10/05/2026
پچھلے چند سالوں میں فتنہ الخوارج کی بربریت کا نشانہ بننے والے پاکستان کے چند علماء کرام!
یہ تصویر محض ایک تصویر نہیں، بلکہ فتنہ الخوارج کی بربریت اور اسلام دشمن سوچ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ وہ علمائے کرام ہیں جنہیں گزشتہ چند برسوں میں صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ بچوں کو دین اور اخلاقیات کی تعلیم دیتے، امن و بھائی چارے کا پیغام عام کرتے اور معاشرے کو شدت پسندی اور دہشت گردی سے بچانے کی بات کرتے تھے ۔
ان شہداء میں 5 مئی 2026 کو چارسدہ میں شہید کیے جانے والے شیخ الحدیث مولانا شیخ ادریس، 21 جولائی 2025 کو شہید ہونے والے پیر ابراہیم، 10 جولائی 2025 کو باجوڑ میں نشانہ بننے والے مولانا خانزیب، 14 مارچ 2025 کو اعظم ورسک مسجد حملے میں زخمی ہونے والے مولانا عبداللہ ندیم، 28 فروری 2025 کو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک حملے میں شہید ہونے والے حامد الحق حقانی، 02 نومبر 2018 کو شہید کیے جانے والے مولانا سمیع الحق بھی شامل ہیں ۔
یہ تمام واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ فتنہ الخوارج ہمیشہ علم، امن، دین اور انسانیت کے دشمن رہے ہیں۔
یہ خوارج کا کیسا جہاد اور کیسا اسلام ہے کہ وہ اسلام ، امن اور سلامتی کا پیغام دینے والے علماء کو قتل کرتے ہیں ؟