Magazine Jamiat Ahl e Hadees

Magazine Jamiat Ahl e Hadees Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Magazine Jamiat Ahl e Hadees, News & Media Website, HEAD OFFICE: Utca E. T Housing Society Lahore, Lahore.

طلاقوں کی بڑھتی ہوئی شرح  اسباب اور حل(تمام  مکاتب ِ فکر کے علماء کرام سے مکالمہ)تحریر: عبدالرحمٰن عزیزپچھلے دنوں ہمارے ...
10/08/2026

طلاقوں کی بڑھتی ہوئی شرح اسباب اور حل
(تمام مکاتب ِ فکر کے علماء کرام سے مکالمہ)
تحریر: عبدالرحمٰن عزیز

پچھلے دنوں ہمارے معاشرے کا ایک بہت ہی سلگتا ہوا مسئلہ میرے سامنے آیا ہے ، جس نے میں مجھےبہت زیادہ دکھ اور پریشانی میں مبتلا کردیا ہے ، تو میں نےسوچا کہ اپنے علمائے کرام کے سامنے یہ مسئلہ رکھوں کیونکہ وہ انبیاء کے وارث ہیں ۔ امت کی قیادت اور سیادت کرنا علماء کی ذمہ داری ہے۔اور اس مسئلہ میں الحمد للہ کسی قسم کا کوئی اختلاف بھی نہیں،بالکل متفق مسئلہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کثرت کے ساتھ خاندانوں میں طلاقیں واقع ہو رہی ہیں ۔ طلاق سے صرف میاں بیوی کے درمیان ہی جدائی نہیں ہوتی بلکہ پورا گھر تباہ ہوتا ہے ، دو خاندانوں میں نفرت اور بغض کی چنگاریاں سلگنے لگتی ہیں اور اس کے اثرات اولادپر بھی پڑتے ہیں ۔ بچوں کی نشوونما ، تعلیم اور تربیت برباد ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہمارےمعاشرے میں اتنی کثرت سے طلاقیں واقع ہو رہی ہیں کہ فیصل آباد کی یونین کونسلوں کے ذریعے ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے اس کے مطابق پچھلے چھ ماہ میں پچیس ہزار طلاقیں ہوئیں ۔ گزشتہ ایک ماہ میں چار ہزار طلاقیں ہوئیں ہیں۔یہ صرف ضلع فیصل آباد کی حالت ہے باقی شہروں اور صوبوں کی کیا حالت ہوگی ؟

ہمیں سوچناچاہیے کہ اس تباہ کن صورتحال کا سبب اور حل کیا ہے ؟میرے خیال کے مطابق اس کی دو وجوہات ہیں :

پہلی وجہ یہ ہے ہمارے ہاں نکاح کے موقع پر تو عالم کو بلایا جا تا ہے اور اس کی موجودگی میں نکاح ہوتا ہے ، لیکن طلاق دیتے وقت بالکل علماء کرام سے رہنمائی نہیں لی جاتی ۔ حالانکہ جس طرح نکاح کا ایک طریقہ ہے اسی طرح طلاق کا بھی ایک خاص طریقہ کار اور مخصوص احکام ہیں ۔اگر طلاق دیتے ہوئے بھی کسی عالمِ دین سے رہنمائی لی جائے تو طلاقوں کی شرح میں بڑی حد تک فرق پڑ سکتا ہے ۔

طلاق اگرچہ فی نفسہ اچھی چیز نہیں ہے ، آپ سب جانتے ہیں کہ شیطان سب سے زیادہ خوش اپنے ان شتونگڑوں سےہوتا ہے جو میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں ۔ جادو گروں کا حملہ بھی سب سےزیادہ اسی پر ہوتا ہے ،﴿ مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ ﴾ [البقرة:102] ’’وہ خاوند اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کراتے ہیں ‘‘۔ ایک حدیث بھی ہے جسے بعض محدثین نے مرسل اور بعض نے موصول کہا ہے:

أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى الله تَعَالَى الطَّلَاقُ.[1]

یعنی طلاق حلال چیز ہے لیکن سب سے زیادہ اللہ کو نا پسند ہے۔

طلاق کے بھی مختلف احکام ہیں ، لہٰذا طلاق کے معاملے میں علماء کرام سے رہنمائی لینی چاہیے ۔

دوسری بڑی وجہ تین طلاقیں اکٹھی دینا ہے ۔ ہمارے عوام الناس خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی فرق نہیں ہے ، ان کی جہالت کا یہ حال ہے کہ سمجھتے ہیں جب تک تین طلاقیں نہیں دیں گے ، عورت سے جان نہیں چھوٹے گی ۔اس لیے جب کسی مرد کے جذبات کو اس کے اہل خانہ کی طرف سے ٹھیس پہنچتی ہےتو وہ فوراً تین طلاقیں دے دیتا ہے ۔

سب علمائے کرام جانتے ہیں کہ طلاق کی بنیادی طور پر دو قسمیں کی ہیں؛ طلاق سُنی اور طلاق بدعی ۔ تمام فقہائے کرام نے بلا اختلاف یہ تقسیم کی ہے ۔

طلاق بدعی کا معنی یہ ہے کہ آدمی ایسے طریقے سے طلاق دے رہا ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کررہا ہے ۔اور طلاق سنی، جو قرآن و سنت کی روشنی میں دی گئی ہو۔

ایک دفعہ میرے پاس ایک بڑے بزرگ تشریف لائے ، جن کی عمران کے بقول 75 سال تھی ،ان کے پوتے اور نواسےبھی تھے ۔ آنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے : میری بیوی سے کچھ ناراضگی ہوئی تو میں نے تینوں طلاقیں دے دیں، میں نے پوچھا آپ نے ایک طلاق کیوں نہیں دی ، کہنے ایک طلاق سے میری جان نہیں چھوٹنی تھی، اس لیے میں نے سوچا کہ تینوں ہی دے دوں۔

ہماری یونین کونسلز اور کچہریوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہاں کوئی شخص طلاق کی غرض سے جاتا ہے تو وہ تین اشٹام پیپرز پر الگ الگ تاریخیں ڈال کر سائن کروا لیتے ہیں اور پھر ہر مہینے ایک ایک پیپر عورت کو بھیجتے رہتے ہیں ، کیونکہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر جان نہیں چھوٹے گی ۔ یہ سب جذبات اور جہالت کے کرشمے ہیں۔ پھر انہیں کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے؟کس طرح گھر تباہ ہوتے اور کس طرح بچے برباد ہوتے ہیں ؟ یہ سب آپ حضرات کے سامنے ہیں۔
اس حوالے سے علمائے کرام کے سامنے دست بستہ دو گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں :

علماء کرام کو چاہیے کہ وہ عوام کو بتائیں کہ آپ کو طلاق دینے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ طریقہ اختیار کریں جو قرآن وسنت سے ثابت ہے ، آپ بدعی طریقہ اختیار کرکے گناہ گار کیوں ہوتے ہیں۔بدعی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ،اکٹھی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں یا ایک ،یہ الگ بحث ہے ۔ اس میں آپ جس موقف کو راجح سمجھتے اس کے مطابق فتویٰ دیں ، لیکن یہ تو انہیں بتائیں کہ تین طلاق اکٹھی دینا بدعت ہے ۔ اور ایک طلاق سے بھی آپ کی جان چھوٹ سکتی ہے، تین طلاقیں دینے کی ضرورت نہیں ۔
طلاق دینے کا مسنون طریقہ جو میں سمجھا ہوں ، یہ ہے کہ طلاق دینے سے پہلے آدمی دیکھے کہ میری بیوی کسی حالت میں ہےاگر وہ حیض میں ہےتو اس حالت میں طلاق دینا بدعی طلاق ہے۔ جمہور کے قول کے مطابق اگر وہ واقع ہو بھی جائے تو بھی وہ گنہگار تو ہو گا، کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کی ہے۔ہم اسے گناہ سے تو بچائیں ۔اگر وہ دیکھتا ہےکہ اس کی بیوی ایام طہارت میں ہے ، تو اس میں شرط ہے: (لم یمسهافیه)کہ اس طہر میں اس نے اپنی بیوی سے جنسی تعلق قائم نہ کیا ہو ۔پھر وہ ایک طلاق دے ۔ یہ سنت طریقہ ہے اور یہ طلاق حسن اور احسن ہے ۔ اگر وہ بیوی کو اس کے حیض کے ایام میں طلاق دیتا ہے یا ایسے طہر میں طلاق دیتا ہے جس میں اس نے بیوی سے تعلق قائم کیا ہے تو یہ طلاق بدعی ہوگی اور وہ گناہ گار ہوگا۔
تیسری شرط یہ ہے کہ طلاق دیتے ہوئے گواہ بنائے ۔ قرآن مجید میں ہے: ﴿ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ﴾ [الطلاق: 2]’’ اور دو عادل لوگوں کو گواہ بناؤ ‘‘۔حدیث میں ہے کہ سیدنا عمران بن حصین﷜ کےپاس ایک آدمی آیا ، اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر میں نے رجوع کر لیا ہے، وہ فرمانے لگے: کیا گواہ بھی بنائے تھے وہ کہنے لگا: نہیں ، توآپ ؓ نے فرمایا : (طلقتَ لغير سنة، وراجعتَ لغير سنة)’’ تو نے طلاق بھی سنت سے ہٹ کر دی اور رجوع بھی خلاف سنت کیا ‘‘۔
علماء کرام کے پاس ایسےکئی لوگ آتے ہیں کہ بیوی کہتی ہے کہ خاوند نے مجھے طلاق دی ہے جبکہ خاوند کہتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی ۔ اب مفتی کےلیے الجھن پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ کیا کرے ۔ چونکہ طلاق خاوند کا حق ہے اور وہ طلاق دینے سے انکاری ہے اور بیوی کے پاس گواہ نہیں ہیں ۔جب مفتی عدم طلاق کا فتویٰ دیتا ہے تو بیوی کہتی کہ جب میں نے پورےہوش و حواس کے ساتھ اپنے کانوں سےطلاق سنی ہے تو میں کیونکر اس کے ساتھ رہوں؟اس لیے طلاق دینے والے کے لیے ان تین شروط کا پورا کرنا ضروری ہے : طلاق طہر میں ہو، دوسری ایسے طہر میں ہو جس میں خاوند بیوی نے جنسی تعلق قائم نہ کیا ہو ، تیسری شرط کہ گواہ بنائے جائیں ۔ یہ آخری شرط اگرچہ سنت کے درجے میں ہےلیکن اس کی عدم موجودگی میں طلاق بدعی ہوگی ۔یہ ایسامسئلہ ہے جس میں اہل سنت کے مکاتب فکر کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔اب اگر مرد عدت کے اندر رجوع نہیں کرتا تو عورت اس کی زوجیت سے نکل جائے گی ، یہ بھی آزاد اور وہ بھی آزاد ، وہ جہاں چاہیں شادی کر لیں ۔

سنت طریقے کے مطابق طلاق دینے سے خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی بھی ہوجاتی ہے اور اگر وہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر دوبارہ ملنا چاہیں تو نیا نکاح کرسکتے ہیں ۔ اس میں بھی کسی مکتب فکرکا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن ہمارے عوام الناس غصے اور جلد بازی میں تینوں طلاقیں دیتے ہیں ، یہ سمجھ کر کہ تین کے بغیر میری جان نہیں چھوٹے گی ، اس کی وجہ سے بہت سارے مفاسد پیدا ہورہے ہیں ۔ خواہ ایک ہی دفعہ دے یا مہینے مہینے کے بعد دے، ایک ہی حکم ہے ۔

میری گزارش یہ ہے کہ آپ علماء کرام انبیاء ﷩کے وارث ہیں ہمیں اپنے خطبوں میں، دروس یا شارٹ کورس میں سب سے پہلے تو لوگوں کو یہ بتانا چاہیے کہ گھر میں سکون اور راحت پیدا کرنے کے طریقے کیا ہیں؟ طلاق سے بچنے کے راستےکیا ہیں؟ اور اگر طلاق دینا ضروری ہوجائے تو ایک ہی طلاق دیں ۔ اس لیے کہ یہی سنت طریقہ ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ایک طلاق دینے سے عدت کے اندر اندر رجوع اور عدت کے بعد نئے نکاح کا راستہ کھلا رہتا ہے ۔ مہینوں بلکہ سالوں بعد بھی اگر یہ میاں بیوی آپس میں دوبارہ ملنا چاہیں تونئے نکاح کے ساتھ وہ دوبارہ میاں بیوی بن سکتے ہیں، گھر آباد کرسکتے ہیں ، اپنے بچوں کو سنبھال سکتے ہیں۔

علماء کرام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سائنوں کے ساتھ یہ مسئلہ لکھ کر کونسلوں اور کچہریوں کو بھیجیں۔ اس مسئلہ میں وکیل بھی اہم کردار ادا رکرتے ہیں ، لہٰذا علماء کرام کو چاہیے کہا وہ اپنے اپنے علاقوں کے وکیلوں کے مجلس کریں اور انہیں سمجھائیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی طلاق کا قضیہ لے کر آتا ہے تواسے تین طلاقوں کا مشورہ نہ دیں بلکہ ایک طلاق کا مشورہ دیں جو سنت سےثابت ہے۔ ہمیں یہ تحریک چلانی چاہیے، حکومت کے ذمہ داران سے بھی بات کریں تاکہ یہ ایک قانونی راستہ بن جائے ۔ہم کوشش کریں کہ جذباتی طلاقوں کےفتنے کو کم کریں تاکہ گھر برباد ہونے سے بچ جائیں ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین

[1] سنن أبی داود :2178، سنن ابن ماجہ :2018

پاکستان اِک سائبان…تحریر: مولانا امیر حمزہ صاحباللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑی نعمت قیادت کی نعمت ہے۔ اللہ تعا...
08/08/2026

پاکستان اِک سائبان…
تحریر: مولانا امیر حمزہ صاحب

اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑی نعمت قیادت کی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت برصغیر کے مسلمانوں کو قائداعظم کی صورت میں عطا فرمائی۔ علامہ اقبال کی درخواست پر جناب محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی تو1929ء میں اہلِ اسلام کے الگ وطن کیلئے 14نکات برطانوی راج کے سامنے پیش کیے۔ برطانیہ اس وقت دنیا کی سپر پاور تھی۔ ان نکات کو منوانے کیلئے قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کو منظم کیا اور ان کی قیادت کی۔ ان کی یکجہتی اور اتحاد کو 'بنیانٌ مرصوص‘ بنایا اور صبرو استقلال کے ساتھ متواتر 18سالہ جدوجہد سے پاکستان حاصل کیا۔ کیسی باکمال قیادت تھی قائداعظم کی کہ ان اٹھارہ سالوں میں‘ پہلے تین سال چھوڑ کر فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو بھی اپنے مطالبات میں شامل کر لیا۔ یوں پندرہ سال متواتر فلسطین کیلئے جدوجہد بھی حضرت قائداعظم کی قیادت کا کمال و جمال ہے۔ اس کے بعد آج تک چھوٹی موٹی غلطیوں سے قطع نظر‘ پاک وطن کی قیادت مجموعی طور پر قائداعظم کے نقش قدم پر چلتی آ رہی ہے۔ اس کی تازہ مثال حالیہ خلیجی جنگ ہے۔ پاک وطن کی قیادت نے بھرپور کردار ادا کیا‘ عرب قیادت نے پاکستان کی گزارش کو قبولیت دی اور جنگ کے قریب نہ گئے۔ پاک وطن نے ایران اور امریکہ کے درمیان چودہ نکات کی یادداشت تیار کرائی۔ یہ دراصل حضرت قائداعظم کی بصیرت کو خراجِ تحسین تھا کہ اگر امریکہ سمیت تمام فریق ان چودہ نکات پر چلتے رہے‘ تھوڑی بہت کمی بیشی کو برداشت کرتے رہے تو امن کی شاہراہ پر چل پڑیں گے۔ الحمدللہ! امن کی یہ شاہراہ آج بھی اسلام آباد تک رواں دواں ہے۔ یاد رہے! ایران کا اعلیٰ سطحی وفد جب اسلام آباد آیا تھا تو وزیراعظم شہبازشریف نے اپنی چھتری کا سایہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے سر پر کیا تو پیہم عزم یہی تھا کہ چودہ نکات کی لاج خطے کو امن کی خلعت پہنا دے۔ ''سایۂ خدائے ذوالجلال‘‘ ہمارے قومی ترانے کا آخری جملہ ہے۔ پاک وطن اس سائے کی آخری حد تک پاسبانی کرے گا‘ ان شاء اللہ!
1946ء میں سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود حکمران تھے اور شاہ فیصل مرحوم سعودی عرب کے وزیر خارجہ تھے۔ قائداعظم کی ہدایت پر ایم اے اصفہانی کی قیادت میں مسلم لیگ کا وفد امریکہ کے دورے پر گیا۔ ایم اے اصفہانی کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا موقع نہ ملا تو شاہ فیصل نے نیویارک کے روز ویلٹ ہوٹل میں دنیا بھر کے نمائندوں کو عشائیہ دیا۔ تب ایم اے اصفہانی نے وہاں پاکستان کے وجود کا مقدمہ پیش کیا۔ پاکستان کیلئے یہ بین الاقوامی موقع سعودی عرب نے بنایا اور شاہ فیصل نے قیام پاکستان کی جدوجہد کا سائبان قائداعظم کے وفد کے سر پر پھیلا دیا۔ آج پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سرزمین حرمین کا پاسبان بن کر کھڑا ہے۔ وہ خلیج فارس اور بحر احمر کے خطے کے مسلمانوں کی باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ اگر مسلمان( اللہ نہ کرے) آپس میں لڑ پڑے تو گریٹر اسرائیل کا خواب بیداری کی سرزمین پر سفر شروع کر دے گا۔ پاک وطن اسرائیلی توسیع کے مذموم منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ میں بے ساختہ کہوں گا: اے میرے پاک وطن!تجھ پر سایہ خدائے ذوالجلال سدا رہے اور یہ سایہ خلیجی دنیا کو امن اور اتحاد کا سائبان فراہم کرتا رہے‘ آمین!
غزوۂ احزاب ایسا غزوہ ہے کہ اللہ کے آخری رسول حضور کریمﷺ کی اس میں حکمتِ عملی دنیا بھر کے حکمرانوں کیلئے بہترین نمونہ ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے اپنے راز دار اور معتمد خاص حضرت حذیفہ بن یمانؓ کو حکم دیا کہ مکہ سے آئے لشکر کی خبر لے کر آئیں کہ وہ کس حال میں ہیں؟ ساتھ ہی نصیحت فرمائی کہ انہیں میرے خلاف بھڑکا نہ دینا‘ یعنی کوئی ایسا کام نہ کرنا کہ وہ بھاگتے ہوئے مشتعل ہو جائیں اور ہم پر چڑھائی کر دیں۔ وہ دس ہزار کا لشکر 25 روزہ ناکام محاصرے کے بعد ایک نئی مصیبت کا شکار ہو چکا تھا۔ چنانچہ حضرت حذیفہؓ اہلِ مکہ کے لشکر میں گئے۔ لشکری شدید سرد طوفان سے گھبرا کر بھاگ رہے تھے۔ لشکر کے سالار ابوسفیان تھے۔ گھبراہٹ میں وہ اپنے اونٹ کے گھٹنے کی رسی بھی نہ کھول سکے۔ حضرت حذیفہؓ بتاتے ہیں کہ جب ابوسفیان رسی کھولنے لگا تو اس کی کمر میری جانب تھی‘ میں نے تیر کمان میں رکھا اور چلانے ہی لگا تھا کہ حضورﷺ کی نصیحت یاد آ گئی؛ چنانچہ میں رک گیا اور تیر اپنے ترکش میں ڈال لیا۔ پس ثابت ہوا کہ بھاگتے دشمن کو راستہ دینا چاہیے جبکہ وہ طاقتور بھی ہو۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے جنوبی اور شمالی‘ دونوں براعظموں کے ممالک نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ نے بھی ساتھ نہیں دیا۔ ثابت ہوا کہ انسانیت جارحیت نہیں‘ امن چاہتی ہے۔ پاک وطن کی خوبی رہ رہ کر یاد آتی ہے کہ وہ اپنی برتری کے مواقع پر راستے دینے کا کام کرتا چلا آ رہا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ بنیانٌ مرصوص والوں نے شکست دی تو انڈیا بھاگ کھڑا ہوا۔ پاکستان نے اسے بھاگنے دیا۔ ہمارے شاہین چاہتے تو ستر طیارے گرا سکتے تھے مگر سات کے قریب گرا لیے تو اسی پر اکتفا کر لیا کہ انڈیا بھی ایک ایٹمی پاور ہے‘ اسے راستہ دے دو۔
پاکستان اپنی ملٹری قوت کے ساتھ خلیج میں پہلے ہی موجود ہے۔ وہ پاسبانِ حرمین شریفین ہے۔ یہ موجودگی امن کا سائبان ہے۔ چند دن قبل 43 ملکوں کے وفود ریاض میں اکٹھے ہوئے۔ یہ عزم کیا گیا کہ بحر احمر کا آبی راستہ کھلا رہے۔ پاک وطن اس اجتماع میں مصالحت کار ہونے کی حیثیت سے خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ دنیا بھر کے اہلِ اسلام کی خواہش اور امید ہے کہ پاکستان اسی قسم کا اجتماع خلیج فارس کے دونوں کناروں پر آباد ممالک کا بھی کرائے کہ جس کے ایک جانب ایران ہے اور دوسری جانب سعودی عرب‘ عراق‘ کویت‘ بحرین‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات اور عمان۔ اس کے بعد ان سب کا باہم معاہدہ ہو جائے۔ بحر احمر اور خلیج والے پاک وطن کے سائبان تلے باہم مل جائیں۔ یمن کے سب دھڑے بھی اس کی چھائوں تلے آ جائیں۔ اس کے بعد یہی سائبان جنوبی لبنان اور غزہ پر توجہ مبذول کر لے تو مشرقِ وسطیٰ امن کا علمبردار خطہ بن جائے گا‘ ان شاء اللہ تعالیٰ! پاکستان یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ سارے مبارک کام کر کے امریکہ کو بھی فیس سیونگ دینے کا بندوبست کر لے۔ پاک وطن کی تاریخ ایسے تجربات اور حوصلوں سے بھری پڑی ہے۔ سوویت روس جب افغانستان میں آیا تو چند سالوں میں اس کے تین صدور برزنیف‘ آندروپوف اور چرننکو فوت ہو گئے۔ صدر ضیاء الحق مرحوم سب کی آخری رسومات میں شامل ہوتے رہے‘ حالانکہ وہ ان کی جارحیت کے خلاف لڑنے والوں میں شامل تھے۔روسی فوج کے انخلا کا وقت آیا تو اس انداز سے سرخ آرمی کو رخصت کیا گیا کہ حیرتان کے راستے ترمذ (ازبکستان) جاتی اس فوج پر ایک بھی حملہ نہ ہوا۔
امریکہ نے 20 سال افغان میں لڑتے ہوئے گزارے۔ پاکستان نے دوحہ مذاکرات میں بھرپور کردار ادا کیا؛ چنانچہ معاہدہ طے پا گیا۔ جب امریکی فوج یہاں سے نکلی تو امن کے ساتھ ان کے انخلا کو یقینی بنایا گیا۔ ساتھ ساتھ وہ لوگ جو امریکی فوج کے ساتھ تعاون کر رہے تھے‘ انہیں پاکستان میں ٹھہرایا گیا۔ فتح مکہ کا سبق کابل کے نئے حکمرانوں کو یاد کرایا گیا۔ ایران اور پاکستان باہم پڑوسی ہیں۔ پاکستان اپنے آس پڑوس میں جنگ نہیں چاہتا۔ میرے پاک وطن کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اس کا پُرامن سائبان سب کیلئے میسر بھی ہے اور آسان بھی ہے۔ یہ سائبان اپنے سائے کو وسیع کرتا چلا گیا تو پُرامن انسانیت پکار اٹھے گی کہ امن کا سب سے بڑا عالمی انعام‘ جس کا نام 'نوبیل‘ ہے وہ پاکستان کے ماتھے کا جھومر بننا چاہیے۔ اس کیلئے ہم سب کو اپنے پاک وطن کے استحکام کیلئے 'بنیانٌ مرصوص‘ بننا ہوگا‘ تب ہم کہہ سکیں گے: پاکستان پر سایۂ خدائے ذوالجلال کیوں نہ ہو کہ اس کی اساس '' لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ ہے۔

کائنات پر غور و فکرتحریر محمد عمران صدیقیاِسلامی علمیت کابنیادی ماخذ وحی الٰہی یعنی قرآن و حدیث ہے اور 'جاہلیت ِجدیدہ' ی...
07/08/2026

کائنات پر غور و فکر
تحریر محمد عمران صدیقی

اِسلامی علمیت کابنیادی ماخذ وحی الٰہی یعنی قرآن و حدیث ہے اور 'جاہلیت ِجدیدہ' یعنی تہذیب ِ مغرب کی علمیت کا ماخذ 'وحی بیزار عقل' اور 'مذہب دشمن جذبات' ہیں۔ اس 'وحی بیزار عقل' اور ' مذہب دشمن جذبات 'نے جس علمیت کو جنم دیا، وہ 'جدید سائنس' (نیچرل وسوشل) کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ ماخذ ِ علم کے اس بنیادی اور اساسی اختلاف کے باوجود بہت سے لوگوں نے بعض جزوی مشابہتوں کی بنا پر،جن کا کسی بھی علمیت ، چاہے وہ کافرانہ و مشرکانہ ہو یا اسلامی اور موحدانہ، میں پایا جانا ممکن ہوتا ہے بعض بڑے بڑے نتائج اخذ کئے ہیں۔ اسلام میں بعض معاملات کو مشورہ کے ذریعے طے کرنے کی اجازت کو 'اسلامی جمہوریت ' بنا دینا اور صرف سود کی بعض شکلوں سے بچتے بچاتے بینکاری کے مروّجہ نظام کو 'اسلامی بینکاری' قرار دینا اس کی مثالیں ہیں۔

'کائنات پر غور وفکر' یقینا قرآن کا ایک اہم موضوع ہے اور جدید سائنس تو اسی مقصد کے لئے وجود میں آئی ہے۔ عنوان کی اس مشابہت سے بہت سے مسلمان سائنس کے اس قدر دلدادہ ہوئے کہ یہاں تک کہنے لگے کہ سائنس تو قرآن سے نکلا ہوا علم ہے اور اہل یورپ نے تو سائنس سیکھی ہی مسلمانوں سے ہے، جب وہ اَندلس کی درس گاہوں میں پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ پھر مسلمانوں میں سائنسدانوں کے نام گنوائے جانے لگے، اسلام اور سائنس کے عنوان سے کتابیں لکھی جانے لگیں جن میں مشترکہ علمیت کو اُجاگر کیا جاتا بعض تو یہاں تک بڑھے کہ اسلامی سائنس کی بنیادیں رکھنے لگے اور کئی ایک اس سے بھی آگے سائنس کو اسلام اور اسلام کو سائنس تک ثابت کرنے سے نہ ہچکچائے ... غلام قومیں شاید اپنے آقائوں کے سامنے اسی طرح بچھتی رہی ہوں گی۔ اس سارے فسانے میں اس بات پر غور کرنے کا ہمیں موقع ہی نہ ملا کہ جو سائنس یورپ نے قرآن سے اَخذ کر لی ہے، وہ قرآن پر ایمان رکھنے والے اور قرآن کے ایک ایک لفظ کو مقدس کلام اللہ ماننے والے مسلمان خود قرآن سے کیوں اَخذ نہ کر سکے؟ صحابہ کرامؓ ،تابعین عظام اور اتباعِ تابعین، اسلام کی پہلی تین فضیلت یافتہ نسلیں، ائمہ کرام، فقہاے عظام اور محدثین ... قرآنِ مجید کی تفسیریں کرتے ہوئے ان آیات کی کیا تشریحات پیش کرتے رہے۔ جدید سائنس کی ایجاد سے پہلے کسی تفسیر اور تشریح میں یہ موضوعات تو کبھی اس طرح زیر بحث نہ آسکے!

یقینا کائنات پر غور وفکر، قرآن مجید کا ایک بڑا موضوع ہے بلکہ شاید بڑا موضوع ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر نظرانداز کردیا گیاموضوع بھی!

سب سے پہلے!

قرآن جستہ جستہ ہمیں تخلیق کی تفصیل پیش کرتا ہے۔ تخلیق سے قبل جب کچھ نہ تھا، تو اللہ جل جلالہ تھا۔تخلیق کی ابتدا کس چیز سے ہوئی؟ آسمان وزمین کس طرح وجود میں آئے؟ زمین کو کس طرح بچھایا اور بسایا گیا؟ آسمانِ دنیا کو کیونکر رونق بخشی گئی؟ آدم ؑ کی پیدائش کس طرح ہوئی؟ اور جب یہ سب کچھ وجود نہ رکھتا تھا تو بھی خالقِ کائنات، مالک ِارض وسماوات، الحی القیوم اللہ عزوجل اپنی ازلی وابدی ذات و صفاتِ کمال کے ساتھ موجود تھا۔ارشادِ باری ہے:

{هُوَ الْاَوَّلُ }(الحدید :۳) ''وہی پہلے ہے۔ ''

نبی 1 نے فرمایا:

اللَّهمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَيْء (صحیح مسلم:۲۷۱۳)

''الٰہی! توہی سب سے پہلے ہے، تیرے سے پہلے کوئی نہیں۔''

صحیح بخاری کتاب التوحید میں ہے۔ نبیؐ نے فرمایا:

کَانَ اﷲُ وَلَمْ یَکُنْ شَيْء قَبْلَهُ وَکَانَ عَرْشُه عَلَی الْمَاءِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَکَتَبَ فِي الذِّکْرِ کُلَّ شَيْء (رقم الحدیث:۷۴۱۸)

''اللہ تھا اور کوئی چیز نہیں تھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔پھر اس نے آسمان اور زمین کو پیداکیا اور لوحِ محفوظ میں ہر چیز لکھ دی۔''

ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:

{قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}(العنکبوت: ۲۰)

''کہہ دیجیے ! زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداے پیدائش کی ۔

پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ''

جامع ترمذی اورمسند احمد کی حدیث میں ہے۔ نبی1 نے فرمایا:

إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّہُ الْقَلَمُ ،ثُمَّ قَالَ اُکْتُبْ۔فَجَرَی بِمَا هُوَ کَائِنٌ إِلَی الاَبدِ(سنن ترمذی:۳۳۱۹)

''بلا شبہ سب سے پہلی چیز جسے اللہ رب العزت پیدا کیا، قلم ہے پھر اللہ تعالیٰ نے کہا:لکھ ،تو اس نے لکھ ڈالا وہ سب کچھ جو ابد تک ہونے والا ہے۔ ''

آسمان و زمین کی پیدائش

قرآن میں ہے:

{أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} (الاعراف: ۱۸۵)

''اور کیا لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوںاور زمین کے عالم میں۔ ''

دوسری جگہ ہے:

{أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ}(الانبیائ:۳۰)

''کیا کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا ،کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔ ''

اُم المؤمنین حضر ت عائشہ ؓ سے روایت ہے:

قال رسول اﷲ:0خُلِقَتِ الْمَلاَئِکَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُم(صحیح مسلم )

رسول اللہ 1نے فرمایا:فرشتے نور سے بنائے گئے اور جن آگ کی لو سے اور حضرت آدم ؑکو اس سے جو قرآن میں بیان ہوا یعنی مٹی سے ۔''

{أَأَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا (27) رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا (28) وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا (29) وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا (30) أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا (31) وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا (32) مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ }(النازعات:۲۷۔۳۳)

''کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا ؟اللہ نے اسے بنایا ۔اسکی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا ۔ اسکی رات کو تاریک کیا اور اسکے دن کو نکالا۔اور اس کے بعد زمین کو (ہموار ) بچھادیا ۔اس میں سے پانی اور چارہ نکالا ۔اور پہاڑو ں کو (مضبوط ) گاڑدیا۔یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے (ہیں )۔''

تاریکیوں اور روشنی کی تخلیق:

{الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ} (الانعام:۱)

''تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور نور کوبنایاپھر بھی کافر لوگ (غیر اللہ کو )اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ ''

تخلیق چھ یوم میں

{وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ}(ھود: ۷)

''اللہ ہی وہ ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیداکیا اور اسکا عرش پانی پر تھاتاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے اگر آپ ان سے کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد اٹھاکھڑے کیے جائو گے تو کافر لوگ پلٹ کر جواب دیں گے کہ یہ تو نرا صاف صاف جادو ہی ہے ۔''

چھ اَیام کی تفصیل

{قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (9) وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ (10) ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ } (فصلت:۹تا۱۱)

''آپ کہہ دیجیے !کہ کیا تم اس (اللہ )کا انکا کرتے ہواور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کردی 'سارے جہانوں کا پروردگاروہی ہے ۔اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیئے اور اس میں برکت رکھ دی اور اس میں (رہنے والوں کی) غذائوں کی تجویز بھی اسی میں کر دی (صرف ) چار دن میں 'ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور۔پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں سا تھا پس اسے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آئو یاناخوشی سے ۔دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں ۔''

اسی طرح ایک حدیث ِمبارکہ میں نبی 1نے تخلیق کے متعلق مزید تفصیل ذکر فرمائی ہے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ: «خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فِي آخِرِ الْخَلْقِ، فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ»(صحیح مسلم: ۲۷۸۹)

''ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ1 نے میرا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا اللہ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا (یعنی زمین کو )اور اتوار کے دن ا س میں پہاڑوں کو پیدا کیا اور پیر کے روزدرختوں کو پیدا کیا اور کا م کاج کی اشیاء (جیسے لوہاوغیرہ )منگل کو پیداکیں ،نور کو بدھ کے دن پیدا کیا ،جمعرات کے دن زمین میں جانور پھیلائے اور حضرت آدم کو جمعہ کے دن عصر کے بعد بنایا سب سے آخر ی ساعت میں جمعہ کی عصر سے لیکر رات تک آدم پیدا ہوئے۔ ''

انسان کی پیدائش

{خَلَقَ الْإِنسَانَ}(الرحمن: ۳)

''اللہ رحمن نے انسان کو پیداکیا ۔''

{خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ (14) وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ}

''اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی۔اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیداکیا ۔''(الرحمن :۱۴،۱۵)

قرآن وحدیث سے تخلیقِ ارض و سماوات اور تخلیقِ آدمؑ کی یہ مختصر روداد آپ نے پڑھی ہے۔قرآنِ مجید کائنات کی تخلیق کا مختصر حال سناتا ہے، لیکن پھر بہت سی آیات ِمبارکہ میں تخلیقِ ارض وسماوات اور تخلیق آدم و انسان پر مسلسل غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔ بار بار انسانی عقلوں کو زمین وآسمان، سورج،چانداور ستاروں،پہاڑو سمندر، شجر وحجراور حیوانات وانسان کی حیرت انگیز تخلیق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ قرآنِ مجید کی آیات کا تتبّع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عقلِ انسانی کو تخلیق اَرض وسماوات کی طرف غور وفکر کی دعوت دینے کے دو بنیادی مقاصد ہیں:

a مخلوق اور محتاج کائنات کے وجود سے خالق و مالک اور ربِ عظیم کے وجود، ذات وصفات اور عظمت وشان کی طرف انسانیت کو متوجہ ونشاندہی کرے۔

b دوسرا بنیادی مقصد تخلیقِ اوّل سے تخلیقِ ثانی کا اثبات یعنی انبیا کی دعوت کا دوسرا اساسی مقصدبعثت بعد الموت اور آخرت کا اثبات ہے۔

آئیے!قرآنِ مجید کی بعض آیات پڑھتے ہیں:

A وہ آیات جو مخلوق پر غور وفکر سے خالق کے وجود اور عظمت پر دلالت کرتی ہیں:

{نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ (57) أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ (58) أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} (الواقعہ:۵۷۔۵۹)

''ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے۔اچھاپھر یہ بتلائوکہ جو منی تم ٹپکاتے ہو۔ کیا اس کا (انسان)تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں۔ ''

{أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (63) أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ (64) لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ} (الواقعہ:۶۳۔۶۵)

''اچھاپھریہ بھی بتلائو کہ تم جو کچھ بوتے ہو،اسے تم ہی اُگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیں۔ اگر ہم چاہیںتو اسے ریزہ ریزہ کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے رہ جائو۔''

{أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ (68) أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ (69) لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ }(الواقعہ: ۶۸۔۷۰)

''اچھا یہ بتائو کہ جس پانی کو تم پیتے ہو، اسے بادلوں سے بھی تم ہی اُتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کر دیں۔ پھر تم ہماری شکر گزاری کیوں نہیں کرتے؟''

{أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ (71) أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ}

''کبھی تم نے خیال کیا کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟''(الواقعہ:۷۱،۷۲)

{وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} (النور:۴۵)

''تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہے ان میںسے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں بعض دوپائو ں پر چلتے اوربعض چار پائو ں پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ''

{أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ (27) وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ} (الفاطر:۲۷،۲۸)

''کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اُتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگوں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں: سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اوربہت گہرے سیاہ اور اسی طرح آدمیوں اور جانورو ں اور چوپایوںمیں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں،اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے والا ہے ۔''

{وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ}(الروم:۲۲)

''اس( کی قدرت )کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی ) ہے۔ دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں ۔''

{يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ} (الحج :۷۳)

''لوگو!ایک مثال بیان کی جارہی ہے 'ذرا کا ن لگا کر سن لو !اللہ کے سوا جن جن کو تم پکا رتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی تو پیدا نہیں کر سکتے 'گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جا ئیں بلکہ اگر مکھی ان سے کو ئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے ' بڑا بودا ہے طلب کرنے والا اور بڑا بودا ہے وہ جس سے طلب کیا جارہا ہے۔ ''

B ایسی آیات جو تخلیق اوّل پر غور وفکر سے تخلیق ثانی پر دلالت کرتی ہیں:

{وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ } (الروم:۲۷)

''وہی تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔''

{قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} (العنکبوت: ۲۰)

''ان سے کہو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے،پھر اللہ ہی دوسری نئی زندگی بخشے گا، یقینا اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔''

{يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ}(الحج:۵)

''اے لوگو! اگر تمہیں زندگی اور موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی، یہ بھی ہم اس لئے بتا رہے ہیں کہ تم پر حقیقت وا کریں۔''

{وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ (78) قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ} (یٰس:۷۸،۷۹)

''اور انسان ہمیں مثالیں سناتاہے اور اپنی پیدائش کو بھول بیٹھاہے ۔کہتا ہے کہ ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں گی؟'' اس سے کہو ''انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پیدا کیا تھا۔''

کائنات پر غور وفکر؛ اسلامی اورالحادی مقاصد میں فرق

بدقسمتی سے ہمارے ہاں زندگی کے باقی شعبوں کی طرح 'علمیت' بھی 'جاہلیت ِجدیدہ' سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ کئی لوگوں نے قرآنِ مجید میں 'علم' کی اہمیت وفضیلت کی آیات کو نیچرل سائنس اور سوشل سائنس پر منطبق کردیا اور بہت سے لوگ خاص اس موضوع یعنی 'قرآن مجید میں تخلیق ِارض و سماوات پر غور وفکر' کو جدید سائنس کا ہم مقصد سمجھنے لگے کہ جدید سائنس بھی کائنات پر غور وفکر اور تدبر کے دروازے کھولتی ہیں۔ عنوان تو بے شک یہ 'ایک جیسا' یا 'ملتا جلتا' ہی ہے، لیکن حقیقت میں یہاں کتنا بڑا اختلاف اور تضاد موجود ہے۔ اس کے لیے ایک مثال پر غور کیجئے:

ایک عیسائی اور مسلمان دونوں حضرت عیسیٰ  کو ماننے اورایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن دونوں ہی ایک دوسرے کے ایمان کو معتبر نہیں جانتے کیونکہ ایک ہی عنوان یعنی 'عیسیٰ پر ایمان رکھنا'کے باوجود 'ایمان' کا مطلب بھی مختلف ہے اور مقصد بھی۔ عیسائیوں کے ہاں عیسیٰ پر ایمان لانے کا مطلب اُنہیں اللہ کا بیٹا ماننا یا تثلیث کا عقیدہ رکھنا ہے جبکہ مسلمان اس عقیدہ کے حامل کو 'مؤمن' کی بجائے 'کافر' اور موحد کی بجائے مشرک سمجھتے ہیں اور عیسیٰ  پر ایمان لانے کا مطلب مسلمانوں کے ہاں، اُنہیں اللہ کا بندہ اور رسول ماننا ہے اور ان کی طرف سے دی جانیوالی آخری رسول محمد1 کی بعثت کی خوشخبری پر یقین رکھنا ہے۔

اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنِ مجید اور جدید سائنس کے 'کائنات پر غور وفکر' کے مشترکہ عنوان کو سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآنِ مجید ارض و سماوات پر غور وفکر کی طرف اس مقصد کے لئے عقلوں اور اَذہان کو متوجہ کرتا ہے تاکہ اَوّلاً 'مخلوق' پر تدبر سے خالق پر ایمان ویقین پیدا ہو اور اگر موجود ہے تو مضبوط و مستحکم ہواورثانیاً تخلیقِ اول سے تخلیق ثانی پر اعتماد پیدا ہو اور آخرت کا وقوع اور بعث بعد الموت کی حقیقت کو سمجھنا قریب الفہم اور آسان ہو جائے۔

جب کہ سائنس دانوں کا عالم یہ ہے کہ وہ بالعموم 'کائنات' پر غور وفکر کرتے ہوئے 'مخلوق' (Creature)کا لفظ تک استعمال کرنے سے گریزاں رہتے ہیں،کیونکہ اس لفظ ہی سے کسی خالق کا تصور ذہن میں زندہ ہوتا ہے اور پھر خالقِ کائنات کی معرفت و پہچان کی چاہت دِلوں میں پیدا ہوتی ہے۔ عام طور پر سائنس کی کتابوں میں Creatureکی بجائے Nature کا لفظ استعمال کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا تو یہ کائنات قدیم ہے، اَزلی وابدی ہے اور الگ سے اس کا کوئی خالق ہے ہی نہیں یا پھر سائنس دانوں کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی خالق تھا بھی، تو یا تو (نعوذ باﷲ) وہ باقی نہیں رہا اور اگرموجود بھی ہے تو وہ کائنات کے نظم ونسق سے لاتعلق ہے اور اَب یہ کائنات اپنے ہی زور پر چلے جا رہی ہے۔

اسی طرح سائنس میں کائنات پر غور وفکر کا مقصد آخرت کی یاد کو تازہ کرنا اور پھر جہنم سے نجات اور جنت کی چاہت پیدا کرنے کے لئے نہیں بلکہ کائنات پر انسانی قبضہ و کنٹرول کو ممکن بنانے کے لئے ہوتا ہے۔ تسخیر کائنات اور پھر تصرف فی الارض اور تمتع فی الارض کو زیادہ سے زیادہ ممکن بنانا اور اسی کو بطورِ انسانی مقصد ِحیات کے قبول کرنا ہے۔ یوں قرآنی انداز ِتدبر اگر انسان کو مخلوق کی محتاجی اور خالق کی 'صمدیت' پر ایمان میں مدد دیتا ہے اور تخلیق اوّل سے تخلیق ثانی کا ثبوت دیکر آخرت کی فکر کو تازہ رکھتا ہے تو سائنسی انداز ِغور وفکر ایمان باللہ اورآخرت کی یاد سے غافل کرکے دنیا پر انسانی حاکمیّت اور اسے مادہ پرستی میں مست کر دیتا ہے۔

کائنات پر غور وفکر میں قرآن کا منہج یعنی غور وفکر سے خالقِ کائنات کے وجود اور عظمت کی نشاندہی اور بعث بعد الموت کی تذکیر جو کہ تمام انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے دو بنیادی مقاصد رہے ہیں، جدید سائنس کے منہج غور وفکر سے بالکل مختلف نتائج کا حامل ہے اسی لیے دونوں علمیتوں کے ہاں اپنے اپنے منہاج کی اہمیت اس قدر زیادہ اور لازمی ہے کہ اگر منہاج تبدیل ہو تو نتائج بھی مختلف بلکہ متضاد حاصل ہوتے ہیں۔ اس لئے اسلام اور سائنس دونوں اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہونے پر اپنے ماننے والوں کے غور وفکر کو فضول، بے فائدہ، وقت، دولت اور صلاحیت کا ضیاع سمجھیں گے۔

جس طرح عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا نہ مانا جائے اوران کے صلیب چڑھ کے عیسائیوں کے لئے کفارہ بننے کا عقیدہ تسلیم نہ کیا جائے تو عیسائیوں کے نزدیک عیسیٰ ؑپر ایمان لانے کا دعویٰ ہی سرے سے غلط ہوگا جبکہ مسلمانوں کے نزدیک عیسیٰ ؑکو اللہ کا بندہ اور رسول ماننے کے سوا اگر عیسائیوں والے عقائد بھی رکھے جائیں تو شرک اور کفر لازم آئے گا۔ بالکل اسی طرح اگر کائنات پر غور وفکر کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آخرت پر ایقان حاصل نہ ہوبلکہ دنیا میں انسان ایسا مست ہو کہ اللہ کی توحید سے نابلد اور آخرت کی یاد سے غافل ہو جائے تو ایسا تصرف فی الارض انسان کو جنت سے دور اور جہنم سے قریب کر دیتا ہے، جبکہ جدید سائنس کے نزدیک اگر غور وفکر کے نتیجے میں تصرف فی الارض اور تمتع فی الارض میں اضافہ نہ ہو تو ایسا غور وفکر کسی کام کا نہیں۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ روزانہ دنیا کی ہزاروں یونیورسٹیوں سے تعلیم پانے والے سائنس کے لاکھوں طلبا جو تحقیق کرتے ہیں ،اُس کو پذیرائی اور قبولیت پانے یا نوبل انعام کا حق دار بننے کے لئے کوئی نہ کوئی ایسی نئی ایجاد ضروری قرار پاتی ہے جو جدید سائنس کے بنیادی مقصد 'تصرف فی الارض' میں اضافہ کا باعث بنے۔

ممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ کائنات میں غور وفکر کا اصل مقصد تو یقینا اللہ کی توحید اور آخرت کی یاد کو تازہ کرناہے، لیکن اضافی حیثیت میں اگر اشیائے کائنات سے استفادہ بھی ہو جائے تو اس میںکیا حرج ہے؟ تو ہم جواب میں عرض کریں گے کہ جس طرح قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد اور اُسے تلاوت کرنے کا اساسی مطلب 'ہدایت کی راہ' کا حصول ہے، تزکیۂ نفوس اور اطمینانِ قلوب کا حصول ہے، لیکن آیاتِ قرآن مجید پر تدبر سے بے شمار ضمنی اور اضافی فوائد اور معلومات کا خزینہ بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص قرآنِ مجید تو بہت زیادہ تلاوت کرے، لیکن اس کایہ پڑھنا 'حلق سے نیچے نہ اُترے'اسی طرح انسان ہدایت اور ایمان کی تلاش میں قرآن نہ پڑھتا ہوبلکہ نئی سے نئی معلومات کے حصول یا پڑھ پڑھ کے لوگوں پر دم کرنے اور اُن سے مال کمانے کا کام لیتا رہے تو قرآنِ مجید سے ہدایت و ایمان تو نہ ملے گا، البتہ اضافی فائدے ضرورحاصل ہو جائیں گے جو کہ صرف اور صرف خسارے کا سودا ہے اور جہنم کا راستہ ۔ لیکن اگر اصل مقصد ایمان وہدایت قرآن سے حاصل کرے اور پھراگر بعض جائز اور اضافی فوائد بھی حاصل کرلے تو اس میں حرج کی بات نہ ہوگی۔

بعینہٖ اگر کوئی شخص کائنات پر غور وفکر کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آخرت کی زندگی پر ایمان بناتا ہے اور پھر اس غور وفکر سے بعض اضافی فوائد بھی حاصل کر لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہ ہوگا، اگر سرے سے بنیادی مقصد ہی بدل جائے تو کائنات پر غور وفکر کا عنوان مشترکہ ہونے کے باوجود ایک جنت کی راہ ہوگی اور دوسری جہنم کی راہ۔

اس ساری بحث سے ہم یہ نتیجہ اَخذ کر سکتے ہیں کہ 'کائنات پر غور وفکر' قرآن اور جدید سائنس کا مشترکہ موضوع ہونے کے باوجود اپنے مقاصد و مآخذ ِ علم کے اعتبار سے متضاد علوم ہیں۔ اس طرح 'اسلامی سائنس' ایک ایسی چیز ہے جیسے 'اسلامی عیسائیت' اور اسلام اور سائنس میں مشترکہ نکات کی تلاش ایک ایسا عمل ہے جیسے اسلام اور عیسائیت میں مشترکہ نکات ڈھونڈ نکالنا کہ اصل اور بنیادی مباحث ایمانیات اور مقاصد ِحیات سے صرفِ نظر کیا جائے اور جزوی مشابہتوں کو نہ صرف تلاش کیا جائے بلکہ اُن کی بنیاد پرکل میں اتفاق بھی مانا جائے۔ الغرض ہم سائنس کو اس وقت قابل مذمت سمجھیں گے، جب اس کا مقصد موجوداتِ کائنات کو ان کے اصل مقاصد (رجوع الیٰ اللہ وتذکیر آخرت) سے پھیر کرمحض دنیوی مفادات حاصل کرنا رہ جائے۔ البتہ اصل مقاصد کے حصول اور اللہ پر ایمان کے بعد سائنس سے دنیوی تصرفات حاصل کرنے کی کوشش غلط نہ ہوگی۔

جس طرح یہ بات درست ہے کہ مسلمان بھی عیسیٰ  کو مانتے ہیں اور عیسائی بھی مگر مسلمانوں کاماننا ایمان ہے اور عیسائیوں کا ماننا کفر ہے، اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ قرآن بھی کائنات پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے اور جدید سائنس بھی یہی عنوان رکھتی ہے مگر قرآن کی دعوتِ فکر، خالق کائنات کی طرف متوجہ کرنے اور بعث بعد الموت کو یاد کرنے کے لئے ہے جبکہ سائنس کا مقصد ِ فکر تسخیر کائنات اور تصرف وتمتع فی الارض اور انسان کو کائنات کا حاکم وبادشاہ بنانے کے لئے ہے۔

اس ساری تفصیل کے بعد بھی کچھ لوگ اس خوش فہمی کا شکار ہوسکتے ہیں کہ ہم جدید سائنس کو خدا تک پہنچنے اور آخرت کی یاد کو زندہ کرنے کیلئے سیڑھی کے طور پر استعمال کریں گے تو یاد رکھنا چاہیے کہ اوّلاً اگر انسانی علم وعقل کوئی ایسی سیڑھی بنا سکنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتی جو آسمانی خزانوں تک پہنچ پاتی تو ربّ ذوالجلال والاکرام کو آسمانوں سے وحی اُتارنے کی ضرورت نہ ہوتی جیساکہ مغرب کے سائنس دان یہی سمجھتے ہیں کہ انسانی علم وعقل ہی حقائق تک پہنچنے کا حتمی ذریعہ ہے تو وہ وحی کے نور کو اپنے لئے غیر ضروری جانتے ہیں۔

ثانیاً جہاں جہاں سائنسی علمیت (نیچرل اور سوشل سائنس) کا غلبہ ہوتا چلا جاتا ہے، وہاں انسانی انفرادیت، معاشرت اور ریاست، وحی بیزار عقلیت اور مذہب دشمن جذباتیت سے بھرتے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ہر منزل تک پہنچنے کے لئے الگ خاص راستہ ہوتا ہے اور ہر مقصد حاصل کرنے کے لئے اپنا وسیلہ اور ذریعہ ہوتا ہے۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ انبیاء بتاتے ہیںاور وہ توحید و بندگی اور سنت و اعمالِ صالحہ کا وسیلہ و ذریعہ ہے، نیز مؤمنانہ بصارت و موحدانہ بصیرت سے کائنات پر غور وفکر، اس مقصد کے حصول میں معاون ہوتا ہے جبکہ سائنس ایک ایسا ذریعہ اور وسیلہ ہے جو خود انسان کو آقاے کائنات(Master of the Universe) بنانے کے لئے تراشا گیا ہے اور اس کے لئے انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام نیز توحید و بندگی اور سنت واعمالِ صالحہ کی کوئی اہمیت اس ذریعہ میں باقی نہیں رہتی اور سائنس میں ترقی کا مقصد خواہشاتِ نفس کو پورا کرنے کی سعی کرنا ہے، نہ کہ احکام الٰہی کی بجا آوری میں محنت کرنا۔

اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو سوچنے، سمجھنے اور حق کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے!

Address

HEAD OFFICE: Utca E. T Housing Society Lahore
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Magazine Jamiat Ahl e Hadees posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share