03/10/2025
غزہ جانے والی عالمی فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی — سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت درجنوں گرفتار
اسلام آباد/یروشلم — اسرائیلی بحریہ نے عالمی سطح پر منظم ہونے والی ”گلوبل صمود فلوٹیلا“ کو روکتے ہوئے متعدد کشتیوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا اور امدادی کارکنان، پارلیمانی اراکین اور رضاکاروں کو حراست میں لے لیا۔ پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی ان میں شامل ہیں اور انہیں گرفتار کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
کیا لے جایا جا رہا تھا؟
فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر جو سامان تھا وہ بظاہر علامتی اور انسانی ہمدردی کے نقطۂ نظر سے رکھی گئی امدادی اشیاء تھیں — خوراک، طبی ساز و سامان اور ابتدائی طبی کٹس وغیرہ — جبکہ منتظمین کا کہنا ہے کہ سامان بنیادی طور پر غزہ تک امداد پہنچانے اور محاصرہ کی نشاندہی کرنے کے لیے تھا۔ اسرائیلی فوج نے اس مہم کو بلاکڈ نیوی کے خلاف قرار دیتے ہوئے روک دیا۔
کتنے اور کس کس ممالک کے لوگ پکڑے گئے؟
فلوٹیلا میں تقریباً 40–50 کشتیوں اور تقریباً 400–500 شرکاء شامل تھے۔ گرفتار شدگان میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں — رپورٹس کے مطابق ان میں سوئڈن (مثلاً گریٹا تھنبرگ کی شمولیت کی خبریں عالمی ذرائع میں چھپی ہیں)، آسٹریلیا، اٹلی (کچھ رکن پارلیمان)، ترکی، جرمنی، پرتگال، عمان اور بہت سے یورپی اور غیر یورپی ممالک کے فعال کارکن شامل تھے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ شرکاء 40 سے زائد ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔
پاکستان کا ردِ عمل اور اقدامات
پاکستانی حکام اور انسانی حقوق/فلسطین فوروَم نے مطالبہ کیا ہے کہ مشتاق احمد خان اور دیگر پاکستانی شہریوں کی حفاظت اور جلد رہائی کو یقینی بنایا جائے۔ دفترِ خارجہ اور حکومت نے معاملے کو نوٹ کیا ہے اور مبینہ طور پر یورپی پارٹنرز کے ذریعے رہائی کی کوششیں جاری ہیں۔ بعض پاکستانی نیوز پلیٹ فارمز نے بھی اس گرفتاری کی تصدیق شائع کی ہے۔
بین الاقوامی ردِ عمل — احتجاج اور تنقید
فلوٹیلا پر کارروائی کے بعد دنیا کے کئی شہروں میں فوری احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے — یورپ کے بڑے شہروں، آسٹریلیا (سڈنی وغیرہ) اور دیگر جگہوں پر ہزاروں افراد نے اس کارروائی کی مذمت کی اور غزہ تک امداد پہنچانے کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اسرائیلی کارروائی پر قانونی اور انسانی سوالات اٹھائے ہیں، اور بعض ماہرین نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے بحث کا موضوع قرار دیا ہے۔
کیا آئندہ ممکن ہے؟
فلوٹیلا کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکمتِ عملی تبدیل کر کے نئی کوششیں جاری رکھیں گے اور دوسری تنظیمیں بھی اس سلسلے میں حمایت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اسرائیل نے حراست میں لیے گئے افراد کی ملک واپسی یا ڈی پورٹیشن کے عمل کے بارے میں بیانات دیے ہیں — تاہم کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے تحفظ اور قانونی حیثیت کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔
---
حوالہ جات (اہم ذرائع جن پر رپورٹ مبنی ہے)
Dawn / Geo / The Tribune — پاکستانی ذرائع جو مشتاق احمد خان کی شمولیت اور گرفتاری کی تصدیق کرتے ہیں۔
Reuters, Al Jazeera, AP — فلوٹیلا کی بین الاقوامی گرفتاریوں، حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد اور عالمی ردِ عمل کی تفصیلات۔
Arab News — پاکستان کی طرف سے یورپی ملک کے ذریعے رہائی کے اقدامات کی رپورٹس۔