Doctor Arfah

Doctor Arfah Wish me on 2nd September ��

زیرِ نظر آنے والی تصویر اسلام آباد میں سامنے آنے والے میڈیکل کیس کی ہے جس کا مختصر علاج بغیر کسی دوائی کے بتایا گیا ہے۔ج...
17/08/2026

زیرِ نظر آنے والی تصویر اسلام آباد میں سامنے آنے والے میڈیکل کیس کی ہے جس کا مختصر علاج بغیر کسی دوائی کے بتایا گیا ہے۔

جواب: ہمبستری کے دوران جلدی فارغ ہو جانے کی عام طور پر دو وجوہات ہیں اور خوش قسمتی سے دونوں کا علاج ممکن ہیں.

1: دس سکینڈز میں فارغ ہونا بیماری نہیں۔ بلکہ pelvic floor کے پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (Pelvic floor (پیلوک فلور) جسم کے نچلے حصے میں موجود پٹھوں (muscles) کا ایک گروپ ہے جو bladder، bowel اور reproductive organs کو سہارا دیتا ہے۔)

اس کا بہترین علاج: کیگل ورزش ہے اس کو آپ کہیں بھی کر سکتے ہیں۔
طریقہ کار : پیشاب روکنے والے پٹھوں کو دن میں 30 بار 3-5 سیکنڈ سکیڑیں اور پھر ڈھیلا چھوڑ دیں ایسا کرنے سے ٹائمنگ حیران کن حد تک بڑھ جائے گی۔

2: مردانی عضو کی حد سے زیادہ احساسیت: عضو کے اگلے حصے cap پر موجود اعصاب حد سے زیادہ احساس ہوتے ہیں تھوڑی سی رگڑ سے کرنٹ احساسیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے اور جلدی فارغ ہونا عام ہو جاتا ہے اس کا علاج ڈبل کنڈ #م کا استعمال ہے جس سے احساسیت کم ہو جاتی ہیں اور فارغ ہونے میں واضح فرق آتا ہے۔
#ڈاکٹر

ڈاکٹر عارفہ اسپیشل لمبی قسطجوان     34 سے 38​میں نے بلڈنگ کے مالک سے اسے دس لاکھ دلوا دیے اور پانچ لاکھ کمیشن خود کھر کھ...
17/08/2026

ڈاکٹر عارفہ اسپیشل لمبی قسط

جوان 34 سے 38

​میں نے بلڈنگ کے مالک سے اسے دس لاکھ دلوا دیے اور پانچ لاکھ کمیشن خود کھر کھرا کر لیا۔
اس کے بعد ایک کے بعد ایک کام ملتا گیا۔ کبھی کوئی زمین خالی کرانا ہوتی تو کبھی کوئی سرکاری افسر ناجائز فائل روک کر بیٹھا ہوتا۔ میرے جاتے ہی افسر اپنا ریٹ کم کر لیتا اور کام میں ناجائز اٹکائے روڑے ہٹا لیتا۔
میں اچانک ہی بزنس مینوں اور امیروں کی کمپنی کا اہم جزو بن گیا۔ چھ مہینوں کی معطلی میں شہر میں میرے تعلقات اور راہ و رسم میں اتنا اضافہ ہوا کہ جتنا سروس کے دوران بھی نہیں ہوا تھا۔ میں شہر کا ایک برانڈ بن گیا تھا، کاشف لی۔ خوف اور دہشت کی علامت، کوئی مجھ سے الجھنا نہیں چاہتا تھا۔
جہاں میں دہشت اور نوٹ دونوں کما رہا تھا وہاں امیروں کی سنگت میں مجھے عورت بھی وافر میسر آنے لگی۔ کبھی کسی امیر سیٹھ کی جوان بیٹی ہوتی تو کبھی سیٹھ کی ماڈل بیوی۔ کوئی اپنے شوہر کی مرضی سے آئی ہوتی تو کوئی بوڑھے شوہر سے جنسی ضروریات پوری نہ ہونے پر چوری چھپے آتی۔ میں نے پارٹیوں میں ملنے والی کال گرلز سے تو مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ فریال، روبی، بینش، گوہر، ماروی نجانے کتنی تھیں جن کے پاس پیسہ اور جوانی تو تھی مگر جنسی طور پر مطمئن نہیں تھیں۔ کسی کو ایڈونچر چاہیے تھا تو کسی کو طاقتور مرد۔ شوہر سے چھپ کر مجھ سے ناجائز سیکس ریلیشن رکھنے میں کسی کو ایڈونچر محسوس ہوتا تھا تو کسی کو بوڑھے شوہر سے وقتی نجات۔ کسی کو ویسے ہی سیکس فرینڈ شپ رکھنے کا شوق تھا۔ میں سب کی خواہشوں پر پورا اترتا تھا۔ پولیس کی سروس کو میں نے اب مس کرنا چھوڑ دیا تھا۔
میں چھ مہینوں بعد بحال ہوا تو بحالی ہیومن رائٹس والوں نے چیلنج کر دی اور میں پھر معطل ہو گیا۔
​بڑی مشکل سے میں ایک بار پھر بحال ہوا تو ایک ان کاؤنٹر کیس کے خلاف دوبارہ پی آئی ایل فائل کر دی گئی۔ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ کون کروا رہا ہے۔ وہ تمام لوگ جو نہیں چاہتے تھے کہ ڈیوٹی سنبھالوں۔ ان میں میرے افسران بالا بھی شامل تھے۔ وہی مختلف لوگوں کو اکسا کر میری بحالی کو کورٹ میں چیلنج کر دیتے تھے۔ مگر ان کی اس حرکت کا مثبت کی بجائے منفی اثر ہونے لگا تھا۔ میں جو پولیس کی وردی میں قانون کا پابند ہوتا تھا اور احکامات کی پاسداری کرنا میرا فرض ہوتا تھا، جب معطل ہوتا تھا تو کسی کے حکم بجالانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ میں اب بھی کام پولیس کے لیے ہی کرتا تھا مگر کئی کام نان آفیشل ہوتے ہیں۔ میری لسٹ میں نان آفیشل کام آفیشل کاموں سے بڑھ گئے تھے۔ایک دن ایک خوبصورت حسینہ جو ایک بیوروکریٹ کی بیٹی تھی کے ساتھ ہوٹل میں تھا کہ موبائل بجا۔ وہ کپڑے اتار کر باتھ روم میں پتا نہیں کیا کر رہی تھی، جبکہ میں ... کے پیکٹ کو کھول رہا تھا۔ میں نے کال اٹینڈ کی تو اے آئی جی صاحب تھے۔ وہ بولے: کاشف پندرہ منٹ میں ہیڈ کوارٹر پہنچو۔ میں اس بے وقت کی کال پر نہایت بدمزاج اور پسٹل اٹھا کر بیلٹ میں اڑستے ہوئے بولا: سنو! میں جا رہا ہوں، مجھے ضروری کام سے جانا ہے۔
وہ ننگی ہی باتھ روم سے نکل آئی اور بولی: یار! میں اتنی مشکل سے آئی ہوں اور تم ایسے جا رہے ہو؟
میں نے اس کے جوان ننگے جسم کو للچائی نظروں سے دیکھا اور بولا: سوری بے بی۔ ڈیوٹی کالز۔
اس نے زچ ہو کر کہا: Go ... yourself. Don't call me again.
میں جانتا تھا کہ یہ غصہ وقتی ہے اور دو چار دنوں بعد یہ خود ہی کال کر کے ملنے کا کہے گی۔
​میں ہیڈ آفس پہنچا تو میرانان سروس پسٹل باہر ہی رکھوا لیا گیا۔ ویسے بھی وہ لائسنس یافتہ تو تھا نہیں ایک گینگسٹر کے پاس سے ملا تھا۔ اچھا امپورٹڈ پسٹل تھا تو میں نے رکھ لیا۔ میں اے آئی جی کے کمرے میں گیا تو وہ کسی کے ساتھ گھمبیر گفتگو میں مصروف تھا۔ اس نے مجھے اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا اور بیٹھنے کا کہا۔ اس نے دراز سے ایک فائل نکالی اور میری طرف بڑھا دی۔
​میں نے فائل تھام لی، وہ ایک گینگسٹر مجو شوٹر کی تھی۔ نیچے سینٹرل منسٹری کا اریسٹ کرنے کا آرڈر تھا۔
وہ مجھ سے بولا: ہاں کاشف! کیا کر رہے ہو آج کل؟
میں بولا: سر! وکیل کو امیر کر رہا ہوں۔ معطل ہوں۔ کورٹ کی پیشیاں بھگت رہا ہوں۔
وہ بولا: یہ مجو شوٹر کے بارے میں کیا جانتے ہو؟
میں بولا: نذیر بلوچ کے ساتھ تھا پہلے۔ اب کالو گینگ میں ہے۔ دو مہینے پہلے جو ٹارگٹ کلنگ ہوئی تھی رولنگ پارٹی کے ورکرز کی، اس میں سنا تھا کہ یہ بھی تھا۔
وہ بولا: ہاں، انفارمیشن تھی کہ یہ ایران بھاگ گیا ہے، مگر کل منسٹری کو ٹپ ملی تھی کہ یہ لیاری میں ہے۔ اس کا پکڑنا ہے اور یہ ایس پی قریشی ہے، کرائم برانچ لاہور سے۔ ان کے حوالے کرنا ہے۔ میں بولا: سر! تو لاہور کی پولیس کا یہاں کیا کام؟ پنجاب پولیس کو تو لگتا ہے کہ سندھ پولیس میں سب ہیجڑے ہیں۔
وہ میری طرف منہ کر کے بولا: ہمیں یہ نہیں لگتا کہ سب ہیجڑے ہیں۔
بس لگتا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے ایجنٹ ہیں۔
​میں بولا: سر! تو فرق کیا ہے؟ آپ کے اعلیٰ افسران ان کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ ہمارے سپاہی اور کانسٹیبل تک ان کے ایجنٹ ہیں۔ بات تو ایک ہی ہے نا۔ آپ کا آئی جی سے لے کر ایس ایچ او تک سب صوبائی منسٹرز کے شوٹرز کا کام ہی تو کرتے ہیں۔ نام اس کو گڈ گورننس کا دے دو۔
اے آئی جی نے بیچ میں مداخلت کی اور بولا: پلیز! یہ فضول بحث کسی پارٹی کے لیے رکھو۔ کاشف تم جاؤ اور ان کو یہ بندہ اٹھا کر دو۔
میں بولا: سر! یہ کام ان کا ہے۔ میں تو ویسے بھی معطل ہوں۔ جان تک دے دوں تو بھی کچھ نہیں ملنے والا کیونکہ آفیشلی تو میں آن ڈیوٹی ہی نہیں ہوں۔
وہ بولا: یار! تم جاؤ تو سہی۔ میں دیکھوں گا کہ تمہاری اگلی انکوائری اور کورٹ کی پیشی میں کچھ ہو سکے
☆☆☆☆☆
میں بولا: ہاں کیونکہ پولیس خود گینگ بن چکی ہے۔ وہاں پولیس والا گینگسٹر بن جاتا ہے اور یہاں گینگسٹر پولیس والا بن جاتا ہے۔
وہ برا سا منہ بنا کر میرے ساتھ چل پڑا۔ ہم نے پولیس پارٹی تیار کی۔ ایک اے ایس پی ساتھ لیا۔ دو پولیس موبائلیں تیار ہوئیں۔ میں اور ایس پی قریشی الگ کار میں لیاری کی جانب روانہ ہو گئے۔ ہمیں جو ٹپ ملی تھی اس کے مطابق وہ وہاں ایک گھر میں چھپا ہوا تھا۔ مقامی حکومت کی بجائے اسے وفاقی حکومت اٹھانا چاہتی تھی تو یقینی طور پر وہ کوئی اہم مہرہ تھا۔ اس کی سیاسی وابستگیاں بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں تھیں۔ وہ سیاسی جماعت کے ہی آرمڈ ونگ کا حصہ تھا۔
میں لیاری میں پہنچا تو شام ہو چکی تھی۔ میں یہاں کی تمام گلیوں سے واقف تھا اور مجھے معلوم تھا کہ وہ جس جگہ چھپا ہوا ہے وہاں سے اسے اٹھانا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ یہاں کا بچہ بچہ اسے اطلاع پہنچا دے گا۔ اس لیے ہم دونوں ہی پہلے آئے تھے۔ وہ بولا: ہمیں پولیس پارٹی کا انتظار کرنا چاہیے؟
میں بولا: اگر اس چکر میں رہے تو وہ نکل جائے گا۔ جو نہی پولیس موبائل ان گلیوں میں داخل ہو گی ایک وہی نہیں نہ جانے کتنے اشتہاری ایک ساتھ بھاگ نکلیں گے۔ جسے چوہے کی بل سمجھو اکثر وہاں سے کوبرا بھی نکل آتا ہے۔
وہ شاید میرے متعلق سن چکا تھا اور ویسے بھی وہ ایک افسر تھا کسی ریڈ میں خود پسٹل تھام کر گھسنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ میں گلی میں گھستا ہوا اس مکان کے سامنے ایک فروٹ کی ریڑھی پر جا کر رک گیا۔ وہ میرے پاس آ کر بولا: کیا ہوا؟
​میں بولا: ہماری ریڈ پارٹی پہلے لیاری تھانے جائے گی۔ وہیں سے اسے اطلاع ہو جائے گی اور بھاگنے کی کوشش کرے گا۔
وہ بولا: مگر تم اتنے شیور کیسے ہو کہ اسے تھانے سے مخبری ہو جائے گی؟

میں بولا: میں نے کراچی میں سروس کی ہے سر۔ یہاں گینگسٹرز اس وقت تک کسی علاقے میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک تھانے میں ایک آدھ مخبر نہ بٹھا لے۔ یہاں خبر سیل ہوتی ہے۔
میں نے ریڑھی سے ایک سیب اٹھا کر منہ میں رکھا اور بولا: ایک بات بتائیں سر۔ اگر یہاں گولی چل جائے تو آپ مجھے کور اپ تو کریں گے نا؟ کیونکہ یہ آپریشن تو آپ کا ہے۔ وہ گولی آپ کے کھاتے میں جائے گی۔ کیا خیال ہے؟
وہ بولا: اس پبلک پلیس پر گولی چلنے کا کتنا بڑا فتنہ کھڑا ہو جائے گا تم نہیں سمجھتے کیا؟
میں بولا: مسئلہ تو یہی ہے نا سر۔ میرے ساتھ ساتھ یہ بات گینگسٹر بھی سمجھتے ہیں کہ پولیس اگر یوں سرعام گولیاں چلاتی ہے تو انکوائری، کورٹ کیس، معطلی اور جھوٹا ان کاؤنٹر پتا نہیں کیا کیا بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لیے وہ گولی چلانے میں بالکل نہیں ہچکچاتے کیونکہ ان کو معلوم ہے ہم ضرور ہچکچائیں گے۔
میرے موبائل پر میسیج آیا کہ لوکل تھانے سے دو سپاہی لے لیے ہیں اور آفیشلی اطلاع ہو گئی ہے کہ ہم نے یہاں ریڈ کرنی ہے۔
ٹھیک تین چار منٹوں بعد اسی مکان کے سامنے دو موٹر سائیکل رکے۔ جن پر تین افراد سوار تھے۔
​مکان کا دروازہ کھلا اور ایک بندہ تیزی سے ایک موٹر سائیکل سوار کے عقب میں سوار ہو گیا۔ اس کے پاس ایک سفری بیگ تھا اور چہرے پر سعودی رنگدار رومال۔ وہی مہرہ جو شوٹر تھا، موٹر سائیکل تیزی سے گلی میں آئے تو میں بولا: فائرنگ پوزیشن سنبھال لیں سر۔
جو نہی موٹر سائیکل مجھ سے بیس فٹ دور پہنچے، میں نے پسٹل نکالا اور بنا وارننگ پہلا فائر سیدھا اس موٹر سائیکل سوار کی چھاتی پر کیا جس کے پیچھے مجھو شوٹر سوار تھا۔ گن فائر کی دھماکے کے ساتھ موٹر سائیکل بری طرح ایک کھڑے رکشے سے ٹکرایا اور بڑی بری طرح دونوں سوار گرے۔
دوسرا موٹر سائیکل تیزی سے رکا میں نے دوسرا فائر کیا، مگر اچانک ہی وہ دونوں موٹر سائیکل چھوڑ کر کود کر اترے، گولی پاس سے نکل گئی۔ گلی میں بھونچال آ گیا، لوگوں کے چیخنے کی آوازیں شور شرابہ اب کود کر اترے، گولی پاس سے نکل گئی۔ گلی میں بھونچال آ گیا، لوگوں کے چیخنے کی آوازیں شور شرابہ شروع ہو گیا۔ مجھو شوٹر اٹھ کر بھاگا، میں نے عقب سے فائر کیے تو دوبارہ رکشے کے پیچھے دب گیا۔
موٹر سائیکل سواروں نے ایک دکان کے تھڑے کے پیچھے سے مجھ پر فائرنگ شروع کر دی۔ میں نے جھک کر ایک آسان والی خالی پک اپ کے پیچھے پناہ لی۔
گولیوں کا تبادلہ جاری تھی کہ پولیس کی موبائلیں شور مچاتی میرے عقب میں نمودار ہوئیں۔ وہ تینوں جھک کر الٹے قدموں بھاگے۔ میں نے پیچھے آنے والے سپاہی کو کہا، اس مکان کے دروازے پر فائر کر ان کو اندر مت گھسنے دینا۔
اس نے کلاشنکوف سے جس مکان سے مجھو نکلا تھا، اس کے دروازے کی طرف فائرنگ کی تو ان کا فرار کا راستہ بھی گولیوں نے روک دیا۔ میں نے تیزی سے میگزین بدلا اور جھک کر بھاگا۔
​ایک قدرے ہمت والا سپاہی رائفل لے کر میرے پیچھے جھک کر بڑھا اور اس نے بھی وقفے وقفے سے ان تینوں کے چھپنے کی جگہ کی طرف فائرنگ کرنا شروع کر دی۔
میں اس دوران اچانک ہی بھاگ اور سب سے پہلے میں نے ایک گرے ہوئے موٹر سائیکل پر بھاگتے ہوئے پیر جما کر چھلانگ لگائی اور ٹین کی چھت والا پان سگریٹ کے کھوکھے کی چھت کو پکڑ لیا اور زور لگا کر اوپر چڑھا گیا۔ وہاں سے میں ایک فائر کیا تو گولی ایک موٹر سائیکل سوار کی پنڈلی میں لگی وہ بلبلا کر چیخا، اس نے بے ساختہ پسٹل دور پھینک دیا اور ہاتھ اٹھا دیے۔ دوسرے نے میری طرف دیکھا اور پسٹل کو سیدھا کرنے کی کوشش کی تو میں نے فائر کیا۔ وہ فائر سے بچنے کے لیے جھکا تو میں کھوکھے سے اس کے اوپر کود پڑا۔ میں اپنے پورے وزن سے اس کے اوپر گرا۔ اس کی چھاتی اور بازو میرے پیروں کے نیچے آ گئے۔ وہ درد سے چلایا اور شاید کوئی ہڈی بھی شاید چٹخی ہو۔ میں نے اٹھتے ہی اس کے منہ پر فرنٹ کک مار کر اسے زمین پر گرا دیا۔ مجھو شوٹر کا پسٹل شاید موٹر سائیکل سے گرتے وقت کہیں گر گیا تھا، وہ خالی ہاتھ تھا اور مجھ سے بیس پچیس فٹ دور لوہے کے موبل آئل والے ڈبے کے پیچھے ایک پانا بطور ہتھیار تھامے دبکا ہوا تھا۔ میں نے اس موٹر سائیکل کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور اس کے منہ پر پوری طاقت سے با کنگ پنچ مار کر اسے ایسا گرایا کہ اسے منہ سے خون تھوکنے لگا۔
میں نے پولیس والے سپاہیوں کو چیخ کر کہا: فائرنگ بند کرو فائرنگ بند کرو۔
میرے ساتھ ساتھ ایس پی نے ایک دکان کے کاؤنٹر کے پیچھے سے یہ کہا تو سپاہیوں نے فائرنگ روک دی۔
میں فائٹ کے انداز میں مکے تان کر اس کی طرف بڑھا۔ وہ اٹھا اور موٹر سائیکل میں کسی کام آنے والے
​پانے سے مجھ پر حملہ کر دیا۔ میں نے سائیڈ پر ہو کر اس کی وار بچایا۔ اس نے دوبارہ وار کیا تو میں نے الٹا ہاتھ بڑھا کر اس کی کلائی کے سامنے ہاتھ رکھ کے اس کا وار بلاک کیا اور اس کے سینے پر سٹریٹ کک ماری۔ وہ زمین پر گرا تو میں نے اسے اٹھنے کا اشارہ کیا۔ اس کی اٹھ کر پانا لہرایا تو میں کر گھما کر اس کی کلائی پر راؤنڈ س کک ماری۔ پانا ہاتھ سے نکل کر نجانے کدھر چلا گیا۔ اس نے کلائی تھامی اور پھر کسی سانڈ کی طرح پھر کر میرے پیٹ میں سر سے ٹکر مارنے کی کوشش کی۔ میں نے ہٹتے ہوئے ایک ہاتھ اس کی گدی میں رکھا اور دوسرے نیفے پر کھا کر اسے مزید زور سے بجلی کے کھمبے سے دے مارا۔
وہ سر جو میرے پیٹ میں لگنا تھا کھمبے میں لگا تو وہ سر تھام کر زمین پر گرا اور چیخنے لگا۔ سر سے خون بہنے لگا۔ پولیس کے سپاہیوں نے باقی تینوں کو بھی پکڑ لیا۔ ایک موٹر سائیکل سوار ذرا زیادہ زخمی تھی کیونکہ گولی پسلیوں میں لگی تھی اور منہ سے بار بار خون کی الٹی ہو رہی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ کوئی پھیپھڑا گولی سے پنکچر ہو گیا تھا۔
میں واپس بڑھا تو ایس پی قریشی بگڑ کر بولا: یہ سب کیا تھا؟
میں بولا: کیا، کیا تھا سر؟ میں تو یہاں ہوں ہی نہیں۔ یہ سب تو سر آپ نے کیا ہے، میں تو ویسے ہی سسپنڈ ہوں۔
میں نے جان بوجھ کر اتنا بے دھڑک ہو کر کام کیا تھا کہ کچھ بھی ہو جاتا میرا نام تو کوئی رپورٹ میں ڈال ہی نہیں سکتا تھا بھلے میں دس بندے یو نہی مار دیتا کیونکہ مجھے کام کہنا ہی تو ہین عدالت اور خلاف قانون تھا۔ اس انکوائری کے بعد مجھے ایک بار بحال کر دیا گیا مگر سی ٹی ڈی کی بجائے دوبارہ تھانے میں
لگا دیا گیا۔ تھانہ بھی ایسا جہاں بھینس منڈی کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں تھا۔
​فریال ایک ماڈل تھی، اس کا شوہر کراچی کا مشہور بزنس مین تھا جس کا امپورٹ ایکسپورٹ کا کام تھا۔ اس کام میں سمگلنگ کی بھی آمیزش تھی۔ فریال کا ساٹھ سالہ بوڑھا شوہر اپنی پوتی کی عمر کی بیوی کو پا کر پھولا نہیں سماتا تھا مگر اس کو مطمئن کرنے کی صلاحیت بستر میں رکھتا ہو نہ ہو مگر چیک بک میں ضرور رکھتا تھا۔ فریال کے اکاؤنٹ میں اتنا بیلنس تھا کہ اسے شوہر سے محبت یا تسکین کی کمی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ وہ ایک کروڑ پتی بڈھے کی بیوی کا کردار پا کر بہت خوشی اور مطمئن تھی۔
میری ملاقات فریال سے ایک کار ایکسیڈنٹ کیس میں ہوئی تھی۔ فریال نے اپنی اونچی سینڈل کی وجہ سے کار ایک دوسری کار میں دے ماری۔ اس کا مالک سرکاری ملازم تھا اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر اس نے فریال پر پرچہ کٹوا دیا۔ معاملہ رفع دفع ہونے کی جو قیمت وہ طلب کر رہا تھا وہ زیادہ تھی۔ میں تھانے کسی کام سے گیا تھا اور حسب معمول معطل تھا اور پارٹ ٹائم قبضہ چھڑانے والا کام کر کے روزی روٹی کا جگاڑ لگا رہا تھا۔ میں کمرے میں داخل ہوا تو میری نظریں خیرہ ہو گئیں، ٹائیٹ جینز کے اوپر ڈھیلا کر تا پہنے وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ تھانے کا ایس ایچ او اور باقی عملہ بھی اس کے ہوشربا حسن پر آنکھیں سینک رہا تھا۔ میں داخل ہوا تو ایس ایچ او ہڑ بڑا کر اٹھا۔ میں نے ایس ایچ او سے کہا: مجھے ذرا اسلم گروپ کی لینڈ مافیا کے خلاف ایف آئی آر کی کاپی چاہیے۔
وہ بولا: سر ! آپ بیٹھیں، میں ابھی منگواتا ہوں۔
میں اس کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ میں کراچی کا بدنام پولیس افسر تھا جس کی شہرت ان کاؤنٹر سپیشلسٹ کی بن چکی تھی اور یقین مانیں اس بدنامی نے میرے کئی کام سیدھے کر دیے تھے۔
​کوئی بھی پولیس والا مجھ سے الجھنے یا متھا لگانے سے گریز کرتا تھا۔ یہاں تک کہ میرے ساتھ کام کرنے والے بھی سبھی ڈرتے تھے۔ مذکورہ ایس ایچ او بھی مجھے دیکھ کر جس طرح پریشان ہوا تھا اس کے پیچھے میرے عہدے کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ ایس ایچ او کی اگر ڈی آئی جی یا ایس ایس پی سے بنی ہوئی ہو تو وہ ایسے ایس پی کو گھاس ہی نہیں ڈالتا۔ مگر مجھ سے تو وہ بھی دور رہتے تھے تو ایس ایچ او کی کیا مجال تھی کہ وہ مجھ سے کج بحثی کرے۔
ایس ایچ او نے بحث میں الجھے فریقین کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا کہ صاحب کو جانے دو پہلے۔
میں نے فریال کے حسین چہرے پر نظر ڈالی اور دل ہی دل میں اس کی تعریف کی کہ کمبخت کیا حسن پایا ہے۔
وہ مجھے ہی تک رہی تھی، اچانک ہی اس نے مجھے مخاطب کر لیا اور بولی: آپ ایس پی کاشف ہیں نا۔
میں بولا: جی ہاں ٹھیک پہچانا مجھے۔
وہ بولی: وہ میں مراد میمن کی پارٹی میں تھی جب آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔
میں نے حیرت سے اسے دیکھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میری اس سے ملاقات ہوئی ہو اور مجھے اس کا حسین چہرہ بھول گیا ہو۔ یہ مجھے چونا لگا رہی ہے اس نے مجھے کسی پارٹی میں دیکھا ہو گا، اب یہ گولی کرا رہی ہے۔
میں مسکرا کر بولا: ہاں ہو سکتا ہے۔ مجھے یاد نہیں ہے۔ ایڈووکیٹ مراد میمن سے میری اچھی علیک سلیک ہے۔ سنائیے آپ یہاں کیسے؟
​وہ معصومیت سے بولی: دیکھیں نا، ان صاحب کی گاڑی سے ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور یہ مجھے اندر تک کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرے ہسبینڈ ملک سے باہر ہیں اور ہمارے وکیل بھی ان کے ساتھ گئے ہیں۔ میں نے مراد میمن صاحب کا نمبر ملایا تو وہ بھی کسی میٹنگ میں ہیں۔ یہ مجھے تھانے لے آئے ہیں۔
میں نے اس آدمی کی طرف دیکھا جو میرے تعارف سے ہی پریشان ہو گیا تھا۔ وہ ہکلا کر بولا: سر جی میڈم بڑی سپیڈ میں تھیں اور ساری غلطی ان کی تھی، میری گاڑی تو بالکل تباہ ہی کر دی۔

اتنے میں ایس ایچ او ایک کانسٹیبل کے ساتھ مطلوبہ فائل اٹھا لایا۔ میں نے ایف آئی آر کا نمبر ایک کاغذ پر لکھا اور اس کے مندرجات بھی نوٹ کیے۔ میں نوٹ کرتے ہی اٹھا اور بولا: کتنا نقصان ہوا ہے آپ کا؟
وہ بولا: پورے پانچ لاکھ کا۔
میں بولا: ذرا نظر نہ مار لیں۔
وہ گڑ بڑا گیا اور میں اس کے ساتھ باہر نکلا۔ اس کی چھوٹی سی کار فریال کی بڑی کار سے کچلی تو گئی ہی تھی مگر پانچ لاکھ تو مکمل کار کی بھی قیمت نہ ہوتی شاید۔ میں اس آدمی سے بولا: ایک کام کرو، اس کار کو ورکشاپ بھیج دو۔ جو بھی بل ہو وہ میڈم کے گھر بھجوا دینا۔ تم کو جو چوٹیں لگی ہیں ان کی دوائی کا بل بھی میڈم کو دے دینا۔ کیوں ٹھیک ہے نا میڈم؟
فریال خوشی سے مسکرا کر بولی: جی جی بالکل ٹھیک ہے۔
​میں ایس ایچ او سے بولا: یہ دونوں گاڑیاں ورکشاپ بھیج دو اور تمہارا جو خرچہ ہوا ہے گاڑیوں کا یہاں لانے کا، وہ میڈم سے لے لو۔
وہ بولا: نہیں نہیں سر۔ اس کی ضرورت نہیں ہے۔
میں فریال کی طرف دیکھتے ہوئے بولا: میڈم خوشی سے دینا چاہ رہی ہیں۔
فریال میری بات سمجھ گئی اور پرس میں سے پانچ پانچ ہزار کے چھ سات نوٹ نکال کر ایس ایچ او کو تھمانے کی کوشش کی تو اس نے صاف منع کر دیا تو میں نے اشارے سے ساتھ کھڑے کانسٹیبل کو دینے کا کہا۔ کانسٹیبل نے تھام لیے۔ میں جانے کے لیے اپنی کار کی طرف بڑھا تو فریال بولی: کاشف صاحب ! مجھے ذرا لفٹ دیں گے گھر تک؟
میں سمجھ گیا کہ وہ میرے ساتھ تھانے سے نکل جانا چاہتی ہے، میں مسکرا کر بولا: شیور وائے ناٹ۔

وہ اٹھلاتی ہوئی میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ ایس ایچ او اور کار مالک کا اترا ہوا چہرہ میں دیکھ سکتا تھا مگر کسی میں جرات نہیں تھی کہ مجھ سے کوئی اور بات کرتے۔ پانچ لاکھ کی فگر ایس ایچ او نے ہی کار مالک کو دی ہو گی کہ پانچ لاکھ کی ڈیمانڈ کرو جو ملا آدھا آدھا۔ اب گاڑی پچاس ساٹھ ہزار میں ٹھیک ہو جانی تھی۔
فریال نے کار میں پھیل کر بیٹھتے ہوئے کہا: جان چھٹی۔ اینڈ تھینکس ٹو یو سر۔
میں بولا: نو پرابلم۔ کہاں ڈراپ کروں آپ کو؟
​وہ انگڑائی لیتے ہوئے بولی: گھر پر کوئی نہیں ہے تو جانے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ ایک گرم کافی مل جائے تو سکون آ جائے۔
میں اس کی دعوت دیتی اداؤں اور لہجے سے سب سمجھ رہا تھا، بولا: تو کافی کہاں سے پی جائے۔
وہ ہوٹل کا نام لیتے ہوئے بولی: وہاں چلتے ہیں۔
میں نے گاڑی ہوٹل کی طرف موڑ لی۔ وہ بولی: یہاں لابی میں نہیں، یہاں میں اکثر آتی رہتی ہوں۔ اوپر روم میں منگوا لیتے ہیں۔
دروازہ بجا اور ایک ویٹر کافی لے آیا۔ اس نے صوفے کے پاس الجھے ہوئے فریال کے کپڑے بھی دیکھے اور صوفے پر گیلے بالوں والی فریال کو بھی دیکھا۔ وہ یہ منظر روز دیکھتا ہو گا، اس نے ایسے ظاہر کیا کہ وہ اندھا ہے۔ اس نے کافی رکھی اور الٹے پیروں واپس لوٹ گیا۔
یہ فریال سے میری پہلی ملاقات تھی اور اس کے بعد ملاقاتوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ میری جتنی بھی دیگر سرگرمیاں تھیں، فریال ان میں سر فہرست تھی۔ سیٹھ گوہر سے بھی میں مل چکا تھا اور اس کے کچھ اٹکے ہوئے کام بھی نکلواۓ تھے۔ میرا ہر ایسے کام کا کمیشن فکس تھا اور وہ میں ہر حال میں وصول کرتا تھا۔ سیٹھ گوہر کو بھی میرے اور فریال کے خفیہ تعلق کی یقیناً معمولی سن گن ہو گی، وہ
​اتنا بھی انجان نہیں ہو گا۔ مگر ایسی ... غیرت دکھانے کے لیے نہیں ہوتیں۔ فریال سے میرا تعلق الٹا اس کے لیے منافع بخش رہا تھا۔ کچھ میری بدنامی کا اثر تھا کہ اس نے مجھ سے انجان رہنے میں ہی عافیت سمجھی ہو گی۔
☆☆☆☆☆

​اس دن بھی میں فریال سے مل کر ہوٹل سے نکل رہا تھا کہ مجھے آئی جی صاحب کی کال آگئی کہ مجھے گھر پر آکر ملو۔ میں ان کے گھر پہنچا تو ان کے ساتھ ایک دراز قد بندہ سفاری سوٹ میں ملبوس تھا۔ میں جان سکتا تھا کہ وہ بندہ کسی حساس ادارے کا فرد ہے۔ آئی جی صاحب سگار کے کش پر کش لگا رہے تھے۔
وہ مجھے آتا دیکھ کر بولے: کاشف! کم آن میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ بیٹھو۔
میں بیٹھ گیا تو انہوں نے پوچھا: کیا کر رہا ہے آج کل؟
میں بولا: سر! ہمیشہ کی طرح معطل ہوں۔
وہ بولے: یہ تو اپنی حرکتیں ہیں۔ خیر، تیری تکالیف اب ختم ہونے والی ہیں۔ تجھے ایک کام سونپنا ہے
میں بولا: جی سر بتائیں۔
وہ بولے: یہ اصغر صاحب ہیں۔ ان کا تعلق انٹیلی جنس سے ہے۔ انہوں نے خاص طور پر تمہارا نام لیا ہے کہ یہ کام تم کرو گے۔
میں بولا: جی سر بتائیں کیا کام ہے؟
​انہوں نے ایک فائل میرے سامنے رکھی۔ اس میں سب سے اوپر ایک لڑکی کی تصویر تھی، اصغر بولا: یہ ماہ رخ خان آفریدی ہے۔ اسلام آباد کی یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ہے۔ تین دن قبل یہ ۔۔۔ آباد سے غائب ہو کر یہاں آئی ہے۔ ہماری اطلاع کے مطابق یہ کسی لڑکے کے ساتھ ہے جو اسے ورغلا کر کراچی لایا ہے۔
میں نے کندھے اچکائے اور بولا: اگر ایسا ہے تو یہ کیس میرے کرنے والا تو نہیں ہے۔ تمام تھانوں میں اس کی تصویریں دیں اور پولیس اس کو ڈھونڈے۔ اس میں انٹیلی جنس کی کیا دلچسپی ہے۔
وہ بولا: ہمیں یہ انفارمیشن ملی ہے کہ یہ کسی قسم کی دہشت گردی میں استعمال ہونے والی ہے۔ یا تو یہ خود کسی دہشت گرد تنظیم کی رکن ہے یا اس کو برین واش کر کے کوئی کام اس سے لینا مقصود ہے۔

​ہمیں اس کی تحویل سے جہاد اور دیگر اس قسم کا مواد ملا ہے، جس سے شدت پسندی کا تاثر ملتا ہے۔
میں نے گہری سانس لی اور بولا: سر! اب مجھے سچ بھی بتا دیجیے کہ اگر یہ لڑکی جو یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ہے، وہ جہاد میں دلچسپی رکھتی ہے تو اس کی شخصیت میں یہ جذبہ انتقام کیوں کر پیدا ہوا؟ مجھے یقین ہے کہ انٹیلی جنس نے اس کا ماضی اچھی طرح کھنگالا ہوگا۔ وہ وجہ بھی بتا دیجیے۔
وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا: وجہ شرمناک ہے۔ تم پولیس والے ہو سمجھتے ہو گے۔
میں اچھی طرح سمجھتا تھا کہ کوئی بھی جہاد کے حق میں انتقاماً ہوتا ہے، بولا: میں جاننا چاہوں گا۔
وہ بولا: کچھ سال پہلے زلزلے کے وقت یہ ایک امدادی کیمپ میں تھی اور وہاں موجود ایک ڈاکٹر نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کی۔ اس نے شکایت بھی کی مگر کسی نے کان نہیں دھرے۔
​میں نے گہری سانس لی اور بولا: اس وقت اس کی عمر کیا تھی؟
وہ بولا: تیرہ چودہ سال۔ معاملے کی کہیں کوئی تحریری انٹری نہیں ہے، بس زبانی معلومات ہے۔
میں افسردگی سے بولا: ہر انسان جو جہاد کی طرف متوجہ ہونے لگتا ہے اس کے ساتھ ماضی میں کہیں نہ کہیں ناانصافی ہوئی ہوتی ہے۔ دیکھ لیں، یہ بھی اسی ناانصافی اور سسٹم کا شکار ہے۔ کون ایک نابالغ بچی کی بات کا بھروسا کرتا کہ اس کو کسی پڑھے لکھے سلجھے ڈاکٹر نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس ڈاکٹر کو تو یاد بھی نہیں ہوگا مگر اس کی روح تک زخمی ہوگئی ہوگی۔ یہ چھیڑ چھاڑ نہیں ریپ کا معاملہ تھا۔
آئی جی صاحب بولے: دیکھو کاشف۔ اس سارے معاملے میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ ماضی میں اس کا ۔۔۔ ہوا یا نہیں۔ ہمارا فوکس یہ ہے کہ اس لڑکی کو ڈھونڈا جائے۔ قبل اس کے کہ کچھ غلط ہو جائے، یہ کسی دہشت گرد گروہ کے ہاتھ لگ جائے۔ اگر کوئی لڑکے کا یا عشق معشوقی کا چکر ہے تو ٹھیک ہے، مگر اگر وہ نکلا جو انٹیلی جنس سوچ رہی ہے تو بہت مشکل ہو جائے گی۔
میں نے کچھ لمحے سوچا اور بولا: سر! میں یہ کام کروں گا مگر کچھ سر پر تو ملے۔
اس پر اصغر بولا: ہمارے پاس ایک موبائل سیل لوکیشن ہے۔ اس کے غائب ہونے سے پہلے اس کی ​ایک نمبر پر لمبی بات ہوئی تھی۔ لڑکی کا نمبر اور وہ نمبر اس کے بعد سے بند ہیں۔ لڑکی کے سیل کی لوکیشن یونیورسٹی ہاسٹل تھی اور اس دوسرے نمبر کی لوکیشن یہاں کراچی کی تھی۔ وہ ملیر پندرہ کے علاقے میں تھی۔ اس نمبر سے صرف اور صرف اس لڑکی سے رابطے کے لیے استعمال کیا گیا اور ہر بار اسی علاقے کے ٹاور سے کال ہوئی۔ تم اس علاقے میں اس کو تلاش کرو، یہ تمہارا کام ہے۔
​میں نے آئی جی صاحب کی طرف دیکھا اور بولا: اور یہ کام میں کس حیثیت سے کروں گا؟
آئی جی صاحب بولے: میں نے ہیڈ کوارٹر میں تمہاری بحالی کے آرڈرز جاری کر دیے ہیں۔
تمہارے خلاف جو معاملات کورٹ میں ہیں، ان کو بھی میں کل صبح ہوتے ہی کچھ عرصے کے لیے ملتوی کروا دوں گا۔ ایگزیکٹو آرڈر پر تم فوری طور پر بحال ہو۔ تمہیں کسی تھانے یا کسی افسر کو رپورٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
میں بولا: سوچ لیں سر۔ ایک بار میں نے کام پکڑ لیا تو کیا کر رہے ہو، کیوں کر رہے ہو، یہ نہیں کرنا تھا، وہ نہیں کرنا تھا۔ یہ خلاف قانون ہے، یہ پروسیجر، وہ پروسیجر۔ یہ رپورٹ وہ رپورٹ۔ کچھ نہیں سننا مجھے۔ اگر ایک بار بھی ایسا کچھ سنا تو میں کیس فوری چھوڑ دوں گا۔
آئی جی صاحب بولے: اوکے۔ ہمیں رزلٹس چاہئیں۔ یہ لڑکی چاہیے اور سوال کا جواب کہ کون ، کیوں، کیسے؟ اگر معاملہ وہ نہیں جو ہم سوچ رہے ہیں تو لڑکی جائے بھاڑ میں۔ آئی ڈونٹ کیئر۔
میں بولا: سمجھ گیا سر۔ ہو جائے گا۔
میں خوشی خوشی وہاں سے نکل آیا۔ چہ سال کی سروس میں پہلی بار مجھے کوئی ایسا کیس ملا تھا جس میں میرے ہاتھ پوری طرح کھلے ہوئے تھے۔ میں کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا تھا اور مجھے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔ یہی تو میں پہلے دن سے چاہتا تھا۔
میں جانتا تھا کہ معاملہ ایک لڑکی کی گمشدگی کا نہیں ہے۔ ایک معمولی واقعے کے پیچھے انکشافات کا سمندر چھپا ہے۔ مجھے اپنی ٹریننگ اور زندگی بھر کی ریاضت کا پھل اب ملنے والا تھا۔

​مگر ایسا بھی ہوتے دیکھا تھا کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا ۔ لڑکی گھر سے یہ کہہ کر نکلی کہ وہ کالج جا رہی ہے اور یار کے پاس پہنچ گئی۔ یہاں لڑکی کا کوئی یار نہیں دکھ رہا تھا۔ ایک موبائل نمبر تھا جو کراچی کا تھا۔
اس کی لوکیشن میرے سامنے تھی، نمبر ایک خاص مخصوص وقت میں ایک خاص جگہ پر آن ہوتا تھا، اس کے بعد سوئچ آف ہو جاتا تھا۔ مطلب یہ ایک ایکسٹرا سم والا معاملہ تھا۔ کسی کے پاس ایکسٹرا سم تھی جو وہ وہاں آن کرتا تھا۔ میں نے موبائل کے آئی ایم آئی نمبر کو چیک کیا تو اندازہ ہوا کہ میرا اندازہ غلط تھا۔ یہ موبائل بھی الگ ہی تھا، اس آئی ایم آئی پر اور کوئی سم کبھی ایکٹیو نہیں ہوئی تھی۔ یہ کم قیمت سستا موبائل تھا، سم بھی کسی کے نام تھی جو یقیناً مر کھپ گیا ہوگا۔ تازہ انفارمیشن کے مطابق سم بھی بلاک تھی۔ میں نے موبائل ٹاور سے سم کا کلوز ترین ڈیٹا لیا تو مجھے پہلی کامیابی مل گئی۔
ٹیلی کمیونیکیشن والوں نے مجھے پانچ سو میٹر یعنی آدھا کلومیٹر کی رینج کی انفارمیشن دے دی۔
کال ایک ہی جگہ سے کی جاتی تھی، اس آدھا کلومیٹر کی رینج میں ایک پارک تھا۔ یہ پیدل واک کرنے والوں کے لیے ایک چھوٹا سا پارک تھا۔ کال روز رات نو سے گیارہ کے بیچ ہوا کرتی تھی۔ پارک میں چا بجانشتی اور بھنگی سوئے ہوئے تھے، میں اس علاقے میں گھومنے لگا۔ مجھے دس کے قریب موبائل شاپس ملیں۔ میں ان دکانوں پر گیا اور سب پر وہ آئی ایم آئی نمبر دیا کہ یہ موبائل کب بکا اور کس نے خریدا اس کی انفارمیشن دے۔ ایک دکان نے دو مہینے پہلے کے ڈپلیکیٹ بل پر اس بات کی تائید کر دی کہ موبائل اسی کی دکان سے بکا تھا۔ مگر اس کی دکان میں کوئی سی سی ٹی وی نہیں تھا کہ خریدنے والے کی شکل دیکھ جاتی۔ مگر مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ اسی علاقے میں ہی کہیں ہے۔
​میں نے دکان کے آس پاس کی سی سی ٹی وی فوٹیج منگوائی اور ان تاریخوں کی جن تاریخوں میں لڑکا ماہ رخ سے بات کرتا تھا۔ مجھے ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کی بیرونی فوٹیج مل گئی۔ میں نے اس طرف سے راستے پر نظر رکھی۔ موبائل آن ہونے سے پہلے اور بعد میں متواتر کون وہاں سے گزر کر جاتا تھا۔
پورے دن کی مغزماری کے بعد ایک بندہ مجھے دکھ گیا۔ وہ کالی جینز والا لڑکا تھا جس کے چہرے پر ڈاڑھی تھی۔ وہ نو بجنے میں سے پانچ منٹ پہلے وہاں سے گزر کر پارک میں گیا۔ اس کے بعد کال ​شروع ہوئی اور ٹھیک گیارہ بجے وہ پارک کی طرف سے واپس آیا۔ میں نے اسے مارک لیا اور دوسری تاریخ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسے تلاش کیا۔ مجھے کامیابی مل گئی، جب جب کال کی گئی وہی لڑکا کال سے پہلے پارک کی طرف جاتا اور کال کٹنے کے بعد واپس آتا دکھائی دیا۔
میں نے اس علاقے کی باقی فوٹیج نکالیں۔ لڑکا پارک کی طرف پیدل جاتا دکھائی دیتا تھا اس کا مطلب تھا کوئی سواری نہیں تھی اس کے پاس۔ وہ کہیں قریب پیدل واک کر کے آتا تھا یا پھر وہ شاپ سے بس پکڑتا تھا۔ بس شاپ کے سامنے بنک تھا، اس کی فوٹیج نکالی تو مجھے پونے نو اور سوا گیارہ وہ لڑکا بس میں اتر تا سوار ہوتا دکھ گیا۔ اب اس بس کا روٹ معلوم کرنا تھا۔ یہ کام بالکل بھی مشکل نہیں تھا۔ اس بس کے کم و بیش پچیس سٹاپ تھے۔ ہر سٹاپ پر ایسے کیمرے تلاش کیے گئے جو سڑک کی فوٹیج بناتے تھے۔ میرے پاس فوٹیج کا انبار لگ گیا۔ میں نے ہر سٹاپ پر چیک کیا، کسی پر کیمرہ تھا تو کسی پر نہیں تھا۔ اتفاق سے ایک دن اسے ایک کیمرے کی طرف کھڑکی والی سیٹ ملی تھی۔ مجھے وہ ایک سٹاپ پر لگے کیمرے میں دکھ گیا مگر اس سے اگلے میں موجود نہیں تھا۔ یعنی ان دو کیمروں کے بیچ میں کہیں اترا تھا۔
​ان دو کیمروں کے درمیان تین سٹاپ تھے۔ ہمارا ٹارگٹ ان تین میں سے کسی سٹاپ پر اترتا تھا اور اسی دن اترا تھا۔ آئی ٹی ٹیم سے اس لڑکے کی فوٹو نکالی اور اس لڑکے کی تلاش شروع کی گئی۔ اس کام کے لیے میں نے اپنے پرانے ساتھیوں کو اکٹھا کرنا ضروری تھا۔ اب تک کی ساری محنت میں اصغر کی ٹیم بھی شامل تھی مگر اب کام کا ٹائم تھا۔ اڑتالیس گھنٹوں میں میں کم از کم اس لڑکے تک پہنچ گیا تھا، جس سے ماہ رخ کا رابطہ تھا۔
سہیل اور امین ڈرائیور میرے پاس پہنچ گئے جبکہ لیاقت اور خورشید سومرو تھانوں میں نوکریوں پر تھے۔ میں نے ایک چائے کے ہوٹل پر ان کو بلایا تھا۔ چائے بسکٹ کے بعد میں سہیل سے بولا: کیوں بھئی کمانڈو! کیا کرتا رہا ہے، ان مہینوں میں؟
وہ بولا: سر! ایک وی آئی پی کی سیکیورٹی پر تھا۔ وہ کھانے یہاں تک کہ گنے بھی جاتا تھا تو ساتھ ساتھ جانا پڑتا تھا
میں ہنسا اور امین سے بولا: اور تو۔؟

​وہ بولا: سر! جیل کی گاڑی چلاتا تھا، جیل سے کورٹ اور کورٹ سے جیل، یا جیل سے ہسپتال اور ہسپتال سے جیل۔
میں بولا: کام سے پہلے بتا دوں کہ اس کام میں جان جانے کے چانسز نوے سے اوپر کے ہیں۔ میری ریپوٹیشن تم جانتے ہو، یہ کام بھی آفیشلی نہیں ملا ہے۔ اوپر سے اس میں انٹیلی جنس بھی انوالو ہے۔ مر گئے تو بے موت مارے جائیں گے اور کامیاب ہوئے تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی کہ یہ کام ہم نے کیا ہے۔ تم لوگ جانتے ہو کہ میں معطل ہوں اور میرے پاس کوئی لیگل اتھارٹی نہیں ہے۔
​آئی جی کا ایگزیکٹو آرڈر بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔ مجھے صرف کورٹ بحال کر سکتی ہے۔ ایسے میں اگر تم کرنا چاہو تو ٹھیک نہیں تو کوئی زبردستی نہیں ہے۔
دونوں سوچ میں پڑ گئے، واقعی ایسا کام کرنا آسان نہیں تھا۔ میں بولا: ۔۔! وہ کیسی ہے، وہی جو وومن کالج کے باہر جوس والے کے کیبن میں تیرے ساتھ جاتی تھی۔ وہی جس کا لیاقت آباد والے میٹرنٹی کلینک سے ٹریٹمنٹ کروایا تھا تو نے۔
وہ شرمندہ ہو گیا کہ اس کی عاشقی کا مجھے بڑی تفصیل سے پتا ہے، یہاں تک کہ ابارشن تک کی خبر ہے۔
وہ بولا: سر! وہ تو چلی گئی، ابھی ایک اور ہے، اس سے رشتے کی بات بھی چل رہی ہے۔
میں بولا: رشتے کی بات، یعنی یا تو دل آگیا ہے یا پکڑا گیا ہے اس کے ساتھ۔ چل پھر تو نکل۔
وہ بولا: نہیں نہیں سر۔ میں آپ کے ساتھ ہوں۔
میں جھڑک کر بولا: چل بھاگ۔۔ یہ تیرے کرنے والا کام نہیں ہے۔ چل شاباش۔ تو ۔۔۔ چ۔
وہ اٹھ کر چلا گیا تو میں سہیل سے بولا: ابھی جوان ہے عاشقی معشوقی کے مزے اٹھالے پھر جان جوکھم میں ڈالے۔ کیا خیال ہے تیرا؟
وہ بولا: جی سر! ٹھیک کہا آپ نے۔
میں بولا: تو بتا، تیرا کیا موڈ ہے؟

​وہ بولا: کام کروں گا سر۔ میں تو وی آئی پی کے ٹٹے اٹھا اٹھا کر تھک گیا ہوں۔ کتے جیسی زندگی ہے، کم از کم ادھر بندہ شیر بن کے گھومتا ہے، بھلے زندگی کم ہی ہو۔
​میں نے خاکی لفافے سے لڑکے کی تصویر نکال کر سامنے رکھی اور بولا: یہ لڑکا تین تلوار کے پاس بس سے اترتا تھا۔ اس کو ڈھونڈنا ہے اور بات پولیس یا کسی گروہ تک نہ پہنچے۔
وہ بولا: ہو جائے گا سر۔ کل دوپہر تک میں انفارمیشن نکالتا ہوں۔
اگلی دوپہر تک سہیل نے جو خبر دی اس کے مطابق لڑکے کا نام مقامی لوگوں کے مطابق کامران تھا، وہ یہاں ایک ہوسٹل میں رہتا تھا اور چھ سات دنوں سے لاپتہ تھا۔ میں سہیل کے ساتھ اس کمرے میں گیا جہاں یہ رہائش پذیر تھا۔ وہ سستا سا کمرہ تھا اور اس میں فرنیچر تو تھا نہیں بس فرشی بستر تھا جو بہت میلا تھا۔ الماری میں پرانا سوٹ اور چپل تھی، ایک طرف جہادیوں والی کلاشنکوف والی تصویر پر کلمہ لکھا ہوا تھا، بیک گراؤنڈ میں افغانستان کے نقشے سے خون بہہ رہا تھا۔ میں بولا: کپڑے اور بستر اٹھا لے۔ باتھ روم ویسے بھی کمبائن تھا تو کوئی چیز نہیں ملنے والی۔ سارا سامان غائب ہے مطلب مرضی سے پلاننگ سے گیا ہے۔ بستر میلا اور پرانا تھا تو بے مصرف چھوڑ گیا۔
میں ہوسٹل کے منشی یا مینیجر کے پاس گیا اور بولا: یہ جو کامران رہتا تھا، اس کا شناختی کارڈ ہوگا تیرے پاس؟
اس نے دراز ٹٹولی اور رجسٹر کھنگالے مگر نہ شناختی کارڈ ملا اور نہ رجسٹر میں وہ صفحہ۔ وہ گھبرا کر بولا: میں نے سب نوٹ کیا تھا، جس کی ضمانت سے آیا تھا، اس کا بھی نمبر وغیرہ لکھا تھا، مگر یہ دیکھو صاحب ، یہاں سے صفحے کسی نے پھاڑے ہیں۔
میں کنپٹی مسلتے ہوئے بولا: ظاہر ہے تجھے کمرہ چڑھانا تھا تو نے زیادہ معلومات تو لی نہیں ہوگی۔ ہے نا؟

​جہاں درج کیا تھا وہ وہ جاتے ہوئے پھاڑ گیا، جہاں تو نے کاپیاں رکھی ہوں گی، وہ بھی اٹھالی ہوں گی۔
اب ایسا ہے کہ تو ہی ہمیں بتائے گا کہ اس کے بارے میں کیا جانتا ہے؟
وہ بولا: مجھے کیا معلوم صاحب، بس وہ کوئی ۔۔ صاحب کر کے نام تھا وہ آئے تھے اور۔۔ بس انھوں نے کہا کہ عطر کی دکان ہے، ادھر صدر میں، بھتیجا ہے ان کا، کام کرنا ہے، یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔ تو میں نے کمرہ دے دیا۔ شناختی کارڈ پر کہیں بدین کا پتا تھا شاید۔۔ لڑکا پڑھا لکھا شاعر ٹائپ تھا۔
اُس کی بات پوری ہوتے ہی سہیل نے رکھ کر ایک تھپڑ گال پر دیا، اس کا ہونٹ پھٹ گیا اور خون بہنے لگا، وہ بلبلا کر رونے لگا کہ صاحب غلطی ہو گئی، مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کسی جرم میں ملوث ہو سکتا ہے۔
میں نے موبائل نکالا اور مقامی تھانے کا نمبر تلاش کر کے بولا: تیرے علاقے میں جتنے ہوسٹل ہیں، سب کا کچا چٹھا نکال۔ کوئی بھی بندہ بنار یفرنس کے ہو، اس کو اٹھالے۔ پہلے یہ سٹاپ والے ہوسٹل پر پہنچ اور سب کو اندر کر دے اور مجھ سے پوچھے بغیر کسی کو مت چھوڑنا۔
میں نے کال کاٹ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا: تیرے جیسے لوگوں کی لاپرواہی سے دہشت گرد بڑی آسانی سے چھپتے ہیں۔ اب سچ کہے گا یا چوتڑ لال کروا کے ہی بھونکے گا۔ کچھ تو بھونک۔۔
وہ رونے لگا اور معافیاں مانگتے مانگتے بولا: صاحب! کچھ معلوم نہیں ہے۔۔۔ ہاں ہاں۔۔ ایک بندہ آتا تھا، کبھی کبھی۔۔ وہ شیخ نہاری ہاؤس سے تمہاری نہاری لاتا تھا، ایک بار تو مجھے بھی مانگنے پر ایک پلیٹ دی تھی
​میں چونکا اور بولا: شیخ نہاری۔۔ وہ کراچی ویسٹ والی۔ حلیہ بول بندے کا؟ تمہاری صرف ایک بار ہی آئی تھی یا کئی بار؟ ساتھ کیا تھا، روٹی یا نان۔ آخری بار کب کھائی تھی تو نے؟
وہ بولا: مجھے ایک بار ملی تھی مگر دو تین بار میں نے اس کے پاس نہاری دیکھی تھی۔ شیر مال کے ساتھ۔ وہ جس دن وہ ہڑتال نہیں تھی رکشوں کی، اس دن وہ آیا تھا، مجھ سے ہزار کا کھلا لیا تھا۔ اسی دن ​مجھے نہاری پلیٹ میں دی تھی۔
وہ حلیہ بتانے لگا، میں نے اس پورے علاقے کے تمام ہاسٹل سیل کروا دیے اور سبھی کے تمام رہائشیوں کے کوائف جمع کرنے کا کہا۔ یہ حکم غیر سرکاری تھا مگر ایس ایچ او کی مجال نہیں تھی کہ عمل نہ کرے۔ مجھے یقین تھا کہ مطلوبہ بندہ یہاں نہیں ملنے والا تھا مگر تمام ہاسٹلوں پر چھاپے کا مقصد تھا کہ ٹارگٹ چونک نہ جائے کہ جس ہاسٹل میں وہ مقیم تھا، اس پر چھاپہ کیوں پڑا تو پورے علاقے کے سبھی پر چھاپے پڑنا کوئی چونکنے والی بات نہیں تھی۔ پولیس اکثر ہوٹلوں اور ہاسٹلوں پر کریک ڈاؤن کرتی تھی۔ میں اور سہیل نہاری والی مشہور دکان پر پہنچ گئے، مجھے پہچاننے والے یہاں کافی موجود تھے، ویسے بھی ٹی وی پر میری تصویریں دکھائی جاتی تھیں اور باہر روڈ پر ایک موبائل بھی موجود تھی جس میں اہلکاروں نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا۔
ہم نے نہاری منگوائی اور کھانا کھانے کے بعد میں نے بیرے سے کہا: سن کسی ایسے بندے کو لا، جو پارسل نہاری لگاتا ہو اور مستقل آنے والے لوگوں کو پہچانتا ہو۔
وہ بولا: مبشر ہوتا ہے صاحب۔ آج چھٹی پہ ہے، اس کی بہن بیمار ہے، ہسپتال میں ہے۔
​میں اٹھتے ہوئے بولا: کونسا ہسپتال؟
آدھے گھنٹے بعد ہم ہسپتال کے میٹرنٹی وارڈ میں تھے، مبشر نامی وہ لڑکا ہمیں مل گیا۔ اس کی بہن کی حالت زیادہ اچھی نہیں تھی، خون درکار تھا۔ میں نے سہیل سے بولا: بلڈ بینک والے سے ان کو خون دلا دے، میرا ایا تیا لگتا ہے تو بتا ہم بھی دیتے ہیں۔
مبشر پریشان تھا کہ پولیس کیوں اس کے پیچھے ہسپتال آگئی اور خاص طور پر مجھ جیسا بدنام اور اونچے رینک کا افسر خود چل کر آیا تھا۔
سہیل کی محکمانہ دھونس کی وجہ سے بلڈ بینک والا بڑی آسانی سے خون کی بوتلیں دینے کو راضی ہو گیا۔
میں مبشر سے بولا: ہمیں ایک بندے کی تلاش ہے جو ایک سے زیادہ بار نہاری پیک کروا کر جاتا رہا ہے۔ موٹا گنجا بندہ ہے، چہرے پر لمبی داڑھی ہے اور اس کے ساتھ یہ لڑکا بھی ہو سکتا ہے کبھی آیا ہو۔
اس نے کامران کی تصویر دیکھی اور بولا: یہ لڑکا تو مجھے یاد نہیں۔ داڑھی والے بھی دو چار لوگ ہیں جو اکثر کام سے گھر جاتے ہوئے نہاری لیتے ہیں، جیسے وہ خواجہ الیکٹرک سٹور والے اور کچھ دوسرے میں بولا: وہ شیر مال بھی لیتا تھا۔
وہ سوچ میں پڑ گیا اور بولا: کئی ہیں، کئی لڑکے ہیں جو اکیلے رہتے ہیں۔ اکثر نہاری اور نان لے جاتے ہیں، شیر مال والے بھی کافی لوگ ہیں۔ کئی تو ناشتے کے لیے بھی رات کو نہاری کے ساتھ لیتے ہیں۔
میں بولا: وہ پچھلے جمعے کو آیا تھا، یہاں پہ کوئی سات بجے آیا ہو گا۔ کیونکہ نہاری اس نے آٹھ نو کے قریب ہے۔ (میں نے ہاسٹل سے فاصلے کا اندازہ لگا کر ٹائم فریم نکالا تھا۔)
​وہ اچانک یاد کر کے چونکا: ارے ہاں ہاں۔۔ ۔۔۔ کو رحمت (تنور والا) چھٹی پہ تھا تو قاسم کلچے نان لگا رہا تھا تو بندے نے چھ شیر مال مانگے، وہ تازہ بنانے پڑے تو ایک مولوی کو انتظار کرنا پڑا تھا۔ ہاں ہاں،، مجھے یاد آگیا، وہ بہت بول رہا تھا کہ دور جانا ہے، جلدی کیوں نہیں کرتے۔ ہاں ہاں وہ گنجا ۔۔۔ تھا۔
میں بولا: ویری گڈ۔۔ اب اس کے متعلق کچھ کچھ یاد کر۔۔ کچھ بھی معمولی سے معمولی بات بھی۔
وہ سوچ میں پڑ گیا۔ ظاہر ہے کہ اس کا کام تو بس پرچی پکڑ کر نہاری کی پلیٹیں پیک کرنا تھا۔ گاہک کا اتا پتا پوچھنا تو نہیں تھا، اوپر سے یہ دکان بھی رش والی تھی تو اتنا دھیان کون دیتا ہے۔
وہ سوچتے ہوئے بولا: کالی موٹر سائیکل ہے شاید۔۔ گندی سی۔۔ پان گٹکا کھاتا ہے اور بس۔۔ یہی یاد ہے، عجیب بھورے شیشوں والی عینک پہنتا ہے۔ ہاں ہاں۔۔ یاد آیا تین چار دن پہلے بھی آیا تھا اور اس
کی موٹر سائیکل میں پٹرول کم تھا اور وہ یہیں پر لٹھا رہا تھا۔
میں چونکا اور اٹھتے ہوئے بولا: دیکھ مبشر! یار مجھے پتا ہے تو اس وقت مصروف ہے مگر مجبوری سمجھ، وعدہ ہے تیری بہن کے علاج میں کوئی کمی نہیں رہے گی۔ تو ابھی کے ابھی میرے ساتھ چل۔۔ میرا ابندہ ادھر ہی ہے، میں تجھے واپس چھوڑ جاؤں گا۔
وہ پریشان ہو گا مگر میرے نرم لہجے نے حوصلہ دیا ہوا تھا کہ میں اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔
☆☆☆☆☆

Address

From
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctor Arfah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share