19/06/2026
یونیسف اور حکومتِ پنجاب کا لاہور میں مثبت والدینیت اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کے فروغ کے لیے آگاہی پروگرام
لاہور: UNICEF پاکستان نے حکومتِ پنجاب کے اشتراک سے لاہور میں ایک خصوصی وکالت/آگاہی تقریب “A Future That Blooms, Grows and Thrives” کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب پیرنٹنگ منتھ 2026 کے موقع پر منعقد کی گئی جس کا مقصد مثبت والدینیت، بچوں کی بہتر پرورش اور ابتدائی بچپن کی نشوونما (Early Childhood Development) کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔
یہ تقریب اس لیے بھی اہم قرار دی گئی کہ ہر سال جون میں پیرنٹنگ منتھ منایا جاتا ہے، جس کا آغاز یکم جون کو عالمی یومِ والدین سے ہوتا ہے۔ اس سلسلے کا بنیادی مقصد والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کے بچوں کی زندگیوں میں کردار کو تسلیم کرنا اور ان کی معاونت کو فروغ دینا ہے۔
لاہور میں منعقدہ اس پروگرام میں پالیسی سازوں، ماہرینِ صحت، جامعات کے نمائندگان، طلبہ اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی ابتدائی عمر ان کی جسمانی، ذہنی، سماجی اور جذباتی نشوونما کی بنیاد رکھتی ہے، لہٰذا اس مرحلے میں مناسب دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین نے کہا کہ بچوں کی بہتر نشوونما صرف خوراک اور صحت کی سہولیات تک محدود نہیں بلکہ اس میں مثبت رویے، توجہ، کھیل کے ذریعے سیکھنے اور والدین کے ساتھ بامعنی وقت گزارنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روزمرہ کی سادہ سرگرمیاں جیسے بچوں سے بات چیت، کہانیاں سنانا اور ان کی بات غور سے سننا ان کی ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تقریب میں یونیسف پنجاب کے چیف فیلڈ آفیسر رمیض بہبودوف، چائلڈ ڈویلپمنٹ اینڈ نیوٹریشن اسپیشلسٹ نجمہ ایوب، نیوٹریشن آفیسر محمد سلمان سمیت مختلف سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔
نجمہ ایوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر بچے کو اس کی مکمل صلاحیت تک پہنچنے کے لیے بہتر دیکھ بھال اور معاونت فراہم کرنا یونیسف کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی نشوونما صرف اداروں پر نہیں بلکہ روزمرہ گھریلو تعاملات پر بھی منحصر ہوتی ہے، اس لیے والدین کو بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت، کمیونٹی سروسز اور سماجی معاونت کے نظام کے ذریعے مثبت والدینیت کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ مضبوط اور خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
رمیض بہبودوف نے کہا کہ یونیسف پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر بچوں کے حقوق کے فروغ اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں پالیسی سازی میں اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ رحمان نے کہا کہ والدین کا رویہ بچوں کی شخصیت، سیکھنے کی صلاحیت اور جذباتی صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ انہوں نے والدین کی شمولیت اور مثبت رابطے کو صحت مند نشوونما کے لیے ضروری قرار دیا۔
آخر میں ایک پینل ڈسکشن منعقد ہوئی جس میں ماہرین نے ابتدائی بچپن کی نشوونما، غذائیت، بچوں کی فلاح و بہبود اور حقوقِ اطفال کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ زندگی کے ابتدائی سال دماغی نشوونما کے لحاظ سے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اس لیے خاندانوں کی معاونت ناگزیر ہے۔
تقریب کے اختتام پر یونیسف اور دیگر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب بھر میں مثبت والدینیت اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کے پروگرامز کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ ہر بچہ محفوظ، صحت مند اور بہتر مستقبل حاصل کر سکے۔