Urdu Digest

Urdu Digest Urdu Digest is the leading monthly magazine of Pakistan for over 60 years. URDU DIGEST is an independent, autonomous institution.
(1696)

Rs.4680/- annually
ان باکس پیغامات کے جوابات صبح دس بجے سے شام پانچ بجے تک ہی دیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد موصول ہونے والے ان باکس پیغامات کا جواب اگلے دن دیا جاتا ہے۔ It has no connection, whatsoever, with any political/religious party or group. Urdu Digest is not just a periodical; it is a powerful progressive movement. Through our print and digital pages, we are striving hard to promote Urdu languag

e all over the globe, to promote modern learning, to support progress and peace, and, thereby, ensure the creation of a peaceful, healthful, and friendly world.

اردو ڈائجسٹ اردو زبان کا سب سے معیاری میگزین ہے- یہ اپنی اشاعت کے61 سال مکمل کرچکا ہے۔ ہمیں
خوشی ہے کہ اس سفر میں ہم اپنے قارئین کو شعور اور آگاہی کا رستہ دکھاتے رہے، انھیں اُردُو سے جوڑتے رہے۔ انھیں مفید تفریح مہیا کرتے رہے۔ انھیں پاکستان، اپنی ملی تاریخ اور دین سے تعلق کی ڈوری سے وابستہ رکھا۔ آج بھی ہم عزم رکھتے ہیں کہ اپنے قارئین کو ایسی تحریریں اور خیالات دیتے رہیں گے جن سے وہ اپنی زندگیاں بامقصد بنائیں، انھیں بھرپور انداز میں گزاریں اور پر امید رہیں، اپنے ملک و قوم کے حوالے سے، خود اپنی زندگی کے حوالے سے۔ ہمارا پیغام یہی ہے کہ آئیے اپنی اقدار سے قومی زبان اُردُو کے ذریعے اپنا رشتہ جوڑیں اور دنیا میں سرخُرو رہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ نہرو رِپورٹ میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟
21/08/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ نہرو رِپورٹ میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟

قارئین! ماہ اگست اپنے اختتام کی طرف دھیرے دھیرے سرک رہا ہے۔ جشنِ آزادی وطنِ عزیز نے پورے دھوم دھام اور جوش و ولولے کے س...
21/08/2026

قارئین! ماہ اگست اپنے اختتام کی طرف دھیرے دھیرے سرک رہا ہے۔ جشنِ آزادی وطنِ عزیز نے پورے دھوم دھام اور جوش و ولولے کے ساتھ منائی۔ اگست کا پورا مہینہ ہی ایک انوکھی تازگی، جذبے اور حب الوطنی کے احساس کو ہر سال جِلا بخشتا ہے۔۔ لیکن یہ احساس، آزادی کی قدر و منزلت اور قومی جوش و جذبہ صرف ایک ماہ تک محدود نہیں رہنا چاہیئے۔ یہ ہماری زندگیوں کا حصہ ہونا چاہیئے۔ ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
اُردو ڈائجسٹ نے وطنِ عزیز کو حاصل کرنے کے لیے دی جانے والی قربانیوں، لہو رنگ سچے واقعات اور داستانیں، تقسیمِ برصغیر ، ہجرت کے کبھی نہ بھولنے والے دلخراش اور دلسوز واقعات ہمیشہ ہی قارئین تک پہنچائے ہیں، اور نہ صرف ماہِ اگست بلکہ ہر موقع پر، ہر ماہ ہی پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتی کہانیاں، مضامین، فخرِ پاکستان کو نمایاں کرتی کوَر اسٹوریز، پاکستان کے ہونہار نوجوانوں کے انٹرویوز، ان کی شجاعت و بہادری یا اعلیٰ کارناموں کو ہمیشہ نمایاں جگہ دے کر پاکستان کی ترقی و کامیابی کو ہر ماہ کسی نہ کسی طریقے سے سیلیبریٹ کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اب ہم آپ سے جاننا چاہتے ہیں کہ ماہ اگست کے شمارے میں کس تحریر نے آپ کا دل موہ لیا؟ کس تحریر نے آپ کی آنکھیں نم کیں اور کس تحریر نے آپ کو اپنے سحر میں جکڑا؟
آپ کا شمارہ اگست پر بھرپور جامع تبصرہ ہم فیس بک پیج پر نمایاں پوسٹ کے ساتھ شامل کریں گے، جہاں تقریباً سات لاکھ فالوورز بشمول پاکستان دیگر ممالک تک بھی پہنچے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کا فیڈ بیک ہمیں بہتر سے بہترین کی طرف بڑھنے میں ہمیشہ ہی معاون ثابت ہوا ہے۔
تو لکھ ڈالیے اپنا خوبصورت تبصرہ اور پیج کے ان باکس میں بھیج دیجیے۔ ہم اسے ڈیزائن پوسٹ کی شکل میں شکریہ کے ساتھ اپلوڈ کریں گے۔
منتظر: ٹیم اُردو ڈائجسٹ

ماضی، حال، مستقبل۔۔۔۔۔۔
21/08/2026

ماضی، حال، مستقبل۔۔۔۔۔۔

ہمارے قومی پرچم کی کہانی۔۔۔۔۔
20/08/2026

ہمارے قومی پرچم کی کہانی۔۔۔۔۔

ہمارے قائد کے راہنما اصول۔۔۔۔
20/08/2026

ہمارے قائد کے راہنما اصول۔۔۔۔

دلچسپ مضامین، اہم سیاسی و معاشرتی موضوعات، بین الاقوامی مسائل، مزاح، اُردو ادب، شعر و شاعری، آپ بیتی، سفرنامے، تنقیدی ا...
17/08/2026

دلچسپ مضامین، اہم سیاسی و معاشرتی موضوعات، بین الاقوامی مسائل، مزاح، اُردو ادب، شعر و شاعری، آپ بیتی، سفرنامے، تنقیدی اور تحقیقی مواد، نئی نافع کتب پر تبصرے۔۔۔اور بہت کچھ۔۔۔
پاکستان کا صف اوّل، مستند، معیاری پہلا اُردو ڈائجسٹ ۔۔۔
آج ہی منگوائیں یا کسی بھی قریبی بک شاپ سے طلب کریں
شمارہ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں براہ راست ہم سے منگوائیں۔
نمبر برائے رابطہ
042-35290707
03334713631
03167779280

وطن کی مٹی گواہ رہنا۔۔۔۔اگست دھیرے دھیرے ختم ہونے کو ہے مگر ہمارے قومی نغمے اور مشہور شعرا کا کلام، آزادی کے دنوں کی یا...
17/08/2026

وطن کی مٹی گواہ رہنا۔۔۔۔
اگست دھیرے دھیرے ختم ہونے کو ہے مگر ہمارے قومی نغمے اور مشہور شعرا کا کلام، آزادی کے دنوں کی یاد دلاتی شاعری اور نا بھولنے والی یادوں کو گرماتی کرتی۔۔۔وطن کی محبت دلوں میں تازہ کرتی نظمیں،بہترین انتخاب اُردو ڈائجسٹ شمارہ اگست میں موجود ہے۔۔۔ آپ کو کس شاعر کا حب الوطنی پر کلام پسند ہے۔۔کمنٹس میں ضرور بتائیے گا۔۔۔

سچا واقعہتحریر:رمشہ جاوید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’تاشہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے احسن کو اس بلوچ فوجی کے ہاتھوں مار کھاتا دیکھ رہی تھی۔...
14/08/2026

سچا واقعہ
تحریر:رمشہ جاوید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’تاشہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے احسن کو اس بلوچ فوجی کے ہاتھوں مار کھاتا دیکھ رہی تھی۔ وہ غصے میں بھپرا ہوا تھا اور لاتوں اور مکوں سے احسن کو بری طرح پیٹ رہاتھا۔ تاشہ کا رونا دھونا ، شور مچانا سب بےکار جارہا تھا۔ ایک ہجوم تھا جو ان کے گرد جمع ہوچکا تھا۔ تاشہ بھاگ بھاگ کر ہر ایک کے سامنے جاکر اب ہاتھ جوڑرہی تھی۔
"خدارا میرے شوہر کو بچالو یہ فوجی اسے مار دے گا۔" رو رو کر اس کی آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں۔ احسن نڈھال سا دہرا ہوکر زمین پر گرا تھا۔اس کے سر سےبہتا خون سمندر کے پانی میں پھیل رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کل اتوار ہے کیوں نہ ہم مبارک ویلیج چلیں ۔؟" کافی کا مگ احسن کو پکڑاتے ہوئےتاشہ نے کل کا پلان ترتیب دیا۔ احسن ہر اتوار کو اسے کہیں نہ کہیں گھمانے لےجایا کرتا تھا۔
"ہممم مبارک ویلیج ۔۔۔ بہت دور نہیں پڑجائے گا ۔؟" احسن نے کافی کا گھونٹ بھرا اور سوالیہ نظروں سے ابرو اٹھاکر اسے دیکھا۔"نہیں ناں ۔۔۔۔ بھابی بھائی جان گئے تھے ، بتارہے تھے بہت اچھی جگہ ہے۔ " تاشہ لاڈ سے بولی تو احسن ہنس دیا
"اپنے سی ویو جیسا ہی تو ہے ، لیکن خیر ہے چلیں گے۔" احسن کی رضامندی پر وہ کھل اٹھی۔
"میں کل بریانی بنالوں گی۔؟"
"ارے نہیں بھئی ۔۔ ہم باہر سے کھانا لیتے ہوئے چلیں گے۔ بلکہ فجر پڑھ کر نکلیںگے۔ بہت دور کا سفر ہے ، راستے میں ناشتہ کرلیں گے۔" احسن نے کافی کا آخری گھونٹ بھرا اور مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر لیٹ گیا۔
"اے سی آن کرکے لائٹ آف کردو اور تم بھی اب سونے آجاو۔" تاشہ کو ہدایت دیتےہوئے اس نے کروٹ بدلی اور چند لمحوں بعد ہی گہری نیند سو گیا۔ ادھر مارے خوشی کے تاشہ کی نیند اڑچکی تھی۔ وہ بچپن سے ہی گھومنے پھرنے کی شوقین تھی اور اس کی خوش قسمتی کے شوہر بھی جان نچھاور کرنے والا ملا تھا جو اس کی ہر خواہش کااحترام کرتا۔
"کیا پتا احسن کا موبائل بجے اور ان کی آنکھ نہ کھلے۔ دو دو الارم سے تو وہ ہرحال میں اٹھ جائیں گے۔" کروٹیں بدلتے اسے ایک دم خیال آیا اور اس نے جلدی سےاپنے موبائل میں بھی الارم سیٹ کرکے احسن کے سرہانے رکھ دیا۔ نیند کب اس پرمہربان ہوئی اسے خبر نہ ہوسکی۔
دھوپ کی تپش عام دنوں سے کافی کم تھی یا تاشہ کو کم محسوس ہورہی تھی۔ وہ کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد بلاآخر مبارک ویلیج پہنچ گئے تھے۔ ایک جگہ چھاؤں دیکھ کراحسن نے وہاں چادر بچھا کر ساتھ لایا گیا سامان وہاں رکھ دیا تھا اور اب وہ دونوں فٹ بال تھامے سمندر میں کھیل رہے تھے۔ احسن نے فٹ بال کو پوری قوت سےپھینکا تو وہ تاشہ کی پہنچ سے کافی دور آگے جاکر گرا ، ایک لہر آئی اور وہ آگےہی آگے بہنے لگا۔ تاشہ فٹ بال کے پیچھے لپکی اور احسن اس کے پیچھے۔"رکو تاشہ ۔۔ آگے مت جاو ۔۔ آج پانی بہت چڑھا ہوا ہے۔"
ہوا اور پانی کے شور میں احسن کی آواز دب گئی تھی۔ تاشہ نے فٹ بال پکڑ بھی لیاتھا لیکن اب وہ کمر تک پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اور اس کے لیے اپنا توازن برقرار رکھنا مشکل ہورہا تھا۔ احسن سے پہلے وہاں کے گارڈ تاشہ تک پہنچ چکے تھے۔ احسن نے سکھ کا سانس لیا۔ گارڈ تاشہ کو پکڑے احسن تک لائے اور ساتھ ہی مطالبہ رکھ دیا۔"لاؤ صاحب پانچ ہزار چالان دو۔"
"کیاااا؟ْ پانچ ہزار چالان ؟؟؟؟ کس بات کا ۔۔؟؟؟" احسن نے گھور کر گارڈ کو دیکھا۔
"وہ دیکھ رہے ہو سفید پٹی۔ اس طرف جانا منع تھا ، تمہاری بیوی اس سے آگے تک گئی ہے۔ پانی چڑھنے کی وجہ کر یہاں کئی اموات ہوئی ہیں۔ جبھی انتظامیہ نے یہ بندباندھا تھا جسے تمہاری بیوی نے توڑ دیا۔" گارڈ سختی سے بوالا۔ بات چیت جاری تھی جب اونچائی کی جانب سے ایک بلوچ فوجی بھاگتا ہوا نیچے اترا اور ان کی جانب آیا۔
"سر یہ چالان نہیں دے رہا۔" ایک گارڈ نے اسے انفارم کیا۔ بلوچی نے گھور کر احسن کو دیکھا۔
"مہاجر ہو ۔۔۔؟؟؟"
"ہاں سر۔" احسن فخر سے بولا۔
"لاو چالان۔" فوجی نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
"میرے پاس اتنا نہیں ہے۔" احسن کے کہنے کی دیر تھی جب اس نے ایک دم سے احسن پردھاوا بول دیا۔ آنا فانا لوگ جمع ہوگئے۔ تاشہ چند لمحے سکتے میں رہی لیکن جب احسن کی آہ بلند ہوئی وہ چونک کر فوجی کی طرف لپکی ۔ اسی اثنا میں ایک اور فوجی دوڑتا ہوا آیا اور آکر بلوچی کو دونوں بازؤں سے پکڑ کر گود اٹھا لیا۔
"معاف کردو معاف کردو ۔۔۔۔۔" وہ ایک دم بولنے لگا ساتھ ہی ساتھ اس نے احسن کوبھاگنے کا اشارہ کیا۔ تاشہ نے احسن کا ہاتھ تھاما اور باہر کی طرف بھاگی۔ ایک دم سے اسے دھوپ کی تپش محسوس ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھاگ رہی تھیں اور ان کے پیچھے مکتی باہنی لگے تھے.
"آج میں نے مٹر آلو شوربے دار بنایا ہے۔" امی جانی نے کھانے کا بھرپور لطف اٹھاتے ہوئے باباجان کو بتایا۔ بس وہ کھانا نکالنے لگی تھیں جب گلی میں شور مچا "مکتی باہنی آگئے" وہ سب ننگے پاوں پچھلے دروازے سے باہر کو بھاگے۔ تاشہ ان کی گود میں تھی۔ مکتی باہنی کے چند لوگوں نے انہیں دیکھ لیا اور ان کےپیچھے لپکے۔ تاشہ محض چند ماہ کی تھی جب اسے احساس ہوا ہےماں کی گود سے وہ باپ کی گود میں آگئی تھی۔ ماں کہاں تھی ؟؟؟؟؟؟ پلٹ کر کوئی اپنے مُردوں کو نہیں اٹھا رہا تھا۔
"ہم پاکستان پہنچ جائیں گے تو آزاد ہوجائیں گے" بابا کی بھیگی سرگوشی سنائی دی۔ لیکن جب تاشہ ٹرین میں سوار ہورہی تھی تب چچا کی گود میں تھی۔ بابا کہاںگئے۔ ؟؟؟ اس نے احتجاجاً رونا شروع کیا تو چچانے جلدی سے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا مبادا کوئی سن نہ لے ۔
پاکستان پہنچ کر وہ کئی دنوں تک بیمار رہی۔ پھر آہستہ آہستہ زندگی کی طرف لوٹی۔ دادی جان تاشہ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے اپنی ہجرت کی داستان اکثر سنایا کرتی تھیں ۔ تب تاشہ پندرہ سال کی ہوچکی تھی۔ اور اسکول جایا کرتی تھی۔
"دادی کیا اب ہم آزاد ہیں ؟" وہ خوف سے پوچھتی۔"ہاں بیٹا اب ہم آزاد ہیں۔" دادی غم و مسرت کے ملے جلے لہجے میں اسے کہتیں ۔تاشہ نے اسلامیات میں ماسٹرز کیا تب اسے احساس ہوا کے ہم اب بھی غلام ہیں ۔لباس ، زبان اور ذہنیت کے غلام ۔۔۔
تاشہ نے فرنٹ سیٹ پر احسن کو بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ اس کا وجودکانپ رہا تھا اور احسن کی حالت غیر ہورہی تھی ۔۔
"پپ پانی ۔۔۔پانی" احسن نے خشک ہونٹ پر زبان پھیرا۔پانی ۔۔۔۔؟؟؟؟؟" تاشہ نے ادھر ادھر ہاتھ مارا مگر ۔۔۔ پانی تو وہیں رہ گیا ۔۔بریانی کے شاپر بھی ۔۔ اور ۔شایدتاشہ کا پرس بھی ۔۔۔ احسن کا خون بہت بہ چکا تھا۔ وہ بےہوش ہوگیا ۔تاشہ نے اپنا دوپٹہ اس کے سر پر باندھا مگر خون بہنانہ رکا۔ تاشہ نے گاڑی فل اسپیڈ پر بھگائی۔
ڈرائیونگ سیکھنا بھی اس کا شوق تھا جو آج کام آ رہا تھا ۔ جگہ جگہ چیکینگ پوسٹ پر وہ پوچھتی آگے بڑھتی گئی۔ کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد وہ ہاسپٹل میں تھی۔ساتھ ایک میت بھی۔
مکتی باہنی کے ڈر نے اسے واپس پلٹ کر پانی لانے ہی نہ دیا ۔شاید وہاں کوئی اچھے سے احسن کی پٹی کردیتا یا خون ہی روک دیتا لیکن کرتا کون ۔۔۔ ؟؟؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے یومِ آزادی کی تاریخ  14 اگست ہی کیوں منتخب کی گئی۔۔؟
14/08/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے یومِ آزادی کی تاریخ 14 اگست ہی کیوں منتخب کی گئی۔۔؟

14/08/2026

Address

325 G-III, M. A Johar Town
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 15:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923004005579

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Digest posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Digest:

Shortcuts

Share

Category