11/08/2026
☆چور گھر میں آ جائے تو اگر کر سکتے ہو تو معاف کر دو اور اگر احسان کر سکتے ہو تو پھر اس سے پوچھو کہ بھئ پچھلے دروازے سے کیوں آیا، کیا پیسے کی ضرورت ہے؟ تو انسان بننے میں دیر نہیں لگتی ، صرف فیصلہ کرنا پڑتا ہے - آپ دوسرے کو انسان بناتے رہتے ہو ، انسان دوسرے نے نہیں بننا بلکہ آپ نے بننا ہے - وہ آدمی جو دوسرے کو انسان بنانا چاہتا ہے اور خود انسان نہیں بنتا وہ بڑا جھوٹا آدمی ہے - اگر تم انسان بن جاوء تو دوسرا خود بخود انسان بن جاتا ہے - مثال کے طور پر ایک آدمی ایک دفعہ تلوار لے کر قتل کی نیت سے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف گیا - حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب دیکھا تو فرمایا کہ تم پر سلامتی ہو ، اس آدمی کی تلوار گر گئ _____ آپ بھی لوگوں کو سلامتی دو تو لوگ آپ کو سلامتی دیں گے - اسلام نے یہ کتنی آسان بات سکھائی ہے - یہی روحانیت ہے - یہ روحانیت ہے کہ آپ دوسرے کا حق دے دو ، اپنا حق اللہ سے جا کر لینا - بظاہر یہ بات مشکل لگتی ہے لیکن اس طرح ہمیں حق کی ادائیگی کا انعام ملتا ہے - آپ اپنا حق مانگتے ہو اور حق والے غریب کے پلے کچھ نہیں ڈالتے - اس لئے نوے فی صد گلہ کرنے والے اور رنجش بیان کرنے والے خود ظالم ہوتے ہیں - ظلم کی کہانی سنانے والا اکثر ظالم ہوتا ہے - آپ ظالم نہ بننا بلکہ مسکین بن جاوء - آپ دوسرے کو زبان سے قتل نہ کیا کرو ، بھرے بازار میں کسی کی ستارا العیوبی کا سبق سیکھنا ہے یعنی دوسروں کے گناہ پر پردہ ڈالنا - آپ تو دوسرے کے پردے اٹھاتے ہو - اگر آپ کسی کو گناہ کرتے دیکھو اور پردہ ڈال کے رکھو تو آپ کے گناہ قیامت کے دن نشر نہیں کئے جائیں گے - پردہ رکھنے والوں کا پردہ رکھا جائے گا - حق دینے والے کو حق ملے گا - کسی انسان پر، اپنے وجود کے قرب کی وجہ سے، رحم کرو - گلاب اگر چہ بے جان ہے لیکن جو قریب سے گزرے اسے بھی خوشبو دے جاتا ہے اور دوسرے کو خوش کر دیتا ہے اور محفوظ کر دیتا ہے - آپ بھی ایسے بنو کہ اگر کسی کے قریب سے گزرو تو اسے کچھ فیض دے جاوء ___________
گفتگو 4____________صفحہ نمبر 102_____103
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ