07/09/2026
سیالکوٹ کا قلعہ آج بھی کھڑا ہے، اور اس سے کچھ ہی فاصلے پر ایک پرانا کنواں بھی — جسے لوگ آج تک "پورن دی کھوہ" کہتے ہیں۔ یہ کنواں محض ایک تاریخی نشانی نہیں، بلکہ صدیوں پرانی ایک ایسی کہانی کی یادگار ہے جو پنجاب کے ہر گھر میں کسی نہ کسی صورت سنائی جاتی رہی ہے۔
کہانی شروع ہوتی ہے راجہ سالوان سے، جو سیالکوٹ کا حکمران تھا۔ برسوں تک اولاد کی نعمت سے محروم رہا، یہاں تک کہ اس کی ملکہ اچھراں نے ایک بیٹے کو جنم دیا، جس کا نام پورن رکھا گیا۔ محل میں خوشیاں منائی گئیں، مگر نجومیوں نے ایک عجیب پیش گوئی کر دی — اگر راجہ نے بارہ سال تک اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا تو اس پر بڑی مصیبت آئے گی۔ چنانچہ معصوم پورن کو محل سے دور، ایک تنہا جگہ بھیج دیا گیا، جہاں وہ بارہ برس تک پرورش پاتا رہا۔
انہی برسوں میں راجہ سالوان نے دوسری شادی کر لی۔ نئی رانی کا نام لونا تھا — پورن ہی کی ہم عمر، خوبصورت اور محل کی زندگی میں تنہا۔ جب پورن بارہ سال بعد واپس محل لوٹا، تو وہ ایک وجیہہ نوجوان بن چکا تھا۔ رسم کے مطابق اسے اپنی سوتیلی ماں لونا سے ملنے بھیجا گیا۔ مگر جو ہونا نہیں چاہیے تھا، وہی ہوا — لونا اپنے ہی سوتیلے بیٹے کی طرف مائل ہو گئی، اور اپنے دل کی بات اس پر ظاہر کر دی۔
پورن نے، جو ایک نیک اور باپ کا وفادار بیٹا تھا، اس کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ یہ انکار لونا کی انا کو اتنی گہری چوٹ پہنچا گیا کہ اس نے الٹا الزام لگا دیا — راجہ سالوان کو جا کر بتایا کہ پورن نے اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
راجہ نے بغیر کسی تحقیق کے، غصے میں اندھا ہو کر، اپنے ہی بیٹے کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیے اور اسے ایک کنویں میں پھنکوا دیا۔ یہی وہ کنواں ہے جو آج بھی سیالکوٹ کے قریب موجود ہے۔
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ روایت کے مطابق، گرو گورکھ ناتھ کے کچھ شاگرد اسی راستے سے گزرے، اور کنویں میں زخمی پورن کو زندہ پایا۔ گرو گورکھ ناتھ نے اپنی روحانی طاقت سے نہ صرف اسے شفا دی بلکہ اسے اپنا شاگرد بھی بنا لیا۔ پورن ایک جوگی بن گیا، اور بعد میں ناتھ روایت کے نو ناتھوں میں شمار ہونے لگا، جہاں اسے سری چورنگی ناتھ کے نام سے جانا گیا۔
برسوں بعد پورن جوگی کے روپ میں اپنے آبائی شہر لوٹا۔ راجہ سالوان اور رانی لونا، جو اب تک بے اولاد ہی رہے تھے، اس جوگی کی شہرت سن کر اس سے دعا کے لیے حاضر ہوئے۔ پورن نے، بغیر اپنی شناخت ظاہر کیے، ان سے وہ سچ اگلوا لیا جو برسوں پہلے دبا دیا گیا تھا۔ حقیقت جان کر لونا اور راجہ دونوں پچھتاوے میں ڈوب گئے۔ مگر پورن نے، جو اب دنیاوی رنجشوں سے بہت اوپر اٹھ چکا تھا، انہیں معاف کر دیا اور رانی لونا کو اولاد کی نوید سنائی — یہی بچہ آگے چل کر مشہور راجہ رسالو کہلایا، پورن کا سوتیلا بھائی۔
یہ کہانی صدیوں سے پنجابی زبان کے قصہ گو ادب کا حصہ رہی ہے، مگر اسے سب سے زیادہ شہرت انیسویں صدی کے شاعر قادر یار کی منظوم روایت سے ملی۔ بیسویں صدی میں شاعر شیو کمار بٹالوی نے اسی کہانی کو ایک نئے زاویے سے دوبارہ لکھا — اپنی نظم "لونا" میں، جس میں انہوں نے ولن سمجھی جانے والی لونا کے اندرونی درد اور مجبوریوں کو انسانی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی، اور اسی تخلیق پر انہیں 1967 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
پورن بھگت کی کہانی محض ایک المیہ نہیں — یہ معافی، صبر، اور دنیاوی نفرتوں سے بلند ہو جانے کی داستان ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سیالکوٹ کے اس پرانے کنویں پر آج بھی لوگ منتیں مانگنے جاتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ جس نے اپنے ساتھ ہونے والے سب سے بڑے ظلم کو بھی معاف کر دیا، شاید وہ ان کی دعا بھی سن لے۔
ماخذ: Wikipedia (Puran Bhagat, Loona), SikhiWiki, Dawn.com, The Tribune