Kashif Publications

Kashif Publications کاشف پبلیکشنز
یہ ادارہ صرف حضرت واصف علی واصفؒ کی تعلیمات کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد حضرت واصف علی واصفؒ نے اپنے ہاتھ سے رکھی۔

فرمودات : حضرت واصف علی واصف رح
11/08/2026

فرمودات : حضرت واصف علی واصف رح

☆چور گھر میں آ جائے تو اگر کر سکتے ہو تو معاف کر دو اور اگر احسان کر سکتے ہو تو پھر اس سے پوچھو کہ بھئ پچھلے دروازے سے ک...
11/08/2026

☆چور گھر میں آ جائے تو اگر کر سکتے ہو تو معاف کر دو اور اگر احسان کر سکتے ہو تو پھر اس سے پوچھو کہ بھئ پچھلے دروازے سے کیوں آیا، کیا پیسے کی ضرورت ہے؟ تو انسان بننے میں دیر نہیں لگتی ، صرف فیصلہ کرنا پڑتا ہے - آپ دوسرے کو انسان بناتے رہتے ہو ، انسان دوسرے نے نہیں بننا بلکہ آپ نے بننا ہے - وہ آدمی جو دوسرے کو انسان بنانا چاہتا ہے اور خود انسان نہیں بنتا وہ بڑا جھوٹا آدمی ہے - اگر تم انسان بن جاوء تو دوسرا خود بخود انسان بن جاتا ہے - مثال کے طور پر ایک آدمی ایک دفعہ تلوار لے کر قتل کی نیت سے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف گیا - حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب دیکھا تو فرمایا کہ تم پر سلامتی ہو ، اس آدمی کی تلوار گر گئ _____ آپ بھی لوگوں کو سلامتی دو تو لوگ آپ کو سلامتی دیں گے - اسلام نے یہ کتنی آسان بات سکھائی ہے - یہی روحانیت ہے - یہ روحانیت ہے کہ آپ دوسرے کا حق دے دو ، اپنا حق اللہ سے جا کر لینا - بظاہر یہ بات مشکل لگتی ہے لیکن اس طرح ہمیں حق کی ادائیگی کا انعام ملتا ہے - آپ اپنا حق مانگتے ہو اور حق والے غریب کے پلے کچھ نہیں ڈالتے - اس لئے نوے فی صد گلہ کرنے والے اور رنجش بیان کرنے والے خود ظالم ہوتے ہیں - ظلم کی کہانی سنانے والا اکثر ظالم ہوتا ہے - آپ ظالم نہ بننا بلکہ مسکین بن جاوء - آپ دوسرے کو زبان سے قتل نہ کیا کرو ، بھرے بازار میں کسی کی ستارا العیوبی کا سبق سیکھنا ہے یعنی دوسروں کے گناہ پر پردہ ڈالنا - آپ تو دوسرے کے پردے اٹھاتے ہو - اگر آپ کسی کو گناہ کرتے دیکھو اور پردہ ڈال کے رکھو تو آپ کے گناہ قیامت کے دن نشر نہیں کئے جائیں گے - پردہ رکھنے والوں کا پردہ رکھا جائے گا - حق دینے والے کو حق ملے گا - کسی انسان پر، اپنے وجود کے قرب کی وجہ سے، رحم کرو - گلاب اگر چہ بے جان ہے لیکن جو قریب سے گزرے اسے بھی خوشبو دے جاتا ہے اور دوسرے کو خوش کر دیتا ہے اور محفوظ کر دیتا ہے - آپ بھی ایسے بنو کہ اگر کسی کے قریب سے گزرو تو اسے کچھ فیض دے جاوء ___________

گفتگو 4____________صفحہ نمبر 102_____103

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

☆ایک آدمی بیمار ہو  ، پریشان ہو اور اسے کہا جائے کہ نماز پڑھو  - اگر وہ نماز نہیں پڑھتا تو سارا گناہ تبلیغ کرنے والے کے ...
11/08/2026

☆ایک آدمی بیمار ہو ، پریشان ہو اور اسے کہا جائے کہ نماز پڑھو - اگر وہ نماز نہیں پڑھتا تو سارا گناہ تبلیغ کرنے والے کے ذمے لگے گا - کیونکہ اس نے اس Person کی کیفیت نہیں دیکھی کہ وہ اس حالت میں نہیں ہے ________ تو دوسرے کی حالت دیکھے بغیر تبلیغ کرنے والا اتنا ویران ہے جتنی کوئی اور چیز ________ جب کبھی تبلیغ کرو تو پہلے دوسرے کی حالت دیکھو ، مزاج بھی دیکھو کہ کیا یہ Receptive ہے - بعض اوقات آپ کا بچہ آپ کا کہنا نہیں مانتا ________تو لوگ بیمار کو تبلیغ تو کرتے ہیں لیکن اس کی خالی بوتل میں کوئی دوائی نہیں ڈالتا اور اس طرح وہ تبلیغ کو نہیں مانتا - دوسری بات یہ ہے کہ زیادہ تبلیغ کی بجائے اپنا عمل ٹھیک رکھو - ________
گفتگو 4 ___________صفحہ نمبر 106
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

فرمودات ؛ حضرت واصف علی واصف رح
10/08/2026

فرمودات ؛ حضرت واصف علی واصف رح

اسلام کو عمل سے نکال کر علم میں داخل کرنے والے اسلام کے محسن نہیں ہیں----------------مومن وہ نہیں جسے بهائی مدد کو پکارے...
10/08/2026

اسلام کو عمل سے نکال کر علم میں داخل کرنے والے اسلام کے محسن نہیں ہیں----------------

مومن وہ نہیں جسے بهائی مدد کو پکارے تو وہ اسے قرآن سنانا شروع کر دے----------------

مومن وہ نہیں جو وعدہ پورا نہ کرے اور نماز پوری کرے--------------------

مومن وہ نہیں جو ممبر پر کهڑے ہو کر مسلمانوں میں انتشار پھیلائے----------------

فرقہ پرست، حق پرست نہیں ہو سکتا-----------

اسلام کے شجر کو اتنے پیوند لگائے جا چکے ہیں کہ اس کا اصل رنگ دب کے رہ گیا ہے--------------

ہمارے ہاں کئ لاکھ مساجد ہیں اور کئ لاکھ آئمہ مساجد - اس کے باوجود قوم کا یہ عالم ہے کہ معاشرے میں تمام برائیاں موجود ہیں---------------

(Hazrat Wasif Ali Wasif r.a)

*اگر نیت اچھی ہو تو سارے واقعات اچھے ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ایک ہندو برہمن اشنان کو جا رہا تھا ۔ راستے میں ایک چمار ملتا ہے یع...
06/08/2026

*اگر نیت اچھی ہو تو سارے واقعات اچھے ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
ایک ہندو برہمن اشنان کو جا رہا تھا ۔ راستے میں ایک چمار ملتا ہے یعنی چمڑا رنگنے والا ۔ چمار کہتا ہے "برہمن مہاراج جی! کدھر چلے ہو" ۔ اس نے کہا "میں گنگا اشنان کو جا رہا ہوں" ۔ کہتا ہے "پھر مائی گنگا کو میرا سلام کہنا اور میری طرف سے یہ ٹکہ اس کو نذر کرنا" ۔ چمار نے اپنی گندی جیب سے ٹکہ نکالا ۔ برہمن نے ہاتھ تو لگانا نہیں تھا کیونکہ اس کا دھرم بھرشٹ ہو جاتا ۔ اس نے گڈوی آگے کی کہ اس میں ڈال دے ۔ گنگا جا کر برہمن نے اس چمار کا ٹکہ ڈالا اور اس کا سلام کہا ۔ کہتے ہیں کہ گنگا میں سے ایک خوب صورت ہاتھ نکلا ۔ اس ہاتھ میں طلائی کنگن تھا اور یہ آواز آئی کہ "اس ہمارے محبوب کو یہ کنگن دے دو ، جس نے ہمیں یہ میلا ٹکہ دیا ہے۔ " برہمن اشنان بھول گیا اور واپس ہی آ گیا ۔ اس نے چمار سے ہاتھ باندھ کر کہا یہ کنگن جو ہے آپ کو جواب میں ملا ہے ، مائی گنگا نے آپ کو سلام کہا اور کہا ہے کہ یہ کنگن اس ہمارے محبوب کو دے دو ۔ اس چمار نے کہا "دیکھو آپ ہو برہمن اور میں چمار ہوں، چمڑا رنگنے والا ، ہم نے یہ سونا کیا کرنا ہے ، اس کو تم ہی لے لو " برہمن بڑا خوش ہوا کہ یہ تو سونے کا بڑا خوب صورت اور اتنا قیمتی کنگن ہے ۔ گھر لے جا کر اپنی بیوی کو دیا ۔ بیوی نے کہا اتنا خوب صورت اور اتنا قیمتی کنگن ہمارے کس کام کا ، یہ راجہ کی بیوی ، رانی کو دے آتے ہیں ، اور وہ کنگن رانی کو جا کر دیا ۔ رانی بڑی خوش ہوئی اور جشن منایا ۔ کچھ دیر کے بعد رانی کہتی ہے کہ بھئی غلطی ہو گئ ، کنگن ایک نہیں بلکہ دو چاہییں کیونکہ دو ہاتھ ہیں ، اس لیے دوسرا کنگن بھی لا دو ۔ سارے سنار اور زرگر اکٹھے ہو گئے مگر وہ کنگن نہ بنا سکے کیونکہ وہ کنگن آسمانی بنا ہوا تھا ۔ پھر راجہ نے برہمن سے کہا کہ اگر تم دوسرا کنگن نہ لاؤ گے تو پھر میں تمہیں مار دوں گا ۔ برہمن روتا ہوا اس چمار کے پاس گیا اور کہتا ہے "مہاراج عذاب آ گیا ، وہ ہم نے راجہ کو دیا اور اب وہ دوسرا کنگن مانگتا ہے ۔ " چمار نے کہا روتا کیوں ہے ۔ پھر اس نے اپنی میلی جیب سے ایک اور میلہ ٹکہ نکالا اور چمڑا رنگنے والے گدلے رنگ کے پانی میں اسے ڈالا اور کہا "مائی گنگا کو یہاں سے ہی سلام ۔ " کہتے ہیں وہیں سے ہاتھ نکلا اور وہیں سے کنگن برآمد ہوا ۔ اس چمار نے کہا کہ "من چنگا تو گھر میں ہی گنگا" ۔
اگر انسان کی نیت صاف ہو تو ہر مقام ہی حج کا مقام ہے ۔ آپ کی نیت کی اصلاح ہو جائے تو باقی کسی شے کی ضرورت نہیں ۔

(گفتگو والیم 6 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 199 ، 200 ،201)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

______________    تنہائی ______________☆ظاہر کی کامیابیاں اندر کی گھٹن کب تک چھپائیں گی  - اندر کا انسان سسک رہا ہے  _بل...
05/08/2026

______________ تنہائی ______________

☆ظاہر کی کامیابیاں اندر کی گھٹن کب تک چھپائیں گی - اندر کا انسان سسک رہا ہے _بلک رہا ہے، چیخ رہا ہے - ہم اس کی آواز سنتے ہیں، لیکن اپنے کانوں پر اعتبار نہیں - ہم اپنے باطن کو ہلاک کر کے کامرانیوں کے جشن مناتے ہیں - ہم اپنے روحانی وجود سے فرار کر رہے ہیں - ہم نے کئی چہرے رکھے ہوئے ہیں - ہمارے غم اور ہماری خوشیاں میکانکی ہیں - ہم ہمدردی سے نا آشنا ہیں - ہم اپنے اندر کی آوازکو خاموش کرا دیتے ہیں اور پھر ضمیر کے کسی دباوء سے آزاد ہو کر ہم اپنی تنہائی کے سفر پر روانہ رہتے ہیں _______
تنہائی روح کی گہرائی تک آ پہنچی - ہماری روحیں ایک دوسرے کے قرب سے محروم ہیں - روحیں محبت کی پیاسی ہیں - انسان ، انسانی اقدار سے بے حس ہے - احساس مر چکا ہے - کوئی کسی کے لئے کچھ نہیں چاہتا - ہم ایک دوسرے کو برداشت کر رہے ہیں، تسلیم نہیں کرتے - ہم اذیت میں ہیں - ہمیں اپنے علاوہ کوئی چہرہ پسند نہیں - ہم مفادات کے پجاری بھول گئے ہیں کہ زندگی حاصل ہی نہیں، ایثار بھی ہے - ہم اپنی فکر کو فکر_بلند سمجھتے ہیں اور اپنے عمل کو عمل_صالح - ہم نہیں جانتے کہ ہم کتنے کمزور ہیں - ہم اس چراغ کی طرح ہیں ، جو آندھیوں کی زد میں ہے - ہم کئی چہرے رکھتے ہیں ، لیکن ہمارا اصل روپ تنہائیوں میں ہے - ہماری حقیقت تنہائی اور خاموشی میں ہے ____
ہماری محفلیں مسکراتی ہیں اور ہماری تنہائیاں روتی ہیں

جب ہم کسی کے نہیں تو ہمارا کون ہو گا؟

جب تک وفا نہ ملے تنہائی ختم نہیں ہوتی

رفاقتوں سے محروم انسان بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور سب سے بڑی بیماری تنہائی بذات_خود ہے - یہ بیماری بھی ہے اور عذاب بھی!

تن کی دنیا کا پجاری من کی دنیا سے محروم ہو کر تنہا رہ گیا ہے
ہمارے پاس آسائشیں ہیں، سکون نہیں - ہمارے پاس مال ہے، اطمینان نہیں - ہم سب ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، لیکن منزلیں جدا جدا ہیں - ہم ہجوم میں ہیں ،لیکن ہجوم سے کوئی واسطہ نہیں - ہم سب آس پاس ہیں - ہم ایک دوسرے کا غم سنتے ہیں، لیکن محسوس نہیں کرتے - ہم اپنے علاوہ کسی کو اپنے جیسا نہیں سمجھتے

ہمیں اپنے آنسو مقدس نظر آتے ہیں، لیکن دوسروں کی آنکھ سے ٹپکنے والے آنسو ہمیں مگرمچھ کے آنسو نظر آتے ہیں

دیوتا بننے کی خواہش میں ہم انسان ہی نہ رہے

ہماری تنہائی پر رحم فرما میرے مولا _______ہمیں انسان آشنا کر _______ہمیں انسانوں کی قدر کرنا سکھا - ہمیں انسانوں سے محبت کرنا سکھا - ہمیں انسانوں کی خدمت کرنا سکھا - ہمیں پہچان عطا فرما - ہمیں زندگی کی عزت کرنا سکھا - ہمیں ہمارے غرور سے بچا - ہمیں ہماری ذات سے نجات دے - ہمیں عاقبت سے غافل نہ کر - ہمیں وفا سکھا - وفا تنہا نہیں ہوتی - ہمیں صداقت _فکر دے - صداقت_ذکر دے
ہم پر عظمت_انسان آشکار کر _______کہ یہی راستہ ہے " تنہائی کے کرب سے نجات کا ______اے مالک! ہمیں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا سکھا - ہمارے باطن سے شکوک و شبہات دور کر - ہماری تنہائیوں کو آبادکر، محبت سے - ہمیں ایک عقیدہ دیا ہے، تو ایک منزل عطا فرما _______ایک سفر، ایک منزل، ایک وحدت _____
کتاب: دل دریا سمندر
مضمون: تنہائی
مصنف: حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

05/08/2026

Address

301 A, Johar Town
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashif Publications posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category