Kashif Publications

Kashif Publications کاشف پبلیکشنز
یہ ادارہ صرف حضرت واصف علی واصفؒ کی تعلیمات کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد حضرت واصف علی واصفؒ نے اپنے ہاتھ سے رکھی۔

فرمودات : حضرت واصف علی واصف رح
10/06/2026

فرمودات : حضرت واصف علی واصف رح

نذر صاحبالسلام علیکم*آپ کا خط ملا ۔ آپ نفسیاتی مریض نہیں ہیں نہ آپ ہو سکتے ہیں ۔ البتہ لوگوں کے لئے نفسیاتی مرض پیدا کرن...
10/06/2026

نذر صاحب

السلام علیکم

*آپ کا خط ملا ۔ آپ نفسیاتی مریض نہیں ہیں نہ آپ ہو سکتے ہیں ۔ البتہ لوگوں کے لئے نفسیاتی مرض پیدا کرنے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں ۔ آپ لوگوں کو آزمانا چھوڑ دیں ۔ اپنا وقت ضائع نہ کریں ۔

منت رہبر نہ کر ، منزل و کارواں نہ پوچھ

یہ پتہ منگوانا اور پتہ دینا بس پتا بازی ہے ۔ مجھے میرا نصیب میسر ہے ، آپ کو آپ کا نصیب مل رہا ہے ۔ آپ نے جہاں لوگوں سے توقع چھوڑ دی ہے وہاں گلہ بھی چھوڑ دیں ۔
ایل ڈی اے سے باہر نکلنا کوئی خامی یا بدی نہیں ہے ۔ مبارک بات ہے ۔ جن لوگوں نے نکالا ان کو بد بخت کہنے کی بجائے ان لوگوں کے دعا کریں ۔ وہ آپ کو سمجھ نہیں سکے ۔ باقی مجھے کوئی نیک بزرگ ملے تو میں آپ کو کہاں یاد رکھوں گا اور کیوں رکھوں گا ۔ بزرگ لوگ یا قلندر یا غوث ، قطب ، ابدال لوگ یا صاحب مرتبہ اور صاحبِ حال لوگ یعنی با کمال لوگ ملنے والوں کو اس ملاقات سے غافل کر دیتے ہیں ، وہ محویت پیدا کر دیتے ہیں ۔ محویت میں کوئی کسی کو یاد نہیں رکھ سکتا حتی کہ محویت پیدا کرنے والا واقعہ ، یا انسان بھی یاد نہیں رہتا ۔ آپ اپنے کام میں مگن رہیں ۔ جو ہوا اچھا ہوا ۔ جو ہو گا بہتر ہو گا ۔ باقی رہا آپ کی عمر کا سوال؟ آپ اپنے میڑک کے سرٹیفکیٹ سے دیکھ کر صحیح عمر لکھیں یا پھر عمر کا ذکر ہی چھوڑ دیں ۔ عمر سے کیا غرض؟
آپ بالکل صحیح سلامت نارمل اور اندر سے زندہ انسان ہیں ۔ چھوٹے موٹے ماہر نفسیات کا تو آپ منٹوں میں صفایا کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح چھوٹا موٹا پیر بھی آپ پر جادو نہیں کر سکتا ۔ اب آپ اپنی تسکین کا ایمانداری سے کوئی مستقل حل تلاش کریں ۔
دل کو یادوں سے آباد کرو اور اپنی کمائی متعلقین اور مستحقین کے حوالے کرو ، ادب کے ساتھ ۔ آپ اپنی محنت کو سرمایہ دار بننے کا ذریعہ بنانے کی بجائے خدمت گزار بنانے میں لگائیں ۔
خدا آپ کو اپنی منزل سے آشنا کرے ۔

والسلام
واصف علی واصف

(گمنام ادیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 191 ، 192)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

سوال:-بعض اوقات خیال آتا ہے کہ ابھی کافی زندگی موجود ہے تو پھر کیوں شور مچائیں اور عمل کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جواب:-* تین لوگوں کا...
08/06/2026

سوال:-
بعض اوقات خیال آتا ہے کہ ابھی کافی زندگی موجود ہے تو پھر کیوں شور مچائیں اور عمل کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب:-
* تین لوگوں کا کہتے ہیں کہ ان کا شور مچانا جائز ہے ، ایک وہ جس کے پاس مچھلی ہے اور وہ بیچنے کے لیے شور مچائے گا کیونکہ اس مچھلی میں بد بو پیدا ہو جانی ہے اور وہ آرام سے نہیں بیٹھے گا ۔ ایک وہ جس کے پاس پھول ہیں وہ بیچنے کے لیے شور مچائے گا کہ کہیں پھول مرجھا نہ جائیں اور تیسرا وہ جس کے ہاتھ میں برف ہے اور پگھلی جا رہی ہے ، وہ شور مچائے گا تا کہ جلدی جلدی وہ فارغ ہو جائے ۔ اب جوانی جو ہے وہ جلدی جلدی فارغ ہو جائے گی ۔ تو اس کا پتہ ہونا چاہیے ، لیکن ان سب باتوں سے جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ جب پتہ چل چل جائے کہ زندگی پگھلی جا رہی ہے بلکہ ہاتھ سے نکلی چلی جا رہی ہے ، سمے گزرتا چلا جا رہا ہے تو شور مچانے کا وقت ہے کہ یااللہ میرے ہاتھ سے میرا اپنا آپ نکل گیا ، جب میرے ہاتھ سے میرا اپنا آپ نکل گیا تو پھر تو میں مکمل بے بس ہو گیا ۔ اور جو کچھ اس نے حاصل کیا ہے یہ ساری کی ساری چیزیں کسی اچھے سے یا بُرے سے Auction mart ، نیلام گھر میں موجود ہیں، Available ہیں ، تو انسان نے کیا کیا کباڑ خانہ اکٹھا کیا
کبھی آپ جمعے کو سڑک کے کنارے جاوء تو کتابیں عام پڑی ہوئی ہوتی ہیں ۔ آپ کی لائبریریوں کا یہ حشر ہے ۔ پڑھنے والے لوگ ، جن کے گھر میں کم پڑھنے والے ہوں ، کتابوں سے وہ محبت نہ ہو تو اس کا جو وارث ہو جاتا ہے ، وہ وارث کی ساری کی ساری لائبریری اٹھا کے بیچ دیتا ہے ، بالکل سستی ۔ وہ کتابیں مارکیٹ میں جا کے پھر بِک جاتی ہیں ۔ تو کتابوں کا اجتماع بھی کوئی اجتماع نہ ہوا ۔ سامان پرانا ہو گیا تو انہوں نے دے دیا ۔ مکان ، محلہ بدل لیا ، اندرون شہر تھا ، پھر بیرون شہر آ گیا ۔ وہ مقام بھی چلے گئے ۔ آپ کا سارا حاصل آپ کی نظروں کے سامنے غائب ہوتا گیا ۔ جب ایسا وقت آ جائے تو سمجھو کہ کوئی شے ہو رہی ہے ۔ تو جو ہو رہا ہے وہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے؟ یعنی آپ کے جانے کے انتظامات ہو رہے ہیں ۔ اگر جانے کے انتظامات ہو رہے ہیں تو تھوڑا سا شور مچا لو کہ یااللہ تُو معاف کر دے ۔ یہ نہیں کہو کہ دیکھا جائے گا ۔ سب کچھ یہیں سے دیکھ کے جانا ہے ۔ اس نے صاف فرما دیا ہے کہ جو یہاں اندھا ہے وہ آگے بھی اندھا ہی ہو گا ۔ جس نے یہاں نہیں دیکھا اس نے وہاں کیا دیکھنا ہے ۔ تو یہاں سے ہی دیکھ کے جاوء ۔ ایک چیز ضرور کر کے جانا ، اپنی توبہ کو منظور کرا کے جانا ۔ اسے یہاں نہ چھوڑ کے جانا ۔ کبھی بیٹھ کے اکیلے میں یہ ضرور کر لیا کرو کہ ” یااللہ میری غلطیوں کی توبہ “ ! بعض اوقات غلطی ہم نہیں سمجھتے تو غلطی کیا ہوتی ہے؟ یہ بھی غلطی ہے کہ کسی ایسی خواہش پر اصرار جو اس کی مرضی کے علاوه ہو ، ہم نے جو بھی خواہش تیری رضا کے خلاف کی وہ وہ ہی ہمارا گناہ تھا اور ہم نے ساری خواہشات ایسی کیں کہ ہم یہاں ٹھہرنا چاہتے ہیں ، وہ کہتا ہے کہ یہاں سے نکلنا چاہیے ۔ اس لیے ٹھہرنے کی آرزو جو ہے وہ نکلنے والوں کے لیے گناہ بھی کہلا سکتی ہے ۔ لہٰذا یہ ٹھہرنے کا مقام نہیں ہے اور یہ دنیا بسنے کی نہیں ہے بلکہ اس میں کوچ ہی کا نقارہ بجے گا ۔ تو یہ شور مچانے کا مقام ہے کہ کوچ کا منظر تیار ہے اور کوچ اجتماعی بھی ہو سکتی ہے لیکن انفرادی کوچ تو ہو رہی ہے ۔ یہ ایک دن کا نام نہیں ہے بلکہ لگا تار ہر روز کا نام ہے
کہتے ہیں سورج جب غروب ہوتا ہے تو ساری فضا میں ایک اعلان ہوتا ہے کہ لو آج کا دن بھی مر گیا ، ایک دن اور رخصت ہو گیا ، اب تو ایک دن اور قریب آ گیا ، اسی طرح کچھ سورج تیرے اور باقی رہ گئے ہیں ان کو ذرا گِن کے حساب کے ساتھ چلانا اور بعد میں یہ نہ کہنا کہ اچانک پھول دو دن کِھلے ، مرجھا گئے ، پھول نہیں مرجھاتے ، وقت پورا ہو جاتا ہے ۔ اس لیے اس بات کا بڑا دھیان کرنا اور ایسا نہ کہنا کہ ابھی تو ہمیں پتہ نہ تھا ۔ اللہ نے کہا ہے ”خلق الموت والحیٰوة لیبلوکم ایکم احسن عملا“ ہم نے موت اور زندگی کو پیدا فرمایا یہ دیکھنے کے لیے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ انسان ہے تو ایک میت مگر زندگی بن کے چل رہا ہے اور اس کا ایک نام رکھا گیا اور پیدا اس لیے کیا گیا کہ دیکھیں کہ اس کے اعمال کیا ہیں تو اپنے اعمال کا حساب رکھنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(گفتگو والیم 12.......... صفحہ نمبر 180 ، 181 ، 182)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

*وہ خاندان ہی ایسا ہے کہ جس نے نبوت پر اور رسالت پر جاں نثاری کے فرائض سر انجام دیئے ہیں ۔ یہ علی علیہ السلام کے کنبے کی...
06/06/2026

*وہ خاندان ہی ایسا ہے کہ جس نے نبوت پر اور رسالت پر جاں نثاری کے فرائض سر انجام دیئے ہیں ۔ یہ علی علیہ السلام کے کنبے کی بات ہو رہی ہے ۔ امام علی علیہ السلام نے خود شہادت پائی ۔ کیا ان کے پاس طاقت تھی؟ آپ خود جانتے ہو کہ ذولفقار ان کے پاس تھی ۔ جو لوگ جاننے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ سارا عرفان حضرت علی علیہ السلام بانٹتے ہیں اور دُور کی بات جاننے والے ہیں چاہے وہ تاریخی ہو یا جغرافیائی ۔ مثلاً چودہ سو سال کے بعد کے واقعات بھی وہ آپ سے Deal کر سکتے ہیں یعنی کہ حضرت علی علیہ السلام اپنے یاد کرنے والے کی پکار کو آج بھی سنتے ہیں ۔ وہ اتنی طاقت والے ہیں کہ اقبال نے کہا تھا

جنہیں نانِ جویں بخشی ہے تُو نے
انہیں بازوئے حیدرؑ بھی عطا کر

اور یہ بھی کہا کہ

اسلام کے دامن میں بس دو ہی تو چیزیں ہیں
اک سجدہء شبیریؑ اک ضرب یدُ اللّٰہی

اب آپ دیکھو کہ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت ہو گئی ۔ خنجر کے لگنے میں اور جان کے نکلنے میں آپ کے پاس دو لفظ کہنے کا اختیار تھا ۔ آپ اس دوران اللہ سے کوئی بات کر سکتے تھے یا اسلام کے لیے کوئی دعا کر سکتے تھے یا بچوں کو کوئی وصیت کر سکتے تھے ۔ لیکن آپ نے دو لفظ یہ کہے کہ میں نے اپنے قاتل کو معاف کیا ۔ جتنی طاقت والی وہ ذات تھی اس سے زیادہ طاقت ور یہ بات انہوں نے کہہ دی ۔ اس کو کہتے ہیں شہادت اور اسے کہتے ہیں امامت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(گفتگو والیم 14 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 73 ، 74)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

06/06/2026

Address

301 A, Johar Town
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashif Publications posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category