Manzar e aam team

Manzar e aam team Manzar e aam is a Pakistani Media show, and hosted by Mehar Muhammad Asim. The show is famous for e

07/12/2020

کہتے ھیں کہ کسی سلطنت کے بادشاہ نے جنگ میں شریک ھونے والے گھوڑوں🐎🐴 کے اصطبل کے ساتھ ہی گدھے🦄 بھی رکھے ہوۓ تھے۔ گدھے ہر روز گھوڑوں کا بچا ہوا کھانا کھاتے اور گھوڑوں کو ویہلا اور نکما کہتے۔ اندر ہی اندر کُڑھتے رہتے کہ گھوڑوں کیلیے اتنا اچھا کھانا اور ہم سارا دن کام کرتے ہیں اور کھاتے گھوڑوں کا بچا ہوا کھانا۔۔۔

ہر روز صبح صبح گدھوں پر سامان لادنا اور ان سے سارا دن کام لینا۔ جبکہ صبح ھوتے ہی گھوڑوں کی مالش شروع ھو جاتی یہ سب دیکھ کر گدھوں نے سارا دن گھوڑوں کو گالیاں دینی کہ اگر یہ نہ ھوں تو یہ سب بھی ہمیں کھانے کو ملتا۔ ھماری بھی مالش ہوتی، خادم ہماری بھی دیکھ بھال کرتے۔ ھم سارا دن کام کر کر کے تھک جاتے ہیں۔۔۔

ایک دن صبح ہی صبح اچانک گھوڑں پر کاٹھیاں ڈالنا شروع ہو گئیں۔ ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ ہر سپاہی جلدی جلدی اپنے گھوڑے کو تیار کرنے میں لگا ہوا ہے۔ گدھوں کی جان میں بھی جان آئی کہ شکر ہے آج ان گھوڑوں کو بھی کام کرنا پڑے گا الغرض گھوڑے تیار کر کے سپاہی ان پر سوار ھوئے اور چل دیے۔۔۔

سارا دن گزرا، پھر شام گزر گئی لیکن گھوڑے واپس نہ آۓ، گدھے پریشان ھو گئے کہ گھوڑے ابھی تک واپس کیوں نہیں آۓ۔ ایسا کیا کام پیش آ گیا ھے۔ اگلے دن جب گھوڑے واپس آۓ تو کسی کا کان نہیں، کسی کی آنکھ نہیں، کوئی لنگڑا کے چل رہا ہے تو کوئی واپس ہی نہیں آیا۔۔۔

گدھوں نے گھوڑوں کا جب یہ حال دیکھا تو ان سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔ یہ تمہارا حال کس نے کیا ہے۔ گھوڑوں نے کہا کہ ہم جنگ پر گئے تھے۔ اور جنگ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہمیں اسی لیے تیار کیا جاتا ہے۔ کہ اپنے وطن کے دفاع کیلیے دشمن کے خلاف جنگ میں ھم شامل ھوں۔۔۔

گدھوں نے گھوڑوں کا یہ جواب سنا تو انہوں نے شکر کیا کہ ہم گھوڑے نہیں گدھے ہیں۔
اس لیے موجودہ دور کے گدھوں سے گزارش ہے کہ پاکستان آرمی پر بھوکنا بند کریں ۔اور اپنے کام سے کام رکھیں ان کا جو کام ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کس کو کس ٹائیم اور کس کو کب دبوچنا ہوتا ہے دن وقت مقرر وہ خود کر کے اپنا کام کرتے ہیں

پاک فوج زندہ باد پاکستان پائندہ باد.
Mehar Asim Ali

 آج مجھے جیل میں آئے دو سال مکمل ہو چکے تھے۔۔۔۔دسمبر 1951 کی ایک شام تھی جب میں منشیات اسمگل کرتے پکڑا گیا تھا۔۔۔دس سال ...
07/09/2020



آج مجھے جیل میں آئے دو سال مکمل ہو چکے تھے۔۔۔۔دسمبر 1951 کی ایک شام تھی جب میں منشیات اسمگل کرتے پکڑا گیا تھا۔۔۔دس سال کی قید سن کر بھی میں گھبرایا نیں۔۔مجھے امید تھی کہ میرا گروہ مجھے یہاں سے چھڑوا لے گا لیکن آج دو سال ہو چکے ہیں مجھے چھڑوانے کوئ نہیں آیا۔۔۔۔اب میں اکثر تنہائی میں روتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔۔۔نہ جانے کیوں اب اس کال کوٹھری سے میرا دل گھبرانے سا لگا ہے۔۔۔۔اب تو جیل سپریڈنٹ کو بھی مجھ پر ترس آنے لگا ہے۔۔۔۔۔۔وہ بھی اکثر مجھ سے حال احوال پوچھنے آجاتا ہے۔۔۔۔
1953 کا ہی ایک روشن دن تھا جب جیل میں ایک نیا قیدی آیا۔۔۔۔۔وہ باقی سب سے بہت مختلف تھا۔۔۔اس کا دراز قد،روشن چہرہ اور سر پر عمامہ اس کی شخصیت کو متاثر کن بنانے کیلئے کافی تھا۔۔۔۔۔اس کے چہرہ کا اطمینان دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوا کرتی تھی۔ ۔۔جیلر نے بتایا کہ اسے ریاست کے خلاف بغاوت کے جرم میں سزائے موت ہو چکی ہے۔۔۔۔۔لیکن میرا دل قطعی ماننے کو تیار نہ تھا کہ ایسا شخص باغی بھی ہو سکتااا ہے۔۔۔۔
اسے میرے ساتھ والی بند کوٹھری میں رکھا گیا تھا۔۔۔۔اس کے اور میرے کمرے کے درمیان ایک چھوٹا سا روشن دان تھا جس سے میرے لئے اس پر نظر رکھنا مشکل نہ تھاااا۔۔۔۔
میں اکثر اس کے معمولات دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا۔۔۔۔پانچ وقت نماز پڑھنے کے علاوہ ہر وقت وہ درود شریف کا ورد کر رہا ہوتاااا۔۔۔۔دو دن ایسے ہی گزر گئے۔۔۔ تیسرے دن شور کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔۔اور سامنے کا منظر دیکھ کر میری چیخ نکل گئی ۔۔۔۔
پانچ چھ افراد جو شکل سے کسی محکمے کے افسران لگتے تھے وہ اس شخص پر لاٹھیوں کی برسات کر رہے تھے اور وہ ہر لاٹھی پر الحمدللہ کہ اٹھتا۔۔۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک افسر کے اشارے پر وہاں سانپ لائے گئے۔۔۔۔اور اس کے برہنہ جسم پر سانپوں کو چھوڑ دیا گیا۔۔۔وہ سانپ اس قدر زہریلے تو نہ تھے کہ اس کی جان لیتے تاہم وہ اس کا جسم نوچ رہے تھے۔۔۔۔
افسر نے چلا کر کہا"نیازی!!کتنی تکلیفیں اٹھائے گاااا۔۔۔ہم تجھے رہا کرنے کو تیار ہیں۔۔۔قادیانیوں کے
خلاف بیان نہ دے"
قیدی نے غضبناک آنکھوں سے افسر کو دیکھا اور
چلا کر کہا
"اگر میں رہا ہو گیا تب بھی باہر جا کر پہلی بات یہی کرونگا کہ قادیانی کافر ہے"

میرے ذہن میں کئی سوالات اٹھ رہے تھے کہ یہ شخص کون ہے؟؟؟اور یہ افسر اسے کس جرم میں مار رہے ہیں؟؟؟اور یہ اب تک ڈٹ کر کیوں اور کیسے کھڑا ہے؟؟؟
ان کے جانے کے بعد مجھ سے رہا نہ گیا میں نے صدا لگائی
"اے اللہ عزوجل کے نیک بندے!!تو کون ہے اور یہاں کیوں آیا ہے؟؟؟یہ لوگ تجھے کیوں مار رہے ہیں؟؟؟"
اس شخص کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی
اور وہ بولا
"قادیانی رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے۔۔۔تمام مسلمان یہ مطابہ کر رہے کہ ان کو کافر قرار دیا جائے۔۔۔۔ملک میں تحریک ختم نبوت کی ابتداء ہو چکی ہے اور انشاءاللہ عزوجل ہم تب تک امن سے نہ بیٹھیں گے جب تک قادیانی آئینی طور پر
کافر قرار نہیں دیئے جاتے"
میرے تن بدن میں آگ سی لگ چکی تھی۔۔۔میں گناہگار ضرور تھا لیکن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتہا کی عقیدت رکھتا تھا۔۔۔اب مجھے رہ رہ کر خود پر غصہ آنے لگا کہ میں منشیات کے برے کام میں کیوں پڑا ورنہ آج میں بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتاااا۔۔۔
میں نے اس شخص سے اس کا نام دریافت کیا
تو اس شخص نے مختصر سا جواب دیا
"عبدالستار خان نیازی"
یہ نام سن کر میرے جسم پر سکتہ طاری ہو گیااااا۔۔۔میں کچھ اور کہنے کی جسارت نہ کر سکاااا۔۔۔۔میری آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔۔۔میں زور سے چیخنا چاہتا تھا لیکن آواز میرے حلق میں ہی اٹک گئی تھی۔۔۔۔
میں اس شخص کو جانتا تھا۔۔۔۔میں نے اپنے بچپن میں ہر ایک کی زبان پر اس کا نام دیکھا تھا۔۔۔یہ وہی تھا جس نے قائداعظم کو پنجاب کے کئی اضلاع سونپے تھے۔۔۔۔یہ وہی تھا جسے قائد اعظم بھی کہا کرتے تھے
"مولانا آپ کی تحریکوں سے پاکستان معرض
وجود میں آیا"
یہ وہی تھاا جس کا شمار مسلم لیگ کے قائدین میں ہوتا تھاااااا۔۔۔۔اور آج یہ میرے سامنے ایک تاریک کوٹھری میں موجود تھاااا۔۔۔اللہ و رسول کی محبت اسے کہاں لے آئی تھی۔۔۔۔اور پھر بےاختیار میری زبان سے اس کیلئے
دعائیں نکلنے لگیں۔۔۔۔

اگلے دن وہ ایمان فراموش افسر پھر آ ٹپکے اور اب کی بار میں چلا اٹھا
"او ظالمو!تمہیں شرم نہیں آتی تم کسے مار رہے ہو؟؟؟
کیا تمہیں نار جہنم نہیں ڈراتی؟؟"
لیکن ان سنگدلوں پر اثر نہ ہوا اور مولانا کو آج گھنٹوں برف کے بلاکوں پر لٹایا گیا اور جب مولانا بے ہوش ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔
میں رو رو کر مولانا کو آواز لگا رہا تھااا۔۔۔۔
جب تشدد بڑھنے لگا تو مولانا پر کھانا پانی بھی بند کر دیا گیا لیکن مولانا کو نہ پیچھے ہٹنا تھا اور نہ وہ ہٹے۔۔۔۔
وقت تیزی سے گزر گیاااا
چند سال بعد مولانا رہا ہو چکے تھے لیکن یہ بات میں ہی جانتا تھا کہ کونسا ایسا ظلم ہے جو ان کے
جسم پر نہ ڈھایا گیاااا۔۔۔۔
مجھے اب مولانا کی یاد بےقرار رکھتی تھی۔۔۔میں بھی
ختم نبوت کی عظیم المرتبت تحریک میں شامل ہونا چاہتا تھاااا۔۔۔۔آج 5 جنوری 1961 ہے۔۔۔۔۔کل صبح مجھے رہا کر دیا جائے گاااا اور میں ابھی سے تصورات کی دنیا میں خود کو مولانا کے شانہ بشانہ تاجدار ختم نبوت کی صدا بلند کرتے دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔ (سنان علی کی آپ بیتی سے انتخاب)

مجاہدین ختم نبوت زندہ باد

سوشل میڈیا پراسلحہ کی تشہیر تصاویر اپلوڈ کرنے والا ملزم مشہور ٹک ٹوکر شمشیر بھٹی گرفتار۔۔Well Done Punjab police 👍
18/08/2020

سوشل میڈیا پراسلحہ کی تشہیر تصاویر اپلوڈ کرنے والا ملزم مشہور ٹک ٹوکر شمشیر بھٹی گرفتار۔۔
Well Done Punjab police 👍

31/05/2020

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

پیٹرول7 روپے 6 پیسے فی لیٹر سستا وزارت خزانہ

مٹی کا تیل 11 روپے 88 پیسے فی لیٹر سستا وزارت خزانہ

لائٹ ڈیزل 9 روپے 37 پیسے لیٹر سستا وزارت خزانہ

ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 پیسے فی لٹر مہنگا کردیا گیا وزارت خزانہ

پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮯ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯایک سابق ﺻﺪﺭ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺩﺍﺅﺩ ﮐو اطلاع ملی کہ ﮐﺎﺑﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻧﮕﮯ ﮐﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺩﺍﺅﺩ ...
09/04/2020

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮯ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯایک سابق ﺻﺪﺭ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺩﺍﺅﺩ ﮐو اطلاع ملی کہ ﮐﺎﺑﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻧﮕﮯ ﮐﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔

ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺩﺍﺅﺩ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﻋﺎﻡ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ

"ﻣﺤﺘﺮﻡ، ﭘُﻞ ﭼﺮﺧﯽ (ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ) ﺗﮏ ﮐﺎ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻟﻮﮔﮯ؟"

ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺩﺍﺅﺩ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ،

"ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻧﺮﺥ ﭘﺮ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔"

ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : 20 ؟
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : اﻭﺭﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ۔
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : 25 ؟
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ: ﺍﻭﺭﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ۔
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : 30 ؟
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ۔
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : 35 ؟
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﻣﺎﺭﻭ ﺗﺎﻟﯽ

ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ ﺗﺎﻧﮕﮯ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺗﺎﻧﮕﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻓﻮﺟﯽ ﮨﻮ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﯼ ﮨﻮ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﺭﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﺟﻨﺮﻝ ﮨﻮ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﻣﺎﺭﺷﻞ ﮨﻮ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﮐﮩﯿﮟ ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﻣﺎﺭﻭ ﺗﺎﻟﯽ

ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺍُﮌ ﮔﯿﺎ

ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﯿﻞ ﺑﮭﯿﺠﻮ ﮔﮯ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﺟﻼﻭﻃﻦ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﺎﺅ ﮔﮯ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﻣﺎﺭﻭ ﺗﺎﻟﯽ

اگر دو چار تالیاں ہمارے ملک میں بھی بج جائیں تو ملک میں کبھی کوئی کرپشن کا سوچے گا بھی نہیں اب آپ بھی میری آواز سے آواز ملا کے یک زبان کہو آمین اور
مارو تالی...

مہر محمد عاصم.....

ملک بھر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ نافذ ہوگا-حکومت کے علاوہ کوئی بھی شہری جو کورونا کے بارے میں کچھ بھی شیر کرے گا ( کوئی ...
03/04/2020

ملک بھر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ نافذ ہوگا-
حکومت کے علاوہ کوئی بھی شہری جو کورونا کے بارے میں کچھ بھی شیر کرے گا ( کوئی معلومات ، دستاویزات (سچ یا غلط) پوسٹ)۔ اسے دفعہ 68 ، 140 اور 188 کے تحت قابل سزا سمجھا جائے گا۔ اس دفعہ کے تحت گروپ ایڈمن کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

نواز شریف لورز گروپ کی بانی عظمیٰ عامر بٹ کا اجلاس.. کیا کہا گیا آپ سب پڑھ کر اپنی رائے دئیں..
31/03/2020

نواز شریف لورز گروپ کی بانی عظمیٰ عامر بٹ کا اجلاس.. کیا کہا گیا آپ سب پڑھ کر اپنی رائے دئیں..

زلزلہ... پاکستان میں......مہر محمد عاصم..
30/03/2020

زلزلہ... پاکستان میں......
مہر محمد عاصم..

29/03/2020

‏خبردار.... ⚠️
غریبوں کو اشیاء ضرورت خیرات میں دیتے ہوئے اپنی تصویر کھینچوا کر تشہیر کرنے والے بے حیا انسان یہ وڈیو ہرگز بھی نہ دیکھیں....

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Manzar e aam team posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Manzar e aam team:

Share