30/08/2026
پانی کا قہر دو ممالک میں تباہی کے پہاڑ ہزاروں روحیں لاپتہ
نیپال اور تبت میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے بعد انسانی المیہ انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اب تک نیپال میں کم از کم 734 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 2,498 سے زائد افراد لاپتہ ہیں یہ تعداد کسی بھی پورے شہر کی آبادی کو ماتم زدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
نیپالی حکام نے خطرناک انتباہ جاری کیا ہے کہ دریاؤں کا پانی مسلسل بڑھ رہا ہے، جس سے ملبے تلے دبے مزدوروں تک پہنچنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ امدادی ٹیمیں کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جہاں ممکن ہو، لوگوں کو نکالنے کی دوڑ میں لگی ہیں، مگر بڑھتا ہوا پانی ہر گزرتے لمحے ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔
دوسری جانب چین کے صوبے تبت میں بھی یہ آفت خاموش نہیں رہی۔ یہاں 16 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 546 لاپتہ ہیں۔ تبت کی سرحد پر واقع بندرگاہ کے قریب مٹی کا ایک مہیب تودہ گرا جس نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔
چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق، جمعرات کو اس علاقے میں تعینات ریسکیو اہلکاروں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا، کیونکہ ڈرون کی نگرانی میں پتہ چلا کہ پوریپوچیانگ تسانگپو جھیل کے 2.8 کلومیٹر نیچے ایک پہاڑی سے مٹی کا نیا تودہ گر کر ایک نئی جھیل تشکیل دے رہا ہے۔ یہ وہی جھیل ہے جس نے پچھلے دنوں امدادی کارروائیوں کو سب سے بڑا چیلنج دیا تھا. اب اس کے قریب ایک اور خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ نئی جھیل بھی پھٹ سکتی ہے. جس سے لاکھوں افراد مزید خطرے میں آ جائیں گے۔ امدادی ٹیمیں آسمان پانی اور زمین تینوں محاذوں پر جنگ لڑ رہی ہیں، مگر لاپتہ افراد کی تعداد بتاتی ہے کہ یہ جنگ ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔