Online Magazine Jamiat Ahl e Hadees

Online Magazine Jamiat Ahl e Hadees Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Online Magazine Jamiat Ahl e Hadees, News & Media Website, HEAD OFFICE: Utca E. T Housing Society Lahore, Lahore.

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے see more  پر کلک کریں۔۔۔آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے فیس بک پیج کو فالو کرنے کے لیے اس لنک ...
14/04/2026

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے see more پر کلک کریں۔۔۔

آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے فیس بک پیج کو فالو کرنے کے لیے اس لنک کو کلک کریں
https://www.facebook.com/profile.php?id=61574579324796
آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے ایکس( ٹوئٹر) کو فالو کریں
https://x.com/japnewslhr

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری
تحریر: محمد مشتاق ایم اے

قوموں اور ملکوں کی زندگی میں ایسے لمحات اور دن آتے رہتے ہیں کہ جو تاریخ کا انمٹ حصہ بن کر رہ جاتے ہیں اور جب بھی اس قوم یا ملک کا ذکر کیا جائے تو اس لمحے یا دن کا تذکرہ کئے بغیر وہ تاریخ مکمل ہی نہیں ہوتی۔
وہ لمحہ ضروری نہیں کہ خوشی کا ہی ہو، بلکہ وہ غم اور دکھ کا بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن وہ ملک کی تاریخ پر ایسا اثر چھوڑتا ہے کہ آپ اسے نہ چاہتے ہوئے بھی یاد کرتے ہیں اور اسے اپنی یادوں سے محو نہیں کرسکتے اور اگر وہ لمحہ خوشی، مسرت اور فخر کا ہو تو پھر تو اس کے کیا ہی کہنے۔ پھر تو وہ لمحہ یا دن ہماری یادوں کا جھومر بن کر ساری زندگی جگماتا رہتا ہے بلکہ اسے ہر سال دھوم دھام سے منایا بھی جاتا ہے اور اس کی یاد کو ہمیشہ تروتازہ رکھا جاتا ہے کہ آنے والی نسلیں اس کی اہمیت اور ہماری تاریخ پر ایک طرف اس کے اثرات کا مشاہدہ کر سکیں اور دوسری طرف اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے ہوئے اسے اپنی اگلی نسلوں میں منتقل کرسکیں۔

ہمارے وطن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا ہی قابل فخر اور یادگار لمحہ اس وقت آیا جب اس نے خطے میں جنگ نہ روکنے پر تلے دو ممالک ایران اور امریکا کو نہ صرف اپنے ملک میں مدعو کیا، بلکہ دونوں کے وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کی ایک ہی ٹیبل پر ایک دوسرے کے سامنے لا بٹھایا۔ اور یہ 11 اپریل 2026 کا ایسا لمحہ تھا جس پر پوری دنیا میں یقین کرنے والا کوئی نہیں تھا لیکن ایسا ہوا اور یہ سب پاکستان نے کر دکھایا۔

ایران کی طرف سے اسپیکر باقر قالیباف اور وزریر خارجہ عباس عراقچی اپنے وفد کے ساتھ پہلے یہاں پہنچے اور بعد میں امریکا کے نائب صدر ڈی جے وینس اپنے وفد کے ساتھ نور خان ایئر بیس پر اترے تو ان کا بھرپور اور گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ اسی طر ح کا گرم جوش استقبال پہلے ایران کے وفد کا کیا جاچکا تھا۔ ان دونوں وفود کی سیکیورٹی کو یقین بنانے کےلیے پاکستان نے ان دونوں کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ٹھہرایا تاکہ دونوں کو کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ رہے۔

پہلے دونوں وفود نے الگ الگ اپنے ثالث یعنی پاکستان کے ذریعے بات چیت کی اور بظاہر لگتا تھا کہ شاید دونوں اسی طرح بالواسطہ ہی بات کریں لیکن پاکستان کی کوشش اور ناقابل یقین ڈپلومیسی کی بدولت مذاکرات میں وہ لمحہ بھی آن موجود ہوا جب دنو ں ممالک کے وفود نے بلاواسطہ یعنی ڈائریکٹ آمنے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کیے۔

اگرچہ اس مذاکرات کے 21 گھنٹوں کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی ڈیل تو نہ ہوسکی لیکن پاکستان کی کوششوں کی بدولت وہ دو ممالک مذاکرات کی اس ٹیبل پر آمنے سامنے تو بیٹھے جس پر وہ 1979 کے بعد نہ بیٹھے تھے۔ دونوں ممالک کے مطابق تمام پوائنٹس پر بھرپور بات چیت ہوئی لیکن چند ایک بلکہ آخر میں صرف ایک نیوکلیئر ایشو پر معاملات فائنل نہ ہونے سے ڈیل فائنل نہ ہو سکی اور دونوں وفود پاکستان کی کوششوں کی تعریف اور شکریہ ادا کرتے ہوئے 12 اپریل 2026 اپنے ملکوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ پاکستان کی ثالثی میں ابھی بھی معاہدہ کرنے کی طرف کوششیں جاری ہیں۔

جب ہم پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک وہ وقت تھا جب پاکستان کو دنیا کے ان خطوں میں پذیرائی ملتی تھی یا پہچانا جاتا تھا، جہاں ہاکی اور کرکٹ جیسے کھیل کھیلے جاتے تھے، پھر اسکواش کی بدولت بھی ملک کی پہچان بنی۔ ایک وقت وہ بھی رہا جب پاکستان بیک وقت ہاکی، کرکٹ، اسکواش اور اسنوکر کا عالمی چیمپئن تھا اور آج وہ دور ہے کہ ہمیں اپنی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام تو کیا کپتان تک کا نام بھی معلوم نہیں۔ اسی طرح ہماری کرکٹ ٹیم میں بھی وہ دم خم نہیں رہا جس کی بدولت دنیا میں ہمارا ڈنکا بجتا تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ دنیا پر پاکستان کی دھاک اس وقت پہلی مرتبہ بیٹھی جب 28 مئی 1998 کو پاکستان کی اس وقت کی حکومت نے عالمی طاقتوں کی دھمکیوں اور امداد کی لالچ کو جوتے کی نوک پر رکھ کر بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بدلے میں دھماکے کرکے بلوچستان میں چاغی کے پہاڑوں کا رنگ تبدیل کردیا تھا اور دنیا کو بتا دیا تھا کہ ہم پہلی مسلم ریاست ہیں جو ایٹمی قوت ہیں اور اس طرح ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہوچکا تھا۔

پاکستان میں وہ لمحہ ایک قابل فخر لمحہ تھا۔ ہر پاکستانی کا سر پوری د نیا میں فخر سے بلند ہوا تھا۔ اس کے بعد یقیناً ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اپنے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہو چکا تھا۔

اس کے بعد آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ میں پاک فوج اور خاص کر پاکستان ایئر فورس کی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو اس کی ہمارے ساتھ کی گئی شرارت کے بدلے میں ناقابل یقین کارکردگی اور اسے ناقابل تلافی اور ناقابل یقین نقصان پہنچانے کی بدولت پاکستان کا ڈنکا پوری دنیا میں بجنے لگا اور پوری دنیا کی افواج اور ممالک پر ہماری دھاک بیٹھ گئی۔ اور بھارت کو اتنا نقصان پہنچا کہ امریکا کا صدر ڈونلڈٹرمپ وہ نقصان گنوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور ابھی بھارت کے شکست کے زخم مندمل بھی نہیں ہوپاتے کہ امریکی صدر پھر ساری دنیا کو یاد کرا دیتے ہیں کہ پاکستان نے اس کے کتنے مہنگے اور ایڈوانس ٹیکنالوجی والے طیارے مار گرائے اور اس نے یہ جنگ رکوائی، جس پر اسے امن کا نوبیل انعام ملنا چاہیے۔

اگرچہ امریکی صدر کو امن کا نوبیل انعام تو نہ مل سکا لیکن بھارت کو خوب آرام مل گیا اور ہمارے آرمی چیف کو بنیان المرصوص میں شاندار اور ناقابل یقین کارکردگی پر فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ بلاشبہ اس آپریشن بنیان المرصوص نے پاکستان اور اس کی افواج کو پوری دنیا میں صحیح متعارف کروا دیا اور یہ بھی پاکستان کی تاریخ میں قابل فخر اور یادگار لمحات تھے جنہیں تاریخ کے صفحات سے کبھی نکالا نہیں جاسکے گا۔

آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ میں عظیم الشان کامیابی کی ابھی دھول بھی نہ بیٹھی تھی کہ پاکستان نے سفارتی میدان میں اپنی لیاقت کا لوہا منوا لیا اور دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچالیا۔

دیکھنے میں اگر کسی کو آسان نظر آتا ہو لیکن حقیقت میں یہ انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے جو پاکستان کی سیاسی اور ملٹری قیادت نے سر انجام دیا، جس پر پوری دنیا بھی حیران ہے۔

اس ناقابل یقین واقعے نے پوری دنیا کی توجہ پاکستان پر مرکوز کر دی اور میرے خیال میں دنیا کے نقشہ پر کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں ہوگا جس کے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا رخ ان دنوں اسلام آباد کی طرف نہ ہو۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات کی سربراہی اور نگرانی میں اسلام آباد کنونشن سینٹرکو لوکل اور
انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندوں کےلیے سہولت کاری کا مرکز بنا کر وہاں ہر ممکن سہولت فراہم کردی گئی، جس کی انٹرنیشنل میڈیا نے بہت تعریف کی۔ الغرض پاکستان نے اس حوالے سے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم پوری دنیا میں جگمگاتا رہا اور بہت سارے ممالک نے پاکستان کی تعریف میں ترانے تک بنا ڈالے اور پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں اپپا پرچم لہراتا دیکھ کر اپنا تو ڈیڑھ سیر خون بڑھ گیا ہے۔ اللہ ہمارے ملک اور ہمارے پرچم کو سدا بلند رکھے اور اس کی دھاک پوری دنیا پر بٹھائے رکھے۔ اللہ ہمارے ملک کو ترقی دے اور اسے ہمیشہ کے لیے ناقابل تسخیر بنا کر رکھے۔ آمین۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے see more  پر کلک کریں۔۔۔آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے فیس بک پیج کو فالو کرنے کے لیے اس لنک ...
12/04/2026

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے see more پر کلک کریں۔۔۔

آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے فیس بک پیج کو فالو کرنے کے لیے اس لنک کو کلک کریں
https://www.facebook.com/profile.php?id=61574579324796
آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے ایکس( ٹوئٹر) کو فالو کریں
https://x.com/japnewslhr

امام مسلم رحمہ اللہ کے حالات زندگی:

الامام، الحافظ، الحجتہ ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم بن ورد بن کوشاذ القشیری، النیسابوری 202 یا 204 یا 206 ھ میں نیشا پور میں پیدا ہوئے اور وہیں علم کی کئی منزلیں طے کیں۔ ان کے والدین صاحب حثیت تھے۔ اس لیے امام مسلم کو زندگی میں رزق کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی انہوں نے اپنی زندگی علم حدیث کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ​

حصول علم:
اٹھارہ برس کی عمر میں سب سے پہلے حدیث کا سماع (سماع اور کتابت لازم و ملزم تھے) یحییٰ بن یحییٰ تمیمی سے کیا۔ 220ھ میں حج کیا اور مکہ میں امام مالک کے اجل ترین شاگرد عبداللہ بن مسلمہ قعنبی سے احادیث سنیں اور لکھیں۔ کوفہ میں انہوں نے [سیر أعلام النبلاء: 558/12، وتذکرۃ الحفاظ: 281/1]
احمد بن یونس کے علاوہ علماء کی ایک جماعت سے، پھر حرمین، عراق اور مصر کے تقریباً دو سو بیس استاتذہ سے احدیث حاصل کیں۔ حصول حدیث کا طریقہ یہی تھا کہ احادیث مع اسناد سنی اور ساتھ لکھی جاتی تھی۔

اساتذہ:
ان کے اہم اساتذہ میں امام احمد بن حنبل، احمد بن منذر قزاز، اسحاق بن راہویہ، ابراہیم بن سعید جوہری، ابراہیم بن موسٰی، ابواسحاق رازی، احمد بن ابراہیم، اسحاق بن موسٰی انصاری (ابوموسٰی)، اسماعیل بن ابی اویس، حرملہ بن یحییٰ (ابوحفص تحبیبی)، حسن بن ربیع بورانی، ابوبکر بن ابی شیبہ، یعقوب بن ابراہیم دورقی، ابوزرعہ رازی اور یحییٰ بن معین جیسے حفاظ حدیث شامل ہیں۔

روزگار:
امام مسلم رحمہ اللہ کا کچھ کاروبار ایک قدیم قصبے ”خان محمش“ میں تھا، ان کی معاش کا زیادہ تر انحصار ان کی جاگیر پر تھا جو نیشاپور ہی مضافات میں واقع تھی۔
حلیہ، اولاد:
امام حاکم کے والد (عبداللہ بن حمدویہ) کو ان کے والد (امام حاکم کے دادا) نے بتایا انہوں نے امام مسلم کی زیارت ”خان محمش“ میں کی تھی۔ ان کی قامت پوری، رنگ گورا اور داڑھی سفید تھی۔ انہوں نے عمامے کا ایک کنارہ دونوں کندھوں کے درمیان پشت پر لٹکایا ہوا تھا۔ امام حاکم کے والد نے امام مسلم کے گھر میں ان کی بیٹیوں کی اولاد بھی دیکھی۔

وفات:
ان کی وفات کا واقعہ جس طرح تاریخ بغداد اور سیر اعلام النبلاء میں بیان کیا گیا ہے، انتہائی عجیب ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ فن حدیث میں ان کی جستجو کا کیا عالم تھا اور اس حدیث میں ان کا انہماک کس درجے پر پہنچا ہوا تھا۔
احمد بن سلمہ کہتے ہیں: امام مسلم رحمہ اللہ سے استفادے کے لیے ایک مجلس مذکراہ منعقد کی گئی، اس میں ان کے سامنے ایک ایسی روایت کا ذکر آیا جو ان کو معلوم نہ تھی۔ گھر واپس آئے تو چراغ جلایا اور گھر والوں سے کہا کہ ان کے کمرے میں کوئی نہ آئے۔ گھر والوں نے بتایا کہ گھر میں کھجور کا ایک ٹوکرا ہدیہ بھیجا گیا ہے فرمایا: لے آؤ۔ وہ حدیث کی تلاش میں منہمک ہو گئے ٹوکرا ساتھ رکھا تھا، بےخیالی کے علام میں ٹوکرے سے کھجور کا ایک ایک دانہ اٹھا کر منہ میں ڈالتے رہے، اسی عالم میں صبح ہو گئی۔ انھیں حدیث کی تفصیلات مل گئیں ادھر ٹوکرا خالی ہو گیا۔ کہا جاتا ہے اسی وجہ سے ان کی طبیعت بگڑ گئی اور علم و عرفان کا یہ سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ امام مسلم رحمہ اللہ کی وفات 24 رجب 261ھ کے اتوار کی شام کو ہوئی، اگلے روز نیشاپور میں تدفین ہوئی۔

تصنیفات:
امام مسلم رحمہ اللہ کی اہم ترین تصنیفات جنہیں امام حاکم اور دوسرے محدثین نے ذکر کیا ہے یہ ہیں:

رجال:
➊ «الأسامي والكني»
➋ «كتاب الطبقات»
➌ «كتاب الوحدان»
➍ «كتاب الافراد»
➎ «كتاب الأقران»
➏ «كتاب أولاد الصحابة»
➐ «كتاب أفراد الشامبين»
➑ «كتاب مشايخ مالك»
➒ «كتاب مشايخ الثوري»
➓ «كتاب مشايخ شعبة»
⓫ «كتاب من ليس له إلا راو واحد»
⓬ «كتاب المخضرمين»
⓭ «كتاب طبقات التابعين»

متون حدیث:
➊ «كتاب المسند الكبير على الرجال»
➋ «كتاب الجامع عل الأبواب»
➌ «كتاب المسند الصحيح» (عرف عام ميں صحيح مسلم)
➍ «كتاب حديث عمرو بن شعيب»

نقد الحدیث:
➊ «كتاب التميز»
➋ «كتاب العلل»
➌ «كتاب سؤالات احمد بن حنبل»
➍ «كتاب أوهام المحديثين»

فقہ الحدیث:
➊ «كتاب الانتقاع باهب السباع»
یہ امام مسلم کی اہم ترین کتابوں کے نام ہیں، ان کی ساری تصنیفات کی فہرست نہیں ہے۔
صحیح مسلم
صحیح مسلم اور اس کا امتیاز:
حافظ ابن عساکر اور امام حاکم کہتے ہیں کہ امام مسلم اپنی کتاب صحیح مسلم کو دو اقسام میں مکمل کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ قسم اول میں طبقہ اولٰی کے راویوں کی صحیح احادیث اور قسم ثانی کی صحیح طبقہ ثانیہ کی صحیح احادیث لائیں۔ وہ ابھی طبقہ اولٰی پر مشتمل حصہ مکمل کر پائے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا گویا صحیح مسلم ان کی زندگی کے آخری مرحلے کی تصنیف ہے۔

صحیح مسلم ان کے فن کا اوج کمال ہے اور اس سے پہلے سارا کام اپنی جگہ مستقل ہونے کے ساتھ ساتھ صحیح مسلم کی تیاری یا بنیاد سازی کا کام بھی کہا جا سکتا ہے۔ رجال، متون اور علل پر مکمل عبور اور تیاری کے بعد ہی ایسی کتاب لکھی جا سکتی ہے جیسی صحیح مسلم ہے۔ اس وقت طالبان حدیث کو ایک ایسی کتاب کی تلاش تھی جو دین کے طور طریقوں، احکام، جزا و سزا اور جن چیزوں سے بچنا اور جن کو اپنانا ہے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین اور سنن کی مستند روایات پر مشتمل ہو، ان روایات کی سندوں کو اہل علم نے قبول کیا ہو اور یہ روایات حسن ترتیب سے ایک تالیف میں جمع کر دی گئی ہوں جو غیر ضروری طور پر طویل نہ ہو اور جو دین کے فہم، تدبر اور استنباط کے حوالے سے دیگر کتابوں سے مستغنی کر دے۔

امام مسلم نے امت کی اس ضرورت کو محسوس کیا، ایک ایسی کتاب کی اہمیت اور اس کے فوائد پر غور کیا تو بڑے ذخیرہ حدیث میں سے صحیح ترین احادیث کے نسبتاً مختصر مجموعے کی ترتیب وتالیف کا بیڑا اٹھایا۔ امام مسلم نے احادیث کے انتخاب کے حوالے سے اپنی کتاب کے لیے بنیادی شرط رکھی کہ حدیث ”سنداً متصل ہو“ اول سے لے کر آخر تک ثقہ نے ثقہ سے روایت کی ہو اور شذوذ اور علل سے پاک ہو۔“

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا موازنہ:
امام بخاری اور امام مسلم ہم عصر ہیں۔ دونوں نے فقہی ترتیب پر احادیث کے صحیح مجموعے کی ضرورت کو ایک ہی دور میں محسوس کیا اور اپنا اپنا مجموعہ حدیث مرتب کیا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں کی صحت پر امت کا اجماع ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بحث چلتی رہی ہے کہ دونوں میں سے ترجیح کس کتاب کو حاصل ہے۔ شارح مسلم امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علماء اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن مجید کے بعد صحیح ترین کتابیں صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہیں۔ امت نے انہیں اسی حثیت سے قبول کیا ہے صحیح بخاری دونوں میں سے صحیح تر ہے فوائد میں عیاں اور دقیق دونوں قسم کے معارف میں بڑھ کر ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ امام مسلم امام بخاری سے مستفید ہوتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ علم حدیث میں ان کی کوئی نظیر موجود نہیں۔ مجموعی حیثیت سے صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر ترجیح حاصل ہے اور یہی درست نقطہ نظر ہے جس کے جمہور علماء ماہرین فن اور نکتہ سنجان علم حدیث قائل ہیں۔ امام ابوعلی حسین نیشاپوری اور مغرب (شمالی افریقہ کے مسلم ممالک) کے بعض علماء صحیح مسلم کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن جمہور علماء کا نقطہ نظر یہ ہے کہ صحیح بخاری ہی کو ترجیح حاصل ہے معروف فقیہ اور نقاد حدیث حافظ ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”المدخل“ میں اس بات کو دلائل سے واضح کیا ہے۔۔۔ البتہ صحیح مسلم کے بعض امتیازی پہلو ایسے ہیں جو اسی کتاب کے ساتھ خاص ہیں۔ جن لوگوں نے صحیح بخاری پر صحیح مسلم کو ترجیح دی ہے ان کے پیش نظر یہی امتیازی پہلو تھے۔

امام نووی فرماتے ہیں: امام مسلم ایک انتہائی فائدہ مند خصوصیت میں متفرد ہیں جو انہی کے شایان شان تھی۔ وہ یہ کہ (ان کی کتاب) استفادے میں آسان ہے انہوں نے ہر حدیث کو ایک ہی جگہ جو اس کے لائق تھی درج کیا ہے اور اس کی متعدد سندیں اور روایت شدہ مختلف الفاظ اس کے ساتھ ہی بیان کر دیئے ہیں۔ اس سے طالب علم کے لیے مذکورہ حدیث کی تمام صورتوں پر نظر ڈالنا اور ان سے فائدہ اٹھانا آسان ہو گیا ہے اس طریقے سے امام مسلم نے حدیث کے جو طرق (سندیں) ذکر کیے ہیں ان پر قاری کا اعتماد بڑھ جاتا ہے۔

تائید و توثیق کا حیرت انگیز سلسلہ:
یہ امام مسلم رحمہ اللہ کا بہت بڑا کارنامہ ہے کہ وہ ایک ہی حدیث کو اپنے ایک استاد کے علاوہ دوسرے اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں پھر ان کے اوپر کی سند میں ایک ہی استاد یا متعدد اساتذہ سے بیان کرنے والے ایک سے زیادہ راویوں کی سندیں بیان کرتے ہیں اور بالکل اوپر ایک ہی حدیث کو اگر ایک سے زیادہ صحابہ نے روایت کیا ہے تو مختلف سندوں سے ان روایات کو بھی لے آتے ہیں آج اگر کوئی مطالعہ کرنے والا ایک ہی حدیث لے لیے امام مسلم کی ذکر کردہ تمام سندوں کو سامنے رکھے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امام مسلم نے ایک حدیث کو اپنے ایک استاد اور اوپر تک اس کے ایک استاد سے روایت کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ وہ ایک ہی استاد سے روایت کرنے والے متعدد لوگوں کے پاس کتابت حدیث کے لیے حاضر ہوئے، ایک استاد مختلف اوقات میں روایت کرنے والے ان کے مختلف شاگردوں (تابعین) سے الگ الگ وہی حدیث سنی اور اس کی توثیق کی۔ اس طرح انہوں نے واضح کیا کہ جن اساتذہ نے مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کے سامنے وہ حدیث بیان کی اور ہمیشہ ایک ہی جیسے الفاظ سے بیان کرتے رہے، وہ حقیقت میں حفظ و اتقان کے اعتبار سے انتہائی قابل اعتماد ہیں اور ان کی بیان کردہ روایت صحیح ہے۔ انہوں نے اپنے اساتذہ سے اوپر کی اسناد کی بھی اسی طرح مختلف بیان کرنے والوں کی روایات کے زریعے سے توثیق کی، حتی کہ اکثر اوقات رسول اللہ صلی الله عليه وسلم سے بیان کرنے والے مختلف صحابہ کی روایات ان کے اپنے اپنے شاگردوں سے اکھٹی کر کے ان کو بطور شواہد پیش کیا۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے متابعات پیش کیں ان کی ایک دوسرے سے توثیق کی اور جو احادیث ہر اعتبار سے ضبط و اتقان میں مکمل تھیں، انہی کا انتخاب کیا، یہ اہتمام بڑے سے بڑے معاملے میں دی گئی شہادتوں کے لیے کسی بڑی سے بڑی عدالت یا توثیقی ادارے کے بس میں نہیں۔ اگر حدیث کے الفاظ یا سند میں کوئی انتہائی معمولی فرق بھی ہے، جیسے «حدثنا» اور «اخبرنا» کا فرق، تو اس کو بھی محفوظ کیا ہے۔ متن میں انتہائی معمولی کمی بیشی کو بھی ذکر کیا ہے۔ اس طرح صحیح مسلم احادیث رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کا ایک ایسا مجموعہ بن گیا ہے جو اسناد و متون کے باہمی موازنے اور توثیق کا بے مثال عملی نمونہ ہے۔

صحیح مسلم میں روایات کی تعداد:
اس احتیاط و اہتمام کے ساتھ امام مسلم نے جو صحیح مرتب کی، تکرار کے بغیر اس کی احادیث کی تعداد تین ہزار تینتیس ہے اور مکرر احادیث کو شمار کیا جائے تو کل احادیث سات ہزار پانچ سو تریسٹھ ہیں۔ امام مسلم نے یہ انتخاب تین لاکھ احادیث سے کیا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تین لاکھ احادیث سے مراد تین لاکھ متن یا
مرویات نہیں۔ احادیث کی عدد شماری کا اصول اس مثال سے واضح ہوتا ہے: اگر ایک صحابی سے ایک تابعی نے حدیث بیان کی تو ایک حدیث ہے اگر دو نے کی دو حدیثیں ہیں اسی طرح تابعی سے جتنے شاگردوں نے سن کر حدیث بیان کی اسی حساب سے نمبر بڑھتا گیا ہے۔ تین لاکھ احادیث سے مراد تین لاکھ الگ الگ سندوں سے بیان کردہ روایات ہیں۔ بعض لوگ اس اصول کو نہیں سمجھتے اس لیے بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
(بشکریہ اسلامک اردو بکس ڈاٹ کام)
٭٭٭٭٭

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے see more  پر کلک کریں۔۔۔آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے فیس بک پیج کو فالو کرنے کے لیے اس لنک ...
11/04/2026

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے see more پر کلک کریں۔۔۔

آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے فیس بک پیج کو فالو کرنے کے لیے اس لنک کو کلک کریں
https://www.facebook.com/profile.php?id=61574579324796
آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے ایکس( ٹوئٹر) کو فالو کریں
https://x.com/japnewslhr

امن کی میز اسلام آباد
تحریر: اعظم ملک

جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے تو اسلام آباد میں تاریخ خاموشی سے نہیں بلکہ فیصلہ کن انداز میں لکھی جا رہی ہو گی۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کی دو بڑی قوتیں برسوں کی دشمنی، شکوک، پراکسی جنگوں اور براہِ راست تصادم کے بعد ایک میز پر آ بیٹھی ہیں۔ دس اور گیارہ اپریل کے یہ دو دن محض سفارتی ملاقاتیں نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی موڑ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں یا تو جنگ کا باب بند ہو گا یاخدانخواستہ ایک نئی اور زیادہ خطرناک کشیدگی جنم لے گی۔ اس پورے منظرنامے کا مرکز اسلام آباد ہے۔دو ہفتوں کی جنگ بندی مستقل امن نہیں بلکہ ایک نازک وقفہ ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے عالمی توانائی کی شریان گزرتی ہے، اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ خطے میں اعتماد کی کمی عسکری دباؤاور عالمی طاقتوں کی کشمکش اس بات کی علامت ہیں کہ اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اسلام آباد کے یہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔یہ مذاکرات محض سفارتی گفتگو نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی اور اسٹرٹیجک تصادم ہیں۔ ایک طرف ایران کا دس نکاتی ایجنڈا مکمل خودمختاری، پابندیوں کے خاتمے، اثاثوں کی بحالی اور علاقائی طاقت کے نئے توازن کا مطالبہ کرتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کا پندرہ نکاتی ایجنڈا،ایرنی جوہری پروگرام پر سخت پابندی، میزائل صلاحیتوں کی محدودیت، اور خطے میں اسکے اثر و رسوخ کو قابو میں رکھنے کی بات کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں ایک طرف آزادی کی توسیع کا مطالبہ ہے اور دوسری طرف طاقت کے توازن کی بندش اور یہی اس مذاکرات کی اصل بنیاد ہے۔کامیابی کے امکانات کو اگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو صورتحال نہ مکمل پرامید ہے نہ مکمل مایوس کن۔ اندازاً پچاس سے ستر فیصد کے درمیان پیش رفت کا امکان ہے۔ امریکہ کی جانب سے بعض نکات پر لچک دکھانے کے اشارے ہیں، مگر ایران اپنے بنیادی مؤقف پر قائم ہے اور امریکی شرائط کو’’زیادہ مطالباتی‘‘ قرار دے رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سفارتکاری کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔اصل رکاوٹیں واضح ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل اور خطے میں اسکے اتحادی گروہ امریکہ کیلئے اسٹرٹیجک خطرہ سمجھے جاتے ہیں جبکہ ایران کیلئے پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور خودمختاری بنیادی تقاضے ہیں۔ آبنائے ہرمز کا معاملہ عالمی معیشت کے لیے اتنا اہم ہے کہ اس پر معمولی اختلاف بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ اس سب کے اوپر ایک غیر یقینی عنصر اسرائیل کا ممکنہ کردار ہے جو اس پورے عمل کو کسی بھی وقت متاثر کر سکتا ہے۔تاہم حقیقت یہی ہے کہ بظاہر ناممکن تنازعات بھی مذاکرات سے حل ہوئے ہیں۔ Camp David Accords نے مشرق وسطیٰ میں ایک تاریخی دشمنی کو ختم کیاجبکہ Joint Comprehensive Plan of Action نے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان ایک نازک مگر مؤثر سمجھوتہ ممکن بنایا۔ یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیاسی ارادے اور مؤثر ثالثی سے بڑے بحران بھی حل ہو سکتے ہیں۔اسلام آباد میں موجود شخصیات اس عمل کی سنجیدگی کو مزید واضح کرتی ہیں۔ ڈی جے وینس امریکی داخلی و خارجی سیاست میں ایک مضبوط آواز ہیں۔ Steve Witkoff کاروباری دنیا سے آنے کے باوجود سفارت کاری میں عملی نتائج پر یقین رکھتے ہیں۔ Jared Kushner مشرق وسطیٰ میں سفارتی معاہدوں کے تجربے کے حامل ہیں۔ دوسری جانب ایران کی نمائندگی Mohammad Bagher Ghalibaf اور Abbas Araghchi جیسے تجربہ کار اور سخت موقف رکھنے والے رہنما کر رہے ہیں۔ یہ افراد صرف نمائندے نہیں بلکہ اپنے اپنے ریاستی نظاموں کی پالیسی سوچ کا نچوڑ ہیں۔پاکستان کا کردار اس پورے عمل میں محض ایک میزبان کا نہیں بلکہ ایک فعال اور فیصلہ کن ثالث کا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سفارتی سطح پر وہ سیاسی دروازے کھولے جنہوں نے واشنگٹن اور تہران دونوں کو ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ کیا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس پیچیدہ خطے میں سکیورٹی اور اسٹریٹجک اعتماد کی وہ بنیاد فراہم کی جسکے بغیر اس نوعیت کے مذاکرات ممکن نہ تھے۔ یہ سیاسی قیادت اور عسکری حکمت عملی کا وہ امتزاج ہے جس نے پاکستان کو ایک Passive observerسے نکال کرActive mediatorبنا دیا ، جس سے نہ صرف ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ہوا بلکہ پاکستان جغرافیائی اہمیت اور اس سیاسی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی تجزیہ کار اس عمل کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک نازک توازن ہے جو کسی بھی لمحے بگڑ سکتا ہے۔ اگر مذاکرات میں ٹائم فریم پر اتفاق ہو جاتا ہے، جنگ بندی کو توسیع ملتی ہے اور بنیادی نکات پر لچک دکھائی جاتی ہے تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہو گی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں فریقین مکمل جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ امریکہ عالمی سیاسی دباؤ اور داخلی تقسیم کا شکار ہے جبکہ ایران معاشی پابندیوں اور داخلی دباؤ سے دوچار ہے۔ یہی مشترکہ مجبوری ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کا سب سے بڑا محرک بن سکتی ہے۔اگر اس پورے عمل کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف ایران اور امریکہ کا تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت کے نئے توازن کی تشکیل کا مرحلہ ہے۔ توانائی کی سیاست مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی اہمیت اور بڑی طاقتوں کی مسابقت یہ سب اس مذاکرات کے اندر سمٹے ہوئے ہیں۔ اور اسلام آباد اس وقت اس پورے عالمی منظرنامے کا غیر متوقع مرکز بن چکا ہے۔تیل کی عالمی منڈی پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی قیمتوں کو جھٹکا دے سکتی ہے۔ اسی لیے اقتصادی دنیا بھی ان مذاکرات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ اسٹاک مارکیٹس توانائی کے معاہدے اور عالمی سپلائی چین سب اس عمل سے جڑے ہوئے ہیں۔تو کیا یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے؟ جواب ابھی حتمی نہیں مگر امکانات بہت ہیں۔ اگر سفارتکاری نے سیاست پر غالب آنا جاری رکھا ،اگر فریقین نے اپنی سرخ لکیروں میں لچک دکھائی اور اگر پاکستان کی ثالثی مؤثر رہی تو یہ دنیا کے سب سے بڑے تنازعات میں سے ایک کے حل کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔اور اگر ایسا ہو گیا تو تاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ ایک معاہدہ ہوا تھا بلکہ یہ لکھے گی کہ ایک وقت ایسا آیا تھا جب دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، مگر اسلام آباد نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب طاقت خاموش ہوئی اور مکالمہ بول اٹھا۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے see more  پر کلک کریں۔۔۔آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے فیس بک پیج کو فالو کرنے کے لیے اس لنک ...
09/04/2026

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے see more پر کلک کریں۔۔۔

آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے فیس بک پیج کو فالو کرنے کے لیے اس لنک کو کلک کریں
https://www.facebook.com/profile.php?id=61574579324796
آن لائن میگزین جمعیت اہل حدیث کے ایکس( ٹوئٹر) کو فالو کریں
https://x.com/japnewslhr

امام بخاری﷫کے حالاتِ زندگی
تحریر: کلیم حیدر

سلسلۂ نسب
امام بخاری﷫ کا سلسلۂ نسب یہ ہے :
ابو عبداﷲ محمد (امام بخاری ؒ) بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بردزبہ البخاری الجعفی۔ امام بخاری ؒ کے والد حضرت اسماعیل ؒ کو جلیل القدر علمااور امام مالک رحمتہ اﷲ علیہ کی شاگردی کا بھی شرف حاصل تھا۔
پیدائش:
امام بخاریؒ 13 شوال 194؁ھ (20 جولائی 810؁ئ) کو بعد نمازِ جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ امام بخاری ؒ ابھی کم سن ہی تھے کہ شفیق باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور تعلیم و تربیت کیلئے صرف والدہ کاہی سہارا باقی رہ گیا۔ شفیق باپ کے ا ٹھ جانے کے بعد ماں نے امام بخاری ؒ کی پرورش شروع کی اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا۔ امام بخاری ؒ نے ابھی اچھی طرح آنکھیں کھولی بھی نہ تھیں کہ بینائی جاتی رہی۔ اس المناک سانحہ سے والدہ کو شدید صدمہ ہوا۔
انہوں نے بارگاہِ الہٰی میں آہ زاری کی، عجز و نیاز کا دامن پھیلا کر اپنے لاثانی بیٹے کی بینائی کیلئے دعائیں مانگیں۔ ایک مضطرب ، بے قرار اور بے سہارا ماں کی دعائیں قبول ہوئیں۔ انہوں نے ایک رات حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا فرما رہےتھے: ’’جا اے نیک خو ! تیری دعائیں قبول ہوئیں۔تمہارے نورِ نظر اور لختِ جگر کو اﷲ تعالیٰ نے پھر نورِ چشم سے نواز دیا ہے ‘‘ صبح اٹھ کر د یکھتی ہیں کہ بیٹے کی آنکھوں کا نور لوٹ آیا ہے ۔
سبحان اﷲ حضرت احمد بن حفص ؒ نے کہا کہ میں حضرت اسمٰعیل ؒ کے پاس ’’ ان کی موت کے وقت‘‘ گیا جو امام بخاری ؒکے والد تھے ا نہوں نے کہا میں نہیں سمجھتا میرے مال میں کوئی روپیہ حرام یا شبہہ کا ہو (یعنی آپؒ کی پرورش حلال مال سے ہوئی) حضرت وراقہ ؒ فرماتے ہیں کہ
امام بخاری ؒ کو اپنے باپ کے ترکہ میں سے بہت مال ملا تھا۔ غنجار نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ امام بخاری ؒ کے پاس کچھ مالِ تجارت آیا۔ تاجروں نے پانچ ہزار کے نفع سے اسے مانگا۔ پھر دو سرے دن کچھ اور تاجروں نے دس ہزار کے نفع کی پیش کش کی تو امام صاحب ؒنے فرمایا: ’’میں نے پہلے تاجروں کو دینے کی نیت کر لی تھی‘‘۔ آخر اُنہی کو دے دیا اور مزید پانچ ہزار کا نفع چھوڑ دیا۔
امام بخاری رحمتہ اﷲ علیہ کو اپنے والد کی میراث سے کافی دولت ملی تھی۔ آپؒ اس سے تجارت کیا کرتے تھے۔ اس آسودہ حالی سے آپؒ نے کبھی اپنے عیش و عشرت کا اہتمام نہیں کیا جو کچھ آمدنی ہوتی طلب علم کیلئے صرف کرتے۔ غریب اور نادار طلبا کی امداد کرتے، غریبوں اور مسکینوں کی مشکلات میں ہاتھ بٹاتے۔ ہر قسم کے معاملات میں آپ رحمہ اللہ علیہ بے حد احتیاط برتتے تھے۔
حضرت عبداﷲ بن محمد صیارفی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ میں امام بخاری ؒکے ساتھ ان کے مکان میں بیٹھا تھا اتنے میں ان کی لونڈی آئی اور اندرجانے لگی۔سامنے ایک دوات (انک کی بوتل) رکھی تھی اس کو ٹھوکر لگی۔ امام بخاری ؒنے کہا تم کیسے چلتی ہو وہ بولی جب راستہ نہ ہو تو کیسے چلوں؟ یہ سن کر امام بخاری ؒنے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیئے اور کہا: ’’جا میں نے تجھ کو آزاد کر دیا ‘‘ لوگوں نے کہا اے ابو عبداﷲ! اس لونڈی نے تو آپ ؒ کو غصّہ دلایا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے اس کام سے اپنے نفس کو ر ا ضی کر لیا ہے۔
’’وضاحت: آپ بھی جب کسی پر ناراض ہوں یا اس کی غیبت کریں یا نقصان پہنچائیں یا دل دکھائیں تو اس پر کوئی نہ کوئی احسان ضرور کریں۔ یا اس سے معافی مانگیں۔ کم از کم اس کے لئےدعائِ مغفرت کریں تاکہ آخرت کے عذاب سے آپ بچ جائیں۔‘‘
حضرت وراقہ ؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاری ؒبہت کم خوراک لیتے تھے، طالب علموں کے ساتھ بہت احسان کرتے اور نہایت سخی تھے۔ ایک دفعہ امام بخاری ؒبیمار ہوئے۔ ان کا قارورہ (پیشاب کی رپورٹ) طبیبوں کو چیک کرایا گیا تو ا نہوں نے کہا یہ قارورہ تو اس شخص کا ہے جس نے کبھی سالن نہ کھایا ہو۔ پھر امام بخاری ؒ نے ان کی تصدیق کی اور کہا کہ چالیس سال سے میں نے سالن نہیں کھایا (یعنی روکھی روٹی پر قناعت کی) طبیبوں نے کہا اب آپؒ کی بیماری کا علاج یہ ہے کہ سالن کھایا کریں۔ امام بخاری ؒ نے قبول نہ فرمایا۔ بڑے اصرار سے یہ قبول کیا کہ روٹی کے ساتھ کچھ کھجور کھا لیا کریں گے۔ محمد بن منصور فرماتے ہیں ہم ابو عبداﷲ بخاری ؒ کی مجلس میں تھے۔ ایک شخص نے آپؒ کی داڑھی میں سے کچھ کچرا نکالا اور زمین پر ڈال دیا۔ امام بخاری ؒنے لوگوں کو جب غافل پایا تو اس کو اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔ جب مسجد سے باہر نکلے تو اس کو پھینک دیا (گویا مسجد کا اتنا احترام کیا)
امام بخاری ؒ کا حافظہ:
امام بخاری ؒ کو اﷲ تعالیٰ نے غیر معمولی حافظہ اور ذہن عطا کیا تھا۔ ایک مرتبہ بغداد آئے، محدثین جمع ہوئے اور آپؒ کا امتحان لینا چاہا، امتحان کی ترتیب یہ رکھی کہ دس آدمیوں نے دس دس حدیثیں لے کر ان کے سامنے پیش کیں، ان احادیث کے متن (عبارت) اور سندوں کو بدلا گیا، متن ایک حدیث کا اور سند دوسری حدیث کی لگا دی گئی۔ امام بخاری ؒ حدیث سنتے اور کہتے، مجھے اس حدیث کے بارے میں علم نہیں جب سارے محدثین اپنی دس دس حدیثیں سنا چکے اور ہر ایک کے جواب میں امام بخاری ؒ نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں، تو سارے لوگ ان سے بدظن ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ کیسے امام ہیں کہ 100 احادیث میں سے چند حدیثیں بھی نہیں جانتے۔
امام بخاری ؒ پہلے شخص سے مخاطب ہو کر کہنے لگے تم نے پہلی حدیث یوں سنائی تھی اور پھر صحیح حدیث سنائی دو سری حدیث کے بارے میں فرمایا کہ تم نے یہ حدیث اس طرح سنائی تھی جب کہ صحیح یہ ہے اور پھر صحیح حدیث سنائی، مختصر یہ کہ امام بخاری ؒ نے دس کے دس آدمیوں کی مکمل حدیثیں پہلے ان کے ردّو بدل کے ساتھ سنائیں اور پھر صحیح اسناد کے ساتھ حدیثیں سنائیں۔
اس مجلس میں امام صاحب کی اس طرح حدیثوں کی صحت، پر سارا مجمع حیران اور خاموش تھا، علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ یہ واقعہ لکھنے کے بعد فرماتے ہیں، یہاں امام بخاری ؒ کی امامت تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ تعجب یہ نہیں کہ امام بخاری ؒ نے غلط احادیث کی تصحیح کی اسلئے کہ وہ تو تھے ہی حافظ حدیث، تعجب تو اس کرشمہ پر ہے کہ امام بخاری ؒ نے ایک ہی دفعہ میں ان کی بیان کردہ ترتیب کے مطابق وہ تمام تبدیل شدہ حدیثیں بھی یاد کر لیں۔ (فتح الباری ، شرح صحیح بخاری)
آپؒ کی سب سے بلند پایہ تصنیف صحیح بخاری ہے۔ آپ ؒ نے بخاری کی ترتیب و تالیف میں صرف علمیت، زکاوت اور حفظ ہی کا زور خرچ نہیں کیا بلکہ خلوص، دیانت، تقویٰ اور طہارت کے بھی آخری مرحلے ختم کر ڈالے اور اس شان سے ترتیب و تدوین کا آغاز کیا کہ جب ایک حدیث لکھنے کا ارادہ کرتے تو پہلے غسل کرتے، دو رکعت نماز استخارہ پڑھتے بارگاہِ ربّ العزت میں سجدہ ریز ہوتے ا ور اس کے بعد ایک حدیث تحریر فرماتے۔ اس سخت ترین محنت اور دیدہ ریزی کے بعد سولہ سال کی طویل مدت میں یہ کتاب زیورِ تکمیل سے آراستہ ہوئی
اور ایک ایسی تصنیف عالمِ وجود میں آگئی جس کا یہ لقب قرار پایا:
’’ ا صح ا لکتب بعد کتا ب ا للہ‘‘ یعنی اﷲ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید) کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب ہے‘‘
۔ اُمّت کے ہزاروں محدثین نے سخت سے سخت کسوٹی پر کسا، پرکھا اور جانچا مگر جو لقب اس مقدس تصنیف کیلئے من جانب اﷲ مقدر ہو چکا تھا وہ پتھر کی کبھی نہ مٹنے والی لکیریں بن گیا۔
امام بخاری ؒ کی شرط کا بیان:
آپ ؒ وہی حدیث بیان کرتے تھے جس کو ثقہ نے ثقہ سے مشہور صحابی تک روایت کی ہو اور معتبر ثقات اس حدیث میں اختلاف نہ کرتے ہوں اور سلسلۂ اسناد متصل ہو۔ اگر صحابی سے دو شخص راوی ہوں تو بہتر ورنہ ایک معتبر راوی بھی کافی ہے۔امام مسلم ؒ نے امام بخاری ؒسے علم حدیث حاصل کیا اور فائدہ اٹھایا لیکن وہ امام بخاریؒ کے اکثر اساتذہ کے بھی شاگرد ہیں (یعنی دونوں نے ایک ہی ا ستادوں سے علم حا صل کیا) اور ان دونوں کی کتابیں قرآن مجید کے بعد تمام کتابوں سے زیادہ صحیح ہیں۔ علما کااس امر پر اتفاق ہے کہ صحیح بخاری صحت میں صحیح مسلم سے افضل ہے۔ بخاری شریف کے علاوہ بھی امام صاحب کی 22 اہم اور بلند پایہ تصانیف ہیں۔ آپ کی مجالسِ درس زیادہ تر بصرہ، بغداد اور بخارا میں رہیں، لیکن دنیا کا غالباً کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں امام بخاری ؒکے شاگرد سلسلہ بسلسلہ نہ پہنچے ہوں۔
طالب حق کو دنیا میں دو کتابیں ہی کافی ہیں !
ایک اﷲ تعالیٰ کی کتاب قرآنِ کریم جو سب کے نزدیک مشہور اور متواتر ہے، اور دو سری رسول اکرم ﷺ کی احادیث کی کتاب صحیح بخاری ہے اگرچہ احادیث رسول اﷲﷺ پر کتابیں اور بھی ہیں لیکن کوئی بھی ان میں سے صحیح بخاری کے ہم پلہ نہیں۔
اسی لئے علما نے صحیح بخاری کو ا صح الکتب بعد کتا ب ا للہ کہا ہے۔ لہٰذا طالب حق کو یہی دو کتابیں کافی ہیں۔ ’’ یعنی قرآن مجید اور صحیح بخاری‘‘
تدوینِ حدیث
تدوینِ حدیث (احادیث کوجمع کرنا) کی ابتدا خلفائے راشدین ہی سے ہوئی ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ کو اگر ذرا بھی شبہ ہو جاتا تو دلیل اور گواہ طلب کر لیتے تھے۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ کے بارے میں محدثین لکھتے ہیں کہ روایت میں انتہائی سختی برتتے تھے اور اگر کوئی شاگرد الفاظِ حدیث یاد کرنے میں کوتاہی کرتا تو ڈانٹتے تھے۔ تحقیق و تنقید کی بنیاد حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ نے ڈالی۔ تابعین ؒ نے اس کے اصول و ضوابط مرتب کئے اور تبع تابعین ؒ نے مستقل اور باضابطہ فن کی حیثیت دی ۔
بخاری شریف کو اگر اسلامی علوم کا ’’ انسا ئیکلوپیڈیا ‘‘ کہا جائے تو بالکل صحیح ہو گا۔
مستجاب الدعوات:
امام بخاری رحمتہ اﷲ علیہ مستجاب الدعوات تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب کے قاری کیلئے بھی دعا کی ہے اور صدہا مشائخ نے اس کا تجربہ کیا ہے کہ ختم بخاری ہر نیک مطلب اور مقصد کیلئے مفید ہے۔
’’ اسلئے تکمیل بخاری کی مجالس میں شریک ہو کر اﷲ ربّ ا لعزّت سے دعائیں مانگنی چاہئیں ‘‘
وفات :
محمد بن ابی حاتم وراق ؒفرماتے ہیں میں نے غالب بن جبریل ؒسے سنا کہ امام بخاری ؒخرتنگ میں انہیں کے پاس تشریف فرما تھے۔ امام بخاری ؒچند روز وہاں رہے پھر بیمار ہوگئے۔ اس وقت ایک ایلچی آیا اور کہنے لگا کہ سمرقند کے لوگوں نے آپ ؒ کوبلایا ہے۔ امام بخاری ؒنے قبول فرمایا۔ موزے پہنے، عمامہ باندھا۔ بیس قدم گئے ہوں گے۔ کہ ا نہوں نے کہا مجھ کو چھوڑ دو ، مجھے ضعف ہو گیا ہے۔ ہم نے چھوڑ دیا۔ امام بخاریؒ نے کئی دعائیں پڑھیں پھر لیٹ گئے۔ آپؒ کے بدن سے بہت پسینہ نکلا۔ دس شوال 256؁ھ بعد نماز عشاء آپؒ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ اگلے روز جب آپؒ کے انتقال کی خبر سمرقند اور ا طراف میں مشہور ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ پورا شہر ماتم کدہ بن گیا۔ جنازہ اٹھا تو شہر کا ہر شخص جنازہ کے ساتھ تھا۔ نماز ظہر کے بعد اس علم و عمل اور زہد و تقویٰ کے پیکر کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔ جب قبر میں رکھا تو آپؒ کی قبر سے مشک کی طرح خوشبو پھوٹی اور بہت دنوں تک یہ خوشبو باقی رہی۔ (ابن ابی حاتم ؒ)
ا نا للہ وا نا ا لیہ راجعون
’’ ہم تو خود اللہ تعالی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں (2:156)
کل من علیھا فا ن ۔ و یبقیٰ و جہ ربک ذ و ا لجلا ل و ا لا کرام ۔
’’زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔ صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت و عزت والی ہے باقی رہ جائے گی ‘‘

Address

HEAD OFFICE: Utca E. T Housing Society Lahore
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Online Magazine Jamiat Ahl e Hadees posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share