27/05/2025
ایک نیا حادثہ: جما ہوا خون، سڑی ہوئی نعشیں
حادثے ہمارے یہاں روز کا معمول ہیں۔ شاہرائے قراقرم ہو یا بلتستان کی گھمبیر وادیوں سے لپٹی سڑکیں، جیسے ان کے سینے انسانی خون کی پیاس سے خشک ہو چکے ہوں۔ روز نئی جانیں ان کی تسکین کرتی ہیں۔ اب تو یہ المیے بھی اتنے عام ہو چکے ہیں کہ جیسے شام کا رات میں ڈھلنا یا رات کا نئی صبح میں جاگنا۔
مگر کبھی کبھار، کوئی ایک ایسا حادثہ ہوتا ہے جو دل کو مفلوج، روح کو پژمردہ اور معمولات کو لرزا دیتا ہے۔ ایسا ہی حادثہ پنجاب کے شہر گجرات کے ان چار نوجوان دوستوں کے ساتھ ہوا۔ وجیہ چہرے، تابناک آنکھیں، زندگی سے لبریز مسکراہٹیں، اور خوشحال خاندانوں کے نونہال، جو وطن کی مٹی سے عشق لیے چھٹیوں میں وطن واپس لوٹے تھے۔ شمالی علاقوں کی ہواؤں میں خوشبو تلاشنے نکلے۔
۱۲ مئی کو اپنے شہر سے روانہ ہوئے۔ راستے میں قہقہے تھے، قصے تھے، نیندیں اور قدرت کے دلکش نظارے۔ گلگت پہنچے، پھر وادی غذر، ہنزہ، نگر کی خوبصورتی میں کھوئے۔ اور پھر ۱۶ مئی کی صبح، گلگت سے سکردو کی طرف روانہ ہوئے — اور لاپتہ ہوگئے۔
بلتستان شاہراہ، جو سیاہ ناگ کی مانند بل کھاتی، بلند و بالا پہاڑوں میں سمٹی ہوئی ہے، کہیں اتری، کہیں چڑھی، اور ہر موڑ پر ایک نیا خطرہ۔ اسی کے ایک سنسان مقام، آستک نالہ پر گاڑی نے توازن کھویا اور لمحوں میں وہ سفینہ چار وجودوں سمیت اندھی کھائی میں غرق ہوگیا۔
تین دوست گاڑی میں دب گئے۔ ایک، شاید معجزانہ طور پر باہر جا گرا۔ ٹوٹے بازو کو سینے سے چمٹائے، لڑکھڑاتے قدموں سے چند قدم چلا، پھر ایک پتھر پر نیم بیہوش ہو بیٹھا۔ وہاں، جہاں صرف سناٹا تھا، چیختا درد تھا، اور آس پاس پھیلا سنگلاخ ویرانہ۔
اس نے شاید بچنے کی کوئی کوشش کی ہو۔ آنکھوں سے اُمید کی کوئی کرن ٹٹولی ہو۔ مگر پھر کہیں ایک بھاری سایہ آیا ہوگا — موت کی صورت، خاموش مگر حاوی۔ اور وہ بھی اسی سناٹے کا حصہ بن گیا۔
سات دن۔ پورے سات دن گزر گئے۔ نہ کوئی آواز، نہ اطلاع۔ یہاں تک کہ لاشیں سڑنے لگیں، اور فضا میں پھیلتی بو نے چیلوں، گِدھوں کو متوجہ کیا۔ وہ پرندے جو مردہ گوشت کی بو سونگھ کر چکر لگانے لگے، اور انہی کی رہنمائی میں تلاش کرنے والوں نے انہیں پا لیا — لاشیں، گاڑی، خون، اور ویرانی۔
چار دوست، جو چند دن پہلے تک زندگی کے تمام رنگوں میں نہا رہے تھے۔ جن کے درمیان باتیں تھیں، ہنسی تھی، خواب تھے، محبتیں اور مستقبل کے منصوبے تھے — ایک لمحے نے سب کچھ چھین لیا۔ ایک موڑ مڑا، اور زندگی ماضی بن گئی۔
اب کچھ باقی نہیں — نہ آواز، نہ سوال، نہ جواب۔ بس ایک مستقل خاموشی، جو ان چاروں کی ہمراہی میں سات راتوں تک ساتھ رہی۔
یہ حادثہ صرف ایک اور حادثہ نہیں۔ یہ ایک چیخ ہے جو کانوں سے نہیں، روح سے سنی جاتی ہے۔ یہ ایک دھچکا ہے جو عادتوں کو توڑ دیتا ہے۔ یہ موت کا وہ منظرنامہ ہے جہاں سب کچھ ساکت ہو جاتا ہے۔
اب وہاں صرف بے حس پہاڑ ہیں۔ ایک دریا جو بے نیازی سے بہہ رہا ہے۔ ایک سنّاٹا جو گونجتا ہے۔ سوکھی چٹانیں، ان پر جما خون، اور ان پر پڑی سڑی ہوئی نعشیں — بس یہی کچھ باقی ہے۔
اور ہم؟ ہم بس افسوس کر سکتے ہیں۔ کیونکہ زندگی پھر سے معمول پر آ جائے گی… لیکن ان چار خاندانوں کے دل میں کبھی صبح نہیں ہو گی۔
#حادثہ
#المیہ
#سفرکاانجام
#سانحہ
#پاکستان
#نوجوان
#یادیں
#غم
#درد