10/06/2026
نجی اداروں کی برتری اور سرکاری سکولوں کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: سجاد اعوان
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور بقا کی ضامن ہوتی ہے، جس ملک کا تعلیمی نظام جتنا مضبوط ہوگا، اس کا مستقبل اتنا ہی تابناک ہوگا، اور پاکستان میں طویل عرصے سے تعلیمی نظام دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے جن میں ایک طرف نجی تعلیمی ادارے ہیں اور دوسری طرف سرکاری سکول۔ اگرچہ ماضی میں سرکاری سکولوں کا معیارِ تعلیم بہترین سمجھا جاتا تھا اور ملک کے نامور سیاستدان، افسر شاہی اور سائنسدان انہی اداروں سے پڑھ کر نکلے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سرکاری سکول اپنی وہ ساکھ برقرار نہ رکھ سکے جس کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو نجی سکولوں نے پُر کیا، جہاں آج تعلیم کا معیار نسبتاً کہیں بہتر ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کے نجی تعلیمی اداروں نے عصری تقاضوں کو بہت جلد اور خوبصورتی سے اپنایا ہے، اور ان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ وہاں کا سخت نظم و ضبط، جدید نصاب اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا ہے، جبکہ ان اداروں میں بچوں کی انفرادی صلاحیتوں پر توجہ دی جاتی ہے اور انہیں کمپیوٹر کی تجربہ گاہیں، جدید کتب خانے اور غیر نصابی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ نجی سکولوں کا انتظام و انعام اس بات پر مبنی ہوتا ہے کہ اگر وہ اچھا نتیجہ نہیں دیں گے تو والدین اپنے بچوں کو وہاں سے اٹھا لیں گے، اور یہی باہمی مسابقت انہیں اپنے معیار کو روز بروز بہتر بنانے پر مجبور کرتی ہے جہاں اساتذہ کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ پڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور یہی وجہ ہے کہ متوسط طبقے سے لے کر امرا تک کے والدین، بھاری فیسوں کے باوجود، اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے نجی سکولوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری طرف، سرکاری سکولوں کا ماضی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو وہ اساتذہ کی عدم حاضری، خستہ حال عمارتوں، پینے کے صاف پانی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار رہے ہیں، لیکن اب مایوسی کے اس گھپ اندھیرے میں امید کی چند کرنیں نمودار ہو رہی ہیں اور حالیہ چند سالوں میں حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں کے نظام کو سدھارنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے بڑی تبدیلی اساتذہ کی بھرتی کے طریقہ کار میں آئی ہے جہاں اب سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی بھرتیاں مکمل طور پر قابلیت اور شفاف امتحانات کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جس سے انتہائی قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اس شعبے میں آ رہے ہیں جن کی اہلیت نجی سکولوں کے اساتذہ سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ یہ سخت مقابلے کا امتحان پاس کر کے آتے ہیں۔ علاوہ ازیں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے خطیر فنڈز جاری کیے گئے ہیں، ہزاروں سکولوں میں شمسی توانائی کے نظام لگائے جا چکے ہیں، کمپیوٹر کی تجربہ گاہیں قائم کی جا رہی ہیں اور متحرک سائنسی تجربہ گاہوں کے ذریعے دیہی علاقوں کے بچوں کو بھی سائنسی تجربات کی سہولت دی جا رہی ہے، جبکہ حکومت نے جدید ڈیجیٹل نظام کی طرف بھی قدم بڑھائے ہیں جس کے تحت اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کو انگلیوں کے نشانات اور آن لائن ایپلی کیشنز کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے، جس سے غائب رہنے والے اساتذہ اور بلاوجہ چھٹیوں کے رجحان کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی ایک اور بہترین حکمتِ عملی عوامی اور نجی شعبے کی باہمی شراکت داری ہے جس کے تحت وہ سرکاری سکول جو بدانتظامی کا شکار تھے، انہیں مختلف تعلیمی اداروں یا فلاحی تنظیموں کے حوالے کیا جا رہا ہے، اور اس ماڈل کے تحت سکول سرکاری ہی رہتا ہے اور تعلیم مفت ہوتی ہے، لیکن اس کا انتظام ایک نجی مینیجمنٹ چلاتی ہے جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور ان سکولوں کا معیارِ تعلیم نجی سکولوں کے برابر آ چکا ہے۔ یہ تمام کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرکاری سطح پر اب تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے، لیکن ابھی سفر لمبا ہے اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک کا ہر بچہ یکساں اور معیاری تعلیم حاصل کرے، تو سرکاری سکولوں کے بجٹ میں مزید اضافہ کرنا ہوگا، نصاب کو یکساں اور جدید بنانا ہوگا اور اساتذہ کی مسلسل تربیت کا اہتمام کرنا ہوگا۔ نجی سکول بلاشبہ ہمارے تعلیمی نظام کا ایک اہم اور بہترین حصہ ہیں جنہوں نے ملک میں تعلیم کا معیار بلند رکھا، لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے، نجی سکول سب کی پہنچ میں نہیں ہو سکتے، اس لیے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سرکاری سکولوں کو نجی سکولوں کے معیار کے برابر لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور حکومت کی موجودہ کوششیں قابلِ ستائش ہیں جو اگر تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو وہ دن دور نہیں جب سرکاری سکولوں کے بچے بھی نجی سکولوں کے بچوں کی طرح پراعتماد انداز میں دنیا کا مقابلہ کرتے نظر آئیں گے۔