15/07/2025
👑 بابر اعظم کی واپسی: کیا صرف فارم کا سوال تھا، یا کچھ چہرے بے نقاب ہونے چاہییں؟ 🏏
پاکستان کرکٹ میں اگر کوئی نام پچھلی دہائی میں تسلسل، وقار، اور کارکردگی کی علامت بنا تو وہ بابر اعظم ہے۔ وہ بلے باز جس نے تب رنز بنائے جب باقی سب ناکام تھے، وہ کپتان جس نے ٹیم کو نمبر ون بنایا، اور وہ کھلاڑی جو عالمی درجہ بندیوں پر پاکستان کا پرچم بلند کرتا رہا۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے کھلاڑی کو نہ صرف قیادت سے محروم کیا گیا بلکہ میڈیا اور بورڈ کے مخصوص حلقوں کے ذریعے مسلسل بدنامی کا نشانہ بنایا گیا۔
کہا گیا کہ وہ "سست" ہے، "دباؤ میں نہیں چلتا"، "فیصلے غلط کرتا ہے" — مگر یہ سب تب کہا گیا جب وہ مسلسل رنز کر رہا تھا، سیریز جتوا رہا تھا، اور دنیا اسے کوہلی کا مدِمقابل مان رہی تھی۔ کیا یہ صرف کرکٹ کی بنیاد پر ہوا؟ نہیں، یہ سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔
پی سی بی کے اندر کچھ بااثر افراد، میڈیا کے مخصوص اینالسٹس، اور سابق کرکٹرز کا ایک ٹولہ مسلسل بابر اعظم کو ہدف بنا رہا تھا۔ ان لوگوں نے ذاتی پسند و ناپسند، حسد، اور "اپنے بندوں" کو اوپر لانے کے لیے بابر کے خلاف بیانیہ بنوایا۔
سوشل میڈیا پر منفی ٹرینڈز، اندرونی لیکس، اور بار بار کپتانی پر سوالات اٹھانا — یہ سب ایک منظم کردار کشی مہم کا حصہ تھا۔
ان میں کچھ نام کھل کر سامنے آئے — مثلاً ایک سابق کپتان جو خود کرکٹ میں تسلسل نہ دے سکے، وہ بار بار بابر پر تنقید کرتے نظر آئے، جبکہ ان کی اپنی قیادت میں ٹیم بار بار شرمندگی کا شکار ہوئی۔
کچھ میڈیا اینکرز، جن کا کرکٹ سے تعلق صرف مائیک اور اسکرپٹ تک محدود ہے، بابر کی ناکامی کی دعا کرتے نظر آئے، کیونکہ انہیں TRP بابر کے خلاف بولنے سے ملتی تھی۔
بورڈ کے اندر بھی چند وہ افراد جو اقتدار کے کھیل کے ماہر ہیں، انہوں نے ایک ایسے کپتان کو ہٹایا جو نرمی، عزت اور وقار سے چل رہا تھا — کیونکہ انہیں ایسا شخص چاہیے تھا جو ان کے اشارے پر چلے۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بابر اعظم کو ہٹانا صرف پرفارمنس کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک طاقت کی جنگ تھی — جہاں بابر نے کبھی جھکنے سے انکار کیا، کبھی چاپلوسی نہ کی، اور نہ کسی گروہ کا حصہ بنا۔
اسی آزاد مزاج نے اسے کمزور نہیں، بلکہ قابلِ فخر بنایا۔ اور یہی بات کچھ لوگوں کو برداشت نہ ہوئی۔
آج جب قوم یہ سوال کرتی ہے کہ بابر کو کیوں ہٹایا گیا؟ تو ان چہروں کو سامنے لانا ہوگا جو "بابر بھائی، بابر بھائی" کہتے ہوئے پس پردہ ان کے خلاف پلاننگ کرتے رہے۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے پچوں کو بابر کے خلاف استعمال کیا، ٹیم کے اندر گروپنگ کی، اور نئے کھلاڑیوں کو بابر سے بدظن کرنے کی کوشش کی۔
مگر تاریخ خاموش نہیں رہتی۔ آج جب قوم دوبارہ بابر کی واپسی کی بات کرتی ہے، تو یہ صرف ان کی فارم کا مسئلہ نہیں — یہ انصاف کا مطالبہ ہے۔
بابر اعظم نہ صرف واپسی کے حقدار ہیں، بلکہ ایک شفاف، عزت دار، اور فنی بنیاد پر سلیکشن کے بھی۔ کیونکہ جو کھلاڑی میدان میں بولے، وہ سلیکٹرز کی میزوں سے بڑا ہوتا ہے۔
---
📌 اختتامیہ:
اگر پاکستان کرکٹ کو واقعی آگے لے جانا ہے تو صرف بیٹنگ لائن کو نہیں، سوچ کو بدلنا ہو گا۔
سلیکشن میں چاپلوسی، ذاتیات اور اندرونی کھیل کو ختم کرنا ہوگا۔
بابر اعظم جیسے کرکٹرز بار بار نہیں آتے — اور جو لوگ انہیں روک رہے ہیں، وہ درحقیقت پاکستان کرکٹ کو روک رہے ہیں۔
--