Kashif Nadeem

Kashif Nadeem Content Writer For Facebook Digital Marketing Promotions and ads on Posts please WhatsApp +923116986459

ہمارے نئے مالکِ مکان کا نام اجمل تھا۔ ان کی عمر ساٹھ برس سے اوپر تھی، پہلی بیوی کو فوت ہوئے عرصہ ہو چکا تھا۔ خدا نے انہی...
19/08/2026

ہمارے نئے مالکِ مکان کا نام اجمل تھا۔ ان کی عمر ساٹھ برس سے اوپر تھی، پہلی بیوی کو فوت ہوئے عرصہ ہو چکا تھا۔ خدا نے انہیں اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا، جب سے بیوی فوت ہوئی تھی اکیلے رہنے پر مجبور تھے۔ ایک دن میری ماں سے کہنے لگے: میں بھی کب سے گھر بسانے کا خواہش مند ہوں۔ تمہاری لڑکی نیک اور شریف ہے، اگر مجھ سے اپنی بچی کا نکاح کر دو تو سب کو سہارا دے دوں گا۔
👇👇
ابو ایک فیکٹری میں کام کر کے اپنی محنت کی کمائی سے ہم بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔ تنخواہ معقول تھی لیکن ذاتی مکان نہ تھا۔ کرایے کے مکان میں رہتے تھے، آدھی کمائی کرایے میں چلی جاتی تھی جس وجہ سے بڑی مشکل سے گزارہ ہوتا تھا۔ امی قناعت پسند تھیں، کسی طرح گزارہ چل رہا تھا ورنہ چھ بچوں کی کفالت آسان بات نہیں تھی۔ میں سب سے بڑی تھی، میرے بعد دو بہنیں اور پھر تین بھائی تھے۔ میٹرک پاس کر کے میں گھر بیٹھ گئی۔ روبینہ اور فریحہ اسکول جاتی تھیں۔ بھائی ابھی چھوٹے تھے۔ امی کچھ سلائی کڑھائی جانتی تھیں۔ وہ گھریلو قسم کی خاتون تھیں اور کچھ ڈرپوک بھی تھیں۔ کوئی ستائے یا زیادتی کرے تو لڑنے جھگڑنے کے بجائے خاموش ہو جاتی تھیں۔ ان کی مسکین طبیعت کی وجہ سے محلے والے ان کو پسند کرتے تھے۔

ہم پہلے جہاں رہتے تھے، اس محلے میں خان صاحب کا مکان تھا۔ ان کا بیٹا جوان تھا اور کافی خوبصورت تھا۔ یہ خوشحال لوگ تھے۔ بڑا بیٹا امریکہ میں رہتا تھا اور وہ خان صاحب کو خرچے کے لیے وقتاً فوقتاً رقم بھجواتا تھا۔ مکان اچھا تھا، انہوں نے گاڑی بھی رکھی ہوئی تھی، الغرض ٹھاٹ باٹھ کی زندگی تھی۔ کچھ عرصے بعد خان صاحب کا انتقال ہو گیا تو گھر کا سربراہ ان کا چھوٹا بیٹا سعود بن گیا۔ بہن کی منگنی ہو چکی تھی، اس کی شادی کر دی گئی، لڑکی کا نام فاطمہ تھا۔ فاطمہ کی شادی پر مجھ کو بھی بلایا گیا۔ امی مجھے شادی میں ساتھ لے گئیں، جب سعود نے دیکھا تو مجھے پسند کر لیا۔

کچھ دن بعد اس کی ماں اس کے پاس میرا رشتہ لینے آ گئیں۔ میرے والدین نے سوچا کہ کھاتا پیتا گھرانہ ہے اور لڑکا خوش شکل اور تعلیم یافتہ ہے، چنانچہ فوراً ہاں کر دی۔ اگرچہ سعود برسرِ روزگار نہیں تھا اور روپے پیسے کی کمی تھی، اس کی ماں نے کہا: “یہ ابھی پڑھ رہا ہے، تعلیم مکمل کر لے گا تو اپنے بھائی کے پاس امریکہ چلا جائے گا۔” خیر، میرے سیدھے سادے والدین نے اس معاملے پر گہرائی سے غور نہ کیا اور میری شادی سعود سے کر دی۔ میری شادی کے بعد میری ساس بدل گئیں۔ میرے والدین کو ان لوگوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہ تھیں۔ خیر، چھ ماہ آرام سے گزر گئے۔ پھر سعود نے کہا کہ اس مکان کا سودا ہو گیا ہے کیونکہ مزید پڑھنے کے لیے رقم درکار ہو گی۔ اب ہم کچھ عرصہ کرایے کے گھر میں رہیں گے۔ جلد ہی انہوں نے ایک کرایے کا مکان ڈھونڈ لیا اور مجھے وہاں لے آئے। اپنے گھر کا سامان فروخت کر دیا، بس ضرورت کا ساتھ رہنے دیا۔

کچھ دنوں بعد میری طبیعت خراب ہو گئی کیونکہ میں امید سے تھی، صحن دھوتے ہوئے پاؤں پھسل گیا تو طبیعت بگڑ گئی، امید جاتی رہی اور مجھ کو اسپتال جانا پڑا۔ ڈاکٹرز نے ایڈمٹ کر لیا۔ مجھے وہاں چھوڑ کر سعود امی کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کی بیٹی اسپتال میں ہے، آپ کی ضرورت ہے میرے ساتھ چلیے۔ امی جان فوراً سعود کے ہمراہ اسپتال آ گئیں، میں وہاں داخل تھی اور میرا چھوٹا سا آپریشن ہوا۔ سعود نے دوائیں وغیرہ لا دیں اور امی کو ہدایت کی کہ حسنہ کا خیال رکھنا، میں بینک سے رقم نکلوانے جا رہا ہوں، چند گھنٹوں بعد لوٹ آؤں گا۔ صبح سے دوپہر، پھر شام ہو گئی لیکن وہ نہیں آئے۔ رات بھر امی میرے ساتھ رہیں، ابو کو فون کیا تو وہ بھی آ گئے۔ تین دن تک سعود کا انتظار کیا وہ نہ لوٹے، امی ابو بے حد پریشان تھے کہ کیا ماجرا ہوا کہ داماد نہیں پلٹا، خدا خیر کرے۔ اسپتال والوں نے چھٹی کر دی۔ والد صاحب نے کسی دوست سے قرض لے کر بل بھرا اور مجھے اپنے گھر لے آئے۔ انتظار ہوتا رہا، مگر یہ نہ ختم ہونے والا انتظار تھا، سعود کو نہ آنا تھا نہ آئے۔

ابو نے وہاں جا کر پتا کیا تو پڑوسی نے بتایا کہ وہ کرایے کا مکان چھوڑ گئے ہیں اور سامان بھی لے گئے ہیں۔ اب صاف ظاہر تھا کہ دھوکا ہوا ہے، سعود مجھ سے جان چھڑا گیا ہے۔ سعود کے ساتھ جتنے دن گزارے، پیار محبت سے ساتھ رہے تھے۔ مجھ کو یقین نہ آتا تھا کہ عمر بھر کا بندھن باندھ کر وہ یوں چھوڑ گئے ہیں۔ میں دعا کر رہی تھی کہ وہ خیریت سے ہوں، کوئی حادثہ پیش نہ آ گیا ہو۔ ان کی بہن کے گھر کا پتا نہ تھا اور نہ ہی کسی کو علم تھا کہ کہاں سے پتا کرتے۔ امی ابو نے صبر سے انتظار کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے کہہ دیا کہ عمر بھر انتظار کرنا پڑے تو کروں گی۔ رات دن اپنے شوہر کو یاد کر کے روتی تھی اور ان کے سلامتی کے ساتھ لوٹ آنے کی دعائیں کرتی رہتی تھی۔

چھ ماہ بعد انہوں نے طلاق بھجوا دی، خط میں لکھا تھا کہ میری مجبوری ہے، بیوی کو ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا اس لیے طلاق دے رہا ہوں کیونکہ مجھ کو مقررہ تاریخ کو امریکہ جانا ہے ورنہ ویزا کینسل ہو جائے گا، واپس جلد نہیں آ پاؤں گا اس لیے آزاد کر رہا ہوں، نہیں چاہتا کہ بیچاری خواہ مخواہ میرے انتظار میں بوڑھی ہوتی رہے۔ یوں مجھ بد نصیب کی پہلی شادی کا قصہ ختم ہوا۔ میری طلاق سے چھوٹی بہنوں پر اثر پڑ سکتا تھا، اس لیے والدین نے محلے میں کسی کو نہ بتایا اور مکان چھوڑ دیا۔ ایک دوسرے علاقے میں کرایے کا مکان لے کر والد صاحب وہاں سکونت پذیر ہو گئے۔ ہمارے نئے مالکِ مکان کا نام اجمل تھا۔ ان کی عمر ساٹھ برس سے اوپر تھی، پہلی بیوی کو فوت ہوئے عرصہ ہو چکا تھا۔ خدا نے انہیں اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا، جب سے بیوی فوت ہوئی تھی اکیلے رہنے پر مجبور تھے۔ عمر رسیدہ ہونے کے باعث دوبارہ رشتہ نہ ملا تو صبر کر لیا۔ کوئی بہن بھائی نہ تھا جو رشتے کے لیے تگ و دو کرتا۔ اجمل صاحب کا دو منزلہ ذاتی مکان کافی عمدہ بنا ہوا تھا۔ نچلی منزل میں وہ خود قیام پذیر تھے اور اوپری حصہ ہم کو کرایے پر دے دیا تھا۔

اجمل صاحب اکثر ہوٹل سے کھانا کھاتے جس کی وجہ سے ان کا پیٹ خراب رہتا اور صحت پر بھی برا اثر پڑ رہا تھا۔ امی جان نے ان کی تنہائی پر رحم کھاتے ہوئے انہیں کھانا دینے کی پیشکش کر دی۔ دونوں وقت کا کھانا ہمارے گھر سے جانے لگا تو وہ ہشاش بشاش ہو گئے اور صحت بھی کافی اچھی ہو گئی۔ اجمل صاحب بہت نیک اور شریف انسان تھے، مگر کرایے کے معاملے میں کافی سخت تھے۔ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو وہ کرایہ وصول کرنے آ جاتے، تین دن کی مہلت دیتے، اگر کرایہ نہ ملتا تو چوتھے روز جھگڑا شروع کر دیتے تھے۔ ابو کو ایک بڑی مل میں ملازمت مل گئی، تنخواہ زیادہ تھی، لہٰذا وہ پرانی فیکٹری چھوڑ کر نئی مل میں سپروائزر ہو گئے۔

ہم خوش تھے کہ پہلے سے اچھی تنخواہ مل رہی ہے، لیکن شومئی قسمت کہ چھ ماہ بعد ہی مل میں ہڑتال ہو گئی اور ہم کافی پریشان تھے کیونکہ مل مالکوں نے چھانٹی کر دی اور کچھ ملازمین کو برطرف کر دیا جس میں ابو بھی شامل تھے۔ والد صاحب صدمے سے بیمار پڑ گئے، کوئی جمع پونجی پاس نہ تھی اور تازہ ملازمت پر ہی گزارہ تھا۔ کنبہ بھی بڑا تھا، اس فکر نے والد صاحب کا کلیجہ چھلنی کرنا شروع کر دیا۔ دو ماہ کی تگ و دو کے باوجود ملازمت نہ ملی اور جب وہ مکان کا کرایہ ادا نہ کر سکے تو اجمل صاحب نے گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔ ہمارا یہ حال تھا کہ گھر میں راشن کے لیے بھی پیسہ نہ تھا، مکان خالی کر کے کہاں جاتے؟ ابو شریف آدمی تھے، کسی سے رقم ادھار مانگتے ہوئے بھی شرماتے تھے۔ پھر روز روز کا خرچہ، اتنا ادھار کون دیتا۔ انہوں نے اپنی بدحالی کا کسی سے تذکرہ نہ کیا۔ امی کبھی خرفے اور کبھی مولی کے پتے پکا کر سالن بنا لیتیں تاکہ وقت کٹ جائے۔

جب اجمل نے دیکھا کہ ان کے گھر میں کھانا بھی نہیں پکتا تو محلے والوں کے سمجھانے پر وہ خاموش ہو گئے۔ وہ امی کو اپنے کھانے کے لیے سبزی لا کر دیا کرتے تھے۔ وہ خود کھا لیتے اور جو بچ جاتی وہ ہم کھاتے۔ اجمل صاحب کو ہمارے حالات کا علم ہو چکا تھا، انہوں نے دو ماہ کی مہلت دے دی کہ جب تک روزگار لگ جائے گا، تب کرایہ لے لیں گے۔ ابو کو کہیں کام نہ ملا اور ہماری پریشانی البتہ بڑھ گئی۔ ایک دن اسی پریشانی کے عالم میں وہ سڑک پار کر رہے تھے کہ تیز رفتار بس کے نیچے آ گئے۔ 🥰🥰 (مکمل اردو کہانی کا لنک کمنٹ میں دیا گیا ہے۔ آپ اردو ویب سائٹ سے تمام کہانیاں پڑھ سکتے ہیں)
👇👇

18/08/2026

ایک روز اسکول سے ویگن اڈے لوٹ رہی تھی کہ راستے میں ایک پوٹلی پڑی ہوئی ملی۔ میں نے اسے اٹھا لیا، یہ کافی بھاری تھی۔ کھول کر دیکھا تو سونے کے زیورات جو دیہاتی طرز کے تھے اور نقدی اس میں موجود تھی۔ دل دھک دھک کرنے لگا۔ اب یہ زیورات اور رقم میرے پاس تھی۔ سوچا اس کا کیا کرنا چاہیے۔ گھر لے جانے کا مطلب تھا کہ جس بیچارے کی تھی جو ادھر سے گزرا تھا، اس کی کھوئی ہوئی متاع یہاں سے ہمارے علاقے پہنچ جاتی
👇👇
برکت کے علاوہ رشتوں کی چاشنی اور مٹھاس سے زندگی گل و گلزار ہو جاتی ہے۔ لیکن آج کل ہر طرف نفسا نفسی کا دور ہے اور سبھی کو اپنی خواہشات کا دوزخ بھرنے کی پڑ گئی ہے۔ ایسے میں ساتھ رہنا تو بڑی بات، قریبی رشتوں کا نباہ بھی محال لگتا ہے۔ یہ بات تو ان دنوں کی ہے جب میں نو سال کی تھی اور پرائمری اسکول میں پڑھنے جایا کرتی تھی۔ اگرچہ اس وقت گاؤں کے پرائمری اسکول تعلیم کی چاہ رکھنے والوں کے ساتھ ایک مذاق سے کم نہ تھے، لیکن یہ کام خود اپنے علاقے کے لوگوں کا ہی تھا کہ وہ اسکول کو محض تنخواہ کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اکثر سرکاری اسکولوں کی استانیاں گھر بیٹھ کر تنخواہیں لیتی تھیں کیونکہ وہ سیاسی اثر و رسوخ والے گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں یا پھر زمینداروں کی رشتے دار تھیں۔ جو علاقے کے غریب بچوں کے لیے اپنی زمینوں میں سے چند مرلے تو اس نیک کام کے لیے عطیہ کر دیتے، لیکن پھر جب اس پر حکومت کے تعاون سے اسکول بن جاتا تو اس اسکول کو رواں دواں ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی بااثر لوگ ہی ہوتے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے مزارعوں کے بچے تعلیم حاصل کر کے ان کی چاکری چھوڑ کر ان کے منہ کو آنے لگیں۔

ہمارے دادا کی وراثتی ملکیت میں چند بیگھے زمین ابا اور تایا کے حصے میں آگئی۔ یہ کل بائیس بیگھے تھے جن پر والد اور تایا جان کے افراد خانہ کی بقا اور خوشحالی کا دار و مدار تھا۔ اماں اور تائی صبح تڑکے اٹھ جاتیں۔ ہمارے گھر میں دو گائے تھیں، وہ ان کا دودھ دوہتیں، دودھ سے مکھن نکالتیں اور تائی آٹا گوندھ کر روٹیاں ڈال لیتیں۔ تنور کی گرم گرم روٹیوں پر مکھن رکھ کر دیسی گھی سے بھرے گلاس سے سب بچے ناشتہ کرنے کے بعد اسکول روانہ ہو جاتے۔ صد شکر، تایا اور ابا کو اتنا شعور تھا کہ بچوں کو تعلیم دلوا رہے تھے اور ہزار شکر کہ ہمارے گاؤں کے پرائمری اسکول میں دوسرے سرکاری اسکولوں جیسی حالت نہ تھی۔ یہاں ایسے اساتذہ تھے جو سو فیصد حاضری دیتے تھے اور بچوں کو دلچسپی سے پڑھاتے تھے۔ وہ گھر بیٹھ کر تنخواہ نہیں بٹورتے تھے۔ مجھے اور میرے بھائی کو پڑھنے کا شوق تھا۔ ہم نے دل لگا کر پڑھا اور میٹرک میں اچھے نمبر لیے۔ پھر قریبی شہر سے پی ٹی سی کر کے گھر کے نزدیک سرکاری اسکولوں میں ہی بطور ٹیچر تعینات ہو گئے۔

میری منگنی بچپن میں تایا زاد احسن اور بھائی کی سگائی اسی تایا کی بیٹی سلیمہ سے ہو گئی تھی اور اب ہماری شادیوں کے تذکرے ہو رہے تھے کہ انہی دنوں کچھ بدخواہ رشتہ داروں نے ابا اور تایا کے بیچ غلط فہمیاں پیدا کر کے پھوٹ ڈلوا دی۔ اس پھوٹ کی ذمہ دار تائی تھیں جن کے ذریعے تایا کے کان بھرے جاتے تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مکان اور زمین کے بٹوارے کا معاملہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ابا اور تایا کے بیچ بدگمانی کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں بھائیوں کا اتفاق، نفاق میں تبدیل ہو گیا۔ جو زمین مشترکہ تھی وہ اب گیارہ گیارہ بیگھے کے دو ٹکڑوں میں بٹی اور مکان پر یہ سمجھوتہ ہوا کہ تایا مکان لے لیں گے، بدلے میں وہ چار بیگھے زمین ہمیں دے دیں گے جس پر ایک کشادہ اور پکا مکان بھی بنا ہوا تھا، لیکن یہ زمین شہر سے کچھ دور تھی اور ہماری تائی کو ترکے میں ملی تھی۔ تائی نے ہی مکان کے بدلے اس سودے کی پیشکش کی تھی۔ والد چھوٹے بھائی ہونے کے ناتے بڑے بھائی کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ تائی کے خیال میں دور کی زمین اور مکان ان کے کسی کام کے نہ تھے، تبھی یہ پیشکش کی تھی، لیکن والد کو کچھ رشتہ داروں نے باور کرایا کہ تم وہ گھر اور زمین لے لو کیونکہ تم کو آدھے بیگھے پر تعمیر شدہ آدھے مکان کے بدلنے میں چار بیگھے مل رہے ہیں اور یہ زمین بھی آباد ہے۔ گھاٹے کا سودا نہیں ہے بلکہ تم فائدے میں رہو گے۔ والد صاحب جھگڑے اور تنازع سے بچنا چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے آبائی گھر سے دستبرداری قبول کر لی اور مکان تایا کے سپرد کر کے خود اپنی فیملی کے ساتھ کوٹ والے گھر میں منتقل ہو گئے۔

یہ جگہ بری نہ تھی لیکن شہر اور ہماری بستی سے کافی دور محسوس ہوتی تھی۔ ہمارے ارد گرد جو چار بیگھے تھے اس پر ہمارے گھر کے علاوہ کسی اور کا گھر نہ تھا اور نہ ہی کسی دوسرے کا مکان تعمیر ہو سکتا تھا۔ اسی وجہ سے ہمیں یہاں بہت تنہائی محسوس ہوتی تھی۔ دوسرا مسئلہ ہماری نوکریوں کا تھا۔ جن اسکولوں میں میں اور بھائی تعینات تھے وہ ہمارے پرانے گھر کے پاس تھے اور ہمیں وہاں کا سفر اختیار کرنے کے لیے مشقت درکار تھی۔ والد صاحب کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی۔ میرا بھائی منصور اور ابا صبح تڑکے ناشتے کے بعد اسی پر چلے جاتے۔ ابا اپنی زمینوں پر جانے سے قبل منصور کو بوائز پرائمری اسکول اتار دیتے، لیکن میں گھر سے پیدل ہی ویگن اڈے جاتی۔ وہاں سے وہ ویگن ملتی تھی جو استانیوں کو اسکول تک لے جاتی تھی۔ یہ ویگن ہم خواتین ٹیچرز کے لیے ہی مخصوص تھی اور ڈرائیور کے سوا کوئی اور مرد اس پر سوار نہ ہوتا تھا۔ واپسی میں بھی یہی ویگن ہمیں اسکول سے اڈے پر اتار دیتی تھی۔

وہاں سے بھی یکے اور پھر پیدل گھر آنا پڑتا تھا۔ یکہ سڑک تک پہنچاتا، آگے گھر کا راستہ پگڈنڈی نما تھا اور یہ راستہ دشوار ترین تھا کیونکہ گرمیوں میں جب سورج کی تپش اور دھوپ کی حدت سے چیل بھی گھونسلے میں انڈا چھوڑ دیتی تھی، ناہموار زمین پر چل کر گھر تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ بہر حال ایسا سفر اکیلے مجھی کو درپیش نہ تھا، یہاں سیکڑوں لوگ اسی طرح سردی و گرمی میں سفر کرتے تھے۔ دیہاتی لوگ ویسے بھی سخت جان ہوتے ہیں۔ میں نے بھی حوصلہ نہیں ہارا کیونکہ گھر بیٹھ کر بور ہونے سے بہتر تھا کہ اسکول جا کر بچیوں کو تعلیم دوں اور اپنی ہم عمر خواتین ٹیچرز کے ساتھ بیٹھ کر خوشگوار وقت گزاروں۔ ایک روز اسکول سے ویگن اڈے لوٹ رہی تھی کہ راستے میں ایک پوٹلی پڑی ہوئی ملی۔ 🥰🥰 (مکمل اردو کہانی کا لنک کمنٹ میں دیا گیا ہے۔ آپ اردو ویب سائٹ سے تمام کہانیاں پڑھ سکتے ہیں)
👇👇

18/08/2026

شامیہ نے اسے مندر کے اندر جاتے دیکھا تو خود بھی اندر چلی گئی، جبکہ لڑکے نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ جب اس نے لڑکے کو بتوں کی پوجا کرتے دیکھا، تو صدمے سے وہیں بے ہوش ہو گئی۔ لڑکے نے جب دیکھا کہ ایک لڑکی جو اس کے قریب کھڑی تھی، گر گئی ہے، تو اس نے اس کو اٹھانا چاہا، مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ تو وہی لڑکی ہے، جو اسے اچھی لگتی ہے اور مسلمان ہے۔ لڑخے نے جان بوجھ کر اپنا نام نام مغل حسین بتایا تھا۔ آخر لڑکی پر یہ بھید کھل گیا۔
👇👇
ہم کل چھ بہن بھائی ہیں۔ شامیہ، میری چھوٹی بہن ہم سب سے لاڈلی تھی۔ وہ ابو کی بے حد چہیتی تھی۔ بدقسمتی سے ابو ساٹھ سال کی حسین عمر میں فالج کا شکار ہو کر چل بسے اور سارا بوجھ بڑے بھائی قادر پر آ پڑا۔ اس وقت وہ بی اے فائنل میں تھے، جبکہ شاہد اور شامیہ میٹرک میں تھے۔ میں ان دنوں ایف اے کر چکی تھی۔ ہماری چند بیگھے زمین تھی، جس کی دیکھ بھال بھائی کے ذمے تھی۔ جب اخراجات پورے نہ ہوئے، تو امی سے مشورہ کر کے قادر بھائی نے زمین بیچ کر شہر میں دکان کھول لی، یوں ہم شہر آ بسے۔

بھائی دکانداری کرنے لگے، تو گھر کا خرچ چلنے لگا۔ قادر بھائی نے بی اے اور دونوں چھوٹوں نے میٹرک کر لیا، تو بھائی نے شامیہ اور شاہد کو شہر کے کالجوں میں داخلہ دلوا دیا۔ دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں گزرنے لگے۔ میری زندگی پر ایف اے کے بعد جمود طاری ہو گیا، ایف اے بھی میں نے اپنی لگن سے پرائیویٹ طور پر کیا تھا، اس کے بعد اللہ نے خود ہی میری گھٹن بھری زندگی کو خوشیوں کے تحفے عطا کر دیے اور میری شادی میری پسند سے ہو گئی۔

امجد بالکل اکیلا تھا۔ ماں، نہ باپ، بہن نہ بھائی، گھر میں تنہا رہتا اور پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتا تھا۔ اچھی تنخواہ تھی۔ اس کی بھائی کے ساتھ دوستی ہو گئی، تو گھر میں آنے جانے لگا اور ہم میں گھل مل گیا، پھر امی سے میرا رشتہ مانگا، تو امی نے انکار نہ کیا۔ وہ بھی امجد کو جانچ چکی تھیں کہ اچھا لڑکا ہے، ایسے رشتے کب جلدی ملتے ہیں۔ امی کے برابر والا فلیٹ ہمارا تھا، جہاں شادی کے بعد میں اور امجد رہنے لگے۔ یوں میں رخصت ہو کر دور نہ گئی تھی۔ میں بڑی خوش تھی، سارا دن امی کے گھر ہوتی، جب امجد ڈیوٹی سے واپس آتے تو گھر چلی جاتی۔

ایک دن امجد گھر لوٹے، تو بہت پریشان دکھائی دیتے تھے۔ میں نے وجہ پوچھی، تو کہا: “نجو! آج میں نے تمہاری بہن شامیہ کو ایک غیر مسلم لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے۔ وہ ایک پارک میں چائے پی رہے تھے۔” اس سے قبل میری ایک سہیلی نے بھی مجھے بتایا تھا کہ تمہاری بہن ایک غیر مسلم لڑکے کے ساتھ گھومتی ہے، تب میں نے یقین نہیں کیا تھا، لیکن آج شوہر کے منہ سے سن کر میری سٹی گم ہو گئی۔ میں اسی وقت امی کے پاس گئی اور انہیں مجبور کر دیا کہ آپ شامی کو کالج سے نکال لیں۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا، کہنے لگیں: “ہوش میں تو ہو! کیا کہہ رہی ہو؟ ان کو پڑھانے کی خاطر تو زمین بیچی اور شہر آکر دکان کی، اور اب میں اسے کالج سے نکال لوں، آخر کیوں؟” تب میں نے بھی غصے میں کہہ دیا: “امی جان! آپ کی صاحبزادی کالج پڑھنے کب جاتی ہے، وہ عشق لڑانے جاتی ہے اور وہ بھی ایک غیر مسلم لڑکے سے، جس کو امجد بھی جانتے ہیں اور ان کے دوست بھی۔”

امی پریشان ہو گئیں۔ پہلے تو چپ رہیں، لیکن پھر یہ چپ انہیں کھانے لگی۔ ان سے برداشت ہی نہ ہو رہا تھا۔ شامیہ سے پوچھتیں، تو صاف جواب ملتا کہ یہ جھوٹ ہے۔ آپ سے کس نے کہہ دیا، ایسی کوئی بات نہیں۔ خیر، پھر امی کی پریشانی سے بھائی کو بھی اس بات کا پتہ چل گیا اور گھر میں پریشانی بڑھ گئی۔ چھوٹے بھائی شاہد نے شامیہ کو مارا، پھر اس لڑکے کو ڈھونڈنے نکل پڑا کہ اسے بھی مار دوں گا۔ قادر بھائی نے اسے زبردستی روکا۔ شامیہ رو رو کر کہتی تھی کہ کیا ثبوت ہے آپ لوگوں کے پاس کہ وہ غیر مسلم ہے؟ وہ مسلمان ہے اور اس کا نام مغل حسین ہے۔ میں نے کہا کہ امجد اچھی طرح جانتے ہیں، وہ غیر مسلم ہے۔ خیر، میں شامیہ کو گھر لائی، امجد نے اسے تسلی دی اور کہا: “اگر وہ مسلمان ہوا، تو میرا وعدہ ہے کہ میں خود اس کے ساتھ تمہاری شادی کروا دوں گا۔ تم حوصلہ رکھو، پریشان نہ ہو اور ماں اور بھائیوں کو بھی پریشان نہ کرو۔ فی الحال تم اس کے ساتھ سرِعام گھومنا پھرنا بند کر دو۔” شامیہ نے بات مان لی۔

اگلے دن امجد نے شامیہ سے کہا کہ آج ذرا میرے ساتھ چلو۔ وہ اسے مندر لے گیا، جہاں وہ لڑکا پوجا کرنے جاتا تھا۔ شامیہ نے اسے مندر کے اندر جاتے دیکھا تو خود بھی اندر چلی گئی، جبکہ لڑکے نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ جب اس نے لڑکے کو بتوں کی پوجا کرتے دیکھا، تو صدمے سے وہیں بے ہوش ہو گئی۔ لڑکے نے جب دیکھا کہ ایک لڑکی جو اس کے قریب کھڑی تھی، گر گئی ہے، تو اس نے اس کو اٹھانا چاہا، مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ تو وہی لڑکی ہے، جو اسے اچھی لگتی ہے اور مسلمان ہے۔ اسی وجہ سے اس نے اس کو اپنا نام مغل حسین بتایا تھا۔ خیر، جو ہوا ٹھیک ہوا۔ ایک عبادت گاہ میں جھوٹ کا پول کھل گیا۔ 🥰🥰 (مکمل اردو کہانی کا لنک کمنٹ میں دیا گیا ہے۔ آپ اردو ویب سائٹ سے تمام کہانیاں پڑھ سکتے ہیں)
👇👇

18/08/2026

جیسے ہی میں کوٹھری کا دروازہ بند کرنے کے لیے مڑی، حواس باختہ ہو گئی کہ وہ کوٹھری کے اندر آ چکا تھا۔ اس سے پہلے کہ چیخ میرے حلق سے باہر آتی، اس نے آگے بڑھ کر میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور جیب سے خنجر نکال لیا۔ خنجر کی نوک مجھے اپنے گلے پر محسوس ہوئی تو میری گھگی بندھ گئی اور خوف سے میں ٹھنڈی پڑ گئی۔ بارش بدستور برستی رہی اور طوفان میں تیزی آ گئی
👇👇
ہمارا گھر ایک قصبے میں تھا۔ بہت غریب لوگ تھے لیکن غربت نے ہمارا حسن نہیں چھینا تھا۔ دونوں بہنیں خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں۔ والدہ نے شوہر کی وفات کے بعد ایک ہسپتال میں آیا کی نوکری کر لی اور بھائی ریلوے اسٹیشن پر قلی بھرتی ہو گیا۔ وہ بھی ہر ماہ کچھ رقم دے جاتا تھا جس سے ہمارا گزر بسر ہو رہا تھا۔

میرا ایک چھوٹا بھائی بھی تھا جو ابھی کمانے کے لائق نہیں ہوا تھا۔ ماں نے ہم دونوں بہنوں کو صرف دوسری جماعت تک پڑھایا تھا۔ میری بڑی بہن گھر کا کام کرتی اور میں اس کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ چھوٹا بھائی ریلوے لائن کے پاس ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ والدہ صبح ناشتہ کر کے ہسپتال چلی جاتی تھیں۔ یہ ریلوے کا ایک چھوٹا سا ہیلتھ سینٹر تھا جہاں ایک لیڈی ڈاکٹر اور ایک ڈاکٹر کے ساتھ تھوڑا سا عملہ تھا جن کو گھر بھی ریلوے کی طرف سے ملے ہوئے تھے۔

ایک دن بڑا بھائی ریلوے لائن کراس کر رہا تھا کہ ریل کی لپیٹ میں آ گیا۔ وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ میری بڑی بہن کا نکاح بچپن میں جندو چاچی کے بڑے بیٹے منعم سے ہوا تھا لیکن والد کی وفات کے بعد انہوں نے باجی نور کی رخصتی لینے کی بجائے طلاق دے دی۔ جس لڑکے سے نکاح ہوا تھا، وہ دبئی گیا تو وہاں کسی لڑکی سے شادی کر لی اور میری بہن دلہن نہ بن سکی۔

ماں کو نور کا غم تھا اور ساتھ میری بھی فکر تھی کیونکہ میں اب چودہ پندرہ برس کی ہو چکی تھی۔ غربت کے باوجود ہم دونوں بہنیں شکل و صورت سے کسی امیر گھرانے کی لگتی تھیں، کیونکہ حسن خدا کی دین ہے اور یہ مانگنے سے نہیں ملتا۔

کہتے ہیں کہ اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے، جس نے بھی ڈالی بری نظر ہی ڈالی، تبھی اماں زمانے کے ڈر سے ہم بہنوں کو باہر نکلنے نہیں دیتی تھیں۔ ہمارے پڑوس میں تمام ریلوے ملازمین کے کوارٹر تھے لیکن ایک دو گھر ایسے بھی تھے جنہوں نے خالی پلاٹوں پر اپنے ذاتی گھر تعمیر کر لیے تھے۔ انہی میں سے ایک چاچی جندو کا مکان تھا جو میری بہن کی سابقہ ساس تھیں۔ چاچی جندو کا شوہر میرے والد کا دور پار کا رشتہ دار تھا اور اس کا انتقال ہو چکا تھا۔ ان کا بیٹا بھی اب جوان تھا۔ باپ کے مرنے کے بعد وہ ماں کے کنٹرول میں نہ رہا تھا اور آوارہ ہو گیا تھا۔ پڑھائی چھوڑ کر وہ برے لڑکوں کی صحبت کی وجہ سے سیدھی راہ سے بھٹک گیا تھا۔

اس کی عادت تھی کہ گلیوں میں آوارہ گھومتا اور اگر کوئی لڑکی ادھر سے گزر رہی ہوتی تو اس پر آوازیں کستا اور اسے چھیڑنے کی سعی کرتا۔ لڑکیاں اس کے سامنے آنے سے کتراتی تھیں۔ جدھر سے وہ نمودار ہوتا، وہ فوراً راستہ بدل لیتی تھیں۔ اس لڑکے کا پورا نام انجم تھا اور سب اسے جمی کہتے تھے۔ رشتہ داری کے باوجود والدہ نے اس گھرانے سے ناتا نہیں رکھا تھا کیونکہ وہ جمی کے کرتوتوں کے بارے میں سنتی رہتی تھیں۔ ہمیں بھی سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ ہرگز تم لوگوں نے جندو کی گلی سے نہیں گزرنا۔

جمی کے دونوں بڑے بھائی دبئی میں کماتے تھے اور ان کے مالی حالات بہت اچھے تھے۔ جمی کو روپے پیسے کی کمی نہ تھی اور اس کی آوارگی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ جیب خرچ اپنی ماں سے خوب بٹورتا رہتا تھا۔

ایک روز جب بادل چھائے ہوئے تھے، نور نے اماں سے کہا کہ آج ہسپتال مت جاؤ اور چھٹی کر لو۔ ایسا نہ ہو تیز بارش ہو جائے، پھر کیسے واپس گھر پہنچو گی، راستہ تو کیچڑ سے بھر جائے گا۔ ماں بولی، “بیٹی! تم کو نہیں معلوم وہاں آج کل کتنی سختی ہو گئی ہے۔ گاؤں سے اچانک کوئی کیس آ جاتا ہے تو سب سے پہلے آیا کی پوچھ ہوتی ہے۔ میں بلاوجہ ناغہ نہیں کر سکتی۔ بارش ہو گئی تو کچھ دیر ہسپتال میں رک جاؤں گی۔ تم لوگ میری فکر مت کرنا مگر دروازے کی کنڈی لگا کر رکھنا۔” ماں نصیحت کر کے چلی گئی۔

اللہ کی کرنی پہلے بوندا باندی ہوئی اور پھر بارش شروع ہو گئی لیکن جب ماں کے آنے کا وقت ہوا تو برسات نے زور پکڑ لیا۔ ذرا ہی دیر میں تیز ہوا کے ساتھ پانی کی دھاریں آسمان سے گرنے لگیں اور ہر طرف جل تھل ہو گیا۔ مجھے فکر ہوئی کہ اتنی بارش میں ماں کیسے گھر لوٹے گی۔ یوں بھی میری عادت تھی کہ جب ماں ڈیوٹی پر چلی جاتی، اس کی چھٹی کے وقت میں ضرور گلی میں نکل کر اس کی راہ تکتی۔

کئی بار ایسا ہوا کہ میں اماں کے انتظار میں گلی میں کھڑی ہوتی تو اچانک جمی دکھائی دے جاتا، تب میں بھاگ کر گھر میں چلی جاتی۔ مجھے جھپاک سے گھر میں گھستے دیکھ کر وہ بڑا محظوظ ہوتا اور مسکرا دیا کرتا تھا۔

یہ بات مگر میں نے کبھی کسی کو نہ بتائی۔ جانتی تھی کہ اگر اماں یا نور باجی کو بتا دوں گی تو وہ میرا گھر سے جھانکنا بند کرا دیں گی جس سے میرا دم گھٹ جائے گا۔ گھر میں قید رہ کر واقعی ہم لڑکیوں کا دم گھٹتا ہے، اسی لیے ہم بہانے سے گھر سے باہر جھانکنے کا موقع تلاش کرتی ہیں، تاہم آج یہ کوئی بہانہ نہ تھا۔ مجھے بس فکر لگ گئی تھی کہ بیچاری اماں، جن کے جوتے بھی بوسیدہ تھے، کیسے اس کیچڑ بھری گلی کو پار کر کے گھر پہنچیں گی۔ کہیں گر نہ پڑیں۔ انہی سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی، گھر میں بیٹھا نہ گیا تو دروازہ کھول کر باہر گلی کی سمت دیکھنے لگی کہ جدھر سے اماں کے آنے کا امکان تھا۔

اس بات کا ہوش نہ رہا کہ بارش کی وجہ سے میرے کپڑے بھیگ گئے ہیں۔ بس ٹکٹکی باندھے اماں کی راہ تکنے میں محو تھی۔ احساس نہ ہوا کہ مجھے گلی کے نکڑ سے کوئی دیکھ رہا ہے۔ یہ جمی تھا جو بارش کا لطف لینے باہر نکلا تھا اور کبھی ادھر، کبھی ادھر گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ مجھے دروازے میں کھڑا پایا تو جانے اس دن کیا ہوا کہ وہ اپنے ہوش کھو بیٹھا۔ جتنی دیر میں دروازے پر کھڑی رہی، وہ ایک درخت کی اوٹ سے مجھے دیکھتا رہا 🥰🥰 (مکمل اردو کہانی کا لنک کمنٹ میں دیا گیا ہے۔ آپ اردو ویب سائٹ سے تمام کہانیاں پڑھ سکتے ہیں)
👇👇

17/08/2026

فرحانہ سے میری اچھی دوستی تھی۔ ایک دن اس نے کہا کہ تم میرے گھر آنا، تو میں تمہیں اپنی منگنی کی تصویریں اور ویڈیو فلم دکھاؤں گی۔ تب میرے دل میں شوق جاگا کہ اس کی منگنی کی ویڈیو فلم دیکھنی چاہیے۔ اس کی میری بڑی بہن سے بھی دوستی تھی، لہذا ہم دونوں بہنیں چھٹی والے دن اس کے گھر جا پہنچیں۔ وہ ہمیں اپنے کمرے میں لے گئی اور کچھ دیر باتوں کے بعد فوٹو البم اٹھا لائی۔ “دیکھو، کلاس میں کسی کو مت بتانا کہ میں نے تمہیں منگنی کی تصویریں دکھائی ہیں، ورنہ اور لڑکیاں بھی فرمائش کریں گی”۔ ہم نے وعدہ کیا کہ ہم کسی کو نہ بتائیں گے۔ تصویروں میں فرحانہ بڑی پیاری لگ رہی تھی، لگتا نہیں تھا کہ یہ منگنی کی تقریب کی تصویریں ہیں۔ وہ پوری طرح دلہن بنی ہوئی تھی۔ بھاری جوڑا اور سارا زیور پہنے ہوئے تھی، جیسے شادی یا رخصتی کا سماں ہو۔

گھر آکر باجی نے کہا: “فرحانہ بڑی خوش قسمت ہے کہ اس کا دولہا بہت خوبصورت ہے اور لوگ بھی امیر ہیں، لیکن ایک بات مجھے ٹھیک نہیں لگی۔ منگنی کی ایسی تصویریں اور ویڈیو نہیں بنوانی چاہیے تھیں”۔ میں نے پوچھا: “کیوں؟”۔ “اس لیے کہ وقت کا کوئی اعتبار نہیں، کیا پتہ کل کیا ہونے والا ہے۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کسی وجہ سے منگنی ٹوٹ جائے یا کوئی حادثہ…”۔ “خدارا باجی! ایسی بدشگونی کی باتیں تو منہ سے نہ نکالیں”۔ میں باجی کی سوچ پر لرز کر رہ گئی کہ کیسی منفی باتیں کر رہی تھیں، مگر کبھی کبھی انسان جو سوچتا ہے، شاید وہ واقعہ ہونے والا ہوتا ہے۔ باجی نے بھی کسی بدنیتی سے ایسا نہیں کہا تھا، یہ محض ان کے خیالات تھے، لیکن شاید فرحانہ کی اپنی قسمت میں یہ حادثہ لکھا تھا۔

ہمارے سالانہ پرچے ختم ہوئے ہی تھے کہ پتہ چلا فرحانہ بیمار ہے۔ میں اور باجی اس کا حال دریافت کرنے گئے۔ وہ واقعی بہت بیمار تھی۔ اس کی امی سے پتہ چلا کہ فرحانہ کی منگنی ٹوٹ گئی ہے۔ لڑکے والے لالچی نکلے، وہ زیادہ جہیز کا تقاضہ کر رہے تھے، حالانکہ لڑکا چاہتا تھا کہ منگنی نہ ٹوٹے۔ اس نے فون کر کے کہا بھی کہ اگر فرحانہ راضی ہے، تو وہ کورٹ میرج پر بھی تیار ہے، لیکن یہ راضی نہ ہوئی۔ وہ والدین کی عزت کو بٹہ لگانا نہیں چاہتی تھی۔ ماں، باپ کی مرضی سے شان کے ساتھ رخصت ہونا چاہتی تھی۔ فرحانہ کو منگنی کے ٹوٹنے کا بہت غم تھا۔ وہ ہر صورت اپنے منگیتر سے ہی شادی کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ اس سے پیار کرنے لگی تھی۔ دونوں فون پر باتیں بھی کیا کرتے تھے۔ یہ سب باتیں ہمیں خود اسی نے بتائیں۔ ہمیں بھی افسوس تو بہت ہوا لیکن تقدیر کے لکھے کو کیا کر سکتے تھے۔

گھر آکر باجی نے کہا: “دیکھا، میں نہ کہتی تھی کہ ان کو منگنی اتنی دھوم دھام سے نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ویڈیو بھی ایسی بنائی ہے جیسے شادی ہو، تبھی تو بیچاری فرحانہ کو اتنا دکھ ہوا ہے”۔ میٹرک کا نتیجہ آیا، ہم سب پاس ہو گئے، تو اکٹھے کالج میں داخلہ لے لیا۔ کچھ لڑکیوں نے البتہ تعلیم چھوڑ دی اور گھر بیٹھ گئیں، لیکن فرحانہ نے پڑھائی نہ چھوڑی۔ وہ ہمارے ساتھ کالج جانے لگی۔ ایف اے کے سالانہ پیپر ہونے والے تھے کہ اچانک فرحانہ نے کالج آنا ترک کر دیا۔ سننے میں آیا کہ اس نے کالج چھوڑ دیا ہے، کیونکہ اس کی شادی ہو رہی ہے۔ ٹیچرز یہ سن کر ششدر رہ گئیں، کیونکہ وہ عام سی شکل و صورت کی لڑکی تھی اور میٹرک پاس تھی، جبکہ اس کی شادی ایک انجینئر سے ہو رہی تھی۔ لڑکیوں کو تو اس وقت اتنا شعور نہ تھا، لیکن وہ ٹیچرز جو لیکچرار ہونے کے باوجود ابھی تک غیر شادی شدہ تھیں، اس کی قسمت پر رشک کرنے لگیں۔ فرحانہ کی شادی امیر گھرانے میں ہو رہی تھی۔ یوں وہ بیاہ کر اپنے گھر کی ہو گئی، اس کے بعد وہ کبھی کالج نہ آئی۔ ہم نے بھی کالج کی تعلیم مکمل کر لی اور اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔ کسی نے بھی فرحانہ کی زندگی کے متعلق کبھی جاننے کی کوشش نہ کی کہ وہ کیسی ہے؟ کہاں ہے؟ کیونکہ ایسی باتوں کی اس وقت کوئی وقعت نہ تھی۔

کافی عرصے بعد ایک محفل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں فرحانہ نامی عورت سے ملاقات ہوئی۔ کوئی وجہ بظاہر نظر نہ آئی تھی، لیکن نظریں بار بار اس کی طرف اٹھ جاتیں۔ جب میں اس کی طرف دیکھتی، تو وہ بھی میری طرف توجہ مرکوز کیے ہوتی۔ پھر اچانک ہی وہ اٹھ کر چلی گئی۔

اس کے جانے کے بعد ہر زبان پر ایک ہی قصیدہ تھا کہ ہائے بیچاری کتنے ظلم سہتی ہے۔ اتنے سال ہو گئے شادی کو، پھر بھی نہ جانے کیوں اس ظالم کو ترس نہیں آتا۔ ایک نے کہا: “سنا ہے مارتا بھی ہے اس غریب کو”۔ دوسری نے کہا: “جو مرد اپنی عورتوں کو مارتے ہیں، میرا دل کرتا ہے کہ ان کو گولی مار دوں”۔ غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں، ہر زبان پر اس کے لیے ایسے ہی زخم خوردہ الفاظ تھے۔ مجھ سے نہ رہا گیا تو میں نے ایک عورت سے پوچھ ہی لیا کہ آخر یہ عورت تھی کون؟ ان میں سے ایک خاتون بولیں: “آپ اس کو نہیں جانتیں؟ اس بیچاری کی تو زندگی عذاب ہو کر رہ گئی ہے”۔ اس نے بتایا کہ بہت عرصے پہلے اس کی شادی ہو گئی تھی۔ اس کا خاوند انجینئر ہے، ٹھیک ٹھاک کماتا ہے، اس کے بعد وہ خاتون چپ ہو گئیں۔ 🥰🥰 (مکمل اردو کہانی کا لنک کمنٹ میں دیا گیا ہے۔ آپ اردو ویب سائٹ سے تمام کہانیاں پڑھ سکتے ہیں)
👇👇

راحیلہ بہت خوبصورت تھی۔ اس کی خوبصورتی کے چرچے پورے گاؤں میں تھے۔ وہ بہت کم گو تھی اور بلا ضرورت کسی سے بات نہیں کرتی تھ...
17/08/2026

راحیلہ بہت خوبصورت تھی۔ اس کی خوبصورتی کے چرچے پورے گاؤں میں تھے۔ وہ بہت کم گو تھی اور بلا ضرورت کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ راحیلہ مجھ پر بھروسہ کرتی تھی اور پیار بھی بہت کرتی تھی۔ کوئی مسئلہ ہو، پریشانی یا تکلیف، وہ ہر بات مجھ سے آکر شیئر کرتی تھی۔

ایک دن ہم کالج سے واپس آرہے تھے۔ وہ حسب معمول مجھ سے باتیں کر رہی تھی کہ اچانک رک گئی اور کہنے لگی، “ایک لڑکا ہمارا پیچھا کرتا ہے، کیا تم نے غور کیا؟” میں نے اس کی اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ہنسی مذاق میں ٹال دیا، لیکن وہ ایک حساس دل رکھتی تھی۔

وہ اس بات سے پریشان رہنے لگی۔ میں دراصل یہ چاہتی تھی کہ لڑکے والی بات میں دلچسپی نہ لوں تاکہ وہ بھی اس بات کو اہمیت دینا چھوڑ دے، لیکن جس دن اس نے مجھے ایک خط دکھایا جو محلے کا ایک لڑکا دے گیا تھا، تو میرے کان کھڑے ہو گئے اور میں نے سوچا کہ اب مجھے اس معاملے میں ضرور دخل دینا چاہیے۔ آخر وہ ذاتِ شریف ہے کون، جو اس بری طرح میری دوست کے پیچھے پڑ گیا ہے اور کسی جن بھوت کی طرح اس کو پریشان کر رہا ہے؟ میں نے پوچھا کہ خط میں کیا لکھا ہے؟ اس نے کہا، “میں نے بغیر پڑھے جلا دیا۔” میں نے کہا، “تم کو ایک بار پڑھ لینا چاہئے تھا یا پھر فون پر بات کر کے دیکھو، آخر وہ چاہتا کیا ہے؟” وہ میری بات مان گئی۔ شاید یہی میری غلطی تھی کہ میں نے اس میں یہ جرات پیدا کی کہ وہ لڑکی جو میرے علاوہ کسی سے بات نہ کرتی تھی، میرے کہنے پر ایک غیر مرد سے بات کرنے پر رضامند ہو گئی۔ بس یہی میری خطا تھی جس کی سزا میری سہیلی کو ملی، کیونکہ مرد پر اعتبار کرنا، وہ بھی غیر مرد پر، عورت کی بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔

اکثر مرد تو عورت کو اپنی خواہشات پر قربان کر دیتے ہیں اور ایک بد نیت شخص کسی کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ عورت کو چاہئے کہ وہ اچھے اور برے مرد کی پہچان کرے، اور اگر نہیں کر سکتی تو کسی پر اعتبار نہ کرے۔ میری سہیلی بھی ایک ایسے ہی مرد کے ہاتھوں ختم ہو گئی۔ اس نے میرے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اس لڑکے سے بات کی اور اس کا نام وغیرہ پوچھا۔ اس نے بتایا کہ “میرا نام خرم ہے، میں فیصل آباد میں رہتا ہوں اور تم کو دل و جان سے پسند کرتا ہوں”۔ اور نجانے کیا کیا کہا! اس نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے گویا میری سہیلی کو رام کر لیا۔ اب وہ روز اس کو فون کرنے لگا۔ راحیلہ بھی اس میں دلچسپی لینے لگی۔ مجھ سے بھی وہ اب ہمہ وقت اسی کی باتیں کرتی کہ وہ ایسا ہے، وہ یہ کہتا ہے۔ ہر وقت وہ مجھے اس کے بارے میں بتاتی اور میں سوچتی کہ اس کو کیسے روکوں، کیسے سمجھاؤں؟ کہیں یہ معاملہ بے قابو ہی نہ ہو جائے۔ میں اب اس کو نصیحت بھی نہیں کرتی تھی کہ کہیں وہ مجھ سے دور نہ ہو جائے اور اپنی باتیں چھپانے لگ جائے۔ اس طرح وہ خود کو زیادہ نقصان پہنچا سکتی تھی۔

ایک دن راحیلہ مجھے بہت خوش نظر آرہی تھی۔ وہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ خرم نے مجھے فلاں باغ میں بلایا ہے۔ میرا دل دھک سے رہ گیا کیونکہ خرم کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور یہاں وہ کبھی کبھی اپنی خالہ کے گھر آتا تھا، اور خط بھی بڑی چالاکی سے لکھتا تھا یعنی راحیلہ کی سہیلی فریحہ کے نام سے۔ راحیلہ خرم کے خیالوں میں اندھی ہو چکی تھی۔ جب میں نے اس کو سختی سے منع کیا، تو وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ وہ مجھ سے لڑ پڑی کہ “تم نہیں چاہتیں میں خوشیوں بھری زندگی کے خواب دیکھوں، کیونکہ اب تم مجھ سے حسد کرنے لگی ہو”۔ میری اتنی پیاری سہیلی اور ایسی باتیں! میں اس کی زبان سے یہ سن کر زمین میں دھنستی چلی گئی۔ مجھے یقین نہ آیا کہ راحیلہ اس طرح کی باتیں کر سکتی ہے؟ میرے بہت روکنے پر بھی وہ نہ رکی اور خرم سے ملنے چلی گئی۔ اب کی دفعہ خرم ایک مہینے کے لئے آیا تھا۔ وہ روز اس کو کہیں نہ کہیں بلاتا اور یہ ایسے اس کا حکم مانتی، جیسے اگر نہیں مانے گی تو اس کا دیوتا اس سے ناراض ہو جائے گا۔

ایک دن اس نے اسے اپنے ایک دوست کے گھر بلایا اور کہا کہ “میں اور تم شادی کر لیتے ہیں، اور ابھی کسی کو نہیں بتانا کیونکہ میری کچھ مجبوریاں ہیں۔ ایک ماہ بعد میں اس لائق ہو جاؤں گا کہ تمہارا بوجھ اٹھا سکوں، پھر میں تم کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا”۔ اس نے ایسی باتیں کہیں کہ راحیلہ اس کے جھانسے میں آگئی۔ وہ پوری طرح اس کی گرفت میں آچکی تھی۔ خرم نے جعلی نکاح نامہ تیار کیا، جعلی گواہ بنا لیے اور اس کو یہ باور کرا دیا کہ “تم میری بیوی ہو اور اب میرا تم پر حق ہے”۔ راحیلہ اس سے اور زیادہ ملنے لگی، پھر ایک دن وہ میری سہیلی کو کبھی نہ ختم ہونے والی کہانی دے کر غائب ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، تو گھر والے اس کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ 🥰🥰 (مکمل اردو کہانی کا لنک کمنٹ میں دیا گیا ہے۔ آپ اردو ویب سائٹ سے تمام کہانیاں پڑھ سکتے ہیں)
👇👇

Address

Chishtian Mandi

Telephone

+923006986459

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashif Nadeem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kashif Nadeem:

Shortcuts

Share