25/03/2026
تازہ
دل خوف میں ہے آنکھوں سے وحشت نہیں جاتی
کیا کیجیے گا میری اذیت نہیں جاتی
ہاں وقت لگا دیتا ہے ہر زخم کو مرہم
پر دل سے کبھی پہلی محبت نہیں جاتی
افسوس کہ ڈھل جائے گا حُسن اِن کا کسی دن
جن لڑکیوں کی آج نزاکت نہیں جاتی
رہتے ہیں بڑے پیار سے جنگل میں پرندے
اور شہر کی دیواروں سے نفرت نہیں جاتی
آساں تو نہیں ہوتا ہے عادات بدلنا
عادات بدل سکتی ہیں ، فطرت نہیں جاتی
میری بھی پریشانیاں فرصت میں کبھی سن
اک تو یہ مری جاں تری عجلت نہیں جاتی
بے انت حسینائیں ہیں موجود ولیکن
حسام مرے دل سے وہ عورت نہیں جاتی
حمزہ حسام