Popular News

Popular News Pakistan No 1

پولیس ذرائع کے مطابق  پاکستان تحریک انصاف کے رہنما  حماد اظہر گرفتار
06/09/2026

پولیس ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر گرفتار

6 ستمبر کی تاریخ آتی ہے تو ہر پاکستانی کے دل میں ایک خاص جذبہ موجزن ہوتا ہے۔ یہ دن محض فوجی پریڈوں اور تقریبات کا نام نہ...
06/09/2026

6 ستمبر کی تاریخ آتی ہے تو ہر پاکستانی کے دل میں ایک خاص جذبہ موجزن ہوتا ہے۔ یہ دن محض فوجی پریڈوں اور تقریبات کا نام نہیں، بلکہ یہ قوم کے بیدار ضمیر کی آواز ہے. جو ہمیں سن 1965 کی ان داستانوں سے ملاتی ہے جنھوں نے اس سرزمین کی تقدیر کا نقشہ بدل دیا۔
یومِ دفاع ہمیں اُس عظیم قربانی کا درس دیتا ہے جب ایک قوم نے اپنی بقا و خودمختاری کے لیے اپنے سب کچھ قربان کر دیا۔ وہ تاریک رات جب دشمن کی چالاکیاں ہماری سرحدوں کو لہولہان کرنے پر تُل گئی تھیں. اور پھر وہ صبحِ روشن جب ہمارے جوانوں نے اپنی جانوں کی بازی لگا کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ وہ جوان، جن کے ایمان کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا جن کے حوصلوں کا عالم یہ تھا کہ دشمن کی بھاری مشینیں ان کے سامنے بے بس نظر آتی تھیں۔
اس دن کا اصل پیغام صرف جنگی کارروائیوں کی کامیابی نہیں، بلکہ قومی اتحاد اور یکجہتی کا پیغام ہے۔ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور دیگر تمام علاقوں کے عوام ایک مُٹھی میں بند ہو گئے تھے۔ سکھ مسلمان عیسائی اور دیگر تمام مذاہب کے لوگ ایک مشترکہ نعرے کے تحت متحد تھے "پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ " یہ وہ واحد دن تھا جب سیاست ذات پات اور علاقائی تفریق کی دیواریں بے معنی ہو گئی تھیں۔
آج بھی جب ہم اپنے گرد مایوسیوں اور داخلی انتشار کے بادل دیکھتے ہیں، تو ہمیں 6 ستمبر 1965 کا وہ ولولہ یاد رکھنا چاہیے۔ آج ضرورت اس عہدِ وفا کو دُہرانے کی ہے جہاں ہم اپنے دفاعی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور داخلی طور پر مضبوط ہوں۔ ہمارے جوان آج بھی سرحدوں پر جاں نثاری کر رہے ہیں، دہشت گردی اور بھارتی جارحیت کے خلاف کمر بستہ ہیں۔ انھیں اپنے شہریوں کی طرف سے غیر مشروط حمایت اور اعتماد درکار ہے۔
خودکشی اور منافرت کی اس بھنور میں ہمیں یومِ دفاع کے اس پیغام کو اپنانا ہوگا کہ "ہم سب ایک ہیں"۔ اپنی معاشی و معاشرتی کمزوریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف بیرونی دشمن سے ڈرنا کوئی دانشمندی نہیں۔ اگر ہم اپنی اندرونی صفوں کو مضبوط نہ کریں تو قربانیوں کا یہ سلسلہ ادھورا رہ جاتا ہے۔
آئیے، اس دن ہم عہد کریں کہ ہم اپنے معاشرے سے بد عنوانی، کرپشن اور لاقانونیت کو ختم کریں گے۔ ہم اپنے دفاعی اداروں کی حوصلہ افزائی کریں گے، جن کی جرات و بہادری نے ہمیں ایک آزاد قوم بنا کر رکھا ہے۔ یومِ دفاع ہمیں بتاتا ہے کہ قومی یکجہتی اور خود اعتمادی ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے، اور جب تک یہ دو صفات ہمارے اندر موجود رہیں گی، کوئی طاقت اس سرزمین کے عزمِ استقلال کو متزلزل نہیں کر سکتی۔

پاکستان زندہ باد.....

آج پاکستان کی سیاست میں ایک انتہائی اہم معاملہ زیرِ بحث ہے، اور وہ ہے پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی کش...
03/09/2026

آج پاکستان کی سیاست میں ایک انتہائی اہم معاملہ زیرِ بحث ہے، اور وہ ہے پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی۔
سوال یہ ہے کہ آخر پیپلز پارٹی کے رویے میں یہ تبدیلی کیوں نظر آ رہی ہے؟ کیا یہ صرف حکومت کے ساتھ سیاسی اختلافات ہیں، یا پھر پسِ پردہ کوئی بڑی سیاسی حکمتِ عملی تیار ہو رہی ہے؟
پیپلز پارٹی اس وقت وفاقی حکومت کی اتحادی ہے، لیکن ساتھ ہی وہ اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت پر مسلسل دباؤ بھی ڈال رہی ہے۔ خاص طور پر سندھ کے معاملات، مالی وسائل، صوبائی اختیارات اور ترقیاتی منصوبوں پر اختلافات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔
یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ پاکستانی سیاست میں اتحادی جماعتیں صرف حکومت کا حصہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اپنے مستقبل کی سیاست بھی ساتھ ساتھ دیکھ رہی ہوتی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے لیے سندھ اس کی سب سے بڑی سیاسی طاقت ہے۔ اس لیے مرکز کا کوئی بھی ایسا فیصلہ جس سے سندھ حکومت کے اختیارات یا مالی مفادات متاثر ہوں، پیپلز پارٹی کے لیے قابلِ قبول ہونا آسان نہیں۔
لیکن اصل سوال اس سے بھی بڑا ہے۔
کیا پیپلز پارٹی صرف وفاقی حکومت سے اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے، یا وہ آنے والے دنوں کے لیے اپنی سیاسی پوزیشن تبدیل کر رہی ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاست ہمیشہ حالات کے مطابق اپنی strategy تبدیل کرنے کے لیے جانی جاتی رہی ہے۔
ایک طرف پارٹی حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے، دوسری طرف بعض معاملات پر سخت تنقید بھی کرتی ہے۔
یہی وہ سیاسی توازن ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔
اب بات آتی ہے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی۔
پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات ہمیشہ ایک حساس موضوع رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے تعلقات میں قربت بھی دیکھی گئی اور اختلافات بھی۔
اس لیے اگر پیپلز پارٹی کے بیانات اور سیاسی رویے میں تبدیلی آتی ہے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا پارٹی کسی نئے سیاسی راستے کی تلاش میں ہے؟
لیکن ہر اختلاف کو فوراً اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔
بہت سے اختلافات سیاسی اور معاشی مفادات کی وجہ سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔
اصل چیز یہ دیکھنا ہوگی کہ آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی عملی طور پر کیا کرتی ہے۔
کیا وہ حکومت سے الگ ہوتی ہے؟
کیا وہ صرف اپنے مطالبات منوانے کے لیے دباؤ بڑھاتی ہے؟
یا پھر موجودہ اتحاد کے اندر رہتے ہوئے اپنی bargaining power مزید مضبوط کرتی ہے؟
میرے خیال میں فی الحال سب سے زیادہ اہم تیسرا امکان ہے۔
پیپلز پارٹی حکومت کو چھوڑنے کے بجائے اپنے سیاسی وزن کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہے گی۔
کیونکہ موجودہ پارلیمانی صورتحال میں پیپلز پارٹی کی حمایت وفاقی حکومت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
لیکن دوسری طرف مسلم لیگ ن بھی یہ نہیں چاہے گی کہ اتحادی اختلافات اتنے بڑھ جائیں کہ حکومت کی stability متاثر ہونے لگے۔
یعنی دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے، لیکن دونوں ایک دوسرے پر دباؤ بھی ڈالنا چاہتی ہیں۔
یہی coalition politics کی اصل حقیقت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو فائدہ کس کو ہوگا؟
یقیناً اپوزیشن اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔
کیونکہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات اپوزیشن کے لیے سیاسی space پیدا کرتے ہیں۔
لیکن صرف اختلافات کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت فوری طور پر ختم ہونے والی ہے۔
پاکستان کی سیاست میں بہت سے اتحاد شدید اختلافات کے باوجود چلتے رہے ہیں۔
اصل فیصلہ اس وقت ہوگا جب بڑے سیاسی اور پارلیمانی معاملات سامنے آئیں گے۔
تب معلوم ہوگا کہ پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے، حکومت کہاں کھڑی ہے اور دونوں کے درمیان تعلقات کس سمت جا رہے ہیں۔
لیکن ایک سوال ہمیں ضرور پوچھنا چاہیے۔
اس تمام سیاسی کشمکش میں عام پاکستانی کہاں کھڑا ہے؟
عوام کے مسائل آج بھی مہنگائی، بجلی کے بل، روزگار، کاروبار، تعلیم، صحت اور امن و امان ہیں۔
عوام کو اس بات سے زیادہ دلچسپی ہے کہ ان کی زندگی کب آسان ہوگی، بجلی کا بل کب کم ہوگا، روزگار کے مواقع کب بڑھیں گے اور معیشت کب بہتر ہوگی۔
اس لیے سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار کی سیاست اپنی جگہ، لیکن ریاست اور عوام کے مسائل اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان تعلقات آنے والے دنوں میں کس طرف جاتے ہیں، یہ دیکھنا بہت اہم ہوگا۔
کیا یہ صرف سیاسی bargaining ہے.
یا پھر پاکستان کی سیاست میں کسی بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے؟
اس کا جواب آنے والے دنوں میں سیاسی فیصلوں سے ملے گا، صرف بیانات سے نہیں۔

حبیب اکرم۔

#اسٹیبلشمنٹ

زرداری صاحب زندہ باد!کئی گھنٹے قبل X پوسٹ میں جو خدشہ ظاہر کیا کہ “مقتدرہ کی سیاستدانوں سے ٹھن گئی ہے”، اب زبانِ زدِ عام...
03/09/2026

زرداری صاحب زندہ باد!
کئی گھنٹے قبل X پوسٹ میں جو خدشہ ظاہر کیا کہ “مقتدرہ کی سیاستدانوں سے ٹھن گئی ہے”، اب زبانِ زدِ عام ہے۔ حوصلہ ملا تو نیا اندیشہ پیش کرنے کی ہمت آئی، دور کی کوڑی لانی پڑی ہے۔ میرا وسوسہ ہے کہ “کہیں صدر آصف علی زرداری ایک پلاننگ کے تحت اپنے پورے خاندان کے ساتھ طویل رخصت یا نیم جلاوطنی پر تو نہیں چلے گئے؟” اگر ایسا ہوا تو بہت بڑی سیاسی چال ہو گی۔
ادھر 27 اگست 2026 کو وہ اہلِ خانہ سمیت نجی دورے پر یورپ روانہ ہوئے، جو بظاہر ایک معمول کی کارروائی لگی، مگر جیسے ہی زرداری صاحب کا طیارہ ہوا میں بلند ہوا، اُدھر ان کے جاتے ہی سندھ کے اندر سیاسی درجہ حرارت یکدم آسمان کو چھونے لگا، جو ایک سوچی سمجھی اسکیم تھی۔ ساتھ ہی بلاول کی شادی کی خبریں عام کر کے ان کے دورے کے تجزیے سے دھیان ہٹایا رہا۔
اگلے ہی دن، یعنی 28 اگست کو حکومتِ سندھ سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد لے آئی، تاکہ آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 کے تحت آئینی راستہ اختیار کرکے صوبوں کی تقسیم کا آئیڈیا ناکام بنایا جائے۔ یہ سب سوچی سمجھی چال معلوم ہوتی ہے۔
مقتدرہ کے موجودہ صوبوں کی تقسیم کے منصوبے کو پیپلز پارٹی نے جس گرج برس کے ساتھ براہِ راست للکارا، اس کے علیحدہ نمبر ملنے چاہییں۔ پیپلز پارٹی نے طوعاً و کرہاً 31 اگست کو کراچی میں سول سوسائٹی اور وکلا کا بڑا احتجاج کروایا، اما بعد وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ و نثار کھوڑو سمیت دیگر قیادت نے صوبوں کی تقسیم کے حامیوں کے خلاف اسمبلی میں سخت اور دوٹوک موقف اپنایا۔
اب یہ خبر کہ زرداری خاندان اگلے چند ہفتے برطانیہ میں مزید قیام کرے گا، میرے اختراعی یا دور کی کوڑی والے نیم جلاوطنی کے آئیڈیا کو تقویت ملی ہے کہ شاید اب زرداری صاحب کی وطن واپسی باآسانی نہ ہو سکے۔ یعنی اب واپسی کسی فیصلہ کن مذاکرات یا نتیجہ خیز بات چیت کے بعد ہی ہو گی۔
یادش بخیر! آج کا منظرنامہ 2015 سے کس قدر ملتا جلتا ہے، جب 16 جون 2015 کو پشاور میں زرداری صاحب نے اداروں کو مخاطب کرکے سخت زبان میں کہا تھا کہ “آپ تین سال کے لیے آتے ہو، جبکہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ موجود رہنی ہیں۔” زرداری صاحب نے گرج کر مزید کہا کہ “پیپلز پارٹی کی کردار کشی بند کی جائے، ورنہ وہ ایسی پریس کانفرنس کریں گے کہ آپ لوگوں کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔”
اس تقریر کے فوراً بعد 25 جون 2015 کو وہ دبئی چلے گئے اور تقریباً ڈیڑھ سال بعد، 23 دسمبر 2016 کو جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد واپس آئے۔
کیا تاریخ پھر دہرائے گی، ایک بار زرداری صاحب کے آگے ہتھیار ڈالے جائیں گے تاکہ وہ واپس آ سکیں، تاکہ پاکستان کی جگ ہنسائی نہ ہو؟
زرداری صاحب کی کامیاب حکمتِ عملی ہی ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں قائم مقام صدر بھی پیپلز پارٹی کا ہے۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی بطور قائم مقام صدر موجود ہیں۔
زرداری صاحب کی سیاسی چالوں پر دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ کس مہارت سے زرداری صاحب نے پہلے صدر کا عہدہ ہتھیایا، پھر اپنے لیے تاحیات صدارتی استثنیٰ حاصل کیا۔ دو اہم آئینی عہدے پیپلز پارٹی کے پاس رکھنے کا مقصد شاید اسی منظرنامے کو چشمِ تصور میں رکھ کر ہی لیا ہو گا کہ پاکستان میں دھوپ چھاؤں کا ادل بدل ہوتا رہتا ہے، اچھے برے دنوں کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔
ان کی نیم جلاوطنی سے ریاست پر دباؤ رہے گا، کیونکہ صدرِ مملکت کی نیم جلاوطنی ایک بین الاقوامی سیاسی اسکینڈل بن جائے گی، جس کا ریاست آج کل کے گھمبیر حالات میں متحمل نہیں ہو سکتی۔

حفیظُ اللہ خان نیازی

01/09/2026

اسلام آباد: پارک روڈکامسیٹس یونیورسٹی کےسامنےکی موجودہ صورتحال،گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں۔


لیونل میسی نے بین الاقوامی فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا39 سالہ اسٹار نے سوشل میڈیا پر اپنے فیصلے کا اعلان کیا، یہ...
31/08/2026

لیونل میسی نے بین الاقوامی فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا

39 سالہ اسٹار نے سوشل میڈیا پر اپنے فیصلے کا اعلان کیا، یہ اعلان ارجنٹائن کی 2026 کے ورلڈ کپ فائنل میں اسپین کے ہاتھوں شکست کے صرف ایک ماہ بعد سامنے آیا۔
میسی نے سوشل میڈیا پر لکھا
"فائنل کے بعد گزرے اس وقت کے دوران بہت سوچ بچار کرنے کے بعد میں سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں قومی ٹیم سے ریٹائر ہو رہا ہوں۔

یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے مجھے تکلیف دی اور اب بھی میری روح میں تکلیف دیتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہی وقت ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے ہمیشہ ہر ممکن کوشش کی نہ صرف پچھلے چند سالوں میں جب سب کچھ جیتا گیا، بلکہ میں نے ہمیشہ اس جرسی کے لیے جنگ کی اور اپنا سب کچھ دیا تاکہ انہیں خوشی دوں اور فٹ بال کے ذریعے انہیں ارجنٹائنی ہونے پر فخر محسوس کرواؤں.

پانی کا قہر  دو ممالک میں تباہی کے پہاڑ  ہزاروں روحیں لاپتہنیپال اور تبت میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے بعد انسانی ال...
30/08/2026

پانی کا قہر دو ممالک میں تباہی کے پہاڑ ہزاروں روحیں لاپتہ

نیپال اور تبت میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے بعد انسانی المیہ انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اب تک نیپال میں کم از کم 734 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 2,498 سے زائد افراد لاپتہ ہیں یہ تعداد کسی بھی پورے شہر کی آبادی کو ماتم زدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

نیپالی حکام نے خطرناک انتباہ جاری کیا ہے کہ دریاؤں کا پانی مسلسل بڑھ رہا ہے، جس سے ملبے تلے دبے مزدوروں تک پہنچنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ امدادی ٹیمیں کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جہاں ممکن ہو، لوگوں کو نکالنے کی دوڑ میں لگی ہیں، مگر بڑھتا ہوا پانی ہر گزرتے لمحے ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔

دوسری جانب چین کے صوبے تبت میں بھی یہ آفت خاموش نہیں رہی۔ یہاں 16 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 546 لاپتہ ہیں۔ تبت کی سرحد پر واقع بندرگاہ کے قریب مٹی کا ایک مہیب تودہ گرا جس نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق، جمعرات کو اس علاقے میں تعینات ریسکیو اہلکاروں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا، کیونکہ ڈرون کی نگرانی میں پتہ چلا کہ پوریپوچیانگ تسانگپو جھیل کے 2.8 کلومیٹر نیچے ایک پہاڑی سے مٹی کا نیا تودہ گر کر ایک نئی جھیل تشکیل دے رہا ہے۔ یہ وہی جھیل ہے جس نے پچھلے دنوں امدادی کارروائیوں کو سب سے بڑا چیلنج دیا تھا. اب اس کے قریب ایک اور خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ نئی جھیل بھی پھٹ سکتی ہے. جس سے لاکھوں افراد مزید خطرے میں آ جائیں گے۔ امدادی ٹیمیں آسمان پانی اور زمین تینوں محاذوں پر جنگ لڑ رہی ہیں، مگر لاپتہ افراد کی تعداد بتاتی ہے کہ یہ جنگ ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔

ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف، میجر جنرل امیر حاتمی نے آج شہدا کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں اسٹریٹجک جائزہ پیش کرتے ہوئ...
30/08/2026

ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف، میجر جنرل امیر حاتمی نے آج شہدا کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں اسٹریٹجک جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دشمن کارروائیاں اسلامی جمہوریہ کے خلاف ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
جنرل حاتمی نے حالیہ تصادم کا سخت فوجی تجزیہ کرتے ہوئے زور دیا کہ بیرونی مخالفین اپنے طے شدہ اسٹریٹجک معیارات کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جنگ میں فتح کا انحصار اس بات پر ہے کہ مخالف فریق اپنے مقررہ آپریشنل اہداف کو حاصل کر سکتا ہے یا نہیں اور اس پیمانے پر دشمن قطعی طور پر ناکام رہا۔

آپریشنل استحکام اور جوابی کارروائیاں
اس بات کے باوجود کہ بیرونی قوتوں نے ایران کے مربوط فضائی دفاع اور میزائل نیٹ ورک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جنرل اسٹاف نے تصدیق کی کہ ایرانی جنگی یونٹوں نے تمام مراحل میں اپنی آپریشنل رفتار برقرار رکھی۔ ایرانی افواج نے غیر ہم آہنگ جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے درست فاصلے پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں اور مقامی طور پر تیار کردہ ڈرونز کے ذریعے دشمن کے ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے۔
میجر جنرل حاتمی نے ایران کے کثیرالطبقاتی دفاعی نظام کی تاثیر کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ فضائی دفاعی یونٹوں نے متعدد دشمن ڈرونز، جنگی طیاروں اور دیگر اعلیٰ قدر جنگی پلیٹ فارمز کو ناکارہ یا تباہ کر دیا، جو ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے.
ایرانی آرمی چیف نے نتیجہ اخذ کیا کہ مسلح افواج کی ہم آہنگی اور بروقت حکمت عملی نے دشمن کے اسٹریٹجک منصوبوں کو بے اثر کر دیا ہے، جس سے ملک کے دفاعی نظریۂ فعال روک تھام اور مضبوط جوابی کارروائی کی مزید تقویت ہوئی ہے۔

13/08/2026

Address

Johar Town Lahore
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Popular News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Popular News:

Shortcuts

Share