19/08/2026
ہمارے نئے مالکِ مکان کا نام اجمل تھا۔ ان کی عمر ساٹھ برس سے اوپر تھی، پہلی بیوی کو فوت ہوئے عرصہ ہو چکا تھا۔ خدا نے انہیں اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا، جب سے بیوی فوت ہوئی تھی اکیلے رہنے پر مجبور تھے۔ ایک دن میری ماں سے کہنے لگے: میں بھی کب سے گھر بسانے کا خواہش مند ہوں۔ تمہاری لڑکی نیک اور شریف ہے، اگر مجھ سے اپنی بچی کا نکاح کر دو تو سب کو سہارا دے دوں گا۔
👇👇
ابو ایک فیکٹری میں کام کر کے اپنی محنت کی کمائی سے ہم بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔ تنخواہ معقول تھی لیکن ذاتی مکان نہ تھا۔ کرایے کے مکان میں رہتے تھے، آدھی کمائی کرایے میں چلی جاتی تھی جس وجہ سے بڑی مشکل سے گزارہ ہوتا تھا۔ امی قناعت پسند تھیں، کسی طرح گزارہ چل رہا تھا ورنہ چھ بچوں کی کفالت آسان بات نہیں تھی۔ میں سب سے بڑی تھی، میرے بعد دو بہنیں اور پھر تین بھائی تھے۔ میٹرک پاس کر کے میں گھر بیٹھ گئی۔ روبینہ اور فریحہ اسکول جاتی تھیں۔ بھائی ابھی چھوٹے تھے۔ امی کچھ سلائی کڑھائی جانتی تھیں۔ وہ گھریلو قسم کی خاتون تھیں اور کچھ ڈرپوک بھی تھیں۔ کوئی ستائے یا زیادتی کرے تو لڑنے جھگڑنے کے بجائے خاموش ہو جاتی تھیں۔ ان کی مسکین طبیعت کی وجہ سے محلے والے ان کو پسند کرتے تھے۔
ہم پہلے جہاں رہتے تھے، اس محلے میں خان صاحب کا مکان تھا۔ ان کا بیٹا جوان تھا اور کافی خوبصورت تھا۔ یہ خوشحال لوگ تھے۔ بڑا بیٹا امریکہ میں رہتا تھا اور وہ خان صاحب کو خرچے کے لیے وقتاً فوقتاً رقم بھجواتا تھا۔ مکان اچھا تھا، انہوں نے گاڑی بھی رکھی ہوئی تھی، الغرض ٹھاٹ باٹھ کی زندگی تھی۔ کچھ عرصے بعد خان صاحب کا انتقال ہو گیا تو گھر کا سربراہ ان کا چھوٹا بیٹا سعود بن گیا۔ بہن کی منگنی ہو چکی تھی، اس کی شادی کر دی گئی، لڑکی کا نام فاطمہ تھا۔ فاطمہ کی شادی پر مجھ کو بھی بلایا گیا۔ امی مجھے شادی میں ساتھ لے گئیں، جب سعود نے دیکھا تو مجھے پسند کر لیا۔
کچھ دن بعد اس کی ماں اس کے پاس میرا رشتہ لینے آ گئیں۔ میرے والدین نے سوچا کہ کھاتا پیتا گھرانہ ہے اور لڑکا خوش شکل اور تعلیم یافتہ ہے، چنانچہ فوراً ہاں کر دی۔ اگرچہ سعود برسرِ روزگار نہیں تھا اور روپے پیسے کی کمی تھی، اس کی ماں نے کہا: “یہ ابھی پڑھ رہا ہے، تعلیم مکمل کر لے گا تو اپنے بھائی کے پاس امریکہ چلا جائے گا۔” خیر، میرے سیدھے سادے والدین نے اس معاملے پر گہرائی سے غور نہ کیا اور میری شادی سعود سے کر دی۔ میری شادی کے بعد میری ساس بدل گئیں۔ میرے والدین کو ان لوگوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہ تھیں۔ خیر، چھ ماہ آرام سے گزر گئے۔ پھر سعود نے کہا کہ اس مکان کا سودا ہو گیا ہے کیونکہ مزید پڑھنے کے لیے رقم درکار ہو گی۔ اب ہم کچھ عرصہ کرایے کے گھر میں رہیں گے۔ جلد ہی انہوں نے ایک کرایے کا مکان ڈھونڈ لیا اور مجھے وہاں لے آئے। اپنے گھر کا سامان فروخت کر دیا، بس ضرورت کا ساتھ رہنے دیا۔
کچھ دنوں بعد میری طبیعت خراب ہو گئی کیونکہ میں امید سے تھی، صحن دھوتے ہوئے پاؤں پھسل گیا تو طبیعت بگڑ گئی، امید جاتی رہی اور مجھ کو اسپتال جانا پڑا۔ ڈاکٹرز نے ایڈمٹ کر لیا۔ مجھے وہاں چھوڑ کر سعود امی کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کی بیٹی اسپتال میں ہے، آپ کی ضرورت ہے میرے ساتھ چلیے۔ امی جان فوراً سعود کے ہمراہ اسپتال آ گئیں، میں وہاں داخل تھی اور میرا چھوٹا سا آپریشن ہوا۔ سعود نے دوائیں وغیرہ لا دیں اور امی کو ہدایت کی کہ حسنہ کا خیال رکھنا، میں بینک سے رقم نکلوانے جا رہا ہوں، چند گھنٹوں بعد لوٹ آؤں گا۔ صبح سے دوپہر، پھر شام ہو گئی لیکن وہ نہیں آئے۔ رات بھر امی میرے ساتھ رہیں، ابو کو فون کیا تو وہ بھی آ گئے۔ تین دن تک سعود کا انتظار کیا وہ نہ لوٹے، امی ابو بے حد پریشان تھے کہ کیا ماجرا ہوا کہ داماد نہیں پلٹا، خدا خیر کرے۔ اسپتال والوں نے چھٹی کر دی۔ والد صاحب نے کسی دوست سے قرض لے کر بل بھرا اور مجھے اپنے گھر لے آئے۔ انتظار ہوتا رہا، مگر یہ نہ ختم ہونے والا انتظار تھا، سعود کو نہ آنا تھا نہ آئے۔
ابو نے وہاں جا کر پتا کیا تو پڑوسی نے بتایا کہ وہ کرایے کا مکان چھوڑ گئے ہیں اور سامان بھی لے گئے ہیں۔ اب صاف ظاہر تھا کہ دھوکا ہوا ہے، سعود مجھ سے جان چھڑا گیا ہے۔ سعود کے ساتھ جتنے دن گزارے، پیار محبت سے ساتھ رہے تھے۔ مجھ کو یقین نہ آتا تھا کہ عمر بھر کا بندھن باندھ کر وہ یوں چھوڑ گئے ہیں۔ میں دعا کر رہی تھی کہ وہ خیریت سے ہوں، کوئی حادثہ پیش نہ آ گیا ہو۔ ان کی بہن کے گھر کا پتا نہ تھا اور نہ ہی کسی کو علم تھا کہ کہاں سے پتا کرتے۔ امی ابو نے صبر سے انتظار کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے کہہ دیا کہ عمر بھر انتظار کرنا پڑے تو کروں گی۔ رات دن اپنے شوہر کو یاد کر کے روتی تھی اور ان کے سلامتی کے ساتھ لوٹ آنے کی دعائیں کرتی رہتی تھی۔
چھ ماہ بعد انہوں نے طلاق بھجوا دی، خط میں لکھا تھا کہ میری مجبوری ہے، بیوی کو ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا اس لیے طلاق دے رہا ہوں کیونکہ مجھ کو مقررہ تاریخ کو امریکہ جانا ہے ورنہ ویزا کینسل ہو جائے گا، واپس جلد نہیں آ پاؤں گا اس لیے آزاد کر رہا ہوں، نہیں چاہتا کہ بیچاری خواہ مخواہ میرے انتظار میں بوڑھی ہوتی رہے۔ یوں مجھ بد نصیب کی پہلی شادی کا قصہ ختم ہوا۔ میری طلاق سے چھوٹی بہنوں پر اثر پڑ سکتا تھا، اس لیے والدین نے محلے میں کسی کو نہ بتایا اور مکان چھوڑ دیا۔ ایک دوسرے علاقے میں کرایے کا مکان لے کر والد صاحب وہاں سکونت پذیر ہو گئے۔ ہمارے نئے مالکِ مکان کا نام اجمل تھا۔ ان کی عمر ساٹھ برس سے اوپر تھی، پہلی بیوی کو فوت ہوئے عرصہ ہو چکا تھا۔ خدا نے انہیں اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا، جب سے بیوی فوت ہوئی تھی اکیلے رہنے پر مجبور تھے۔ عمر رسیدہ ہونے کے باعث دوبارہ رشتہ نہ ملا تو صبر کر لیا۔ کوئی بہن بھائی نہ تھا جو رشتے کے لیے تگ و دو کرتا۔ اجمل صاحب کا دو منزلہ ذاتی مکان کافی عمدہ بنا ہوا تھا۔ نچلی منزل میں وہ خود قیام پذیر تھے اور اوپری حصہ ہم کو کرایے پر دے دیا تھا۔
اجمل صاحب اکثر ہوٹل سے کھانا کھاتے جس کی وجہ سے ان کا پیٹ خراب رہتا اور صحت پر بھی برا اثر پڑ رہا تھا۔ امی جان نے ان کی تنہائی پر رحم کھاتے ہوئے انہیں کھانا دینے کی پیشکش کر دی۔ دونوں وقت کا کھانا ہمارے گھر سے جانے لگا تو وہ ہشاش بشاش ہو گئے اور صحت بھی کافی اچھی ہو گئی۔ اجمل صاحب بہت نیک اور شریف انسان تھے، مگر کرایے کے معاملے میں کافی سخت تھے۔ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو وہ کرایہ وصول کرنے آ جاتے، تین دن کی مہلت دیتے، اگر کرایہ نہ ملتا تو چوتھے روز جھگڑا شروع کر دیتے تھے۔ ابو کو ایک بڑی مل میں ملازمت مل گئی، تنخواہ زیادہ تھی، لہٰذا وہ پرانی فیکٹری چھوڑ کر نئی مل میں سپروائزر ہو گئے۔
ہم خوش تھے کہ پہلے سے اچھی تنخواہ مل رہی ہے، لیکن شومئی قسمت کہ چھ ماہ بعد ہی مل میں ہڑتال ہو گئی اور ہم کافی پریشان تھے کیونکہ مل مالکوں نے چھانٹی کر دی اور کچھ ملازمین کو برطرف کر دیا جس میں ابو بھی شامل تھے۔ والد صاحب صدمے سے بیمار پڑ گئے، کوئی جمع پونجی پاس نہ تھی اور تازہ ملازمت پر ہی گزارہ تھا۔ کنبہ بھی بڑا تھا، اس فکر نے والد صاحب کا کلیجہ چھلنی کرنا شروع کر دیا۔ دو ماہ کی تگ و دو کے باوجود ملازمت نہ ملی اور جب وہ مکان کا کرایہ ادا نہ کر سکے تو اجمل صاحب نے گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔ ہمارا یہ حال تھا کہ گھر میں راشن کے لیے بھی پیسہ نہ تھا، مکان خالی کر کے کہاں جاتے؟ ابو شریف آدمی تھے، کسی سے رقم ادھار مانگتے ہوئے بھی شرماتے تھے۔ پھر روز روز کا خرچہ، اتنا ادھار کون دیتا۔ انہوں نے اپنی بدحالی کا کسی سے تذکرہ نہ کیا۔ امی کبھی خرفے اور کبھی مولی کے پتے پکا کر سالن بنا لیتیں تاکہ وقت کٹ جائے۔
جب اجمل نے دیکھا کہ ان کے گھر میں کھانا بھی نہیں پکتا تو محلے والوں کے سمجھانے پر وہ خاموش ہو گئے۔ وہ امی کو اپنے کھانے کے لیے سبزی لا کر دیا کرتے تھے۔ وہ خود کھا لیتے اور جو بچ جاتی وہ ہم کھاتے۔ اجمل صاحب کو ہمارے حالات کا علم ہو چکا تھا، انہوں نے دو ماہ کی مہلت دے دی کہ جب تک روزگار لگ جائے گا، تب کرایہ لے لیں گے۔ ابو کو کہیں کام نہ ملا اور ہماری پریشانی البتہ بڑھ گئی۔ ایک دن اسی پریشانی کے عالم میں وہ سڑک پار کر رہے تھے کہ تیز رفتار بس کے نیچے آ گئے۔ 🥰🥰 (مکمل اردو کہانی کا لنک کمنٹ میں دیا گیا ہے۔ آپ اردو ویب سائٹ سے تمام کہانیاں پڑھ سکتے ہیں)
👇👇