22/04/2026
بہروپئے کا انجام
"شکل مومناں اور کرتوت کافراں "
جی ھاں، دھوکے باز چاھے جتنا بھی بھیس بدل لے، آخر کار قانون کی گرفت میں آ ھی جاتا ھے۔"
"قصہ کچھ یوں ھے که اپر مال میاں میر مکان نمبر 5 گلی نمبر 8 دھرم پورہ کا رھائشی میاں افتخار ولد لعل دین، جو خود کو پیر کہلواتا تھا، برسوں سے معصوم اور سادہ لوح لوگوں کو اپنے جھانسے میں لے کر ان کی جمع پونجی لوٹ رھا تھا۔ لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانا اس شخص کا شیوہ بن چکا تھا۔" اس نے معصوم لوگوں سے دھوکه دہی سے لاکھوں روپے ھتیا لیئے ۔۔
اس بہروپئے، جعل ساز فراڈیئے نے مجھ سے ( امتیاز احمد، اونر عمر مارکیٹ، اردو نگر ، موڑ سمن آباد ، لاھور ) سے 30 لاکھ کی رقم ایک چیک دے کر ھتیا لی اور اسکا دیا ھوا چیک ڈس آنر ھوگیا، اس انسان نما ناسور کے خلاف تھانه سمن آباد میں مقدمه نمبر 1236/20 بجرم F489 درج ھوا اور 6 سال ماڈل ٹاؤن ٹرائل کورٹ میں میرے کیس کی پیروی ایک نہایت محنتی وکیل جناب جاوید صدیقی نے کی،
"لیکن یاد رکھئیے، ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی پھولتی نہیں !!! اس پیچیدہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا سہرا جناب قیصر ریاض صاحب ( جوڈیشل مجسٹریٹ درجه اول ) کے سر جاتا ھے۔ جنہوں نے پوری ایمانداری اور جانفشانی سے اس جعل ساز کے مکر و فریب کا پردہ چاک اور اس فتنے کا قلع قمع کیا۔
"عدالت نے اپنا فیصله سنا دیا ھے:
2 سال قیدِ بامشقت اور بیس ہزار روپے جرمانه ۔ اب یه مکر کا بازار سجانے والا شخص 21 اپریل 2026 کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے انجام کو پہنچ چکا ھے۔"
"میری آپ سب سے گزارش ھے که اس پیغام کو اور اس بہروپئیے کی تصویر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکه کوئی اور معصوم انسان اس کے ہاتھوں لٹنے سے بچ سکے۔ یاد رکھیں، آپ کی ایک چھوٹی سی کوشش کسی گھرانے کو بربادی سے بچا سکتی ھے۔"