ABcNews

ABcNews Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ABcNews, Media/News Company, Near matro Gajumata stop lahore, Lahore.

۔

ہمارا مقصد ہے کہ ہم عوام کی آواز بنیں، اور ہر خبر آپ تک تیز، درست اور دیانتداری کے ساتھ پہنچائیں۔
ABC News پر ہر وہ بات جو آپ جاننا چاہتے ہیں – صاف، سچ اور واضح۔

"ABC News – باخبر عوام، بہتر قوم!"

غزہ جانے والی عالمی فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی — سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت درجنوں گرفتاراسلام آباد/یروشلم — اسرا...
03/10/2025

غزہ جانے والی عالمی فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی — سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت درجنوں گرفتار

اسلام آباد/یروشلم — اسرائیلی بحریہ نے عالمی سطح پر منظم ہونے والی ”گلوبل صمود فلوٹیلا“ کو روکتے ہوئے متعدد کشتیوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا اور امدادی کارکنان، پارلیمانی اراکین اور رضاکاروں کو حراست میں لے لیا۔ پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی ان میں شامل ہیں اور انہیں گرفتار کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کیا لے جایا جا رہا تھا؟

فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر جو سامان تھا وہ بظاہر علامتی اور انسانی ہمدردی کے نقطۂ نظر سے رکھی گئی امدادی اشیاء تھیں — خوراک، طبی ساز و سامان اور ابتدائی طبی کٹس وغیرہ — جبکہ منتظمین کا کہنا ہے کہ سامان بنیادی طور پر غزہ تک امداد پہنچانے اور محاصرہ کی نشاندہی کرنے کے لیے تھا۔ اسرائیلی فوج نے اس مہم کو بلاکڈ نیوی کے خلاف قرار دیتے ہوئے روک دیا۔

کتنے اور کس کس ممالک کے لوگ پکڑے گئے؟

فلوٹیلا میں تقریباً 40–50 کشتیوں اور تقریباً 400–500 شرکاء شامل تھے۔ گرفتار شدگان میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں — رپورٹس کے مطابق ان میں سوئڈن (مثلاً گریٹا تھنبرگ کی شمولیت کی خبریں عالمی ذرائع میں چھپی ہیں)، آسٹریلیا، اٹلی (کچھ رکن پارلیمان)، ترکی، جرمنی، پرتگال، عمان اور بہت سے یورپی اور غیر یورپی ممالک کے فعال کارکن شامل تھے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ شرکاء 40 سے زائد ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔

پاکستان کا ردِ عمل اور اقدامات

پاکستانی حکام اور انسانی حقوق/فلسطین فوروَم نے مطالبہ کیا ہے کہ مشتاق احمد خان اور دیگر پاکستانی شہریوں کی حفاظت اور جلد رہائی کو یقینی بنایا جائے۔ دفترِ خارجہ اور حکومت نے معاملے کو نوٹ کیا ہے اور مبینہ طور پر یورپی پارٹنرز کے ذریعے رہائی کی کوششیں جاری ہیں۔ بعض پاکستانی نیوز پلیٹ فارمز نے بھی اس گرفتاری کی تصدیق شائع کی ہے۔

بین الاقوامی ردِ عمل — احتجاج اور تنقید

فلوٹیلا پر کارروائی کے بعد دنیا کے کئی شہروں میں فوری احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے — یورپ کے بڑے شہروں، آسٹریلیا (سڈنی وغیرہ) اور دیگر جگہوں پر ہزاروں افراد نے اس کارروائی کی مذمت کی اور غزہ تک امداد پہنچانے کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اسرائیلی کارروائی پر قانونی اور انسانی سوالات اٹھائے ہیں، اور بعض ماہرین نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے بحث کا موضوع قرار دیا ہے۔

کیا آئندہ ممکن ہے؟

فلوٹیلا کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکمتِ عملی تبدیل کر کے نئی کوششیں جاری رکھیں گے اور دوسری تنظیمیں بھی اس سلسلے میں حمایت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اسرائیل نے حراست میں لیے گئے افراد کی ملک واپسی یا ڈی پورٹیشن کے عمل کے بارے میں بیانات دیے ہیں — تاہم کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے تحفظ اور قانونی حیثیت کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔

---

حوالہ جات (اہم ذرائع جن پر رپورٹ مبنی ہے)

Dawn / Geo / The Tribune — پاکستانی ذرائع جو مشتاق احمد خان کی شمولیت اور گرفتاری کی تصدیق کرتے ہیں۔

Reuters, Al Jazeera, AP — فلوٹیلا کی بین الاقوامی گرفتاریوں، حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد اور عالمی ردِ عمل کی تفصیلات۔

Arab News — پاکستان کی طرف سے یورپی ملک کے ذریعے رہائی کے اقدامات کی رپورٹس۔

13/05/2025

بھارت کے 24 ہوائی اڈے مسلسل غیر فعال، سینکڑوں پروازیں منسوخ – آخر کیوں؟

گزشتہ ایک ہفتے سے بھارت کے مختلف علاقوں میں ہوائی سفر بری طرح متاثر ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 24 اہم ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن معطل ہے اور 444 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ ان ایئرپورٹس سے تمام یا بیشتر طیارے بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے: یہ سب ایک وقتی احتیاط ہے یا کسی بڑے اور خفیہ منصوبے کا اشارہ؟

متاثرہ ایئرپورٹس اور تفصیلات:

امرتسر ایئرپورٹ (یومیہ 123 پروازیں) مکمل طور پر بند، صرف ایک سیسنا طیارہ موجود۔

سری نگر ایئرپورٹ 7 دن سے بند، روزانہ 65 پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں، کوئی جہاز موجود نہیں۔

جموں ایئرپورٹ کی 30 پروازیں منسوخ، تمام طیارے غائب۔

لداخ (لیہ) میں بھی 30 پروازیں متاثر، فلائٹ آپریشن مکمل بند۔

دھرم شالا کی 14 پروازیں بند، صرف ایک سول ایوی ایشن کا گلوبل رینجر جہاز موجود۔

چندی گڑھ کی 70 پروازیں منسوخ، گراؤنڈ پر چند چھوٹے جہاز کھڑے۔

شملہ، لدھیانہ، بٹھنڈہ، کشن گڑھ، راجکوٹ، کیشود، پور بندر، جام نگر اور دیگر علاقوں کے ایئرپورٹس پر بھی یہی صورتحال ہے۔

بعض مقامات جیسے کشن گڑھ میں اگرچہ تربیتی اکیڈمیز کے طیارے موجود ہیں، لیکن کمرشل پروازوں کی مکمل بندش ہے۔ شملہ ایئرپورٹ پر صرف ایک طیارہ اور ایک ہیلی کاپٹر موجود ہیں جو کئی دن سے پرواز نہیں کر سکے۔

ممکنہ وجوہات:

یہ صورتحال محض موسمی خرابی کا نتیجہ نہیں لگتی، کیونکہ:

سیز فائر کی موجودگی میں بھی بارڈر ایریاز سے ملحقہ کئی ہوائی اڈے بند ہیں۔

کئی مقامات سے مکمل طور پر جہاز ہٹا دیے گئے ہیں۔

ایوی ایشن اتھارٹیز نے باقاعدہ وجہ بتانے سے گریز کیا ہے۔

حالیہ رپورٹس اور تجزیہ:

بھارت کی وزارتِ دفاع اور سول ایوی ایشن کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، ممکن ہے کہ یہ غیر معمولی اقدامات کسی بڑے عسکری مشق یا خفیہ نقل و حرکت کا حصہ ہوں۔

کچھ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ متوقع کشیدگی یا ہنگامی حالات کی تیاری ہو سکتی ہے، خاص طور پر شمالی علاقوں میں۔

08/05/2025

"قوم کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے!"

ہمارے درمیان کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو ایک سیاسی جماعت کا لبادہ اوڑھ کر سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں، لیکن دراصل ان کا مقصد صرف ملک کو کمزور کرنا ہے۔ یہ لوگ بظاہر محبِ وطن بن کر ہمارے جذبات کا سہارا لیتے ہیں، مگر اندر ہی اندر پاکستان دشمن ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔

جب ہماری بہادر افواج نے دشمن کے طیارے گرائے اور بڑی کامیابیاں حاصل کیں، تو یہی چہرے داد و تحسین دیتے نظر آئے، لیکن ان کے دلوں میں جلن اور بغض چھپا تھا۔ یہ لوگ نہ پاکستان کے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی ہمارے اداروں کے حامی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایسے چہروں کو پہچانیں اور ان کا سوشل بائیکاٹ کریں۔

انہیں ان فالو کریں، ان کے پیجز کو سپورٹ نہ کریں، کیونکہ یہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ دشمن کو میدانِ جنگ میں شکست ہو چکی ہے، اور اب وہ سوشل میڈیا کے محاذ پر قوم کے مورال کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

گزشتہ چند دنوں میں فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف جو مہم دوبارہ شروع ہوئی ہے، وہ اسی سازش کا حصہ ہے۔ ہمیں بطور پاکستانی متحد ہو کر اپنی افواج اور اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، اور ان چہروں کو بے نقاب کرنا ہے جو بظاہر ہمارے ہمدرد اور ہمیں میں سے لیکن درحقیقت وہ دشمن کے پٹھوں ہیں، لیکن درحقیقت دشمن کے آلہ کار بن چکے ہیں۔
ہر وہ عام پاکستانی جس کے ہاتھ میں موبائل ہے وہ سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے ملک کے لیے کمنٹ کریں پاک فوج زندہ باد پاک ارمی زندہ باد کمنٹ کریں پاکستان زندہ باد کمنٹ کریں ان لوگوں کے پوسٹوں پر جو غیر سنجیدہ پوسٹیں کر رہے ہیں جو غیر سنجیدہ باتیں کر رہے ہیں لوگوں کو پاک ارمی کے خلاف بھڑکا رہے ہیں یاد رکھیں آج کے دور میں ہتھیاروں سے زیادہ بڑی لڑائی سوشل میڈیا کی ہے ذہنی لڑائی جو ہے وہ سب سے بڑی ہے انڈیا اس چیز سے پریشان ہے کہ یہ کیسی قوم ہے کہ یہ لوگ جنگ کے لیے خوشیاں منا رہے ہیں جنگ کی تمنا کر رہے ہیں

یہ وقت ہے کہ ہم ذمہ دار شہری بن کر اپنی ڈیجیٹل طاقت سے پاکستان کا دفاع کریں۔
یہ وقت نہیں ہے کسی لیڈر کی بات کرنے کا یہ وقت نہیں ہے اپس میں کسی سیاسی لڑائی کو لڑنے کا یہ وقت ہے کہ شیشہ بلائی ہوئی دیوار بن کر ملک کے ساتھ کھڑے ہو جائیں فوج کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہو جائیں وہ حکومت چاہے جیسے بھی آئی ہے جو بھی ہے وہ بعد کا مسئلہ ہے یہ لڑائی ہم بعد میں لڑیں گے یہ لڑائی اس ٹائم ہماری اور ہمارے دشمن ملک کی ہے محب وطن بنے محب وطن بن کر ملک کا ساتھ دیں پاک فوج زندہ باد پاکستان زندہ باد

"موسم کا حال جانیں! آج کہاں ہوگی بارش؟ کہاں پڑے گی شدید گرمی؟ مکمل تفصیل اس لنک میں!"
04/05/2025

"موسم کا حال جانیں! آج کہاں ہوگی بارش؟ کہاں پڑے گی شدید گرمی؟ مکمل تفصیل اس لنک میں!
"

"پاکستان کا آج کا مکمل موسمی حال — 4 مئی 2025 کی بارشوں اور آندھی کی تازہ ترین پیش گوئی" --- آج 4 مئی 2025 کو پاکستان کے مختلف شہروں میں با...

01/05/2025

چونیاں: گھریلو تنازع کے نتیجے میں خاتون جان سے گئی، شوہر نے خود پولیس کو اطلاع دی

چونیاں (نمائندہ اے بی سی نیوز) – پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی علاقے کھوکھر ٹوچر میں گھریلو جھگڑے کے نتیجے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں شوہر نے اپنی اہلیہ کی جان لے لی۔

پولیس ذرائع کے مطابق، ندیم نامی شخص نے مبینہ طور پر تین روز قبل اپنی 22/23 سالہ بیوی ارم بی بی کو گھریلو ناچاقی کے باعث کلہاڑی سے وار کر کے قتل کر دیا۔ ملزم نے لاش کو مبینہ طور پر قریبی کھڈے میں دبا دیا۔

واقعے کا انکشاف اُس وقت ہوا جب علاقے میں بدبو پھیلنے لگی اور ملزم نے خود 15 پر کال کر کے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تھانہ الہ آباد چوکی تلونڈی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔

21/04/2025

یاک – شمالی پاکستان کا خزانہ: غذائیت، معیشت، ثقافت اور قدرتی نظام کا ستون

یاک، ایک ایسا جانور جو بیک وقت طاقت، برداشت، اور قیمتی وسائل کی علامت ہے، دنیا کے بلند ترین اور سخت ترین موسموں والے خطوں میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں گلگت بلتستان، ہنزہ، نگر، اور اسکردو جیسے علاقوں میں یہ جانور نہ صرف مقامی معیشت بلکہ ثقافت، خوراک، اور قدرتی ماحول کے لیے ایک بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔

---

نسل، تاریخ اور ماحولیاتی مطابقت

یاک کا سائنسی نام Bos grunniens ہے۔ اسے دنیا بھر میں دو اقسام میں پہچانا جاتا ہے:

پالتو یاک (Domestic Yak):
انسانوں کے ساتھ ہم آہنگ، گھریلو استعمال کے لیے پالے جانے والے یاک جو بنیادی طور پر خوراک، اون، نقل و حمل اور کھیتوں کے کام میں استعمال ہوتے ہیں۔

جنگلی یاک (Wild Yak):
نایاب اور اب معدومی کے خطرے سے دوچار جنگلی نسل، جو بنیادی طور پر چین اور تبت کے انتہائی بلندی والے علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

یاک ہزاروں سال سے انسانی تمدن کا حصہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں درجہ حرارت منفی 40 ڈگری تک گر جاتا ہے۔

---

دودھ – قدرتی توانائی کا ذخیرہ

یاک کا دودھ نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہے بلکہ اسے "سپر فوڈ" کے درجے میں بھی شامل کیا جا رہا ہے:

دودھ گاڑھا اور کریمی ہوتا ہے، جس میں قدرتی مٹھاس اور حرارت بخش اجزاء پائے جاتے ہیں

چکنائی کی مقدار 5% سے 7% تک

پروٹین، کیلشیم، وٹامن B12، اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈ سے بھرپور

شمالی علاقوں میں اس دودھ سے مکھن، دہی، چورپی (خالص پنیر)، گھی اور مکھن چائے (Butter Tea) تیار کی جاتی ہے

یہ دودھ خاص طور پر بچوں، بوڑھوں، اور کمزور جسم والے افراد کے لیے نہایت مفید مانا جاتا ہے

---

گوشت – غذائی اور طبی فوائد سے بھرپور

یاک کا گوشت ایک مکمل قدرتی، ہارمون فری، اور صحت بخش ذریعہ ہے:

چکنائی میں نہایت کم، پروٹین اور آئرن سے بھرپور

دل کے مریضوں کے لیے موزوں، کم کولیسٹرول

ذائقہ میں قدرے بیف جیسا، مگر ہلکا اور ہضم ہونے میں آسان

مقامی لوگ اسے شوربے، خشک گوشت (Jerky)، یا روایتی کھانوں میں استعمال کرتے ہیں

بین الاقوامی سطح پر یاک کا گوشت مہنگی آرگینک پروڈکٹ کے طور پر جانا جاتا ہے، خاص طور پر یورپ، جاپان، اور امریکہ کی ہیلتھ فوڈ مارکیٹ میں

---

اون – قدرتی لباس کا خزانہ

یاک کی اون دنیا کے قیمتی فائبرز میں شامل ہے:

نرم، گرم، اور ضدی سردی میں بھی حرارت برقرار رکھنے والی اون

یاک کی اون سے کمبل، شالیں، ٹوپیاں، دستانے اور موزے تیار کیے جاتے ہیں

فیشن انڈسٹری میں یاک اون کو خاص مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ نہ صرف پائیدار بلکہ ماحول دوست بھی ہے

اون کا رنگ قدرتی بھورا، کالا یا خاکی ہوتا ہے، جو بغیر رنگے بھی پریمیم مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے

---

چرائی اور خوراک – قدرتی نظام کا حصہ

یاک مکمل طور پر قدرتی چراگاہوں پر انحصار کرتا ہے:

گھاس، جھاڑیاں، جڑی بوٹیاں، اور برف پوش علاقوں میں پائے جانے والے موسمی پودے اس کی خوراک کا حصہ ہیں

خشک موسم یا برفباری میں مقامی لوگ سوکھی گھاس یا خصوصی تیار کردہ چارہ دیتے ہیں

یاک کا نظام انہضام انتہائی سخت ہوتا ہے، جو کم خوراک میں بھی بھرپور توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

اس کے چرنے سے چراگاہی نظام کا توازن برقرار رہتا ہے اور زمین کی زرخیزی میں بہتری آتی ہے

---

پرورش، رہائش اور افزائش نسل

یاک کو کھلے، ہوادار، اور سرد مقامات پر رکھنا ضروری ہوتا ہے

اونچائی والے علاقوں میں خصوصی احاطے یا چراگاہیں اس کے لیے مخصوص کی جاتی ہیں

برفباری میں اسے جسم ڈھانپنے والی چادر یا چھتری دار شیڈ میں رکھا جاتا ہے

افزائشِ نسل میں نر یاک کا کردار نہایت اہم ہے، کیونکہ وہ ایک وقت میں کئی مادہ یاکز کے ساتھ تولید میں حصہ لیتا ہے

مادہ یاک سال میں صرف ایک بچہ دیتی ہے، اس لیے بہتر دیکھ بھال لازمی ہے

---

معاشی امکانات – پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع

یاک ایک ایسا ذریعہ ہے جو پاکستان کی مقامی اور بین الاقوامی معیشت کو نئی سمت دے سکتا ہے:

گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں میں یاک فارمنگ کو فروغ دے کر مقامی لوگوں کو روزگار دیا جا سکتا ہے

یاک کا گوشت، دودھ، اور اون عالمی مارکیٹ میں ایکسپورٹ کر کے زرِمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے

فارمنگ کے ساتھ ساتھ مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن جیسے یاک پنیر، خشک گوشت، اور اون کی مصنوعات سے مقامی انڈسٹری کو تقویت مل سکتی ہے

حکومت اگر یاک کو "قومی پہاڑی جانور" کے طور پر تسلیم کرے، تو اس سے تحفظ اور ترقی دونوں ممکن ہو سکتے ہیں

---

ثقافتی شناخت اور سیاحت

یاک شمالی پاکستان کے میلوں، شادیوں، اور علاقائی تقریبات کا اہم حصہ ہوتا ہے

یاک کی دوڑ، یاک پر سواریاں، اور یاک سے جڑی لوک کہانیاں مقامی ثقافت میں گہرائی سے پیوست ہیں

سیاحت کو فروغ دینے کے لیے یاک سفاری، یاک شو، اور یاک کارنیول جیسے ایونٹس ترتیب دیے جا سکتے ہیں

ان ایونٹس سے نہ صرف مقامی ثقافت کو فروغ ملے گا بلکہ سیاحت سے آمدنی بھی بڑھے گی

---

نتیجہ: مستقبل کی طرف بڑھتا ایک قدیم قدم

یاک صرف ایک جانور نہیں بلکہ ایک مکمل نظام ہے جو خوراک، معیشت، ماحول، اور ثقافت سے جُڑا ہوا ہے۔ شمالی پاکستان میں اگر اس پر توجہ دی جائے تو یہ علاقہ غذائی خود کفالت، ایکسپورٹ اور سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کا ماڈل بن سکتا ہے۔

---

رپورٹ: ABC نیوز ریسرچ ڈیسک

19/04/2025

🌟 وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے یورپی یونین پارلیمانی وفد کی ملاقات



---

📰 آج کی اہم خبریں (19 اپریل 2025)

1. 🇵🇰 نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کابل کا دورہ



2. 🍗 پاکستان میں KFC پر حملے، 170 سے زائد گرفتاریاں



3. ⚖️ اٹلی میں پاکستانی والدین کو بیٹی کے قتل پر عمر قید



4. 🕌 کراچی میں احمدی کمیونٹی کے رکن کا قتل



5. ✈️ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کی تیاری



6. 🏥 پنجاب میں صحت کے شعبے میں اصلاحات



7. 📚 تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان



8. 🚗 موٹر وے پر ٹریفک حادثہ، 5 افراد جاں بحق



9. 🌾 گندم کی خریداری مہم کا آغاز



10. 💡 لوڈشیڈنگ میں کمی کا اعلان



11. 🛢️ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل



12. 🏗️ لاہور میں میگا ترقیاتی منصوبوں کا آغاز



13. 🚌 پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ



14. 🌧️ لاہور میں بارش کا امکان



15. 🏥 ڈینگی کے کیسز میں اضافہ



16. 🏫 تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی سخت



17. 🛣️ لاہور رنگ روڈ کے توسیعی منصوبے کا آغاز



18. 🏢 سرکاری دفاتر میں حاضری کا نیا نظام

18/04/2025

ABC نیوز رپورٹ

شیخوپورہ میں آسمانی بجلی کا قہر – ایک مزدور جاں بحق، دوسرا شدید زخمی

شیخوپورہ (ABC نیوز) – آج شیخوپورہ کے نواحی علاقے فیروز وٹواں میں قدرتی آفت نے افسوسناک منظر پیش کیا، جب فیصل آباد روڈ پر آسمانی بجلی گرنے سے دو مزدوروں کو شدید نقصان پہنچا۔ اس حادثے میں ایک نوجوان مزدور موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق مزدور معمول کے مطابق اپنے کام میں مصروف تھے کہ اچانک گرج چمک کے ساتھ آسمانی بجلی ایک دم زمین سے جا ٹکرائی۔ واقعے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ایک مزدور موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ دوسرا بری طرح جھلس گیا۔

زخمی نوجوان کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی، تاہم قریبی افراد نے بتایا کہ اس کی حالت تشویشناک ہے اور اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم اس کی جان بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

زخمی نوجوان کی گفتگو نے ہر آنکھ نم کر دی

زخمی نوجوان نے ہسپتال میں ہوش میں آنے کے بعد انتہائی کمزور آواز میں کہا:
"ہم تو رزق کی تلاش میں نکلے تھے، یہ خبر نہ تھی کہ موت اتنی قریب ہے…"
اس کی یہ بات سن کر موجود ہر شخص کی آنکھ اشکبار ہو گئی۔

---

علاقے میں افسوس کی فضا

واقعے کے بعد پورے علاقے میں افسوس اور رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اہل علاقہ نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زخمی مزدور کے علاج اور جاں بحق مزدور کے لواحقین کے لیے فوری امداد فراہم کی جائے۔

---

ABC نیوز کی اپیل

ABC نیوز اپنے قارئین سے گزارش کرتا ہے کہ زخمی بھائی کی صحت و تندرستی کے لیے دعا کریں۔
"اللّٰہ تعالیٰ زخمی بھائی کو صحت والی، تندرستی والی، اور عمر دراز عطا فرمائے – آمین"

18/04/2025

🌩️ آج شام پاکستان میں گرج چمک، ژالہ باری اور تیز ہواؤں کا امکان



متاثرہ علاقے:

پنجاب:

خیبرپختونخوا:

اسلام آباد:

کشمیر و گلگت بلتستان:

بلوچستان:

🌡️ درجہ حرارت کی صورتحال:



🛑 ممکنہ خطرات اور احتیاطی تدابیر:

محکمہ موسمیات کی تازہ ترین پیشگوئی کے مطابق، آج دن کے اختتام پر وسطی اور شمالی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، اور آزاد کشمیر میں ایسے موسمی نظام بن رہے ہیں جن کے باعث گرج چمک کے طوفان پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان طوفانوں کے ساتھ تیز رفتار ہوائیں، آسمانی بجلی، اور کچھ علاقوں میں ژالہ باری بھی ممکن ہے۔

گرمی کی شدت اور طوفان کا ربط

ماہرین موسمیات نے واضح کیا ہے کہ اگر دن کے اوقات میں سورج کی گرمی میں اضافہ ہوا اور درجہ حرارت بلند رہا، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ شام کو بننے والے بادل زیادہ طاقتور ہوں گے، جو بڑے پیمانے پر بارش اور ژالہ باری کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر دن کے وقت موسم معتدل یا ٹھنڈا رہا تو گرج چمک کی شدت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

---

متاثرہ علاقے

یہ طوفانی نظام خاص طور پر درج ذیل علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے:

پنجاب: لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سیالکوٹ

خیبرپختونخوا: پشاور، مردان، نوشہرہ، ایبٹ آباد، سوات

اسلام آباد و راولپنڈی: دارالحکومت اور گرد و نواح میں شدید گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے

کشمیر اور گلگت بلتستان: بالائی علاقوں میں ژالہ باری اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ موجود ہے

---

محکمہ موسمیات اور NDMA کی ہدایات

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ:

غیر ضروری سفر سے گریز کریں

کمزور درختوں یا بجلی کی تاروں کے نیچے کھڑے ہونے سے پرہیز کریں

ممکنہ ژالہ باری سے فصلوں، گاڑیوں اور دیگر املاک کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں

موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں اور مستند ذرائع سے خبریں حاصل کریں

---

زرعی علاقوں میں احتیاط کی ضرورت

زرعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ژالہ باری ہوتی ہے تو گندم اور دیگر تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فصلوں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات جلد از جلد مکمل کریں۔

18/04/2025

نوشہرہ ورکاں: نوجوان لڑکی پراسرار طور پر جاں بحق، اہل علاقہ افسردہ
رپورٹ: ABC Urdu News

گوجرانوالہ کے نواحی علاقے جاگووال، تحصیل نوشہرہ ورکاں میں جمعرات کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں 17 سالہ لڑکی اپنی رہائش گاہ کی چھت پر جاں بحق ہو گئی۔ واقعہ کے فوری بعد مقامی تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ اہل علاقہ گہرے دکھ اور صدمے میں مبتلا ہیں۔

پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق، لڑکی مریم عباس اپنے ہمسایوں کے لیے دودھ لے کر جا رہی تھی جب یہ واقعہ پیش آیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واقعہ میں تین افراد کے ملوث ہونے کا شبہ ہے جن میں سے ایک کی شناخت کر لی گئی ہے۔

تفتیشی ادارے واقعے کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں تاکہ اصل محرکات سامنے لائے جا سکیں۔ اس موقع پر مقامی افراد اور سوشل میڈیا صارفین نے انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔

17/04/2025

یورپی یونین کا پناہ گزین درخواستوں کی فہرست جاری کرنے کا فیصلہ: سات ممالک کو "محفوظ" قرار دے دیا

یورپی یونین نے بدھ کے روز ایک اہم اعلان کیا جس میں سات ممالک کو "محفوظ" قرار دے دیا گیا ہے، اور ان کے شہریوں کی پناہ گزین درخواستوں کو جلد نمٹانے اور انہیں واپس بھیجنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ابتدائی فہرست جاری کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ یورپی پارلیمان اور رکن ممالک کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہوگا۔

شامل ممالک کی فہرست
یورپی یونین کی فہرست میں درج ممالک میں کوسوو، بنگلہ دیش، کولمبیا، مصر، بھارت، مراکش اور تیونس شامل ہیں۔ ان ممالک کے شہریوں کے لیے یورپی یونین کے اراکین کی جانب سے پناہ گزین درخواستوں کو ’’بلا جواز‘‘ قرار دینا ممکن ہوگا، جس سے ان درخواستوں کو تیزی سے نمٹانے کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کی تنقید
یہ اقدام یورپی یونین کے فیصلے پر انسانی حقوق کے کارکنوں کی شدید تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان ممالک کے شہریوں کی پناہ گزین درخواستوں کی جانچ پڑتال کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور ان افراد کو جنہیں حقیقی طور پر پناہ کی ضرورت ہو، تحفظ نہیں ملے گا۔

پناہ گزینوں کی صورتحال
یورپی یونین کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ میں پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اور مختلف ممالک پناہ گزینوں کے حوالے سے اپنے قوانین اور پالیسیز کو مزید سخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، اس فیصلے کے اثرات اور اس کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ رکن ممالک اس پر کس طرح عمل کرتے ہیں اور اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

یورپی یونین کا یہ اقدام پناہ گزینوں کی درخواستوں کے نظام میں تیزی لانے کی کوشش کرتا ہے، تاہم انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اب بھی باقی ہیں۔

آئرلینڈ: ایک بہترین جاب اور زندگی کے مواقع کے لیے خوابوں کی سرزمینآئرلینڈ دنیا کے تیز ترین ترقی کرنے والے اور سب سے امیر...
17/04/2025

آئرلینڈ: ایک بہترین جاب اور زندگی کے مواقع کے لیے خوابوں کی سرزمین

آئرلینڈ دنیا کے تیز ترین ترقی کرنے والے اور سب سے امیر ممالک میں شامل ہے۔ یہاں نہ صرف معیاری تعلیم اور صحت کے شعبے میں زبردست مواقع ہیں بلکہ یہاں کی معیشت، زندگی کے معیار اور مقامی لوگوں کی مہمان نوازی بھی عالمی سطح پر مشہور ہے۔ آئرلینڈ ایک ایسا ملک ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ آ کر اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آئرلینڈ میں پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی کمیونٹیز

آئرلینڈ ایک ملٹی کلچرل ملک ہے، جہاں مختلف قوموں کے لوگ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں پاکستانیوں کی تعداد تقریباً 15,000 سے 20,000 تک ہے، جبکہ بھارتی کمیونٹی کا حجم تقریباً 50,000 کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 5,000 کے قریب ہے۔ ان کمیونٹیز کا آئرلینڈ میں اپنا ایک مضبوط مقام ہے اور یہ ملک کے معاشی اور ثقافتی پہلوؤں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان

آئرلینڈ میں آئرش اور انگریزی دونوں سرکاری زبانیں ہیں، لیکن انگریزی زبان کا استعمال زیادہ عام ہے۔ روزمرہ کی زندگی، کاروبار، تعلیم اور حکومتی امور میں انگریزی زبان کا غلبہ ہے، جو آئرلینڈ کو بین الاقوامی سطح پر ایک تجارتی مرکز کے طور پر مضبوط بناتا ہے۔

آئرلینڈ میں آمدنی کے مواقع

آئرلینڈ میں مختلف شعبوں میں بہتر تنخواہیں ملتی ہیں:

ٹیکسی ڈرائیورز: اگر آپ آئرلینڈ میں ٹیکسی چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ ماہانہ 8,000 سے 10,000 یورو تک کما سکتے ہیں۔

ہیلتھ سیکٹر: یہاں صحت کے شعبے میں بہت زیادہ جابز کی ڈیمانڈ ہے، اور اس شعبے میں کام کرنے والے افراد بھی اچھی تنخواہیں کما سکتے ہیں۔

کنسٹرکشن: آئرلینڈ میں کنسٹرکشن کا شعبہ بھی بہت ترقی کر رہا ہے، اور اگر آپ کو اس کا تجربہ ہے تو آپ پرانے گھروں کی خرید و فروخت کر کے بھی اچھا منافع کما سکتے ہیں۔

فری اور معیاری تعلیم: آئرلینڈ میں تعلیمی ادارے عالمی معیار کے ہیں اور یہاں طالب علموں کو فری تعلیم دی جاتی ہے، جو کسی بھی دوسرے یورپی ملک میں دستیاب نہیں۔

آئرلینڈ میں آنے کے آسان طریقے

آئرلینڈ میں جانے کے لیے سب سے آسان طریقہ اسکالرشپس اور ورک پرمٹ حاصل کرنا ہے:

اسکالرشپس: آئرلینڈ میں دنیا بھر کے طلباء کے لیے اسکالرشپس کے کئی پروگرامز موجود ہیں، جن کے ذریعے آپ اپنی تعلیم کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

ورک پرمٹ: آئرلینڈ کی حکومت نے ورک پرمٹ کے عمل کو بہت آسان بنا دیا ہے، اور آپ مختلف شعبوں میں کام کرنے کے لیے یہاں آ سکتے ہیں۔

آئرلینڈ: ایک خوابوں کی سرزمین

آئرلینڈ کی معیشت، زندگی کے معیار، اور یہاں کے عوام کی مہمان نوازی اس ملک کو دنیا بھر سے آنے والوں کے لیے ایک مثالی منزل بناتی ہیں۔ یہاں کی خوبصورتی، معیاری تعلیم، اور ترقی کے مواقع آپ کو اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی بھرپور مدد فراہم کرتے ہیں۔

Address

Near Matro Gajumata Stop Lahore
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ABcNews posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share