Beige Travel Trip

Beige Travel Trip Hello Dear. This page is all about showing you the opportunities to work and settle overseas where you can improve your standard of living.

Here you will get guidance on the whole process of getting a job with work & visit visa as Pakistani Indian

Bolivia ne Visa-on-Arrival khatam kar diya! Ab ye bara rule change ho gaya hai 🇧🇴🛑Agar aapka plan Bolivia ghoomne ka hai...
03/09/2026

Bolivia ne Visa-on-Arrival khatam kar diya! Ab ye bara rule change ho gaya hai 🇧🇴🛑

Agar aapka plan Bolivia ghoomne ka hai, toh yeh update aapke liye bohot zaroori hai. Bolivia ne apna purana system change karte hue Visa-on-Arrival (VoA) khatam kar diya hai aur ab wahan ke liye e-visa laagu kar diya gaya hai. Iske sath sath, yeh bhi update hai ke ab yeh country kuch specific visa-free lists se bhi nikal gaya hai, jiska matlab hai ke ab travel se pehle proper paperwork lazmi hoga.

📍Visa-on-Arrival ka Khatam Hona:
Ab aap achanak plan banakar airport par land karke visa nahi le sakte. Bolivia ne traditional VoA ki sahulat khatam kar di hai, isliye ab travel se pehle online approval lazmi hai.

📍E-Visa System: Ab travellers ko online e-visa ke liye apply karna hoga, jiska poora process digital hai lekin iske liye documents aur approval ka wait pehle se plan karna parega.

📍Visa-Free Status ka Badalna: Yeh destination ab bohot se pasandida mulkon ki visa-free ya easy access list se nikal chuka hai, isliye agar aapki itinerary mein Bolivia shamil hai toh apni booking aur visa timeline ko dobara check kar lein.

Aur ek ahem baat:
Kisi bhi Latin American trip par nikalne se pehle hamesha official immigration portal par latest updates zaroori check kar liya karein, kyunki achanak aane wali policy changes ki wajah se airport par bara masla ban sakta hai!

03/09/2026

Return ticket ke baray mein log yeh 3 ghaltiyan karty hain! ✈️🎫

📍​Airline Check Before Immigration:
Airline boarding se pehle hi return ticket check kar leti hai, kyunki agar aapko destination country mein entry na mile, toh wapas laane ka kharcha aur heavy fine seedha airline par lagta hai.

📍​Visa-Free Countries ka Rule:
Kisi visa-free country mein jaate waqt bhi return ticket lazmi mangi jati hai. Visa free hone ka yeh hargiz matlab nahi hota ke aap bina kisi wapsi ke plan ke wahan ghus sakte hain.

📍​Onward Ticket Bhi Valid Hai:
Lazmi nahi ke wapsi ka ticket sirf aapke apne mulk ka ho; agar aapke paas kisi teesre country ka bhi aage ka ticket (onward ticket) hai, toh woh bhi accept ho jata hai.

​Aur ek zaroori aur faida mand baat jo bohot kam logon ko pata hai: Kuch airlines aisi hoti hain jo choti si fee lekar temporary onward booking ya flight reservation provide kar deti hain, jo boarding ke liye bilkul valid hoti hai. Isse kisi bhi fake ya nakli ticket banwane ke risk lene ki zaroorat hi nahi padti!

Return ticket ke baray mein log yeh 3 ghaltiyan karty hain! ✈️🎫​📍​Airline Check Before Immigration: Airline boarding se ...
03/09/2026

Return ticket ke baray mein log yeh 3 ghaltiyan karty hain! ✈️🎫

📍​Airline Check Before Immigration:
Airline boarding se pehle hi return ticket check kar leti hai, kyunki agar aapko destination country mein entry na mile, toh wapas laane ka kharcha aur heavy fine seedha airline par lagta hai.

📍​Visa-Free Countries ka Rule:
Kisi visa-free country mein jaate waqt bhi return ticket lazmi mangi jati hai. Visa free hone ka yeh hargiz matlab nahi hota ke aap bina kisi wapsi ke plan ke wahan ghus sakte hain.

📍​Onward Ticket Bhi Valid Hai:
Lazmi nahi ke wapsi ka ticket sirf aapke apne mulk ka ho; agar aapke paas kisi teesre country ka bhi aage ka ticket (onward ticket) hai, toh woh bhi accept ho jata hai.

​Aur ek zaroori aur faida mand baat jo bohot kam logon ko pata hai: Kuch airlines aisi hoti hain jo choti si fee lekar temporary onward booking ya flight reservation provide kar deti hain, jo boarding ke liye bilkul valid hoti hai. Isse kisi bhi fake ya nakli ticket banwane ke risk lene ki zaroorat hi nahi padti!

یورپ جانے والے مسافروں کے لیے اہم خبر، ایئرپورٹس پر شدید رش کا خدشہ7 ستمبر سے بائیومیٹرک سرحدی چیکنگ میں عارضی نرمی ختم،...
03/09/2026

یورپ جانے والے مسافروں کے لیے اہم خبر، ایئرپورٹس پر شدید رش کا خدشہ

7 ستمبر سے بائیومیٹرک سرحدی چیکنگ میں عارضی نرمی ختم، پاکستانی مسافروں کو ایئرپورٹ پہنچنے کے لیے اضافی وقت رکھنے کی ہدایت

برسلز/فرینکفرٹ" یورپ کے شینگن ممالک جانے والے پاکستانیوں سمیت غیر یورپی مسافروں کو آئندہ دنوں کے دوران ایئرپورٹس پر طویل قطاروں اور امیگریشن کلیئرنس میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یورپی یونین کے نئے بائیومیٹرک Entry/Exit System (EES) سے متعلق عارضی رعایتوں کی مدت 6 ستمبر کو ختم ہونے کے بعد 7 ستمبر سے سرحدی چیکنگ مزید سختی سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

یورپی یونین نے شدید رش یا تکنیکی خرابی کی صورت میں رکن ممالک کو محدود وقت کے لیے بائیومیٹرک نظام عارضی طور پر روکنے یا اس میں نرمی کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ اس سہولت کا مقصد گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ایئرپورٹس اور دیگر سرحدی مقامات پر غیرمعمولی قطاروں کو کم کرنا تھا۔

اب اس عارضی انتظام کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے۔ جرمنی کی ایوی ایشن انڈسٹری، ایئرلائنز اور ایئرپورٹ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر رعایت میں مزید توسیع نہ کی گئی تو شینگن ایئرپورٹس پر امیگریشن قطاریں طویل ہوسکتی ہیں اور پروازوں کی بروقت روانگی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر مصروف اوقات میں سرحدی چیکنگ کے لیے انتظار کا دورانیہ بعض اوقات 90 منٹ تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایوی ایشن اداروں کا کہنا ہے کہ بائیومیٹرک مشینوں کی محدود تعداد، فنگر پرنٹس کے حصول میں مشکلات اور تکنیکی مسائل مسافروں کی کلیئرنس میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔

EES کے تحت مختصر مدت کے لیے یورپ آنے والے غیر یورپی شہریوں کا پاسپورٹ ڈیٹا، چہرے کی تصویر اور فنگر پرنٹس ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ یہ نظام مسافر کے یورپ میں داخلے اور اخراج کی تاریخ محفوظ کرکے 180 دن کے دوران زیادہ سے زیادہ 90 دن قیام کے قانون کی نگرانی کرتا ہے۔

یہ نظام پاکستانی پاسپورٹ پر مختصر مدتی شینگن ویزے کے ذریعے یورپ آنے والے مسافروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پہلی مرتبہ رجسٹریشن یا بائیومیٹرک ریکارڈ مکمل کرنے والے مسافروں کو معمول سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

البتہ یورپی یونین یا شینگن ملک کا مؤثر رہائشی پرمٹ یا لانگ اسٹے ویزا رکھنے والے افراد عام طور پر مختصر مدتی مسافروں کے لیے بنائے گئے اس نظام کے دائرے میں نہیں آتے۔ 12 سال سے کم عمر بچوں سے فنگر پرنٹس نہیں لیے جاتے، تاہم ان کی تصویر اور سفری معلومات ریکارڈ کی جاسکتی ہیں۔

پاکستانی مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ روانگی اور کنیکٹنگ فلائٹ کے لیے اضافی وقت رکھیں، پاسپورٹ اور ویزا مکمل طور پر چیک کریں اور ایئرلائن کی تازہ ہدایات دیکھنے کے بعد ایئرپورٹ روانہ ہوں۔ یورپ میں کسی دوسرے ملک کے ذریعے داخل ہونے والے مسافر کا ابتدائی بائیومیٹرک اندراج پہلے شینگن سرحدی مقام پر ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ EES پہلے ہی فعال ہے؛ 7 ستمبر کو کوئی بالکل نیا نظام شروع نہیں ہورہا۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ شدید قطاروں کے وقت اس نظام کو عارضی طور پر روکنے یا محدود کرنے کے لیے دی گئی ہنگامی نرمی ختم ہونے والی ہے، بشرطیکہ یورپی یونین اس مدت میں مزید توسیع نہ کرے۔

مسافروں کو سفر سے قبل متعلقہ ایئرپورٹ اور ایئرلائن سے تازہ صورتحال کی تصدیق کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یورپی کمیشن⁠، آج کی جرمن ایوی ایشن رپورٹ⁠

پرتگال میں غیرقانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیاں، 52 ہزار سے زائد غیرملکیوں کی جانچلزبن" پرتگال میں غیرقانونی امیگریش...
03/09/2026

پرتگال میں غیرقانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیاں، 52 ہزار سے زائد غیرملکیوں کی جانچ

لزبن" پرتگال میں غیرقانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں کے دوران پولیس کی National Unit for Foreigners and Borders (UNEF) نے اپنے پہلے سال میں 52 ہزار سے زائد غیرملکی شہریوں کی جانچ کی، جن میں 1,117 افراد کو غیرقانونی یا بے ضابطہ قیام کی حالت میں پایا گیا۔ (CM Jornal⁠)

پرتگالی پولیس PSP کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 21 اگست 2025 سے 31 جولائی 2026 تک ملک بھر میں 5,397 امیگریشن چیکنگ آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران مجموعی طور پر 52,421 غیرملکی شہریوں کو چیک کیا گیا۔

ان کارروائیوں کے نتیجے میں 831 افراد کو رضاکارانہ طور پر پرتگال چھوڑنے کے نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ غیرقانونی قیام کے الزام میں 285 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مزید ایک شخص کو پرتگال میں داخلے پر پابندی کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ (CM Jornal⁠)

221 افراد کی جبری واپسی

UNEF غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کی واپسی کے معاملات بھی دیکھتی ہے۔ پہلے سال کے دوران 221 جبری واپسیوں پر عمل درآمد کیا گیا، جن میں 83 افراد کو پولیس کی نگرانی میں ان کے ملک تک پہنچایا گیا۔

اسی عرصے میں 1,732 افراد رضاکارانہ واپسی کے پروگرام کے تحت اپنے ممالک واپس گئے، جن میں سے 995 واپسی صرف 2026 کے پہلے سات ماہ میں ہوئی۔ (Barlavento⁠)

پولیس نے 720 جبری ملک بدری کے مقدمات بھی شروع کیے، جن میں سے 262 پر فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ لزبن، پورٹو اور فارو کے ہوائی اڈوں سمیت عارضی حراستی مراکز میں 700 سے زائد تیسرے ممالک کے شہریوں کو بھی رکھا گیا۔ (Postal⁠)

یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پرتگال میں امیگریشن، غیرقانونی قیام اور غیرملکیوں کی واپسی کے قوانین پر سیاسی اور قانونی بحث جاری ہے۔ پرتگالی صدر نے رواں ماہ نئے Foreigners and Asylum Law کو پیشگی آئینی جانچ کے لیے Constitutional Court بھیجا تھا۔ (Presidência⁠)

ایتھنز" یونان نے قانونی امیگریشن کے نظام میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے قانون 5275/2026 نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تیسرے ممالک...
03/09/2026

ایتھنز" یونان نے قانونی امیگریشن کے نظام میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے قانون 5275/2026 نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تیسرے ممالک یعنی Non-EU ممالک سے تعلق رکھنے والے غیرملکی شہریوں کے ورک اور ریزیڈنس پرمٹس، ملازمت، تعلیم اور قانونی قیام سے متعلق متعدد قواعد تبدیل کیے گئے ہیں۔ قانون کا بنیادی مقصد قانونی امیگریشن کے طریقہ کار کو آسان اور تیز کرنا اور یونان کی لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنا ہے۔

نئے قانون کی نمایاں سہولت غیرملکی طلبہ اور researchers کے لیے ہے۔ تعلیم یا تحقیق کامیابی سے مکمل کرنے والے اہل تیسرے ممالک کے شہری H.11 ریزیڈنس پرمٹ کے تحت مزید ایک سال یونان میں رہ سکتے ہیں تاکہ ملازمت تلاش کرسکیں یا کاروبار قائم کرسکیں۔

قانون کے تحت یہ افراد اعلیٰ مہارت والی ملازمت، مخصوص نوعیت کی ملازمت یا dependent employment تلاش کرسکتے ہیں۔ متعلقہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں H.11 پرمٹ کو بعد میں مخصوص work یا business residence permit میں تبدیل کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

ورک امیگریشن میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ غیرملکی ورکر کے employment contract کی کم از کم مدت بعض متعلقہ dependent-employment طریقہ کار میں 12 ماہ سے کم کرکے 6 ماہ کردی گئی ہے، جبکہ dependent-employment residence/work permits کی renewal مدت بعض صورتوں میں تین سے بڑھا کر پانچ سال کردی گئی ہے۔

اس کے علاوہ قانون میں Single Permit کا طریقہ کار شامل ہے، جس کا مقصد تیسرے ممالک کے شہریوں کے لیے ایک ہی عمل کے ذریعے یونان میں قانونی رہائش اور ملازمت کی اجازت کے نظام کو زیادہ منظم بنانا ہے۔ یہ تبدیلی EU Directive 2024/1233 کو یونانی قانون میں شامل کرنے کا بھی حصہ ہے۔

یونانی وزارتِ Migration & Asylum کے مطابق اصلاحات میں غیرملکی طلبہ کے residence permits کو ان کی تعلیم کی مدت سے منسلک کرنا، انہیں part-time کام کا حق دینا اور تعلیم مکمل ہونے کے بعد ملازمت کی تلاش کے لیے قیام کی سہولت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

یہ تبدیلیاں پاکستانیوں سمیت یونان میں قانونی طور پر تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے یا مستقبل میں روزگار کے ذریعے رہائش حاصل کرنے کے خواہشمند Non-EU شہریوں کے لیے اہم ہیں، تاہم ہر سہولت کے لیے متعلقہ permit category اور قانونی شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔

ایف آئی اے نے بیرونِ ملک جانے والوں کے لیے بہت بڑی سہولت کا اعلان کر دیامسافر ایئرپورٹ روانگی سے پہلے ویزا، ورک پرمٹ، پر...
03/09/2026

ایف آئی اے نے بیرونِ ملک جانے والوں کے لیے بہت بڑی سہولت کا اعلان کر دیا

مسافر ایئرپورٹ روانگی سے پہلے ویزا، ورک پرمٹ، پروٹیکٹر اور دیگر سفری دستاویزات چیک کراکر آف لوڈنگ اور امیگریشن مشکلات سے بچ سکتے ہیں

اسلام آباد" بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی اہم پری ڈیپارچر فیسلیٹیشن ڈیسک سہولت دستیاب ہے، جس کے ذریعے مسافر ایئرپورٹ پہنچنے سے پہلے اپنے سفری کاغذات کے متعلق رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔

بیرونِ ملک ملازمت، تعلیم، سیاحت، فیملی وزٹ یا عمرے کے لیے جانے والے مسافر اپنے پاسپورٹ، ویزا، ورک پرمٹ، ملازمت کے معاہدے، پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ اور منزل کے ملک کی دیگر ضروری دستاویزات کے بارے میں ایف آئی اے سے پیشگی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

اس سہولت کا مقصد مسافروں کو کاغذات میں ممکنہ کمی یا غلطی سے بروقت آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ روانگی سے پہلے خامیاں دور کرسکیں اور ایئرپورٹ پر پوچھ گچھ، تاخیر یا آف لوڈنگ کے خطرے کو کم کیا جاسکے۔

وزٹ یا سیاحتی ویزے پر سفر کرنے والوں کو واپسی کا ٹکٹ، ہوٹل یا رہائش کی بکنگ، سفری اخراجات کا ثبوت اور سفر کے مقصد سے متعلق ضروری معلومات مکمل رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ورک ویزے پر جانے والے افراد کے لیے ویزا، ملازمت کا معاہدہ، کمپنی کی تفصیلات اور پروٹیکٹر آف امیگرنٹس کی کلیئرنس مکمل ہونا ضروری ہے۔

مسافر ایف آئی اے کے متعلقہ زونل دفاتر میں قائم پری ڈیپارچر فیسلیٹیشن ڈیسک سے بالمشافہ، ٹیلی فون یا ای میل کے ذریعے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ متعلقہ رابطہ معلومات ایف آئی اے کی سرکاری ویب سائٹ، ایئرپورٹس اور سرحدی امیگریشن پوائنٹس پر دستیاب ہیں۔

واضح رہے کہ یہ سہولت جنوری 2026 میں شروع کی گئی تھی اور اب بھی مسافروں کے لیے دستیاب ہے۔ پری ڈیپارچر ڈیسک سے رہنمائی حتمی امیگریشن کلیئرنس کی ضمانت نہیں؛ سفر کی اجازت دستاویزات کی جانچ اور نافذ قوانین کے مطابق ایئرپورٹ پر موجود امیگریشن حکام دیتے ہیں۔

جرمنی میں غیرملکیوں کے لیے بڑی سہولت، ملازمت اور سوشل حقوق پر مفت مشاورتپاکستانیوں سمیت non-EU شہری تنخواہ، کام کے اوقات...
03/09/2026

جرمنی میں غیرملکیوں کے لیے بڑی سہولت، ملازمت اور سوشل حقوق پر مفت مشاورت

پاکستانیوں سمیت non-EU شہری تنخواہ، کام کے اوقات، چھٹی، برطرفی، ہیلتھ انشورنس اور پنشن سے متعلق مفت قانونی رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں

برلن" جرمنی میں مقیم پاکستانیوں سمیت یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے اپنے ملازمت اور سوشل حقوق کو سمجھنے کی اہم سہولت موجود ہے۔ جرمن حکومت کے تعاون سے “Faire Integration” کے تحت non-EU ممالک کے شہری ملازمت سے متعلق لیبر اور سوشل قوانین پر مفت مشاورت اور رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔

یکم جنوری 2026 سے اس مشاورتی نظام کو جرمنی کے Residence Act (Aufenthaltsgesetz) کی دفعہ §45b کے تحت باقاعدہ قانونی بنیاد حاصل ہے۔ اس کا بنیادی مقصد تیسرے ممالک سے آنے والے کارکنوں کو جرمن لیبر مارکیٹ میں اپنے حقوق سے آگاہ کرنا اور انہیں استحصال اور غیرمنصفانہ حالاتِ کار سے محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے۔

پاکستانی شہری بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ پاکستان یورپی یونین کا رکن نہیں اور پاکستانی شہری جرمن قانون کے تحت اس تناظر میں تیسرے ملک یعنی Drittstaat کے شہری شمار ہوتے ہیں۔

Faire Integration کے مراکز میں تنخواہ اور اجرت، کام کے اوقات، اوور ٹائم، سالانہ چھٹی، ملازمت سے برطرفی (Kündigung)، عارضی ملازمت، ہیلتھ انشورنس اور پنشن سمیت ملازمت سے متعلق مختلف لیبر اور سوشل حقوق کے بارے میں رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

یہ سہولت خصوصاً ایسے پاکستانیوں کے لیے اہم ہے جو جرمن زبان پر مکمل عبور نہ ہونے کی وجہ سے اپنے Employment Contract یا جرمن لیبر قوانین کی بعض شرائط نہیں سمجھ پاتے۔ کسی کارکن کو تنخواہ پوری نہ مل رہی ہو، اوور ٹائم کا تنازع ہو، چھٹی کے حق سے متعلق مسئلہ ہو یا اچانک ملازمت ختم کردی گئی ہو تو وہ متعلقہ مشاورتی مرکز سے رابطہ کرسکتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ Faire Integration کی مشاورت مفت ہے اور ضرورت کے مطابق مختلف زبانوں میں مشاورت کی سہولت بھی دستیاب ہوسکتی ہے۔ مشاورتی مراکز جرمنی کی تمام 16 وفاقی ریاستوں (Bundesländer) میں موجود ہیں، اس لیے لوگ اپنے رہائشی یا کام کے علاقے کے قریب مرکز تلاش کرسکتے ہیں۔

قانون کے تحت یہ سہولت صرف پہلے سے جرمنی میں موجود non-EU شہریوں کے لیے نہیں بلکہ ایسے افراد کے لیے بھی معلومات فراہم کرسکتی ہے جو بیرونِ ملک رہتے ہوئے جرمنی میں ملازمت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ جرمنی میں بیرونِ یورپی یونین سے کارکن بھرتی کرنے والے employers پر بھی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ §45c Aufenthaltsgesetz کے تحت متعلقہ حالات میں employer کو نئے کارکن کو Faire Integration کی مشاورتی سہولت کے بارے میں تحریری طور پر آگاہ کرنا اور قریب ترین مشاورتی مرکز کی معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔

اس اقدام کا مقصد غیرملکی کارکنوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کے ساتھ جرمن لیبر مارکیٹ میں استحصال اور انتہائی کم اجرت پر کام کرانے جیسے مسائل کی روک تھام بھی ہے۔

جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ سہولت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ملازمت یا اس سے متعلق سوشل حقوق کے معاملے میں پریشانی کی صورت میں غیرمصدقہ معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے Faire Integration جیسے مستند مشاورتی نظام سے مفت رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

قازقستان اور عمان سے ڈی پورٹ 3 پاکستانیوں کے خلاف مقدمہ، غیرقانونی بیرونِ ملک سفر کی تحقیقاتدو افراد ورک ویزے پر کرغزستا...
01/09/2026

قازقستان اور عمان سے ڈی پورٹ 3 پاکستانیوں کے خلاف مقدمہ، غیرقانونی بیرونِ ملک سفر کی تحقیقات

دو افراد ورک ویزے پر کرغزستان گئے اور مبینہ طور پر غیرقانونی راستے سے قازقستان داخل ہونے کی کوشش کی، تیسرے کو عمان سے ڈی پورٹ کیا گیا؛ FIA اب ایجنٹوں اور سہولت کاروں کی تلاش میں

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) اسلام آباد زون نے قازقستان اور عمان سے ڈی پورٹ ہو کر پاکستان واپس آنے والے تین پاکستانی شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کے بیرونِ ملک سفر اور مبینہ غیرقانونی امیگریشن کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ کارروائی FIA کے Anti-Human Trafficking Circle (AHTC) اسلام آباد نے کی ہے۔

FIA کے مطابق تینوں افراد کی شناخت تحسین اللہ، محمد رمضان اور محمد عدنان کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں ان کے بیرونِ ملک سفر میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں اور حکام کے مطابق تینوں کی پاکستان سے قانونی روانگی کا درست ریکارڈ موجود نہیں ملا۔

تحقیقات کے مطابق تحسین اللہ اور محمد رمضان ورک ویزوں پر کرغزستان گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے مبینہ طور پر غیرقانونی طریقے سے سرحد عبور کرکے قازقستان میں داخل ہونے کی کوشش کی، جہاں حکام نے انہیں پکڑ کر ڈی پورٹ کردیا۔

تیسرے پاکستانی شہری محمد عدنان کو عمان سے ڈی پورٹ کیا گیا۔ FIA کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ اہم نکتہ سامنے آیا کہ تینوں افراد کے پاکستان سے قانونی طور پر روانہ ہونے کا درست ریکارڈ دستیاب نہیں تھا، جس کے بعد ان کے سفر کے طریقہ کار کی مزید چھان بین شروع کردی گئی۔

FIA نے تینوں افراد کے خلاف Passport Act 1974 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ FIA کی اپنی معلومات کے مطابق بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کے معاملات میں حالات کے مطابق Passport Act اور متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے؛ محض overstay کی بنیاد پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا معاملہ مختلف ہوسکتا ہے۔

تحقیقات کا دائرہ اب ان ایجنٹوں اور سہولت کاروں تک بڑھایا جارہا ہے جن پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان افراد کو غیرقانونی ذرائع سے بیرونِ ملک پہنچانے یا سفر میں سہولت فراہم کرنے میں کردار ادا کیا۔ FIA کا کہنا ہے کہ ملوث پائے جانے والے ایجنٹوں اور سہولت کاروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

FIA اسلام آباد زون نے واضح کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ، غیرقانونی امیگریشن اور غیرقانونی ذرائع سے بیرونِ ملک سفر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ FIA امیگریشن کے مطابق ادارہ جعلی یا مشکوک سفری دستاویزات اور غیرقانونی سفر کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی ایئرپورٹس اور سرحدی راستوں پر کام کرتا ہے۔

01/09/2026

Sri Lanka ka visa free hone ke baad bhi log yeh 3 ghaltiyan kar rahe hain! 🇱🇰✈️

📍​ETA Lena Abhi Bhi Lazmi Hai: Visa free hone ka yeh matlab hargiz nahi hai ke aapko kuch nahi karna parega. ETA ki online application abhi bhi zaroori hai, bas farq yeh hai ke ab uski fee zero (free) ho gayi hai.

📍​Official Site & Boarding Check: ETA sirf official website (eta.gov.lk) par milti hai. Airlines flight mein baithne se pehle iska approval check karti hain, isliye bina iske airport se hi wapas bheja ja sakta hai.

📍​Duration aur Entry Rules: Yeh visa free ETA 30 din ke liye hoti hai aur double entry deti hai, yani aap us 30 din ke andar aik baar wapas ja kar dobara bhi aa sakte hain bina kisi nayi application ke.
​Aur ek zaroori baat jo bohot kam logon ko pata hai: Agar aapko 30 din se zyada rukna ho, toh Sri Lanka ke andar se hi visa extension mil jata hai aur isay mazeed kai mahino tak extend karwaya ja sakta hai!

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Beige Travel Trip posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category