Daily Abtak

Daily Abtak http://www.abtak.com.pk Your window to News, Articles from Pakistan, South Asia and the world.

نجی اداروں کی برتری اور سرکاری سکولوں کا بدلتا منظرنامہتحریر: سجاد اعوان تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور بقا ک...
10/06/2026

نجی اداروں کی برتری اور سرکاری سکولوں کا بدلتا منظرنامہ

تحریر: سجاد اعوان
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور بقا کی ضامن ہوتی ہے، جس ملک کا تعلیمی نظام جتنا مضبوط ہوگا، اس کا مستقبل اتنا ہی تابناک ہوگا، اور پاکستان میں طویل عرصے سے تعلیمی نظام دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے جن میں ایک طرف نجی تعلیمی ادارے ہیں اور دوسری طرف سرکاری سکول۔ اگرچہ ماضی میں سرکاری سکولوں کا معیارِ تعلیم بہترین سمجھا جاتا تھا اور ملک کے نامور سیاستدان، افسر شاہی اور سائنسدان انہی اداروں سے پڑھ کر نکلے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سرکاری سکول اپنی وہ ساکھ برقرار نہ رکھ سکے جس کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو نجی سکولوں نے پُر کیا، جہاں آج تعلیم کا معیار نسبتاً کہیں بہتر ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کے نجی تعلیمی اداروں نے عصری تقاضوں کو بہت جلد اور خوبصورتی سے اپنایا ہے، اور ان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ وہاں کا سخت نظم و ضبط، جدید نصاب اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا ہے، جبکہ ان اداروں میں بچوں کی انفرادی صلاحیتوں پر توجہ دی جاتی ہے اور انہیں کمپیوٹر کی تجربہ گاہیں، جدید کتب خانے اور غیر نصابی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ نجی سکولوں کا انتظام و انعام اس بات پر مبنی ہوتا ہے کہ اگر وہ اچھا نتیجہ نہیں دیں گے تو والدین اپنے بچوں کو وہاں سے اٹھا لیں گے، اور یہی باہمی مسابقت انہیں اپنے معیار کو روز بروز بہتر بنانے پر مجبور کرتی ہے جہاں اساتذہ کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ پڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور یہی وجہ ہے کہ متوسط طبقے سے لے کر امرا تک کے والدین، بھاری فیسوں کے باوجود، اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے نجی سکولوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری طرف، سرکاری سکولوں کا ماضی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو وہ اساتذہ کی عدم حاضری، خستہ حال عمارتوں، پینے کے صاف پانی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار رہے ہیں، لیکن اب مایوسی کے اس گھپ اندھیرے میں امید کی چند کرنیں نمودار ہو رہی ہیں اور حالیہ چند سالوں میں حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں کے نظام کو سدھارنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے بڑی تبدیلی اساتذہ کی بھرتی کے طریقہ کار میں آئی ہے جہاں اب سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی بھرتیاں مکمل طور پر قابلیت اور شفاف امتحانات کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جس سے انتہائی قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اس شعبے میں آ رہے ہیں جن کی اہلیت نجی سکولوں کے اساتذہ سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ یہ سخت مقابلے کا امتحان پاس کر کے آتے ہیں۔ علاوہ ازیں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے خطیر فنڈز جاری کیے گئے ہیں، ہزاروں سکولوں میں شمسی توانائی کے نظام لگائے جا چکے ہیں، کمپیوٹر کی تجربہ گاہیں قائم کی جا رہی ہیں اور متحرک سائنسی تجربہ گاہوں کے ذریعے دیہی علاقوں کے بچوں کو بھی سائنسی تجربات کی سہولت دی جا رہی ہے، جبکہ حکومت نے جدید ڈیجیٹل نظام کی طرف بھی قدم بڑھائے ہیں جس کے تحت اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کو انگلیوں کے نشانات اور آن لائن ایپلی کیشنز کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے، جس سے غائب رہنے والے اساتذہ اور بلاوجہ چھٹیوں کے رجحان کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی ایک اور بہترین حکمتِ عملی عوامی اور نجی شعبے کی باہمی شراکت داری ہے جس کے تحت وہ سرکاری سکول جو بدانتظامی کا شکار تھے، انہیں مختلف تعلیمی اداروں یا فلاحی تنظیموں کے حوالے کیا جا رہا ہے، اور اس ماڈل کے تحت سکول سرکاری ہی رہتا ہے اور تعلیم مفت ہوتی ہے، لیکن اس کا انتظام ایک نجی مینیجمنٹ چلاتی ہے جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور ان سکولوں کا معیارِ تعلیم نجی سکولوں کے برابر آ چکا ہے۔ یہ تمام کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرکاری سطح پر اب تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے، لیکن ابھی سفر لمبا ہے اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک کا ہر بچہ یکساں اور معیاری تعلیم حاصل کرے، تو سرکاری سکولوں کے بجٹ میں مزید اضافہ کرنا ہوگا، نصاب کو یکساں اور جدید بنانا ہوگا اور اساتذہ کی مسلسل تربیت کا اہتمام کرنا ہوگا۔ نجی سکول بلاشبہ ہمارے تعلیمی نظام کا ایک اہم اور بہترین حصہ ہیں جنہوں نے ملک میں تعلیم کا معیار بلند رکھا، لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے، نجی سکول سب کی پہنچ میں نہیں ہو سکتے، اس لیے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سرکاری سکولوں کو نجی سکولوں کے معیار کے برابر لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور حکومت کی موجودہ کوششیں قابلِ ستائش ہیں جو اگر تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو وہ دن دور نہیں جب سرکاری سکولوں کے بچے بھی نجی سکولوں کے بچوں کی طرح پراعتماد انداز میں دنیا کا مقابلہ کرتے نظر آئیں گے۔

10/06/2026

راولپنڈی: مری ایکسپریس وے پر کحجوٹ کے قریب ایک افسوسناک حادثے میں مسافر ہائی ایس وین میں اچانک آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی موٹروے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے امدادی سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے آگ پر قابو پانے اور متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوششیں کیں۔
ترجمان موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جبکہ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں حتمی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

واقعے کے بعد مری ایکسپریس وے پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، تاہم متعلقہ اداروں نے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

81 ہزار 930 ارب روپے قرض! یہ صرف ایک عدد نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے کندھوں پر رکھا جانے والا ایک بھاری بوجھ ہے۔ افسوس ...
10/06/2026

81 ہزار 930 ارب روپے قرض! یہ صرف ایک عدد نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے کندھوں پر رکھا جانے والا ایک بھاری بوجھ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ہی سال میں قومی خزانے پر 7 ہزار ارب روپے قرض کا مزید اضافہ ہو گیا، مگر عوام آج بھی مہنگائی، بے روزگاری، ناقص تعلیم، کمزور صحت کے نظام اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے قرضے آخر گئے کہاں؟ اگر قرض عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے لیا جاتا تو آج ہر پاکستانی اس کے ثمرات محسوس کر رہا ہوتا۔ قوم کو حق حاصل ہے کہ وہ پوچھے کہ قرض لینے والے حکمرانوں نے ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ قرضوں کے بوجھ تلے دبتا پاکستان ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، اور اب خاموشی نہیں بلکہ جوابدہی کا وقت ہے۔

حالیہ لاک ڈاؤن اور مہنگا پیٹرولپاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران توانائی کے بحران، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار...
02/06/2026

حالیہ لاک ڈاؤن اور مہنگا پیٹرول

پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران توانائی کے بحران، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث لاک ڈاؤن جیسی پابندیوں اور کفایت شعاری کے اقدامات پر بحث ہوتی رہی۔ پنجاب میں بعض اوقات بازاروں کے اوقات کار محدود کیے گئے اور توانائی بچانے کے لیے مختلف انتظامی اقدامات تجویز کیے گئے۔دوسری طرف مہنگے پیٹرول نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز پر پڑتا ہے۔ رواں سال عالمی حالات کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔
جب سڑکوں پر سفر مہنگا ہو جائے اور بازاروں پر پابندیوں کا سایہ منڈلانے لگے تو سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی اٹھاتا ہے۔ لاک ڈاؤن ہو یا مہنگا پیٹرول، دونوں کا اثر روزانہ کمانے اور روزانہ خرچ کرنے والے طبقے پر سب سے زیادہ پڑتا ہے۔ حکومتوں کے لیے اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف کیسے فراہم کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے  انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی سوال زیرِ بحث ہے: کیا Nawaz Sharif فعال سیاست میں واپسی کی تیاری کر رہے ہ...
02/06/2026

گلگت بلتستان کے انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی سوال زیرِ بحث ہے: کیا Nawaz Sharif فعال سیاست میں واپسی کی تیاری کر رہے ہیں؟
کیونکہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد نواز شریف نسبتاً پس منظر میں چلے گئے تھے اور روزمرہ سیاست میں ان کی براہِ راست سرگرمیاں محدود تھیں۔ اب گلگت بلتستان کے انتخابات میں ان کی شمولیت اس تاثر کو مضبوط کر رہی ہے کہ وہ دوبارہ سیاسی میدان میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب، مسلم لیگ (ن) کے حلقے اسے پارٹی کی انتخابی مہم کا حصہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نواز شریف اب بھی جماعت کے سب سے مؤثر سیاسی رہنما اور ووٹ بینک کی علامت ہیں۔ گلگت بلتستان میں ان کی موجودگی کا مقصد پارٹی امیدواروں کو تقویت دینا اور ووٹروں کو متحرک کرنا ہے۔

امریکی صدر Donald Trump نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کا مؤقف “بہت سخت” ہے اور مذاکرات میں ابھی کئی اہ...
31/05/2026

امریکی صدر Donald Trump نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کا مؤقف “بہت سخت” ہے اور مذاکرات میں ابھی کئی اہم اختلافات باقی ہیں۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران سے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم، پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر بات چیت کر رہا ہے، لیکن دونوں فریق اپنی بنیادی شرائط پر سختی سے قائم ہیں۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی مضبوط ضمانت دے، جبکہ ایران پابندیوں میں نرمی اور اپنے بعض حقوق کے تحفظ پر زور دے رہا ہے۔ اسی تناظر میں ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کاروں کا رویہ سخت ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور کسی معاہدے کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

یہ معاملہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عالمی تیل منڈی اور امریکہ–ایران تعلقات کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے، اسی لیے دنیا بھر کی نظریں ان مذاکرات کے نتائج پر لگی ہوئی ہیں

ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت عیدالاضحٰی پر اندرون شہر میں تاریخی صفائی آپریشنزیرو ویسٹ مشن: وزیر بلدیات کا ٹاؤن مینجر مہوش...
29/05/2026

ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت عیدالاضحٰی پر اندرون شہر میں تاریخی صفائی آپریشن

زیرو ویسٹ مشن: وزیر بلدیات کا ٹاؤن مینجر مہوش مجید اور ٹیم کو خراجِ تحسین

عیدالاضحیٰ پر اندرون شہر سے چار سو ٹن سے زائد آلائشیں بروقت ٹھکانے لگا دی گئیں

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر اندرون شہر لاہور کا تفصیلی دورہ کیا اور راوی ٹاؤن زون 5 میں صفائی کے مجموعی انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس دوران گلی محلوں، تنگ بازاروں اور اندرون شہر کے اہم و عوامی مقامات پر صفائی کی صورتحال کو چیک کیا گیا۔
وزیر بلدیات نے بروقت صفائی، جانوروں کی آلائشوں کی فوری منتقلی اور مجموعی نظم و ضبط پر ٹاؤن مینجر آپریشن مہوش مجید اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ جیسے بڑے موقع پر اندرون شہر جیسے گنجان علاقے میں صفائی کا مؤثر نظام قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے جسے اندرون شہر کی ستھرا پنجاب کی ٹیم نے بخوبی نبھایا۔ اس موقع پر وزیر بلدیات کے ہمراہ کمشنر لاہور ڈویژن مریم خان، ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز اور ڈائریکٹر جنرل ستھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین بھی موجود تھے۔ اعلیٰ حکام نے مہوش مجید کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اندرون شہر کو زیرو ویسٹ بنانے کی کوششیں ایک خاتون ٹاؤن مینجر کی انتھک محنت اور مؤثر حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اس موقع پر ٹاؤن مینجر نے وفد کو صفائی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کامیابی پوری ٹیم کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے عیدالاضحیٰ کے دوران دن رات کام کر کے شہر کو صاف رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ معمول کے دنوں میں اندرون شہر سے روزانہ تقریباً سو ٹن سے زائد ویسٹ اٹھایا جاتا ہے جبکہ چھ سو بیٹس میں صفائی کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر یہی ٹیم محکمے اور اپنے افسران کی عزت کو برقرار رکھتے ہوئے ڈبل شفٹوں میں اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ عید کے ایام میں اندرون شہر سے چار سو ٹن سے زائد جانوروں کی آلائشیں اور فضلہ لوڈر رکشوں اور مشینری کے ذریعے بروقت ٹھکانے لگایا گیا۔
وزیر بلدیات نے صفائی کے ان مثالی انتظامات کو دیگر علاقوں کے لیے قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ایسے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

زیرو فیس تعلیم – پنجاب کی روشن مستقبل کی جانب ایک تاریخی چھلانگتحریر: سجاد اعوان پنجاب کی عوامی تعلیم کی تاریخ میں آج ای...
24/05/2026

زیرو فیس تعلیم – پنجاب کی روشن مستقبل کی جانب ایک تاریخی چھلانگ
تحریر: سجاد اعوان

پنجاب کی عوامی تعلیم کی تاریخ میں آج ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے، اور اس باب کا عنوان ہے "نواز شریف اسکول آف ایمیننس"، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی دور اندیشی اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی بے مثال محنت کی بدولت پنجاب کے غریب سے غریب طالب علم کو بھی وہ تعلیم ملے گی جو آج صرف لاکھوں روپے فیس دینے والے بچوں کو حاصل ہے، لاہور کے نواحی علاقے سوئے آصل، میں قائم ہونے والا یہ اسکول صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک خواب ہے، ایک ایسا خواب جسے مسلم لیگ (ن) کی حکومت حقیقت میں بدل رہی ہے، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت ایک سو پچپن اسکولوں کے قیام کے لیے مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے، اور یہ صرف شروعات ہے، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات صاحب نے واضح کیا ہے کہ یہ اسکول مکمل طور پر بغیر کسی فیس کے ہوں گے، جس کا مطلب ہے کہ ایک محنت کش مزدور کا بچہ اور ایک امیر گھرانے کا بچہ ایک ہی بینچ پر بیٹھے گا، ایک جیسی جدید سہولیات استعمال کرے گا، کیا یہ پاکستان کے لیے کوئی معمولی بات ہےہرگز نہیں، یہ ایک سماجی انقلاب ہے، ان اسکولوں میں جدید ترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں سائنس لیب، کمپیوٹر لیب، روبوٹکس لیب، سٹیم تعلیم، اور چھوٹے بچوں کے لیے خصوصی کلاس رومز شامل ہیں، یہ وہ سہولیات ہیں جو پہلے صرف ڈیفنس اور گلبرگ جیسے مہنگے علاقوں کے اسکولوں تک محدود تھیں، آج وہی سہولیات کھانا، سوئے آصل جیسے دور دراز علاقوں کے غریب بچوں کو مفت میں فراہم کی جا رہی ہیں، اس منصوبے کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کوئی نیا تجربہ نہیں بلکہ ایک کامیاب نمونے کی توسیع ہے، ملتان کے جلالپور پیر والا اسکول آف ایمیننس نے ثابت کر دیا ہے کہ جب حکومت سنجیدگی سے چاہے تو سرکاری اسکول بھی نجی اسکولوں سے بہتر ہو سکتے ہیں، آج وہاں چار سو کنال پر پھیلا ہوا جدید کمپلیکس تقریباً بارہ سو طلبہ کو اعلیٰ تعلیم دے رہا ہے، اور اب وہی نمونہ پنجاب بھر میں دہرایا جا رہا ہے، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی قیادت میں محکمہ تعلیم نے بے مثال شفافیت کا مظاہرہ کیا ہے، دو سو اٹھائیس درخواستوں کا پانچ روزہ طویل عمل میں جائزہ لیا گیا، جس میں تعلیمی منصوبہ، انتظامی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے اور پائیداری کے معیارات کو سختی سے پرکھا گیا، یہ وہ طریقہ کار ہے جو بدعنوانی کی کسی بھی گنجائش کو ختم کرتا ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ یہ حکومت تعلیم پر سنجیدہ نہیں؟ اساتذہ کی تنخواہوں کا معاملہ بھی قابل تحسین ہے، اسکول آف ایمیننس میں پرنسپلز کو ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ اور اساتذہ کو تیس سے پچاس ہزار روپے کی تنخواہ دی جا رہی ہے، یہ تنخواہیں نجی اسکولوں سے بھی زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے بہترین ذہن اس شعبے کی طرف راغب ہو رہے ہیں، اچھے اساتذہ کے بغیر کوئی تعلیمی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا، اور یہ حکومت اس حقیقت کو خوب سمجھتی ہے، یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پنجاب حکومت نے صرف اسکولوں تک ہی اپنی توجہ محدود نہیں رکھی بلکہ ایک لاکھ سے زائد طلبہ کے لیے مفت اطلاعاتی کورسز بھی منظور کیے ہیں، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے حال ہی میں جفٹ یونیورسٹی کا دورہ کیا اور آنرز اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ اسکیم جیسے منصوبوں کو فروغ دیا، یہ سب مل کر بتاتے ہیں کہ پنجاب ڈیجیٹل انقلاب کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے پہلے ہی چالیس لاکھ سے زائد بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا سنہری ریکارڈ قائم کیا ہے، جس پر پچیس ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے، اب ان ایک سو پچپن نئے اسکولوں کا اضافہ اس ریکارڈ کو مزید مضبوط کرے گا، یہ کوئی قرضے پر چلنے والا منصوبہ نہیں بلکہ ایک پائیدار اور منصوبہ بند ترقی ہے، کچھ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر منصوبے پر قابو پانا مشکل ہو گا، لیکن یہ لوگ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اس نمونے کو بھول جاتے ہیں جس میں فنڈز صرف اسی اسکول کو جاری کیے جاتے ہیں جو بہترین نتائج دے، جس کی وجہ سے تمام اسکول معیار پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ وہ نظام ہے جو جوابدہی کو یقینی بناتا ہے، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے حال ہی میں کہا کہ "تعلیم ہی واحد ہتھیار ہے جس سے غربت کو ختم کیا جا سکتا ہے"، آج وہ اس قول پر عمل کرتے نظر آ رہے ہیں، ان کی محنت اور لگن نے پنجاب کے تعلیمی نظام میں ایک مثبت تبدیلی لا دی ہے، اب آئیے سوا اصیل کھانا کے اس اسکول کی طرف، یہ اسکول آج تعمیر کے مراحل میں ہے، لیکن جلد ہی یہاں کے بچے روبوٹکس اور سٹیم تعلیم سیکھ رہے ہوں گے، وہ بچے جو کبھی کمپیوٹر کو چھونے سے ڈرتے تھے، آج اسے کھول کر نئے پروگرام سیکھیں گے، وہ بچے جن کے والدین پڑھائی کے نام پر مہینوں کی تنخواہیں جمع کرتے تھے، آج مفت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے، یہ کوئی خواب نہیں حقیقت ہے، نواز شریف اسکول آف ایمیننس کا نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ نواز شریف وہ پہلے رہنما تھے جنہوں نے پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو ترجیح دی، انہوں نے موٹروے بنائے، جو آج پاکستان کی پہچان ہیں، اور انہی کی حکومت نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بناتے ہوئے معاشی استحکام دیا، آج انہی کے نام سے منسوب یہ اسکول انہی کے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں کہ ہر پاکستانی بچے کو تعلیم کا حق پہنچے، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اپنی والدہ کی طرح عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں، ان کی قیادت میں پنجاب ہر شعبے میں ترقی کر رہا ہے، اور تعلیم ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، ان کی بدولت آج ہزاروں بچے اسکولوں میں واپس آ رہے ہیں، اور لاکھوں کو مفت کتابیں، یونیفارم اور اسکالرشپ مل رہی ہیں، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ منصوبہ ناکام ہو جائے گا، وہ شاید پاکستان کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتے، پنجاب حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر پورا اترتی ہے، چاہے وہ سولہ نکاتی ایجنڈا ہو، چاہے صحت کارڈ ہو، چاہے رمضان ریلیف پیکجز ہوں، اور اب یہ تعلیمی انقلاب – سب کچھ عوام کی خدمت کے لیے ہے، آخر میں وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا خصوصی شکریہ ادا کرنا ضروری ہے جنہوں نے اس منصوبے کو اپنی ذاتی توجہ دی اور اسے کامیابی سے ہمکنار کیا، ان کی محنت کی وجہ سے ہی آج سوا اصیل کھانا کا ایک غریب بچہ بھی پوری دنیا کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہو سکے گا، یہ منصوبہ پنجاب کی تعلیمی تاریخ کا سنہری باب ہے، اور آنے والی نسلیں اس حکومت کو دعائیں دے گی کہ اس نے تعلیم کو ترجیح دی، اللہ کریم اس حکومت کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور یہ تعلیمی مشن پورے پاکستان میں پھیلے،

جنوبی پنجاب کی دھرتی نے کئی بڑے شاعر پیدا کیے مگر شاکر شجاع آبادی جیسا شاعر صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ ان کا اصل نام محمد ش...
24/05/2026

جنوبی پنجاب کی دھرتی نے کئی بڑے شاعر پیدا کیے مگر شاکر شجاع آبادی جیسا شاعر صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ ان کا اصل نام محمد شفیع ہے جبکہ “شاکر” ان کا ادبی نام بنا۔ وہ 25 فروری 1954ء کو شجاع آباد کے نواحی علاقے چاہ ٹبے والا میں پیدا ہوئے۔ ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولنے والے اس شخص نے بچپن ہی سے محرومی، تنگ دستی اور مشکلات کو قریب سے دیکھا۔ تعلیم زیادہ حاصل نہ کر سکے کیونکہ حالات نے کم عمری میں ہی محنت مزدوری پر مجبور کر دیا۔ کبھی سبزیاں بیچیں، کبھی دیہاڑی کی، مگر دل کے اندر لفظوں کا ایک جہان آباد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے شاعری شروع کی تو ان کے لفظ سیدھے لوگوں کے دلوں میں اترتے چلے گئے۔ شاکر شجاع آبادی نے 1986ء میں باقاعدہ مشاعروں میں شرکت شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے سرائیکی وسیب کی سب سے مضبوط آواز بن گئے۔ ان کی شاعری میں مصنوعی پن نہیں بلکہ زندگی کا سچا دکھ دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے غربت، محرومی، محبت، دھوکے، سیاست، طبقاتی فرق اور عام انسان کے درد کو ایسی زبان دی جو ہر شخص سمجھ سکتا تھا۔ ان کے کئی اشعار آج بھی زبان زدِ عام ہیں اور سوشل میڈیا سے لے کر بڑے مشاعروں تک پڑھے جاتے ہیں۔ شاکر شجاع آبادی کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ مرحلہ وہ تھا جب وہ “ڈسٹونیا” نامی بیماری میں مبتلا ہوئے۔ اس بیماری نے ان کی بولنے اور چلنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ مالی مشکلات کے باعث مناسب علاج تک نہ کرا سکے۔ ان کی بیماری کی خبریں منظرعام پر آئیں تو ادبی حلقوں، سرائیکی وسیب کے لوگوں اور مختلف سماجی شخصیات نے ان کی مدد کی۔ حکومتِ پنجاب اور مختلف اداروں کی طرف سے ان کے لیے مالی امداد اور وظیفہ بھی مقرر کیا گیا تاکہ علاج جاری رہ سکے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے بھی ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پہلے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا اور پھر 2023ء میں اعزازی پی ایچ ڈی دینے کا اعلان کیا۔ بعدازاں 11 نومبر 2023ء کو ایک خصوصی کانووکیشن میں پنجاب کے گورنر نے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری پہنائی۔ یہ لمحہ صرف شاکر شجاع آبادی کے لیے نہیں بلکہ پورے سرائیکی وسیب کے لیے اعزاز سمجھا گیا کیونکہ ایک ایسا شاعر جس نے ساری زندگی غربت اور بیماری سے جنگ لڑی، آخرکار ریاست اور معاشرے کی طرف سے عزت و احترام پایا۔ حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی اور بعد میں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا۔ ان کی مشہور کتابوں میں “لہو دا عرق”، “پیلے پتر”، “شاکر دے ڈوہڑے”، “پتھر موم”، “کلام شاکر”، “خدا جانے” اور “بلدیا ہنجو” شامل ہیں۔ آج بھی جب شاکر شجاع آبادی کسی مشاعرے میں دکھائی دیتے ہیں تو ان کی کمزور آواز اور لرزتے ہاتھ اس معاشرے کی بے حسی کی داستان سناتے ہیں، مگر ان کے لفظ اب بھی زندہ ہیں۔ وہ آج بھی حیات ہیں اور وسیب کے دکھوں کی سب سے بڑی آواز سمجھے جاتے ہیں۔ شاکر شجاع آبادی نے ثابت کیا کہ اصل عظمت دولت یا طاقت میں نہیں بلکہ ان لفظوں میں ہوتی ہے جو انسان کے دل میں گھر کر جائیں

حالیہ دنوں میں Asim Munir کا ایران کا دورہ خطے کی اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع...
24/05/2026

حالیہ دنوں میں Asim Munir کا ایران کا دورہ خطے کی اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع کے مطابق پاکستانی آرمی چیف نے تہران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی، اور خطے میں امن کے معاملات پر بات چیت ہوئی۔رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ایرانی قیادت اور امریکی حکام دونوں کی جانب سے مذاکرات میں “پیش رفت” کے اشارے دیے گئے، جبکہ پاکستانی فوجی قیادت کی سفارتی کوششوں کو بھی مثبت انداز میں دیکھا گیا۔ایرانی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں علاقائی امن، آبنائے ہرمز کی صورتحال، اور ممکنہ جنگ بندی کے نکات زیرِ بحث آئے۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Abtak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Daily Abtak:

Share