفیکشنز سے متاثر ہونے کا اندازہ ہے، جو بعد میں جگر کے سروسس اور کینسر کا سبب بن سکتے ہیں
اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ لوگوں کو کون شکار کر رہا ہے کون ہے جو یہ بیماریاں پھیلا رہا ہے یہ اعداد و شمار اصل تعداد سے کہیں کم ہیں اصل تعداد چھپائی جا رہی ہے جو کہ حقیقت ہے اصل میں اس سے بھی زیادہ لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں خدارا خدارا اپنی روٹین کو بدلیں ان کے چنگل سے آزاد ہوں
حد سے زیادہ شوگر کے مریض حد سے زیادہ بلڈ پریشر کے مریض حد سے زیادہ جگر کی مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ کچھ اور نہیں ہے بلکہ آپ کی غیر فطری خوراک ہے اس کو فی الفور چھوڑ دیں

Newton ring
26/06/2026

Newton ring

Projectile MotionHeight of ProjectileTime of flight range of projectile
22/06/2026

Projectile Motion
Height of Projectile
Time of flight
range of projectile

19/06/2026
19/06/2026

Cross Product of Two Vectors
Lecture Delivered by Aqeel Afzal
at Concept Academy Sharaqpur Sharif

Join the institution of more lectures

Dot Product of two Vectors
18/06/2026

Dot Product of two Vectors

Address

Sharaqpur Sharif
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Brain Gravity posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Brain Gravity:

Shortcuts

Share