13/08/2026
خوددار میرے شہر کا فاقوں سے مر گیا
راشن تو بٹ رہا تھا وہ فوٹو سے ڈر گیا
چڑہتی رہیں مزار پے چادریں تو بے شمار
باہر جو اک فقیر تھا سردی سے مر گیا
روٹی امیر شہر کے کتوں نے چھین لی
فاقہ غریب شہر کے بچوں میں بٹ گیا
چہرہ بتا رہا تھا کہ مارا ہے بھوک نے
حاکم نے کہہ دیا کے کچھ کھا کے مر گیا