Daily Abtak

Daily Abtak http://www.abtak.com.pk Your window to News, Articles from Pakistan, South Asia and the world.

پاکستان میں اس وقت 57 ہزار بلیو پاسپورٹ ہیں 13 سو ریڈ پاسپورٹ ہیںپارلیمنٹیرنز تو صرف ایک ہزار کے لگ بھگ ہیں تو پھر 57 ہز...
10/07/2026

پاکستان میں اس وقت 57 ہزار بلیو پاسپورٹ ہیں 13 سو ریڈ پاسپورٹ ہیں
پارلیمنٹیرنز تو صرف ایک ہزار کے لگ بھگ ہیں تو پھر 57 ہزار بلیو پاسپورٹ کیوں ہے، اس کی لسٹ بھی سامنے آنی چاہیے صرف سیاستدان ہی کیوں نشانہ بنتا ہے سب سامنے آنے چاہیں
شفیع جان

تحریر سجاد اعوان پاکستان میں کئی دہائیوں سے ایک ایسا تعلیمی نظام رائج رہا ہے جس نے معاشرے کو دو واضح حصوں میں تقسیم کر ر...
08/07/2026

تحریر سجاد اعوان
پاکستان میں کئی دہائیوں سے ایک ایسا تعلیمی نظام رائج رہا ہے جس نے معاشرے کو دو واضح حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک طرف امیر گھرانوں کے بچے ہیں جو مہنگے نجی (پرائیویٹ) اسکولوں میں پڑھتے ہیں، جہاں انہیں جدید ٹیکنالوجی، بہترین ماحول اور ہر قسم کی سہولیات میسر ہیں۔ دوسری طرف غریب اور متوسط طبقے کے بچے ہیں جن کا مقدر وہ سرکاری اسکول ہیں جہاں بنیادی سہولیات اور مناسب فرنیچر تک دستیاب نہیں ہوتا۔ تعلیمی نظام کی اس گہری خلیج نے ملک میں امیر اور غریب کے فرق کو مزید بڑھایا ہے، جس کی وجہ سے غریب کا بچہ صرف وسائل کی کمی کے باعث زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ لیکن اب پنجاب کے تعلیمی منظرنامے میں ایک بہت بڑی اور مثبت تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کی روشن سوچ کے مطابق، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے زیرِ نگرانی "نواز شریف اسکولز آف ایمیننس" (NSSE) کا ایک انقلابی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد غریب اور امیر کے فرق کو مٹانا اور پنجاب کی ہر تحصیل میں ایسے سرکاری اسکول قائم کرنا ہے جو معیار اور سہولیات کے لحاظ سے بڑے بڑے پرائیویٹ اسکولوں کو پیچھے چھوڑ دیں۔ یہ منصوبہ صرف عام اسکولوں کی عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں، بلکہ سرکاری سطح پر تعلیم کے پورے نظام کو جدید بنانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔
اس سفر کا عملی آغاز ملتان کی ایک پسماندہ تحصیل، جلال پور پیروالا سے ہوا۔ وہاں پہلے ماڈل اسکول کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ حکومت دیہی اور پسماندہ علاقوں کی تقدیر بدلنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اس اسکول کی عمارت کو دوبارہ سے اتنا شاندار اور جدید بنایا گیا کہ نجی اسکولوں کے والدین نے بھی اپنے بچوں کو وہاں سے نکال کر اس سرکاری ماڈل اسکول میں داخل کروانا شروع کر دیا۔ مقامی آبادی نے اس اقدام کا بھرپور استقبال کیا اور اسے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے ایک بہترین موقع سمجھا۔ عوام کی طرف سے داخلوں کی مانگ اس حد تک بڑھ گئی کہ اسکول کو صبح اور شام کی دو شفٹوں میں چلانا پڑا، جہاں اس وقت تقریباً 2200 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکول میں جگہ ختم ہو جانے کے باوجود اب بھی مزید داخلوں کے لیے مقامی لوگوں کا بہت زیادہ دباؤ ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر عوام کو سستی اور معیاری تعلیم دی جائے تو وہ اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے سب سے آگے ہوتے ہیں۔
جلال پور پیروالا کی شاندار کامیابی کے بعد، پنجاب حکومت نے اس دائرہ کار کو پورے صوبے تک پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ حکومت نے طے کیا کہ اب پنجاب کی ہر تحصیل میں ایسے دو ماڈل اسکول بنائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے جنوری 2026 میں اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت سخت جانچ پڑتال کے بعد پورے پنجاب میں 140 سے زیادہ اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان اسکولوں کو چلانے والے پارٹنرز (لائسنس ہولڈرز) بہت محنت کر رہے ہیں اور بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ اسکولوں کا معیار حکومت کی دی گئی سخت ہدایات کے عین مطابق ہو اور کسی بھی سطح پر معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
ملتان کے اسکول کی کامیابی سے متاثر ہو کر، وہاں کے تجربہ کار پارٹنر مسٹر اعجاز احمد نے پہلے مرحلے کے تحت فیروز پور روڈ لاہور کے ایک پسماندہ علاقے سوئے آصل (کاہنہ) میں لڑکیوں کے لیے ایک نیا "نواز شریف اسکول آف ایمیننس" بنانے کا اہم معاہدہ کیا۔ ان کا عزم اس اسکول کو پہلے ماڈل اسکول سے بھی زیادہ مثالی بنانا ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام کام تیزی سے شروع کر دیے گئے ہیں تاکہ علاقے کی لڑکیوں میں تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ اسکول ایک نئی، شاندار اور چار منزلہ عمارت میں قائم کیا گیا ہے جو فیروز پور روڈ اور قصور روڈ کے قریبی دیہی علاقوں کے بچوں کے لیے آنے جانے کے لحاظ سے بہت سازگار ہے۔ لاہور کے مرکز سے دور اور بنیادی شہری سہولتوں سے محروم اس علاقے میں اس طرح کے اسکول کا قیام، لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم اور ان کی سماجی ترقی کے لیے ایک تاریخی قدم ثابت ہوگا۔
اگر ہم اسکول کی خوبصورت عمارت کا جائزہ لیں تو اسے اندر سے بہت پرکشش اور پرسکون بنایا گیا ہے تاکہ بچے خوشی خوشی پڑھنے آئیں۔ فرش پر بہترین کوالٹی کی ٹائلیں لگی ہیں، چھتوں کے ڈیزائن جدید ہیں، اور راہداریوں کی تمام دیواروں پر پڑھائی کی اہمیت اور بچوں کی حوصلہ افزائی سے بھرپور خوبصورت تصاویر اور رنگین اسٹیکرز لگائے گئے ہیں۔ اسکول کے ماحول کو مزید پرسکون اور خوبصورت بنانے کے لیے جگہ جگہ انڈور ہرے بھرے پودے بھی رکھے گئے ہیں تاکہ بچوں کا دل لگا رہے۔سہولیات کے اعتبار سے یہ اسکول کسی بھی مہنگے نجی اسکول کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اسکول میں 50 سے زیادہ بڑے، روشن اور ہوا دار کلاس رومز بنائے گئے ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ روایتی چاک اور بلیک بورڈ کے پرانے نظام کو ختم کر کے ہر کلاس روم میں جدید "اسمارٹ بورڈ" (ڈیجیٹل اسکرین) لگائے گئے ہیں، جن کی مدد سے بچوں کو آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے اسباق پڑھائے جاتے ہیں۔ بچوں کے بیٹھنے کے لیے آرام دہ سنگل ڈیسک (الگ میز اور کرسی) کا انتظام موجود ہے، جبکہ کلاسوں میں روشنی کا بہترین بندوبست ہے۔ اسی طرح طالبات کو عملی طور پر سائنس سکھانے کے لیے فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی کی الگ الگ اور جدید ترین سائنس لیبارٹریز بنائی گئی ہیں تاکہ بچیاں صرف کتابیں نہ پڑھیں بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے تجربات کر کے سائنس کو سمجھیں۔ ان لیبز میں حفاظت کے لیے ہنگامی آلات بھی نصب کیے گئے ہیں۔
جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسکول میں ایک جدید ترین کمپیوٹر سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے جہاں روبوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) جیسے جدید موضوعات سکھانے کا خاص انتظام ہے۔ یہاں تیز رابطہ انٹرنیٹ اور جدید ترین کمپیوٹرز (Chromebooks) مہیا کیے گئے ہیں تاکہ غریب گھرانوں کی بچیاں بھی کمپیوٹر کوڈنگ اور ڈیجیٹل اسکلز سیکھ کر دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک شاندار اور وسیع ای-لائبریری (E-Library) بھی بنائی گئی ہے جہاں عام معلوماتی کتابوں کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اسکرینز پر ہزاروں ڈیجیٹل کتابیں، تعلیمی ویڈیوز اور بین الاقوامی تعلیمی مواد بھی ایک کلک پر دستیاب ہے۔
اسکول کے کھلتے ہی مقامی آبادی نے حکومت اور انتظامیہ پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ داخلہ مہم کے آغاز کے دوران والدین میں 7000 سے زیادہ داخلہ فارم تقسیم کیے گئے، جن میں سے ریکارڈ 5000 فارم والدین نے مکمل کر کے جمع کروائے۔ جمع ہونے والے ان فارمز میں سے 4000 کامیاب طالبات کا تمام ضروری ڈیٹا پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے سرکاری پورٹل پر اپ لوڈ کر دیا گیا ہے۔ اب ان تمام بچیوں کا ایک باقاعدہ داخلہ ٹیسٹ لیا جائے گا، اور جو بچیاں میرٹ پر یہ ٹیسٹ پاس کریں گی، انہیں سرکاری قوانین کے مطابق داخلہ اور دیگر سہولیات دی جائیں گی۔ چونکہ یہ اسکول چھٹی سے دسویں کلاس (سکس ٹو ٹینتھ) تک صرف اور صرف لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، اس لیے والدین کی طرف سے لڑکوں کے لیے جمع کرائے گئے 700 فارم فوری طور پر مسترد کر دیے گئے، جبکہ 300 نامکمل فارمز کو بھی جانچ پڑتال کے بعد لسٹ سے نکال دیا گیا تاکہ میرٹ کو برقرار رکھا جا سکے۔کسی بھی اسکول کی اصل روح اس کے اساتذہ ہوتے ہیں، اس لیے اسکول میں بہترین اور قابل اساتذہ کی بھرتی کے لیے اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتہار دیا گیا، جس کے جواب میں پورے صوبے سے 1500 سے زیادہ اساتذہ نے نوکری کے لیے اپنی درخواستیں جمع کروائیں۔ اساتذہ کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ پر کرنے کے لیے دو سخت مرحلے رکھے گئے؛ پہلے مرحلے میں 700 امیدواروں کا ایک تحریری ٹیسٹ لیا گیا، جس کے بعد دوسرے مرحلے میں بہترین کارکردگی دکھانے والے 300 امیدواروں کا تفصیلی انٹرویو لیا گیا اور پڑھانے کا عملی طریقہ (ڈیمو) دیکھا گیا۔ اس سخت اور شفاف اسکریننگ کے بعد، فی الحال اسکول کے آغاز کے لیے 40 بہترین، تجربہ کار اور انتہائی قابل اساتذہ اور اسٹاف کی ایک ٹیم کو منتخب کر کے رکھ لیا گیا ہے، جن کی تعلیمی قابلیت کم از کم 16 سال کی تعلیم (ایم اے یا بی ایس آنرز) ہے اور ان کے پاس پڑھانے کا اچھا تجربہ ہے۔ مستقبل میں اسکول کی کلاسیں اور شفٹیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ میرٹ پر مزید اساتذہ بھی رکھے جائیں گے۔
سوئے آصل (کاہنہ) جیسے پسماندہ علاقے میں لڑکیوں کے لیے "نواز شریف اسکول آف ایمیننس" کا یہ قیام پنجاب میں سرکاری تعلیم کے شعبے میں ایک حقیقی اور انقلابی قدم ہے۔ ایک دیدہ زیب عمارت، جدید کمپیوٹرز، اسمارٹ کلاس رومز، سائنس لیبز اور انتہائی قابل اساتذہ کی بدولت یہ اسکول ان غریب اور دیہی علاقوں کی ہونہار لڑکیوں کو زندگی میں آگے بڑھنے کے وہ تمام مساوی مواقع فراہم کرے گا جو اس سے پہلے صرف امیروں کا حق سمجھے جاتے تھے۔ یہ اسکول پسماندگی کی اندھیری راہوں میں روشنی کا ایک ایسا مینار ہے جو مستقبل کی قابل، پراعتماد اور پڑھی لکھی خواتین لیڈرز تیار کرنے کے لیے پوری طرح لیس ہے اور آنے والے وقت میں یہ پورا ادارہ اس علاقے کی ترقی کے لیے ایک روشن مثال بن کر ابھرے گا۔

💔 سرگودھا میں عطائیوں کی بے حسی نے ایک اور معصوم زندگی نگل لی: ناخن کے معمولی درد کا علاج کروانے والی 14 سالہ اریزہ فاطم...
07/07/2026

💔 سرگودھا میں عطائیوں کی بے حسی نے ایک اور معصوم زندگی نگل لی: ناخن کے معمولی درد کا علاج کروانے والی 14 سالہ اریزہ فاطمہ مبینہ غلط انجکشن کے باعث جاں بحق! 😭

"ابو مجھے شدید تکلیف ہو رہی ہے، میرا جسم نیلا پڑ رہا ہے..." یہ آخری الفاظ تھے 14 سالہ معصوم اریزہ فاطمہ کے، جو اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ معمولی ناخن کے درد کا علاج کروانے والی بچی آج منوں مٹی تلے جا سوئی ہے اور اس کے والدین پر قیامت ٹوٹ چکی ہے۔

🚨 دلخراش واقعہ کی تفصیلات:
سرگودھا کے بلاک نمبر 18 (گرلز کالج روڈ) پر واقع 'رشید میڈیکل اسٹور' میں انسانی جانوں سے کھیلنے والے عطائیوں نے ایک ہنستی کھیلتی بچی کو موت کی نیند سلا دیا۔ 14 سالہ اریزہ فاطمہ اپنے پاؤں کے انگوٹھے کے ناخن کی تکلیف کے باعث اس میڈیکل اسٹور پر گئی۔ وہاں موجود عطائی ندیم نے ناخن کا معمولی آپریشن کر کے پٹی باندھ دی۔

اگلے دن جب اریزہ دوبارہ پٹی کروانے گئی، تو ندیم کی جگہ اس کا بھائی نسیم عطائی موجود تھا۔ اس نے خود کو زیادہ تجربہ کار ظاہر کرتے ہوئے پٹی تبدیل کی اور اریزہ کو کولہے پر دو انجکشن لگا دیے۔

🛑 تڑپتی رہی اور جسم نیلا پڑ گیا:
انجکشن لگتے ہی معصوم اریزہ شدید تکلیف سے تڑپ اٹھی، اس کا پورا جسم نیلا پڑنے لگا اور وہ وہیں بے ہوش ہو گئی۔ حالت بگڑنے پر اسے فوری طور پر ڈی ایچ کیو (DHQ) ہسپتال سرگودھا منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ مبینہ طور پر غلط انجکشن لگنے کی وجہ سے بچی کے پورے جسم میں شدید اور مہلک انفیکشن پھیل چکا ہے۔ تین دن تک وینٹی لیٹر پر زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے بعد، بالاخر 6 جولائی کی صبح معصوم اریزہ فاطمہ دم توڑ گئی۔

گروپ کیپٹن عاصم طارق شہادت کیس: بڑی پیش رفت، مرکزی ملزم اسلحہ اور موٹر سائیکل سمیت گرفتاراسلام آباد (ویب ڈیسک): گروپ کیپ...
05/07/2026

گروپ کیپٹن عاصم طارق شہادت کیس: بڑی پیش رفت، مرکزی ملزم اسلحہ اور موٹر سائیکل سمیت گرفتار
اسلام آباد (ویب ڈیسک): گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت کے مقدمے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بڑی کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مقدمے کے مرکزی ملزم کو واردات میں استعمال ہونے والے اسلحے اور موٹر سائیکل سمیت گرفتار کر لیا۔

غوری ٹاؤن سے اہم گرفتاری
ذرائع کے مطابق تھانہ آبپارہ پولیس نے ایس ایچ او ذوالفقار کی سربراہی میں وفاقی دارالحکومت کے علاقے غوری ٹاؤن میں ایک کامیاب چھاپہ مارا، جس کے دوران مطلوبہ مرکزی ملزم محمد سعد عباسی ولد محمد سجاد کو دھر لیا گیا۔
اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت ملزم کے قبضے سے درج ذیل چیزیں برآمد ہوئیں:

ایک عدد 30 بور پستول (جو ممکنہ طور پر واردات میں استعمال ہوا)

موٹر سائیکل (رجسٹریشن نمبر: WK-8381)
تفتیش کے لیے سی آئی اے کے حوالے
ابتدائی قانونی کارروائی اور ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد، ملزم کو برآمد شدہ اسلحے اور موٹر سائیکل سمیت مزید تفتیش کے لیے ڈی ایس پی سلمان کی نگرانی میں سی آئی اے (CIA) پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی معاونت سے گرفتار ہونے والے اس ملزم کو تفتیش کے لیے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے جہاں اس سے تاحال سخت پوچھ گچھ جاری ہے۔

اسلام آباد میں اغوا کی کوشش ناکام، خاتون کی آبرو بچاتے ہوئے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم شہیداسلام آباد (خصوصی رپورٹر/ ...
05/07/2026

اسلام آباد میں اغوا کی کوشش ناکام، خاتون کی آبرو بچاتے ہوئے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم شہید
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر/ سٹاف رپورٹر) وفاقی دارالحکومت کے انتہائی مصروف ترین شاہراہ نائنٹھ ایونیو پر ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک خاتون کی عزت و آبرو بچانے کی کوشش کے دوران پاک فضائیہ کے اعلیٰ افسر گروپ کیپٹن عاصم نے فرض شناسی اور شجاعت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر لیا۔ ملزم واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم نائنٹھ ایونیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل سوار اوباش شخص سڑک کنارے ایک خاتون کا ہاتھ کھینچ رہا ہے اور اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک غیور اور ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے گروپ کیپٹن عاصم نے فوری طور پر اپنی گاڑی کا رخ موڑا اور خاتون کی مدد کے لیے پہنچے۔ ائیر فورس افسر کی مداخلت کے باعث خاتون تو دوسری طرف بھاگنے میں کامیاب ہو گئی اور اس کی جان بچ گئی، تاہم موٹر سائیکل سوار مبینہ ملزم سعد نے شدید طیش میں آ کر گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ پہلے بدکلامی کی اور پھر اپنے پاس موجود اسلحے سے ان پر بے دریغ فائرنگ کر دی۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گولیاں لگنے کے نتیجے میں گروپ کیپٹن عاصم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ملزم فائرنگ کرتا ہوا فرار ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور لاش کو ہسپتال منتقل کیا۔پولیس نے موقع سے متاثرہ خاتون کو تحویل میں لے کر اس کا بیان قلمبند کر لیا ہے۔ خاتون نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم سعد اس کے ساتھ ہی ایک دفتر میں کام کرتا ہے اور اس نے خاتون کو دفتر چھوڑنے کے بہانے موٹر سائیکل پر لفٹ کی پیشکش کی تھی۔ تاہم، نائنٹھ ایونیو پر پہنچ کر ملزم نے بدنیتی کی بنیاد پر راستہ تبدیل کر دیا اور اسے کسی نامعلوم جگہ لے جانا چاہتا تھا۔ خاتون نے جب مزاحمت کی تو ملزم نے زبردستی ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا، جس پر وہاں سے گزرنے والے پاک فضائیہ کے افسر نے بروقت کارروائی کر کے اس کی آبرو بچائی۔پولیس حکام کے مطابق شہید گروپ کیپٹن عاصم نے اپنے سوگواران میں بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔ ائیر فورس افسر کی اس عظیم قربانی پر سول اور عسکری حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سعد کی شناخت ہو چکی ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد اور گردونواح میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ See less

04/07/2026

لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کیس: متاثرہ ہسپانوی خاتون کا عدالت میں ریکارڈ کرایا گیا ہولناک بیان منظرِ عام پر

لاہور (خصوصی رپورٹر): صوبائی دارالحکومت کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تشدد اور اجتماعی زیادتی کے کیس میں ایک نیا اور لرزہ خیز موڑ سامنے آیا ہے۔ مقدمے کی متاثرہ دوسری غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کا مقامی مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کروائے گئے حلفیہ بیان کا کچھ حصہ منظرِ عام پر آ گیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ہولناک واقعات کی تصدیق کی ہے۔متاثرہ ہسپانوی خاتون نے عدالت کے روبرو جو سنسنی خیز انکشافات کیے، ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں40 سالہ متاثرہ خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن، جو اسپین کے شہر 'ہنڈاس دی لاس' کی رہائشی ہیں، نے حلفیہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کہانی بالکل ویسی ہی ہے جیسی ان کی سہیلی اسٹیفنی نے بتائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ گھر میں قیام کے دوران ان کا تجربہ انتہائی بھیانک تھا۔ پہلی ہی رات 4 مسلح افراد نے گھر پر دھوا بولا اور دونوں خواتین کو رسیوں سے باندھ دیا۔بیان کے مطابق کالے کپڑوں میں ملبوس ایک مسلح شخص نے خاتون کو ہراساں کیا ۔ اسی دوران مرکزی ملزم رضا ڈار وہاں آیا اور ان سے کمپیوٹر اور پیسوں کے بارے میں پوچھا۔ خاتون کے بتانے پر ملزمان نے سبز بیگ میں موجود چیزیں قبضے میں لے لیں۔ ملزمان کمپیوٹرز کے پاس ورڈز حاصل کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالتے رہے اور مزاحمت پر خاتون کے سر پر پسٹل کا بٹ مار کر شدید زخمی کر دیا۔متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ تین مزید افراد بیڈ روم میں داخل ہوئے، جن میں ایک بڑی عمر کا شخص رائفل کے ساتھ تھا۔ انہوں نے خاتون کو جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا۔ خاتون کے متعدد بار انکار کرنے اور رونے پیٹنے کے باوجود، کالے کپڑوں میں ملبوس شخص انہیں زبردستی دوسری منزل پر لے گیا، جہاں انہیں برہنہ کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے ساتھ متعدد بار زیادتی کی گئی۔ بعد ازاں ملزمان متاثرہ خاتون کو دوبارہ اسی کمرے میں چھوڑ گئے جہاں دیگر لوگ یرغمال تھے۔

04/07/2026

لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں دو غیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی، 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ؛ 4 ملزمان گرفتار

لاہور (خصوصی نمائندہ): صوبائی دارالحکومت کے انتہائی حساس اور پوش علاقے ڈیفنس (DHA) میں ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، وحشیانہ تشدد، اجتماعی زیادتی اور کروڑوں روپے تاوان طلب کرنے کی سنگین واردات نے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے گرینڈ آپریشن کے دوران 4 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

کیس کی تفصیلات اور ایف آئی آر کے مطابق سنسنی خیز حقائق درج ذیل ہیں:

سوشل میڈیا دوستی اور پاکستان آمد: ہالینڈ کی رہائشی متاثرہ خاتون سٹیفن ایڈرینا کی سنگاپور میں علی رضا نامی پاکستانی نوجوان سے ملاقات ہوئی تھی۔ اسی جان پہچان کے بعد سٹیفن ایڈرینا اپنی وینزویلا سے تعلق رکھنے والی سہیلی کے ہمراہ اپنے دوستوں سے ملاقات کے لیے 2 جون کو پاکستان پہنچی تھیں۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نامزد ملزم علی رضا نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر دونوں غیر ملکی خواتین کو مبینہ طور پر اغوا کیا۔ اس دوران ہالینڈ کی خاتون کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی (گینگ ریپ) جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا گیا۔سفاک ملزمان نے دونوں خواتین کو یرغمال بنا کر ان کی رہائی کے بدلے ہالینڈ میں موجود لڑکی کے اہل خانہ سے 15 لاکھ امریکی ڈالر (بھاری رقم) تاوان کا مطالبہ کیا۔ واقعے کا ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب ہالینڈ میں موجود متاثرہ خاتون کے پریشان حال والد نے پاکستان کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 'پکار 15' پر انٹرنیشنل کال ملا کر اپنی بیٹی کے مبینہ اغوا اور جان کو لاحق خطرات کی اطلاع دی۔ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کے نوٹس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا۔

اسرگودھا: منتہاء کیس کے مرکزی ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت، ایک اور درندہ انجام کو پہنچ گیاسرگودھا (رپورٹ): معصو...
23/06/2026

ا
سرگودھا: منتہاء کیس کے مرکزی ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت، ایک اور درندہ انجام کو پہنچ گیا

سرگودھا (رپورٹ): معصوم بچی منتہاء کے اغوا اور قتل کے ہولناک کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق، واقعے کا مرکزی مبینہ ملزم جھال چکیاں کے قریب ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، پولیس ٹیم ملزم کی نشاندہی اور شواہد کی بازیابی کے لیے جا رہی تھی کہ جھال چکیاں کے قریبی علاقے میں پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں مبینہ ملزم شدید زخمی ہوا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ اس کے دیگر ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

عوامی ردعمل: معصوم منتہاء کے ساتھ درندگی کرنے والے ملزم کے عبرتناک انجام پر شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین نے گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور اس انجام سے مظلوم خاندان کو انصاف ملا ہے

پنجاب میں اراضی کے ریکارڈ میں شفافیت اور زمینوں پر قبضے کے تنازعات کے خاتمے کے لیے ایک بڑا اقدام اٹھایا گیا ہے۔ حکومت کی...
23/06/2026

پنجاب میں اراضی کے ریکارڈ میں شفافیت اور زمینوں پر قبضے کے تنازعات کے خاتمے کے لیے ایک بڑا اقدام اٹھایا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یکم جولائی سے "گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ" کے باقاعدہ اجراء کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے زمینوں کی خرید و فروخت میں دھوکہ دہی کا راستہ بند ہو جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق اس نئے اقدام کے حوالے سے اہم نکات درج ذیل ہیں:

فردِ بیع کا متبادل: گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ صرف 'فردِ بیع' (زمین بیچنے کے لیے حاصل کی جانے والی فرد) کا متبادل ہوگا، جبکہ 'فرد برائے ریکارڈ' پہلے کی طرح معمول کے مطابق جاری ہوتی رہے گی۔
ملکیت اور قبضے کی تصدیق: یہ سرٹیفکیٹ زمینوں کی خرید و فروخت میں مکمل شفافیت کا ضامن ہوگا۔ اس کے ذریعے خریدار اور مالکان یہ شک دور کر سکیں گے کہ وہ جس زرعی یا سکنی (رہائشی) زمین پر قابض ہیں، سرکاری کاغذات میں بھی وہ انہی کے نام پر درج ہے۔
اجراء کا دورانیہ: یہ سرٹیفکیٹ درخواست دینے پر موقع پر فراہم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کے قانونی اور زمینی تصدیق کے عمل میں ایک ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔اہم نوٹ: شہری یکم جولائی سے اپنی زرعی یا رہائشی اراضی کا گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کر کے اپنی ملکیت کو محفوظ اور تنازعات سے پاک بنا سکتے ہیں۔

یونیسف اور حکومتِ پنجاب کا لاہور میں مثبت والدینیت اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کے فروغ کے لیے آگاہی پروگراملاہور: UNICEF...
19/06/2026

یونیسف اور حکومتِ پنجاب کا لاہور میں مثبت والدینیت اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کے فروغ کے لیے آگاہی پروگرام
لاہور: UNICEF پاکستان نے حکومتِ پنجاب کے اشتراک سے لاہور میں ایک خصوصی وکالت/آگاہی تقریب “A Future That Blooms, Grows and Thrives” کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب پیرنٹنگ منتھ 2026 کے موقع پر منعقد کی گئی جس کا مقصد مثبت والدینیت، بچوں کی بہتر پرورش اور ابتدائی بچپن کی نشوونما (Early Childhood Development) کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔
یہ تقریب اس لیے بھی اہم قرار دی گئی کہ ہر سال جون میں پیرنٹنگ منتھ منایا جاتا ہے، جس کا آغاز یکم جون کو عالمی یومِ والدین سے ہوتا ہے۔ اس سلسلے کا بنیادی مقصد والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کے بچوں کی زندگیوں میں کردار کو تسلیم کرنا اور ان کی معاونت کو فروغ دینا ہے۔
لاہور میں منعقدہ اس پروگرام میں پالیسی سازوں، ماہرینِ صحت، جامعات کے نمائندگان، طلبہ اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی ابتدائی عمر ان کی جسمانی، ذہنی، سماجی اور جذباتی نشوونما کی بنیاد رکھتی ہے، لہٰذا اس مرحلے میں مناسب دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین نے کہا کہ بچوں کی بہتر نشوونما صرف خوراک اور صحت کی سہولیات تک محدود نہیں بلکہ اس میں مثبت رویے، توجہ، کھیل کے ذریعے سیکھنے اور والدین کے ساتھ بامعنی وقت گزارنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روزمرہ کی سادہ سرگرمیاں جیسے بچوں سے بات چیت، کہانیاں سنانا اور ان کی بات غور سے سننا ان کی ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تقریب میں یونیسف پنجاب کے چیف فیلڈ آفیسر رمیض بہبودوف، چائلڈ ڈویلپمنٹ اینڈ نیوٹریشن اسپیشلسٹ نجمہ ایوب، نیوٹریشن آفیسر محمد سلمان سمیت مختلف سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔
نجمہ ایوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر بچے کو اس کی مکمل صلاحیت تک پہنچنے کے لیے بہتر دیکھ بھال اور معاونت فراہم کرنا یونیسف کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی نشوونما صرف اداروں پر نہیں بلکہ روزمرہ گھریلو تعاملات پر بھی منحصر ہوتی ہے، اس لیے والدین کو بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت، کمیونٹی سروسز اور سماجی معاونت کے نظام کے ذریعے مثبت والدینیت کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ مضبوط اور خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
رمیض بہبودوف نے کہا کہ یونیسف پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر بچوں کے حقوق کے فروغ اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں پالیسی سازی میں اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ رحمان نے کہا کہ والدین کا رویہ بچوں کی شخصیت، سیکھنے کی صلاحیت اور جذباتی صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ انہوں نے والدین کی شمولیت اور مثبت رابطے کو صحت مند نشوونما کے لیے ضروری قرار دیا۔
آخر میں ایک پینل ڈسکشن منعقد ہوئی جس میں ماہرین نے ابتدائی بچپن کی نشوونما، غذائیت، بچوں کی فلاح و بہبود اور حقوقِ اطفال کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ زندگی کے ابتدائی سال دماغی نشوونما کے لحاظ سے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اس لیے خاندانوں کی معاونت ناگزیر ہے۔
تقریب کے اختتام پر یونیسف اور دیگر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب بھر میں مثبت والدینیت اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کے پروگرامز کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ ہر بچہ محفوظ، صحت مند اور بہتر مستقبل حاصل کر سکے۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Abtak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Daily Abtak:

Shortcuts

Share